🌺 اللہ بہت قریب ہے !
🔹 اورجب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہی ہوں ، میں پکارنے والے کی دُعا قبول کرتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے تو لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ہی ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں ۔🔹
📗«سورۃ البقرۃ-186»
Umar Ishtiaq - Devoted Mathematician
Purpose of this page is to boost a standard of education. We believe on quality education.
نبیﷺنے فرمایا:
"جس نے اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کیا،تو اللہ پر حق ہو گا کہ وہ روزِ قیامت آگ کو اس کے چہرے سے ہٹا دے۔"
(مسند احمد 9125)
رسول اللہﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا :
"میں تم میں الله کی کتاب چھوڑے جا رہا ہوں یہ الله کی رسی ہے ، جس نے اسکی اتباع کی وہ ھدایت پہ رہے گا اور جس نے اسے ترک کر دیا وہ گمراہ ہوا
(صحیح ابن حبان : 123, صححه الارنؤوط )
03/10/2020
An apple fell to the ground and Newton discovered gravity. Thousands of Palestinians fall and still no one has discovered humanity.
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
دو بھوکے بھیڑیئے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے اتنا نقصان نہیں پہنچائیں گے جتنا نقصان آدمی کے مال اور شرف (اونچا ہونے) کی حرص اس کے دین کو پہنچاتی ہے۔
(جامع الترمذي : ٢٣٧٦، و صحیحہ الألباني)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سب سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بے عزتی کرے ۔
(سنن ابی داؤد # 4876)
موت! ہماری حتمی جدائی نہیں، ہم سب آخرت میں اکٹھے ہوں گے،
اصل جدائی تو یہ ہے کہ ہم میں سے ایک جنت میں ہو اور دوسرا
جہنم میں! 😢
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رزق، انسان کو موت سے بھی زیادہ شدت سے تلاش کرتا ہے۔
(الصحیحة # 952)
⭕ اعتراف گناہ ⭕
حضرت موسٰی علیہ السلام نے ایک مرتبہ اللہ تعالی سے پوچھا:
یا اللہ میری امت کا سب سے بدترین شخص کون سا ھے؟
اللہ تعالی نے فرمایا:
کل صبح جو شخص تمھیں سب سے پہلے نظر آئے وہ آپ کی امت کا بدترین انسان ھے.
حضرت موسٰی علیہ السلام صبح جیسے ہی گھر سے باہر تشریف لائے، ایک شخص اپنے بیٹے کو کندھے پر بٹھائے ھوئے گزرا...
حضرت موسٰی علیہ السلام نے دل میں سوچا..
اچھا تو یہ ھے میری امت کا سب سے برا انسان.
پھر آپ اللہ تعالی سے مخاطب ھوئے اور کہا:
یا اللہ!
میری امت کا سب سے اچھا انسان کون سا ھے اسے دکھائیں..
اللہ تعالی نے فرمایا
شام کو جو شخص سب سے پہلے آپ سے ملے وہ آپکی امت کا سب سے بہترین انسان ھے.
حضرت موسٰی علیہ السلام شام کو انتظار کرنے لگے کہ..
اچانک انکی نظر صبح والے بدترین انسان پر پڑی...
یہ وہی شخص تها جو صبح ملا تھا.
حضرت موسٰی علیہ السلام نے اللہ سے کلام کیا:
یا اللہ یا رب کریم!
یہ کیا ماجرا ھے؟
جو شخص بدترین تھا وہی سب سے بہترین کیسے ھوسکتا ھے؟
اللہ تعالی نے فرمایا:
صبح جب یہ شخص اپنے بیٹے کو کندھے پر بٹھائے جنگل کی طرف نکلا تو اس کے بیٹے نے اس سے پوچھا...
ابا! کیا اس جنگل سے بڑی کوئی چیز ھے
اس نے کہا..
ہاں بیٹا!
یہ پہاڑ جنگل سے بھی بڑے ہیں.
بیٹا بولا:
ابا! ان پہاڑوں سے بھی بڑی کوئی شے ھے؟
وہ بولا:
ہاں بیٹا!
یہ آسمان پہاڑوں سے بھی بہت بڑا بہت وسیع و عریض ھے.
بیٹے نے کہا:
ابا! اس آسمان سے بڑی بھی کوئی چیز ھے؟
باپ نے ایک سرد آہ بھری اور دکھ بھری آواز میں بولا:
ہاں بیٹا! اس آسمان سے بھی بڑے تیرے باپ کے گناہ ہیں.
بیٹے نے کہا:
ابا! تیرے گناہ سے بڑی بھی کوئی چیز ھے؟
باپ کے چہرے پر ایک چمک سی آگئی اور بولا:
ہاں بیٹا!
تیرے باپ کے گناھوں سے بہت، بہت بڑی
میرے رب کی رحمت اور اسکی مغفرت ھے.
اللہ رب العزت نے فرمایا:
اے موسٰی! مجھے اس شخص کا اعتراف گناہ اور ندامت اس قدر پسند آیا کہ...
میں نے اس بدترین شخص کو تیری امت کا بہترین انسان بنا دیا...
میں نے اسکے تمام گناہ ناصرف معاف کر دیئے بلکہ
گناھوں کو نیکیوں سے بدل دیا.
🔹اپنے رب کے سامنے رونا اور اعتراف گناہ کرنا،
عاجزی سے اسکے سامنے خود کو جھکا دینا بہت بڑا عمل ھے.
🔷رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"گناہوں سے توبہ کرنیوالا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں."
(ابن ماجہ، جلد2، حدیث:2054)
سبحان ربی الاعلی وبحمدہ،
سبحان ربی العظیم وبحمده.
24/09/2020
حلال و حرام کا خیال رکھیں
11/09/2020
سٹوڈنٹس کےلیے رہنما تحریر
میرے ذہن میں اچانک یہ الفاظ گھومنے لگے کہ "شیر بنو"۔ اور اِس کے ساتھ ہی میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ الفاظ کب اور کیوں بولے جاتے ہیں۔ پھر خیال آیا کہ جب کوئی مشکل میں ہو تو اُسے "شیر بنو" کہہ کر اُس کا جذبہ بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور اکثر اوقات ان دو الفاظ سے انسان "Motivate" ہو کر مشکل سے مشکل کام کرگزرتا ہے۔
شیر کو جنگل کا بادشاہ کہا جاتا ہے لیکن آپ غور کریں تو شیر کو بہت سارے دشمنوں کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ اِس کے باوجود شیر کے دشمنوں کا اُسے زیر کردینا ایک ناممکن سا کام لگتا ہے۔ شیر کے دُشمن اُس کے مقابلے میں آتے ہیں لیکن وہ تقریباٙٙ شیر کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اور تقریباٙٙ شیر کامیاب ہی رہتا ہے۔
میں کچھ سالوں سے مختلف سکولز اور کالجز میں پڑھاتا آرہا ہوں تو میں اپنے سٹوڈنٹس سے کچھ مندرجہ ذیل سوالات ضرور کرتا ہوں۔
*1* نظریہ پاکستان کیا ہے؟
*2* پاکستان حاصل کرنے کا کیا مقصد ہے؟
*3* آپ کی زندگی کا کیا مقصد ہے؟
*4* آپ کیوں پڑھ رہے ہیں؟
*5* پاکستان اِس وقت کن حالات سے گزر رہا ہے؟
*6* آپ پاکستان کی بہتری کےلیے کیا کردار ادا کر رہے ہو؟
اور اُس وقت بہت افسوس ہوتا ہے جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اکثر سٹوڈنٹس کو نظریہ پاکستان کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں۔ اور سٹوڈنٹس کی ذیادہ تر تعداد اوپر بیان کردہ تمام سوالات کے جوابات نہیں دے پاتی۔ *ہاں! سوال نمبر چار کا جواب اکثریت دے دیتی ہے کہ ہم اچھی نوکری کریں گے اور اچھا پیسہ کمائیں گے ہماری گاڑی ہوگی ہمارا بنگلہ ہوگا وغیرہ وغیرہ*۔
لیکن جس ملک میں آپ رہ رہے ہیں *اس ملک کےلیے ہمارے آباواجداد نے لاکھوں جانوں کا نظرانہ پیش کیا لیکن کیوں؟ اِس ملک کےلیے ہماری آرمی اور سِولز آج تک قربانیوں پہ قربانیاں دے رہی ہیں لیکن کیوں؟*
*کیا آپ نے کبھی اِس بارے میں سوچا؟*
میں اپنے ملک کے تمام طلباوطالبات سے یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ اوپر دئیے گئے تمام سوالات کے جوابات سوچئیے، تلاش کیجئیے۔
*آج ہمارا مقابلہ دُنیا کے طاقتور ترین دشمنوں سے ہے*۔ اور اِس ملک کی حفاظت کی ذمہ داری آپ لوگوں نے آگے بڑھ کر ادا کرنی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر آپ لوگوں نے اِس ملک کو ترقی کی اُن منزلوں پر گامزن کرنا ہے کہ ہمارے دشمن ہم سے بہت پیچھے رہ جائیں۔ پاکستان اسلام کے شیروں کی سرزمین ہے اور آپ اِس ملک کے شیر ہیں اور شیر کبھی جھکتا نہیں ہے بلکہ مقابلہ کرتا ہے اور اپنے دُشمن کو زیر کرتا ہے۔ آپ دُشمنوں کا تعلیمی میدان میں آگے بڑھ کر شیروں کی طرح مقابلے کا عزم کریں اور دُنیا میں ہونے والی ترقی میں پاکستان کا نام سب سے بلند کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ اور یہ اُس وقت ہی ممکن ہے جب آپ تعلیمی درسگاہوں میں اِس یقین پر جائیں کہ وہ اِس ملک کےلیے کچھ کرنا چاہتے ہیں اور اپنی تمام تر توانائیاں دُشمنوں کے مقابلے کےلیے صرف کرتے ہوئے نئی سے نئی ایجادات کرنے کا عزم رکھیں پھر اِس پر صبر کریں اور استقامت اختیار کریں اور پھر وہ دِن ضرور آئے گا جب دُنیا آپ سے بہت پیچھے رہ چکی ہوگی اور آپ پاکستان کو بہت بلندیوں پر لے جاچُکے ہوں گے۔ ان شاءاللہ
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
*جب دُشمن سے مقابلہ جیتو تو پتا چلے کہ یہ ایک شیر ہے اور جب مقابلہ ہار بھی جاو تو دُشمن کو اتنا ٹف ٹائم دو کہ دشمن خود بول کرکہے کہ وہ ایک شیر تھا*
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Website
Address
Islamabad