Virtual Quran Institute

Virtual Quran Institute

Share

We have experienced Qualified Teacher having 14 years physcial & online teching experience

12/01/2026

*انسانی اور شیطانی شرور سے بچنے کے لئے آپ کے لئے اور بچوں کے لیے صبح و شام کے مسنون اذکار پڑھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ جو حفاظت اذکار مسنونہ کریں گے ایسی حفاظت دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی اگر والدین بچوں کو شروع سے ہی مسنون دعاؤں کا اہتمام کرنا سکھائیں تو اللہ پاک کی ذات سے امید ہے کہ ساری زندگی بچے ان دعاؤں کی پابندی کریں گے اور کبھی بھی اس میں ناغہ نہیں کریں گے ان شاءاللہ تعالی*

🍂 *ابن قیم رحمہ اللہ*
*نے فرمایا*

*انسان کو معوذات (پڑھنے) کی ضرورت اس کے کھانے، پینے اور لباس کی ضرورت سے بھی زیادہ ہے!*

*ہمیشہ اذکار پڑھتے رہو تاکہ تم اس کے معنی پالو۔*

*" تم اللہ کے احکامات کی حفاظت کرو وہ تمہاری حفاظت کرے گا"*‏

🍂 *اگر تم اذکار پڑھنا بھول جاو*
*تو اسکا مطلب ہوا*
*کہ تمہارا مضبوط قلعہ شر کے زیر اثر ٹوٹ گیا ہے۔*
*اور تمہارا دروازہ نقصان کے لیے کھل گیا ہے۔*

*(اس لیے)*
*اپنے اذکار کی حفاظت کرو!*

*🚨انسانی اور شیطانی شر سے بچنے کے لیے صبح و شام کے ازکار کیجئے....*

08/01/2026

Physical Class
Haroof e Maddah and leen

08/01/2026

Physical Class

29/12/2025

عالم اسلام کی عظیم روحانی شخصیت پیر سید مختار الدین شاہ صاحب کربوغہ شریف والے انتقال فرما گئے اناللہ وانا الیہ راجعون

22/12/2025
15/12/2025

*ایک ماں ہونی چاہیے*

*تحریر* : مفتی مصطفی عزیز
سیرہ فیصل آباد پاکستان

حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات پر جس طرح دنیا بھر میں غم، محبت، وابستگی اور عقیدت کی لہر اٹھی، وہ ایک پورے عہد کا وداع ہے ۔
لاکھوں مریدین، غیر معمولی اجتماع، دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلا ہوا فکری و روحانی نیٹ ورک، اور خاص طور پر جدید تعلیم یافتہ، سنجیدہ اور متانت والے طبقے کی اصلاح یہ سب کچھ کسی ایک دن کی محنت کا نتیجہ نہیں تھا۔

لیکن اگر اس عظیم الشان منظر کے پیچھے جھانک کر دیکھا جائے تو ایک خاموش، گمنام اور بے مثال حقیقت نظر آتی ہے:

*ایک ماں ہونی چاہیے۔*

حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی رحمہ اللہ خود فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے زندگی میں سب سے زیادہ جس ہستی کو روتے ہوئے دیکھا، وہ ان کی ماں تھیں۔
تین سال کی عمر، تہجد کا وقت، ماں کا اللہ کے سامنے رونا، گڑگڑانا، دعائیں کرنا اور ننھا ذوالفقار جاگ کر بیٹھ جانا۔ کبھی کبھی ماں دعا میں بیٹے کا نام بھی لے لیتی تھیں۔
وہ آنسو کسی دنیاوی کامیابی کے لیے نہ تھے، وہ آنسو اللہ سے ایک بندہ مانگنے کے تھے۔

آج ہم پیر ذوالفقار رحمہ اللہ کے لاکھوں مریدین کو دیکھتے ہیں، مگر اصل میں کہنا یہ چاہیے:

*ایک ماں ہونی چاہیے۔*

امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کو دیکھ لیجیے۔
سات سال کی عمر میں بینائی ختم ہو گئی۔ ایک ماں ہے جو ہمت نہیں ہارتی، مایوس نہیں ہوتی، راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتی ہے، دعائیں کرتی ہے، تڑپتی ہے۔
یہاں تک کہ خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام آتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تمہاری دعاؤں کی وجہ سے اللہ نے تمہارے بیٹے کی بینائی واپس کر دی۔

صرف بینائی ہی واپس نہ آئی، ایسی غیر معمولی ذہانت عطا ہوئی کہ وہ امام بخاری بن گئے۔
ہم امام بخاری کو دیکھتے ہیں، مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے:

*ایک ماں ہونی چاہیے۔*

حضرت ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ جنہیں دنیا محبت سے علی میاںؒ اور میاں جیؒ کہتی ہے۔
ایک عجمی عالم، مگر عرب دنیا میں ایسی علمی قبولیت کہ بڑے بڑے عرب علماء ان کے معترف بن گئے۔ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔

اس کے پیچھے بھی ایک ماں تھی دعاؤں میں گھلی ہوئی، آنسوؤں میں بھیگی ہوئی، ہر لمحہ بیٹے کو اللہ کے حوالے کرنے والی۔
یہ عظمت خود بخود نہیں آتی، اس کے پیچھے بھی وہی راز ہے:

*ایک ماں ہونی چاہیے۔*

دعوت و تبلیغ کے عالمی کام کو دیکھیے۔
حضرت مولانا محمد الیاس رحمہ اللہ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ایک عالمی دعوتی تحریک قائم فرمائی۔
ظاہر میں یہ ایک جماعت ہے، ایک نظم ہے، ایک تحریک ہے، مگر اس کے پیچھے بھی ایک ماں کا درد، ایک ماں کی قربانی، ایک ماں کی دعائیں شامل ہیں۔

دعوت کی تاریخ بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے:

*ایک ماں ہونی چاہیے* ۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ—پیرانِ پیر۔
بچپن میں ڈاکوؤں کے سامنے بھی جھوٹ نہ بولنا، یہ کوئی وقتی نیکی نہیں تھی، یہ ماں کی گود میں دی گئی تربیت تھی۔
سچ بولنے کا وہ سبق جس نے ایک عبدالقادر کو غوثِ اعظم بنا دیا۔

یہ کردار یونہی نہیں بنتے، ان کے پیچھے بھی وہی حقیقت ہے:

*ایک ماں ہونی چاہیے* ۔

اور ذرا موجودہ دور کی مثال لیجیے۔
حرمِ کعبہ کے امام، شیخ عبدالرحمن السدیس حفظہ اللہ۔

روایت ہے کہ بچپن میں جب وہ شرارت کرتے تو ان کی ماں محبت اور دعا کے انداز میں کہا کرتی تھیں:

"جا، تجھے اللہ حرم کا امام بنائے!"

وہ جملہ ماں کی زبان سے نکلا، مگر دعا بن کر آسمانوں تک پہنچ گیا۔
آج وہی بچہ حرم کا امام ہے، دنیا کروڑوں لوگوں کے دل اس کی آواز سے جڑے ہوئے ہیں۔

یہ بھی کوئی اتفاق نہیں تھا، اس کے پیچھے بھی وہی راز ہے:

ایک ماں ہونی چاہیے۔

یہ مضمون کسی ایک شخصیت کی تعریف یا کسی ایک وفات کا نوحہ نہیں، بلکہ ایک نسلی پیغام ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ ہمیں بہتر نسل چاہیے، ہمیں علماء چاہیے، ہمیں داعی چاہیے، ہمیں مصلح چاہیے مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ نسلیں صرف اداروں سے نہیں بنتیں، اصل نسل ماں کی گود میں بنتی ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ پیر ذوالفقار رحمہ اللہ جیسے لوگ پیدا ہوں،
امام بخاری جیسے محقق آئیں،
علی میاںؒ جیسے مفکر پیدا ہوں،
مولانا الیاسؒ جیسے داعی اٹھیں،
اور سدیس جیسے امام سامنے آئیں

تو پھر ہمیں ماننا ہوگا:

*ایک ماں ہونی چاہیے*

*تاریخ*
15 دسمبر 2025

تحریر کو صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے عزیز و اقارب اور مقامی گروپس میں شیئر کیجئے ہو سکتا ہے آپ کی تھوڑی سی محنت یا کوشش کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن جائے

25/11/2025

A Student from USA Memorized last 10 surah

10/11/2025

‼️ تحقیقِ حدیث: انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں!

▪حدیث:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: ’’انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔‘‘
1⃣ یہ حدیث امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’مسند ابی یعلیٰ‘‘ میں روایت فرمائی ہے:
3425- حَدَّثَنَا أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ: حَدَّثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ». (مسند أنس بن مالك رضي الله عنه)
2️⃣ یہ روایت امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی اپنی کتاب ’’حياة الأنبياء‘‘ میں روایت فرمائی ہے:
2. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ عَنِ الْمُسْتَلِمِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ فِيمَا أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالَ: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ قَالَ: أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ: حدثنا أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ: حدثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ: حدثنا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ».

⬅️ حدیث کی تحقیق:
ذیل میں مذکورہ حدیث سے متعلق امت کے ائمہ کرام اور محدثین عظام کی تصریحات ذکر کی جاتی ہیں تاکہ یہ بات بخوبی واضح ہوجائے کہ مذکورہ حدیث بالکل صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
1⃣ حضرت علامہ عبد الرؤف مناوی رحمہ اللہ نے ’’فیض القدیر‘‘ میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے:
3089: «الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون»؛ لأنهم كالشهداء بل أفضل، والشهداء أحياء عند ربهم .... وهو حديث صحيح. (حرف الهمزة: فصل في المحلى بأل من هذا الحرف)

2️⃣ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’فتح الباری شرح صحیح البخاری‘‘ میں امام بیہقی رحمہ اللہ کے حوالے سے مذکورہ
حدیث ذکر کرکے اس کے راویوں کی توثیق بیان فرمائی، پھر فرمایا کہ: یہ حدیث ’’مسند ابی یعلیٰ‘‘ میں بھی اسی سند کے ساتھ روایت کی گئی ہے، پھر فرمایا کہ: امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے:
وَقَدْ جَمَعَ الْبَيْهَقِيُّ كِتَابًا لَطِيفًا فِي حَيَاةِ الْأَنْبِيَاءِ فِي قُبُورِهِمْ، أَوْرَدَ فِيهِ حَدِيثَ أَنَسٍ: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ». أَخْرَجَهُ مِنْ طَرِيقِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ، عَنِ الْمُسْتَلِمِ بْنِ سَعِيدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمد وابن حبَان، عَن الْحجَّاج الْأسود وَهُوَ بن أبي زِيَاد الْبَصْرِيّ وَقد وَثَّقَهُ أَحْمد وابن مُعِينٍ، عَنْ ثَابِتٍ عَنْهُ. وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا أَبُو يَعْلَى فِي «مُسْنَدِهِ» مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ لَكِنْ وَقَعَ عِنْدَهُ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ وَهُوَ وَهْمٌ، وَالصَّوَابُ: الْحَجَّاجُ الْأَسْوَدُ كَمَا وَقَعَ التَّصْرِيحُ بِهِ فِي رِوَايَةِ الْبَيْهَقِيِّ، وَصَحَّحَهُ الْبَيْهَقِيُّ.
(باب قول الله تعالى: واذكر في الكتٰب مريم إذ انتبذت من أهلها)

3⃣ حضرت ملا علی قاری رحمہ اللہ نے ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ میں مذکورہ حدیث کو صحیح قرار دیا ہے:
وَصَحَّ خَبَرُ: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ». (بَابُ الْجُمُعَةِ)

4⃣ حضرت علامہ سمہودی رحمہ اللہ نے ’’وفاء ُالوفاء‘‘ میں فرمایا ہے کہ اس حدیث کو امام ابو یعلی نے ثقہ راویوں سے روایت کیا ہے اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس کو صحیح قرار دیا ہے:
وروى ابن عدي في «كامله» عن ثابت عن أنس رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله ﷺ: «الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون»، ورواه أبو يعلى برجال ثقات، ورواه البيهقي وصححه.
(الفصل الثاني في بقية أدلة الزيارة)

5️⃣ حضرت علامہ محدث ہیثمی رحمہ اللہ نے ’’مجمع الزوائد‘‘ میں فرمایا ہے کہ اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں:
13812- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ.
(باب ذكر الأنبياء صلى الله عليهم وسلم)

6️⃣ حضرت علامہ محمد بن عبد الباقی زرقانی رحمہ اللہ ’’شرح الزرقانی علی موطأ امام مالک‘‘ میں فرماتے ہیں کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں اس حدیث کو صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے:
وَجَمَعَ الْبَيْهَقِيُّ كِتَابًا لَطِيفًا فِي حَيَاةِ الْأَنْبِيَاءِ، وَرَوَى فِيهِ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعًا: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ». (بَابُ صِفَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام وَالدَّجَّالِ)

7️⃣ حضرت امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ ’’فیض الباری شرح صحیح بخاری‘‘ میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث امام بیہقی رحمہ اللہ نے روایت کرکے اس کی تصحیح کی ہے، اور امام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ان کے ساتھ موافقت کی ہے۔
وفي «البيهقي» عن أنس وصححه ووافقه الحافظ في المجلد السادس: «أنَّ الأنبياء أحياءٌ في قبورهم يصلون». (باب رَفْعِ الصَّوْتِ فِى الْمَسَاجِدِ)

مذکورہ محدثین کرام اور اکابرِ امت کے علاوہ دیگر متعدد حضرات محدثین نے بھی اس حدیث کو صحیح اور اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے۔

⬅️ *وضاحتیں:*
1⃣ مذکورہ حدیث متعدد کتبِ احادیث میں روایت کی گئی ہے جن میں سے بعض کی سند کے بارے میں محدثین کرام نے کلام بھی کیا ہے، لیکن ماقبل میں جو امام ابو یعلی رحمہ اللہ کی ’’مسند ابی یعلیٰ‘‘ اور امام بیہقی رحمہ اللہ کی ’’حياة الأنبياء‘‘ کے حوالے سے جس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث ذکر ہوئی ہے تو اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، جیسا کہ ’’فتح الباری شرح صحیح البخاری‘‘ کے حوالے سے ان کی توثیق ذکر ہوئی، اور انھی دو کتب کی روایت کردہ حدیث سے متعلق ماقبل میں حضرات محدثین کرام رحمہم اللہ کی تصحیح بھی ذکر ہوئی کہ ان کی روایت کردہ حدیث صحیح ہے۔
اس تفصیل سے اُن لوگوں کی غلطی واضح ہوجاتی ہے کہ جو ’’مسند ابی یعلیٰ‘‘ اور ’’حياة الأنبياء‘‘ کی صحیح سند والی روایت کو چھوڑ کر ضعیف سند والی روایت پیش کرکے کہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ واضح رہے کہ یہ مغالطہ ہے۔ مذکورہ حدیث کے راویوں کی توثیق اور اس سے متعلق وارد ہونے والے شبہات کے تفصیلی ازالے کے لیے دیکھیے کتاب: تسکین الصدور۔
2️⃣ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا اپنی مبارک قبروں میں نماز ادا کرنا کسی شرعی پابندی کے طور پر نہیں بلکہ لذت وسرور کے طور پر ہے۔
3⃣ زیرِ نظر تحریر میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی برزخی زندگی سے متعلق تفصیل بیان کرنا مقصود نہیں، بلکہ صرف اس سے متعلق مذکورہ حدیث کی تحقیق مقصود ہے، اس لیے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی بزرخی زندگی سے متعلق تفصیلات کے لیے بندہ کا رسالہ ’’موت، قبر اور برزخ سے متعلق بنیادی عقائد‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
29 جُمادی الآخرۃ 1442ھ/ 12 فروری 2020

27/10/2025

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے گھبرا کر اٹھے اور اپنی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
عربوں کے لیے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ چکا ہے
آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو چکا ہے
آپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کے برابر والی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا

حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے عرض کیا
یا رسول اللہ کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے
آپ نے فرمایا ہاں جب بے حیائی اور گناہ عام ہو جائیں گے

یاجوج ماجوج کون ہیں اور کب نکلیں گے
اور ان کے نکلنے کی کہانی کیا ہے
ان کا فساد اور انجام کیسا ہو گا
اور اس دیوار کی کہانی کیا ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا
لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں
کہہ دیجیے میں تمہیں اس کے بارے میں کچھ سنا دیتا ہوں

ذوالقرنین دنیا کے ان عظیم بادشاہوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے حکومت اور وسائل عطا کیے
اللہ نے انہیں وہ سب کچھ دیا جس سے وہ پوری دنیا پر حکومت کر سکیں
چنانچہ انہوں نے مغرب کی طرف سفر کیا
وہاں ایک ایسی قوم ملی جو اللہ کو نہیں مانتی تھی
انہوں نے نرمی سے ان کو دعوت دی
اور وہ ایمان لے آئے

پھر ذوالقرنین مشرق کی طرف روانہ ہوئے
وہاں ایسی قوم ملی جو دھوپ میں ننگے میدانوں میں رہتی تھی
انہوں نے ان کے لیے چھپنے کے لیے گھر اور پناہ گاہیں بنوائیں

پھر وہ شمال کی طرف روانہ ہوئے
جہاں دو پہاڑوں کے درمیان ایک قوم ملی
وہ سادہ لوگ تھے جو یاجوج ماجوج کے ظلم سے پریشان تھے
یاجوج ماجوج فساد کرنے والی قوم تھی
وہ حملے کرتے، قتل کرتے، مال لوٹتے اور زمین کو تباہ کرتے تھے
اس قوم نے ذوالقرنین سے کہا کہ ہمارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دیں
تاکہ ہمیں ان کے ظلم سے بچایا جا سکے

ذوالقرنین نے ان سے مزدوری نہیں لی
بس ان سے کہا کہ لوہا اور آگ لا کر دو
انہوں نے ایک بڑی دیوار لوہے اور تانبے کی مدد سے بنائی
اتنی مضبوط کہ یاجوج ماجوج اس پر چڑھ بھی نہیں سکتے تھے اور نہ ہی اسے توڑ سکتے تھے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
یاجوج ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی نسل سے ہیں
ان کا شمار انسانوں میں ہوتا ہے
لیکن وہ بہت طاقتور اور جنگجو ہیں
ان کی قوم میں ان کا ایک سردار ہوتا ہے
یہ لوگ روز اس دیوار کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں
جب وہ تھوڑا سا توڑ لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ باقی کل کریں گے
مگر جب اگلے دن آتے ہیں تو دیوار ویسی کی ویسی ملتی ہے
یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ انہیں نکلنے کی اجازت نہ دے

جب وہ نکلیں گے تو زمین پر ہر طرف پھیل جائیں گے
پانی کو پی جائیں گے
یہاں تک کہ طبرستان کی جھیل بھی خشک کر دیں گے
ہر چیز کو کھا جائیں گے
درخت، جانور، انسان جو بھی سامنے آئے

پھر وہ غرور میں آ کر کہیں گے
ہم نے زمین والوں کو مار دیا
اب آؤ آسمان والوں سے لڑیں
وہ اپنے نیزے آسمان کی طرف پھینکیں گے
اللہ تعالیٰ انہیں آزمائش کے لیے خون آلود واپس کرے گا
تو وہ مزید مغرور ہو جائیں گے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی فرماتے ہیں
یہ سب عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور دجال کے قتل کے بعد ہو گا
جب دجال مارا جائے گا
تو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم دیں گے
کہ مسلمانوں کو لے کر پہاڑ کی طرف چلے جائیں
کیونکہ یاجوج ماجوج نکلنے والے ہیں

پھر اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک چھوٹے کیڑے کے ذریعے مار ڈالے گا
جو ان کے نتھنوں اور سروں کے پیچھے سے نکلے گا
اور سب زمین پر مر جائیں گے
زمین ان کی بدبو سے بھر جائے گی

پھر اللہ تعالیٰ پرندے بھیجے گا
جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر کہیں دور لے جائے گا
پھر بارش نازل ہوگی
جو زمین کو پاک کرے گی

اس کے بعد زمین پہلے سے بہتر ہو جائے گی
ہر طرف امن ہوگا
حتیٰ کہ آدمی شیر کے پاس سے گزرے گا اور شیر اسے کچھ نہیں کہے گا
سانپوں پر پاؤں رکھے گا مگر کوئی نقصان نہ ہوگا
دلوں میں حسد، دشمنی اور کینہ باقی نہیں رہے گا
یہ وہ وقت ہوگا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کاش میں اس وقت زندہ ہوتا اور اس وقت کا زمانہ دیکھتا

اللہ ہمیں فتنوں سے محفوظ رکھے
اور ایمان پر موت عطا فرمائے
ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے جو عیسیٰ علیہ السلام کا ساتھ پائیں گے
اور امن کے اس دور کو دیکھیں گے جہاں نہ دشمنی ہو گی نہ ظلم
صرف سکون، سلامتی اور اللہ کا ذکر ہوگا

اللّٰہ ہمیں ہدایت دے، بصیرت دے، اور اپنی پناہ میں رکھے.

21/10/2025

کلاس چل رہی تھی. خدا نے جو چیزیں حرام قرار دی ہیں سر ان کی تفسیر بتا رہے تھے اور ساتھ ساتھ ان کے کچھ دنیاوی نقصانات بھی. تیزی سے لکھتے ہوئے اچانک قلم وہا‌ں رکا تھا جہاں ایک سٹوڈنٹ نے سوال کرنے کی اجازت مانگی تھی. اور اجازت ملنے پر کہا تھا کہ : اگر خدا کو یہ چیزیں حرام ہی کرنی تھیں تو ان ميں لذت کیوں رکھی؟ لذت نہ ہوتی تو ہمارے لیے انہیں چھوڑنا کوئی مسئلہ ہی نہ ہوتا. یہ کسی نوجوان کا ناراض ناراض سا شکوہ تھا.

سر کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری تھی. انہوں نے گفتگو کا موضوع بدلتے ہوئے اس سے پوچھا کونسا کھانا ہے جو تمہیں بے تحاشا پسند ہے؟ اور کونسی ایسی چیز ہے جو تمہیں بالکل نہیں پسند. جواب میں اس نے بتایا تھا کہ میں فاسٹ فوڈ بالکل نہیں کھاتا. البتہ مجھے دیسی گھی میں بھنی ہوئی مٹن چانپ کی ڈش بہت پسند ہے. وہ میں ساری زندگی کھا سکتا ہوں.

سر دوبارہ گویا ہوئے تھے : اب فرض کرو ایک پلیٹ میں کوئی مہنگا ترین برگر ہے. اور ایک پلیٹ میں تمہاری پسندیدہ چانپیں ہیں. تو تم کیا کھانا پسند کرو گے؟ ظاہر ہے چانپیں. سٹوڈنٹ کا بلاتوقف جواب آیا تھا. لیکن وہ فاسٹ فوڈ برگر بہت مشہور فوڈ چین کا ہے اور اسے ہر کوئی افورڈ بھی نہیں کر سکتا. تمہیں مفت میں مل رہا ہے. سر نے شوق بڑھاتے ہوئے کہا تھا. لیکن جب وہ مجھے پسند ہی نہیں تو جیسا مرضی ہو. کیا فرق پڑتا ہے. میں نہیں کھاؤں گا. نوجوان کے انداز میں بے نیازی تھی.

ٹھیک ہے. لیکن ،اب یوں ہے کہ مٹن چانپ کی ڈش تمہارے سامنے پڑی ہے. لیکن تمہارے والد صاحب نے تمہیں کہا ہے کہ جب تک وہ نہ آئیں تب تک یہ کھانی نہیں ہیں. چاہے کچھ بھی ہو جائے. پھر کیا کرو گے؟
میں ان کا انتظار کر لوں گا. اس نے کچھ سوچتے ہوئے
کہا تھا.

لیکن وہ بالکل سامنے پڑی ہے. تمہارا شدید دل چاہ رہا ہے. منہ میں پانی آ رہا ہے. بھوک بھی لگی ہوئی ہے. تم تھوڑی سی چکھ لو تو انہیں پتا بھی نہیں چلے گا. آس پاس کوئی ہے بھی نہیں جو انہیں بتائے تو پھر بھی اسے نہ کھانے کی کیا وجہ ہو گی؟

مجھے لگتا ہے، میرا اپنے والد صاحب سے بڑا پیار ہے. میں ان کا انتظار کر لوں گا. چاہے جتنا بھی دل چاہے. اور دوسرا یہ کہ، اگر انہیں پتا نہ بھی چلے تو مجھے تو پتا ہوگا نا. میں اپنی نظروں میں گر جاؤں گا. اور اگر انہیں پتا چل جائے تو ان کی نظر میں میرا تاثر خراب ہوگا. جو میں خراب نہیں کرنا چاہتا. اس لئے میں ان کی بات مان کر ان کا انتظار کروں گا.

سر نے ایک گہرا سانس لیا تھا جیسے اسی نکتے پر اسے لانا چاہ رہے ہوں. اور ہم سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا :

خدا نے جس چیز کو حرام کیا ہے. اس میں آپ کے لیے لذت رکھی ہے. کیونکہ اسے آپ سب کا امتحان لینا مقصود ہے کہ آپ اس سے محبت کرتے ہیں یا نہیں اور اس کی غیر موجودگی میں اس سے وفادار رہتے ہیں یا نہیں.

ہر کسی کی لذت الگ الگ قسم کی چیزوں میں ہوتی ہے. اگر لذت نہ رکھی ہوتی تو کونسا نفس پر جبر، کہاں کا امتحان اور کیسا صبر. حرام چیز ہمیشہ انسان کو آزمائش میں ڈالتی ہے اور ڈالتی رہے گی. لیکن، لذت اور ترغیب کا سامنے موجود ہوتے ہوئے اور ان پر قدرت رکھتے ہوئے بھی اس سے بچنا اصل امتحان ہے.

اور اس امتحان میں بس وہی کامیاب ہوتے ہیں جن کی خود اپنی نظر میں بہت عزت ہوتی ہے. اس کے علاوہ انہیں خدا سے محبت بھی ہوتی ہے. اور خدا کی نظر میں اپنا تاثر خراب ہونے کا خوف بھی ہوتا ہے.

عربی میں اس محبت بھرے خوف کو خشیّت کہتے ہیں. اور خشیّت ہی انسان کو کسی کی بندگی کرنے اور اس کی بات ماننے پر مجبور کر سکتی ہے. نہ خالی محبت کسی سے بندگی کروا سکتی ہے اور نہ اکیلا خوف انسان کو غلامی پر مجبور کر سکتا ہے.

جن کے دلوں میں خشیّت ہوتی ہے، ان کے دل لذتوں میں نہیں الجھتے. دنیاوی لذت صرف اسے بہکاتی ہے جس کے دل نے کبھی خشیّت کی لذت نہیں چکھی ہوتی. خدا سے بس محبت نہیں کیا کرو، نہ ہی صرف اس کا خوف دل میں رکھو. اس کی نظر میں اپنا تاثر خراب ہونے سے ڈرو. اس سے محبت بھرے خوف کے ساتھ تعلق رکھو گے تو تمہارا دل، دنیا کی محبتوں اور لذتوں سے بے پروا ہو جائے گا.

فِلافطین #

20/10/2025

کالج میں ایک اسٹوڈنٹ نے انگریزی کےپروفیسر سے پوچھا ۔ سر " نٹورے " کا کیا مطلب ہوا؟ " نٹورے " ؟؟؟ پروفیسر نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
" ٹھیک ہے میں تجھے بعد میں بتاتا ہوں ، میرے آفس میں آ جانا۔ " پروفیسر نے اسے ٹالنے کے لیئے کہا۔
یہ وہاں بھی پہونچ گیا، بتائیے سر، " نٹورے " یعنی کیا؟ پروفیسر نے کہا میں تجھے کل بتاتا ہوں ۔ پروفیسر صاحب رات بھر پریشان رہے، ڈکشنری میں ڈھونڈا، انٹرنیٹ پر ڈھونڈا ۔

دوسرے دن پھر وہی سر، " نٹورے" یعنی کیا؟
اب پروفیسر صاحب اس سے دوری بنانے لگے اور اسے دیکھتے ہی اس سے کترا کے نکلنے لگے ۔ لیکن یہ پٹھا ان کا پیچھا چھوڑنے کو تیار ہی نہیں ۔
ایک دن پروفیسر صاحب نے اس سے پوچھا جس "نٹورے" لفظ کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو، یہ کونسی زبان کا لفظ ہے؟ اس نے جواب دیا - انگلش۔ پروفیسر صاحب نے کہا اسسپیلنگ بولو ۔ اس نے کہا :
N-A-T-U-R-E. 😉😉😉😉
یہ سنتے ہی پروفیسر صاحب کے غصے کی آگ 🔥 ان کے دماغ تک پہونچ گئی ۔ کہنے لگے " حرامخور! ہفتے بھر سے میرے جی کو جنجال میں ڈال رکھا ہے ۔ اس ٹینشن میں میں بھوکا پیاسا رہا، رات رات بھر جاگا اور تو " نیچر " کو " نٹورے، نٹورے " بول بول کر مجھے پریشان کر رکھا ہے ۔ ٹھہر تجھے کالج سے ہی ابھی نکلواتا ہوں ۔
کہنے لگا، نہیں سر، میں آپ کے پاؤں پڑتا ہوں، اب میں دوبارہ ایسا کچھ نہیں پوچھوں گا۔ پلیز مجھے کالج سے نہ نکالیں
، میرا "فٹورے"
F-U-T-U-R-E.
برباد ہو جائے گا...😀😀😀😀

17/10/2025

مڈل کلاس۔

پاکستان میں دو لوگ بڑے اطمینان سے ہیں‘ غریب اور امیر……

یہ جو درمیان والے ”مڈل کلاسیئے“ ہیں صحیح بیڑا ان کا غرق ہوتاہے

یہ رکھ رکھاؤسے لگ بھگ امیر لگتے ہیں لیکن حالت یہ ہوتی ہے کہ گھر میں آئے روز اس وجہ سے لڑائیاں ہوتی ہے کہ گھی اتنی جلدی کیسے ختم ہوگیا

ہمارے ہاں قابل رحم اور قابل نفرت بھی دو ہی طبقات ہیں‘ امیر اور غریب۔امیر قابل نفرت ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ ہے اور غریب قابل رحم ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ نہیں۔

پاکستان کا بجٹ بھی انہی دو طبقات کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتاہے‘ گورنمنٹ بھی انہی دو طبقات پر نظر رکھتی ہے۔درمیان میں جو سینڈوچ بنتا ہے وہ بیچارا مڈل کلاس ہے۔امیر لوگ اسے غریب سمجھتے ہیں اور غریب لوگ امیر۔

یہ مڈل کلاسیاکون ہوتاہے؟

یہ وہ ہوتا ہے جس کے پاس بظاہر امیروں والی ہر چیز ہوتی ہے لیکن سیکنڈ ہینڈ۔

اس کے پاس نسبتاً بہترگھر ہوتاہے لیکن کرائے کا۔

گاڑی ہوتی ہے لیکن بیس سال پرانی۔

گھر میں اے سی ہوتاہے لیکن عموماً چلتا ائیر کولر ہی ہے۔

کپڑے صاف ہوتے ہیں لیکن چلتے کئی کئی سال ہیں۔

گھرمیں یو پی ایس ہوتاہے لیکن اس کی بیٹری عموماً آدھا گھنٹہ ہی نکالتی ہے۔

اس کے پاس اچھا موبائل بھی ہوتاہے لیکن استعمال شدہ۔

اس کے گھر میں ہر ہفتے پتلے شوربے والی مُرغی بنتی ہے۔

یہ اپنے بچوں کو پارک میں سیرو تفریح کے لیے لے کر جائے تو عموماً گھر سے اچھی طرح کھانا کھا کر نکلتاہے۔

اس کے پاس اے ٹی ایم کارڈ تو ہوتا ہے لیکن کبھی پانچ سو سے زیادہ نکلوانے کی نہ ضرورت پڑتی ہے نہ ہمت۔

یہ دن رات کوئی ایسا بزنس کرنے کے منصوبے بناتا ہے جس میں کوئی خرچہ نہ کرنا پڑے۔

اِس کی گاڑی صرف سردیوں میں بڑے کمال کی کولنگ کرتی ہے۔

یہ جب بھی اپنے بیوی بچوں کو لے کر کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ جاتا ہے چھ افراد کی ساری فیملی دو برگرز میں ہی بھگت جاتی ہے۔

یہ اگرظاہرکرے کہ میرے پاس بہت پیسہ ہے تو رشتے دار ادھار مانگنے آجاتے ہیں‘ نہ بتائے تو کوئی منہ نہیں لگاتا۔

یہ اپنی اوقات سے صرف 20فیصد اونچی زندگی گذارنے کی کوشش میں پستا رہتا ہے۔

اصل میں یہ غریبوں سے بھی بدتر زندگی گذار رہا ہوتا ہے۔

اس کی ساری زندگی کمیٹیاں ڈالنے اور بھگتانے میں گذر جاتی ہے۔

پاکستان میں امیروں اور غریبوں سے کہیں زیادہ تعدادمڈل کلاسیوں کی ہے لیکن یہ کسی کھاتے میں شمار نہیں ہوتے۔

ہمارے ہاں ہر وہ بندہ مزے میں ہے جس کے پاس بہت سارا پیسہ ہے یا بالکل نہیں ہے۔

جس کے پاس پیسہ ہے وہ اے سی میں سوجاتاہے۔ جس کے پاس نہیں وہ کسی فٹ پاتھ پر نیند پوری کرلیتاہے۔ پیسے والا کسی سے کچھ نہیں مانگتااور غریب ہر کسی کے آگے ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہوجاتاہے۔رگڑا اُس کو لگتاہے جس کے پاس پیسہ تو ہے لیکن صرف گذارے لائق۔

غریبوں کی اکثریت کو یہ مڈل کلاسیے ہی پال رہے ہیں۔

کبھی کبھی تو مجھے لگتاہے کہ سب سے زیادہ خوف خدا بھی اِس مڈل کلاس میں ہی پایا جاتاہے۔ یہی کلاس سب سے زیادہ خیرات کرتی ہے۔ بعض اوقات تو ان کی اپنی زندگی غریب سے بھی بدتر گذر رہی ہوتی ہے لیکن انا کے مارے یہ بیچارے کسی کو بتاتے نہیں۔

آپ نے کبھی لوئر ایلیٹ کلاس یا اپر ایلیٹ کلاس کی ٹرم نہیں سنی ہوگی۔لوئر غریب یا اپر غریب بھی نہیں ہوتا صرف لوئر مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کے الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔

لوئر اور اپر میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا‘ لوئر والے کے پاس موٹر سائیکل ہوتی ہے اور اپر والے کے پاس پرانے ماڈل کی کار۔نیندیں دونوں کی اڑی رہتی ہیں۔

یہ عیدالاضحی پر قربانی کی استطاعت نہ رکھنے کے باوجود کسی اونٹ یا گائے میں حصہ ڈال لیتے ہیں۔

ان کی ساری زندگی گھر کی فالتو لائٹس آف کرنے اور بل کم کرنے کے منصوبے بناتے گذر جاتی ہے۔

یہ موبائل میں سو روپے والا کارڈ بھی پوری احتیاط سے استعمال کرتے ہیں اور گھر والوں کو آگاہ کیا ہوتاہے کہ ایک مسڈ کال دوں تو اس کا مطلب ہے میں آرہا ہوں۔ دو مسڈ کال دوں تو مطلب ہے میں ذرا لیٹ ہوں۔

یہ ایک دن کے استری کیے ہوئے کپڑے دو دن چلاتے ہیں۔

یہ ہر دو گھنٹے بعد شک دور کرنے کے لیے بجلی کے میٹرکی ریڈنگ چیک کرتے رہتے ہیں۔

یہ کبھی بھی اس قابل نہیں ہوپاتے کہ ایک ہی مہینے میں بجلی، گیس اور پانی کے سارے بل اکٹھے ادا کرسکیں لہذا بجلی کا بل ادا کردیں تو گیس کا بل اگلے مہینے پر ڈال دیتے ہیں۔

ان کی اکثریت چونکہ پڑھی لکھی بھی ہوتی ہے لہذا کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتی۔

ان کے پاس بیٹیوں کی شادی کرنے کے پیسے نہیں ہوتے‘اولاد کے لیے اچھی نوکری کی سفارش نہیں ہوتی اس کے باوجود یہ کسی کو دکھ میں دیکھتے ہیں تو خود بھی آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔

ان کی گھر کام کرنے والی غریب ماسی چونکہ دیگرمختلف گھروں میں کام کرتی ہے اس لیے رمضان میں ہر گھر سے راشن کے نام پر لگ بھگ پچاس کلو آٹے سمیت چار پانچ ماہ کا راشن اکٹھا کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ لیکن مڈل کلاسئے پریشان رہتے ہیں کہ اپنے گھر کے لیے جو پندرہ دن کا راشن لائے تھے وہ ختم ہونے کے قریب ہے اور تنخواہ ملنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔

لیکن مڈل کلاسیا کیا کرے؟

یہ نہ زکوٰۃ مانگتا ہے‘ نہ فطرہ نہ بھیک۔یہ صرف کڑھتا ہے، سسکتا ہے اورمرتا ہے-

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Main
Islamabad