27/11/2023
یہ اس کے کردار کی پختگی کا
حیران کن مظاہرہ تھا کہ اس
نے جب اپنے سالاروں وغیرہ کو
کانفرنس کے لیے بلایا تو اس
کے چہرے پر گھبراہٹ یا پریشانی
کا شائبہ تک نہ تھا۔ کانفرنس کے
حاضرین پر خاموشی طاری تھی۔
انہیں یہ توقع تھی کہ سلطان
ایوبی گھبرایا ہوا ہوگا مگر اس نے
مسکرا کر سب کو دیکھا اور کہا
… ''میرے رفیقو! تم نے بڑے ہی
دشوار اور پیچیدہ حالات میں
میرا ساتھ دیا ہے۔ آج ایسے حالات
نے ہمیں للکارا ہے جو بظاہر ہمارے
قابو میں آنے والے نہیں لیکن یاد
رکھو اگر ہم نے ان حالات پر قابو
نہ پایا تو ہم سب کے لیے دنیا میں
بھی رسوائی ہے اور خدا کے حضور
بھی رسوائی۔ دنیا میں تاریخ ہماری
قبروں پر لعنت بھیجے گی اور روز
محشر وہ شہید ہمیں شرمسار کریں
گے جنہوں نے اسلام کی آبرو پر جانیں
قربان کی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ
ہم سب جانیں قربان کردیں''… اس
تمہید کے بعد اس نے اپنے اعلیٰ حکام
کو ہر ایک تفصیل بتائی اور کہا کہ
اب انہیں اپنے بھائیوں کے خلاف لڑنا
پڑے گا۔ اس نے سب کے چہروں کا
جائزہ لیا، کچھ دیر خاموش رہا۔ سب
کے چہروں کے رنگ بدل گئے تھے۔ اسے
اطمینان ہوگیا کہ یہ حکام ہر صورتحال
میں اس کا ساتھ دیں گے۔ اس نے کہا
''میرا پہلا اقدام یہ ہے کہ میں اپنی
خودمختاری کا اعلان کرتاہوں، میں اب
مرکزی خلافت کا پابند نہیں رہناچا ہتا
لیکن میں یہ اعلان تم سب کی اجازت
کے بغیر نہیں کروں گا۔ مجھے اجازت
دینے یا نہ دینے سے پہلے ایک دو پہلووں
پر غور کرلو۔ ایک یہ کہ خلافت عملاً
ختم ہوچکی ہے، جیسا کہ میں نے تمہیں
بتایا کہ خلیفہ گیارہ سال کا بچہ ہے۔
اس پر تین چار امراء نے قبضہ کررکھا
ہے۔ یہ امراء صلیبیوں کے دوست ہیں
، لہٰذا آپ کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں
لگنی چاہیے کہ خلافت صلیبیوں کی
گود میں چلی گئی ہے۔ اب ہماری فکر
خلافت کے خلاف ہے اگر تم خودمختار
اور آزاد نہیں ہوتے تو تمہیں خلیفہ کے
حکم ماننے پڑیں گے اور یہ حکم سلطنت
اسلامیہ کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ کیا ان
حالات میں یہ اقدام صحیح نہیں ہوگا
کہ میں مصر کو خلافت سے آزاد کردوں
اور اس کے بعد تمہارا ہر قدم ایسا
آزادانہ ہو جو اسلام کی بقا کے لیے
ضروری ہو؟''
''کیا آپ خلافت کے خلاف کارروائی
کرنا چاہتے ہیں؟'' ایک سالار نے پوچھا۔
''میں نے ابھی فیصلہ نہیں کیا''۔
سلطان ایوبی نے جواب دیا… ''کل
پرسوں تک میرے وہ ایلچی واپس
آجائیں گے جنہیں میں نے امراء کی
طرف بھیج رکھا ہے۔ اگر مجھے
جنگی کارروائی کا فیصلہ کرنا پڑا
تو گریز نہیں کروں گا''۔
''آپ مصر کو خودمختار مملکت
قرار دے دیں''۔ ایک حاکم نے کہا…
''ہم گیارہ سال کے بچے کو خلیفہ
تسلیم نہیں کرسکتے''۔
''تو کیا تم سب مجھے سلطان مصر
تسلیم کروگے؟'' صلاح الدین ایوبی
نے پوچھا.تمام حاضرین نے بیک زبان
کہا کہ وہ اسے سلطان مصر تسلیم
کرتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی نے
اسی وقت خودمختاری کا اعلان
کردیا اور مصر کو آزاد مملکت
قرار دے دیا۔ اس اعلان کے ساتھ
ہی اسے اسی وقت قانون کے مطابق
سلطان کا خطاب مل گیا۔
''میں امت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کا نہیں، میدان
جنگ کا بادشاہ ہوں''۔ سلطان
ایوبی نے کہا… ''تم نے دیکھا ہے
کہ میں صلیبیوں کے لشکر کے
درمیان گھومتا پھرتا رہا ہوں۔
میں نے دس دس جانبازوں سے
دس دس ہزار لشکروں کو تہہ
وبالا کیا ہے مگر اپنے بھائیوں کے
خلاف جنگ کی سوچتا ہوں تو
تمام جنگی چالیں ذہن سے نکل
جاتی ہیں۔ میری تلوار نیام سے
باہر نہیں آتی۔ مجھے اور تم
سب کو یہ دن بھی دیکھنا تھا
کہ ہم آپس میں لڑیں اور
صلیبی تماشا دیکھیں''۔
''یہ تماشہ ہمیں دکھانا ہی پڑے
گا، سلطان محترم!'' ایک سالار
نے کہا… ''اگر اپنے بھائیوں پر
الفاظ کا اثر نہ ہو تو تلوار استعمال
کرنی ہی پڑے گی۔ ہم میں سے کوئی
بھی خلافت کی گدی کا خواہشمند
نہیں۔ ہم جو کچھ کریں گے اسلام
کی خاطر کریں گے، ذاتی مفاد کی
خاطر نہیں''۔