18/08/2026
بٹگرام کے لوگوں کا مؤقف
بٹگرام کے لوگ امن پسند لوگ ہیں۔ یہاں جتنی بھی دوسری برادریاں ہیں، چاہے گجر ہوں یا کوئی بھی، یہاں لوگوں میں نفرت نہ پھیلائی جائے۔ ہوٹل کے کونے میں دس پندرہ بندوں کو بٹھا کر صوبے نہیں بنتے۔ آج آپ لوگ یہ دعوے کرتے ہیں کہ بٹگرام کے لوگ یہاں کی باقی برادری کو حقیر سمجھتے ہیں اور اسی بات پر ہمارے بڑوں کو گالیاں اور برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ ایسے رویے اس پُرامن خطے کو ایک ایسی جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہیں جو شاید کبھی ختم نہ ہو، بلکہ آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں نفرت اور نظریات میں تعصب پیدا کرے۔ بٹگرام کے لوگ کتنے پُرامن ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ یہاں اقلیتی برادری، یعنی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ، کئی دہائیوں سے امن کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ وہ مقامی آبادی کے ساتھ غم اور خوشی میں شریک ہوتے ہیں، اپنی روزمرہ عبادات جاری رکھتے ہیں اور معاشرے کا حصہ ہیں۔ جب دوسرے مذہب کے پیروکار ہمارے ساتھ امن سے رہ سکتے ہیں اور ہم ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں تو پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہاں کے پختون ہم سے نفرت کرتے ہیں یا تعصب پھیلا رہے ہیں؟ ہم پختونخوا کے لوگ اور پختون ہمیشہ امن، بھائی چارے اور اچھے سلوک کو فروغ دیتے ہیں۔
آپ ہزارہ صوبے کی بنیاد کی بات کرتے ہیں، لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ ہر اختلاف کو نفرت اور تعصب کا رنگ کیوں دیا جائے؟ جب صوبہ سرحد کو خیبر پختونخوا کا نام دیا گیا تو یہ یہاں کے لوگوں کا بنیادی حق تھا، کیونکہ یہاں اکثریت پشتون ہے، اس لیے نام بھی اسی شناخت کے مطابق رکھا گیا۔ باقی قومیں سارے صوبوں میں موجود ہیں، ذرا باقی صوبوں پر بھی نظر دوڑائیں۔ کیا بلوچستان میں 45 فیصد سے زیادہ پشتون نہیں ہیں؟ پھر صوبے کا نام بلوچوں کے ساتھ منسوب کیا گیا؟ کیا پنجاب میں سرائیکی اور باقی زبانیں نہیں ہیں؟ پھر پنجاب کو اسی نام سے منسوب کیا گیا؟ اسی طرح سندھ میں بھی باقی قومیں موجود ہیں، پھر ان کی شناخت کا کیا ہوگا؟ آپ کا دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ ہم جب پشاور جاتے ہیں تو ہمیں پشتو نہیں آتی، اس لیے ہم صوبہ مانگ رہے ہیں۔ بھائی، پہلے تو وہاں جا کر اردو میں بات کریں، یہ قومی زبان ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہزارہ کے لوگوں کی زبان توصی اور ہندکو ہے، جو ہمیں بٹگرام، تورغر اور کوہستان کے لوگوں کو نہیں آتی، تو ہم کیوں لازماً آپ کے ساتھ شامل ہوں؟
صوبہ ہزارہ کے معاملے میں ہمارا مؤقف یہ بھی ہے کہ اس مطالبے کو بعض لوگ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ مانسہرہ کے سیاسی اور مذہبی امور کے وزیر سردار یوسف بھی اس کوشش میں شامل ہیں، اور ہمارا سیاسی تجزیہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ کے اندر امیر مقام کو جو مقام حاصل ہے، اس وجہ سے وزیر صاحب کو وہ مقام نہیں مل رہا، اسی لیے وہ الگ صوبے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ تاہم اگر بٹگرام کا کوئی سیاسی نمائندہ صوبہ ہزارہ کی حمایت کرتا ہے تو یہ اس کی ذاتی رائے ہے، بٹگرام کے لوگوں کی طرف سے نہیں ہوگا۔ الحمدللہ ہم لوگ اتنے باشعور ہیں کہ اپنی رائے خود قائم کر سکتے ہیں اور اچھے برے کی تمیز کر سکتے ہیں۔ کسی ایک سیاسی نمائندے کی رائے کو پورے بٹگرام کے عوام کی رائے قرار دینا درست نہیں۔
2019-20 کی بات ہے جب بٹگرام سٹوڈنٹس سوسائٹی، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی بنیاد رکھی گئی۔ ہزارہ کے طلباء کے بار بار اصرار پر اس وقت کے بٹگرام کے نمائندگان شہاب الدین لالا، شیراز احمد شیرازی، کلیم اللہ اور باقی ممبران نے سوسائٹی کو ان کے ساتھ ضم کیا تھا۔ لیکن ان کا رویہ اور بار بار کی عصبیت نے بٹگرام کے نمائندگان کو اس بات پر مجبور کیا کہ سوسائٹی الگ کی جائے، جس کے شواہد نیچے تصاویر میں موجود ہیں۔ اس کے بعد کئی دفعہ ہزارہ کونسل کے طلباء نے بار بار ہمارے ساتھ رابطہ کیا کہ ہمارے ساتھ ضم ہو جائیں اور صرف ہزارہ کونسل رہے، بٹگرام سوسائٹی نہ ہو، لیکن ہم نے ہر بار اپنی الگ شناخت اور تنظیمی خودمختاری برقرار رکھی۔ الحمدللہ آج بٹگرام سٹوڈنٹس سوسائٹی اپنی سرگرمیوں اور طلباء کے ساتھ ہر مشکل میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے، جبکہ ہزارہ کونسل کا نام و نشان نہیں۔ اسی طرح اسلامک یونیورسٹی میں جب کسی پختون پروفیسر یا ایمپلائز کو پروموشن ملتی ہے تو ہمارے مشاہدے میں بعض ہزارہ طلباء کی جانب سے تعصب کی بنیاد پر ان کے خلاف درخواستیں دینے اور ان کا راستہ روکنے کی کوششیں بھی سامنے آئی ہیں۔ ہم ایسے رویوں کو کسی بھی صورت درست نہیں سمجھتے، چاہے یہ کسی بھی قوم یا گروہ کی طرف سے ہوں۔
آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ باقی صوبے جن کے کہنے پر بنائے جا رہے ہیں، وہ وہی لوگ ہیں جن کی مرضی سے حکومتیں بنتی ہیں۔ عوامی مینڈیٹ سے یہاں کچھ نہیں ہوتا، لیکن پھر بھی ہم اس بیانیے کی جنگ اور اپنے حقوق کے لیے جنگ لڑتے رہیں گے۔ ہم کسی برادری کے حقوق چھیننے کے حق میں نہیں اور نہ ہی کسی سے نفرت چاہتے ہیں، لیکن اپنے حقوق، اپنی شناخت اور اپنے مؤقف کے لیے آواز اٹھانا ہمارا بنیادی حق ہے۔ بٹگرام کے لوگوں کو نفرت نہیں، امن چاہیے؛ ہمیں ایسی سیاست نہیں چاہیے جو لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرے۔ اختلاف ضرور کریں، لیکن ایک دوسرے کو دشمن نہ بنائیں۔
صدر، بٹگرام سٹوڈنٹس سوسائٹی
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد
سعید فراز و آل ممبران