24/10/2023
سوال: یہودی ہمیشہ خدا کی ملعون قوم رہی ہے اور قرآن میں بھی اس کا اشا رہ ملتاہے۔ عملی طور پربھی پچھلے دو ہزار سال سے اپنے اس dogma کو follow کیا۔ لیکن چند دہائیوں سے خدائی حکمت عملی میں یہ اچانک تبدیلی کیوں؟
جواب: میں آج صبح ہی قرآن کی آیت پڑھ رہا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہم تمہیں دوبارہ اکٹھا کریں گے۔ میرا خیا ل یہ ہے کہ اس با ت کو سمجھنے کا ایک انداز تو یہ ہو سکتا ہے کہ میرا اللہ بڑا مہربان ہے اور مجھے ملک دے گا، حکومت دے گا اور دنیا میں غالب کرے گا۔ مگر جو اللہ کی strategy قرآن میں نظر آتی ہے کہ دونوں مرتبہ میں تمہیں اکٹھا کر کے خوب جوتے ماروں گا۔ اب سمجھنے کی بات ہے کہ یہود اسے اس طرف سے لے رہے ہیں مگر قرآن یہ کہ رہا ہے کہ جیسے تم زور آور اور بدبخت لوگ ہو، بلکہ ان کے پیغمبر کہہ رہے ہیں: ” أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ“۔ (البقرہ:۶۷) کہ اے اللہ ان جاہلوں سے مجھے بچانا کہ یہ بد بخت باربار انہی حماقتوں کا ارتکا ب کرتے ہیں۔ تو اللہ ان کو دوبارہ اکٹھا کر رہا ہے۔ سینکڑوں یہودی ساری دنیا میں بکھرے ہوئے ہیں اور اتنی دور تک بکھرے ہوئے ہیں کہ ان میں دو دو چارچار کو اللہ کیسے مارسکتا تھا؟ I think according to the Quranic technique they had been gathered and they are being gathered ذرا اکٹھا کر کے اچھی مار پڑے گی اور میرا خیال ہے کہ قوموں کی زندگی میں کوئی سو سال، سوا سال زیادہ نہیں ہوتے۔ Individual life میں شاید سو سال ایک مکمل زندگی ہے۔ مگر قوموں کی زندگی تھوڑی طویل ہوتی ہے۔ اس لیے اگر دس پندرہ بیس سال انہوں نے گزار لیے ہیں تو آپ فکر نہ کرو۔
انشاء اللہ ان کا۔۔۔۔۔۔۔
قریب ہے یارو روزِمحشر
چھپے گا پشتوں کا خون کیونکر
جو چپ رہے گی زبانِ خنجر
لہو پکارے گا آستین کا
استفسارات ۱.۵
follow us on Whatsapp Channel
"Link":
https://whatsapp.com/channel/0029VaD2dYp9MF97XwSUkT1G
20/10/2023
سوال: مستقبل کے بارے میں اچھی امید رکھنا انسان کی فطرت ہے۔ کیا ہمیں آرزوئیں پالنی چاہئیں اگر ہاں تو کس حد تک؟
جواب: اصل میں سب سے پہلے تو یہ دعویٰ کرنا مشکل ہے کہ ہم آرزوئیں پیدا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے، اور پھر بہت ساری ہماری خواہشات ہماری آزمائشوں کا حصہ ہوتی ہیں جو اللہ نے ہر صورت ہمارے قلب و نظر پروارد کرنی ہوتی ہیں۔ اسی لیے پروردگار عالم نے کہیں لفظ میں کہا: ”تِلْکَ أَمَانِیُّہُم“۔(البقرہ:۱۱۱) یہ تمہاری خواہشات ہیں آرزوئیں ہیں مگر آرزو میں سب سے بہترین طرزِ فکر اللہ کے رسولﷺکی ہے کہ طولِ عمل سے بچا کرو، ان امیدوں سے جو طویل ہوں امیدوں کو اگر آپ مختصر کر دیں تو آپ دین میں ہو، اگر وہ اتنی طویل ہو گئی تو آپ کو تھکا تھکاکے ماردے گی۔
If wishes were horses then fool were better ride. اس لیے آپ اپنی امیدوں کو چھوٹا کر لو مختصر کر لو۔ اللہ کے رسولﷺنے ہمیں تنبیہ کی کہ ان کاوقفہ مختصر کر لو۔ Suppose, I need a thing and I would say ok, if I get it in a week its ok, if don't get it in a week forget it. امید جتنی آپ مختصر کر لو گے اتنی جلدی آپ اس عذاب سے نجات پا لو گے۔ میرے نزدیک اللہ کے رسولﷺکی یہ بات بہت زیادہ خوبصورت ہے کہ طویل امیدوں کو ترک کو ان سے بچو۔
ابھی میں دیکھتا ہوں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے لوگ اس کے آکسفورڈ جانے کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ بچے ابھی میٹرک نہیں کر پاتے اور لوگ اس کیلیئے پی ایچ ڈی کے مضامین چن رہے ہوتے ہیں۔ مجھے یہ بات بڑی احمقانہ نظر آتی ہے۔
Frankly telling you this is what teases you, this makes you sad all your life. آپ لوگ اچھے بھلے جانتے ہو ہمیں اگلے دن کا پتا نہیں کہ کل کیا ہو گا۔ incidental, accidental,عمر کے لحاظ سے ہمیں کچھ پتا نہیں ہوتا تو ہم اتنی لمبی امید کیوں پالیں جو ہماری گرفت سے بھی باہر ہو اور زمان ومکان کی بے پناہ و سعتوں میں بکھری پڑی ہو۔
تو بہترین حل یہ ہے کہ امیدیں ضرور ہوں مگر جزوی، مختصر، پوری ہونے والی یا بلکل ختم ہو جانے والی۔ استفسارات ۱۵۱
Whatsapp Account Link:
https://whatsapp.com/channel/0029VaD2dYp9MF97XwSUkT1G
19/10/2023
سوال: ”مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے“۔اس کو تھوڑا سا explain کر دیں۔
جواب: دیکھو تلاشِ پروردگار میں ساری منزل علم کی ہیں، شناخت کی ہیں، جانچ پرکھ کی ہیں۔ منزلیں اپنے اندر کی ہوں یا باہر کی ہوں کائنات کی ریفرنسز سے دیکھنا ہوتا ہے۔ آفاق کی ریفرنسز سے دیکھناہوتاہے۔ مجھے قرآن کی ایک آیت سمجھنے کے لیے ساری دنیا کی mythology پڑھنی پڑھے گی۔ اللہ نے قرآن میں صرف ایک جملہ لکھا ہے، ایک جملہ کہ پہلے سب موحد تھے۔ بعد میں انہوں نے بت پرستی اختیار کی۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ واقعی سب موحد تھے، مجھے ساری دنیا کی mythology پڑھنی پڑھے گی۔ تو یہ علم کے آگے بڑھتے ہوئے naturally خدا کی طرف جاتے ہوئے آپ اتنے سیانے تو ہو جاتے ہو کہ دنیا کی باتیں تو چھوٹی رہ جاتی ہیں۔ آپ اتنے سیانے ہو جاتے ہو، اتنا caliber آپ کا بن جاتا ہے کہ کوئی آسانی سے آپ کو دھوکا نہیں دے سکتا۔ ویسے بھی آپ کا جو اعلیٰ ترین مصرفِ علم ہے وہ حفاظت کرتاہے،آپ کی کوتاہیوں، پستیوں کی۔ اس لیے سب سے اعلیٰ دعا جو مانگی جاتی ہے ’’اَللَّٰہُمَّ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِینِک“ اس خوف اور ڈرسے مانگی جاتی ہے کہ کس وقت بھی ہمارا اپناہی علم ہمارے لیے گمراہی کا باعث نہ بن جائے۔ ہر وقت انکسارِعلم رہنا چاہئے۔ انکسار کے بغیر تعلیم حاصل نہیں ہوتی۔ سب سے بڑا انکسار یہ ہے کہ ہم اللہ کو عالم سمجھیں اور اپنے آپ کو متعلم سمجھیں۔ اور خدا سے کبھی بھی سیکھنے میں گریز نہ کریں۔
ابن سینا مر رہا تھا۔ اس کا شاگرد اس کے سر ہانے بیٹھا تھا۔ تو اس نے آخری سانس لی۔ اس نے کہا ابن سینا کلمہ پڑھو۔ ان سینا نے کہا سامنے میز پہ کتاب پڑی ہے، وہ میرے پاس اٹھا لاؤ۔ اس نے کہا استاد تیری جان جا رہی ہے، سکرات کا عالم ہے تو کتاب منگوا رہا ہے۔
ابن سینا نے جواب دیا بے وقوف میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے حضور ایسے پہنچوں کہ میں کسی نہ کسی چیز کو ڈھونڈرہا تھا، علم کی تلاش کر رہا تھا، اور میں شہید کہلایا جاؤں گا۔ مجھے اللہ پہ یقین ہے۔ میں اسے جو جانتا ہوں۔ تلاش علم ایک بہت بڑی سعادت ہے۔ اپنی ذات پہ اور خارجی کائنات پہ اسی سے پھر شناخت بھی ڈویلپ ہوتی ہے۔
Whatsapp Account Link:
https://whatsapp.com/channel/0029VaD2dYp9MF97XwSUkT1G
19/10/2023
Follow us on Whatsapp where you can see and watch Ustad's lectures.
whatsapp.com
18/10/2023
سوال: حدیث رسولﷺ ہے کہ ۷۲ فرقے اسلام کے ہوں گے تو اصل فرقے کی پہچان کیا ہے؟
جواب: ایک بھی فرقہ اصلی نہیں ہے۔ سیدھی سی پہچان ہے۔ دیکھو بات ہی سیدھی سادی سی ہے۔ جو میں آپ سے عرض کر رہا ہوں۔ کہ اگر فرقہ ہے تو پھر ایمان نہیں ہے اس میں۔ قرآن آپ سے کہ رہا ہے:"اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ" کہ جنہوں نے دین میں فرق کر دیا۔ فرقہ تب ہی بنتا ہے کہ جب دین میں فرق کر دیتے ہیں اور گروہ بن گئے۔ خوارج گروہ بن گئے۔ معتزلہ گروہ بن گئے۔گروہ بن گئے تو جو بھی مختلف نکلایا ایک راہ مختلف نکلی "اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا "
اور وہ گروہ بن گئے" لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍؕ" (6:159) اے پیغمبر ﷺ تو ان میں نہیں ہے۔ قرآن حکیم کے مطابق اس گروہ میں پیغمبرنہیں ہے۔ اس لیے ۷۲چھوڑ۷۳ بن جائیں وہ تمام فرقے نہ خدا کے ہیں نہ رسولﷺکے ہیں۔ کیونکہ جو مسلمان رہا وہ مسلمان ہے چاہے وہ کتنا بھی گنہگا ر ہے۔ جس نے آگے کوئی پخ لگا لی وہ جانے اور اس کا انجام جانے۔ ہم اس کو اچھا یا برا نہیں کہتے۔