26/01/2021
اسکول اسکول
کہتے ہیں بچے کھیل کود میں وہ کچھ سیکھ لیتے ہیں جو وہ شائد سکولوں کی سخت ترین پڑھائی اور ماں باپ کی ڈانٹ ڈپٹ اور مشکل مشکل کتابوں سےبھی نہیں سیکھ پاتے۔بچوں کی پسند نا پسند، ان کا مزاج ، ان کی زبان اور سوچ ان کھیلوں میں ہی نظر آنے لگتی ہے۔ آجکل کے بچے بھی بہت سارے کھیل کھیلتے ہیں اور وہ بھی ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔کمپیوٹر ہو یاٹیبلٹ۔ سمارٹ فون ہو یا ٹی وی پر کارٹون ان میں گھنٹوں مگن رہتے ہیں۔ ان کھیلوں کے فائدے بھی ہیں اور نقصان بھی۔ ان میں مشکلات بھی ہیں اور رکاوٹیں بھی۔ مقصد حاصل کر کے بچے خوش بھی ہوتے ہیں مگر شائد وہ تیزی، ہشیاری اور وہ چستی نہیں ہوتی جو پٹھو گرم یا کو ڑا جمال شاہی میں چاہئے ہوتی ہے۔
ان کھیلوں میں وہ تخلیقی صلاحیتیں بھی استعمال نہیں ہوتیں جو گھر گھر ، دوکان دوکان اور اسکول اسکول کھیلنے میں پروان چڑھتی نظر آتی ہیں۔کمپیوٹر سے متعلق تمام کھیلوں میں کسی حد تک وقت کا زیاں، صحت پر مضر اثرات، اور بعض اوقات بچوں کی شخصیت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ہمارے بچپن میں کمپیوٹر یا ویڈیو گیم جیسی چیزیں تو ہوتی نہیں تھیں۔ اپنے کھیل ہم خود ہی ایجاد کیا کرتے تھے، اور وہ کتنے مزے کے ہوتے تھے۔ آپکو انکی ایک جھلک دکھاؤں؟
چلیں ایک کام کرتے ہیں ۔ شہر لاہور کے ایک کشادہ سے گھر میں ماضی کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھتے ہیں کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔ کیا خوبصورت سماں ہے! گھر کے تین طرف کھیت ہیں اور بالکل ساتھ ایک مکان جڑا ہوا ہے۔ بر سات کا موسم ہے۔ بارش میں کھیتوں میں چاول بوئے جا رہے ہیں۔گھر کے باہر کے بڑے سے برآمدے میں کچھ کھچڑی سی پک رہی ہے۔ کچھ لڑکیاں مل کر اس خوب صورت جگہ کو صاف کر رہی ہیں۔ چمکتی ہوئی چپس والی شیلفوں کو بھی چمکایا جا رہا ہے۔ لگتا ہے کسی خاص کام کی تیاری ہے۔گرمیوں کی چھٹیاں ہیں اور چھٹیوں میں فیصل آباد اور کراچی سے بھی عزیز اور ان کے بچے آئے ہوئے ہیں۔ خوب رونق ہو رہی ہے۔۔لڑکیاں کرسیوں کو قطاروں میں لگاتی ہیں۔ ایک سیاہ بورڈ لا کر ستون پر لگایا جاتا ہے۔ دو تین لڑکیاں پرس اور فائیلیں اٹھائے داخل ہوتی ہیں۔ ایک لڑکی کےہاتھ میں خاصدان کا ڈھکنا اور چمچہ ہے۔ اب تو کچھ کچھ سمجھ میں آ رہا ہے کہ کوئی اسکول شروع ہونے والا ہے۔
ایک لڑکی جو ذرا زیادہ سنجیدہ نظر آ رہی ہیں لال ہیل کے جوتے پہنے ہوئے آتی ہیں۔عینک بھی لگائے ہوئے ہے۔ شاید اپنی امی کی چیزوں پر ہاتھ صاف کیا گیا ہے۔ہاتھ میں ایک چھڑی بھی ہے جو شاید بچوں کی ٹھکائی کے لئے رکھی گئی ہے۔ٹیچرز تین سے زیادہ ہیں۔ایک ٹیچر خاصدان کے ڈھکنے پر چمچے سے گھنٹی بجاتی ہے تو کئی بچے ایک دم بھاگ کر اندر داخل ہوتے ہیں۔اور اپنے بستے کر سیوں پر رکھ کر اسمبلی کے لئے قطاریں بناتے ہیں۔ہیڈ مسٹریس بچوں کو سیدھی قطار بنانے کا طریقہ بتاتی ہیں۔تلاوت کے بعدقومی ترانہ ہوتا ہے اور بچےاپنی کلاس میں جاتے ہیں ۔ بچے مختلف عمر اور سائز کے ہیں۔ بڑی عمر کے بچے منہ چھپا کر ہنس رہے ہیں۔ کچھ بچے تو واقعی ڈرے ہوئے ہیں۔
گھنٹی بجی تو انگریزی کی ٹیچر آ ئیں۔ انہوںنے بچوں کی حاضری لی۔ انگلش کی کتابیں نکلوائیں اور سبق پڑھنے کو کہا۔ کچھ بچوں نے اچھا پڑھا اور ایک دو بچے ہجوں سے بھی نہ پڑھ سکے۔ ٹیچر نے پوچھا بولو۔۔۔ بی ۔اے ۔جی۔ کیا ہوتاہے بچے نے ہر بار کہا ۔۔۔۔یہ نی آتا۔۔۔۔۔ٹیچر نے سر پکڑ لیا۔ دوسرے کا بھی یہی مسئلہ تھا۔ وہ کہتے تھے ۔۔۔۔میں سوچ رہا ہوں۔۔۔میں سوچ رہا ہوں۔۔۔ ٹیچر اور بچے زور سے ہنستے ہیں۔۔۔۔اب لکھائی کا وقت آیا۔ لکھائی سب کو پسند تھی۔ ہر حرف سے بچوں نے دو دو لفظ بنائے۔۔ہیڈ صاحبہ نے آ کر بچوں کا کام دیکھااور ان کے کام کی اورلکھائی کی خوب تعریف ہوئی۔ گھنٹی بجی اور حساب کا پیریڈ شروع ہوا۔۔آج صرف پہاڑوں کو دوہرائی کروائی گئی۔۔ ۔ کیونکہ آج خسرہ کے ٹیکےلگانے والےآگئےتھے۔چھوٹے بچوں کی ٹیکوں سے بہت جان نکلتی تھی اور وہ ٹیکہ لگنے کے خیال سے ہی رونے لگے۔انہیں سمجھایا گیا کہ یہ جھوٹ موٹ کے ٹیکےہیں۔۔ایک بھائی ڈاکٹر کا آلہ اور سرنج لے کر آئے۔۔ رونے والے اب بھی رو رہے تھے۔ بھائی نے جھوٹ موٹ کے ٹیکے لگائے اور روانہ ہو گئے۔
ٹیچر ز کو لال پین سے کام چیک کرنے کا بہت شوق تھا ۔۔بچوں کو خوب گڈ ملتے اور دستخط بھی ہوتے۔ آج بریک بھی دیر سے ہوئی۔ بچوں کو آدھا آدھا پراٹھااورآملیٹ کھانے میں دیا گیا۔ سب بچے بہت خوش تھے۔کھانے کے بعد بچوں کو کھیلنے کی بریک ملتی تھی لیکن بارش کی وجہ سے آج باہر کھیلنے کی اجازت نہیں تھی۔لہذا بچے کلاس میں ہی اودھم مچاتے رہے۔تھوڑی دیر بعد بریک ختم ہونے کی گھنٹی بجی اور سب بور شکل بنا کر اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
گھنٹی بجی اور اردو کا پیریڈ شروع ہوا۔ آ ج حساب کی سختی سے تو بچ گئے مگر اردو تو ہونی ہی تھی۔اردو کی ٹیچرعینک لگائے کلاس میں آئیں اور بچوں سے املا کے لئے کاپیاں نکالنے کو کہا۔ بچوں نے کاپیاں نکالیں۔سب تیاری کر کے آئے ہیں ؟ ٹیچر نے پوچھا۔ جی میڈم۔ اچھااب جو لفظ میں بولوں وہ لکھیں اور لکھ کر الٹی کر دیں۔ بڑے بچوں کو ہنسی روکنا مشکل تھا۔ زور سے ہنسی کی آواز آئی۔ ٹیچر نے ڈانٹا۔ ھوں۔۔۔۔سانس کی بھی آ واز نہ آئے۔ ۔۔پہلا لفظ لکھیں، کام۔۔۔۔لکھ لیا ؟ اب الٹی کر دیں۔۔۔۔پھر ہنسی کی آواز آئی۔۔۔ٹیچر نے دو تین کو ہلکی سی دھپ لگائیں۔۔۔ املا کے بعد کتاب سے تھوڑی سی پڑھائی ہوئی اور اگلے سوال جواب کی دوہرائی کا ہوم ورک ملا۔ اور یوں آج کا دن ختم ہوا بچوں کو خدا حافظ کہا گیا اور بچے لائین بناکر اپنے فرضی ماں باپ کے ساتھ گھروں کو روانہ ہوگئے۔
یہ کھیل اتنا دلچسپ اور مزاحیہ تھا اور اس سے ہیڈ مسٹرس، ٹیچرز نے جو کچھ سیکھا وہ ساری عمر انھیں یاد رہا۔اب میں آپکو ایک راز کی بات بتاؤں اس کھیل میں شامل ٹیچرز میں، میں بھی تھی۔ باقی سب میری بہنیں، بھائی ، کزن اور دوست سب شامل تھے۔ اور واقعی یہ اسکول اسکول ہم سب میں، خصوصاً لڑکیوں میں ٹیچر بننے کا شوق بیدار کر گیا۔ وہ سب لڑکیاں جو اس کھیل میں ٹیچر بنتی تھیں وہ آگے چل کر کسی نہ کسی ادارے میں ٹیچر ، ھیڈ مسٹرس ، پرنسپل بن گئیں ، اور کسی نے خصوصی بچوں کے اسکول میں پڑھانے کی ذمہ داری اپنائی۔ اور سب ابھی تک یاد کرتی ہیں کہ تمہارے گھر میں کھیلے گئے اسکول اسکول کا یہ نتیجہ ہے کہ ہم تیس سال بعد اسی میدان میں جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔
ہے نا مزے کی بات؟