21/03/2022
اس فانی دنیا کی حقیقت ______!🙂
دنیا کی مشہور فیشن ڈیزائنر اور مصنف "کرسڈا روڈریگز" نے کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد اپنے انتقال سے پہلے یہ تحریر لکھی ہے______!🍁
1۔ میرے پاس اپنے گیراج میں دنیا کی سب سے مہنگی برانڈ کار ہے لیکن اب میں وہیل چیئر پر سفر کرتی ہوں۔
2. میرا گھر ہر طرح کے ڈیزائنر کپڑے ، جوتے اور قیمتی سامان سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن میرا جسم اسپتال کی فراہم کردہ ایک چھوٹی سی چادر میں لپیٹا ہوا ہے____!🙂
3. بینک میں کافی رقم ہے۔ لیکن اب اس رقم سے مجھے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔
4. میرا گھر محل کی طرح ہے لیکن میں اسپتال میں ڈبل سائز کے بستر میں پڑی ہوں_____!🍁
5. میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل سے دوسرے فائیو اسٹار ہوٹل میں جاسکتی ہوں ۔ لیکن اب میں اسپتال میں ایک لیب سے دوسری لیب میں جاتے ہوئے وقت گزارتی ہوں۔
6. میں نے سینکڑوں لوگوں کو آٹوگراف دیے۔ آج ڈاکٹر کا نوٹ میرا آٹوگراف ہے______!🍂
7. میرے بالوں کو سجانے کے لئے میرے پاس سات بیوٹیشنز تھیں - آج میرے سر پر ایک بال تک نہیں ہے۔
8. نجی جیٹ پر ، میں جہاں چاہتی ہوں اڑ سکتی ہوں۔ لیکن اب مجھے اسپتال کے برآمدے میں جانے کے لئے دو افراد کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ۔
9.اگرچہ بہت ساری کھانوں کی مقدار موجود ہے ، لیکن میری خوراک دن میں دو گولیوں اور رات کو نمکین پانی کے چند قطرے ہے_______!🙃
یہ گھر ، یہ کار ، یہ جیٹ ، یہ فرنیچر ، بہت سارے بینک اکاؤنٹس ، اتنی ساکھ اور شہرت ، ان میں سے کوئی بھی میرے کام کا نہیں ہے۔ اس میں سے کوئی بھی چیز مجھے کوئی راحت نہیں دے سکتی۔😐😐😐
بہت سارے لوگوں کو راحت پہنچانا اور ان کے چہروں پہ مسکراہٹ بکھیرنا ہی اصل زندگی ہے-😊
"اور ۔۔۔۔۔۔موت کے سوا کوئی حقیقت نہیں ہے___💯
20/03/2022
سائنس اب تحقیق کر کے عوام کو بتا رہی ہے کہ یہ پوزیشن انسان کے اعصابی نظام احساس کمتری وغیرہ کو کنٹرول کرنے میں مدد گار ہے ۔ جبکہ ہم سالوں پہلے اس تجربے سے کامیاب گزر چکے ہیں
01/03/2022
ایک تندور والا تھا جو 5 روپے میں روٹی بیچتا تھا اسے روٹی کی قیمت میں اضافہ کرنا تھا لیکن بادشاہ کی اجازت کے بغیر کوئی اس کی قیمت نہیں بڑھا سکتا تھا۔ تو وہ بادشاہ کے پاس گیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت مجھے روٹی کے 10 روپے کرنے ہیں۔ بادشاہ نے کہا کہ 30 کی کر دو
تندوری نے کہا بادشاہ سلامت اس سے شور مچے گا
بادشاہ نے کہا اس کی فکر نہ کرو
میرے بادشاہ ہونے کا کیا فائدہ۔تم اپنا منافع دیکھو اور روٹی 30 روپے کی کر دو
اگلے دن اس نے روٹی کی قیمت 30 روپے کر دی، شہر میں کہرام مچ گیا لوگ بادشاہ کے پاس پہنچے اور شکایت کی کہ تندور والا ظلم کر رہا ہے 30 روپے کی روٹی بیچ رہا ہے ۔ بادشاہ نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ میرے دربار میں تندوری کو پیش کرو ،وہ جیسے ہی دربار میں پیش ہوا بادشاہ نے غصے سے کہا، تم نے مجھ سے پوچھے بغیر قیمت کیسے بڑھا دی؟ یہ رعایا میری ہے، لوگوں کو بھوکا مارنا چاہتے ہو۔ بادشاہ نے تندوری کو حکم دیا کہ تم کل سے آدھی قیمت پر روٹی بیچو گے ورنہ تمہارا سر قلم کر دیا جائے گا، بادشاہ کا حکم سن کر عوام نے اونچی آواز میں کہا....بادشاہ سلامت زندہ باد
اگلے دن سے 30 کے بجائے روٹی 15 میں بکنے لگی
عوام خوش، تندوری خوش، بادشاہ بھی خوش😁
_________________
20/03/2021
جب حضرت نوح ؑ کشتی بنا رہے تھے تو ایک مومنہ بوڑھی عورت روز اللہ کے نبی کے پاس اپنی گٹھڑی لے کر آتی اور کہتی ”اے اللہ کے نبی، کب کشتی روانہ ہوگی؟“ حضرت نوح ؑ فرماتے ”ابھی دیر ہے۔“ وہ عورت شام تک بیٹھی رہتی اور پھر اٹھ کر چلی جاتی-
ایک دن حضرت نوح ؑ نے فرمایا کہ اے عورت، جب جانا ہوا تو تمہیں بتا دیا جائے گا۔ یہ عورت واپس چلی گئی اور انتظار کرنے لگی کہ کب نوح بلائیں گے۔ اس دوران عذاب آگیا اور کشتی روانہ ہو گئی لیکن حضرت نوح علیہ السلام نے اس عورت کو نہ بلایا(ظاہری طور پر نوح ؑ کو اس کو بلانا بھلا دیا گیا)-
جب طوفان تھما توایک دن حضرت نوح ؑ کے دل میں محبت اٹھی کہ شہر کو دیکھوں جہاں سے چلا تھا۔ وہاں آئے اور قریب جا کر دیکھا تو ایک جھونپڑی میں دیا جل رہا تھا۔ حضرت نوح ع یہ دیکھ کر چونک گئے کہ روئے زمین پر کوئی ایسا! گھر بھی ہے کہ اتنے عظیم طوفان کے بعد بھی جس میں چراغ جل رہا ہے۔ انہوں نے وہاں تکبیر بلند کی تو وہ عورت سامان لے کر آگئی اور کہنے لگی ”یا نبی اللہ، کیا کشتی تیار ہے چلیں؟“ حضرت نوح ؑ نے حیرت سے اسکو دیکھا اور کہا ” رکو بوڑھیا- کیا تمہیں کچھ بھی پتا نہیں چلا“- وہ کہنے لگی ”یا نبی اللہ، کیا نہیں پتا چلا؟“
کہا: ”اتنا بڑا سیلاب آیا، بارش آئی، تمہیں کچھ بھی پتا نہیں چلا“- بڑھیا کہنے لگی ” یا نبی اللہ، بس ایک دن بادل گرجے تھے اور کچھ ہلکی سی پھوہار پڑی تھی“-
حضرت نوح ؑ حیران ہو کر آسمان کی طرف دیکھنے لگے اور کہا ” میرے اللہ، یہ کیا ماجرا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ پر وحی بھیجی کہ اے میرے پیارے نبی، اس عورت کے دل میں چونکہ تمھاری محبت تھی اور تم نے اسے پابند کر دیا تھا اور چونکہ تمہارا اس سے وعدہ بھی تھا کہ نجات کی کشتی میں اسے لے جاؤ گے، تب جبکہ تم نے اپنا وہ وعدہ پورا نہیں کیا- لیکن اے نوح ؑ، میں تو تمہارے وعدے کا ذمے دار تھا، اس لیے میں نے اس بڑھیا تک عذاب پہنچنے ہی نہیں دیا-
🌹🌷🥀🌷🌹🌷🥀🌷🌹🥀🌹🥀🌹
20/03/2021
بچے نالائق ہی اچھے :
۔""""""""""""""""""""""
پیشکش ( دل افروز )
_____________________________________
چاہتا ہوں میں زندگی میں کبھی نہ کبھی بھوپال جاؤں، اس شخص سے ملوں، اس کے ساتھ تصویر بنواؤں اور یہ تصویر پاکستان کے ان تمام والدین کو بھجوا دوں جو اپنے بچوں کو ہمیشہ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن پر دیکھنا چاہتے ہیں اور پھر ان سے عرض کروں، دنیا میں سوریندرا کمار ویاس جیسے لوگ بھی موجود ہیں، بچوں کی ناکامی پر خوش اور مطمئن والدین۔
میں سوریندرا کمار ویاس سے کیوں ملنا چاہتا ہوں، آپ کو یہ جاننے کیلئے میری ”وش لسٹ“ میں شامل اس حیران کن کردار کا کارنامہ ملاحظہ کرنا پڑے گا۔
سوریندرا کمار ویاس بھوپال شہر کی وارڈ شیوا جی میں رہتے ہیں، یہ ٹھیکیدار ہیں، ان کا بیٹا آشو ویاس پڑھائی میں اچھا نہیں تھا، یہ کوشش کرتا تھا لیکن یہ زیادہ نمبر حاصل نہیں کر پاتا تھا، آشو ویاس کا مئی 2018ء میں میٹرک کا نتیجہ نکلا اور یہ بورڈ کے امتحان میں بری طرح فیل ہو گیا۔ یہ اداس شکل بنا کر گھر آیا تو یہ حیران رہ گیا، آشو ویاس کے والد سوریندرا کمار ویاس نے بیٹے کی ناکامی کی خوشی میں گھر میں جشن کا اہتمام کر رکھا تھا، جشن میں خاندان کے لوگوں کے علاوہ دوست احباب، کاروباری رفیق اور محلے کے لوگ بھی مدعو تھے۔ سوریندرا کمار نے کھانوں کا بندوبست بھی کر رکھا تھا، آتش بازی اور موسیقی کا بھی، آشو ویاس جوں ہی گھر میں داخل ہوا، لوگوں نے بھرپور تالیوں سے اس کا استقبال کیا، اس کے گلے میں ہار ڈالے اور اس کے ساتھ ناچنا شروع کر دیا، وہ لوگ جوں جوں ناچتے جاتے تھے چھت پر آتش بازی ہوتی جاتی تھی۔
آشو ویاس اس سلوک پر حیران ہو رہا تھا، اس کا خیال تھا یہ لوگ کسی غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہیں، یہ لوگ سمجھ رہے ہیں میں نے امتحان میں پوزیشن لے لی ہے، وہ والد کو بار بار روک کر بتانے کی کوشش کرتا رہا لیکن والد اسے ساتھ لے کر ناچتا رہا، یہاں تک کہ وہ دونوں ناچتے ناچتے تھک گئے، سوریندرا کمار نے تھکنے کے بعد اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑا، ڈی جے کے پاس آیا، مائیک اٹھایا اور لوگوں سے مخاطب ہو کر بولا؛
”آشو ویاس میرا بیٹا ہے، یہ پاس ہو یا فیل ہو یہ میرا بیٹا رہے گا، مجھے آج دن کے وقت پتہ چلا یہ میٹرک کے امتحان میں فیل ہو گیا ہے، کیا فرق پڑتا ہے، یہ آج فیل ہوا ہے، یہ کل کو پاس ہو جائے گا اور یہ اگر کل بھی پاس نہ ہوا تو بھی کیا فرق پڑتا ہے، یہ پھر بھی میرا بیٹا رہے گا، زندگی اور کامیابی صرف میٹرک کے امتحان تک محدود نہیں، یہ بہت لمبی، یہ بہت وسیع ہے، اس میں بے شمار امتحان آئیں گے اور ضروری نہیں میرا بیٹا ان امتحانوں میں بھی فیل ہو جائے گا۔
میں نے آج کی یہ پارٹی مستقبل کے ان امتحانوں کیلئے رکھی ہے جن میں میرا بیٹا شریک بھی ہو گا اور کامیاب بھی، میں اپنے بیٹے کو بتانا چاہتا ہوں کہ تم اس معمولی ناکامی پر اداس یا مایوس نہ ہو، میں تمہارے ساتھ ہوں، میں اس قسم کا والد نہیں ہوں جو بچوں کی ناکامی پر اداس ہو جاتا ہے اور بچے ڈپریشن کی وجہ سے خود کشی کر لیتے ہیں، میں ایسے بچوں کو نہیں، میں ایسے والدین کو ناکام سمجھتا ہوں، یہ کیسے لوگ ہیں جو ایک آدھ امتحان کو زندگی سمجھ کر اولاد جیسی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ میں اپنے بیٹے کی ناکامی پر بھی خوش ہوں، لہٰذا میں بیٹے کی اس ناکامی پر آپ سب کو مٹھائی اور کھانا کھلانا چاہتا ہوں۔“
اس کے بعد وہ بیٹے کی طرف مڑا، فضا میں ہاتھ لہرایا اور کہا ”آئی ایم پراؤڈ آف یو مائی سن، تم جیتو یا ہارو، مجھے تم سے پیار ہے۔“ بیٹا آگے بڑھا، باپ کے سینے سے لگا اور آنسو پونچھ کر بولا ”ابا ! مجھے آپ پر فخر ہے، آپ دنیا کے سب سے اچھے والد ہیں، میں نے کوشش کی لیکن میں اس کے باوجود فیل ہو گیا، میں مزید کوشش کروں گا، میں اگلی ٹرائی میں ضرور کامیاب ہوں گا۔ اور میں اگر اس میں بھی ناکام رہا تو زندگی کے اصل امتحانوں میں کامیاب ہو کر آپ کا سر فخر سے بلند کروں گا، میں ثابت کروں گا میں ایک شاندار والد کا شاندار بیٹا ہوں۔“
باپ بیٹے کا یہ پیار دیکھ کر محفل میں موجود ہر شخص کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ آگے بڑھ بڑھ کر باپ اور بیٹے سے گلے ملنے لگے، یہ بھوپال بلکہ ہندوستان کی تاریخ کا اس نوعیت کا پہلا جشن تھا اور میں ناکامی کے اس جشن پرسوریندرا کمار ویاس کو مبارک باد دینے بھوپال جانا چاہتا ہوں، میں اس عظیم باپ کے گلے لگ کر اسے وش کرنا چاہتا ہوں۔
ہم برصغیر کے والدین نمبروں کی ایک جعلی اور مصنوعی جنت میں رہ رہے ہیں، ہم نے اپنے بچوں کو نمبروں کی ایک ایسی ریٹ ریس (چوہوں کی دوڑ) پر لگا دیا ہے جس میں یہ بے چارے روز جیتے اور روز مرتے ہیں، یہ جس کیلئے اپنی جان ہلکان کر دیتے ہیں اور یہ جس کی وجہ سے بچپن ہی میں ڈپریشن، ٹینشن، اینگزائٹی اور حسد جیسی ہولناک بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں، آپ ہر امتحان کے نتائج کے بعد اخبارات میں جوان بچوں کی خود کشیوں کی خبریں پڑھتے ہوں گے۔
سوریندرا کمار ویاس کے اپنے صوبے مدھیہ پردیش میں ہر سال سینکڑوں بچے امتحان میں کم نمبر آنے پر خود کشی کر لیتے ہیں، پورے بھارت میں یہ تعداد ہزاروں تک پہنچ جاتی ہے، پاکستان میں بھی یہ وبا اب شہروں سے دیہات اور دیہات سے دور دراز کے علاقوں تک پہنچ رہی ہے، 2018ء میں چترال جیسے پرامن علاقے میں ایک درجن جوان بچوں نے کم نمبر آنے پر خود کشی کر لی، دو جوان بچیاں دریا میں کود گئیں، ایک خوبصورت جوان بچے نے خود کو گولی مار لی جبکہ باقی بچوں نے چوہے مار گولیاں کھالیں اور زہر پی کر مر گئے ۔
میں اس خوفناک ٹرینڈ میں والدین، اساتذہ اور طالب علم تینوں کو ذمہ دار سمجھتا ہوں، ہم سب نے مل کر اپنے تعلیمی نظام کو پراڈکٹو کے بجائے چیٹنگ بنا دیا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو ٹرینڈ کرتے ہیں تم رٹا لگاؤ، استاد کی منت کرو یا پھر نقل کرو، لیکن تمہارے نمبر اچھے آنے چاہئیں، چنانچہ ہمارے بچے نمبروں کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں، اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ ہمارے بچے قدرتی کی بجائے مصنوعی ماحول میں گرو کرتے ہیں، یہ نمبروں اور فگرز کو زندگی سمجھ لیتے ہیں۔ یوں یہ سفر حیات میں کلرک بن کر رہ جاتے ہیں۔
میں نے کسی جگہ پڑھا تھا کہ زندگی میں جو لوگ فیل نہیں ہوتے وہ پوری زندگی کامیابی کے مزے کو انجوائے نہیں کر پاتے اور یہ بات غلط نہیں۔ آپ نے اگر زندگی میں اندھیرا نہیں دیکھا تو آپ کو پوری زندگی روشنی کی قدر نہیں ہو گی، آپ نے زندگی میں غربت نہیں دیکھی تو آپ پوری زندگی امارت کا سکھ محسوس نہیں کر سکتے اور اگر آپ زندگی میں بدصورت اور کمزور نہیں رہے تو آپ طاقت اور خوبصورتی کے ذائقے سے کبھی متعارف نہیں ہو سکتے۔ ہم والدین، اساتذہ اور رشتے دار اپنی بے وقوفی کی وجہ سے اپنے بچوں سے یہ سارے ذائقے، یہ ساری خوشیاں چھین لیتے ہیں ۔
ہم انہیں خود کشی پر مجبور کر دیتے ہیں یا پھر انہیں ایسی زندہ لاشیں بنا دیتے ہیں جن کی جیبوں میں فگرز اور نمبروں کے سوا کچھ نہیں ہوتا، ہم والدین ایک اور مغالطے کا شکار بھی ہیں، ہم اچھے نمبروں کو کامیابی کی ضمانت بھی سمجھ لیتے ہیں اور سعادت مندی بھی جبکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے، آپ نے خود زندگی میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کو امتحان میں ٹاپ کرتے اور زندگی میں ناکام ہوتے دیکھا ہو گا۔ آپ نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو سکولوں اور کالجوں سے فیل ہونے کے بعد زندگی میں کامیاب ہوتے بھی دیکھا ہو گا۔
یہ عالمی ریسرچ ہے تعلیمی اداروں میں اعلیٰ نمبر حاصل کرنے والے صرف ایک فیصد لوگ زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں، جبکہ تعلیم میں کم تر کامیابی کے حامل زیادہ تر بچے عملی زندگی میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ امتحانات میں زیادہ نمبر حاصل کرنا ہرگز ہرگز کامیابی کی گارنٹی نہیں، آپ کے بچے اچھے نمبروں کے ساتھ بھی ناکام ہو سکتے ہیں اور فیل ہو کر بھی زندگی میں بہت ترقی کر سکتے ہیں، میں نے اسی طرح زندگی میں بے شمار نالائق بچوں کو اپنے والدین کی بے تحاشہ خدمت کرتے دیکھا اور کامیاب بچوں کو اپنے والدین کو بیماری کے عالم میں اکیلا چھوڑ کر کامیابی کے پیچھے بھاگتے بھی دیکھا ہے۔
میں ایک صاحب کے گھر گیا، اس کا بیٹا عاشق کی طرح ان کی خدمت کر رہا تھا، میں نے بیٹے کی تعریف کی تو وہ صاحب ہنس پڑے، میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا، میرے پانچ بیٹے ہیں، چار لائق ہیں اور یہ ایک نالائق، آج سارے لائق ملک سے باہر بیٹھے ہیں جبکہ یہ نالائق دن رات میری خدمت کرتا ہے، میں اسے دیکھتا ہوں اور دل ہی دل میں کہتا ہوں ”بچے نالائق ہی اچھے“۔
ہم والدین کو اپنا زاویہ نظر تبدیل کرنا ہو گا۔ ہمیں سوریندرا کمار ویاس کی طرح اپنے بچوں کو ناکامیوں کے ساتھ آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کا موقع دینا ہو گا۔ عین ممکن ہے سکول میں ناکام رہنے والا بچہ زندگی میں تمام کامیاب بچوں سے آگے نکل جائے اور ہمارا کوئی ایک نالائق بچہ ہماری خدمت میں تمام لائق بچوں کو پیچھے چھوڑ جائے، وہ ہمارا فخر بن جائے، ہم والدین اپنے بچوں سے صرف دو توقعات رکھتے ہیں، یہ اپنی جوانی میں ہم سے زیادہ ترقی کریں اور یہ ہمارے بڑھاپے میں ہمارا خیال رکھیں۔ یہ میرا تجربہ اور مشاہدہ ہے سکولوں اور کالجوں میں زیادہ نمبر حاصل کرنے والے اکثر بچے ان توقعات کے امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں۔
یہ زندگی میں زیادہ ترقی بھی نہیں کر پاتے اور یہ والدین کو بڑھاپے میں اکیلا بھی چھوڑ دیتے ہیں، چنانچہ پھر والدین کو بچوں کے اچھے نمبروں اور فرسٹ کلاس ڈگریوں کا کیا فائدہ ہوا؟ کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں اور یہ وہ سراغ زندگی ہے جو سوریندرا کمار ویاس پا گیا، جبکہ ہم اس سے کوسوں دور بیٹھ کر بچوں کے گریڈ اور نمبر گن رہے ہیں اور یہ وہ وجہ ہے جس کیلئے میں بھوپال جانا چاہتا ہوں، سوریندرا کمار ویاس سے ملنا چاہتا ہوں اور اسے یہ بتانا چاہتا ہوں
"بے شک بچے نالائق ہی اچھے ہوتے ہیں۔"
26/12/2020
پانی وہیں سے پیو جہاں سے گھوڑا پیتا ہے کیونکہ نسلی گھوڑا ناپاک پانی کو منہ نہیں لگاتا۔ سکون سے سونا ہو تو چارپائی وہیں بچھائو جہاں بلی سوتی ہے ،کیونکہ بلی ہمیشہ پر سکون جگہ کا ہی انتخاب کرتی ہے ۔ پھل وہ کھاؤ جسے کیڑا کھائے بغیر چھو کر گزرا ہو ۔ کیونکہ کیڑا صرف پکے پھل کو ہی تلاش کرتا ہے۔
گھر اس جگہ بنائو جہاں اژدھا دھوپ سیکنے کنڈلی مارتا ہو ۔ کیونکہ اژدھا استراحت کے لئے صرف ایسی جگہ کا انتخاب کرتا ہے جو مضبوط اور پختہ ہونے کے ساتھ سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈی ہو۔ پانی کے لیے کھدائی وہاں کریں جہاں پرندے گرمی سے بچنے کے لئے پناہ لیتے ہوں ۔کیونکہ جہاں پرندے پناہ لیتے ہیں وہاں پانی ہوتا ہے۔
کامیابی چاہتے ہو تو سونے اور اٹھنے میں پرندوں کی روٹین اپنالو ۔ کیونکہ رزق کی تلاش کا سب سے مناسب وقت کا انتخاب پرندے ہی کرتے ہیں جو کامیابی کا سب سے موثر طریقہ ہے۔۔
20/12/2020
کیا ہمارے ملکوں میں ایسی کوٸ مثال مل سکتی ہے۔
رات تین بجے۔۔
ڈنمارک کے ایک چھوٹے سے قصبے میں فائر فائٹر ایرک کو ایک کال موصول ھوئی.اس کی رات کی شفٹ تھی.فون اُٹھاتے ہی اس کو ایک عورت کی چیخ سنائی دی:میری مدد کرو,میں اٹھ نہیں سکتی_
گھبرائیں مت میڈم ۔ھم ابھی پہنچ رھے ہیں .آپ کہاں پر ہیں؟
"مجھے نہیں معلوم."
اس عورت نے لرزتی ھوئی آواز میں بتایا.
آپ کا ایڈریس کیا ھے؟ ایرک نے پوچھا.
"مجھے نہیں معلوم,میں چکرا رہی ھوں"
"کیا آپ مجھے اپنا نام بتا سکتی ہیں"
نہیں...میں کچھ یاد نہیں کر پارہی.لگتا ھے میرے سر پر کسی نے کچھ مارا ھے.
ایرک نے جلدی سے فون کمپنی کوکال کی.اورآنے والی کال کی شناخت اور لوکیشن دریافت کرنے کا کہا.
"ھم معذرت خواہ ہیں_ھم یہ لوکیشن شناخت نہیں کر پارھے"_دوسری طرف فون آپریٹر نے جواب دیا.
ایرک نے دوبارہ اس خاتون سے بات کی:
"کیا آپ مجھے اپنا فون نمبر بتا سکتی ہیں! شاید کہیں لکھا ھو."
نہیں__میرے پاس نمبر کہیں نہیں لکھا.اب میں کیا کروں! پلیز جلدی کریں.
اس خاتون کی آواز مدھم اور کمزور ھورہی تھی.
اچھا آپ اپنے اردگرد دیکھیں اور منظر بتانے کی کوشش کریں.
میرے گھر میں ایک کھڑکی روشن ھےگلی کی طرف اور گلی میں اسٹریٹ لائٹ ہیں__کھڑکی کس شکل کی ھے؟
"مستطیل نما ھے."
آپ اپنی جگہ پہ ہی رہیں.زیادہ حرکت مت کریں.ھم آپ کو تلاش کرنے آ رھے ہیں۔
ایرک کو آگے سے کوئی جواب نہیں ملا, سوائے زخمی خاتون کی لمبی سانسوں کے__ایک لمحہ سوچے بغیر ایرک نے اپنے کیپٹن کو کال کی.اس کو صورت حال بتاکر زیادہ سے زیادہ فائر ٹرک بھیجنے کا کہا.
"یہ ھمارے لئے بہت بڑا چیلنج اور مشکل ٹارگٹ ھے لیکن کسی کی جان بچانا ھماری اولین ترجیح ھے."
کیپٹن نے جواب دیا.
کچھ ہی دیر میں 15فائر ٹرک ٹاؤن کی ہر گلی کے کونے پر پہنچ گئے.
ایرک نے دوبارہ وہ فون کان سے لگایا جس پر خاتون لائن پر موجود تھی.مگر اب وہ جواب نہیں دے پارہی تھی.وہ ابھی بھی اس کی سانسوں کی آواز سن سکتا تھا.پھر فون پر ایرک کو فائر ٹرک کا سائرن سنائی دینا شروع ھوا۔
اس نے وائرلیس پر ٹرک کو ایک ایک کر کے اپنا سائرن بند کرنے کا کہا.فائر ٹرکس نے باری باری اپنا سائرن بند کرنا شروع کیا.ٹرک نمبر 12پر پہنچ کر ایرک کو سائرن کی آواز آ نا بند ہوگئی.اس نے دوبارہ ٹرک 12کو اپنا سائرن چلانے کا کہا__"یہ اس گھر کے بہت قریب ھے"۔وہ چیخا.
وہ خاتون کی رہائشی عمارت کی گلی میں کامیابی سے پہنچ گیا تھا مگر ابھی گھر تلاش کرنا باقی تھا.اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ گھر کیسے تلاش کرے.اچانک اس کے ذہن میں خیال آیا.اس نے لاؤڈ اسپیکر اُٹھایا اور اس اسٹریٹ والوں سے مخاطب ھوا:"ھمیں ایک خاتون کی تلاش ھے جو مصیبت میں ھے اسے ھماری مدد کی ضرورت ھے.مجھے معلوم ھے کہ وہ عورت یہاں قریب ہی ھے.اس کے کمرے کی لائٹ آ ن ھے.پلیز آپ لوگ اپنے گھر کی لائٹس آف کر دیں.
کچھ ہی دیر میں تمام لائٹس آف ھوگئیں سوائے ایک گھر کے_ناقابل یقین
ایرک نے کمال کر دکھایا تھا.
فائر مین نے دروازہ توڑا اوردم توڑتی سانس لیتی زخمی خاتون کو اٹھا کر وقت پر ہسپتال پہنچا دیا.
دو ہفتے میں خاتون مکمل صحتیاب ھو چکی تھی اور اس کی یاداشت واپس آ گئی.ایرک نے اپنا فرض بغیر ہچکچاہٹ کے نبھانے کی مکمل کوشش کی اور وہ کامیاب رہا.
اگرآپ کسی کام کی ٹھان لیں اور ھمت نہ ہاریں تو آپ اپنی مہارت اور جذبے سے پہاڑوں کو بھی ہلا سکتے ہیں.
اگر ھم ایک ٹیم ورک معاشرے کے طور پر اکٹھے ہیں تو ایک ناممکن سی صورتحال میں بھی کسی کی مدد کر سکتے ہیں.
ھم ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں__
انسان انسانیت سے ھے.
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے لئے کم نہ تھے کرو بیاں
منقول
14/12/2020
*آخری لوگ...*
*1950 سے 1999 میں پیدا ہونے والے ہم خوش نصیب لوگ ہیں.*
کیونکہ ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے مٹی کے بنے گھروں میں بیٹھ کر پریوں کی کہانیاں سنیں۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے لالٹین (بتی)کی روشنی میں کہانیاں بھی پڑھیں۔
جنہوں نے اپنے پیاروں کیلیئے اپنے احساسات کو خط میں لکھ کر بھیجا۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھا۔بلکہ گھر سے بوری ، توڑا لے کر سکول جاتے اور اس پر بیٹھتے۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے بیلوں کو ہل چلاتے دیکھا۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے مٹی کے گھڑوں کا پانی پیا۔بغیر بجلی کے ٹیوب ویل دیکھے نہائے
گاؤں کے درخت سے آم اور امرود بھی توڑ کر کھائے.
پڑوس کے بزرگوں سے ڈانٹ بھی کھائی لیکن پلٹ کر کبھی بدمعاشی نہیں دکھائی.
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے عید کا چاند دیکھ کر تالیاں بجائیں۔اور گھر والوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے عید کارڈ بھی اپنے ہاتھوں سے لکھ کر بهیجے.
ہمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں کیونکہ
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جو گاؤں کی ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہوئے.
ہم وہ لوگ ہیں جو گلے میں مفلر لٹکا کے خود کو بابو سمجھتے تھے۔
ہم وہ دلفریب لوگ ہیں
جنہوں نے شبنم اور ندیم کی ناکام محبت پہ آنسو بہائے اور انکل سرگم کو دیکھ کے خوش ہوئے ۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے ٹی وی کے انٹینے ٹھیک کیے فلم دیکھنے کے لیے ہفتہ بھر انتظار کرتے تھے
ہم وہ بہترین لوگ ہیں
جنہوں نے تختی لکھنے کی سیاہی گاڑھی کی۔ جنہوں نے سکول کی گھنٹی بجانے کو اعزاز سمجھا۔
ہم وہ خوش نصیب لوگ ہیں
جنہوں نے رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی۔ ہمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں۔
ہم وہ لوگ ہیں جو۔
رات کو چارپائی گھر سے باہر لے جا کر کھلی فضاء زمینوں میں سوئے دن کو اکثر گاؤں والے گرمیوں میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر گپیں لگاتے مگر وہ آخری ہم تھے۔
کبھی وہ بھی زمانے تھے
سب صحن میں سوتے تھے
گرم مٹی پر پانی کا
چھڑکاؤ ہوتا تھا
ایک سٹینڈ والا پنکھا
بھی ہوتا تھا
لڑنا جھگڑنا سب کا
اس بات پر ہوتا تھا
کہ پنکھے کے سامنے
کس کی منجی نے ہونا تھا
سورجُ کے نکلتے ہی
آنکھ سب کی کھلتی تھی
ڈھیٹ بن کر پھر بھی
سب ہی سوئے رہتے تھے
وہ آدھی رات کو کبھی
بارش جو آتی تھی
پھر اگلے دن بھی منجی
گیلی ہی رہتی تھی
وہ صحن میں سونے کے
سب دور ہی بیت گئے
منجیاں بھی ٹوٹ گئیں
رشتے بھی چھوٹ گئے
بہت خوبصورت خالص رشتوں کا دور لوگ کم پڑھے لکھے اور مخلص ہوتے تھے اب زمانہ پڑھ لکھ گیا تو بے مروت مفادات اور خود غرضی میں کھو گیا۔
کیا زبردست پڑھا لکھا مگر دراصل بے حس زمانہ آ گیا۔
16/11/2020
💕
ایک با حجاب خاتون میٹرو میں سوار ہوئی دروازے سے گزرتے ہوۓ اسکی چادر ایک جگہ اٹک گئی جس سے خاتون لڑکھڑائی۔ایک خاتون جس نے نامناسب اور تنگ لباس پہنا ہوا تھا چيخ کر بولی يہ کيا کررہی ہو اور کیسا لباس پہنا ہوا ہے اس گرمی میں؟ میٹرو میں بيٹھے بقیہ افراد بھی متوجہ ہوۓ لیکن اس باحجاب خاتون نے جلدی سے خود کو سمیٹا اور اسی خاتون کے ساتھ جا کر بيٹھ گئی۔ جب میٹرو چل پڑی تو اس باحجاب خاتون نے اس خاتون کو کان میں کہا کہ يہ چادر میں نے تمہاری خاطر پہن رکھی ہے. يہ سن کر اس خاتون نے کہا کہ ميری خاطر؟ میں نے تمہیں کب کہا کہ میری خاطر تم چادر پہنو اور اس گرمی میں پسینے سے شرابور ہو؟ اس نے کہا بالکل! میں نے يہ لباس تمہاری خاطر پہنا ہے تاکہ اگر ایک دن تمہارا شوہر کہ جس نے تم سے نکاح کیا ہے اور عہد کیا ہے کہ وہ تمہارے علاوہ کسی اور خاتون کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھے گا کبھی تم سے بے وفائی نہ کرے اور میری طرف متوجہ نہ ہو۔ کبھی میرے حسن کی طرف مائل ہوکر اسکا دل تم سے اچاٹ نہ ہو اور تمہاری ازدواجی زندگی خراب نہ ہو، اسکی توجہ فقط تمہاری ذات تک محدود رہے اس لئے ميں نے اپنے اوپر سختی کرکے تمہارے گھر کو محفوظ کیا ہوا ہے میں گرمی کی شدت میں بھی اپنے جسم کی نمائش نہیں کرتی، تاکہ کوئی مرد اپنے گھر کی خواتین سے خیانت نہ کرے۔
اور يہ مت بھولو کہ میں بھی تمہاری طرح عورت ہوں میرا بھی دل کرتا ہے کہ لوگ میری تعریف کریں اور جب تک میں نظروں سے اوجھل نہ ہو جاؤں لوگ میرے حسن کی مدح کریں لیکن میرا بھی ایک شوہر ہے جس سے میں خیانت نہيں کرنا چاہتی کیونکہ میری نظر میں مجھ پر فقط میرے شوہر کا حق ہے اور میں اس حق میں خیانت نہیں کروں گی اگر اس عہد میں وفا کرتی ہوں تو میرا شوہر بھی مجھ سے کبھی خیانت نہیں کرے گا اور کسی خاتون کی جانب نظریں اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔ لیکن تم جیسی عورتوں نے کہ جنکے گھروں کی حفاظت ہم اپنے حجاب سے کرتی ہیں، اپنے جسموں کی نمائش کر کے مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں اور اپنے حسن کی طرف لبھاتی ہیں، مردوں کی ایک ایک نظر کی بھیک مانگتی ہیں اب تم بتاؤ اعتراض مجھ پر کرنا چاہئے يا مجھے تم پر؟ يہ سن کر وہ خاتون شرمندہ ہوئی اور اس نے کہا کہ کبھی میں نے اس معاملے کو اس زاویے سے نہیں ديکھا تھا۔
اس حقیقت کو مغربی خاتون سمجھ چکی ہے اور وہ حجاب جیسی نعمت کو درک کرکے اسلام کی طرف مائل ہورہی ہے، مغرب میں خاندانی نظام تباہ و برباد ہوچکا ہے مرد کو عورت پر اعتماد نہیں اور عورت کو مرد پر اعتبار نہیں۔
آخر میں یہ کہنا بھی ضروری ہوگا کہ دین اسلام نے فقط عورت کو ہی حجاب کا پابند نہیں کیا بلکہ مرد کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ اپنی نظریں جھکا کر رہیں۔
آجکل یہ ہمارے لیئے بہت بڑا المیہ ہے جس پہ سنجیدگی کے ساتھ غوروفکر کی ضرورت ہے۔۔
منقول
03/11/2020
مولانا شفیع اوکاڑوی (رحمۃ الله علیہ)
اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
"مجھے وہاڑی کے ایک گاؤں سے بڑا محبت بھرا خط لکھا گیا
کہ مولانا صاحب ہمارے گاؤں میں آج تک سیرت مصطفے' پر کوہی بیان نہیں ہوا۔ ہمارا بہت دل کرتا ہے ، آپ ہمیں وقت عنایت فرما دیں ہم تیاری کر لیں گے۔"
میں نے محبت بھرے جزبات دیکھ کر خط لکھ
دیا کہ فلاں تاریخ کو میں حاضر ہو جاؤں گا۔
"دیے گئے وقت پر میں فقیر ٹرین پر سے اتر کر تانگہ پر بیٹھ کر گاؤں پہنچ گیا تو آگے میزبانوں نے مجھے ھدیہ پیش کر کے کہا مولانا صاحب آپ جا سکتے ہیں .... ہم بیان نہیں کروانا چاہتے۔"
وجہ پوچھی تو بتایا کہ
ہمارے گاؤں میں %90 قادیانی ہیں
وہ ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں
کہ
نہ تو تمہاری عزتیں
نہ مال
نہ گھربار محفوظ رہیں گے۔
اگر
محفل سیرة النبى (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) پر بیان کروایا تو۔
مولانا ہم کمزور ہیں
غریب ہیں
تعداد میں بھی کم ہیں
اس لیے ہم نہیں کرسکتے۔
"میں نے لفافہ واپس کر دیا اور کہا بات تمہاری ہوتی یا میری ہوتی تو واپس چلا جاتا۔
بات مدینے والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کی آگئی ہے۔
اب بیان ہوگا ضرور ہوگا۔
وہ گھبرا گئے کہ حضرت آپ تو چلے جائیں گے مسئلہ تو ہمارے لیے ہوگا۔
میں نے کہا،
"اس گاؤں کے آس پاس کوئی ڈنڈے والا ہے؟"
انہوں نے بتایا کہ گاؤں سے کچھ دُور نُورا ڈاکو رہتا ہے !
پُورا علاقہ اس سے ڈرتا ہے۔
میں نے کہا چلو مجھے لے چلو نُورے کے پاس ۔
جب ہم نورے کے ڈیرے پر پہنچے دیکھ کر نورا بولا اج خیر اے!
مولوی کیویں آگئے نے ؟
میں نے کہا کہ
"بات حضورﷺ کی عزت کی آگئی ھے تم بتاؤ کہ کچھ کرو گے؟"
میری بات سن کر نورا بجلی کی طرح کھڑا ہوا اور بولا،
"میں ڈاکو ضرور آں پر بےغيرت نئی آں۔"
وہ ہمیں لے کرچل نکلا
مسجد میں ، میں نے 3 گھنٹے بیان کیا اور نورا ڈٹ کر کھڑا رہا ۔
آخر میں نورے نے یہ کہا
کہ اگر کسی نےمسلمانوں کی طرف آنکھ اٹھا ....
کر بھی دیکھا تو نورے سے بچ نہیں سکے گا۔
میں واپس آگیا
کچھ ماہ بعد میرے گھر پر ایک آدمی آیا
سر پر عمامہ
چہرے پرداڑھی
زبان پر درود پاک کا ورد ۔۔۔!
میں نے پوچھا،
"کون ہو..؟ ".
وہ رو کر بولا،
"مولانا …
میں نورا ڈاکو آں۔
جب اس دن میں واپس گھر کو لوٹا جا کر سو گیا.
آنکھ لگی ہی تھی
پیارے مصطفٰی کریمﷺ میری خواب میں تشریف لائے میرا ماتھا چوما اور فرمایا:
"آج تو نے میری عزت پر پہرا دیا ہے،
میں اور میرا اللہ تم پر خوش ھے
اللہ نے تیرے پچھلے سب گناہ معاف
فرما دیئے ہیں."
مولانا صاحب اس کے بعد میری آنکھ کھلی تو سب کچھ بدل چکا تھا اب تو ہر وقت آنکھوں سے آنسو ہی خشک نہیں ہوتے مولانا صاحب میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں آپ کی وجہ سے تو میری زندگی ہی بدل گئی میری آخرت سنور گئی.