URDU Aasaan

URDU Aasaan

Share

The first of its kind, an Urdu Academy in Islamabad for students between 5+ years to Class VIII.

The first of its kind, an Urdu Academy in Islamabad for students between 5+ years and Class VIII.

26/01/2021

اسکول اسکول

کہتے ہیں بچے کھیل کود میں وہ کچھ سیکھ لیتے ہیں جو وہ شائد سکولوں کی سخت ترین پڑھائی اور ماں باپ کی ڈانٹ ڈپٹ اور مشکل مشکل کتابوں سےبھی نہیں سیکھ پاتے۔بچوں کی پسند نا پسند، ان کا مزاج ، ان کی زبان اور سوچ ان کھیلوں میں ہی نظر آنے لگتی ہے۔ آجکل کے بچے بھی بہت سارے کھیل کھیلتے ہیں اور وہ بھی ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔کمپیوٹر ہو یاٹیبلٹ۔ سمارٹ فون ہو یا ٹی وی پر کارٹون ان میں گھنٹوں مگن رہتے ہیں۔ ان کھیلوں کے فائدے بھی ہیں اور نقصان بھی۔ ان میں مشکلات بھی ہیں اور رکاوٹیں بھی۔ مقصد حاصل کر کے بچے خوش بھی ہوتے ہیں مگر شائد وہ تیزی، ہشیاری اور وہ چستی نہیں ہوتی جو پٹھو گرم یا کو ڑا جمال شاہی میں چاہئے ہوتی ہے۔

ان کھیلوں میں وہ تخلیقی صلاحیتیں بھی استعمال نہیں ہوتیں جو گھر گھر ، دوکان دوکان اور اسکول اسکول کھیلنے میں پروان چڑھتی نظر آتی ہیں۔کمپیوٹر سے متعلق تمام کھیلوں میں کسی حد تک وقت کا زیاں، صحت پر مضر اثرات، اور بعض اوقات بچوں کی شخصیت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ہمارے بچپن میں کمپیوٹر یا ویڈیو گیم جیسی چیزیں تو ہوتی نہیں تھیں۔ اپنے کھیل ہم خود ہی ایجاد کیا کرتے تھے، اور وہ کتنے مزے کے ہوتے تھے۔ آپکو انکی ایک جھلک دکھاؤں؟

چلیں ایک کام کرتے ہیں ۔ شہر لاہور کے ایک کشادہ سے گھر میں ماضی کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھتے ہیں کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔ کیا خوبصورت سماں ہے! گھر کے تین طرف کھیت ہیں اور بالکل ساتھ ایک مکان جڑا ہوا ہے۔ بر سات کا موسم ہے۔ بارش میں کھیتوں میں چاول بوئے جا رہے ہیں۔گھر کے باہر کے بڑے سے برآمدے میں کچھ کھچڑی سی پک رہی ہے۔ کچھ لڑکیاں مل کر اس خوب صورت جگہ کو صاف کر رہی ہیں۔ چمکتی ہوئی چپس والی شیلفوں کو بھی چمکایا جا رہا ہے۔ لگتا ہے کسی خاص کام کی تیاری ہے۔گرمیوں کی چھٹیاں ہیں اور چھٹیوں میں فیصل آباد اور کراچی سے بھی عزیز اور ان کے بچے آئے ہوئے ہیں۔ خوب رونق ہو رہی ہے۔۔لڑکیاں کرسیوں کو قطاروں میں لگاتی ہیں۔ ایک سیاہ بورڈ لا کر ستون پر لگایا جاتا ہے۔ دو تین لڑکیاں پرس اور فائیلیں اٹھائے داخل ہوتی ہیں۔ ایک لڑکی کےہاتھ میں خاصدان کا ڈھکنا اور چمچہ ہے۔ اب تو کچھ کچھ سمجھ میں آ رہا ہے کہ کوئی اسکول شروع ہونے والا ہے۔

ایک لڑکی جو ذرا زیادہ سنجیدہ نظر آ رہی ہیں لال ہیل کے جوتے پہنے ہوئے آتی ہیں۔عینک بھی لگائے ہوئے ہے۔ شاید اپنی امی کی چیزوں پر ہاتھ صاف کیا گیا ہے۔ہاتھ میں ایک چھڑی بھی ہے جو شاید بچوں کی ٹھکائی کے لئے رکھی گئی ہے۔ٹیچرز تین سے زیادہ ہیں۔ایک ٹیچر خاصدان کے ڈھکنے پر چمچے سے گھنٹی بجاتی ہے تو کئی بچے ایک دم بھاگ کر اندر داخل ہوتے ہیں۔اور اپنے بستے کر سیوں پر رکھ کر اسمبلی کے لئے قطاریں بناتے ہیں۔ہیڈ مسٹریس بچوں کو سیدھی قطار بنانے کا طریقہ بتاتی ہیں۔تلاوت کے بعدقومی ترانہ ہوتا ہے اور بچےاپنی کلاس میں جاتے ہیں ۔ بچے مختلف عمر اور سائز کے ہیں۔ بڑی عمر کے بچے منہ چھپا کر ہنس رہے ہیں۔ کچھ بچے تو واقعی ڈرے ہوئے ہیں۔

گھنٹی بجی تو انگریزی کی ٹیچر آ ئیں۔ انہوںنے بچوں کی حاضری لی۔ انگلش کی کتابیں نکلوائیں اور سبق پڑھنے کو کہا۔ کچھ بچوں نے اچھا پڑھا اور ایک دو بچے ہجوں سے بھی نہ پڑھ سکے۔ ٹیچر نے پوچھا بولو۔۔۔ بی ۔اے ۔جی۔ کیا ہوتاہے بچے نے ہر بار کہا ۔۔۔۔یہ نی آتا۔۔۔۔۔ٹیچر نے سر پکڑ لیا۔ دوسرے کا بھی یہی مسئلہ تھا۔ وہ کہتے تھے ۔۔۔۔میں سوچ رہا ہوں۔۔۔میں سوچ رہا ہوں۔۔۔ ٹیچر اور بچے زور سے ہنستے ہیں۔۔۔۔اب لکھائی کا وقت آیا۔ لکھائی سب کو پسند تھی۔ ہر حرف سے بچوں نے دو دو لفظ بنائے۔۔ہیڈ صاحبہ نے آ کر بچوں کا کام دیکھااور ان کے کام کی اورلکھائی کی خوب تعریف ہوئی۔ گھنٹی بجی اور حساب کا پیریڈ شروع ہوا۔۔آج صرف پہاڑوں کو دوہرائی کروائی گئی۔۔ ۔ کیونکہ آج خسرہ کے ٹیکےلگانے والےآگئےتھے۔چھوٹے بچوں کی ٹیکوں سے بہت جان نکلتی تھی اور وہ ٹیکہ لگنے کے خیال سے ہی رونے لگے۔انہیں سمجھایا گیا کہ یہ جھوٹ موٹ کے ٹیکےہیں۔۔ایک بھائی ڈاکٹر کا آلہ اور سرنج لے کر آئے۔۔ رونے والے اب بھی رو رہے تھے۔ بھائی نے جھوٹ موٹ کے ٹیکے لگائے اور روانہ ہو گئے۔

ٹیچر ز کو لال پین سے کام چیک کرنے کا بہت شوق تھا ۔۔بچوں کو خوب گڈ ملتے اور دستخط بھی ہوتے۔ آج بریک بھی دیر سے ہوئی۔ بچوں کو آدھا آدھا پراٹھااورآملیٹ کھانے میں دیا گیا۔ سب بچے بہت خوش تھے۔کھانے کے بعد بچوں کو کھیلنے کی بریک ملتی تھی لیکن بارش کی وجہ سے آج باہر کھیلنے کی اجازت نہیں تھی۔لہذا بچے کلاس میں ہی اودھم مچاتے رہے۔تھوڑی دیر بعد بریک ختم ہونے کی گھنٹی بجی اور سب بور شکل بنا کر اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔

گھنٹی بجی اور اردو کا پیریڈ شروع ہوا۔ آ ج حساب کی سختی سے تو بچ گئے مگر اردو تو ہونی ہی تھی۔اردو کی ٹیچرعینک لگائے کلاس میں آئیں اور بچوں سے املا کے لئے کاپیاں نکالنے کو کہا۔ بچوں نے کاپیاں نکالیں۔سب تیاری کر کے آئے ہیں ؟ ٹیچر نے پوچھا۔ جی میڈم۔ اچھااب جو لفظ میں بولوں وہ لکھیں اور لکھ کر الٹی کر دیں۔ بڑے بچوں کو ہنسی روکنا مشکل تھا۔ زور سے ہنسی کی آواز آئی۔ ٹیچر نے ڈانٹا۔ ھوں۔۔۔۔سانس کی بھی آ واز نہ آئے۔ ۔۔پہلا لفظ لکھیں، کام۔۔۔۔لکھ لیا ؟ اب الٹی کر دیں۔۔۔۔پھر ہنسی کی آواز آئی۔۔۔ٹیچر نے دو تین کو ہلکی سی دھپ لگائیں۔۔۔ املا کے بعد کتاب سے تھوڑی سی پڑھائی ہوئی اور اگلے سوال جواب کی دوہرائی کا ہوم ورک ملا۔ اور یوں آج کا دن ختم ہوا بچوں کو خدا حافظ کہا گیا اور بچے لائین بناکر اپنے فرضی ماں باپ کے ساتھ گھروں کو روانہ ہوگئے۔

یہ کھیل اتنا دلچسپ اور مزاحیہ تھا اور اس سے ہیڈ مسٹرس، ٹیچرز نے جو کچھ سیکھا وہ ساری عمر انھیں یاد رہا۔اب میں آپکو ایک راز کی بات بتاؤں اس کھیل میں شامل ٹیچرز میں، میں بھی تھی۔ باقی سب میری بہنیں، بھائی ، کزن اور دوست سب شامل تھے۔ اور واقعی یہ اسکول اسکول ہم سب میں، خصوصاً لڑکیوں میں ٹیچر بننے کا شوق بیدار کر گیا۔ وہ سب لڑکیاں جو اس کھیل میں ٹیچر بنتی تھیں وہ آگے چل کر کسی نہ کسی ادارے میں ٹیچر ، ھیڈ مسٹرس ، پرنسپل بن گئیں ، اور کسی نے خصوصی بچوں کے اسکول میں پڑھانے کی ذمہ داری اپنائی۔ اور سب ابھی تک یاد کرتی ہیں کہ تمہارے گھر میں کھیلے گئے اسکول اسکول کا یہ نتیجہ ہے کہ ہم تیس سال بعد اسی میدان میں جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔

ہے نا مزے کی بات؟

26/01/2021

جب ہمارے گھر ٹی وی آیا

بھئی آجکل تو ہر گھر میں ٹی وی ہوتا ہے، بلکہ دو ،دو ٹی وی بھی ہوتے ہیں ۔ اورٹی وی بھی ایسے ہوتے ہیں جن میں دن رات پروگرام آتے ہیں اور رنگین ٹی وی کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے مگر ہم تواب سے کو ئی پچاس سال پہلے کی بات کر رہے ہیں۔

اس زمانے میں بس اکا دکا گھر میں ہی ٹی وی ہوا کرتا تھا۔ سب ان لوگوں پر بہت رشک کرتے تھے کہ یہ کوئی بہت خاص لوگ ہیں جن کے گھر میں ٹی وی ہے۔مزہ جب آیا جب ہما ری ایک دوست کے گھر بھی ٹی وی آ گیا جو ہمارے گھر کے پاس ہی رہتی تھی ۔ اب تو ہماری اس سے اور بھی گہری دوستی ہو گئی۔

ایک دن بہت منت کرکے ہم نے امی اور ابا سے اجازت لے لی کہ کیا ہم اپنی دوست کے گھر جا کر تھوڑی دیر ٹی وی دیکھ سکتے ہیں؟بڑی مشکل سے اور کڑی نگرانی میں ہم چھوٹے بہن بھائیوں کو اجازت ملی۔ ہم خوشی سے اچھلتے اور چیختے چلّاتے اپنی دوست کے گھر پہنچے۔ پہلی دفعہ ٹی وی کی شکل دیکھ کر ہم حیران رہ گئے۔ یہ کیا ہے؟ آواز کے ساتھ شکل بھی نظر آ رہی ہے۔ کالے اور سفید رنگ میں لوگ ایک چھوٹی سی سکرین پر نظر آرہے تھے۔ اور وہ بھی گھر میں ! ہمیں بہت تجسس تھا کہ یہ لوگ ٹی وی کے اندر کیسے آۓ۔ کیا انکو کہیں سے جھانک کر دیکھ سکتے ہیں؟ خیر جلدی ہی سمجھ میں آ گیا کہ معاملہ کچھ اور ہے ۔ اب جو کچھ ٹی وی پر آ رہا تھا، آہستہ آہستہ ہمیں اس سے دلچسپی پیدا ہو گئی۔ بچوں کے پروگرام، کارٹون، انگریزی پروگرام اور ڈرامے ان سب کے دن اور وقت ہمیں یاد ہو گئے۔کب ببلو اور نازیہ آتا ہے، کس دن رابن ہوڈ آتا ہے اور کس دن بور کے لڈّو۔

بچپن میں یہ تو کوئ نہیں سوچتا کہ جن کے گھر ہم جاتے ہیں وہ کیا سوچتے ہونگے،انھیں ہماری وجہ سے کوئی مشکل تو نہیں ہو رہی؟ مگر ہمارے بڑے بہن بھائی اور امی ابا ہمارے اس طرح روز روز کسی اور کے گھر جاکر ٹی وی دیکھنے پر ضرور شرمندہ ہوتے ہونگے۔ اوپر ہی اوپر اور اندر ہی اندر کچھ فیصلے ہوۓ اور ہمیں یہ خوش خبری ملی کہ ہمارے گھر بھی ٹی وی آرہا ہے! ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، ایک خواب سا لگ رہا تھا۔سب خوش ہو کر ٹی وی کے آنے کی تیاریوں میں لگ گئے۔فیصلہ کیا گیا کہ گرمیوں گرمیوں ٹی وی برآمدے میں رہے گا اور سردیوں میں لڑکیوں کے کمرے میں۔

جب ٹی وی آیا اور ڈبے سے نکال کر برآمدے میں سیٹ کیا گیا تو ہم سب خوشی سے اچھل رہے تھے۔ اتنا خوبصورت ٹی وی، اسکے نیچے پائے بھی تھے۔ امی نے بہت جلدی ٹی وی کے لئے ایک خوبصورت غلاف بھی سی لیا تاکہ مٹّی سے بچا رہے۔سوال یہ تھا کہاں بیٹھ کر ٹی وی دیکھا جائے۔ فیصلہ ہوا کہ صحن میں آگے کرسیاں اور پیچھے پلنگ بچھائے جا ئیں گے۔ گویا سنیما جیسا ماحول ہو گا۔ روشنیاں بند کر دی جائیں گی اور ٹی وی چلا دیا جائے گا۔ اس زمانے میں ٹی وی ہفتے میں چھہ دن آتا تھا اور پیر کے دن چھٹّی ہوتی تھی۔ روزانہ کی نشریات کا وقت بھی صرف تین گھنٹے ہوتا تھا، یعنی چھ سے نو بجے تک، مگر ہمیں تو یہ مختصر وقت بھی کافی لگتا تھا۔ پروگرام کا وقت شروع ہونے سے پہلے ہی سب بچے جمع ہو جاتے اور سکرین پر پی ٹی وی کا نشان اور اسکی مخصوص ٹائیٹل میوزک کے ہی مزے لیتے رہتے تھے، اس انتظار میں کہ کب آج کے پروگرام شروع ہوں اور خوشی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو۔

صحن میں چھڑکاؤ کر کے کرسیاں اور پلنگ بچھائے جاتے ، آس پڑوس کے لوگ بھی تو دیکھنے آتے تھے۔غرض ہر شام ایسی رونق ہوتی جیسے کوئی تقریب ہو رہی ہو۔ ٹی وی میں جو کچھ بھی آتا اسکو فرض سمجھ کر دیکھا جاتا تھا۔ خبریں بھی آخر تک سنیں جاتیں۔ انگریزی پروگرام سمجھ میں آتے یا نہ آتے، لیکن پوری تفصیل سے دیکھے جاتے۔ ہماری آپا سب کو انکے معنی سمجھاتی جاتیں۔ بچوں کے پروگرام ہم سب پلک جھپکے بغیر دیکھتے۔ مزاحیہ اور سنجیدہ ڈرامے ، غرض سب کچھ دیکھا جاتا۔ اور جب نو بجے ٹی وی پر اعلان کیا جاتا کہ اب ہماری نشریات اختتام کو پہنچیں، تو بڑے دکھے دل سے اگلے دن کی امید پر ٹی وی بند کردیا جاتا۔اور اگلے دن پھر وہی پاکستان ٹیلیویژن کا مونوگرام اور وہی سنا سنایا ٹائیٹل میوزک ، تلاوت اور میزبان کی طرف سے پروگراموں کی تفصیل۔

آج جب رنگین تصویروں والے بڑے سائیز کے ٹی وی اور بیسیوں چینل کی چوبیس گھنٹے چلنے والی نشریات کے مزے لے رہے ہوتے ہیں تو بھی بچپن کا وہ زمانہ یاد آتا ہے جب یہ ہنستی گاتی دلچسپ دنیا ہماری زندگیوں میں داخل ہو گئی۔ سچ تو یہ ہے کہ ٹی وی کا گھر آنا ہماری زندگی کی خوشگوار ترین یادوں میں سے ایک ہے۔

26/01/2021

کس نے دیکھا چاند؟

ہم نے تو چاند کوآسمان پر چمکتے، کبھی گول ہوتےکبھی آدھا ہوتےاور کبھی غائب ہو کر دوبارہ باریک سا ہو کرآسمان پر نکلتے دیکھا ہے۔ گول چاند تو بہت ہی خوبصورت ہوتا ہے! اور رات بھی دن جیسی لگتی ہے۔وہ گول اور چمکدار ہوتا ہے۔ہم نے یہ بھی دیکھا کہ چاند جب دوبارہ نکلتا ہے تو وہ پہلی تاریخ کا چاند کہلاتا ہے۔اور اس سے ہمیں روزوں ، عید، بقرعید اور محرم کا پتہ چل جاتا ہے۔

چاند کے بارے میں بچپن سے سنا تھا کہ اس پر ایک بڑھیا بیٹھی چرخہ کاتا کرتی ہے۔کویٔ کہتا،چاندتو بچوں کا ماما ہوتا ہےـ

چندا ماما دور کے
بڑے پکایئں بور کے

مایئں اپنے بچوں کوچاند کہہ کر بلاتیں۔ کوئ کہتا فلاں تو چودھویں کا چاند ہے!ہم بھی جب گرمیوں کی راتوں میں باہر پلنگوں پر ٹھنڈی چاندنی میں بستر پر لیٹتے تو سوچا کرتے چاند کتنا خوبصورت ہے!

یہ تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ ہم سے کتنی دور ہے؟ کیسے چمکتا ہے؟ جب آ دھا ہوتا ہے تو باقی آدھا کدھر جاتا ہے ؟صبح کے وقت یہ کہاں چلا جاتا ہے؟بادلوں میں چاند آنکھ مچولی کھیلتا ۔کبھی نظر آتا اور کبھی چھپ جاتا،معلوم نہیں ہوتا تھا کہ چاند چل رہا ہے یا بادل؟سب سے عجیب بات یہ تھی کہ جہاں جاؤ یہ ساتھ ساتھ چلتا۔

۱۹۶۹میں ایک عجیب سی بات سنی کہ سر گھوم گیا۔ معلوم ہوا کہ انسان چاند پر جا رہا ہے!ہم تو یہ بات سن کر حیران رہ گئے! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟اب طرح طرح کے سوال ہمارے دماغ میں آ نے شروع ہو گئے۔اچھا تو جیسے ہمیں چاند نظر آتا ہے اس طرح وہ لوگ بھی نظر آیئں گے؟ ہم ان کو بھی دیکھ سکیں گے۔ہم اس زمانے کے بچے تھے جب بچے تو کیا ، بڑوں کو بھی یہ باتیں معلوم نہیں تھیں۔

ہر کوئی یہی باتیں کر رہا تھا۔کیا چاند پر بھی کوئی زمین ہے؟ کہیں سے ایک اور نئی بات سننے میں آیٔ کہ ہمیں زمین پر سے چاند کا صرف ایک رُخ نظر آتا ہے۔ اس گول، گیند جیسے چاند کا ایک رُخ ہمیشہ پیچھے کی طرف رہتا ہے، ہماری نظروں سے اوجھل۔

پھر ٹی وی پر خبروں میں سنا کہ جولائی کے مہینے میں انسان چاند پر جائے گا۔اب تو ہر وقت اس کے بارے میں پروگرام آنےلگے۔ چاند تک جا ٔیں گے، کیسے چاند پر اتریں گے، کیسے وہاں چلیں گے، سانس کیسے لیں گے، کیا کھائیں گے اور کیسے سوئیں گے۔ بھئی کمال ہے، کتنی عجیب بات ہے!بہت ہی عجیب۔

یہ سب باتیں ہمیں حیران بھی کر رہی تھیں اور پریشان بھی۔دنیا کو ہم نےاپنے گھر، اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور روز ہونے والے واقعات کے سواکسی اور طرح دیکھا ہی نہیں تھا۔مگر اب ہمیں دنیا کی بڑائی کا اندازہ ہونا شروع ہو گیا تھا۔

آاخر وہ دن آ ہی گیا، جب امریکہ سے تین لوگ ایک راکٹ میں بیٹھ کر چاند کی طرف روانہ ہو گئے۔ اب تو سب لوگ ٹی وی کے آگے چپک گئے۔امریکہ سے خبریں پاکستان پہنچتیں اور یہاں ریڈیو اور ٹی وی پر سنائی جاتی اور دکھائی جاتی۔جو کچھ ہم دیکھ رہے تھے وہ نا قابل یقین تھا۔ وہ چاند گاڑی کے اندر اڑتے پھر رہے تھے۔ بڑوں سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے تو پتا چلا کہ خلا میں یعنی زمین کے باہر ٓاکسیجن نہیں ہےاس لئیے سانس لینے کے لئیے ان کے پیچھے ٓاکسیجن کا سلینڈر لگا ہوا ہے۔ دوسرے وہاں زمین کی کشش بھی نہیں ہے جو ان کو زمین کی طرف کھینچے اس لئیے یہ اڑتے پھر رہے ہیں۔یہ چاند پر بھی اسی طرح اڑتے پھریں گے۔اف بیچارے ہمارے چندا ماما!

جوش بڑھ رہا تھا۔ وہ ہوا باز اب چاند پر اترنے والے تھے۔ آہستہ آہستہ چاند گاڑی چاند کی زمین پر اتر گئی۔

ہوا باز چاند گاڑی سے باہر نکلے، اور یہاں زمیں پر خوب تالیاں بجیں!ہوا باز چاند کی زمین پر تیرتے پھر رہے تھے۔چاند کی زمین پر مٹی تھی۔ اندھیرا تھا، کوئی ہوا نہیں تھی۔ ہوا بازوں نے مٹی میں اپنا جھنڈا گاڑا تو وہ بالکل اڑا نہیں۔

اف چاند پر سے ہماری زمین بھی نظر ٓا رہی تھی۔ اورکیا خو ب صورت نظر ٓا رہی تھی۔ ایک گلوب کی طرح۔ ہوا بازوں نے چاند سے مٹی ، پتھر اور نمونے جمع کئے اور وہاں گھومے پھرے، تصویریں کھینچیں اور واپسی کا سفر شروع ہو گیا۔ وہ ہواباز تو واپس زمین پر آ کئے مگر ہم صحن میں پلنگوں پر لیٹے یہی سوچتے رہے کہ یہ کیا جادو تھا؟ ایک نئی دنیا کے دروازے کھل گئے جوہم سے بہت دور ہے۔

یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے ہماری سوچوں کو ایک دم سے بڑا کر دیا۔ وقت کے ساتھ ہمیں چاند کے بارے میں اور باتیں بھی پتہ چلتی گیٔں اور اس کے ساتھ بچّوں کی طرح بڑوں نے بھی خواب دیکھنے شروع کردیے۔ کسی نے یہ بتایا کہ شاید چاند کی زمین کے اندر پانی برف کی شکل میں موجود ہے، تو کہیں سے یہ سننے میں آیا کہ کسی دن انسان چاند پر اپنی بستیاں آباد کرسکتا ہے ۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ ،مگر وہ اب بھی ہمارا چندا ماما ہے، وہاں بڑھیا بیٹھی اب بھی چرخا کات رہی ہے۔اور اب بھی ہم جہاں کہیں بھی جایٔیں ، یہ ہمارے ساتھ چلتا چلا جاتا ہے۔

26/01/2021

جنگ

جب ۱۹۶۵ کی جنگ ہویٔ تو ہم تو چھوٹے بچّے تھے۔ہمیں کیا معلوم تھا کہ جنگ کیا ہوتی ہے۔یہ لفظ تو سنا تھا مگر اس کے پیچھے چھپی ایک خوفناک حقیقت کا ہمیں زرہ بھر بھی اندازہ نہیں تھا۔ ہماری تو اپنی چھوٹی سی دنیا تھی۔ہم گھر میں رہتے، اسکول جاتے ، گھر میں سارا دن مستی، کھیل، شور اور ہنسی مزاق چلتا اور سنجیدگی سے صرف اسکول کا کام کرتے تھے مھلّے بھر کے دوستوں کو جمع کرکے نٔیے نیۓ کھیل ایجاد کرتے تھے۔ یہ تھیں ہماری سیدھی سادھی سی خوشیاں۔ بہن بھا ییٔوں سے لڑایٔ، ماں باپ کی ڈانٹیں ، گر جانا ، چوٹ لگنا اور ایجکشن لگنا ہمیں ڈراتا اور رلاتا تھا۔ یہ جنگ کیا بلا ہے، ہمیں کیا معلوم تھا۔

کچھ دن سے اپنے امّی ابّا اور بڑے بہن بھأیوں کو پریشان دیکھ رہے تھے۔ گھر میں کچھ تبدیلیاں بھی آ رہی تھیں۔ کھڑکیوں اور روشن دانوں پر خاکی کاغذ لگاۓ جارہے تھے۔بلب اور انکے شیڈ پر بھورا رنگ کیا جا رہا تھا۔ مکمل اندھیرا کرنے کی مشق ہو رہی تھی۔ کان میں کیٔی دفعہ ایک لفظ پڑا، بلیک آؤٹ۔ وہ کیا تھا ور کیوں تھا، یہ ہمیں کسی نے نہیں بتایا۔پھر ریڈیو پر خبروں میں سناکہ جب سا ٔیرن بجے تو کیا کرنا ہوگا۔ گھر سے کچھ دور کھلے میدان میں گہری خندقیں کھودی گیٔں جن میں خطرے کی صورت میں چھپ کر بیٹھنا تھا۔

۶ ستمبر ۱۹۶۵ کو ہم روزانہ کی طرح اسکول گۓ ہوۓ تھے کہ اچانک اسکول میں اعلان ہوا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا ہے۔ انکے جہاز ہمارے شہروں میں گھس کر کہیں بھی بم گرا سکتے ہیں۔ سب بچّے اپنے گھر چلے جأیں۔ ہم دو بہنیں ایک اسکول میں تھے، عمر ایسی تھی کہ کچھ بات سمجھ میں آیٔ اور کچھ نہیں۔ دوسروں نے جو کیا وہ ہم نے بھی کر لیا۔ ہم اپنےبستے اور کتابیں سروں پر رکھ کر سرپٹ گھر کی طرف بھاگے۔گھر نزدیک تھا، جلدی پہنچ گۓ۔ ہمارے لۓ ہر چیز ایک معمہ اور دلچسپ کھیل تھی۔ گھر کے سب سے چھوٹے کمرے میں جو درمیان میں تھا دری اور چادریں بچھا کر اسکو بیٹھنے اور سونے کا کمرہ بنا دیا گیا تھا۔ جاتی گرمی تھا اور ہلکی سردی کی شروعات۔ ہمیں تو بڑا مزا آیا کہ سب لوگ قریب قریب ہو کر ایک چھوٹے سے کمرے میں جمع ہو گۓ ہیں۔ بڑی بہنوں نے کمرے میں پنسلیں لا کر رکھیں اور اسکے ساتھ ہی ہمیں چند تکیے بھی دیے۔ اور ہمیں سمجھایا کہ جب سایٔرن بجے تو ان پنسلوں کو دانتوں میں دبا لینا!پنسل نہ ملے تو تکیہ دانتوں میں دبا لینا۔

تھوڑی دیر میں سایٔرن بجا۔ وہ ایک خوفناک آواز تھی اور اونچی نیچی ہو رہی تھی۔ہم نے جلدی سے پنسلیں اور تکیے منہ میں دباۓ اور ہم چھوٹے بچے ایک دوسرے کو دیکھ کر خوب ہنسے۔کیونکہ ایک ایک تکیے کو چار بچوں نے منہ میں دبایا ہوا تھا۔ کیا منظر تھا! ہمارے سوال جاری تھے ۔ اس چھوٹے سے کمرے میں کیوں رہنا ہے؟ جواب ملا ، اسکے اوپر دو چھتیں ہیں۔ جہاں جہاں سر پر دو چھتیں تھیں وہاں وہاں سونے کا انتظام کیا گیا۔ سوتا کون، آہستہ آہستہ سب کو ڈر لگنا شروع ہو گیا۔ لاہور کا بارڈر ہم سے بس اتنا دور تھا کہ ہر توپ کے چلنے کی دھمک دل پر لگتی تھی۔ ہر گولے سے بھڑکنے آگ ہمیں دورتک پھیلے کھیتوں کے اُس پار نظر آتی تھی۔ساتھ ہی ہر تھوڑی دیر بعد خطرے کا سایٔرن بجتا تھا۔ ٹی وی ہر ہمارے اور بھارت کے فوجیوں کی فلم بھی دکھائ جا رہی تھی۔دونوں طرف فوجی بندوقیں تانے، پیدل اور ٹینکوں سے ایک دوسرے پر حملے کر رہے تھے۔ ایک مرتبہ خطرے کے سایٔرن کے ساتھ ہی دو جہاز گرجدار آواز میں ہمارے گھر کے اوپر سے گذرے۔ کچھ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کونسا پاکستانی جہاز ہے اور کونسا بھارتی۔ مگر یہ منظر دل ہلانے کے لیے کافی تھا۔ کبھی باہر نکل کر توپوں کی گھن گرج سنتے، تو کبھی سایٔرن کی خوفناک آواز۔سب نمازیں پڑھ رہے تھے اوردعائیں مانگ رہے تھے ۔ چند گھنٹوں میں ہم سب سمجھ گئے کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے۔

صبح ہوئ تو ہمارے ابّا نے اعلان کر دیا کہ سامان باندھو ، ہم لاہور سے جا رہے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ بارڈر بہت قریب ہے ، اگر دشمنوں کی فوجیں شہر میں گھس گئیں تو گھروں میں بھی گھس آئیں گی۔اس سے پہلے کہ ایسا ہوہمیں یہاں سے نکل کر اپنے ماموں کے گھر بھکّر روانہ ہو جانا چاہیے، کیونکہ بھکّر بارڈر سے بہت دور واقع ہے۔ لہذٰا ایک پوری بس کراۓ پر لی گئ اور ضروری سامان کے ساتھ ہم سب اس میں بیٹھ گۓ۔ راستے میں کئ بار جہاز ہمارے سروں پر سے خوفناک آوازوں کے ساتھ گزرتے رہے۔ کہیں سایٔرن بجتا تو ہم رُک جاتے۔ جانا دور تھا اور روشنی بھی کم ہونے والی تھی۔ آخر رُک کر چاند نکلنے کا انتظار کرنا پڑا۔چاند کی روشنی میں رات کے کسی وقت اللہ اللہ کرکے بھکّر پہنچے۔

بھکّر ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ بلیک آؤٹ وہاں بھی تھا اور سارا شہر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔یہاں بھی احتیاط کی بہت ضرورت تھی۔رات گذری دن آیا اور چھوٹا سا پر سکون شہر روشن ہو گیا۔گھر کے اندر والے کام بڑوں کی ذمہ داری تھی۔ہم تو پھر اپنے کھیل کود اورمستی میں لگ گئے۔ بچوں کو کویئ خیال زیادہ دیر پریشان نہیں کرتا۔وہاں ہمارے بہت سارےکزن تھے۔ بس مزہ آ گیا۔سترہ دن کیسے گزر گئے پتا ہی نہیں چلا۔سترہ دن بعد جنگ بند کرنے کا اعلان ہو گیا اور دونوں فوجیں اپنے علاقوں میں واپس لوٹ گیئں۔دونوںملکوں کا جانی اور مالی نقصان بھی ہوا اور ہزاروں مکان، بڑی بڑی عمارتیں، پل اورریلوے نظام کو بھی نقصان پنہچا۔

شام کو شہر کی روشنیاں جگمگا اٹھیں ۔لوگوں کے موڈ ہی بدل گئےخوشیاں پھر سے واپس ٓا گئیں۔

مگر جنگ ایک خوفناک تجربہ بن کر ہمارے زہنوں میں اتر گئی۔ اس وقت ہمیں معلوم ہوا کہ جنگ کس طرح ایک عام شہری کی زندگی کو تباہ و برباد کرتی ہے اور کتنے معصوم لوگ اور کتنے فوجی اپنی جان دے کر ملک کو بچاتے ہیں۔گھر پہنچکر اللہ کا شکر ادا کیاکہ اس نے ہم سب کو محفوظ رکھا۔پاکستان کی محبت دلوں میں سو گنا بڑھ گئی۔ مگر سب کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ ہمیں جنگ نہیں امن چاہیئے۔

26/01/2021

دوستی کے گیت

زینو جب اپنے امّی اور ابّا کے ساتھ نۓ گھر میں منتقل ہوا تو اُس کی خوشی کی انتہا نہیں تھی۔ گھر تھا بھی بہت مزیدار، سامنے کی طرف بڑا سا لان تھا جسمیں چھوٹے بڑے بہت سے درخت چھاؤں کۓ رکھتے تھے۔ اور گھر کے پیچھے کی طرف سے پہاڑوں کا خوبصورت منظر۔اسے اپنا کمرہ بھی بہت پسند آیا، کونے والا کمرہ جس کی بڑی سی کھڑکی باہر لان کی طرف کھلتی تھی۔ لان میں کیاریاں بنی ہؤی تھیں جنمیں پہلے سے ہی پھولدار پودے لگے ہو ۓ تھے۔ ایک طرف نیمبو کے جھاڑ میں ڈھیروں زرد زردنیمبو چمک رہے تھے۔لان کے گرد جنگلا لگا کراسکے ساتھ خوبصورت باڑ لگی ہویٔ تھی۔ درخت کافی بڑے ہو چکے تھے اور پرندے ان پر بیٹھ کر خوبصورت آوازوں میں صبح سے شام تک چہچہاتے تھے۔ واہ، زینو، تمہارا کمرہ تو سب سے زیادہ روشن اور ہوا دار ہے۔ درختوں کا سایہ گرمیوں میں کمرے کو خوب ٹھنڈا بھی رکھتا ہے، زینو کے ابّا اکثر کہتے تھے۔

زینو کو رات کو دیر تک پڑھایٔ کرنے کی عادت تھی ا سلۓ اسکے کمرے کی روشنی بھی دیر تک کھلی رہتی تھی، ساتھ ہی وہ کھڑکی کا پردہ بھی کھلا رکھتا تھاکہ باہر کی ٹھنڈی اور تازہ ہوا بھی اندر آتی رہے۔اسکو خبر ہی نہیں تھی کہ اس کے قریب ہی باہر کویٔ چھوٹا سا پرندہ رات گۓ اس کے کمرے کی روشنی کی طرف کھنچا چلا آتا ہے اور درخت پر بیٹھ کر بہت شوق سے اندر کا نظارہ کرتا ہے۔ تھوڑے دنوں بعد معلوم ہؤا کہ وہ چھوٹا سا پرندہ بہت خوبصورت آواز میں گانا بھی گاتا ہے۔۔کو،کو،کو،کو۔۔۔اور بہترین سُروں میں اپنی آواز کو آہستہ، آہستہ اونچا کرتا ہوا پھر خاموش ہو جاتا ہے۔وہ زینو کو یہ احساس دلاتا تھا کہ میں رات کے اس پہر میں بھی تمہارے ساتھ جاگ رہا ہوں۔

رات کی خاموشی میں اس کی سریلی کُوک پورے گھر میں گونجتی لیکن زینو کے کمرے میں تو لاؤڈ سپیکر کی طرح اونچی آواز آتی تھی،یہاں تک کہ صبح ہو جاتی۔

شروع شروع میں تو زینو اس کی کوُک اور گانے سے بہت لطف اندوز ہوتا تھا لیکن جب اس چھوٹے سےپرندے نے اسکے سونے کے بعد بھی اپنا گانا جاری رکھا تو زینو کی نیند خراب ہونے لگی۔ اوپر سے پڑھایٔ میں بھی توجہ بٹ گیٔ۔ اس نے سوچا اسکے گانے کے تو بہت مزے اٹھا لۓ، اب کچھ کرنا پڑے گا۔

اب وہ پردہ بند کرکے سونے لگا اور پھر موسم ٹھنڈا ہونے لگا تو آہستہ آہستہ کھڑکیاں بھی بند ہو گیٔں۔کمرے کی روشنی اور اند ر کا منظر بھی باہر سے نظر آنا بند ہو گیا۔یونہی ایک دن رات کو پرندے کی گانے کی آواز آنی بند ہو گیٔ۔اور اسکے بعد بھی رات کو خاموشی چھایٔ رہتی اور زینو اکیلا پڑھتا رہتا۔ ایسا لگا کہ جیسےوہ خوبصورت آواز والا پرندہ خفا ہو کر وہاں سے اُڑ گیا۔

اب زینو اسکو یاد کرنے لگا۔رات کو جب سارے میں خاموشی ہوتی اور وہ اکیلا بیٹھا پڑھتا تو اسے اسے پرندے کی خوبصورت آواز اور اسکا ساتھ یاد آتا۔ کاش میں اسے گانا گانے دیتا ۔ اب وہ کبھی واپس نہیں آیٔگا۔ وہ اب کسی اور کے درختوں پر بیٹھ کر گانا گاتا ہو گا۔اسکی سریلی آواز اب بھی زینو کے کانوں میں گونجتی تھی۔وہ دوستی کے گیت تھے جو دل میں گھر کر گۓ۔

اب زینو پرندے کو واپس بلانے کی کوشش کرنے لگا۔اس نے ایک برتن میں پانی اور دانہ ڈال کر لان میں رکھنا شروع کر دیا تاکہ رنگ برنگے پرندے اپنی بھوک اور پیاس مٹا سکیں۔بہت سے چھوٹے بڑے پرندے اپنی پیاس بجھانے کے لۓ اسکے لان میں اترتے لیکن وہ پرندہ نظر نہیں آیا۔پھر بھی زینو کو امید تھی کہ ایسے ہی کسی دن اسکا سریلا دوست بھی واپس آجاۓ گا۔

موسم بدلا، گرمیوں کے دن واپس آۓ اور پردے اور کھڑکیاں کھل گیٔں۔پھر ایک دن ایک خوبصورت سی آواز نے زینو کو سوتے سے جگا دیا۔اس نے غور سے سنا۔ یہ تو اسی پرندے کی سریلی کو، کو تھی۔اس نے پردہ کی اوٹ سے چھپ کر دیکھا۔ باہر کے بلب کی روشنی میں اس کو نظر آیا کہ اسکا دوست ننھا سا رنگین پرندہ ایک شاخ پر بیٹھا زور شور سے گا رہا تھا۔زینو خوشی کے ساتھ اسکا گانا سنتا رہا۔ لیکن اب وہ اپنے کھوۓ ہوۓ دوست کی آواز سے پریشان نہیں ہوا۔ وہ بہت خوش تھا کہ اسکا سریلا دوست لوٹ کر واپس آگیا تھا۔

وہ کچھ اور دیر اسکی کُوک کے مزے لیتا رہا ۔ پھر اسنے روشنی بند کی ، بستر پر لیٹا اور ایک پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ کروٹ لے کر گہری نیند سو گیا۔

26/01/2021

گڑیا کی شادی

بڑی منی کی گڑیا تھی اور چھوٹی منی کا گڈا ۔ گڑیا تو اس زمانے کی خوب صورت ترین گڑیا تھی۔ چھوٹے تو چھوٹے بڑے بھی اس سے کھیلنا پسند کرتے تھے۔ نیلی آنکھوں والی جو سوتی اور جاگتی بھی تھی ۔ وہ بیٹھتی بھی تھی اور کھڑی بھی ہو جاتی تھی اس نے موزے اور جوتے بھی پہن رکھے تھے۔ٍچھوٹے کٹے ہوئے بال اور چہرے پر مسکراہٹ۔ وہ سب کی بہت لاڈلی تھی۔ایک دن بیٹھے بیٹھے کسی کو خیال آیا کہ چلو اس گڑیا کی شادی کرتے ہیں۔بھئی خیال کا آنا تھا کہ سب اچھل گئے۔ ابھی تک اس گھر میں کسی کی شادی نہیں ہوئی تھی۔گرمیوں کی چھٹیاں تھیں اور سب کے پاس وقت ہے وقت تھا۔

پہلے تو سب نے باتوں باتوں میں شادی کی تفصیل سوچی اور خوب مزے لئےہر کوئی اپنی اپنی بول رہا تھا۔ اف کتنا مزہ آئیگااس کا جہیز بنائیں گے۔مذاق ہی مذاق میں کپڑوں سے لے کر زیور تک اور برتنوں سے لے کر فرنیچر تک ہر چیز کی تفصیل طے پا گیٔ اور فہرستیں بنا لی گئیں۔ کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ گڈّا بھی تو ڈھونڈنا ہے۔ اس گڑیا کے لیٔے مناسب جوڑ کا گڈّا ڈھونڈنا بھی تو مشکل تھا۔ جگہ جگہ تلاش کیا گیا۔ آخر چھوٹی منّی کا گڈّا بھی مل گیا۔گڈّا بھی لمبا چوڑا ، اسمارٹ اور خوش شکل تھا۔ اب تو مزا دوبالا ہو گیا! چہرے پر بچپن تھا، سو مونچھیں بنا کر اسکو جوان کیا گیا۔

شادی کی تاریخ طے کی گئی اور گڑیا کے جہیز اور گڈے کی بری تیّار کرنے کے لیے منا سب وقت رکھا گیا۔ اب شروع ہوئیں جہیز کی تیاریاں ۔ کتنے جوڑے بنیں گے، شادی کے دن گڑیا کیا پہنے گی، کتنے پاجامے قمیص، اور کتنے شلوار قمیص ہونگے، کتنی ساڑھیاں ہوں گی۔ ادھر گڈّے والے بھی گڑیا کے لیے بری تیار کرنے میں مصروف ہو گیٔے۔تمام جوڑوں کے لیے بہترین کپڑوں کا انتخاب کیا گیا۔ یہ سب کپڑے امّی کے خزانے سے ہی مل گئے۔ گھر کے بچّوں کے ہی شادی بیاہ کے پرانے جوڑوں سے بچے ہوۓ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہی کافی تھے ۔بڑی منّی اور چھوٹی منّی کی تو خوشی سے گھگی بندھ گئی۔بڑی آپا کپڑے کاٹنے اور سینے میں بہت ماہر تھیں۔ انھیں بھی جہاں مشکل پڑتی وہاں امّی کی جان کھایئ جاتی۔ چادریں ، تکیے کے غلاف، لحاف، گدّے سب امّی کی ہدایات پر تیار کیے جا رہے تھے۔ کپڑوں پر کڑھایٔیاں بھی ہو رہی تھیں؛ ایک مشین اور سینے والے کٔئی لوگ۔

دن گذرتے جا رہے تھے ۔بھاری جوڑے تیار ہو گئے تو انکو سوٹ کیس میں پیک کر کے رکھ دیا گیا۔زیورات کی تیاری بھی ایک مر حلہ تھا۔ موتیوں اور ستاروں سے ایسے ایسے خوب صورت زیور تیار کئے گئے کہ سب خود ہی دیکھ کر واہ واہ کرنے لگے۔شادی کے لئے دعوت نامے بھی تیار کر دیے گئے اور باقاعدہ لوگوں کے گھر بھجوائے گئے۔ کھانا بھی اصلی بنوایا جانا تھا۔ مہمانوں کے لئے پڑوس میں رہنے والی نانی اور انکے خاندان کے تمام افراد کی فہرست بنائی گئی۔ابّا بھی اس سرگرمی میں بہت دلچسپی لے رہے تھے اوروہ اکثرکمرے میں آکر تیاریوں کا مزا لیتے اور ہنستے ہوئے چلے جاتے۔ غرض گڑیا کی شادی گھر بھر کی خوشی کا باعث بن گئی۔

دولہا کے لئے کرتا پاجامہ، شیروانی اور ٹوپی کے علاوہ سوٹ بھی تیار کیا گیا تھا۔ گھر مین کوئی ڈھولک نہیں تھی اسلئے سلائی کی مشین کے لکڑی کے ڈھکنے کو ڈھولک بنا کر شادی کے گانے گائے جاتے تھے۔یہ شروع ہی میں طے ہو گیا تھا کہ کون دولھا کی طرف ہوگا اور کون دلہن کی طرف، بارات کیسے جائے گا اور کہاں سے آئے گی۔ یہ طے پایا تھا کہ دلہن ڈولی میں رخصت ہو گی اور نانی پڑوسن کے گھر سے ہوتی ہوئی دلہن کے گھر پہنچے گی۔ سب تیاریاں مکمل ہوتی جا رہی تھیں۔ اندر کے ساتھ ساتھ باہر کی خریداری بھی چل رہی تھی۔ دولہا دلہن کے لئے فرنیچر بیڈد صوفے، میز اور کرسیااور سنگھار میز بھی لائی گئیں ۔ چادروں ، تکیوں اور لحافوں کے بہت خوبصورت سیٹ بن کر تیار کئے گئے تھے۔امّی اور بڑی بہنیں مل بانٹ کر سارا کام کر رہی تھیں۔ گھر میں خوشی کا ماحول تھا اور سب ہنستے بولتے گاتے اور خوشگوار موڈ میں نظر آرہے تھے۔سب بھائی مزاق اڑانے میں آگے آگے تھے۔

آکر کار دلہن کو مائیوں بٹھایا گیا۔ دلہن نے پیلے کپڑے پہنے، لال ہری چوڑیاں جو سسرال سے آئی تھیں۔ پہنائی گئیں۔ گڑیا کی شادی کیا تھی گھر بھر اور محلے کی توجہ کا مرکز بن گئی۔مہندی کے دن دلہن کو اپنے گھر کا دھا نی جوڑاپہنایاگیا۔ بڑی منی گڑیا کے رخصت ہونے کے خیال سے افسردہ تھی۔ چھوٹی منّی کے مزے تھے۔ اتنی پیاری دلہن اسکے گھر جا رہی تھی۔ مہندی کی تمام رسموں کے بعد دلہن کو الماری کی دراز میں بٹھا دیا گیا۔ جہیز اور بری کا سارا سامان ایک چھوٹے سے سوٹ کیس میں رکھ کر تالا لگا دیا گیا۔فرنیچر اور برتن پہلے سے دولہا کے گھر پہنچا دئیے گئے تھے۔

اللہ اللہ کرکے شادی کا دن بھی آگیا۔آج تو سب نے زرق برق لباس پہنے تھے اور ابا اور امی بھی خاص تیاری میں تھے۔ تمام بھائی بہنیں نئے جوڑے پہن کر شادی میں شریک ہوئے تھے۔ چھٹی کا دن تھا اسلئے سب گھر پر تھے۔ آج خاص طور پر پلاؤ اور زردہ پکایا گیا تھا تاکہ آنے والے مہمانوں کی شاندار طریقے سے تواضع ہو سکے۔اب دلہن کی تیاری کا حال سنیں۔ اسکو لال غرارہ قمیص اور دوپٹّہ پہنایا گیا، زیورات پہنائے گئے۔ دلہن تو اور خوب صورت لگنے لگی۔ بڑی اور چھوٹی منّی کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔دولہا شیروانی اور کرتے پاجامے میں بہت جچ رہا تھا۔ سب نے اس شاندار جوڑی کی بہت تعریف کی۔ بارات آئی اور خوب رونق کی بارات تھی۔پڑوس کے بزرگ نانا نے بہت سنجیدگی سے نکاح پڑھوایا تو خوب ہنسی پڑی! نکاح کے بعد کھانا ہوا اور سب نے بہت تعریف کر کر کے پلاؤ اور زردہ کھایا۔

اب مشکل وقت آگیا۔ دلہن کو ڈولی میں بٹھایا گیا، ڈولی کی سجاوٹ بھی قابلِ دید تھی۔ بارات نانی پڑوسن کے گھر سے ہوتی ہوئی دوبارہ بڑی اور منّی کے گھر پہنچ گئی ۔ دلہن اور دولہا کوفرش پر بٹھایا گیا، منہ دکھائی ہوئی، اور یوں یہ شادی ہنسی خوشی اختتام کو پہنچی۔دولہا اور دلہن کو انکے سجے سجائے گھر میں پہنچا دیا گیا۔ واہ کیا دن تھا!

اور اس کے چند دن کے بعد بڑی اور چھوٹی منّی کی آپا کی شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی اور یہ شادی خوب دھوم دھام سے منائی گئی۔
کہتے ہیں نا کہ خوشیاں، خوشیوں کو کھینچتی ہیں۔

25/01/2021

معزز قارئین،

آپ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر رہی ہوں ۔ مختلف عمر کے بچوں کے لئے اپنی لکھی ہوئی کہانیاں اور اپنے بچپن کی کچھ یادداشتیں، اردو آسان پر بھیج رہی ہوں۔ یہ آٹھ کہانیاں ہیں۔ باقی ابھی ٹائپ کر رہی ہوں ۔ مکمل کتاب تصاویر کے ساتھ چھپ کر دوکانوں پر بھی آ جائیں گی۔ اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئے گا ۔ 😊

طاہرہ نقوی ۔

25/01/2021

طوطوں کی ڈار

صوفیہ نے سوچا کہ آج کل ہمارے لان میں پھلوں اور پھولوں کی بھر مار ہے۔ ہر طرف سبزہ اور خوبصورت پودے نظر آرہے ہیں۔ سبز گھاس پر ننگے پاؤں چلناے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔

بارش کے بعد ابھی تک آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ موسم ٹھنڈا ہو گیا تھا اور ہر طرف تازہ سبزے کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔

صوفیہ باہر نکلی اور گھاس پر ننگے پاؤں ٹہلنے لگی۔ وہ بارہ سال کی تھی۔ اسکے نئے نئے کام سیکھنے اور کرنے کا بہت شوق تھا۔ کئی دن سے دیکھ رہی تھی کہ امرودوں کے درختوں پر سینکڑوں امرود لگے ہوئے تھے اور روزانہ وہ پکتے جا رہے تھے۔ بڑے بڑے اور پیلے امرودوں کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔اس نے سوچا کیوں نہ آج امرود توڑ لوں اور ٹوکری میں بھر کر امی کو دوں کہ وہ انکی مزیدار چاٹ بنائیں! وہ ٹوکری لینے اندر گئی تو امّی نے پوچھا "تم کیا کر رہی ہو"؟۔ صوفیہ نے بتایا، " میں امرود توڑنے جا رہی ہوں۔ پھر آپ انکی زبردست سی چاٹ بنائیں گی"۔امی نے کہا، "ہاں، ٹھیک ہے، آجکل اور بھی بہت سے پھل آئے ہوئے ہیں، کیلے، سیب ،آڑو اور امرودوں کی بہت اچھی چاٹ بنے گی"۔

صوفیہ باہر نکلی اور درخت کو غور سے دیکھا کہ کہاں کہاں پکّے ہوئے امرود لگے ہوئے ہیں۔ زمین پر بھی بہت سارے امرود گرے ہوئے تھے مگر ان سب میں داغ لگے ہوئے تھے۔ ابھی وہ امرودوں کو دیکھ ہی رہی تھی کہ اسکو دور سے ٹیں ٹیں کی آواز آئی۔ نظر اٹھائی تو اونچے درختوں کے پیچھے سے ایک خوبصورت منظر نظر آیا۔ بیس پچیس طوطوں کی ایک ڈار تیزی سے اڑتی چلی آرہی تھی۔صوفیہ بہت شوق سے انکے مختلف رنگ اور خوبصورتی کو دیکھ رہی تھی۔ لیکن اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں جب ان طوطوں نے امرودوں کے درخت پر ایک ساتھ حملہ کیا اور کئی امرود زمین پر آگرے۔امرودوں کو نشانہ بناتے طوطوں نے ٹیں ٹیں کا ایک شور مچا رکھا تھا۔ اور تیزی سے اپنا کام مکمل کرکے سارے طوطے یہ جا وہ جا ہو گئے۔اور طوطوں کی ڈار خوبصورتی کے ساتھ اڑتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

صوفیہ نے ان تازہ گرے ہوئے امرودوں کو اٹھا کر دیکھا تو ہر امرود پر طوطوں کے کھانے کے نشان تھے۔اس کو افسوس بھی تھا اور حیرت بھی کہ کیسے یہ طوطے نشانہ باندھ کرسارءے پکے امرود کھا گئے اور کچّے امرود اب ابھی درخت پر لگے ہوئے ہیں۔اب معلوم ہوا کہ یہ امرود کیسے گر جاتے ہیں۔کیسے انکو کیڑے کھا کر ختم کر دیتے ہیں۔

صوفیہ خالی ٹوکری لے کر اندر آگئی اور امی کو طوطوں کے بارے میں بتایا۔
اسے پھلوں کی مزیدار چاٹ کے نہ بننے کا افسوس تو ہوا مگر طوطوں کے اس غول کا ایک ساتھ اُڑ کر آنے کا خوبصورت منظر ہمیشہ کے لئے اسکی آنکھوں میں سما گیا۔

25/01/2021

رنگ بھری چڑیا

بچپن کا زمانہ بہت مزیدار زمانہ ہوتا ہے۔ دل چاہتا ہے کچھ انوکھا کریں، کچھ دلچسپ کریں۔ معلوم نہیں ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں، جو جی میں سما یٔ ،کر لیا۔ نہ کو یٔ فکر نہ پریشانی۔ کھیل کود تو اس عمر میں چلتے ہی رہتے ہیں مگر ہم تو دنیا سے نرالے کام کرتے تھے۔ یوں تو ہم ماشا اللہ کیٔ بہن بھایٔ تھے مگر چھوتے چار بہن بھا یٔوں کی اپنی الگ ہی ایک دنیا تھی۔ میں مجھ سے چھوٹا بھایٔ، چھوٹی بہن اور سب سے چھوٹا بھایٔ۔ میں ان میں سب سے بڑی اور انکی استاد تھی۔ ہم سب طرح طرح کی ترکیبیں سوچتے اور ان پر عمل کرنے کی تیاری شروع کر دیتے۔

ایک دن ہمیں ایک ترکیب سوجھی ۔ ہمارے صحن میں بہت پیاری اور قسم قسم کی چڑیاں آتی تھیں اور دانہ دنکا لیکر اُڑ جاتی تھیں۔ہم نے سوچا ان چڑیوں کو پکڑ کر دیکھتے ہیں۔

دماغ لڑایا، سوچا اسکے لیۓ مرغیوں کا ٹوکرا استعمال کیا جاۓ ۔ اسکے لیۓ ایک لمبی اور پتلی ڈوری بھی چاہیۓ تھی۔ ڈوری کو ایک لکڑی کے ساتھ باندھا گیا اور اس توکرے کو اِس لکڑی کے سہارے ایک طرف سے اٹھا لیا گیا۔ ٹوکرے کے نیچے باجرہ اور گندم کے دانے ڈالے گیٔے تاکہ چڑیاں گذرتی ہویٔ ادھر آییٔں۔ ارادہ یہ تھا کہ جیسے ہی چڑیاں دانہ چگنے آیٔیں گی رسی کو کھینچ کر لکڑی کو گرا دیا جاۓ گا اور ساتھ ہی ٹوکرا بھی خود بخود گر جاۓ گا اور چڑیاں اندر بند ہو جایٔیں گی۔ دو تین مرتبہ مرتبہ کوشش کی گیٔ مگر چڑیاں بھی بھت ہوشیار ہوتی ہیں۔ وہ وقت سے پہلے سمجھ جاتی تھیں کہ کویٔ چال ہے اور پُھر سے اُڑ جاتی تھیں۔ مگر ہماری کوشش جاری رہی۔ بچپن میں یہی تو مزے تھے کہ جس کام میں دل لگ گیا اسکے لیۓ وقت ہی وقت تھا۔ بس یک ہی دھن تھی کہ چاہے ایک ہی چڑیا ہو مگر ٹوکرے کے نیچے آجاۓ۔ اور ایک دفعہ واقعی ایسا ہو گیا! ایک چڑیا ٹوکرے کے نیچے بند ہو ہی گیٔ۔اب اسکو پکڑنا ایک مرحلہ تھا کہ وہ اڑ نہ جاۓ۔ اصل میں ارادہ یہ تھا کہ اس چڑیا پر رنگ کیا جاۓ اور پھر اسے اڑا دیا جاۓ۔ پھر یہ جب بھی ہمارے صحن میں آۓ گی تو ہم اسکو پہچان لیں گے۔

لو بھیٔ ایک چڑیا پکڑی بھی گیٔ اور ہمارے ہاتھ میں بھی آگیٔ۔ اب ایک بچے نے اسکو بڑی احتیاط اور نرمی سے اپنے ہاتھ میں لیا، ساتھ میں اس ڈری سہمی چڑیا کو باجرہ بھی کھلاتے رہے، اور دوسرے نے دھیرے دھیرے اسکے پروں پر رنگ کرنا شروع کردیا۔ چڑیا اپنے ساتھ ہونے والی اس شرارت سے بے خبر باجرہ چگنے میں مصروف رہی اور تھوڑی ہی دیر میں وہ اپنے ہلکے سے سرمیٔ رنگ کے بجاۓ گہرے زرد رنگ کی چڑیا بن چکی تھی! ہم نےاسکا رنگ خشک ہونے کا انتظار کیا اور پھر بڑے پیار اور محبت کے ساتھ اسے اڑا کر آزاد کر دیا۔

اسکے بعد ہم کیٔ دنوں تک سخت انتظار میں رہے کہ کب وہ چڑیا دانہ چگنے ہمارے گھر میں واپس آۓ ۔اب ہم نے ٹوکرا وہان سےہٹا دیا تھا اور بس زمین پر باجرے کے دانے بکھیر دیے تھے۔سب چڑیاں پہلے دیوار پر بیٹھ جاتیں اور ٹیڑھی ٹیڑھی آنکھوں سے راستہ صاف ہونے کا انتظار کرتیں کہ کب وہ اتر کر دانہ چگیں۔

وہ آگیٔ ہماری والی چڑیا! ہم سب ایک ساتھ خوشی اور جوش سے چلّاۓ۔لیکن دوسرے ہی لمحے ہماری خوشی افسوس میں بدل گیٔ کیونکہ باقی چڑیاں ہماری پیلی رنگ لی چڑیا کو چونچوں سے ٹھونگیں مار کر پرے کر رہی تھیں۔ اور وہ معصوم زور زور سے چلّا رہی تھی۔ یہ دیکھ کر ہمیں بہت دکھ ہوا کہ ہمارے اسے پیلا رنگ دینے سے وہ اپنی ساتھی چڑیوں سے مختلف لگ رہی تھی اور وہ اسے اپنے سے دور کر رہی تھیں۔ ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور وعدہ کیا کہ آیندہ کسی چڑیا کو پکڑ کر اس طرح نہیں رنگ دیں گی۔ ہم نے دعا کی کہ اللہ میاں بارش کر دے تاکہ اسکے پروں کا رنگ دُھل جاۓ۔

ایک دن آسمان پر بادل چھاۓ ہوۓ تھے کہ چڑیوں کا یہ غول ہمارے لان میں اترا۔ انھیں میں الگ تھلگ ہماری پیلی چڑیا بھی تھی۔ذرا سی دیر میں ہماری دعا قبول ہویٔ اور زور کی رم جھم بارش ہویٔ۔ ساری چڑیاں بارش سے بچ کر ادھر ادھر ہو یٔں۔ اور ہماری پیلی چڑیا پانی میں بھیگتی پیچھے رہ گیٔ۔ لیکن یہ کیا ہوا! بارش کے ساتھ اسکا رنگ اترنا شروع ہو گیا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ بالکل دوسری چڑیوں جیسی نظر آنے لگی۔ ہم نے دیکھا کہ وہ چہچہاتی ہویٔ دوبارہ اپنی دوستوں شامل ہو گیٔ۔

اب وہ روز سب کے ساتھ مل کر دانہ کھانے اسی طرح ہمارے صحن میں آتی اور چہچہاتی ہویٔ واپس اُڑ جاتی۔

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Hs. 624, Sawan Road, (across G-10 Markaz), G-10/2
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 16:00 - 17:30
Tuesday 16:00 - 17:30
Wednesday 16:00 - 17:30
Thursday 16:00 - 17:30
Friday 16:00 - 17:30