08/02/2026
باکمال استاد کون؟
منظر میرے ڈرائنگ روم کا تھا اور میرے سامنے،میرے یونیورسٹی کا دوست بیٹھا تھا ۔ اس کی سوالیہ نگاہوں سے میں سمجھ گیا کہ آج وہ پھر کوئی سوال لے کر آیاہے۔میں نے اورنج جوس کا گلاس اس کو تھما یا ،اس نے شکریے کے ساتھ قبول کیااور حسبِ توقع مجھ سے سوال پوچھنے لگا:’’شاہ جی !آج کا استاد اپنے شاگرد کاآئیڈیل نہیں ہے۔ہمارے ہاں تعلیم اور تعلیمی ادارے روزبروز بڑھ رہے ہیں مگر اس تناسب سے مثبت تبدیلی نظر نہیں آرہی اور مزید یہ کہ معاشرے میں اخلاق وکردارکا شدید بحران ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘
میں اپنے دوست کی بات سمجھ گیا،میں نے جواباً کہا:’’آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ آج کے ’’استاد‘‘ نے ان خوبیوں کو نہیں اپنایاجو ایک بہترین استاد کے لیے ضروری ہیں ۔ہمارے ہاں اساتذہ کی دو قسمیں ہیں ۔پہلی قسم وہ ہے جومستقل نوکری کے تحت ٹیچنگ کررہے ہیں ۔جبکہ دوسری قسم وہ ہے جنہوں نے بیروزگاری سے بچنے کے لیے عارضی طورپر اس کام کو اپنا یا ہوا ہے۔ یہ والی قسم بہت خطرناک ہے کیونکہ تدریس ایک مقدس فریضہ ہے جس میں استاد کو اپنی تمام توانائیاں لگانی پڑتی ہیں ۔ جبکہ حالات سے مجبور ہوکر استاد بننے والوں میں یہ جذبہ نہیں ہوتا۔وہ استاد تو بن جاتے ہیں مگرحقیقت میں ہوتے نہیں۔اس لیے استاد کو سب سے پہلا کام اپنے کام کے ساتھ مخلص ہونا ہے۔
پہلی قسم کے وہ لوگ جو باقاعدہ نوکری کے تحت ٹیچنگ کررہے ہیں اگر وہ خود میں کچھ بنیادی خوبیاں اور عادات پیدا کرلیں جو میں ابھی آپ کو بتانے لگا ہوں ،تو ان کو پڑھانے میں نہ صرف لطف آئے گا بلکہ ان کی بات میں تاثیر بھی ہوگی اور وہ نئی نسل کی بہترین اندازمیں تربیت کرسکیں گے۔
{پہلی چیز}
Subject command
یعنی اپنے متعلقہ مضمون پر مکمل گرفت ، یہ انتہائی اہمیت کا حامل نکتہ ہے ۔اس کے بغیر اگر کوئی شخص استاد بنتا ہے تو وہ اپنے اور قوم کے ساتھ ظلم کا مرتکب ہوگا۔کیونکہ جس چیز میں آپ بذات خود ماہر نہیں ہیں تو دوسروں کو کیسے پڑھاسکیں گے؟ سبجیکٹ کمانڈ کا مطلب یہ بھی ہے کہ اپنے مضمون اور فیلڈ میں ’’اپ ٹوڈیٹ‘‘بھی ہو ،کیونکہ دنیا میں روزنت نئے علوم پر جدید تحقیقات ہورہی ہیں اور ہر فن میں بتدریج ترقی ہورہی ہے۔
مغربی ممالک میں جب کسی استا د کو ’’تدریسی لائسنس‘‘ دیا جاتاہے تو ٹسٹ میں اس سے اس کے مضمون کے متعلق پوچھا جاتاہے ۔امیدوار کہتا ہے کہ میں نے انگریزی ادب میں ڈگری لی ہے ۔تو اگلا سوال ہوتاہے کہ ڈگری کب لی ہے۔اب مثال کے طور پر کسی شخص نے پانچ سال پہلے ڈگری لی ہے تو ٹسٹ لینے والے ماہرین پانچ سال پہلے والے علم کی بنیاد پر اس سے سوال کرتے ہیں ۔صحیح جواب دینے کی صورت میں وہ جان جاتے ہیں کہ اس شخص نے مذکورہ تعلیم حاصل کی ہے۔اس کے بعد ان کا دوسرا سوال اس مضمون میں نئی ریسرچ کی بنیاد پر ہوتاہے۔تاکہ معلوم ہو کہ امیدوار اپنی فیلڈ میں کس حدتک ’’اپ ٹوڈیٹ‘‘ ہے۔دونوں سوال درست ہوتب اس کا یہ مرحلہ کامیاب تصور کیا جاتا ہے۔
{دوسری چیز}
Communication skill
ابلاغ کی صلاحیتـ: ابلاغ کی صلاحیت کا مطلب ہے کہ کسی بھی انسان میں یہ فن ہو کہ وہ آپ کی سطح پر آکرآپ کو سمجھا ئے۔اگر وہ آپ کی سطح پر آکر نہیں سمجھا سکتا تو پھر وہ کوئی بڑ ا عالم یا پروفیسر ہی کیوں نہ ہو ،اچھا استاد نہیں ہوسکتا۔میں نے طالب علمی کے زمانے میں ہی پڑھانا شروع کردیا تھا اور پورے علاقے میں مشہور ہوگیا تھا ۔میرے پاس پانچ سو سے زائد طلبہ پڑھنے آتے تھے ۔میرے اپنے بارے میں یہ خیال تھا کہ تعلیمی قابلیت سے زیادہ مجھ میں ابلاغ کی صلاحیت بہت تھی جس کی بدولت تمام بچے مجھ سے پڑھنا پسند کرتے تھے۔
{تیسری چیز}
Social Genius
سماجی ذہانت:یعنی گھلنے ملنے کی صلاحیت جس کو ہم ملنسار بھی کہتے ہیں ۔استاد کو لوگوں سے ملنے جلنے والا ہونا چاہئے ۔کیونکہ اس کا کام پڑھانا ہے تو اب اگر وہ ملنسار نہیں ہوگا اور لوگوں سے دُور رہے گا تو وہ پڑھائے گاکیسے؟
{چوتھی چیز}
Motivation
معیاری استاد میں موٹیویشن،جذبہ اور جنون کا ہونا بھی ضروری ہے۔اگر ٹیچر میں جذبہ اور شوق نہیں ہے تو وہ اچھا استاد نہیں بن سکے گا۔حضرت علی بن عثمان الہجویری ؒ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ میں فرمایاہے کہ ’’برتن سے وہی نکلے گا جو اس میں ڈالا جائے گا۔‘‘
استاد کے پاس اگرخود موٹیویشن ، جذبہ اور جنون نہیں ہوگا تو وہ اپنے طلبہ کو دے بھی نہیں سکے گا۔حالانکہ استاد کا کام ہی یہی ہے کہ وہ اپنے طلبہ میں شوق اور جذبہ پیدا کرے کہ اسی جذبے کے تحت وہ زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں ۔
{پانچویں چیز}
Learning attitude
سیکھنے کا جذبہ :عقل مند کہتے ہیں کہ ’’ جو خود پیاسا ہو وہی دوسرو ں کو پیاسا بنا سکتاہے۔‘‘ کسی بھی معیاری استادمیں سیکھنے کا جذبہ موجود ہونا بہت ضروری ہے۔اگر اس میں خود کچھ نیا سیکھنے کا جذبہ نہ ہو تو وہ دوسروں میں بھی یہ جذبہ نہیں جگا سکے گا۔
{چھٹی چیز}
Progressive
آگے بڑھنے والا ـ:ایک باکمال استاد کو آگے بڑھنے والا ہونا چاہئے۔وجہ یہ ہے کہ استاد وہ ہستی ہے جو قوم کو آگے بڑھاتی ہے ۔ اب اگر اس میں خود یہ کمال نہ ہو تو وہ نئی نسل کو کیسے آگے بڑھائے گا!! میں نے پانی کا گلاس اٹھاکر دو گھونٹ بھرے اور گفتگوکا سلسلہ دو بارہ جوڑا:
استادکو اپنے پڑھانے کے معاملے میں انتہائی حساس ہونا چاہئے ۔کیونکہ وہ نسبت نبویﷺکا حامل ایسا فرد ہے جو نسلوں کی تعمیر کرتاہے۔استاد ہی کی بدولت معاشرہ علم کے نور سے منور ہوتاہے۔کسی بھی استاد کو ان صفات کے ساتھ ساتھ حضورﷺکے طریقے کو بھی سامنے رکھنا چاہئے جنہوں نے اس قدر خوبصورت انداز میں عربوں کی تربیت کی کہ وہ تمام دنیا کے لیے مشعلِ راہ بن گئے۔آج کے اساتذہ کرام کو سیرت کا مطالعہ کرنے ،اس کو اپنانے اور اس کے ساتھ ساتھ جو خوبیاں میں نے بتادیں ،ان پربھی عمل پیرا ہوناچاہئے تب ہی وہ ایک عظیم استاد بن سکیں گے اور معاشرے میں انقلاب لاسکیں گے۔
میں نے اپنی گفتگو مکمل کی ، باہر رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا ۔میرا دوست گلاس ٹیبل پر رکھ کر بولا:’’شاہ جی !آپ کی گفتگو سے میرے سارے سوالات حل ہوگئے۔
Copied from Sir Qasim Ali Shah
23/01/2026
24/12/2025