Islamic Think Tank

Islamic Think Tank

Share

اسلامک تھنک ٹینک نسل نو کی دینی تربیت اور مختلف مواقع پر اسلامی حل پیش کرنے کے لیے بہترین پلیٹ فارم

05/02/2026

‏مغرب میں پورن انڈسٹری ہے یہ میں جانتا تھا یہ بھی جانتا تھا کہ مغرب کے لوگ انتہائی فخاش ہیں یہ بھی معلوم تھا کہ فی میل انڈسٹری کے ساتھ ساتھ میل پورن انڈسٹری بھی ہے لیکن بچوں سے یہ سب کچھ کرنا سمجھ سے باہر ہے ان لوگوں کو لڑکیوں اور لڑکوں کی کوئی کمی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود بھی انتہائی کم عمر بچیوں سے سکس کرنا سمجھ سے باہر ہے سکس کرنے کے بعد ان کو مارنا اور ان کی انتڑیاں نکالنے کے بعد کھانا عقل سے باہر ہے یہ لوگ تو آدم خور سے بھی گئے گزرے نکلے وہ چھوٹے بچوں کو نہیں کھاتے لیکن یہ تو آدم خور کے باپ کے بھی باپ نکلے یہ لوگ عیاش تھے لیکن عیاش کے ساتھ ساتھ اتنے گھٹیا نکلیں گے یہ کبھی نہیں سوچا تھا۔

ایپسٹین فائل کی ہولناکی نے مغربی انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کو بے نقاب کر دیا ہے یہ لوگ ہمیں درس دیتے ہیں اور خود ان کا یہ حال ہے دو ہزار سے زائد ویڈیوز اور تقریباً دو لاکھ تصاویر پر مشتمل اس فائل نے ایسی سفاکیت کا انکشاف کیا ہے جو حقیقت میں الفاظ سے باہر ہے۔ لڑکیوں کے ساتھ وحشیانہ جنسی زیادتی سے لے کر ان کا گوشت کھانے تک واقعات شامل ہیں جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک سنا اور پڑھا یہ درندے انسانی گوشت تک کھاتے ہیں اور ان کی باقاعدہ ثبوت کے طور پر وڈیو بھی موجود ہے وڈیوز میں ہر قسم کی بربریت کی گئی ہے جو لوگ اتنے گرے ہوئے ہوتے ہیں اس قدر ظلم کرتے ہیں ان پر فلسسطینی بچوں کے قتل عام سے کتنا فرق پڑسکتا ہے اس کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایلون مسک، ڈونلڈ ٹرمپ، مشہور شخصیات، گلوکار، ہیرو، کھلاڑی، پروڈیوسر اور آپ کے خوابوں کے بہت سے دوسرے لوگ اس درندگی سے وابستہ ہیں پاکستان کے ایک دو مشہور شخصیت بھی اس میں شامل ہیں دیکھو یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے مقرر کردہ انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق مسلم دنیا پر مسلط کرتے ہیں ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں کہ ہم خواتین کو حق نہیں دیتے ہیں ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن خود ان لوگوں کا یہ حال ہے پاکستانی لبرل اور ملحدین ہم کو ان لوگوں کی مثالیں دیتے ہیں آج وہ لبرل اور ملحدین کہاں ہیں ؟ کیا کبھی پاکستانی ملحد کو اس پر لکھتے ہوئے دیکھا ہے ؟

اس میں ہم مسلمان بھائیوں کے لیے سبق ہے ہم سب مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ ہم خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کے بارے میں کس سے سیکھنا چاہتے ہیں مغربی ممالک سے یا اسلام نے جو ہمیں بتایا ہے وہ فالو کریں گے مہربانی کرکے ان حقوق نسواں اور اعتدال پسندوں کو چھوڑ دیں جو آپ کو مغرب سے درآمد شدہ حقوق نسواں کا فریم ورک سکھاتے ہیں یہ خود اتنی گھٹیا ہے یہ لوگ ہمیں کیا سیکھائیں گے۔

یاد رکھیں کہ مغرب کا کوئی بھی ملک اس حقیقت کے ظلم سے آزاد نہیں ہے لیکن یہ لوگ انہیں آپ سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کے سامنے صرف چشم کشا مصنوعی مناظر بار بار نشر کیے جاتے ہیں۔ لیکن چھپے ہوئے نوحے چھپے ہوئے ہیں جو لوگ جزا اور سزا کو نہیں مانتے اور ان کو جھٹلاتا ہے وہ اچھا انسان ہوہی نہیں سکتا کیونکہ جو لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ میں دنیا میں جو کام کرو اس کی کوئی سزا نہیں ہے وہ ہر ناجائز کام کرے گا اور اپیسٹین فائل اس چیز کا واضح ثبوت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
کاپی

31/01/2026

جب کوئی چیز مفت ملے تو سمجھ لیں کہ آپ کو اس کی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔ نوبل انعام یافتہ (برائے امن سنہ 1984) ڈیسمنڈ ٹو ٹو نے ایک بار کہا تھا کہ "جب عیسائی مشنری افریقہ آئے تو ان کے پاس بائیبل تھی اور ہمارے پاس زمین تھی- کہنے لگے کہ ہم آپ کے لیے دعا کرنے آئے ہیں- ہم نے آنکھیں بند کر لیں- جب آنکھ کھلی تو ہمارے ہاتھ میں بائبل تھی اور ان کے پاس ہماری زمین تھی-" اسی طرح جب سوشل نیٹ ورک سائنس آئی، تو ان کے پاس فیس بک اور واٹس ایپ تھے اور ہمارے پاس آزادی اور رازداری تھی- انہوں نے کہا یہ مفت ہے- ہم نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور جب آنکھ کھلی تو ہمارے پاس فیس بک اور واٹس ایپ تھے اور ان کے پاس ہماری آزادی اور ذاتی معلومات تھیں- جب بھی کوئی چیز مفت ہوتی ہے تو ہمیں اپنی آزادی دے کر اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ........!!!

29/01/2026

دولت کے 15 ممنوعہ اسباق
وہ سچ جو آپ کو غریب رکھنے کے لیے چھپائے گئے

ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ "محنت کرو، پیسے بچاؤ، اور ایماندار رہو تو امیر ہو جاؤ گے"۔ یہ ایک خوبصورت جھوٹ ہے جو ہمیں سسٹم کا تابع فرمان غلام بنانے کے لیے گھڑا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دولت اخلاقیات کا کھیل نہیں، بلکہ یہ ریاضی، نفسیات اور "لیوریج" (Leverage) کی ایک بے رحم جنگ ہے۔ دنیا کے 1 فیصد امیر لوگ وہ قوانین نہیں مانتے جو باقی 99 فیصد لوگ مانتے ہیں۔ اگر آپ واقعی مالی آزادی چاہتے ہیں، تو آپ کو ان نصابی کتابوں کو آگ لگانی ہوگی جو آپ نے اسکول میں پڑھی تھیں۔ ہم آپ کو بتا رہیں ہیں دولت کے وہ 15 اسباق ہیں جو شاید آپ کو غصہ دلائیں، لیکن یہی وہ راستہ ہے جو بینک بیلنس کے صفر بڑھاتا ہے۔
1. تنخواہ ایک "رشوت" ہے (Salary is a Bribe)
یہ سب سے پہلا اور تلخ سبق ہے۔ تنخواہ وہ رشوت ہے جو آپ کو آپ کے اپنے خواب بھول جانے کے لیے دی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا "نشہ" ہے جو ہر مہینے کی یکم تاریخ کو آپ کی بے چینی ختم کرتا ہے تاکہ آپ اگلے 30 دن دوبارہ کسی اور کا خواب پورا کرنے میں لگا دیں۔ جب تک آپ "وقت بیچ کر" پیسے کمائیں گے، آپ کبھی امیر نہیں ہو سکتے کیونکہ وقت محدود ہے۔
2. آپ کا گھر "اثاثہ" نہیں، "بوجھ" ہے (Your House is a Liability)
رابرٹ کیوساکی کا یہ جملہ مڈل کلاس کے سینے پر مونگ دلتا ہے۔ اثاثہ (Asset) وہ ہے جو آپ کی جیب میں پیسہ ڈالے، اور بوجھ (Liability) وہ ہے جو پیسہ نکالے۔ جس گھر میں آپ رہتے ہیں، وہ آپ سے ٹیکس، بجلی، اور مرمت کی مد میں پیسہ "نکالتا" ہے، ڈالتا نہیں۔ غریب ساری عمر ایک گھر کی قسطیں دینے میں گزار دیتا ہے جسے وہ اپنی دولت سمجھتا ہے، جبکہ وہ اصل میں بینک کی ملکیت ہوتا ہے۔
3. بچت کرنے والے ہارنے والے ہیں (Savers are Losers)
بینک آپ کو دھوکہ دیتا ہے کہ "پیسے جمع کرو"۔ حقیقت یہ ہے کہ افراطِ زر (Inflation) دیمک کی طرح آپ کے پیسے کی قدر کھا رہا ہے۔ اگر بینک آپ کو 10 فیصد منافع دے رہا ہے اور مہنگائی 15 فیصد بڑھ رہی ہے، تو آپ کا پڑا ہوا پیسہ بڑھ نہیں رہا بلکہ مر رہا ہے۔ امیر پیسہ جوڑتا نہیں، وہ پیسے کو "گردش" (Flow) میں رکھتا ہے۔
4. محنت کامیابی کی ضمانت نہیں (Hard Work is a Trap)
اگر صرف سخت محنت (Hard work) سے دولت ملتی تو سڑک کوٹنے والا مزدور اور اینٹیں ڈھونے والا گدھا دنیا کی امیر ترین مخلوق ہوتے۔ دولت جسمانی مشقت سے نہیں، بلکہ "اسمارٹ ورک" اور "لیوریج" سے ملتی ہے۔ یعنی دوسروں کا وقت، دوسروں کا پیسہ اور دوسروں کا ہنر استعمال کر کے پیسہ بنانا۔
5. ٹیکس صرف غریبوں کے لیے ہے (Taxes are for the Poor)
یہ سن کر آپ کو جھٹکا لگے گا، لیکن امیر لوگ ٹیکس چوری نہیں کرتے، وہ ٹیکس کے قوانین استعمال کرتے ہیں۔ ایک تنخواہ دار شخص کمانے کے فوراً بعد ٹیکس دیتا ہے اور بچے ہوئے پیسوں سے خرچ کرتا ہے۔ ایک بزنس مین پہلے کماتا ہے، پھر اپنے تمام اخراجات (گاڑی، سفر، کھانا) بزنس کے کھاتے میں ڈالتا ہے، اور جو آخر میں بچتا ہے اس پر ٹیکس دیتا ہے۔
6. اپنے "شوق" کو آگ لگا دیں (Kill Your Passion)
"Follow your passion" ایک رومانوی دھوکہ ہے۔ اگر آپ کا شوق مارکیٹ کی ضرورت نہیں ہے، تو وہ صرف ایک مشغلہ ہے۔ اگر آپ امیر بننا چاہتے ہیں تو وہ مت بیچیں جو آپ بنانا چاہتے ہیں، بلکہ وہ بیچیں جو دنیا "خریدنا" چاہتی ہے۔ بازار آپ کے جذبات کا نہیں، آپ کی پروڈکٹ کا خریدار ہے۔
7. قرضہ بہت اچھا ہوتا ہے (Debt is Good)
ہمیں سکھایا گیا کہ قرض بری چیز ہے۔ امیروں کے لیے قرضہ (Debt) ایک ہتھیار ہے۔ غریب قرض لیتا ہے شادیوں اور فون کے لیے (Bad Debt)، جو اسے برباد کرتا ہے۔ امیر قرض لیتا ہے پراپرٹی یا بزنس خریدنے کے لیے (Good Debt)، جہاں وہ بینک کا پیسہ استعمال کر کے خود مالک بن جاتا ہے اور قسطیں اس کا کرایہ دار ادا کرتا ہے۔
8. اسکول نوکر بناتا ہے، مالک نہیں (School Factory Model)
تعلیمی نظام اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ بہترین "ملازم" پیدا کرے جو حکم مانیں اور سوال نہ کریں۔ اسکول آپ کو یہ سکھاتا ہے کہ پیسے کے لیے کیسے کام کرنا ہے، لیکن یہ کبھی نہیں سکھاتا کہ "پیسہ آپ کے لیے کیسے کام کرے گا"۔ اسی لیے کلاس کا "Backbencher" اکثر "Topper" کو نوکری پر رکھتا ہے۔
9. پیسہ غیر جانبدار ہے (Money is Neutral)
پیسہ برا نہیں ہے، پیسہ صرف ایک "آلہ" ہے۔ یہ آپ کی شخصیت کو تبدیل نہیں کرتا بلکہ اسے "نمایاں" (Amplify) کرتا ہے۔ اگر آپ کنجوس ہیں تو پیسہ آپ کو بڑا کنجوس بنا دے گا، اگر آپ سخی ہیں تو پیسہ آپ کو بڑا سخی بنا دے گا۔ پیسے کو برا کہنا اپنی نالائقی چھپانے کا بہانہ ہے۔
10. تنوع جہالت ہے (Diversification is Ignorance)
انڈریو کارنیگی کہتے ہیں کہ "تنوع ان کے لیے ہے جو نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔" اگر آپ دولت بنانا چاہتے ہیں تو اپنے سارے انڈے ایک ٹوکری میں رکھیں اور اس ٹوکری کی حفاظت کریں۔ بڑی دولت فوکس (Concentration) سے بنتی ہے، پھیلاؤ سے نہیں۔
11. دکھاوا غریبی کی نشانی ہے (Show-off is Poverty)
مہنگے برانڈز، آئی فون کے نئے ماڈلز اور لگژری کاریں دراصل غریبوں کو امیر "دکھانے" کے لیے بنائی گئی ہیں۔ جو اصل میں امیر ہوتا ہے، اسے کسی کو کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ امیر بننے سے زیادہ امیر "دکھنے" پر خرچ کر رہے ہیں، تو آپ کبھی امیر نہیں بن پائیں گے۔
12. مسئلہ = پیسہ (Problem = Money)
آپ کی کمائی کا سائز اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کتنا بڑا مسئلہ حل کرتے ہیں۔ اگر آپ گلی کا مسئلہ حل کریں گے تو ہزاروں کمائیں گے، اگر شہر کا مسئلہ حل کریں گے تو لاکھوں، اور اگر دنیا کا مسئلہ حل کریں گے تو اربوں۔ پیسہ مسائل کے پیٹ میں ہوتا ہے۔
13. آپ کی صحبت، آپ کی اوقات (Your Network is Net Worth)
اگر آپ 5 ناکام، سُست اور شکوہ کرنے والے لوگوں کے ساتھ گھومتے ہیں، تو چھٹے ناکام آپ ہوں گے۔ غربت ایک بیماری ہے جو چھونے اور سننے سے پھیلتی ہے۔ امیر بننے کا سب سے آسان شارٹ کٹ یہ ہے کہ ان لوگوں میں بیٹھنا شروع کر دیں جو آپ سے زیادہ امیر ہیں، آپ کا دماغ خود بخود ان جیسا سوچنا شروع کر دے گا۔
14. پیسہ خوشی خرید سکتا ہے (Money Buys Freedom)
یہ جھوٹ بولا گیا کہ پیسہ خوشی نہیں دیتا۔ غربت کون سی خوشی دیتی ہے؟ پیسہ آپ کو "آزادی" دیتا ہے،کام نہ کرنے کی آزادی، بہترین علاج کی آزادی، اپنے پیاروں کی مدد کرنے کی آزادی۔ اور یہ تمام آزادیاں خوشی کی ہی شکلیں ہیں۔ رونے کے لیے بھی سائیکل کے مقابلے میں مرسڈیز کی سیٹ زیادہ آرام دہ ہوتی ہے۔
15. کوئی آپ کو بچانے نہیں آئے گا (No One is Coming)
یہ سب سے خوفناک اور آخری سبق ہے۔ نہ حکومت، نہ قسمت، نہ لاٹری، اور نہ کوئی مسیحا۔ آپ کی موجودہ حالت کے ذمہ دار 100 فیصد آپ خود ہیں۔ جس لمحے آپ یہ مان لیتے ہیں کہ "میری کشتی کا کپتان میں ہوں"، اسی لمحے آپ کی مالی حالت بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔

یہ 15 اسباق کڑوی گولیاں ہیں جنہیں نگلنا مشکل ہے، لیکن بیماری کا علاج انہی میں ہے۔ عام آدمی ان باتوں کو رد کر دے گا اور اپنی پرانی ڈگر پر چلتا رہے گا، اسی لیے وہ عام رہے گا۔ لیکن اگر آپ ان میں سے چند اسباق کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں، تو آپ اس بھیڑ سے نکل کر ان 1 فیصد لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جو دنیا کو چلاتے ہیں۔ انتخاب آپ کا ہے،سکون کا دھوکا یا حقیقت کا کانٹوں بھرا راستہ؟
منقول

ایک حدیث پاک نظر سے گزری تھی کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتے ہیں ، محبوب رکھتے ہیں جو گناہوں سے بچنے والا ہو ، غنی ہو یعنی کسی دوسرے انسان کا محتاج
نہ ہو یعنی مالدار ہو اور نمائش کرنے سے بچنے والا ہو۔
إن الله يحب العيد التقي الغني الخفي..

29/01/2026

بے عزتی کا واحد جواب فاصلہ ہے۔ ردِعمل نہ دیں، بحث نہ کریں اور نہ ہی ڈرامے بازی کا حصہ بنیں بس خاموشی سے اپنی موجودگی
وہاں سے ختم کر لیں۔

​وضاحت و تشریح : ​اس قول کا مقصد ہمیں ذہنی سکون اور اپنی عزتِ نفس کی حفاظت کا طریقہ سکھانا ہے۔ اس کی چند اہم نکات میں وضاحت یہ ہے

​بحث سے بچنا: جب کوئی آپ کی بے عزتی کرتا ہے تو وہ اکثر آپ کو مشتعل کرنا چاہتا ہے۔ اگر آپ آگے سے بحث کریں گے یا لڑیں گے تو آپ اپنا وقار کھو دیں گے اور معاملہ مزید بگڑے گا۔​

خاموشی کی طاقت: ری ایکٹ نہ کرنا کمزوری نہیں بلکہ اعلی
درجے کی خود اعتمادی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کا سکون کسی دوسرے کے بدتمیز رویے کا محتاج نہیں ہے۔

​موجودگی ختم : اگر کسی جگہ آپ کی قدر نہیں ہو رہی تو وہاں سے خاموشی سے ہٹ جانا ہی بہترین احتجاج ہے۔ آپ کا ان سے دور ہو جانا انہیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ آپ کے وقت اور توجہ کے لائق نہیں ہیں۔

​ذہنی سکون: دوسروں کو بدلنا مشکل ہے، لیکن خود کو اس ماحول سے نکالنا آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ فاصلہ اختیار کرنے سے آپ منفی توانائی سے بچ جاتے ہیں۔

​خلاصہ: یہ قول سکھاتا ہے کہ بدتمیز لوگوں کو جواب دے کر اپنا معیار گرانے سے بہتر ہے کہ آپ اپنی زندگی میں آگے بڑھ جائیں اور انہیں پیچھے چھوڑ دیں

29/01/2026

“خلافت راشدہ، امویہ، عباسیہ اور عثمانیہ کے حکمرانوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ"

📌پہلا: خلافت راشدہ اور خلفائے راشدین
١ / أبو بكر الصديق ١١ - ١٣ هـ
٢ / عمر بن الخطاب ١٣ - ٢٣ هـ
٣ /عثمان بن عفان ٢٣ - ٣٥ هـ
٤ / علي بن أبي طالب ٣٥ - ٤٠ هـ
٥ / الحسن بن علي ٤٠ - ٤١ هـ
خلفائے راشدین کی مجموعی مدتِ حکومت 30 سال ہے۔

📌دوسرا: اموی خاندان اور اموی ریاست کا قیام - 14 حکمران
١ / معاوية بن أبي سفيان ٤١ - ٦٠ هـ
٢ / يزيد بن معاوية ٦٠ - ٦٤ هـ
٣ / معاوية بن يزيد '' عدة شهور ''
٤ / مروان بن الحكم ٦٤ - ٦٥ هـ
٥ / عبدالملك بن مروان ٦٥ - ٨٦ هـ
٦ / الوليد بن عبدالملك ٨٦ - ٩٦ هـ
٧ / سليمان بن عبد الملك ٩٦ - ٩٩ هـ
٨ / عمر بن عبدالعزيز ٩٩ - ١٠١ هـ
٩ / يزيد بن عبدالملك ١٠١ - ١٠٥ هـ
١٠ /هشام بن عبدالملك ١٠٥ - ١٢٥ هـ
١١ / الوليد بن يزيد ١٢٥ - ١٢٦ هـ
١٢ / يزيد بن الوليد '' عدة شهور ''
١٣ / إبراهيم بن الوليد ١٢٦ - ١٢٧ هـ
١٤ / مروان بن محمد ١٢٧ - ١٣٢ هـ
اموی خلافت کا مجموعی دورانیہ 91 سال تھا۔

📌تیسرا: عباسی خاندان اور عباسی ریاست کا قیام - 37 حکمران
١ / أبوالعباس ١٣٢ - ١٣٦ هـ
٢ / أبوجعفر المنصور ١٣٦ - ١٥٨ هـ
٣ / أبوعبدالله المهدي ١٥٨ - ١٦٩ هـ
٤/ موسى الهادي ١٦٩ - ١٧٠ هـ
٥ / هارون الرشيد ١٧٠ - ١٩٣ هـ
٦ / الأمين بن هارون ١٩٣ - ١٩٨ هـ
٧ / المأمون بن هارون ١٩٨ - ٢١٨ هـ
٨ / المعتصم بن هارون ٢١٨ - ٢٢٧ هـ
٩ / الواثق بالله ٢٢٧ - ٢٣٢ هـ
١٠ / المتوكل على الله ٢٣٢ - ٢٤٧ هـ
١١ / المنتصر بالله ٢٤٧ - ٢٤٨ هـ
١٢ / المستعين بالله ٢٤٨ - ٢٥٢ هـ
١٣ / المعتز بالله ٢٥٢ - ٢٥٥ هـ
١٤ / أبواسحاق المهدي ٢٥٥ - ٢٥٦ هـ
١٥ / أبو العباس المعتمد ٢٥٦ - ٢٧٩ هـ
١٦ / المعتضد بالله ٢٧٩ - ٢٨٩ هـ
١٧ / المكتفي بالله ٢٨٩ - ٢٩٥ هـ
١٨ / المقتدر بالله ٢٩٥ - ٣١٧ هـ
١٩ / ابو الفضل ٣١٧ - ٣٢٠ هـ
٢٠ / أبو منصور القاهر ٣٢٠ - ٣٢٢ هـ
٢١ / الراضي بالله ٣٢٢ - ٣٢٩ هـ
٢٢ / أبوالعباس المتقي بالله ٣٢٩-٣٣٣ هـ
٢٣ / المطيع لله ٣٣٤ - ٣٦٣ هـ
٢٤ / الطائع لله ٣٦٣ - ٣٨١ هـ
٢٥ / القادر بالله ٣٨١ - ٤٢٢ هـ
٢٦ / القائم بأمر الله ٤٢٢ - ٤٦٧ هـ
٢٧/ المقتدي بالله ٤٦٧ - ٤٨٧ هـ
٢٨ / المستظهر بالله ٤٨٧ - ٥١٢ هـ
٢٩ / المسترشد بالله ٥١٢ - ٥٢٩ هـ
٣٠ / الراشد بالله ٥٢٩ - ٥٣٠ هـ
٣١ / المتقي لأمر الله ٥٣٠ - ٥٥٥ هـ
٣٢ / المستجير بالله ٥٥٥ - ٥٦٦ هـ
٣٣ / المستضيئ بالله ٥٦٦ - ٥٧٥ هـ
٣٤ / الناصر لدين الله ٥٧٥ - ٦٢٢ هـ
٣٥ /الظاهربأمر الله ٦٢٢ - ٦٢٣ هـ
٣٦ / المستنصر بالله ٦٢٣ - ٦٤٠ هـ
٣٧ / المستعصم بالله ٦٤٠ - ٦٥٦ هـ
عباسی خلافت کا مجموعی دورانیہ 524 سال تھا۔

📌چوتھا: عثمانی خاندان اور عثمانی ریاست کا قیام - 37 حکمران
١/ عثمان غازي بن أرطغرل ٦٩٨ - ٧٢٦ هـ
٢/ أورخان غازي بن عثمان ٧٢٦ -٧٦٣ هـ
٣/ مراد الأول بن أورخان ٧٦٣ - ٧٩١ هـ
٤/ بايازيد الأول ٧٩١ - ٨٠٤ هـ
٥/ محمد جلبي الأول ٨١٦ - ٨٢٤ هـ
٦/ مراد الثاني ٨٢٤ - ٨٥٥ هـ
٧/ محمد الثاني '' الفاتح '' ٨٥٥ - ٨٨٦ هـ
٨ / بايازيد الثاني ٨٨٦ - ٩١٨ هـ
٩ / سليم الأول ٩١٨ - ٩٢٦ هـ
١٠ / سليمان القانوني ٩٢٦ - ٩٧٤ هـ
١١ / سليم الثاني ٩٧٤ - ٩٨٢ هـ
١٢/ مراد الثالث ٩٨٢ - ١٠٠٣ هـ
١٣ / محمد الثالث ١٠٠٣ - ١٠١٢ هـ
١٤ / أحمد الأول ١٠١٢ - ١٠٢٦ هـ
١٥ / مصطفى الأول ١٠٢٦ - ١٠٢٧ هـ
١٦ / عثمان الثاني ١٠٢٧ - ١٠٣١ هـ
١٧ / مراد الرابع ١٠٣٢ - ١٠٤٩ هـ
١٨ / إبراهيم عصبي ١٠٤٩ - ١٠٥٨ هـ
١٩ / محمد الرابع ١٠٥٨ - ١٠٩٩ هـ
٢٠ / سليمان الثاني ١٠٩٩ - ١١٠٢ هـ
٢١ / أحمد الثاني ١١٠٢ - ١١٠٦ هـ
٢٢ / مصطفى الثاني ١١٠٦ - ١١١٥ هـ
٢٣ / أحمد الثالث ١١١٥ - ١١٤٣ هـ
٢٤ / محمود الأول ١١٤٣ - ١١٦٨ هـ
٢٥ / عثمان الثالث ١١٦٨ - ١١٧١ هـ
٢٦ / مصطفى الثالث ١١٧١ - ١١٨٧ هـ
٢٧ / عبدالحميد الأول ١١٨٧ - ١٢٠٣ هـ
٢٨ / سليم الثالث ١٢٠٣ - ١٢٢٢ هـ
٢٩ / مصطفى الرابع ١٢٢٢ - ١٢٢٣ هـ
٣٠ / محمود الثاني ١٢٢٣ - ١٢٥٥ هـ
٣١ / عبدالمجيد الأول ١٢٥٥ - ١٢٧٧ هـ
٣٢ / عبدالعزيز الشهيد ١٢٧٧ - ١٢٩٣ هـ
٣٣ / مراد الخامس ١٢٩٣ - ١٢٩٣ هـ
٣٤ / عبدالحميد الثاني ١٢٩٣ - ١٣٢٧ هـ
٣٥ / محمد رشاد الثاني ١٣٢٧ - ١٣٣٦ هـ
٣٦ / محمد وحيد السادس ١٣٣٦-١٣٤١ هـ
٣٧ / عبدالحميد الثاني '' آخر خلفاء الإسلام " ١٣٤١ - ١٣٤٢ هـ
عثمانی حکومت کی مجموعی مدت 644 سال تھی۔

خلافت راشدہ، اموی، عباسی اور عثمانی حکومت کا مجموعی دورانیہ 1289 سال تھا۔ مسلمانوں کو 154 سال سے جامع اقتدار کے بغیر رہنا پڑا ہے۔

عثمانی خلافت کے سقوط کے بعد، اسلامی دنیا نوآبادیاتی طاقتوں یعنی غیر مسلم طاقتوں کے تحت آ گئی۔ مصطفیٰ کمال اتاترک کے اقدامات کے بعد، نئی ریاستیں وجود میں آئیں اور امت مسلمہ چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم ہو گئی۔ موجودہ حالت تک، امت اسلامی اس حالت میں باقی ہے۔
منقول۔۔

دنیاوی سب مسائل کا حل اسلامی خلافت ہے ورنہ یہ کمینی جمہوریتیں مسلمانوں کو جڑ سے ختم کرنے کی منظم سازشیں ہیں۔۔ یہ جمہوری حکومتی ظالم بن کر مارتی بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتیں۔۔
لہذا یہ قابل نفرت ہیں نہ کہ قابل عزت
یہ اسلام کے مد مقابل ایک نظام ہیں۔۔
ایک ایسی بوتل کے اندر شراب ہے اور اوپر خوبصورت آب زمزم کا لیبل۔۔ لہذا اگر آپ مسلمان ہیں تو اسلامی نظام حکومت کے لیے جدو جہد کرنا آپ پر فرض ہے ۔


#

25/01/2026

کیا چیونٹیاں واقعی "بات" کرتی ہیں؟ قرآن کا 1400 سال پرانا دعویٰ اور جدید سائنس

​قرآن مجید میں ایک مشہور واقعہ ہے جہاں ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو خطرے سے آگاہ کیا۔ صدیوں تک یہ بات صرف ایمان کا حصہ رہی، لیکن آج جدید ٹیکنالوجی نے ثابت کر دیا ہے کہ چیونٹیوں کا مواصلاتی نظام (Communication System) انسانوں کی سوچ سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔
​قرآن کا بیان (سورۃ النمل: 18):
​اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
​"یہاں تک کہ جب وہ (سلیمان علیہ السلام کا لشکر) چیونٹیوں کی وادی پر پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا: اے چیونٹیو! اپنے بلوں میں گھس جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔"
​اس آیت میں چیونٹی کا "کہنا" (قَالَتْ نَمْلَةٌ) اور دوسری چیونٹیوں کو "خطرے سے آگاہ کرنا" ایک واضح کمیونیکیشن ہے۔
​جدید سائنس کی گواہی (Ant Communication):
​سائنسدانوں (Myrmecologists) نے دریافت کیا ہے کہ چیونٹیاں خاموش نہیں رہتیں، بلکہ وہ مسلسل ایک دوسرے سے "باتیں" کرتی ہیں۔ ان کا یہ رابطہ تین بنیادی طریقوں سے ہوتا ہے، جو قرآن کے بیان کردہ "وارننگ سسٹم" کی تصدیق کرتے ہیں:
​1. کیمیائی سگنلز (Pheromones - سب سے اہم):
چیونٹیاں اپنے جسم سے خاص کیمیکلز (فیرومونز) خارج کرتی ہیں۔ یہ ان کی "کیمیائی زبان" ہے۔
​خطرے کا الارم: جب ایک چیونٹی خطرہ محسوس کرتی ہے (جیسے کوئی بڑا لشکر آ رہا ہو)، تو وہ فوراً "الارم فیرومونز" (Alarm Pheromones) ہوا میں چھوڑتی ہے۔ یہ کیمیکل سیکنڈوں میں پھیل کر پوری کالونی کو الرٹ کر دیتا ہے کہ "خطرہ ہے، چھپ جاؤ یا دفاع کرو!"۔ یہ بالکل وہی عمل ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا۔
​2. آواز اور تھرتھراہٹ (Sound & Vibration):
کچھ چیونٹیاں خطرے کے وقت اپنے پیٹ کے حصے (Gaster) کو رگڑ کر ایک خاص آواز (Stridulation) پیدا کرتی ہیں یا زمین پر سر ٹکرا کر تھرتھراہٹ پیدا کرتی ہیں۔ یہ سگنل زمین کے ذریعے دوسری چیونٹیوں تک پہنچتا ہے، جو خطرے کی گھنٹی کا کام دیتا ہے۔
​3. لمس (Touch):
وہ اپنے اینٹینا (Antennae) کو ایک دوسرے سے مس کر کے بھی فوری پیغامات کا تبادلہ کرتی ہیں۔
​نتیجہ:
​آج سے 1400 سال پہلے، صحرائے عرب میں، مائیکروسکوپ اور جدید لیبارٹریوں کے بغیر، یہ کون بتا سکتا تھا کہ چیونٹیاں اتنے منظم انداز میں ایک دوسرے کو خطرے کی "اطلاع" دیتی ہیں؟
​یہ آیت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ قرآن اس خالق کا کلام ہے جس نے چیونٹی جیسی چھوٹی مخلوق کو بھی اتنا حیران کن نظامِ گفتگو عطا کیا ہے۔



25/01/2026

🔶 منفی60ڈگری سردی میں زندگی کا راز؟ 🔶
قطبِ جنوبی کے منجمد سینے میں، جہاں سردی 60 درجے صفر سے بھی نیچے اتر جاتی ہے، اکیلا کھڑا ہونا چند لمحوں میں یقینی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ وہاں نہ آگ ہے، نہ پناہ، نہ کسی انسانی سہارے کا امکان۔ ایسے بے رحم ماحول میں زندگی کا باقی رہ جانا کسی معجزے سے کم نہیں اور یہی معجزہ پینگوئن کی دنیا میں اجتماعی آغوش (huddle) کی صورت جلوہ گر ہوتا ہے۔
ہزاروں پینگوئن ایک دوسرے سے اس طرح جڑ جاتے ہیں جیسے زندہ دیواریں بن گئی ہوں۔ پروں سے پروں کا لمس، جسم سے جسم کی قربت، ایک ایسا قدرتی حصار تشکیل دیتی ہے جو حرارت کو قید کر لیتا ہے۔ باہر برفانی طوفان چیختا ہے، ہوائیں جسم کو کاٹتی ہیں، مگر اس دائرے کے اندر درجۂ حرارت حیرت انگیز طور پر 35 درجے تک جا پہنچتا ہے۔ یہ محض جسمانی قربت نہیں، بقا کا ایک مکمل نظام ہے۔
اس منظر کی اصل حیرت صرف گرمی نہیں بلکہ نظم ہے۔ پینگوئن بے ہنگم ہجوم نہیں بناتے، بلکہ ایک خاموش، مسلسل گردش میں رہتے ہیں۔ جو پینگوئن کنارے پر کھڑا ہو کر یخ بستہ ہواؤں کا سامنا کرتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اندر کی جانب بڑھتا ہے اور جو گرمی سے سیر ہو جاتا ہے، وہ خود بخود باہر آ کر سردی کا بوجھ اٹھا لیتا ہے۔ یوں ہر پینگوئن باری باری قربانی دیتا ہے اور کوئی بھی مستقل طور پر خطرے میں نہیں رہتا۔ اس منظم حرکت کے ذریعے وہ اپنی جسمانی توانائی کا تقریباً 50 فیصد محفوظ کر لیتے ہیں۔
یہ منظر ایک گہرا سبق اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ بقا ہمیشہ طاقتور کا مقدر نہیں ہوتی، بلکہ اس کا حصہ بنتی ہے جو جماعت کی قدر جانتا ہو، جو ایثار اور نظم کو زندگی کا اصول بنا لے۔
اور یہاں سوال خود بخود جنم لیتا ہے کہ ان بظاہر کمزور پینگوئنوں کو یہ دقیق نظام کس نے سکھایا؟ انہیں یہ شعور کس نے عطا کیا کہ کون کب قربانی دے اور کب پیچھے ہٹ جائے؟ آخر یہ ہمدردی، یہ توازن، یہ غیر تحریری قانون کس نے ان کی فطرت میں ودیعت کیا؟ وہ کون ہے آخر؟
پینگوئن کے خالق خود اس سوال کا جواب دیتا ہے:
قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ
(سورۃ طٰہٰ، آیت 50)
یعنی: ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت عطا کی، پھر اسے راہ دکھائی۔
پس پاک ہے وہ رب، جس نے اپنی مخلوق میں ایسے روشن آثار رکھ دیئے کہ جو دیکھے، سوچے اور پہچان لے۔ بے شک اس کی نشانیاں سوال کرنے والوں کے لیے ہر جگہ بکھری ہوئی ہیں۔
مگر دل کے اندھے پھر بھی اس کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔

15/01/2026

وہ شخص جو ڈیڑھ سو سال جینے کی تیاری کر چکا تھا…
صرف تیس منٹ میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔"

مائیکل جیکسن: فطرت سے جنگ کی کہانی

مائیکل جیکسن ایک ایسا انسان تھا جو نظامِ فطرت کو شکست دینا چاہتا تھا۔ اسے چار چیزوں سے شدید نفرت تھی: اپنے سیاہ رنگ سے، گمنامی سے، اپنے ماضی سے، اور عام انسانوں کی طرح محدود عمر سے۔ وہ گوروں کی طرح دکھائی دینا چاہتا تھا، دنیا کا سب سے مشہور انسان بننا چاہتا تھا، اپنے ماضی کو مٹا دینا چاہتا تھا، اور ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنے کا خواب دیکھتا تھا۔

اس کی آنے والی پوری زندگی انہی خواہشوں کی تکمیل میں گزری۔ 1982ء میں اس نے اپنا مشہور البم Thriller لانچ کیا، جو دنیا کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا البم بن گیا۔ ایک ہی ماہ میں کروڑوں کاپیاں فروخت ہوئیں اور مائیکل جیکسن دنیا کا مشہور ترین گلوکار بن گیا۔ یوں اس نے گمنامی کو شکست دے دی۔

اس کے بعد اس نے اپنی رنگت کو شکست دینے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ اور یورپ کے درجنوں چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی مدد سے اس نے مسلسل سرجریز کروائیں۔ 1987ء تک اس کی جلد، چہرہ، حرکات اور انداز مکمل طور پر بدل چکے تھے۔ سیاہ فام مائیکل کی جگہ ایک گورا، نازک اور نسوانی نقوش والا مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ چکا تھا۔

پھر ماضی کی باری آئی۔ اس نے اپنے خاندان سے تعلق توڑ لیا، پتے بدلے، پرانے دوست چھوڑ دیے اور مصنوعی زندگی اختیار کر لی۔ اس نے خود کو مزید مشہور کرنے کے لیے لیزا میری پریسلے سے شادی کی، یورپ میں اپنے مجسمے نصب کروائے اور مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے اولاد حاصل کی۔ یوں وہ بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی بھاگ نکلا، مگر تنہائی اور مصنوعی پن میں مزید دھنس گیا۔

اب آخری خواہش باقی تھی: طویل عمر۔ مائیکل جیکسن نے ڈیڑھ سو سال زندہ رہنے کے لیے غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔ وہ آکسیجن ٹینٹ میں سوتا، ماسک اور دستانے استعمال کرتا، مخصوص خوراک لیتا اور بارہ ڈاکٹر مستقل ملازم رکھتا تھا۔ اس نے یہاں تک کہ اپنے لیے اضافی اعضاء کے ڈونرز بھی تیار کر رکھے تھے تاکہ ضرورت پڑنے پر اعضا تبدیل کروائے جا سکیں۔

مگر پھر 25 جون کی رات آئی۔ اچانک سانس لینے میں دشواری ہوئی۔ بہترین ڈاکٹرز جمع ہوئے، کوششیں کی گئیں، مگر وہ شخص جو ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر چکا تھا، صرف پچاس برس کی عمر میں چند منٹوں میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس کی موت کی خبر نے گوگل کا سسٹم تک جام کر دیا۔

پوسٹ مارٹم نے ایک اور حقیقت آشکار کی۔ حد سے زیادہ احتیاط نے اس کے جسم کو کمزور ڈھانچے میں بدل دیا تھا۔ پلاسٹک سرجریز، درد کش ادویات اور انجیکشنز نے اسے بچایا نہیں۔ یوں مائیکل جیکسن کی زندگی ایک اعلان بن گئی کہ انسان دنیا فتح کر سکتا ہے، مگر تقدیر، موت اور اس کے لکھنے والے کو شکست نہیں دے سکتا۔

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ چاہے کوئی راک اسٹار ہو یا فرعون،
وہ دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا۔

15/01/2026

*اے اسلام کی شہزادیوں*

ایک دم سے سب کچھ بدل نہیں جاتا...
شروعات آہستہ آہستہ کرنی ہوگی...
حرام چھوڑنے کے لیے نفس سے جنگ لڑنی ہوگی..
میوزک ہو یا غیبت
آئی بروز پلکنگ ہو یا بالوں کا اونچا بن..
گھر سے باہر نکلتے ہوئے خوشبو لگانا ہو یا فٹنگ والا برقعہ پہننا ہو..
نا محرم سے دوستیاں ہوں یا حجاب کی عادت نہ ہو..
خود کو ایک دم سے بدلا نہیں جا سکتا ہے..
لیکن
کوشش تو کی جا سکتی ہے نہ..
تو نیت کرلیں..
نیت کا اجر ملنا شروع ہو جائے گا..
اللّٰه کے لئے خود کو بدلیں اللّٰه آپ کی زندگی اور آخرت بدل دے گا..
ہم میں سے کسی ایک نے بھی اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا
تو پھر اکڑ کیسی..
خود کو اللّٰه کی نا فرمانی کے دلدل میں کیوں دھکیل رہی ہیں..
اٹھیں اور حرام سے بچنے کی نیت کرلیں..
اور جب آپ اس زندگی سے توبہ کر کے اللہ کی طرف پلٹیں گے تو آپ حیران ہو جائیں گے کہ کیسے آپ کو چن لیا گیا اور دنیا کی گندگی اور غلاظت سے آپ کو دور کر لیا گیا کب اور کیسے اللہ کا قرب عطا ہو گیا اس کا آپ وہم و گمان بھی نہیں کر سکتے
یقین مانیں بہت سکون ملے گا..
*ان شاء اللہ*


#مسلمہ #مسلمة

08/01/2026

مطالعہ نہ کرنے کے 100 نقصانات 📖📚

1. جہالت میں اضافہ
2. عقل کا زوال
3. فکری پستی
4. زبان و بیان کی کمزوری
5. تحقیق سے دوری
6. شخصیت میں غیر سنجیدگی
7. فیصلہ سازی کی کمزوری
8. دلیل سے محرومی
9. کمزور حافظہ
10. غیر سنجیدہ گفتگو
11. سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی
12. روحانی کمزوری
13. دینی شعور کی کمی
14. سنت و سیرت سے لاعلمی
15. سطحی ذہنیت
16. جذباتی عدم توازن
17. منفی سوچ کا غلبہ
18. باطل نظریات کا شکار
19. دنیا کے فریب میں کھو جانا
20. زندگی کا مقصد بھول جانا
21. ضیاع وقت
22. سستی و کاہلی
23. تنہائی میں بے چینی
24. بے مقصد گفتگو
25. تخیل کی موت
26. دل کی سختی
27. فرقہ واریت کا شکار
28. شخصیت میں جھجک
29. شکوک و شبہات میں اضافہ
30. فکری غلامی
31. فتنوں کا شکار ہونا
32. دین سے دوری
33. نفاق کی علامات
34. حق و باطل میں تمیز کا فقدان
35. علم دشمنی
36. جاہلانہ انداز
37. تعصب میں شدت
38. سوالات کا سامنا نہ کر پانا
39. عقلی مغالطے
40. خود اعتمادی میں کمی
41. انسانیت سے بے خبری
42. دلائل سے خالی باتیں
43. اصلاح سے نفرت
44. علمی جرأت کا فقدان
45. گفتگو میں بدتمیزی
46. رائے زنی میں جلد بازی
47. معاشرے میں منفی کردار
48. شخصیت کا بکھراؤ
49. تعمیری سوچ کا فقدان
50. نصیحت کا اثر نہ ہونا
51. بات بات پر غصہ
52. دین کا محدود تصور
53. حدیث و قرآن سے ناآشنائی
54. سچائی سے فرار
55. کبر و غرور کا غلبہ
56. ظاہری نمود و نمائش
57. شعور کی کمی
58. فکر و تدبر سے محرومی
59. دینی معاملات میں جہالت
60. علم دشمن طبقے کی پیروی
61. کتابوں سے بے رخی
62. حق کے خلاف بولنا
63. تقلیدی ذہن
64. غلط فتووں کا شکار
65. وقت کی قدر کا فقدان
66. والدین و اساتذہ سے بدتمیزی
67. خود ساختہ دین
68. خواب و خیال میں رہنا
69. علمی مجالس سے دوری
70. قرآن سے انس نہ ہونا
71. شخصیت کا بحران
72. دلائل کے بغیر رائے دینا
73. تبلیغ میں کمزوری
74. قوم کی پستی کا حصہ بننا
75. امت کی فکر نہ ہونا
76. خود غرضی
77. تعمیری تنقید سے دوری
78. تعلیم دشمن سوچ
79. بے مقصد زندگی
80. معاشرتی زوال
81. بچوں کی غلط تربیت
82. استاد سے تعلق کی کمزوری
83. احساسِ برتری یا کمتری
84. معاشرتی تناؤ
85. جھوٹ کا سہارا
86. افواہوں پر یقین
87. سنی سنائی باتوں کا پرچار
88. علمی جرائم
89. قوم کی ترقی میں رکاوٹ
90. عبادت میں بے دلی
91. عقائد کی خرابی
92. شخصیت میں ناپختگی
93. فکری انتشار
94. فحاشی و عریانی کی طرف میلان
95. نظریاتی کمزوری
96. انفرادی و اجتماعی نقصان
97. وقت کا ضیاع
98. نفس پرستی
99. حق سے دوری
100. انسان “انسان” نہیں رہتا۔

منقول

بد عقیدہ ، بد طینت ، بد خصلت ، بد مزاج ، بد سیرت لوگوں کی کتابیں پڑھنے سے انکے اثرات بد آپ میں بھی منتقل ہوتے ہیں۔۔لہذا کسی جید عالم دین سے رہنمائی لیکر کتابیں پڑھنا شروع کریں۔۔

فقیر ابن فقیر محمد سیف اللہ عادل قادری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

02/01/2026

جب سے اسلام قبول کرکے مکہ گیا ہوں اس کے بعد برطانیہ واپس جاکر دل کا سکون نہیں تھا پھر ایک ماہ کیلئے واپس آگیا ہوں
حال ہی میں مسلمان ہونے والے برطانیہ کے سینئر صحافی ڈاکٹر مارک تھامسن جس کا نیا نام عبداللہ رکھا گیا ہے اپنے انٹرویو میں کہنا ہیں کہ دنیا دنیابھر میں گھومتا ہوں لیکن جو راحت اور خوشی مجھے مکہ کے فرش پر بیٹھ کر ہوتی ہیں دنیا میں کہیں پر نہیں اور جب یہ صورتحال میں دیکھتا ہوں تو مجھے اسلام پر اور پختہ یقین ہوجاتا ہے میں نے شروع میں قرآن کی مکمل سٹڈیز کی ہے جس کو میں نے سمجھا اور پھر میرے عقل نےگواہی دی کہ یہ کتاب کسی کا لکھا ہوا نہیں ہوسکتا ہے اور پھر میں نے اپنے اہلیہ سمیت مسلمان ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا جو کہ اللہ نے منظور کرلیا! ❤️


01/01/2026

حج اور قربانی کے دن آتے ہیں تو سیکولر اور ملحدین میں خارش پیدا ہو جاتی ہے اور فوراً اعتراض کرنے لگتے ہیں کہ
یہ جانور ذبح کرنے کے بجائے پیسے غریبوں کو دے دو۔
لیکن عجیب بات یہ ہے کہ یہی لوگ کرسمس کے موقع پر ایک درخت جو کسی کام کا نہیں ان کو سجاتے ہیں، اس پر مہنگی لائٹس لگاتے ہیں، پارٹیاں کرتے ہیں اور سجاوٹ پر بہت سا پیسہ خرچ کرتے ہیں۔اور وہاں نہ غریب یاد آتا ہے، نہ غربت۔
اور نہ ان کو انسانیت کی خدمت یاد آتی ہے۔اگر واقعی مسئلہ غریبوں کا ہوتا تو سب سے پہلے فضول سجاوٹ، نمائشی تہواروں اور بے فائدہ خرچ پر سوال کیا جاتا۔
اصل مسئلہ پیسے یا جانور نہیں، بلکہ وہ عبادت ہے جو اللہ کے نام پر کی جاتی ہے۔
اسلام میں قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ کی اطاعت اور ایثار کی علامت ہے۔
اس کا گوشت خود غریبوں تک پہنچتا ہے، جبکہ کرسمس کی لائٹس اور درخت نہ کسی کا پیٹ بھرتے ہیں اور نہ کسی کا مسئلہ حل کرتے ہیں۔بس چند دن کی چمک ہوتی ہے اور پھر سب ختم۔
یہی وجہ ہے کہ جو چیز اللہ کے لیے ہو وہ انہیں ضیاع لگتی ہے،
اور جو چیز اپنی پسند کی ہو وہی خوشی اور تہذیب بن جاتی ہے۔
اس وقت سیکولر لوگوں کے منہ پر تالا لگ جاتا ہے اور ان کو دنیا میں کوئی غریب نظر نہیں آتا لہذا ان کو تکلیف صرف اسلام سے ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے تکلیف میں مزید اِضافہ فرمائیں
✍️: المـہند علی المفـند

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Islamabad