Sunni Naqeebi Qadri

Sunni Naqeebi Qadri

Share

Islamic Spiritual and Research based Discussion

Timeline photos 24/09/2025
23/09/2025

مشاطہ فرعون اور شبِ معراج کی خوشبو
شبِ معراج کا سفر تاریخِ انسانیت کا سب سے عظیم اور روحانی واقعہ ہے۔ اس شب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زمینی اور آسمانی مخلوقات کے عجائبات دکھائے۔ اس سفر میں ایک لمحہ ایسا بھی آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصر کے قریب سے گزر رہے تھے تو وہاں نہایت ہی خوشبو محسوس فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے اس خوشبو کا راز پوچھا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ یہ خوشبو فرعون کی بیٹی کی مشاطہ اور اس کی اولاد کی قبور سے آ رہی ہے۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا قصہ دریافت کیا تو حضرت جبرئیل امین نے بتایا کہ یہ ایک نیک اور وفادار بندی تھی جو فرعون کے محل میں شہزادی کی خدمت کرتی تھی۔ وہ خفیہ طور پر ایمان لا چکی تھی اور اللہ تعالیٰ کی توحید پر یقین رکھتی تھی۔ ایک دن جب وہ شہزادی کے بال بنا رہی تھی تو اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی۔ اس نے بے ساختہ کہا: "بسم اللہ"۔ شہزادی حیران ہو گئی اور پوچھا کہ یہ کون سا نام ہے؟ کیا تو میرے باپ کے سوا کسی اور کو رب مانتی ہے؟ مشاطہ نے پوری جرات اور یقین سے کہا کہ رب صرف اللہ ہے، جو میرا، تیرا اور تیرے باپ سب کا خالق و رازق ہے۔۔ یہ خبر فرعون تک پہنچی تو اس نے مشاطہ کو دربار میں بلایا اور پوچھا کہ کیا واقعی تو مجھے چھوڑ کر کسی اور کو رب مانتی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرا اور تیرا رب اللہ ہے جو بلند و برتر ہے۔ فرعون غصے میں آگ بگولا ہو گیا اور حکم دیا کہ تانبے کی گائے کو آگ پر دہکایا جائے اور جب وہ آگ جیسی ہو جائے تو مشاطہ کے بچوں کو ایک ایک کر کے اس میں ڈال دیا جائے اور آخر میں اسے بھی ڈال دیا جائے۔چنانچہ حکم کے مطابق دہکتی ہوئی گائے تیار کی گئی۔ سب سے پہلے اس کے بچوں کو ایک ایک کر کے آگ میں ڈالا جانے لگا۔ ماں کی آنکھوں کے سامنے اس کے جگر گوشے جل کر راکھ ہوتے گئے لیکن اس نے اللہ کے دین پر صبر اور استقامت کی روش نہ چھوڑی۔ جب سب سے چھوٹے دودھ پیتے بچے کی باری آئی تو ماں کا دل بے چین ہوا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر اس شیر خوار بچے کو زبان عطا کی۔ اس نے ماں کو تسلی دیتے ہوئے کہا: "اماں جان! غم نہ کرو، پس و پیش نہ کرو، اللہ کے دین پر جان دینا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔"
یہ سن کر ماں کے دل میں سکون اتر گیا۔ بچے کو بھی آگ میں ڈال دیا گیا اور آخر کار مشاطہ نے بھی اپنی جان اللہ کے دین پر قربان کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر اور استقامت کو ایسا شرف عطا فرمایا کہ ان کی قبور سے جنت کی خوشبو اٹھتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی رات وہ خوشبو عطا کی گئی۔۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ایمان کا تقاضا صرف زبان سے اقرار نہیں بلکہ عمل اور قربانی سے پورا ہوتا ہے۔ فرعون جیسا جابر بادشاہ بھی ایک کمزور باندی کے ایمان کو شکست نہ دے سکا۔ یہ عورت قیامت تک کے لیے صبر، استقامت اور شہادت کی علامت بن گئی۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
"بے شک جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ گئے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔" (حم السجدہ: 30)۔ مشاطہ کا ایمان اسی آیت کی عملی تصویر تھا۔ اس نے رب کہا اور پھر استقامت کے ساتھ قربانی دے دی۔ آج بھی یہ خوشبو اہلِ ایمان کے لیے تسلی کا پیغام ہے کہ جو اللہ پر ڈٹ جائیں ان کی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ایمان پر ثابت قدم رہنے والا کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ دین کے راستے میں قربانی کبھی خواہشات کی شکل میں آتی ہے، کبھی مال کی، کبھی وقت کی اور کبھی جان کی۔ مگر جو اللہ کے لیے سب کچھ قربان کر دیتا ہے، اللہ اس کو دنیا و آخرت میں عزت اور کامیابی عطا فرماتا ہے۔اسی لیے شبِ معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشاطہ کی خوشبو دکھائی گئی تاکہ امت کو یاد رہے کہ ایمان کی اصل خوشبو صبر، استقامت اور قربانی کے بغیر نہیں آتی۔ یہی خوشبو ہے جو جنت کے راستے کو روشن کرتی ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کا پیغام یہ ہے کہ ایمان پر ثابت قدمی اختیار کرنا سب سے بڑی کامیابی ہے۔

23/09/2025
23/09/2025

مفتیِ اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخؒ – حیات و خدمات
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ عالم اسلام آج ایک عظیم خسارے سے دوچار ہے کہ سعودی عرب کے مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخؒ طویل دینی و علمی خدمات کے بعد اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ آپ نے مسلسل پینتیس برس تک خطبۂ حج دینے کی سعادت حاصل کی اور اپنے علمی وقار، تقویٰ، اعتدال اور بصیرت کے باعث پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے راہنمائی کا مینار بنے رہے۔ شیخ عبدالعزیز آل الشیخؒ 1943ء میں ریاض میں پیدا ہوئے۔ نابینا ہونے کے باوجود علم کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ نے قرآن و سنت کی تعلیم میں خصوصی دلچسپی لی اور کم عمری ہی میں حنبلی فقہ و عقیدہ پر گہری دسترس حاصل کرلی۔ آپ کو 1999ء میں سعودی عرب کا مفتی اعظم مقرر کیا گیا اور اس منصب پر رہتے ہوئے انہوں نے بے شمار فتاویٰ جاری کیے، جنہوں نے امتِ مسلمہ کی دینی و سماجی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ سعودی عرب کی "ہیئۃ کبار العلماء" کے سربراہ بھی رہے اور اسلامی دنیا کی بڑی علمی و فقہی کانفرنسوں میں شرکت کر کے اتحاد امت، اعتدال اور میانہ روی کا پیغام دیا۔ آپ کے خطباتِ حج اپنی جامعیت، فصاحت اور امت کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے تاریخ کا حصہ ہیں۔ ہر سال خطبۂ عرفہ کے ذریعے آپ امت مسلمہ کو قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے کا درس دیتے رہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں کئی علمی
تصنیفات بھی چھوڑیں جن میں
"The Book of Allah, the Almighty, and its Glorious Position"،
"The Meaning of our Testimony that Muhammad is the Messenger of Allah"،
"A Collection of the Sermons of Arafah"،
"The Book on Fatwas on Doctrines"،
"Fatwas on Purity and Prayers"، "Provisions and Fatwas on Zakat"،
"Fatwas on Fasting"،
"Fatwas on Hajj"
اور
"Nur ‘Ala al-Darb Fatwas"
کے مختلف مجموعے شامل ہیں۔ یہ کتب اور فتاویٰ نہ صرف سعودی عرب بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے علمی سرمایہ اور رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ ان کی تصانیف میں عقائد، عبادات اور معاشرتی مسائل پر تفصیلی مباحث موجود ہیں جو طلبہ، علما اور عام مسلمانوں کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں۔ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخؒ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی خدمت میں گزاری۔ آپ نے کبھی کسی مصلحت یا دباؤ کے تحت حق بات کہنے سے گریز نہ کیا۔ آپ کی علمی دیانت، متانت اور اخلاص نے آپ کو امت کا معتمد رہنما بنایا۔ آج ان کی وفات امت مسلمہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے۔

21/09/2025
21/09/2025

احیائے اسلام کا اولین تقاضا: اتحادِ امت:

امام الامہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

دنیا بھر کے حالات اس بات کے غماز ہیں کہ امتِ مسلمہ کو درپیش سب سے بڑا چیلنج دشمنانِ اسلام کی سازشیں نہیں بلکہ امت کے اپنے اندر پایا جانے والا انتشار اور افتراق ہے۔ فرقہ واریت، تعصب اور گروہی مفادات نے امت کے جسدِ واحد کو بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس زوال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ اس کا واضح جواب ہے: اتحادِ امت۔ یہی احیائے اسلام کا پہلا اور بنیادی تقاضا ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری گزشتہ چار دہائیوں سے اسی مشن کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے محض اتحاد کی بات نہیں کی بلکہ اسے ایک عملی جدوجہد کا عنوان بنایا۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل کے پلیٹ فارم سے انہوں نے ہر سطح پر بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ ان کے خطابات، کانفرنسز اور علمی کاوشوں نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ اسلام کا عروج کسی ایک مسلک یا گروہ کی برتری سے نہیں بلکہ سب کے باہمی احترام اور ہم آہنگی سے وابستہ ہے۔

ماضی قریب تک مکاتبِ فکر ایک دوسرے کو کافر اور گمراہ قرار دینے میں مصروف تھے۔ مگر آج انہی طبقات کے نمائندے ڈاکٹر طاہرالقادری کی علمی و فکری کاوشوں کے نتیجے میں مکالمے کی میز پر جمع ہوتے ہیں اور مشترکہ ایجنڈے پر بات کرتے ہیں۔ یہ پیش رفت محض اتفاق نہیں بلکہ ایک مسلسل اور صبر آزما جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

شیخ الاسلام کا نظریہ یہ ہے کہ اتحادِ امت کوئی وقتی نعرہ نہیں بلکہ ایک تدریجی عمل ہے۔ سب سے پہلے فکری اصلاح، پھر علمی بیداری اور اس کے بعد عملی تعاون یہ وہ منازل ہیں جن پر چل کر امت کو از سر نو عروج نصیب ہوگا۔ ان کی یہ دعوت محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی لائحہ عمل ہے، جس نے نوجوانوں کو علم و شعور دیا، خواتین کو باوقار کردار بخشا اور علماء کو مکالمے کی طرف مائل کیا۔

وہ وقت دور نہیں جب دنیا دیکھے گی کہ دینِ مصطفوی ﷺ دوبارہ ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ جنہیں آج اتحادِ امت کی ضرورت کا ادراک نہیں، کل وہ خود اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے۔

یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کو بجا طور پر "امام الامہ" کہا جاتا ہے۔ وہ صرف ایک تحریک کے قائد نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی انقلاب کے معمار ہیں، جو امت کو تفرقے کی زنجیروں سے آزاد کر کے وحدت کے رشتے میں پرو رہے ہیں۔

Photos from Minhaj-ul-Quran Publications's post 21/09/2025
21/09/2025
21/09/2025

گوشہِ درود میں عشرہ نمبر 713 کے اختتام پر گوشہ نشینان کا گروپ فوٹو
اس موقع پر مربی گوشہِ درود سید مشرف علی شاہ اور اور محترم غلام فرید عاجز بھی موجود ہیں۔

گوشہِ درود کا آفیشل واٹس ایپ چینل
https://whatsapp.com/channel/0029VbAxntSGU3BNS41n7H33

21/09/2025

سورۃ الانفطار کا پیغام: قیامت، عقیدہ اور اعمال کی حقیقت"
قرآن مجید کی سورۃ الانفطار ایک ایسی سورۃ ہے جو قیامت کے دن کے ہولناک مناظر اور انسان کی اصل حقیقت کو نہایت پر اثر انداز میں ہمارے سامنے رکھتی ہے۔ اس سورۃ کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ جب آسمان پھٹ جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے، سمندر بہا دیے جائیں گے اور قبریں الٹ دی جائیں گی تو اس وقت ہر انسان جان لے گا کہ اس نے آگے کے لئے کیا کمایا اور کیا چھوڑا۔ یہ منظر کشی دلوں کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہے کہ دنیا کی یہ ترتیب اور یہ نظام ہمیشہ باقی رہنے والا نہیں بلکہ ایک دن ایسا آئے گا جب یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا اور انسان کو اس کے اعمال کے مطابق جواب دہ بنایا جائے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت عظیم سوال فرمایا: "يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ"۔ اس آیت کا ترجمہ ہے: اے انسان! تجھے کس چیز نے تیرے رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا؟ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ آیت ایک جھنجھوڑنے والا سوال ہے جو ہر انسان سے فرداً فرداً کیا جا رہا ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی نعمتوں اور کرم سے نوازا، اسے بہترین صورت عطا کی، روزی دی، شعور دیا، لیکن اس سب کے باوجود انسان اپنے رب کو بھول کر دنیا میں مگن ہو گیا۔ امام قرطبی فرماتے ہیں کہ یہاں "ربک الکریم" کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ انسان کو احساس ہو کہ جس رب نے اسے پیدا کیا اور عزت دی، وہی رب اس کے اعمال کا حساب لینے والا ہے۔ اس آیت کے بارے میں بعض مفسرین نے کہا کہ اللہ نے یہاں اپنے آپ کو "کریم" کہا تاکہ انسان کو یہ بتا دے کہ اگر وہ اپنی کوتاہی پر رجوع کر لے تو اس کا رب معاف کرنے والا ہے، لیکن اگر انسان دھوکے میں پڑا رہے تو پھر وہی کریم رب سخت حساب بھی لے سکتا ہے۔ امام فخر الدین رازی کے مطابق اس آیت میں ایک لطیف نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی سب سے بڑی کمزوری یعنی غفلت کی طرف متوجہ کیا ہے۔ انسان دنیاوی مال، عزت، صحت یا طاقت کے غرور میں آ کر اپنے رب کو بھول جاتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ سب عارضی ہے۔ اس کے بعد سورۃ الانفطار میں فرمایا گیا کہ ہر انسان پر فرشتے مقرر ہیں جو اس کے اعمال کو محفوظ کر رہے ہیں۔ "وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ، كِرَامًا كَاتِبِينَ، يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ"۔ یہ حقیقت انسان کو ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ نہ اس کی کوئی بات اور نہ کوئی عمل پوشیدہ ہے۔ فرشتے دن رات لکھ رہے ہیں اور قیامت کے دن یہی اعمال کی کتاب انسان کے سامنے کھول دی جائے گی۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو فرشتے ہمیشہ انسان کے ساتھ ہوتے ہیں، ایک دائیں اور ایک بائیں، اور جو کچھ انسان کرتا ہے وہ سب لکھتے ہیں (صحیح بخاری)۔ یہ تعلیم انسان کو ذمہ دار اور محتاط بناتی ہے تاکہ وہ یہ نہ سمجھے کہ کوئی اس کے عمل کو دیکھ نہیں رہا۔ اس کے بعد سورۃ الانفطار نیک اور بدکار کے انجام کو واضح کرتی ہے۔ نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے جبکہ گناہگار جہنم کی آگ میں۔ یہ ایک کائناتی اصول ہے کہ کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا۔ حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن سب کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا (ترمذی)۔
یہاں ایک اور نہایت اہم حقیقت بھی قرآن مجید نے بیان کی ہے: "يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ" (بنی اسرائیل: 71) یعنی قیامت کے دن ہر گروہ کو اس کے امام کے ساتھ بلایا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جس قیادت کی پیروی دنیا میں کرے گا، آخرت میں اسی کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ اگر قیادت نیک اور ہدایت پر تھی تو پیروکار بھی نجات پائیں گے، اور اگر قیادت گمراہی پر تھی تو پیروکار بھی عذاب کے مستحق ہوں گے۔ اس لیے آج کے انسان کو سوچنا چاہیے کہ وہ کس قیادت اور کس رہنمائی کے پیچھے چل رہا ہے۔ یہ فیصلہ آج دنیا میں کرنا ہے، ورنہ قیامت کے دن کوئی بہانہ قبول نہیں ہوگا۔
لیکن یہاں ایک نہایت اہم نکتہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ قیامت کے دن اعمال اسی وقت نجات دیں گے جب ان کی بنیاد درست عقیدہ پر ہوگی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَنْثُورًا" (الفرقان: 23) یعنی ہم ان کے اعمال کی طرف آئیں گے جو وہ کرتے رہے تھے، پھر ہم انہیں اڑتی ہوئی دھول بنا دیں گے۔ یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کے عقائد درست نہ تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ" (النساء: 48) یعنی اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اس کے علاوہ جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا: "اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے" (صحیح بخاری)، اور نیت درست اسی وقت ہوگی جب عقیدہ درست ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص بظاہر نیک اعمال کرتا ہے لیکن اس کے عقائد میں بگاڑ ہے، تو یہ اعمال قیامت کے دن اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہوں گے۔ اس نکتے کا ذکر آج کے دور میں خاص طور پر ضروری ہے کیونکہ بعض لوگ ظاہری نیکیاں تو کرتے ہیں مگر توحید و رسالت اور ایمان باللہ میں کمزوری یا گمراہی کا شکار ہیں، ایسے لوگ اپنے اعمال کو برباد کر لیتے ہیں۔ اس لئے سب سے پہلا تقاضا درست عقیدہ ہے اور اس کے بعد عمل صالح۔ آج کے دور میں انسان اسی آیت "مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ" کی تصویر بنا ہوا ہے۔ وہ دولت، شہرت اور دنیاوی آسائشوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہی کامیابی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب دھوکہ ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔ انسان کو سوچنا چاہیے کہ اگر آسمان پھٹ جائے، زمین ٹوٹ جائے، قبریں الٹ دی جائیں اور سب کچھ ختم ہو جائے تو اس کے پاس کیا بچے گا؟ صرف اعمال، اور وہ بھی اسی وقت نجات دیں گے جب عقیدہ درست ہوگا۔ نہ مال ساتھ ہوگا، نہ اولاد، نہ دنیاوی حیثیت۔ صرف ایمان اور اعمال ہوں گے جو نجات یا ہلاکت کا فیصلہ کریں گے۔ لہٰذا سورۃ الانفطار کا پیغام یہ ہے کہ انسان غفلت سے بیدار ہو، اپنے رب کو پہچانے، گناہوں سے توبہ کرے اور نیک اعمال کرے، اور سب سے بڑھ کر اپنے عقائد کو درست کرے۔ یہی اصل تیاری ہے جو آخرت کے لئے ضروری ہے۔ یہ سورۃ ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کریم بھی ہے اور عادل بھی۔ اگر ہم رجوع کریں گے تو وہ معاف کرے گا، لیکن اگر ہم غفلت پر اڑے رہے تو اس کا عدل ہمیں پکڑ لے گا۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سورۃ الانفطار ایک مکمل نصیحت ہے۔ یہ ہمیں دنیا کی حقیقت، آخرت کی یاد دہانی، عقیدہ کی اہمیت، اعمال کی نگرانی اور جزا و سزا کے اصول سے آگاہ کرتی ہے۔ اگر ہم اس سورۃ کو سمجھ کر اپنی زندگی بدل لیں تو یقینا دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔اخر میں اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ! ہم تجھ سے ہدایت مانگتے ہیں، ہمیں اُن مردوں اور عورتوں کے راستے پر چلا جو تیری رحمت و انعام کے مستحق ٹھہرے، جن پر تُو نے کرم کیا اور جن کی راہِ تقویٰ تو نے پسند فرمائی۔ اے رحمن! ہمیں اُن لوگوں کے راستے سے بچا جو تیرے غضب و ناراضی کے سبب ہلاک ہوئے، جن کے اعمال نے انہیں پریشان حال کر دیا — ہمیں ایسی غلط راہوں سے محفوظ رکھ جن سے ہماری آخرت متاثر ہو۔ اے مالکِ عالم! اپنی امتِ محمدیہ ﷺ کی مغفرت فرما، جو گناہوں میں مبتلا ہے انہیں توبہ کی توفیق دے اور جن کے دل حیاء سے خالی ہو گئے ہیں انہیں پلٹنے کی ہمت عطا فرما۔ اے اللہ! اپنے راستے میں خلوص کے ساتھ جدوجہد کرنے والوں کو قوتِ استقامت اور حفاظت بخش، ان کے سینوں میں ایمان کا نور بڑھا، ان کی محنتیں قبول فرما اور ان کے اہل و اولاد کو سکون عطا کر۔ اے قادر! امتِ مسلمہ کو اتحاد و یکجہتی کی توفیق عطا فرما، ہم کو اختلافات سے بچا، رہنماؤں کو ہدایت دے کہ وہ حق و عدل کی راہ اختیار کریں اور عوام کو علم و بصیرت نصیب ہو تاکہ فتنہ و فساد سے بچ سکیں۔ اے رحمٰن! جہاں بھی عالمِ اسلام میں مظلوم مسلمان ہیں، ظالموں کے ہاتھ سے انہیں نجات عطا فرما، اُن کی مدد کر، ان کے دکھ درد کو دور فرما اور انہیں عزت و انصاف عطا فرما۔ اے اللہ! جہاں امت بےراہ روی، گمراہی یا کم عقیدہ کی طرف مائل ہو رہی ہے وہاں ہدایت کے در کھول دے؛ علمائے حق کو مضبوط کر دے، سیدھے راستے کی تبلیغ میں ہمیں اجر عطا فرما اور ہم سب کو سچی توحید، سنّتِ نبوی ﷺ اور تقویٰ پر ثابت قدم رکھ۔ اے معاف کرنے والے! ہمیں ایسے اعمال، ایسی نیتیں اور ایسی صحبت نصیب فرما جو قیامت کے دن ہمارے لیے نجات بنیں — ایسی نیتیں جو خالص تیرے لیے ہوں اور ہمیں اُن چیزوں سے بچا جن کا انجام ریت و خاک بن جانا ہے۔ اے اللہ! تو ہی بہترین سننے والا، سب سے بہتر سننے والا، ہماری زبانی اور دل کی عاجزی قبول فرما، ہمارے دعاؤں میں برکت ڈال اور ہمیں اپنی رحمت سے گھیر دے۔ آمین یا رب العالمین۔
اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلِّمْ تَسْلِيماً كَثِيراً۔

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Islamabad
45200