13/04/2023
بچوں کہ ساتھ شفقت و رحمت اسلام کا ہی شیوہ ہے
الحمد اللہ
A M S Islamic Research Centre
Surat No 31 : سورة لقمان - Ayat No 8
بیشک جن لوگوں نے ایمان قبول
13/04/2023
بچوں کہ ساتھ شفقت و رحمت اسلام کا ہی شیوہ ہے
الحمد اللہ
A M S Islamic Research Centre
13/04/2023
نفع مند علم اور پاکیزہ رزق
A M S Islamic Research Centre
13/04/2023
*اعتکاف بیٹھنے والوں کیلئے ضروری ہدایات*
1۔دعاؤں اور دیگر عبادات کے ذریعہ اللہ تعالٰی سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی نیت کریں۔
2۔خلوت اختیار کریں اور زیادہ میل جول سے اجتناب کریں۔
3۔اپنے اعتکاف کے متعلق سوشل میڈیا پر لوگوں کو اطلاع نہ دیں۔
4۔کھانے پینے میں اعتدال رکھیں تاکہ زیادہ توجہ عبادات پر قائم رہے۔
5۔قرآن کریم کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کریں اور کوشش کریں کہ اعتکاف کے عرصہ میں ایک بار مکمل قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ پڑھیں۔
6۔تمام راتیں مکمل بیداری میں گزاریں اور زیادہ سے زیادہ وقت نوافل،دعاؤں اور قرآن کریم کی تلاوت اور مطالعہ میں مصروف رہیں۔
7۔مسجد کے تقدس کا خیال کریں۔فضول گفتگو،شور شرابے اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب کریں۔
8۔اپنی نیند کی مناسب مقدار پوری کریں۔بہت زیادہ سونے سے بھی احتراز کریں اور اپنے جسم کا حق بھی ادا کریں۔
9۔سوشل میڈیا بالکل استعمال نہ کریں۔نیز کوشش کریں کہ اپنا موبائل فون زیادہ وقت بند رکھیں اور صرف اشد ضرورت کیلئے استعمال کریں۔
10۔اپنے اقوال و افعال،دعاؤں،تلاوت اور دیگر عبادات کو اس انداز میں ادا کریں کہ کسی اور کو تکلیف نہ پہنچے۔
11۔اعتکاف کے ان ایام میں روز مرہ کی مسنون دعائیں اور اذکار یاد کرنے کا اہتمام کریں مثلاً نماز کے بعد کی دعائیں،صبح و شام کے اذکار اور نماز جنازہ وغیرہ کی دعائیں۔
12۔حالت اعتکاف میں صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنا،نہانا،ناخن تراشنا،اچھا لباس پہننا،کنگی کرنا اور خوشبو استعمال کرنا بلا کراہت جائز امور ہیں لہذا ان امور میں کوئی حرج محسوس نہ کریں۔
A M S Islamic Research Centre
13/04/2023
ھزار مھینوں سے بھتر رات
A M S Islamic Research Centre
13/04/2023
مسلمانوں کی عورتیں کس طرف جا رہی ہیں؟
کل قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ سے کس منہ سے حوض کوثر سے پانی مانگیں گی؟ ام المومنین عائشہ اور سیدہ فاطمہ کا کس طرح سامنا کریں گی؟???
ایسی مہندی کے فیشن سے جو آپ کو اللہ کا نافرمان بنائے اس سے موت بہتر ہے
غیر محرم عورتوں کو چھونے ،ان سے مصافحہ کرنے اور ان کے ساتھ میل جول رکھنے کے بارے میں شریعت میں شدید ممانعت آئی ہے،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں کسی غیر محرم عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا، جب ہاتھ کو چھونا حرام ہے تو سر کو چھونا بالاولیٰ حرام ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔
’’ والله ما مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ في الْمُبَايَعَةِ وما بَايَعَهُنَّ إلا بِقَوْلِهِ ‘‘ (صحیح البخاری / کتاب الشروط )
اللہ کی قسم ، بیعت کرتے ہوئے (بھی)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ہاتھ مُبارک کبھی کسی عورت کے ہاتھ کے ساتھ چُھوا تک نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم عورتوں کی بیعت صرف اپنے کلام مُبارک کے ذریعے فرمایا کرتے تھے۔
یہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا عمل مبارک ✨
A M S Islamic Research Centre
#مھندی
#عیدرات
#فیشن
#لیڈیز
#خواتین
13/04/2023
فرضیت صدقہ الفطر
حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ صدقۃ الفطر کا ادا کرنا فرض ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ جامع صحیح میں فرماتے ہیں
((بَابُ فَرْضِ صَدَقَۃِ الْفِطْرِ وَ رَأَی أَبُوالْعَالِیَۃِ وَ عَطَائٌ وَّابْنُ سِیرِینَ صَدَقَۃَ الْفِطْرِ فَرِیضَۃً)) ’’صدقۃ الفطر کی فرضیت کا بیان، اور امام ابو العالیہ، عطاء اور ابن سیرین صدقۃ الفطر کو فرض سمجھتے ہیں ۔‘‘ پھر امام بخاری رحمہ اللہ اس باب کے تحت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی درج ذیل حدیث نقل کرتے ہیں :((فَرَضَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم زَکَاۃَ الْفِطْرِ صَاعًا مِّنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِّنْ شَعِیرٍ عَلَی الْعَبْدِ وَالْحُرِّ، وَالذَّکَرِ وَ الْأُنْثٰی وَالصَّغِیرِ وَالْکَبِیرِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ، وَ أَمَرَ بِہَا أَنْ تُؤَدَّی قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَی الصَّلاۃِ))’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد، غلام، مرد، عورت اور چھوٹے بڑے مسلمان پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو بطور صدقۃ الفطر ادا کرنا فرض کیا ہے اور اسے لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے قبل ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘
اس حدیث میں ایک تو صدقۃ الفطر کو زکاۃ الفطر سے تعبیر کیا گیا ہے، دوسرے اس کے لیے فَرَضَ کا لفظ استعمال کیا اور یہ دونوں چیزیں اس کی فرضیت پر دلالت کرتی ہیں ۔
احناف کے نزدیک یہ صدقہ صرف ان لوگوں پر واجب ہے جو صاحب نصاب ہوں لیکن حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس صدقے کی ادائیگی ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، چاہے امیر ہو یا غریب، کیونکہ ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۃ الفطر کو روزوں کی تطہیر کا باعث بتلایا ہے اور روزوں کی تطہیر امیر اور غریب دونوں کے لیے ضروری ہے۔دوسرے، آپ نے جن الفاظ میں اس کی ادائیگی کا حکم دیا ہے، ان میں کوئی ایسی چیز نہیں جن سے امیر و غریب کے درمیان اس مسئلے میں فرق کا کوئی پہلو نکلتا ہو، اس لیے غرباء کو بھی صدقۂ فطر ادا کرنا چاہیے۔ تاہم کوئی بالکل ہی غریب ہو اور کسی ایسی جگہ رہائش پذیر ہو کہ جہاں اسے دیگر مسلمانوں کی طرف سے تعاون نہ ملے تو اس کے لیے گنجائش نکل سکتی ہے۔ واللہ اعلم۔
A M S Islamic Research Centre