🌹🌹– *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* –🌹🌹
*تفسیر اسرارالتنزیل (جلد1) (قسط 5)*
*سُورَة البقرة (پارہ 1) آیات 5 تا 7*
*مفسر، حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان*
*🌹 رحمة الله علیہ 🌹*
____________________________________
🌹 *بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ*🌹
*اُولٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنۡ رَّبِّھِمۡ وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَیۡھِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَھُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡھُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ۞ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰی سَمۡعِهِمۡ ؕ وَعَلٰۤی اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ۞*
*اسرار و معارف*
یہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے بتائے ہوئے راستے پر گامزن ہیں جو اُس نے اپنی شانِ ربوبیت سے بتایا ہے کہ اُس کی شانِ ربوبیت کا تقاضا تھا جس طرح بدن کی ضرورتوں کا احساس اور تکمیل کے طریقے ہر ذی روح کو فرمائے اسی طرح روحِ انسانی کی زندگی اور آرام کے لئے بھی طریق ارشاد فرما دیئے جن لوگوں نے اُسے اختیار فرمایا وہی لوگ ہیں جو حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔
دُنیا کا ہر انسان ہر کام میں فلاح اور کامیابی کے لئے کوشاں ہے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ کامیاب ہو مگر لوگوں نے کامیابی و ناکامی کے معیار اپنی طرف سے مقرر کر رکھے ہیں۔ جو کسی طور دُرست قرار نہیں دیئے جا سکتے حقیقی معیار وہ ہے جو اس کائنات کے خالق نے ارشاد فرمایا ہے اور جس کی تعلیم حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر ہر دور میں انسانی معاشرے کی راہنمائی کرتی رہی اور بالآخر حضور نبی کریم ﷺ پر یہ سلسلہ تمام ہوا۔ اگر آپ کی بعثت کے بعد بھی کسی کو ایمان نصیب نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ قبولِ ایمان کی استعداد ہی نہیں رکھتا اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے ضائع کر چکا ہے۔
*اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ*
یعنی جو لوگ آپ ﷺ کی تعلیمات خود آپ ﷺ کی زُبانِ حق ترجمان سے سُن کر پھر ایمان نہیں لاتے تو وہ ایمان لا ہی نہیں سکتے کہ نہ اس سے بڑھ کر کوئی نبی ہے اور نہ کلام اس بات کو جاننے کے لئے یوں غور کریں کہ انسان صرف جسم کا نام نہیں اور نہ اکیلے روح کا بلکہ جسم و جان مل کر انسان کہلاتے ہیں۔ جسم کی ضروریات ہیں، یہ بیشمار چیزوں کا محتاج ہے، جن میں لباس اور غذا سب سے زیادہ ضروری اور اس کی بقاء و تعمیر کا سبب ہیں۔ لیکن اس سے زیادہ اس کی صحت و علاج معالجہ ہیں اگر صحت دُرست نہ ہو تو نہ غذاء کام کرتی ہے اور نہ لباس خوشی دیتا ہے۔ یہاں دو چیزیں ہیں کہ غذا ہر جگہ سے اور ہر کسی سے فراہم ہو سکتی ہے مگر دوا اس طرح نہیں یہ دینے والے لوگ مخصوص ہوتے ہیں جو ہمارے جسم کو ہم سے زیادہ سمجھتے ہیں اس کی بیماری کو ، اس کے سبب کو اور علاج کو جانتے ہیں ہم ہمیشہ ان سے رجوع کرتے ہیں۔ جسم مادی ہے اور اس کی غذا بھی مادی ہے ، دوا بھی مادہ سے آتی ہے پھر اس کا معالج ہر وہ شخص بن جاتا ہے جو اس فن کو حاصل کرے خواہ نیک ہو یا بد ، مومن ہو یا کافر ، مرد ہو یا عورت ، بات فن کو حاصل کرنے کی ہے ..
*روح امر باری ہے اور بہت لطیف شے ہے حتٰی کہ* فرشتے سے بھی لطیف تر ، ضروریات اس کی بھی اتنی اور اسی طرح کی ہیں ، جیسی بدن کی ، مگر یہ مادی نہیں بلکہ لطیف ہے پھر اس کا معالج ہر کوئی نہیں بن سکتا۔ یہ ایسا قیمتی فن ہے جس کے لئے افراد ازل سے چنے گئے بلکہ تخلیق ہی خصوصی طور پر کئے گئے کوئی کتنی بھی محنت کرے اس کمال کو نہیں پا سکتا۔ اصطلاح شریعت میں ان کو *نبی* کہا گیا ہے پھر یہ حضرات بھی اپنی طرف سے کچھ تجویز نہیں کرتے بلکہ اس کی غذا اس کی دوا خود اللّٰہ مہیا کرتا ہے۔
*نبی میں وہ قوت ہوتی ہے* کہ براہِ راست خطاب باری سے مستفیض ہوتا ہے اور دوسری مخلوق اس کی وساطت سے یہ اتنا اہم کام ہے کہ ہر کوئی نبی نہیں بن سکتا۔ بلکہ اللّٰہ نے جن کو بنایا انہی کو بنایا۔ پھر انہوں نے مخلوق تک یہ بات پہنچائی کہ جیسے گندم بدن کی بنیادی غذا ہے اللّٰہ کا ذکر روح کی بنیادی غذا ہے جیسے کھانا کھانے کے اوقات اور طریقے ہیں جس طرح جسمانی صحت کے لئے دوا ہے اسی طرح ذکر و عبادت کے اوقات اور اس کے طریقے ہیں اور روح کی دوا توبہ استغفار ہے جس طرح بعض چیزوں سے پرہیز جسمانی صحت کے لئے ضروری ہے اسی طرح بعض افعال سے پرہیز روحانی صحت کی ضرورت ہے۔ یہ سب چیزیں اسی طرح ضروری ہیں جیسے ہم جسمانی ضروریات کو اہم جانتے ہیں۔ پھر بھی جلیل القدر انبیاء (علیہم السلام) دُنیا میں تشریف لائے اور سب سے آخر میں وہ ہستی آئی جو سب کی سردار اور ساری کائنات کے لئے اللہ کی رحمت ہے۔ جیسے کوئی کہے کہ رات ہے اور مجھے دکھائی نہیں دیتا تو چراغ روشن کریں گے اگر پھر بھی کچھ نہیں دکھتا تو بجلی وغیرہ کی روشنی کریں گے پھر بھی کچھ نظر نہ آیا تو سورج کے طلوع ہونے کا انتظار ۔ اگر سورج طلوع ہونے کے بعد بھی اسے کچھ نظر نہ آئے تو پھر اس کی قوت بینائی ضائع ہو گئی اور وہ اندھا ہو گیا بالکل اسی طرح بعثتِ رسول ﷺ کے بعد بھی جو کافر رہا وہ لا علاج ہوا۔ غور کریں کہ جسمانی حسن حضور ﷺ کا کائنات میں بےمثل ، باتوں میں وہ شیرینی جو صرف آپ ﷺ کا خاصہ ہے اور بات اللّ تعالیٰ کی اور زبان رسول اللّٰہ ﷺ کی ، خطابت کا لطف الفاظ کی بندش ، زبان کی شیرینی اور لب و رخسار کا حسن بھی جو یہاں ہے وہ کہیں نہیں اور تقدس بھی بےمثال ۔ اب یہ بات بھی جس کے دل میں نہ اُترے شاید اس کے پاس دل ہی نہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ ہدایت کا منبع اور نور کا مینار تو آپ ﷺ کی ذات با برکات ہے جو آپ سے بھی مستفیض نہ ہوا وہ کہاں ہو سکے گا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔
*خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰی سَمۡعِهِمۡ ؕ وَعَلٰۤی اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ*
ان کے دلوں پر اللّٰہ نے مہر کر دی ہے کانوں پر بھی اور ساتھ ہی آنکھوں پر بھی پردہ ڈال دیا ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے ۔۔
ہم دل کو ایک پمپنگ مشین سمجھتے تھے مگر یہ تو بڑی شے نکلا۔ ذرا سوچیں تو دماغ کیا ہے ؟ رگوں کا ایک مجموعہ ۔ مگر اس میں کیا کچھ خزانے دفن ہیں اور کس قدر علوم کو سیکھنے کی قوت ہے کس قدر یاداشتیں اور کتنی وسعت ہے اپنے سارے کمال کے باوجود خطابِ الٰہی کا سزاوار نہ ٹھہرا مگر یہ نعمت دل کے حصے میں آئی۔۔ فرمایا ، *نزل بہ الروح الامین علی قلبک* یعنی کلام الٰہی کا نُزول قلب پر ہوا گویا قلب کی استعداد اس سے کروڑوں گنا زیادہ نکلی۔ اس کی وسعت ناپیدا کنار اور عظمت ناپ کے پیمانوں سے بالا تر نکلی۔ نہ صرف لوتھڑا اور نہ صرف مشین ہے بلکہ ایک وسیع کائنات ہے، ایک مکمل جہان ہے۔
انبیاء کرام علیہم السلام کے قلوب فیضانِ باری کو قبول کرتے اور تقسیم کرتے ہیں اور مومنین کے قلوب ان سے انوار کو اخذ کرتے ہیں۔ مگر کُفر ایسی بلا ہے جو قلوب سے یہ استعداد چھین لیتی ہے جیسے خود کشی کرنے والا جب اپنے آپ کو گولی مارتا ہے تو موت تو اُسے اللّٰہ ہی دیتا ہے مگر اس کا سبب وہ خود بنا۔ اسی طرح ایک غلط کار انسان کی مسلسل غلط کاری دل کی موت کا سبب بن جاتی ہے اور اللّٰہ اس کے دل پر مُہر کر دیتا ہے جس کا سبب اس کا اپنا کردار ہوتا ہے۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پیدا ہو جاتا ہے اگر توبہ کرے تو خیر ورنہ ہر گناہ سے سیاہی بڑھتی رہتی ہے جو آخر کار سارے دل کو سیاہ کر دیتی ہے اسی کو دل کا اندھا پن اور دل کی موت کہا گیا ہے اگر انسان جسمانی زندگی سے زندہ بھی رہا تو کیا ہوا ؟ بیشمار جانور یہ زندگی گزار رہے ہیں اس کی اصل فضیلت تو اس کی روحانی زندگی تھی جسے اس کی نادانی نے کھو دیا۔ یہاں ایک لطیفہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ خالق اور مخلوقِ خدا کے درمیان یہ تعلق ایسا لطیف تر ہے جو ان کا ذاتی ہے اور بجز ذاتِ باری کوئی نہیں جانتا۔ حتٰی کہ نبی کریم ﷺ کو بھی تب اطلاع ہوئی جب اللّٰہ نے بتایا کہ ان افراد یا اس قسم کے افراد کے ساتھ میرا تعلق اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ اب ان کو توبہ نصیب نہ ہو گی تو یہ تعلق چونکہ ہر انسان کا علیحدہ ہے اس لئے ہر آدمی پر نزولِ رحمت بھی الگ طرح سے ہوتا ہے۔
*اجتماعی ذکر کی حکمت:*
یہی وجہ ہے کہ مشائخ اجتماعی ذکر کی تلقین فرماتے ہیں کہ ایک شخص پر ایک رنگ کی رحمت ہو گی تو دوسرے پر دوسری طرح کے انوار ، لہٰذا کافی لوگ ہوئے تو انوار بھی رنگارنگ ہوں گے گویا ایک گلدستہ بن رہا ہے اور یہ راز صلوٰۃ باجماعت میں بھی ہے۔ یہ سب انعامات دل کی دُنیا میں ہیں جنہوں نے یہ دولت ہی ضائع کر دی یا اس طرف متوجہ ہی نہ ہوئے ان کو اس وقت خبر ہو گی جب مادی جہان اور اس کی نعمتیں نہ رہیں گی اور صرف وہ انعامات باقی ہوں گے جن کا مدار دل کی زندگی ، روح کی زندگی اور اس کی استعداد پر ہے۔ دماغ اور زبان کا اقرار عنداللہ اس وقت تک معتبر نہیں جب تک تصدیقِ قلبی ساتھ نہ ہو تو گویا جس طرح جسم مادی دُنیا میں پیدا ہوتا ہے۔ پیغامِ الٰہی کی تصدیق کر کے دل بھی زندگی کے میدان میں وارد ہوا۔ مگر اس کے بعد لوگ صرف جسم کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور یہ نومولود قلب سِسکتا بِلکتا رہ جاتا ہے اور بالآخر چند ہچکیاں لے کر موت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ لوگ مسلمان گھرانوں میں جنم لینے کے بعد کس کس طرح کُفر کی دلدل میں پھنس رہے ہیں۔ اعضاءِ ظاہری کی سلامتی کے ساتھ بےچارے دل اور اس کے سمع بصر کو کھو بیٹھے۔ *اعاذنا اللہ منھا ۔۔۔۔۔۔*
*=============== (ان شآءاللہ جاری ہے)*
*انتخاب : طالبٍ دُعا : ارشد امین گوندل*
IQRA Qur'anic Academy
IQRA Qur'anic Academy
Asalam o alikum,
Iqra Qur'anic Academy offering online classes all our the world. Jaza kallah . For more Details.
https://wa.me/923315045745
Skype: https://join.skype.com/invite/wEk7sDzbsbhK
🌹🌹– *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* –🌹🌹
*تفسیر اسرارالتنزیل (جلد1) (قسط 4)*
*سُورَة البقرة (پارہ 1) آیات 3 تا 4*
*مفسر، حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان*
*🌹 رحمة الله علیہ 🌹*
____________________________________
🌹 *بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ*🌹
*اَلَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَیُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰھُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۞ وَالَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَااُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَمَاۤاُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ وَبِالۡاٰخِرَۃِ ھُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ۞*
*اسرار و معارف*
*الذین یومنون بالغیب* ، سب سے پہلی بات ایمان بالغیب ہے کہ ایسے لوگ ان تمام باتوں پر جو حواسِ انسان کی رسائی سے باہر ہیں۔ رسول پاک ﷺ کے بتانے سے ایمان لاتے اور تصدیق کرتے ہیں سب سے بڑا غیب خود ذاتِ باری ہے جس کی قدرت اس کی تخلیق سے تو ہویدا ہے مگر جو نہ نظر آتا ہے نہ جس کی کوئی مثال بیان کی جا سکتی ہے پھر تمام حقائق اخرویہ دوزخ و جنت ، عذاب و ثواب ، قبر ، سوال و جواب قبر ، حشر و نشر ، فرشتے ، لوحِ محفوظ ، غرض ہر وہ شے جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی ہے مگر حواسِ انسانی مادی کے ادراک سے بالاتر ہے اُسے صدق دل سے مانتے ہیں اور یہ ماننا صرف اعتماد علی الرسول ﷺ پر منحصر ہے ورنہ کوئی حیلہ عقلی وہاں تک رسائی نہیں رکھتا۔
آج کے دور میں چونکہ اس اعتماد میں بہت کمی آ گئی ہے ایک طویل دور درمیان میں حائل ہے اور بقول
"دخل الزمان بیننا وفرق بیننا ان الزمان ھفرق الاحباب۔"
(زمانہ ہمارے درمیان آیا اور ہمیں جدا کر دیا بیشک زمانہ دوستوں کو جدا کرنے والا ہے۔) اس درازی مدت اور نئی روشنی کے اندھیروں نے آج کے مسلمان سے وہ درجہ چھین لیا ہے جو قرب نبوی سے دل میں پیدا ہوتا ہے اور بغیر کسی عقلی دلیل کے سب سے بڑی دلیل یہ اعتبار کراتا ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ کا فرما دینا سب سے بڑا ثبوت ہے اور بس اس ساری حقیقت پر ایمان انسان کو مجبور کر دیتا ہے کہ عملی زندگی کو اس روش پر ڈھالے جو قربِ الٰہی کا سبب ہو۔ جس کا سب سے پہلا زینہ صلوٰۃ ہے۔
*ویقیمون الصلوٰۃ* ، یعنی صلوٰۃ کو قائم کرتے ہیں۔ اقامتِ صلوٰۃ صرف نماز پڑھنا ہی نہیں بلکہ صلوٰۃ کا ایک خاص اہتمام کرنا ہے وقتِ جماعت مسجد میں حاضری کا احساس ایک فکر جو ارکانِ وضو سے لےکر ارکانِ صلوٰۃ تک کار فرما ہو اور پھر نہ صرف صلوٰۃ ادا کرتا ہو بلکہ حقیقتاً تو اقامتِ صلوٰۃ یہ ہے کہ جہاں جہاں سے گزرتا جائے وہاں کے لوگوں کو بھی صلوٰۃ کا عادی بناتا جائے تب لطف ہے نماز قائم کرنے کا۔ مگر یہ ماوشما کا مقام نہیں تو کم از کم وقت پر اور دُرست طریقے سے صلوٰۃ ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔
*ومما رزقنھم ینفقون* ، ایمان باللہ اور حضورِ باری کے اس اثر کو دیکھو کہ جن چیزوں پر کافر جان دیتے ہیں وہ ان چیزوں کو اللّٰہ کے حکم پر نثار کرتا ہے۔ اگرچہ انفاق کا ترجمہ ادائے زکوٰۃ اور صدقات کیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تو فرائض و واجبات کی ہی بات نہیں بلکہ عملی زندگی کے معاشی پہلو پہ بات ہو رہی ہے۔
یہ صرف معاشیات ہی ہیں جو انسانی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں جو چوری چکاری ، سود و رشوت کا سبب ہیں جن کی اصلاح تمام مکاتبِ فکر کے ماہرین چاہتے ہیں بلکہ یہ ایک تمدن کا حصہ ہے اور قرآنِ کریم نے اس کی اصلاح کا جو طریقہ اختیار فرمایا ہے وہ ان سب سے الگ ہے یعنی وہ خرچ اللہ کے حکم کے مطابق کرتے ہیں ظاہر ہے جس شخص کو اللہ کے قانون کے مطابق خرچ کرنا ہو گا اسے غلط راستے سے کمانے کی کیا ضرورت ہے پھر یہاں تو بات سیدھی سی ہے کہ
*مما رزقنھم* ، یعنی اس رزق میں سے جو ہم انہیں دیتے ہیں کہ جب دینے والا اللّٰہ ہے تو حصولِ زر کے لئے ناجائز ذرائع کی کیا ضرورت ؟ ظاہر ہے کہ صرف انسانی نقطۂِ نظر کا فرق ہے ورنہ جب رزق اللّٰہ کی طرف سے ہے تو یقینًا وہی ملے گا جو مقرر ہے چاہے چوری کرے ، چاہے تو مزدور کرے اور پھر انسان کو تمام چیزیں اللّٰہ کی طرف سے بطور رزق ہی ملی ہیں جسم و جان ، عقل و خرد ، قوت و طاقت علم و ہنر ہر کمال اللّٰہ کی طرف سے ہے اور اس کا مصرف اللّٰہ کی راہ میں اور اللّٰہ کی رضا کے لئے ہے یہ صرف حکایت نہیں بلکہ تاریخِ عالم اس مقدس معاشرے کی گواہ ہے جو اس طرز پر تعمیر ہو اور جس کے آثار بھی باقی ہیں اور جو
ان شاء اللہ تا قیامت رہیں گے۔
*تصوف چھپا کر رکھنے کی چیز نہیں:*
اس میں تصوف کے لئے بھی ارشاد ملتا ہے کہ جس قدر بھی چیزیں اللّٰہ کی طرف سے عطا ہوئی ہیں ان سب میں تصوف قیمتی دولت ہے اسے چھپا کر نہ رکھے بلکہ اللّٰہ کی مخلوق تک پہنچائے۔
ایک مسلمان جس طرح حصول رزق کے لئے حلال و حرام کا مکلف ہے اسی طرح خرچ کرنے کے معاملے میں بھی اس کی کوئی پائی مرضیاتِ باری کے خلاف خرچ نہ ہو ۔ اور یہی وہ سنہری اصول ہے جسے سوائے اسلام کے کسی نے بیان نہیں کیا ، حالانکہ یہ سب سے مؤثر ہے کہ جب اخراجات محدود و مقرر ہوں گے تو بےحد آمدنی کی خواہش بھی نہ اُبھرے گی اور یہ سب اس وقت ہو گا جب انسان کلی طور پر اطاعتِ رسول ﷺ اختیار کرے۔
*والذین یومنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک* ، جو آپ ﷺ پر نازل ہوا اس سب کو صدق دل سے مانیں اور جو کلام الٰہی آپ ﷺ سے قبل تمام انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہوا اس سب کو اللّٰہ کا کلام مانتا ہو اگرچہ عمل صرف اس آخری کلام پر ہو گا ، مگر ایمان تمام ارشاداتِ باری پر ضروری ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اللّٰہ کا کلام اس قدر عظیم المرتبت ہے کہ جب کبھی اور جہاں کہیں کوئی بات اللّٰہ کی طرف سے نازل ہوئی اس کا منکر کافر ہو گا ، خواہ وہ بات بھی اس تک نہ پہنچی ہو ، جیسے کوئی کہہ دے کہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر نازل ہونے والے صحائف کو نہیں مانتا اگرچہ اسے علم ہی نہ ہو کہ ان میں کیا بات ارشاد ہوئی تھی ، وہ مومن نہ رہے گا۔
*ختم نبوت کی دلیل:*
اگر حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی نئی نبوت یا نُزولِ کلام کا امکان ہوتا تو پہلے نازل ہونے والے کلام کی نسبت اس کے بارے بہت کچھ ارشاد ہوتا کہ لوگوں کو وہ حالات پیش آنے والے تھے اور اُن کا مُنکر بھی کُفر کی زد سے بچ نہ سکتا تھا۔ مگر یہاں صرف *من قبلک* پر اکتفا اس بات پر بہت بڑی دلیل ہے کہ
حضورِ اکرم ﷺ پر نبوت اور نزولِ کلام تمام ہوئے اگر عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائیں گے تو مومن ان پر پہلے سے ایمان رکھتے ہیں مگر کوئی نیا نبی اور نیا کلام آنے کا کوئی امکان نہیں جن لوگوں نے ایسے دعوے کیئے ہیں انہوں نے محض ہوا میں قلعے بنانے کی ناکام کوشش کی ہے خود گمراہ ہو کر دوسروں کی گمراہی کا باعث بنے ہیں۔
*وبالاخرۃ ھم یوقنون* ، اور آخرت کے ساتھ پختہ یقین رکھتے ہیں اگرچہ آخرت بھی ایمان بالغیب ہی کا ایک رُکن ہے مگر ایسا عظیم رُکن ہے کہ جس پر ساری انسانی زندگی کی تعمیر کی بنیاد ہے۔ اس پر بہت پختہ یقین کی ضرورت ہے ایک ایسا یقین جو قدم کو اُٹھنے سے پہلے تھام لے اور یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ اس کا اخروی نتیجہ کیا ہو گا ؟ اب اُسے اس کیا ہو گیا ؟ کا جواب بھی اور پھر کیا کروں کا جواب بھی محمد رسول اللہ ﷺ سے مل سکے گا اور اس کی زندگی سُنت کے مطابق ڈھلتی چلی جائے گی۔ یہاں *یومنون* کی جگہ *یوقنون* اسی بات کو واضح کر رہا ہے اور دورِ حاضر کی بد اعمالی کا بنیادی سبب اسی یقین کی کمی ہے ، یقینِ کامل نام ہے دل کی تصدیق کا ، دل کے مان جانے اور دل کے اعتبار کرنے کا۔ لہٰذا جن لوگوں کو اوصاف بالا نصیب ہیں۔۔۔۔۔۔
*=============== (ان شآءاللہ جاری ہے)*
*انتخاب : طالبٍ دُعا : ارشد امین گوندل*
IQRA Qur'anic Academy
🌹🌹– *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* –🌹🌹
*تفسیر اسرارالتنزیل (جلد1) (قسط 3)*
*سُورَة البقرة (پارہ 1) آیات 1 تا 2*
*مفسر، حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان*
*🌹 رحمة الله علیہ 🌹*
____________________________________
🌹 *بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ*🌹
*الٓـمّٓ ۞ ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚ ۖ ۛ فِیۡه ِۚ ۛ هُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۞*
*اسرار و معارف*
*الم* حروف مقطعات ہیں جو اکثر مذکور ہوئے ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے اور معانی میں الجھنا غیر ضروری۔
*انھا سرابین اللہ ورسولہ*۔ یہ اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان راز ہیں مومن کو معنی جانے بغیر بھی ان کا فائدہ مل جاتا ہے ۔
یہ ایسی کتاب ہے جس میں ادنیٰ درجے کے شبہ کی بھی گنجائش نہیں یعنی ، اس کتاب سے جو جواب دُعاء ہے استفادہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اے مخاطب ! تو اس کے کسی مضمون یا کسی خبر کو جو گذشتہ یا آئندہ کے بارے ہو یا کسی بھی بیان میں ادنیٰ سا شبہ بھی نہ رکھے کہ واقعتًا کسی شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اکثر کتابیں جو ایسے مضامین پر مشتمل ہوں اور ماوراء الطبیعاتی یا ایسے حقائق پر مبنی ہوں جو حواس کے ادراک سے بالا تر ہوں تو خود ان کے مصنفین کو بھی یقین کامل حاصل نہیں ہوتا کہ ساری بات کی بنیاد گمان پر ہوتی ہے مگر اس کتاب کا نازل کرنے والا اللہﷻ ہے جس کا علم قدیم ہے ازلی اور ابدی ہے کامل و مکمل ہے۔ لہٰذا اس کی بیان کردہ حقیقتیں شک و شبہ کی رسائی سے بہت بالا تر ہیں پھر اس رفع شک کے لئے اللّ کریم نے ان تمام واسطوں اور ذریعوں کی صداقت وامانت کی گواہی دی ہے جو انسانوں تک اس کے پہنچنے کا سبب ہیں۔
*خالق کا کلام بندے تک پہنچنے کے ذرائع*
سب سے پہلا واسطہ اور سبب وہ فرشتہ ہے جو رسول اللہ ﷺ تک اس کے پہنچانے کا ذریعہ ہے اللّٰہ کریم نے فرمایا *ذی قوۃ عندذی العرش مکین مطاع ثم امین* کہ وہ بہت طاقتور اللّٰہ کے نزدیک بہت معزز اور تمام فرشتوں کا سردار اور بہت امانت دار ہے ایسا طاقتور کہ کوئی بھی اپنی طاقت کے ساتھ اس سے وحی چھین نہیں سکتا یا جبرًا اس کو اس بات پر مجبور نہیں کر سکتا کہ اس میں کسی طرح کی آمیزش کرے اور اگرچہ فرشتے نوری مخلوق ہیں مگر ان فرشتوں کا سردار اور عنداللہ بہت معزز اور بزرگی کا حامل ہے پھر ایسا امانت دار کہ جس کی دیانت امانت پر اللّٰہ خود گواہ ہے یعنی اللہ کی کتاب کو اللّٰہ کے رسول ﷺ تک پہنچانے کا ذریعہ ایک ایسا فرشتہ ہے جو انتہائی قوی ، معزز اور امین ہے۔
دوسرا واسطہ اللّٰہ سے مخلوق تک اللہ کا رسول ﷺ ہے جو صدق مجسم ہے جن کی صداقت پر نہ صرف قرآن گواہ ہے بلکہ جس کی امانت پر اس کے بدترین دُشمن یعنی کفار مکہ بھی گواہ ہیں جو اسے ” صادق و امین “ کے نام سے پکارتے ہیں اور جس کی بےداغ زندگی اس کی نبوت پر بہت بڑی شہادت ہے۔
جہاں معجزات قاہرہ اور دلائل باہرہ اس کی نبوت کا ثبوت میں وہاں اس کی قبل بعثت کی زندگی میں اتنی طیب و طاہر اور پاک و صاف ہے کہ کبھی کسی بھی طرح کا جھوٹ یا غلط بیانی نہیں پائی جا سکتی بلکہ اس حیات مبارکہ کو سب دلائل نبوت پر ایک تفوق حاصل ہے اور حضور ﷺ فرماتے ہیں "بعثت فیکم عمراً من قبلہ" یعنی میں نے تمہارے درمیان ایک حیات بسر کی ہے کہ تم مجھ پر غلط بیانی کا الزام لگا سکتے ہو ؟ حتیٰ کہ اس حیات طیبہ کی اللّٰہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے لعمرک یعنی تیری زندگی کی قسم ! تیری زندگی گواہ ہے۔
سبحان اللّٰہ ! اور فرمایا *وانک لعلی خلق عظیم* ، تیرے اخلاق ان بلندیوں کو چھو رہے ہیں جو بشر کی رسائی کی حد ہے تو گویا اللّٰہ سچا ہے اس کا پیغام لانے والا فرشتہ شک سے بالا تر اور اس کا رسول ﷺ صادق و مصدق ، یہ ساری بنیاد راستی سچائی اور حق ہے *لاریب فیہ* ہے مگر کیا کیا جائے کہ ساری مخلوق کو یہ واسطہ بھی براہِ راست نصیب نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ اور امت درمیان ایک پورے طبقہ کا واسطہ ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے براہِ راست کلام باری کو سُنا ، سمجھا سیکھا اور ساری خدائی تک پہنچایا۔
*عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ثبوت:*
اگر خدانخواستہ یہ واسطہ اور ذریعہ ہی مجروح قرار پائے تو پھر ثابت نہ ہو سکے گا۔ نیز فرشتہ اور رسول اللہ ﷺ پر کسی کو حملہ کرنے کی جرأت کم ہو گی مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، چونکہ وہ درجہ معصومیت نہیں رکھتے تو معترضین کو وہاں حملہ کرنا زیادہ آسان ہو گا اور اگر کوئی اعتراض نہ بھی کرے مگر واقعتًا وہ لوگ غلط بیان کر جائیں تو کیا ہو۔ یہی کہ دین کی ساری عمارت مشکوک قرار پائے تو اللّٰہ پاک نے سب سے زیادہ احوال ان حضرات کے ارشاد فرمائے قرآن کریم کی جگہ جگہ ان کی مدح سے مزین فرمایا۔
یہاں تک ان کا ایمان مثالی *ایمان فان امنوا بمثل ما امنتم فقد اھتدوا* اور ان کے قلوب، مثالی قلوب یعنی *اولئک الذین امتحن اللہ قلو بھم لاتقوی*ٰ اور ان کی صداقت، مثالی صداقت یعنی *اولئک ھم الصادقون*۔ اور ان کی زندگی قابل اتباع اور واجب الاتباع قرار دے دی *والذین اتبعو ھم باحسان*۔ یہ نہ صرف ان کے حالات کا مشاہد قرار دیا بلکہ فرمایا میرے علمِ ازلی میں یہ بات موجود تھی اور میں نے ان کو پیدائش سے بیشتر تورات و اناجیل میں ان کے اوصاف ارشاد فرما دیئے تھے کہ یہ میری مثالی مخلوق ہو گی اور انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد ان کی مثل نہ چشم فلک ان سے پہلے پائے گی نہ بعد میں دیکھ سکے گی اور واقعی یہ ضروری تھا کہ قیامت تک باقی رہنے والے دین کو رسول ﷺ سے لے کر اقوامِ عالم بلکہ ساری انسانیت کہ پہنچانے والے لوگ ایسے ہی مثالی کردار کے حامل ہوتے۔ جن کی ہر کوشش دین کے لئے اور ہر محنت دین کی خاطر ہو اور حق تو یہ کہ نہ صرف مکہ و مدینہ منورہ کی زندگی میں روم و ایران کی جنگوں اور قیصر و کسریٰ کے مقابلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دین کی حفاظت کا حق ادا فرمایا بلکہ آج بھی ان کی ذواتِ مقدسہ اس بارگاہ کی پہردار ہیں اور آج بھی اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو دین مخلوق تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔ وہ لسانِ نبوت ہیں ترجمانِ نبوت ہیں۔ انہوں نے قرآن کو براہِ راست حضور اکرم ﷺ سے سُنا ، سیکھا ، سمجھا اور پھر آپ ﷺ کے سامنے اس پر عمل کر کے اپنے عمل کی صحت کی سند حاصل کی۔ صدیاں بیت گئیں کُفر کے ظلمت کدے سے اُٹھنے والی ہر لہر ان ہی سے جا ٹکرائی مگر ہمیشہ کی طرح اپنا پاش پاش سر لے کر پھر اسی اندھیروں میں گم ہو گئی بلکہ بعض نادان دوستوں نے بھی ان مقدس بستیوں پر مقدمہ چلانا چاہا ذرا غور تو فرمائیں کہ طبری اور کلبی گواہ ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معاذاللہ مُلزم اور آج کے محققین منصف ، سبحان اللّٰہ !
پنجابی کی ایک مثال ہے "ذات دی کوڑ کلی، شہتیراں نوں جپھے"
مگر اس سب کے باوجود ان کی شان ویسی کی ویسی ہے، بےداغ ہے کہ خود قرآن کریم کی لازوال شہادتیں کسی کا کچھ بس نہیں چلنے دیتیں۔ جب یہاں تک بات دُرست ہو گئی تو اب بیشک ثابت ہوا کہ *لاریب فیہ*۔
عظمت ِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر یہ لاریب گواہ ہے اور اس بات کا واضح ثبوت کہ مقامِ صحابیت خود ایک خصوصیت کا حامل ہے جو بجُز صحبتِ رسول ﷺ نصیب نہیں ہو سکتی۔ یہ کہنا کہ "الصحابہ کلم عدول" کا کلیہ صرف احکام دین پہنچانے کی حد تک دُرست ہے ذاتی زندگی میں ان کا صالح ہونا اس سے ثابت نہیں۔
یہ ایسی بات ہے جسے عقل تسلیم نہیں کرتی کہ ایک شخص بیک وقت بدکار بھی ہو اور راست باز بھی۔ پھر راست باز بھی ایسا کہ اللّٰہ کا آخری کلام ، اللّٰہ کی مخلوق تک پہنچانے کا سبب اور ذمہ دار قرار پائے۔ معترضین کو حضرت ماعز رضی اللہ عنہ کی حکایت بطور ثبوت مل گئی مگر کاش اسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کی بجائے ان کی مثال کو توبہ کے حوالے سے مدحِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بیان کیا جاتا جو اس کا اصلی مقام تھا۔ اور ایسے واقعات کی فہرست میں بھی تریسٹھ برسوں میں صرف دو واقعات ملتے ہیں لہٰذا دین اور حقانیت دین کے زندہ ثبوت یہی معزز مقدس اور بزرگ ہستیاں ہیں۔
*ھدی للمتقین* ، یہ رہبری کرتا ہے ان لوگوں کی جو متقی ہوں ہدایت رہنمائی کے معنوں میں ساری انسانیت کے لئے ہے دعوت الی الحق تو سب کے لئے ہے مگر رہبری صرف ایسے لوگوں کے لئے جو اپنے میں اس کے ساتھ چلنے کی استطاعت پیدا کرلیں۔ یہ قوت ہے تقویٰ ۔ جس کا اردو ترجمہ ” ڈر “ لکھا ہوتا ہے۔ مگر یہ لفظ یہاں اس کی مراد بیان کرنے سے قاصر ہے اس کا اصل مقصد ایک خاص ڈر ہے جو کسی محبوب ہستی کی ناراضگی کا ڈر ہو۔ جو کسی کے روٹھ جانے کا اندیشہ ہو ، جو ہر حال میں کسی پر نثار ہونے کی تمنا ہو۔ یہ وہ جذبہ ہے جو تمام خواہشات اور ارادوں کو تمام آراء اور مشوروں کو صرف اس وجہ سے روک دے کہ ایسا کرنے سے میرا رب مجھ سے خفا نہ ہو جائے اور اگر بتقضائے بشریت غلطی صادر ہو بھی جائے تو احساسِ گناہ دل میں کانٹے کی طرح چبھتا اور توبہ پر مجبور کر دیتا ہو یہ تقویٰ ہے۔ *ولم یصروا علی مافعلوا* حصول تقویٰ کے لئے کون سا راستہ ہے اور متقیوں میں کیا اوصاف پائے جاتے ہیں ؟۔۔۔
*=============== (ان شآءاللہ جاری ہے)*
*انتخاب : طالبٍ دُعا : ارشد امین گوندل*
*اسرارالتنزیل کی کسی بھی سورة یا آیات نمبر کی تفسیر منگوانے کیلئے رابطہ : ایڈمن:*
*(03333434272)*
IQRA Qur'anic Academy
🌹••🌹 *تفسیرِ قرآن اسرارالتنزیل*🌹••🌹
★•• *جملہ حقوق بحقِ ناشر محفوظ ہیں* ••★
📖 ۔ *نام کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسرارالتنزیل*
*مفسر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا محمد اکرم اعوان*
*ناشر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادارہ نقشبندیہ اویسیہ*
____________________________________
🌹 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ* 🌹
🌹 *(قسط نمبر 1) تعارف*🌹
خالق کا اپنے بندوں سے آخری خطاب ہے جو اس نے اپنے ایک برگزیدہ بندے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے فرمایا ۔ بظاہر یہ ایک کتاب ہے حقیقت میں یہ اللّٰہ تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے جسے کسی ایک نام سے پکارا جا نہیں سکتا ۔ اس کے اوصاف شمار میں نہیں آ سکتے ۔ عوام کے لیے یہ کتاب وعظ و نصیحت ہے ، اہلِ علم کے لئے خزینۂِ علوم ہے ، اہلِ دانش کے لئے کتابِ حکمت ہے ، اہلِ دل کے لیے گنجینۂِ اسرار ہے ، حقائق سے روگردانی کرنے والوں کے لئے براہینِ قاطعہ اور دلائلِ باہرہ کا خزانہ ہے اور متلاشیانِ حق کے لیے کتابِ ہدایت ہے ۔ اس کے اوصاف کی نشاندہی فرماتے ہوئے خود خالق نے عجیب اسلوب اختیار فرمائے ۔ سب سے پہلا تعارف اس صفت سے کرایا کہ *لاریب فیہ* یعنی یہ کتاب شکوک و شبہات سے بالاتر ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللّٰہ کا اپنا کلام ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ہر آمیزش اور کمی بیشی کے نقص سے محفوظ ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ جس مقصد کے لئے یہ نازل کیا گیا اسے پورا کرنے کے لیے کافی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کی ضمانت ہے حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب کا یہ وصف ایسی بنیاد ہے کہ اس پر یقین کے بغیر اس سے استفادہ کرنا ممکن ہی نہیں اور یہ کوئی نرا دعوہ نہیں بلکہ کہ اس کے نزول سے لے کر آج تک اس عمل کی شہادتیں تاریخِ انسانی میں بکھری پڑی ہیں کہ جس فرد نے یا جس جماعت نے اس وصف کو تسلیم نہ کیا وہ رہنمائی سے محروم رہی اور ضلالِ مبین اور ضلال بعید اس کے لیے مقدر ہو گئی ۔
اس کے متصل ہی دوسرا وصف *ھدی للمتقین* بیان ہوا یعنی یہ کتاب ہر اس شخص کو ہدایت کا راستہ دکھا کر منزل تک پہنچاتی ہے جو ہدایت کا طالب ہو اور بھلے مانسوں کی طرح زندگی بسر کرنے کا خواہشمند ہو ۔ اس کتاب کا یہ وصف دراصل اس کا مقصدِ نزول ہے جبکہ اس کے باقی تمام اوصاف ذریعہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان مذکورہ ذرائع سے اس مقصد تک پہنچنا مطلوب ہے ۔ ان اوصاف کا بیان مختلف انداز سے جا بجا ملتا ہے ۔ مثلًا :-
*1۔ ھٰذَا کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ مُبٰرَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ*
*2 ۔ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡحَکِیۡمِ*
*3 ۔ کِتٰبٌ اُحۡکِمَتۡ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِنۡ لَّدُنۡ حَکِیۡمٍ خَبِیۡرٍ*
*4 ۔ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡ لَّہٗ عِوَجًا*
*5 ۔ لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ کِتٰبًا فِیۡہِ ذِکۡرُکُمۡ*
*6 ۔ فِیۡ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ مَّرۡفُوۡعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍ ۢ بِاَیۡدِیۡ سَفَرَۃٍ کِرَامٍ ۢ بَرَرَۃٍ*
*7 ۔ کَلَّاۤ اِنَّہَا تَذۡکِرَۃٌ*
اس کتاب کے اس قسم کے اوصاف کے علاوہ جہاں اس کے مقصدی وصف کا تذکرہ ہوا وہاں اسے بالعموم لام تعلیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ، مثلًا :
*🔅 ۔ لِتُنۡذِرَاُمَّ الۡقُرٰی وَمَنۡ حَوۡلَہَا*
*🔅 ۔ لِتُخۡرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ* اور
*🔅 ۔ لِیَکُوۡنَ لِلۡعٰلَمِیۡنَ نَذِیۡرَا*
اہلِ علم اور اہلِ دل نے اس کتاب کے انہی مختلف اوصاف کی تشریح اور تفصیل میں تفسیریں لکھیں ۔ اہلِ علم کے نزدیک فنِ تفسیر کے چند خاص تقاضے ہیں ہیں چند مخصوص شرائط ہیں مثلًا تفسی لکھنے میں حلِ لغات ، تعلیل صرفی ، ترکیبِ نحوی ، علمِ بدیع اور علمِ معانی کی روشنی میں نکات ، شانِ نزول کا بیان ، ناسخ و منسوخ کی وضاحت ،اجمال اور تفصیل ، مطلق اور مقید کی نشاندہی ، آیات سے فقہی مسائل کا استنباط ، علمِ کلام کی بحثیں وغیرہ ۔ بے شمار ایسے مسائل ہیں ہے جن پر مفسرِ قرآن کو قلم اُٹھانا پڑتا ہے ۔ جہاں تک علمی تحقیق کا تقاضا ہے ایسے کرنا ناگزیر ہوتا ہے ۔
جہاں تک اس کتاب کے مقصدی وصف کا تعلق ہے اس کے لئے علمی نکات اور فنی باریکیوں کی ضرورت نہیں ۔ چنانچہ قرآن کریم نے اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا :
*وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ*
کہ جسے قرآن سے ہدایت حاصل کرنی ہے جان لے کے ہم نے اس غرض کے لیے قرآن کو آسان بنایا ہے اس اظہارِ حقیقت کے ساتھ ہی یہ صلائے عام بھی دے دی *فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ* یعنی ہے کوئی ہدایت کا طالب ؟
حصولِ ہدایت کی دو صورتیں ہیں-
اول ہدایت بزریعہ ذہن ، عقل اور استدلال ، یعنی حقیقت کو اس لیے تسلیم کرنا کہ میرا ذہن ، میری عقل اسے تسلیم کرنے کا مشورہ دیتی ہے اور ذہن و عقل نے جو استدلال کا تانا بانا تیار کیا ہے وہ اسی امر کا تقاضا کرتا ہے اس ذریعہ سے ہدایت حاصل کرنے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ مگر ! یہ بڑا کمزور اور ناقابلِ اعتماد ذریعہ ہے کمزور اس لیے کہ جس درجہ کا ذہن اور جس سطح کی عقل ہو گی اس درجہ کا ایمان بھی ہو گا اور نہ قابلِ اعتماد اس لیے کہ اگر اس سے بہتر استدلال پیش کر دیا گیا اور وہ پہلے استدلال کے برعکس ہوا تو ایمان زائل ہوگیا عقیدہ بدلنا پڑا ۔
دوسری صورت ہدایت بذریعہ قلب ہے اس صورت میں پہلی اور بنیادی چیز دعوت دینے والے پر اعتماد ہے اور جاننے سے پہلے ماننے کا مطالبہ ہوتا ہے اور یہ اعتماد یا تو عام تجربہ اور مشاہدہ پر قائم ہوتا ہے یا اس کیفیت پر مرتب ہوتا ہے جسے محبت کہتے ہیں ہدایت کی یہ صورت فطری اور طبعی معلوم ہوتی ہے چنانچہ خود قرآن کے نزول کے متعلق ارشاد باری ہے :
*وَاِنَّہٗ لَتَنۡزِیۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ نَزَلَ بِہِ الرُّوۡحُ الۡاَمِیۡنُ عَلٰی قَلۡبِکَ*
نزول قرآن کا محل اور مقام قلبِ ﷺ ہے جس سے ظاہر ہے کہ حصول ہدایت کا آلہ اور ذریعہ قلبِ انسانی ہے اور ہدایت سے محرومی کی وجہ بھی شقاوتِ قلبی ہوتی ہے غالبًا اسی خطرہ سے آگاہ فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے :
*وَلَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا*
یعنی جس کے قلب کا تعلق اپنے رب سے کٹ گیا ہے یا جو قلب اس عظمت سے غفلت کا شکار ہے اس کی بات پر توجہ نہ دیں ورنہ اس کی نحوست سے بچنا محال ہے۔ بات گو زبان سے کی جاتی ہے مگر وہ قلب سے ناشی ہوتی ہے اس لیے غافل قلب سے غفلت کی نحوست لے کر زبان سے نکلتی ہے اور سُننے والے کے کانوں کے راستے اس کے دل تک پہنچ کر اسے بھی غافل کر دیتی ہے۔
رہی اعتماد کی بات تو نبی کریم ﷺ نے اپنی معاشرتی زندگی کو اس امر کی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہوئے فرمایا تھا :
*فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ*
کہ تمہارے معاشرے میں عمر کا معتدبہ حصہ یعنی چالیس برس گزار چکا ہوں کیا تم مجھے قابل اعتماد نہیں سمجھتے ؟
کامل اور غیر مشروط ہے اعتماد صرف محبت کے جذبے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے غالبًا اسی وجہ سے حضور پر نور ﷺ نے فرمایا تھا : " تم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کے دل میں سب محبوب چیزوں سے بڑھ کر میرے ساتھ محبت کا جذبہ موجود نہ ہو ۔"
اور اللّٰہ تعالیٰ نے مومن کا وصف بیان فرمایا :
*وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ*
اس قلبی ذریعہ سے ہدایت حاصل کرنے اور ایمان کی قوت کے نمونے عہدِ نبوت میں کثرت سے ملتے ہیں چناچہ واقعہ معراج کے وقت رؤسائے قریش نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو جب یہ واقعہ سُنایا انھوں نے معراج کے متعلق کوئی عقلی دلیل نہیں دی بلکہ صرف اتنا پوچھا کہ کیا واقعی حضورِ اکرم ﷺ نے یہ فرمایا ہے ؟ ہے جب انہیں بتایا گیا کہ واقعی حضور ِ اکرم ﷺ نے فرمایا ہے تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ پھر اس میں کوئی شک نہیں ۔ ذہن عقل اور استدلال کی راہ سے یہ دولت ملی ہوتی تو یہاں بھی استدلال کا سہارا لیا جاتا ۔
قرآنِ حکیم گلہائے رنگا رنگ کا ایسا حسین گلدستہ ہے جس کی ہر آیتِ کریمہ اپنے بوکلمونی میں یکتا و بے مثل ہے جس پہلو سے دیکھیں ، حسین امتزاج کا نظارہ اور کیف و وجد کا اثر جدا ملتا ہے ۔ مفسرینِ کرام نے اپنی عمریں اس گلدستہ کی بہار آفرینی میں صرف کر دیں ۔ فنِ تفسیر کی حدود و قیود کے تابع رہ کر اور ایک ہی مآخذ سے استفادہ کرتے ہوئے ہر تفسیر کا اسلوب منفرد معلوم ہوتا ہے ۔ یہ اس لیے کہ جس پہلو سے کسی نے اس مرقعِ حسن کو دیکھا اسی جہت سے تصویر کشی کی ۔ کیونکہ قرآن کی ایک ہی تفسیر کامل و اکمل ہے اور وہ ہے صاحب قرآن ﷺ کی سیرت طیبہ ۔ باقی ہر تفسیر کسی ایک رنگ کی حامل ہو گی جو قرآن حکیم ہی کارنگ ہوگا لیکن اس پر منحصر کہ دیکھنے والے نے کس پہلو سے دیکھا ۔
یہ تفسیر بھی ، جو آپ کے ہاتھ میں ہے اپنا ایک منفرد اسلوب رکھتی ہے جس میں منظر کشی تو کم ہے لیکن کیف و وجد کو اس طرح پیش کیا گیا ہے جسے قاری براہِ راست اپنے دل میں اُترتا ہوا محسوس کرتا ہے ۔ یہ ایک الگ فن ہے اور مفسر اس فن کے ملکی اور عالمی سطح پر مانے ہوئے ماہر ہیں یہ اعجاز انہیں ایک صاحبِ حال و قال ہستی ، حضرت العلام شیخِ طریقت مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں طویل عمر بسر کرنے کے صلہ میں نصیب ہوا ۔
یہ 1971 کی بات ہے اہل اللّٰہ کی ایک جماعت جس میں حضرت مولانا بھی شامل تھے حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ کی معیت میں ملتزم پر حاضر تھی جس دربار سے کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا ۔ عطا و کرم کی اس بارش میں اہلِ بصیرت نے دیکھا کہ اس کتاب کے کے مصنف کو وہ نعمتِ خصوصی عطا ہوئی جو صرف انہی کا حصہ تھی ۔ یعنی فہمِ قرآن اس کے بعد سُننے والوں نے سُنا اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ حضرت مولانا کی زبان سے قرآن حکیم کی تفسیر کرتے ہوئے وہ مضامین جاری ہونے لگے کہ اہل علم اور ان لوگوں کی زبان سے بے ساختہ نکلا جن کی عمریں درس قرآن میں گزری تھیں ،
"اس آیت کا اصل مفہوم تو آج سمجھ میں آیا"
ایک صاحبِ دل رحمۃ اللہ علیہ کی مسلسل صحبت نے حضرت مولانا کے قلب کو رموز و اسرارِ قرآن سے وہ نسبت عطاء کر دی جو براہِ راست خفتہ دلوں کو بیدار کرنے اور غافل دلوں کو ہوشیار کرنے اور یادِ الٰہی سے آشنا دلوں میں محبتِ الٰہی کو مستحکم اور استوار کرنے میں ممد و معاون ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ قرآن کا پیغام اور قرآن کا مفہوم ان کے قلوب پر وجدان کی صورت میں نازل ہوا جس کو اصطلاح میں علمِ لدنی کہتے ہیں اور انہوں نے اس پیغام کو اہل دل کی امانت سمجھتے ہوئے سپرد قلم کر دیا کہ شاید اپنے اہل تک پہنچ جائے ،
از دل خیزد ، بر دل ریزد
کیفیات کو محسوس کرنے کا کام ہی دل کا ہے ۔ اور دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ۔ قرآن فہمی سے مراد حصولِ معلومات نہیں بلکہ حصولِ کیفیات ہے ۔ قرآن اس طرح پڑھا اور سمجھا جائے کہ دلوں میں تحریک ملے ۔ یہ مقصد اس تفسیر کے مطالعے سے حاصل ہو سکتا ہے ؎
تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گِرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف
*عبدالرزاق* عفی عنہ
18 ، رمضان المبارک 1405 ھ
IQRA Qur'anic Academy
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Isalamabad
Islamabad
44000