Quran Academy Online

Quran Academy Online

Share

Start your Quran learning Journey with our professional Quran tutors. Online Quran Tutor

14/07/2023

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard!

Muhamaad Rsmzan Muhamaad Ramzan, Saroj Khan, Abid Ullah, Md Nishar, Shabbir Ahmad Shabbir Ahmad

25/03/2022

حضرت سیدنا حکیم لقمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے کو یہ نصیحت فرمائی: ’’بیٹا! توبہ میں تاخیر نہ کرنا کیونکہ موت اچانک آتی ہے

25/03/2022

فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے: ’’گناہ کے بعد نیکی کرلو یہ اسے مٹادے گی۔‘‘

25/03/2022

) توبہ کرنے والے کورحمت الٰہی سے جو دُنیوی واُخروی فوائد ملنے کی امید ہے اُن کو پیش نظر رکھیے۔ مثلاً: ٭گناہ سے توبہ کرنے والے کا ایسا ہونا جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں٭ربعَزَّوَجَل کا پسند یدہ بندہ ہونا٭رحمت الٰہی کا متوجہ ہونا٭اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا وخوشنودی حاصل ہونا٭شیطان کو ناراض کرنا ٭ رحمت الٰہی سے ایمان پر خاتمہ ہونا ٭کل بروزِ قیامت سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت نصیب ہونا ٭حوضِ کوثر سے جام پینا ٭بروزِ قیامت حساب وکتاب میں آسانی ہونا ٭ رحمت الٰہی سے جنت میں داخلہ نصیب ہونا۔

25/03/2022

3)خود کو عذابِ جہنم سے ڈرائیے: خدانخواستہ بغیر توبہ کے انتقال ہوگیا اور ربّ تَعَالٰی ناراض ہوگیا تو جہنم کا سخت عذاب میرا مقدر ہوگا، جہنم کا عذاب سہنے کی کس میں طاقت ہے، جہنم کا سب سے ہلکا عذاب یہ ہوگا کہ جہنمی کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی اور سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا شخص یہ تصور کرے گا کہ شاید جہنم میں سب سے زیادہ اور شدید عذاب مجھے ہی ہورہا ہے۔امید ہے کہ بندہ جب خود کو جہنم کے عذاب سے ڈرائے گا تو اس کا گناہوں سے توبہ کرنے کا مدنی ذہن بنے گا۔

25/03/2022

(2)اَچانک آنے والی موت کو یاد رکھیے:کئی ہنستے بولتے انسان اچانک موت کا شکار ہوکر اندھیری قبر میں پہنچ جاتے ہیں، انہیں توبہ کا موقع ہی نہیں ملتا، جب بندہ اچانک آنے والی موت کو یاد رکھے گا تو امید ہے اسے توبہ کا مدنی ذہن نصیب ہوگا۔ اسی لیے حکمت ودانائی کے پیکر حضرت سیدنا حکیم لقمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے کو یہ نصیحت فرمائی: ’’بیٹا! توبہ میں تاخیر نہ کرنا کیونکہ موت اچانک آتی ہے۔‘‘[9

25/03/2022

گناہوں سے توبہ کرنے کا طریقہ:

اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ’’سچی توبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے وہ نفیس شے بنائی ہے کہ ہر گناہ کے ازالے کو کافی ووافی ہے، کوئی گناہ ایسا نہیں کہ سچی توبہ کے بعد باقی رہے یہاں تک کہ شرک وکفر۔ سچی توبہ کے یہ معنی ہیں کہ گناہ پراس لیے کہ وہ اس کے ربّ عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی تھی، نادِم وپریشان ہو کر‏فوراً چھوڑ دے اور آئندہ کبھی اس گُناہ کے پاس نہ جانے کا سچے دِل سے پُورا عزم کرے، جو چارۂ کار اس کی تلافی کا اپنے ہاتھ میں ہوبجا لائے۔مثلاً نماز روزے کے ترک یا غصب (ناجائز قبضہ)، سرقہ(چوری)، رشوت، ربا(سود)سے توبہ کی تو صرف آئندہ کے لیے ان جرائم کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضرور ہے جو نماز روزے ناغہ کیے ان کی قضا کرے، جو مال جس جس سے چھینا، چرایا، رشوت، سود میں لیا انہیں اور وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو واپس کردے یا معاف کرائے، پتا نہ چلے تو اتنا مال تصدق (یعنی صدقہ)کردے اور دل میں یہ نیت رکھے کہ وہ لوگ جب ملے اگر تصدق پر راضی نہ ہوئے اپنے پاس سے انہیں پھیر دوں گا۔‘‘[5](نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ ۱۰۷)

توبہ میں تاخیر کی سات (7)وجوہات اور ان کا حل:

(1)گناہوں کے انجام سے غافل رہنا:اس کا حل یہ ہے کہ بندہ اپنا یوں ذہن بنائے کہ محض ایک ڈاکٹر کی بات پر اعتبار کرکے آئندہ نقصان سے بچنے کے لئے کئی اشیاء کو ان کی تمام تر لذت کے باوجود چھوڑ دیتا ہوں تو کیا یہ نادانی نہیں ہے کہ میں نے ایک بندے کے ڈرانے پر اپنی لذتوں کو چھوڑ دیا لیکن تمام کائنات کے خالق عَزَّوَجَلکے وعدۂ عذاب کو سچا جانتے ہوئے اپنے نفس کی ناجائز خواہشات کو ترک نہیں کرتا ۔

(2) دل پر گناہوں کی لذت کا غلبہ ہونا: اس کا حل یہ ہے کہ بندہ اس طرح سوچ وبچار کرے کہ جب میں زندگی کے مختصر ایام میں ان لذتوں کو نہیں چھوڑ سکتا تو مرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لذتوں(یعنی جنت کی نعمتوں)سے محرومی کیسے گوارہ کروں گا؟جب میں صبر کی آزمائش برداشت نہیں کرسکتا تو نارِ جہنم کی تکلیف کس طرح برداشت کروں گا ؟

(3) طویل عرصہ زندہ رہنے کی امید ہونا:اس کا حل یہ ہے کہ بندہ اس طرح غور کرے کہ جب موت کا آنا یقینی ہے اور مجھے اپنی موت کے آنے کا وقت بھی معلوم نہیں تو توبہ جیسی سعادت کو کل پر مو قوف کرنا نادانی نہیں تو اور کیا ہے ؟جس گناہ کو چھوڑنے پر آج میرا نفس تیار نہیں ہورہا کل اس کی عادت پختہ ہوجانے پر میں اس سے اپنادامن کس طرح بچاؤں گا؟اوراس بات کی بھی کیا ضمانت ہے کہ میں بڑھاپے میں پہنچ پاؤں گا یا نوکری سے ریٹائر ہونے تک میں زندہ رہوں گا ؟

(4)رحمت الٰہی کے بارے میں دھوکے کا شکار ہونا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ بڑا غفوررحیم ہے، ہمیں اللہکی رحمت پر بھروسہ ہے وہ ہمیں عذاب نہیں دے گا۔اس کا حل یہ ہے کہ بندہ اس بات پر غور کرے کہ اللہ تَعَالٰی کے رحیم وکریم ہونے میں کسی مسلمان کو شک وشبہ نہیں ہوسکتا لیکن جس طرح یہ دونوں اس کی صفات ہیں اسی طرح قہار اور جبار ہونا بھی ربّ عَزَّوَجَلَّکی صفات ہیں اور یہ بات بھی قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ کچھ نہ کچھ مسلمان جہنم میں بھی جائیں گے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ مسلمان تو غضب ِ الٰہی 1کا شکار ہوں اور جہنم میں جائیں لیکن مجھ پر رحمت الٰہی کی چھماچھم برسات ہو اور مجھے داخل جنت کیا جائے؟[6]

(5) بعد توبہ استقامت نہ ملنے کا خوف ہونا:اس کا حل یہ ہے کہ یہ سراسر شیطانی وسوسہ ہے کیونکہ آپ کو کیا معلوم کہ توبہ کرنے کے بعد آپ زندہ رہیں گے یا نہیں ؟ ہوسکتا ہے کہ توبہ کرتے ہی موت آجائے اور گناہ کرنے کا موقع ہی نہ ملے۔ وقت توبہ آئندہ کے لئے گناہوں سے بچنے کا پختہ ارادہ ہونا ضروری ہے ، گناہوں سے بچنے پر استقامت دینے والی ذات تو ربّ العالمین کی ہے ۔اگر ارتکاب ِگناہ سے محفوظ رہنا نہ بھی نصیب ہوا تو بھی کم از کم گذشتہ گناہوں سے تو جان چھوٹ جائے گی اور سابقہ گناہوں کا معاف ہوجانا معمولی بات نہیں ۔اگر بعد توبہ گناہ ہو بھی جائے تو دوبارہ پُرخلوص توبہ کرلینی چاہيے کہ ہوسکتا ہے یہی آخری توبہ ہو اور اسی پر دنیا سے جانا نصیب ہو۔

(6)کثرتِ گناہ کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوجانا:اس کا حل یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہے، رحمت خداوندی کس طرح اپنے امیدوارکو آغوش میں لیتی ہے ،اس کا اندازہ اس روایت سے لگایا جاسکتا ہےکہ مکی مدنی سرکار، جناب احمد مختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’حق تَعَالٰی اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ مہربان ہے، جتنا کہ ایک ماں اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے۔‘‘[7]

(7)توبہ کرنے میں شرم وجھجک محسوس کرنا: توبہ کرنے کے بعد جب میرا اندازِ زندگی تبدیل ہوگا مثلاً پہلے میں نمازیں قضا کردیا کرتا تھا مگر بعد ِ توبہ پانچ وقت مسجد کا رُخ کرتے دکھائی دوں گا ، پہلے میں شیوڈ تھا بعد ِ توبہ میرے چہرے پر سنت مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیعنی داڑھی شریف سجی ہوئی نظر آئے گی تو لوگ مجھے عجیب نگاہوں سے دیکھیں گے اور مجھے شرم محسوس ہوگی۔ یاد رکھیے! یہ بھی شیطانی وسوسہ ہے، ذرا سوچئے تو سہی کہ آج ان لوگوں کی پرواہ کرتے ہوئے اگر آپ نیکی کے راستے پر چلنے سے کتراتے رہے اور سنتوں سے منہ موڑتے رہے لیکن کل جب قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اپنا نامۂ اعمال پڑھ کر سنانا پڑے گااور اگر اس میں گناہ ہی گناہ ہوئے تو کس قدر شرم آئے گی ۔ لہٰذا آخرت میں شرمندہ ہونے سے بچنے کے لئے دنیاکی عارضی شرم وجھجھک کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فوراً توبہ کی سعادت حاصل کرلینی چاہيے ۔(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ ۱۰۹تا۱۱۲)

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Islamabad