Naeem Bhutta Speaks

Naeem Bhutta Speaks FOLLOW This Page & LEARN About:
Teaching | Studentship | Educational Institute | Parenting

ایک بہترین استاد بننے کے 15 بے لاگ طریقے۔تدریس (Teaching) کوئی "پارٹ ٹائم" جاب نہیں، یہ قوم کے دماغوں کی سرجری ہے۔ اگر آ...
04/06/2026

ایک بہترین استاد بننے کے 15 بے لاگ طریقے۔

تدریس (Teaching) کوئی "پارٹ ٹائم" جاب نہیں، یہ قوم کے دماغوں کی سرجری ہے۔ اگر آپ کے ہاتھ کانپتے ہیں یا اوزار (علم) پرانے ہیں، تو آپ مسیحا نہیں، قاتل ہیں۔ ایک ایسا استاد بننے کے لیے جسے دنیا یاد رکھے، آپ کو روایتی "مولا بخش" والی سوچ سے نکل کر 15 بے لاگ اور جدید اصول اپنانے ہوں گے۔یہ ہیں ایک بہترین استاد بننے کے 15 بے لاگ طریقے۔

1. دوست نہیں، "مینٹور" بنیں (Be a Mentor, Not a Friend)۔
نئے اساتذہ اکثر بچوں کا "یار" بننے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ پسند کیے جائیں۔ یہ سب سے بڑی غلطی ہے۔ طلباء کے پاس دوست بہت ہیں، انہیں ایک رہبر (Leader) چاہیے۔ ایک ایسا فاصلہ رکھیں کہ وہ آپ سے اپنی ذاتی بات بھی کر سکیں، لیکن آپ کے سامنے بدتمیزی کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں۔ عزت (Respect) دوستی سے زیادہ اہم ہے۔
2. جہالت کا اعتراف (Admit Ignorance)۔
اگر کوئی طالب علم ایسا سوال پوچھے جس کا جواب آپ کو نہیں آتا، تو غلط جواب دے کر یا اسے ڈانٹ کر چپ کروا کے اپنی ساکھ تباہ نہ کریں۔ سینہ تان کر کہیں، “مجھے ابھی نہیں معلوم، میں ریسرچ کر کے کل بتاؤں گا۔" یہ جملہ آپ کا قد چھوٹا نہیں کرتا، بلکہ بچوں کو یقین دلاتا ہے کہ آپ سچے اور ایماندار ہیں۔
3. بوریت ایک جرم ہے (Entertain or Die)۔
اگر کلاس کے دوران بچے جمائیاں لے رہے ہیں یا سو رہے ہیں، تو قصور ان کا نہیں، آپ کا ہے۔ آپ کا لیکچر بورنگ ہے۔ پڑھائی اب صرف معلومات دینے کا نام نہیں، یہ "ایڈوٹینمنٹ" (Education + Entertainment) ہے۔ اپنی آواز میں اتار چڑھاؤ لائیں، لطیفے سنائیں، ڈرامائی انداز اپنائیں۔ کلاس روم آپ کا تھیٹر ہے اور آپ مرکزی اداکار۔
4. "ٹیچرز کے لاڈلا " کا قتل (Kill Favoritism)۔
کلاس کے سب سے لائق بچے کو اپنا چہیتا (Favorite) بنا لینا باقی پوری کلاس کو آپ کا دشمن بنا دیتا ہے۔ نالائق اور شرارتی بچوں کو اتنی ہی توجہ دیں جتنی ٹاپر کو۔ جب "آخری بینچ والا" محسوس کرے گا کہ سر مجھے بھی اہم سمجھتے ہیں، تو وہ جان چھڑکنے لگے گا۔
5. "کیوں" کا جواب دیں (Explain the 'Why')۔
رٹہ لگوانا بند کریں۔ اگر آپ الجبرا پڑھا رہے ہیں تو پہلے بتائیں کہ "یہ فارمولا زندگی میں کہاں استعمال ہوگا؟" اگر آپ تاریخ پڑھا رہے ہیں تو بتائیں کہ "آج ہم اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟" جب تک دماغ کو "وجہ" سمجھ نہیں آتی، وہ معلومات کو کچرا سمجھ کر پھینک دیتا ہے۔
6. تیاری کے بغیر کلاس میں جانا "خودکشی" ہے۔
چاہے آپ 20 سال سے پڑھا رہے ہوں، لیکچر سے پہلے تیاری لازمی ہے۔ جو استاد بغیر نوٹس اور تیاری کے کلاس میں جاتا ہے، بچے فوراً بھانپ لیتے ہیں کہ "سر ٹائم پاس کر رہے ہیں۔" ایک گھنٹے کے لیکچر کے پیچھے تین گھنٹے کی محنت ہونی چاہیے۔
7. خاموشی بطور ہتھیار (Weaponize Silence)۔
شور مچانے پر چیخیں مت، گلا خراب مت کریں۔ بس خاموش ہو جائیں اور شور مچانے والے کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گھورنا شروع کر دیں۔ 30 سیکنڈ کے اندر پوری کلاس میں سناٹا چھا جائے گا۔ آپ کی پراسرار خاموشی آپ کے چیخنے سے زیادہ خوفناک اور موثر ہے۔
8. نصاب سے باہر کی دنیا (The Real World)۔
بچوں کو صرف کتابی کیڑا نہ بنائیں۔ انہیں زندگی کی ہیکنگ سکھائیں۔ انہیں بتائیں کہ ڈگری کے ساتھ ساتھ اسکلز کیسے سیکھنی ہیں۔ انہیں 'محرک' جیسی ایپس اور جدید ٹولز کے بارے میں بتائیں جو ان کی شخصیت سازی (Personality Grooming) کریں۔ جو استاد نصاب سے ہٹ کر زندگی سکھاتا ہے، اصل میں وہی "استاد" ہے۔
9. اپنی انا (Ego) دروازے پر چھوڑ دیں۔
اگر کوئی طالب علم آپ کی غلطی نکالے (چاہے ہجے کی غلطی ہو یا حقائق کی)، تو اسے اپنی توہین نہ سمجھیں۔ اس بچے کی سب کے سامنے تعریف کریں کہ "شاباش! تم جاگ رہے ہو۔" یہ عمل آپ کے اعتماد کا ثبوت ہے اور بچوں کو سوال اٹھانے کی جرات دیتا ہے۔
10. کہانی سنائیں (Storytelling)۔
انسان ڈیٹا بھول جاتا ہے، کہانیاں یاد رکھتا ہے۔ نیوٹن کا قانون پڑھانے سے پہلے سیب گرنے کی کہانی سنائیں۔ تاریخ کو ایک فلم کی طرح بیان کریں۔ اپنے لیکچر کو خشک حقائق کی بجائے ایک دلچسپ داستان (Story) میں بدل دیں۔
11. کرسی پر بیٹھنا حرام ہے (Own the Room)۔
جو استاد پوری کلاس میں کرسی پر بیٹھ کر یا روسٹرم کے پیچھے چھپ کر پڑھاتا ہے، وہ کمزور ہے۔ پوری کلاس میں گھومیں، آخری بینچ تک جائیں۔ آپ کی جسمانی نقل و حرکت (Movement) بچوں کو الرٹ رکھتی ہے اور انہیں سونے نہیں دیتی۔
12. سزا میں تخلیقی بنیں (Creative Punishment)۔
مارنا پیٹنا یا "مرغا بنانا" اب فرسودہ ہو چکا ہے۔ سزا ایسی ہو جس سے اصلاح ہو۔ مثلاً، “تم نے شور مچایا ہے، اب کل تم پوری کلاس کو یہ ٹاپک پڑھاؤ گے۔" اس سے بچہ شرمندہ ہونے کی بجائے ذمہ دار محسوس کرے گا (اور اسے سبق بھی مل جائے گا)۔
13. نام یاد رکھیں (The Power of Names)۔
"او لڑکے" یا "تم کھڑے ہو جاؤ" کہنے کی بجائے طالب علم کو اس کے نام سے پکاریں۔ یہ نفسیاتی جادو ہے۔ جب استاد نام لے کر پکارتا ہے، تو طالب علم کو اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے اور وہ استاد کی عزت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
14. گھنٹی کا احترام (Respect the Bell)۔
جیسے ہی پیریڈ ختم ہونے کی گھنٹی بجے، لیکچر فوراً روک دیں۔ جو استاد بریک ٹائم یا دوسرے پیریڈ کا وقت کھاتا ہے، بچے اس سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ وقت کی پابندی سکھانے کے لیے پہلے خود وقت کا پابند بنیں۔
15. وراثت (Legacy)۔
صرف تنخواہ کے لیے نہ پڑھائیں، یہ سوچیں کہ آپ ایک وراثت چھوڑ رہے ہیں۔ یہ سوچیں کہ 20 سال بعد جب یہ بچہ کسی بڑے عہدے پر ہوگا، تو کیا یہ آپ کو یاد کر کے مسکرائے گا یا گالی دے گا؟ آپ کا اصل رزلٹ کارڈ بچوں کے نمبر نہیں، ان کا کردار ہے۔
Naeem Bhutta Speaks Naeem Bhutta Naeem Bhutta Writes

13/05/2026

Zindagi Ka Sab SE Bara Dhoka

13/05/2026
13/05/2026

8 سوالات جو ہر سیلز مین کو لازمی پوچھنے چاہئیں:
یہ بات سیدھی سمجھ لیں:
سیلز بولنے سے نہیں، صحیح سوال پوچھنے سے ہوتی ہے۔
اکثر سیلز مین پروڈکٹ بیچنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ کامیاب لوگ گاہک کو خود خریدنے پر مجبور کرتے ہیں—اور یہ صرف سوالات کے ذریعے ہوتا ہے۔
یہ آرٹیکل آپ کو وہ سوالات دے گا جو صرف معلومات نہیں لیتے… بلکہ گاہک کے دل، مسئلے اور فیصلہ—all unlock کرتے ہیں۔
🔥 وہ سوالات جو ہر سیلز مین کو لازمی پوچھنے چاہئیں
1) "آپ اصل میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟"
یہ سب سے طاقتور سوال ہے۔
گاہک پروڈکٹ نہیں خریدتا…
وہ اپنا مسئلہ ختم کرنا چاہتا ہے یا کوئی خواہش پوری کرنا چاہتا ہے۔
👈 مثال:
وہ موبائل نہیں خرید رہا، وہ status، speed یا convenience خرید رہا ہے۔
📌 اثر:
یہ سوال آپ کو گاہک کے اصل مقصد (Core Desire) تک لے جاتا ہے۔
2) "ابھی آپ کو سب سے بڑا مسئلہ کس چیز میں آ رہا ہے؟"
یہ سوال درد (Pain Point) نکالتا ہے۔
👈 یاد رکھیں:
لوگ خوشی سے نہیں، تکلیف سے زیادہ تیزی سے خریدتے ہیں۔
📌 اثر:
جب گاہک خود اپنی مشکل بیان کرتا ہے، تو آپ کی پروڈکٹ خود ہی حل بن جاتی ہے۔
3) "آپ نے اس مسئلے کو پہلے کیسے حل کرنے کی کوشش کی؟"
یہ سوال گیم چینجر ہے۔
👈 کیوں؟
اس سے آپ کو پتہ چلتا ہے:
گاہک پہلے کہاں مایوس ہوا
کن چیزوں سے وہ تھک چکا ہے
📌 اثر:
آپ اپنی آفر کو اس کے مطابق customize کر سکتے ہیں۔
4) "اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو کیا نقصان ہوگا؟"
یہ سوال urgency پیدا کرتا ہے۔
👈 حقیقت:
جب تک نقصان واضح نہ ہو، فیصلہ نہیں ہوتا۔
📌 اثر:
گاہک خود محسوس کرتا ہے کہ "مجھے ابھی فیصلہ کرنا چاہیے"
5) "آپ کے لیے بہترین حل کیسا ہونا چاہیے؟"
یہ سوال گاہک کو خود اپنی ideal picture بنانے دیتا ہے۔
👈 پھر آپ کیا کرتے ہیں؟
آپ اپنی پروڈکٹ کو اسی تصویر کے اندر fit کر دیتے ہیں۔
📌 اثر:
گاہک کو لگتا ہے:
"یہ تو بالکل وہی ہے جو میں چاہتا تھا"
6) "آپ کب تک یہ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں؟"
یہ سوال time-frame نکالتا ہے۔
👈 دو طرح کے گاہک ہوتے ہیں:
"دیکھیں گے بعد میں"
"مجھے ابھی چاہیے"
📌 اثر:
آپ کو پتہ چلتا ہے کس پر focus کرنا ہے۔
7) "فیصلہ کرنے میں آپ کے لیے سب سے اہم چیز کیا ہے؟ قیمت، کوالٹی یا رزلٹ؟"
یہ سوال buying trigger clear کرتا ہے۔
👈 ہر گاہک مختلف ہوتا ہے:
کوئی سستا چاہتا ہے
کوئی best چاہتا ہے
کوئی result چاہتا ہے
📌 اثر:
آپ صحیح angle سے بات کرتے ہیں، فضول بحث ختم۔
8) "اگر آپ کو صحیح حل مل جائے تو کیا آپ آج ہی شروع کرنا چاہیں گے؟"
یہ closing سوال ہے—مگر نرم انداز میں۔
👈 یہ دباؤ نہیں ڈالتا… بلکہ decision clear کرتا ہے۔
📌 اثر:
گاہک ذہنی طور پر “Yes Zone” میں آ جاتا ہے۔
💡 اصل راز (Golden Principle)
✔️ سوال پوچھو… لیکچر نہ دو
✔️ سنو زیادہ… بولو کم
✔️ گاہک کو convince نہ کرو… اسے سمجھو
👈 کیونکہ:
جب گاہک خود بولتا ہے، وہ خود convince ہو جاتا ہے۔
🚀 آخری بات (جو آپ کی سیلز بدل دے گی)
ایک عام سیلز مین کہتا ہے:
"Sir یہ پروڈکٹ بہت اچھی ہے"
ایک پروفیشنل سیلز مین پوچھتا ہے:
"Sir آپ کے لیے 'اچھی' کا مطلب کیا ہے؟"
⚡ یہی فرق ہے
پش کرنے اور sell ہونے کے درمیان
M. Naeem Bhutta Naeem Bhutta Writes Haroon Rasheed Naeem Bhutta Speaks

21/03/2026

Eid Mubarak 🥰🥰

باکمال استاد کون؟منظر میرے ڈرائنگ روم کا تھا اور میرے سامنے،میرے یونیورسٹی کا دوست بیٹھا تھا ۔ اس کی سوالیہ نگاہوں سے می...
08/02/2026

باکمال استاد کون؟
منظر میرے ڈرائنگ روم کا تھا اور میرے سامنے،میرے یونیورسٹی کا دوست بیٹھا تھا ۔ اس کی سوالیہ نگاہوں سے میں سمجھ گیا کہ آج وہ پھر کوئی سوال لے کر آیاہے۔میں نے اورنج جوس کا گلاس اس کو تھما یا ،اس نے شکریے کے ساتھ قبول کیااور حسبِ توقع مجھ سے سوال پوچھنے لگا:’’شاہ جی !آج کا استاد اپنے شاگرد کاآئیڈیل نہیں ہے۔ہمارے ہاں تعلیم اور تعلیمی ادارے روزبروز بڑھ رہے ہیں مگر اس تناسب سے مثبت تبدیلی نظر نہیں آرہی اور مزید یہ کہ معاشرے میں اخلاق وکردارکا شدید بحران ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘

میں اپنے دوست کی بات سمجھ گیا،میں نے جواباً کہا:’’آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ آج کے ’’استاد‘‘ نے ان خوبیوں کو نہیں اپنایاجو ایک بہترین استاد کے لیے ضروری ہیں ۔ہمارے ہاں اساتذہ کی دو قسمیں ہیں ۔پہلی قسم وہ ہے جومستقل نوکری کے تحت ٹیچنگ کررہے ہیں ۔جبکہ دوسری قسم وہ ہے جنہوں نے بیروزگاری سے بچنے کے لیے عارضی طورپر اس کام کو اپنا یا ہوا ہے۔ یہ والی قسم بہت خطرناک ہے کیونکہ تدریس ایک مقدس فریضہ ہے جس میں استاد کو اپنی تمام توانائیاں لگانی پڑتی ہیں ۔ جبکہ حالات سے مجبور ہوکر استاد بننے والوں میں یہ جذبہ نہیں ہوتا۔وہ استاد تو بن جاتے ہیں مگرحقیقت میں ہوتے نہیں۔اس لیے استاد کو سب سے پہلا کام اپنے کام کے ساتھ مخلص ہونا ہے۔

پہلی قسم کے وہ لوگ جو باقاعدہ نوکری کے تحت ٹیچنگ کررہے ہیں اگر وہ خود میں کچھ بنیادی خوبیاں اور عادات پیدا کرلیں جو میں ابھی آپ کو بتانے لگا ہوں ،تو ان کو پڑھانے میں نہ صرف لطف آئے گا بلکہ ان کی بات میں تاثیر بھی ہوگی اور وہ نئی نسل کی بہترین اندازمیں تربیت کرسکیں گے۔

{پہلی چیز}
Subject command
یعنی اپنے متعلقہ مضمون پر مکمل گرفت ، یہ انتہائی اہمیت کا حامل نکتہ ہے ۔اس کے بغیر اگر کوئی شخص استاد بنتا ہے تو وہ اپنے اور قوم کے ساتھ ظلم کا مرتکب ہوگا۔کیونکہ جس چیز میں آپ بذات خود ماہر نہیں ہیں تو دوسروں کو کیسے پڑھاسکیں گے؟ سبجیکٹ کمانڈ کا مطلب یہ بھی ہے کہ اپنے مضمون اور فیلڈ میں ’’اپ ٹوڈیٹ‘‘بھی ہو ،کیونکہ دنیا میں روزنت نئے علوم پر جدید تحقیقات ہورہی ہیں اور ہر فن میں بتدریج ترقی ہورہی ہے۔
مغربی ممالک میں جب کسی استا د کو ’’تدریسی لائسنس‘‘ دیا جاتاہے تو ٹسٹ میں اس سے اس کے مضمون کے متعلق پوچھا جاتاہے ۔امیدوار کہتا ہے کہ میں نے انگریزی ادب میں ڈگری لی ہے ۔تو اگلا سوال ہوتاہے کہ ڈگری کب لی ہے۔اب مثال کے طور پر کسی شخص نے پانچ سال پہلے ڈگری لی ہے تو ٹسٹ لینے والے ماہرین پانچ سال پہلے والے علم کی بنیاد پر اس سے سوال کرتے ہیں ۔صحیح جواب دینے کی صورت میں وہ جان جاتے ہیں کہ اس شخص نے مذکورہ تعلیم حاصل کی ہے۔اس کے بعد ان کا دوسرا سوال اس مضمون میں نئی ریسرچ کی بنیاد پر ہوتاہے۔تاکہ معلوم ہو کہ امیدوار اپنی فیلڈ میں کس حدتک ’’اپ ٹوڈیٹ‘‘ ہے۔دونوں سوال درست ہوتب اس کا یہ مرحلہ کامیاب تصور کیا جاتا ہے۔

{دوسری چیز}
Communication skill
ابلاغ کی صلاحیتـ: ابلاغ کی صلاحیت کا مطلب ہے کہ کسی بھی انسان میں یہ فن ہو کہ وہ آپ کی سطح پر آکرآپ کو سمجھا ئے۔اگر وہ آپ کی سطح پر آکر نہیں سمجھا سکتا تو پھر وہ کوئی بڑ ا عالم یا پروفیسر ہی کیوں نہ ہو ،اچھا استاد نہیں ہوسکتا۔میں نے طالب علمی کے زمانے میں ہی پڑھانا شروع کردیا تھا اور پورے علاقے میں مشہور ہوگیا تھا ۔میرے پاس پانچ سو سے زائد طلبہ پڑھنے آتے تھے ۔میرے اپنے بارے میں یہ خیال تھا کہ تعلیمی قابلیت سے زیادہ مجھ میں ابلاغ کی صلاحیت بہت تھی جس کی بدولت تمام بچے مجھ سے پڑھنا پسند کرتے تھے۔

{تیسری چیز}
Social Genius
سماجی ذہانت:یعنی گھلنے ملنے کی صلاحیت جس کو ہم ملنسار بھی کہتے ہیں ۔استاد کو لوگوں سے ملنے جلنے والا ہونا چاہئے ۔کیونکہ اس کا کام پڑھانا ہے تو اب اگر وہ ملنسار نہیں ہوگا اور لوگوں سے دُور رہے گا تو وہ پڑھائے گاکیسے؟

{چوتھی چیز}
Motivation
معیاری استاد میں موٹیویشن،جذبہ اور جنون کا ہونا بھی ضروری ہے۔اگر ٹیچر میں جذبہ اور شوق نہیں ہے تو وہ اچھا استاد نہیں بن سکے گا۔حضرت علی بن عثمان الہجویری ؒ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ میں فرمایاہے کہ ’’برتن سے وہی نکلے گا جو اس میں ڈالا جائے گا۔‘‘
استاد کے پاس اگرخود موٹیویشن ، جذبہ اور جنون نہیں ہوگا تو وہ اپنے طلبہ کو دے بھی نہیں سکے گا۔حالانکہ استاد کا کام ہی یہی ہے کہ وہ اپنے طلبہ میں شوق اور جذبہ پیدا کرے کہ اسی جذبے کے تحت وہ زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں ۔

{پانچویں چیز}
Learning attitude
سیکھنے کا جذبہ :عقل مند کہتے ہیں کہ ’’ جو خود پیاسا ہو وہی دوسرو ں کو پیاسا بنا سکتاہے۔‘‘ کسی بھی معیاری استادمیں سیکھنے کا جذبہ موجود ہونا بہت ضروری ہے۔اگر اس میں خود کچھ نیا سیکھنے کا جذبہ نہ ہو تو وہ دوسروں میں بھی یہ جذبہ نہیں جگا سکے گا۔

{چھٹی چیز}
Progressive
آگے بڑھنے والا ـ:ایک باکمال استاد کو آگے بڑھنے والا ہونا چاہئے۔وجہ یہ ہے کہ استاد وہ ہستی ہے جو قوم کو آگے بڑھاتی ہے ۔ اب اگر اس میں خود یہ کمال نہ ہو تو وہ نئی نسل کو کیسے آگے بڑھائے گا!! میں نے پانی کا گلاس اٹھاکر دو گھونٹ بھرے اور گفتگوکا سلسلہ دو بارہ جوڑا:
استادکو اپنے پڑھانے کے معاملے میں انتہائی حساس ہونا چاہئے ۔کیونکہ وہ نسبت نبویﷺکا حامل ایسا فرد ہے جو نسلوں کی تعمیر کرتاہے۔استاد ہی کی بدولت معاشرہ علم کے نور سے منور ہوتاہے۔کسی بھی استاد کو ان صفات کے ساتھ ساتھ حضورﷺکے طریقے کو بھی سامنے رکھنا چاہئے جنہوں نے اس قدر خوبصورت انداز میں عربوں کی تربیت کی کہ وہ تمام دنیا کے لیے مشعلِ راہ بن گئے۔آج کے اساتذہ کرام کو سیرت کا مطالعہ کرنے ،اس کو اپنانے اور اس کے ساتھ ساتھ جو خوبیاں میں نے بتادیں ،ان پربھی عمل پیرا ہوناچاہئے تب ہی وہ ایک عظیم استاد بن سکیں گے اور معاشرے میں انقلاب لاسکیں گے۔

میں نے اپنی گفتگو مکمل کی ، باہر رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا ۔میرا دوست گلاس ٹیبل پر رکھ کر بولا:’’شاہ جی !آپ کی گفتگو سے میرے سارے سوالات حل ہوگئے۔

Copied from Sir Qasim Ali Shah

01/02/2026

Agar Apka Boss Sakht Hai? To Ye Mistakes Na Karein.

Address

Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naeem Bhutta Speaks posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Naeem Bhutta Speaks:

Shortcuts

Share

Category