30/11/2024
🌹🌹– *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* –🌹🌹
*تفسیر اسرارالتنزیل (جلد1) (قسط 5)*
*سُورَة البقرة (پارہ 1) آیات 5 تا 7*
*مفسر، حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان*
*🌹 رحمة الله علیہ 🌹*
____________________________________
🌹 *بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ*🌹
*اُولٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنۡ رَّبِّھِمۡ وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَیۡھِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَھُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡھُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ۞ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰی سَمۡعِهِمۡ ؕ وَعَلٰۤی اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ۞*
*اسرار و معارف*
یہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے بتائے ہوئے راستے پر گامزن ہیں جو اُس نے اپنی شانِ ربوبیت سے بتایا ہے کہ اُس کی شانِ ربوبیت کا تقاضا تھا جس طرح بدن کی ضرورتوں کا احساس اور تکمیل کے طریقے ہر ذی روح کو فرمائے اسی طرح روحِ انسانی کی زندگی اور آرام کے لئے بھی طریق ارشاد فرما دیئے جن لوگوں نے اُسے اختیار فرمایا وہی لوگ ہیں جو حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔
دُنیا کا ہر انسان ہر کام میں فلاح اور کامیابی کے لئے کوشاں ہے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ کامیاب ہو مگر لوگوں نے کامیابی و ناکامی کے معیار اپنی طرف سے مقرر کر رکھے ہیں۔ جو کسی طور دُرست قرار نہیں دیئے جا سکتے حقیقی معیار وہ ہے جو اس کائنات کے خالق نے ارشاد فرمایا ہے اور جس کی تعلیم حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر ہر دور میں انسانی معاشرے کی راہنمائی کرتی رہی اور بالآخر حضور نبی کریم ﷺ پر یہ سلسلہ تمام ہوا۔ اگر آپ کی بعثت کے بعد بھی کسی کو ایمان نصیب نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ قبولِ ایمان کی استعداد ہی نہیں رکھتا اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے ضائع کر چکا ہے۔
*اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ*
یعنی جو لوگ آپ ﷺ کی تعلیمات خود آپ ﷺ کی زُبانِ حق ترجمان سے سُن کر پھر ایمان نہیں لاتے تو وہ ایمان لا ہی نہیں سکتے کہ نہ اس سے بڑھ کر کوئی نبی ہے اور نہ کلام اس بات کو جاننے کے لئے یوں غور کریں کہ انسان صرف جسم کا نام نہیں اور نہ اکیلے روح کا بلکہ جسم و جان مل کر انسان کہلاتے ہیں۔ جسم کی ضروریات ہیں، یہ بیشمار چیزوں کا محتاج ہے، جن میں لباس اور غذا سب سے زیادہ ضروری اور اس کی بقاء و تعمیر کا سبب ہیں۔ لیکن اس سے زیادہ اس کی صحت و علاج معالجہ ہیں اگر صحت دُرست نہ ہو تو نہ غذاء کام کرتی ہے اور نہ لباس خوشی دیتا ہے۔ یہاں دو چیزیں ہیں کہ غذا ہر جگہ سے اور ہر کسی سے فراہم ہو سکتی ہے مگر دوا اس طرح نہیں یہ دینے والے لوگ مخصوص ہوتے ہیں جو ہمارے جسم کو ہم سے زیادہ سمجھتے ہیں اس کی بیماری کو ، اس کے سبب کو اور علاج کو جانتے ہیں ہم ہمیشہ ان سے رجوع کرتے ہیں۔ جسم مادی ہے اور اس کی غذا بھی مادی ہے ، دوا بھی مادہ سے آتی ہے پھر اس کا معالج ہر وہ شخص بن جاتا ہے جو اس فن کو حاصل کرے خواہ نیک ہو یا بد ، مومن ہو یا کافر ، مرد ہو یا عورت ، بات فن کو حاصل کرنے کی ہے ..
*روح امر باری ہے اور بہت لطیف شے ہے حتٰی کہ* فرشتے سے بھی لطیف تر ، ضروریات اس کی بھی اتنی اور اسی طرح کی ہیں ، جیسی بدن کی ، مگر یہ مادی نہیں بلکہ لطیف ہے پھر اس کا معالج ہر کوئی نہیں بن سکتا۔ یہ ایسا قیمتی فن ہے جس کے لئے افراد ازل سے چنے گئے بلکہ تخلیق ہی خصوصی طور پر کئے گئے کوئی کتنی بھی محنت کرے اس کمال کو نہیں پا سکتا۔ اصطلاح شریعت میں ان کو *نبی* کہا گیا ہے پھر یہ حضرات بھی اپنی طرف سے کچھ تجویز نہیں کرتے بلکہ اس کی غذا اس کی دوا خود اللّٰہ مہیا کرتا ہے۔
*نبی میں وہ قوت ہوتی ہے* کہ براہِ راست خطاب باری سے مستفیض ہوتا ہے اور دوسری مخلوق اس کی وساطت سے یہ اتنا اہم کام ہے کہ ہر کوئی نبی نہیں بن سکتا۔ بلکہ اللّٰہ نے جن کو بنایا انہی کو بنایا۔ پھر انہوں نے مخلوق تک یہ بات پہنچائی کہ جیسے گندم بدن کی بنیادی غذا ہے اللّٰہ کا ذکر روح کی بنیادی غذا ہے جیسے کھانا کھانے کے اوقات اور طریقے ہیں جس طرح جسمانی صحت کے لئے دوا ہے اسی طرح ذکر و عبادت کے اوقات اور اس کے طریقے ہیں اور روح کی دوا توبہ استغفار ہے جس طرح بعض چیزوں سے پرہیز جسمانی صحت کے لئے ضروری ہے اسی طرح بعض افعال سے پرہیز روحانی صحت کی ضرورت ہے۔ یہ سب چیزیں اسی طرح ضروری ہیں جیسے ہم جسمانی ضروریات کو اہم جانتے ہیں۔ پھر بھی جلیل القدر انبیاء (علیہم السلام) دُنیا میں تشریف لائے اور سب سے آخر میں وہ ہستی آئی جو سب کی سردار اور ساری کائنات کے لئے اللہ کی رحمت ہے۔ جیسے کوئی کہے کہ رات ہے اور مجھے دکھائی نہیں دیتا تو چراغ روشن کریں گے اگر پھر بھی کچھ نہیں دکھتا تو بجلی وغیرہ کی روشنی کریں گے پھر بھی کچھ نظر نہ آیا تو سورج کے طلوع ہونے کا انتظار ۔ اگر سورج طلوع ہونے کے بعد بھی اسے کچھ نظر نہ آئے تو پھر اس کی قوت بینائی ضائع ہو گئی اور وہ اندھا ہو گیا بالکل اسی طرح بعثتِ رسول ﷺ کے بعد بھی جو کافر رہا وہ لا علاج ہوا۔ غور کریں کہ جسمانی حسن حضور ﷺ کا کائنات میں بےمثل ، باتوں میں وہ شیرینی جو صرف آپ ﷺ کا خاصہ ہے اور بات اللّ تعالیٰ کی اور زبان رسول اللّٰہ ﷺ کی ، خطابت کا لطف الفاظ کی بندش ، زبان کی شیرینی اور لب و رخسار کا حسن بھی جو یہاں ہے وہ کہیں نہیں اور تقدس بھی بےمثال ۔ اب یہ بات بھی جس کے دل میں نہ اُترے شاید اس کے پاس دل ہی نہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ ہدایت کا منبع اور نور کا مینار تو آپ ﷺ کی ذات با برکات ہے جو آپ سے بھی مستفیض نہ ہوا وہ کہاں ہو سکے گا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔
*خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰی سَمۡعِهِمۡ ؕ وَعَلٰۤی اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ*
ان کے دلوں پر اللّٰہ نے مہر کر دی ہے کانوں پر بھی اور ساتھ ہی آنکھوں پر بھی پردہ ڈال دیا ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے ۔۔
ہم دل کو ایک پمپنگ مشین سمجھتے تھے مگر یہ تو بڑی شے نکلا۔ ذرا سوچیں تو دماغ کیا ہے ؟ رگوں کا ایک مجموعہ ۔ مگر اس میں کیا کچھ خزانے دفن ہیں اور کس قدر علوم کو سیکھنے کی قوت ہے کس قدر یاداشتیں اور کتنی وسعت ہے اپنے سارے کمال کے باوجود خطابِ الٰہی کا سزاوار نہ ٹھہرا مگر یہ نعمت دل کے حصے میں آئی۔۔ فرمایا ، *نزل بہ الروح الامین علی قلبک* یعنی کلام الٰہی کا نُزول قلب پر ہوا گویا قلب کی استعداد اس سے کروڑوں گنا زیادہ نکلی۔ اس کی وسعت ناپیدا کنار اور عظمت ناپ کے پیمانوں سے بالا تر نکلی۔ نہ صرف لوتھڑا اور نہ صرف مشین ہے بلکہ ایک وسیع کائنات ہے، ایک مکمل جہان ہے۔
انبیاء کرام علیہم السلام کے قلوب فیضانِ باری کو قبول کرتے اور تقسیم کرتے ہیں اور مومنین کے قلوب ان سے انوار کو اخذ کرتے ہیں۔ مگر کُفر ایسی بلا ہے جو قلوب سے یہ استعداد چھین لیتی ہے جیسے خود کشی کرنے والا جب اپنے آپ کو گولی مارتا ہے تو موت تو اُسے اللّٰہ ہی دیتا ہے مگر اس کا سبب وہ خود بنا۔ اسی طرح ایک غلط کار انسان کی مسلسل غلط کاری دل کی موت کا سبب بن جاتی ہے اور اللّٰہ اس کے دل پر مُہر کر دیتا ہے جس کا سبب اس کا اپنا کردار ہوتا ہے۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پیدا ہو جاتا ہے اگر توبہ کرے تو خیر ورنہ ہر گناہ سے سیاہی بڑھتی رہتی ہے جو آخر کار سارے دل کو سیاہ کر دیتی ہے اسی کو دل کا اندھا پن اور دل کی موت کہا گیا ہے اگر انسان جسمانی زندگی سے زندہ بھی رہا تو کیا ہوا ؟ بیشمار جانور یہ زندگی گزار رہے ہیں اس کی اصل فضیلت تو اس کی روحانی زندگی تھی جسے اس کی نادانی نے کھو دیا۔ یہاں ایک لطیفہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ خالق اور مخلوقِ خدا کے درمیان یہ تعلق ایسا لطیف تر ہے جو ان کا ذاتی ہے اور بجز ذاتِ باری کوئی نہیں جانتا۔ حتٰی کہ نبی کریم ﷺ کو بھی تب اطلاع ہوئی جب اللّٰہ نے بتایا کہ ان افراد یا اس قسم کے افراد کے ساتھ میرا تعلق اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ اب ان کو توبہ نصیب نہ ہو گی تو یہ تعلق چونکہ ہر انسان کا علیحدہ ہے اس لئے ہر آدمی پر نزولِ رحمت بھی الگ طرح سے ہوتا ہے۔
*اجتماعی ذکر کی حکمت:*
یہی وجہ ہے کہ مشائخ اجتماعی ذکر کی تلقین فرماتے ہیں کہ ایک شخص پر ایک رنگ کی رحمت ہو گی تو دوسرے پر دوسری طرح کے انوار ، لہٰذا کافی لوگ ہوئے تو انوار بھی رنگارنگ ہوں گے گویا ایک گلدستہ بن رہا ہے اور یہ راز صلوٰۃ باجماعت میں بھی ہے۔ یہ سب انعامات دل کی دُنیا میں ہیں جنہوں نے یہ دولت ہی ضائع کر دی یا اس طرف متوجہ ہی نہ ہوئے ان کو اس وقت خبر ہو گی جب مادی جہان اور اس کی نعمتیں نہ رہیں گی اور صرف وہ انعامات باقی ہوں گے جن کا مدار دل کی زندگی ، روح کی زندگی اور اس کی استعداد پر ہے۔ دماغ اور زبان کا اقرار عنداللہ اس وقت تک معتبر نہیں جب تک تصدیقِ قلبی ساتھ نہ ہو تو گویا جس طرح جسم مادی دُنیا میں پیدا ہوتا ہے۔ پیغامِ الٰہی کی تصدیق کر کے دل بھی زندگی کے میدان میں وارد ہوا۔ مگر اس کے بعد لوگ صرف جسم کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور یہ نومولود قلب سِسکتا بِلکتا رہ جاتا ہے اور بالآخر چند ہچکیاں لے کر موت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ لوگ مسلمان گھرانوں میں جنم لینے کے بعد کس کس طرح کُفر کی دلدل میں پھنس رہے ہیں۔ اعضاءِ ظاہری کی سلامتی کے ساتھ بےچارے دل اور اس کے سمع بصر کو کھو بیٹھے۔ *اعاذنا اللہ منھا ۔۔۔۔۔۔*
*=============== (ان شآءاللہ جاری ہے)*
*انتخاب : طالبٍ دُعا : ارشد امین گوندل*
IQRA Qur'anic Academy