23/09/2025
مفتیِ اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخؒ – حیات و خدمات
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ عالم اسلام آج ایک عظیم خسارے سے دوچار ہے کہ سعودی عرب کے مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخؒ طویل دینی و علمی خدمات کے بعد اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ آپ نے مسلسل پینتیس برس تک خطبۂ حج دینے کی سعادت حاصل کی اور اپنے علمی وقار، تقویٰ، اعتدال اور بصیرت کے باعث پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے راہنمائی کا مینار بنے رہے۔ شیخ عبدالعزیز آل الشیخؒ 1943ء میں ریاض میں پیدا ہوئے۔ نابینا ہونے کے باوجود علم کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ نے قرآن و سنت کی تعلیم میں خصوصی دلچسپی لی اور کم عمری ہی میں حنبلی فقہ و عقیدہ پر گہری دسترس حاصل کرلی۔ آپ کو 1999ء میں سعودی عرب کا مفتی اعظم مقرر کیا گیا اور اس منصب پر رہتے ہوئے انہوں نے بے شمار فتاویٰ جاری کیے، جنہوں نے امتِ مسلمہ کی دینی و سماجی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ سعودی عرب کی "ہیئۃ کبار العلماء" کے سربراہ بھی رہے اور اسلامی دنیا کی بڑی علمی و فقہی کانفرنسوں میں شرکت کر کے اتحاد امت، اعتدال اور میانہ روی کا پیغام دیا۔ آپ کے خطباتِ حج اپنی جامعیت، فصاحت اور امت کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے تاریخ کا حصہ ہیں۔ ہر سال خطبۂ عرفہ کے ذریعے آپ امت مسلمہ کو قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے کا درس دیتے رہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں کئی علمی
تصنیفات بھی چھوڑیں جن میں
"The Book of Allah, the Almighty, and its Glorious Position"،
"The Meaning of our Testimony that Muhammad is the Messenger of Allah"،
"A Collection of the Sermons of Arafah"،
"The Book on Fatwas on Doctrines"،
"Fatwas on Purity and Prayers"، "Provisions and Fatwas on Zakat"،
"Fatwas on Fasting"،
"Fatwas on Hajj"
اور
"Nur ‘Ala al-Darb Fatwas"
کے مختلف مجموعے شامل ہیں۔ یہ کتب اور فتاویٰ نہ صرف سعودی عرب بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے علمی سرمایہ اور رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ ان کی تصانیف میں عقائد، عبادات اور معاشرتی مسائل پر تفصیلی مباحث موجود ہیں جو طلبہ، علما اور عام مسلمانوں کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں۔ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخؒ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی خدمت میں گزاری۔ آپ نے کبھی کسی مصلحت یا دباؤ کے تحت حق بات کہنے سے گریز نہ کیا۔ آپ کی علمی دیانت، متانت اور اخلاص نے آپ کو امت کا معتمد رہنما بنایا۔ آج ان کی وفات امت مسلمہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے۔