“Jis Shaks Nay Laytul Qadr Me Halat-e-Emaan Aur Talib-e-Sawab k Saath Qiyam Kia, Phir Ussay Saari Raat ki Tofeeq di g*i tou Uske Aglay Aur Pichlay Gunnah maf kar diye jatay hain. “
Islamic knowledge
بسم الله الرحمن الرحيم. This page is about the islamic knowledge and contain different topics and details of that topics۔
کتنے خوش نصیب لوگوں اور مقدر والے ہوتے ہیں جو طواف کعبہ کرتے ہیں۔ ۔ اے اللہ رمضان المبارک کے صدقے ہر چاہت رکھنے والے انسان کو اپنے گھر کی زیارت و حاضری نصیب فرما
آمین
سب آمین بولیں اگر دل میں اللہ کے گھر کی حاضری کے لیے تڑپ ہے تو آمین کہے بغیر آگے نہ بڑھنا۔
گر تم نہ کو گے تو کرم کون کرے گا
گر تم نہ سنو گے تو میری کون سنے گا
❤️🥹🤲
❤️شبِ جُمعہ کادُرُود📿💐
اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ نِالنَّبِیِّ الْاُمِّیِّ
الْحَبِیْبِ الْعَالِی الْقَدْرِالْعَظِیْمِ الْجَاہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ📿💚💚🌷
بُزرگوں نے فرمایا کہ
جو شَخْص ہر شبِ جُمعہ (جُمعہ اور جُمعرات کی دَرمِیانی رات) اِس دُرُود شریف کو پابندی سے کم از کم ایک مرتبہ پڑھے گا مَوْت کے وَقْت سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زِیارت کرے گا اورقَبْر میں داخل ہوتے وَقْت بھی،یہاں تک کہ وہ دیکھے گا کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُسے قَبْر میں اپنے رَحْمت بھرے ہاتھوں سے اُتار رہے ہیں۔💚💚💚💚
ےالقرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 28
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَيۡفَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَڪُنۡتُمۡ اَمۡوَاتًا فَاَحۡيَاکُمۡۚ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ۞
ترجمہ
تم اللہ کے ساتھ کفر کا طرز عمل آخر کیسے اختیار کرلیتے ہو حالانکہ تم بےجان تھے اسی نے تمہیں زندگی بخشی پھر وہی تمہیں موت دے گا پھر وہی تم کو (دوبارہ) زندہ کرے ۔
گا اور پھر تم اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے
اس بات کا ثبوت دیتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ موجود ہے وہ قدرتوں والا ہے۔ وہی پیدا کرنے والا اور اختیار والا ہے۔ اس آیت میں فرمایا تم اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکار کیسے کر سکتے ہو؟ یا اس کے ساتھ دوسرے کو عبادت میں شریک کیسے کر سکتے ہو؟ جبکہ تمہیں عدم سے وجود میں لانے والا ایک وہی ہے۔ دوسری جگہ فرمایا کیا یہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟ انہوں نے زمین و آسمان بھی پیدا کیا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ بےیقین لوگ ہیں۔
اور جگہ ارشاد ہوتا ہے آیت «هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورًا-
یقیناً انسان پر وہ زمانہ بھی آیا ہے جب وقت یہ قابل ذکر چیز ہی نہ تھا۔
Dua
@
القرآن - سورۃ نمبر 1 الفاتحة
آیت نمبر 1
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞
ترجمہ:
شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے (1)
تفسیر:
(1) عربی کے قاعدے سے " رحمن " کے معنی ہیں وہ ذات جس کی رحمت بہت وسیع ( Extensive ) ہو، یعنی اس رحمت کا فائدہ سب کو پہنچتا ہو اور " رحیم " کے معنی ہیں وہ ذات جس کی رحمت بہت زیادہ (Intensive ) ہو، یعنی جس پر ہو مکمل طور پر ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمت دنیا میں سب کو پہنچتی ہے، جس سے مومن کافر سب فیضیاب ہو کر رزق پاتے ہیں اور دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور آخرت میں اگرچہ کافروں پر رحمت نہیں ہوگی ؛ لیکن جس کسی پر (یعنی مومنوں پر) ہوگی، مکمل ہوگی کہ نعمتوں کے ساتھ کسی تکلیف کا کوئی شائبہ نہیں ہوگا۔ رحمن اور رحیم کے معنی میں جو یہ فرق ہے اس کو ظاہر کرنے کے لئے رحمن کا ترجمہ سب پر مہربان اور رحیم کا ترجمہ بہت مہربان کیا گیا ہے۔
آیت نمبر 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۞
ترجمہ:
تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے (2)
تفسیر:
(2) اگر آپ کسی عمارت کی تعریف کریں تو در حقیقت وہ اس کے بنانے والے کی تعریف ہوتی ہے، لہذا اس کائنات میں جس کسی چیز کی تعریف کی جائے وہ بالآخر اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہے ؛ کیونکہ وہ چیز اسی کی بنائی ہوئی ہے، تمام جہانوں کا پروردگار کہہ کر اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے، انسانوں کا جہان ہو یا جانوروں کا، سب کی تخلیق اور پرورش اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اور ان جہانوں میں جو کوئی چیز قابل تعریف ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور شان ربوبیت کی وجہ سے ہے۔
آیت نمبر 3
الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞
ترجمہ:
جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے
تفسیر:
مسئلہ نمبر 13: الرحمن الرحیم۔ رب العلمین سے اپنی صفت بیان کرنے کے بعد اپنی تعریف ان کلمات سے فرمائی کہ وہ بہت مہربان اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے، چونکہ رب العلمین کی صفت سے متصف ہونے میں ترہیب تھی اس لئے ساتھ ہی الرحمن الرحیم ذکر فرما دیا کیوں کہ اس میں ترغیب تھی تاکہ اس کا خوف اور اس کی طرف رغبت دونوں کو اپنی صفات میں جمع کرلے، پس یہ اس کی طاعت اور نافرمانی سے اجتناب میں مددگار ثابت ہوں گی جیسا کہ ارشاد فرمایا : نبئ عبادی ای انا الغفور الرحیم وان عذابی ھو العذاب الالیم (الحجر) (بتا دوسرے بندوں کو کہ میں بلاشبہ بہت بخشنے والا از حد رحم کرنے والا ہوں (اور یہ بھی بتا دو کہ) میرا عذاب بھی دردناک عذاب ہے) ۔
اور فرمایا : غافر الذنب وقابل الثوب شدید العقاب ذی الطول (غافر :3) (گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول فرمانے والا، سخت سزا دینے والا، فضل وکرم فرمانے والا ہے) ۔
اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مومن وہ سزا جان لے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تو کوئی جنت کا “ طمع بھی نہ کرے اور اگر کافر اللہ کی رحمت جان لے تو کوئی جنت سے مایوس نہ ہو ” (2) ۔
الرحمن اور الرحیم دونوں اسموں کے معانی گزر چکے ہیں پس دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
آیت نمبر 4
مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۞
ترجمہ:
جو روز جزاء کا مالک ہے
تفسیر:
(3) روز جزاء کا مطلب ہے وہ دن جب تمام بندوں کو ان کے دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، یوں تو روز جزاء سے پہلے بھی کائنات کی ہر چیز کا اصلی مالک اللہ تعالیٰ ہے ؛ لیکن یہاں خاص طور پر روز جزاء کے مالک ہونے کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہی انسانوں کو بہت سی چیزوں کا مالک بنایا ہوا ہے، یہ ملکیت اگرچہ ناقص اور عارضی ہے تاہم ظاہری صورت کے لحاظ سے ملکیت ہی ہے، لیکن قیامت کے دن جب جزاء وسزا کا مرحلہ آئے گا تو یہ ناقص اور عارضی ملکیتیں بھی ختم ہوجائیں گی، اس وقت ظاہری ملکیت بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی نہ ہوگی۔
آیت نمبر 5
اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۞
ترجمہ:
(اے اللہ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں
تفسیر:
(4) یہاں سے بندوں کو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کا طریقہ سکھایا جارہا ہے اور اسی کے ساتھ یہ واضح کردیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کسی قسم کی عبادت کے لائق نہیں، نیز ہر کام میں حقیقی مدد اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنی چاہیے ؛ کیونکہ صحیح معنی میں کار ساز اس کے سوا کوئی نہیں، دنیا کے بہت سے کاموں میں بعض اوقات کسی انسان سے جو مدد مانگی جاتی ہے، وہ اسے کارساز سمجھ کر نہیں ؛ بلکہ ایک ظاہری سبب سمجھ کر مانگی جاتی ہے۔
آیت نمبر 6
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ۞
ترجمہ:
ہم کو سیدھے راستے چلا
تفسیر:
مسئلہ نمبر 27: اھدنا الصراط المستقیم
اھدنا، مربوب کی، رب کی بارگاہ میں دعا اور رغبت ہے۔ معنی یہ ہے کہ ہماری سیدھے راستہ پر رہنمائی فرما اور سیدھے راستہ کی طرف ہمیں ہدایت عطا فرما اور ہمیں اپنی ہدایت کا وہ راستہ دکھا جو تیری عبادت اور تیرے قرب تک پہنچنے والا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے دعا اور تمام چیزوں کو اس سورت میں رکھ دیا۔ اس کے نصف میں ثنا ہے اور نصف میں حاجات کو جمع کیا گیا ہے۔ یہ اس سورت میں جو دعا ہے وہ اس دعا سے افضل ہے جو دعا کرنے والا خود مانگتا ہے کیونکہ یہ وہ کلام ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا۔ اور حدیث میں ہے : “ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا سے زیادہ معزز کوئی چیز نہیں . حنفیہ نے اھدنا الصراط المستقیم کے بارے میں فرمایا : یہ اللہ کا دین ہے، اللہ تعالیٰ اس کے علاوہ بندوں سے کوئی دین قبول نہیں کرتا۔
آیت نمبر 7
صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ ۞
ترجمہ:
ان لوگوں کے راستے جن پر تو اپنا فضل و کرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا، اور نہ گمراہوں کے ؏
آیت نمبر 7
تفسیر:
مسئلہ نمبر 29: صراط الذین انعمت علیھم
صراط، الصراط سے بدل کل ہے جیسے تو کہتا ہے : جاء بی زید ابوک۔ اس آیت کا مطلب ہے ہمیں ہمیشہ اپنی ہدایت عطا فرما کیونکہ انسان راستہ کی طرف رہنمائی کیا جاتا ہے پھر وہ اس سے بھٹک بھی جاتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس صراط سے مراد اور صراط ہے۔ اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کا فہم۔
مسئلہ نمبر 30: حضرت عمر بن خطاب بن زبیر (رض) نے صراط من انعمت علیھم پڑھا ہے۔ علماء مفسرین کا اختلاف ہے کہ کون لوگ مراد ہیں جن پر انعام کیا گیا ہے۔ جمہور مفسرین نے فرمایا : اس سے مراد انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں۔ انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے۔ ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذی انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین والشھداء والصلحین وحسن اولئک رفیقا (النساء) (اور جو اطاعت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اور (اس کے) رسول کی تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور کیا ہی اچھے ہیں یہ ساتھی ) ۔
: المغضوب علیھم سے مراد مشرکین ہیں اور الضآ لین سے مراد منافقین ہیں۔ اور بعض نے فرمایا : المغضوب علیھم مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے نماز میں اس سورت کی فرضیت کو ساقط کیا۔
مسئلہ نمبر 33: ولا الضآلین عرب کلام میں الضلال کا مطلب حق کے راستہ اور قصد کے طریقوں سے دور چلا جانا ہے۔ اس معنی میں یہ مثال ہے : ضل اللبن فی الماء، یعنی دودھ پانی میں غائب ہوگیا۔ ء اذا ضللنا فی الارض (السجدہ :10) ۔ یعنی ہم موت کے ساتھ غائب ہوجائیں گے اور مٹی بن جائیں گے۔ شاعر نے کہا :
سورة الحمد کی تفسیر ہم مکمل کرتے ہیں۔ سب تعریفیں اور احسان اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔
اسلام وعلیکم
امید ہے آپ سب بخیر و عافیت ہونگے ۔
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہونے والا ہے انشاللہ العزیز جلد ہی قرآن پاک کی سب سے بڑی سورت سورۃ البقرہ شریف کی ترجمہ و تفسیر شروع کریں گے۔
اللّٰہ پاک اس کاوش میں ہماری مدد فرمائیں ۔ آپ سب بھی حصول علم اور ثواب کی نیت سے ہمارے ساتھ شامل رہیے گا ۔
13/01/2024
29/12/2023
صحیح مسلم
کتاب: جمعہ کا بیان
باب: جمعہ کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَی الْمِنْبَرِ مَنْ جَائَ مِنْکُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ
ترجمہ:
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، ابن شہاب، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر کھڑے ہونے کی حالت میں فرمایا کہ جو آدمی تم میں سے جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہیے کہ غسل کرلے۔
Translation:
Abdullah bin Umar (RA) is reported to have said that The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace be up on him) was standing on the pulpit when he said this: He who comes for Jumua he should take a bath.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Islamabad