01/09/2023
"موٹر وے حادثہ خاتون کا پہلا اور آخری بیان "
۔
حدیقہ کیانی میری پسندیدہ اداکارہ رہی ہیں بہت عزت کرتی آئی ہوں انکی۔۔۔ سب سے بڑی وجہ انکی سادگی غریب لوگوں کو لت کر انکی محبت ہے۔۔۔ اور ایک وجہ یہ بھی تھی انکے وہ جو رول بھی ڈراموں میں کرتی آئی ہیں وہ بے حد نفیس اور عمدہ تھے۔۔۔
۔
مگر اس ڈرامے پر انکا آنا یہ ڈرامہ بننا میری سوچ سے باہر تھا۔۔۔
پاکستان جہاں اپنی اس بات سے مشہور ہے کہ یہاں واقعات کو ڈراموں میں ڈھال کر معاشرے کو حقائق بتائے جاتے ہیں انجام بتایا جاتا ہے مجرموں کو کسی حد تک انکے انجام سزا کا بتایا جاتا ہے۔۔۔
تاکہ لوگ یہ کام کرنے سے رک جائیں جو مکافات ڈرامے تک ٹھیک تھا پھر خانی آگیا۔۔ جس میں ایسی ہی کہانی بتائی گئی مگر اس کہانی سے اصل زندگی کے مجرم کو اچھا سچا عاشق سمجھا جانے لگا جس کے بعد سے دھیان ہٹ سا گیا تھا ڈراموں سے۔۔۔۔
۔
پر اب یہ جو سامنے آیا ہے یہ ایک درد ناک سچ ہے۔۔۔
یہ ڈارمہ موٹر وے حادثے پر بنایا گیا ہے۔۔۔
ڈرامہ بتا کر نہیں بنایا گیا بس بنا دیا گیا۔۔۔
لوگوں نے جیسے جیسے ڈرامے کی اقساط دیکھنا شروع کی تو وہ سب چیخنا شروع ہوگئے کہ یہ ڈرامہ موٹر وے حادثے پر بنایا گیا ہے۔۔۔
بات کچھ دنوں میں ہی جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی مگر عمل نہیں ہورہا تھا۔۔۔؟
کیوں نہیں ہورہا تھا عمل۔۔۔؟ کیونکہ ڈرامہ بنانے والے ڈرامہ فلمانے والے افراد سب مکر گئے تھے اور دیدہ دلیری سے سب نے کہہ دیا تھا کہ ڈرامے کی کہانی محض اتفاق ہے
بات ٹل بھی جاتی معاملہ ختم ہو بھی جاتا مگر ایک ماضی کا کردار جس کے ساتھ یہ سب ہوچکا تھا اس کردار اس خاتون نے یہ بیان دئیے ہیں کہ یہ حادثہ وہ حادثہ ہے جس اس کے ساتھ ہوا ہے۔۔۔۔
۔
یہ بیان ملاحظہ فرمائیں آپ سب۔۔۔۔
۔
(کیا کسی خاتون کا بچوں کے سامنے ر یپ ہوتا دنیا کے سامنے پیش کرنا کسی بھی خطے یا مذہب میں انصاف کے مترادف ہے؟ مجھے اپنی آخری سانس تک اپنے بچوں کیلئے حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔۔)
- موٹروے سانحہ کی متاثرہ خاتون نے حادثہ ڈرامہ کی ٹیم کی وضاحت مسترد کردی
۔
اب آپ سب بتائیں موٹر وے حادثے ڈرامہ لکھنا کیسا عمل تھا۔۔۔؟
وہ خاتون نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اب یہ مجھے مارنا چاہتے ہیں۔۔۔؟ کیونکہ یہ ڈرامہ جب تک چلتا رہے گا وہ گھٹ گھٹ کر مرتی رہے ہیں گی۔۔۔۔
میں ابھی بتا سکتی ہوں کہ اس خاتون کی زندگی کسی عذاب کسی قیامت سے کم نہ ہوگی۔۔۔
وہ اپنی اولاد کے لیے جی رہی ہوگی۔۔۔
اسکی زندگی کو اور اجیرن بنا دیا گیا اس ڈرامے نے۔۔۔
آخر کیا ملا ایسا کرکے۔۔۔؟ اور اب سب ہی مکر گئے ہیں۔۔۔؟ پاکستان میں ایک ہی عمر کے رائٹرز ہر چینل پر ڈرامے دینے کی کوشش میں وہی گھسی پٹی کہانیاں لکھ دیتے اور پروڈیوسر سے لیکر ڈائریکٹر تک کام نہ ہونے کی وجہ سے وہ ڈرامے بنانا شروع کردیتا۔۔۔
آخر ضرورت کیا تھی ایسی کہانیوں کی۔۔۔؟؟؟
۔
مجھے گہری ہمدردی ہے موٹر وے حادثے کی اس بہن بیٹی اور ماں سے۔۔۔۔
اور میں یہی کہوں گی کہ مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ آپ نے بیان دیا۔۔۔
اور آپ کے بیان کے بعد ہمارا قانون سوشل میڈیا الرٹ ہوا حرکت میں آیا اور یہ ڈرامہ بین کردیا گیا ہے۔۔۔۔
الحمداللہ۔۔۔۔۔
مگر سوال پھر وہی ہے اس حادثے پر ڈرامہ سے کیا فائدہ میں ملنے والا تھا۔۔۔؟
اگر ڈرامے بنانے کا اتنا شوق ہے تو ایک رات اس موٹر وے پر جائیں اور رات گزار کر آئیں پھر کسی کے کرب و تکلیف کا اندازہ ہوگا۔۔۔
ائیر کنڈیشنر میں قلم پکڑ کر لکھنا اب بچوں کا کھیل ہوگیا پاکستان میں۔۔۔۔
۔
تحریر سدرہ شیخ
1 ستمبر 2023
#سدرہ
21/08/2023
کہتے ہیں جب محنت کا پھل ملنے لگ جائے تو انسان کو زیادہ کی لالچ ہوجاتی ہے وہ اور محنت کرتا ہے اور تکالیف برداشت کرتا ہے۔۔۔ا
اور آگے بڑھنے کی کوشش میں رہتا ہے۔۔وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔۔؟؟
کیونکہ اسکی زبان کو کامیابی کا وہ میٹھا پھل لگ چکا ہوتا ہے۔۔۔
۔
پچھلے دو سال پہلے اسی دن میری روٹین تھی کھانا پینا۔۔ ناول لکھنا ای بک لکھنا۔۔۔
اور ایک ایڈڈ ٹارگٹ تھا جو گھر والوں کی طرف سے میری لسٹ میں شامل تھا۔۔
شادی کا۔۔۔
۔
مگر ہوا کیا۔۔۔؟؟ آج دو سال کے بعد میری ٹو ڈو لسٹ میں کیا شامل ہے۔۔؟؟
"ہنر مند خواتین" سنٹر کو گورنمنٹ سے رجسٹرڈ کروانا۔۔ سنٹر کو کرائے کے گھر سے نکال کر ایک بڑے ہال میں منتقل کرنا۔۔۔
ان تیس بچیوں کی تعداد کو چالیس کرنا پچاس کرنا۔۔۔
۔
دو سال پہلے یہی گرمی تھی کہ اے سی روم میں مسلسل رہنا۔۔
اور آج دو سال بعد کارپٹ پر زمین پر ایسے سو رہی ہوتی ہوں۔۔۔۔
۔
دو سال پہلے ہر چھ ماہ بعد سیل فون چینج ہوتا تھا مگر اب وہی موبائل ہے جو ٹوٹا پھوٹا ہے۔۔۔
۔
صبح ایک کپ چائے سنٹر کی صفائی۔۔ دس بجے کلاس سٹارٹ دو بجے کلاس ختم۔۔۔
مسلسل بچیوں کے ساتھ لگے رہنا بار بار سمجھانا۔۔ جنہیں ماؤس پکڑنا بھی نہیں آتا تھا ان بچیوں کو گائیڈ کرتے رہنا۔۔۔
۔
یہ سب کیوں ہے۔۔۔؟؟ یہ اتنی محنت کیوں۔۔؟؟ اتنا سر درد کیوں۔۔۔؟؟ اتنی تکالیف اتنی گرمی کیوں برداشت کی جارہی ہے۔۔؟؟
کیونکہ ہم ایک سیڑھی سے اوپر چڑھنا سیکھ چکے ہیں۔۔۔ اب لالچ ہے کہ کامیابیوں کی اور سیڑھیاں چڑھی جائیں۔۔۔
اب لالچ ہے کہ گرمی بھوک پیاس چلتی رہے گی۔۔۔ نام بناؤ پہچان بناؤ۔۔۔
کچھ کرکے دیکھاؤ۔۔۔۔ کیونکہ تمہارا چہرہ پہچان نہیں ہے
تمہارا کام پہچان ہے۔۔۔
۔
میں بہت لاڈوں میں پلی ہوں۔۔۔۔ بہت لاڈلی ہوں۔۔۔
مگر آپ لوگ سلائی سنٹر میں میری ایک دن کی زندگی دیکھیں آپ حیران رہ جائیں گے۔۔
۔
اتنی بڑی باتیں کہنے کا مقصد کیا ہے۔۔۔؟؟ مقصد اتنا ہے کہ۔۔۔
جب میرے پاس سب میسر ہے نام پیج کام رتبہ پیسہ شہرت سب کچھ۔۔۔الحمدللہ
اگر اتنا سب ہونے کے باوجود میں مسلسل محنت کررہی ہوں تو آپ کیوں۔۔؟؟
کیوں خواتین بے بس ہیں۔۔؟؟
کیوں حالات پر مایوس ہیں۔۔؟؟
کیوں رو رہی ہیں۔۔۔؟؟
آخر کیوں۔۔۔؟؟
کیوں نہیں آگے بڑھتی۔۔؟؟
کوئی آُ کی پلیٹ نہیں بڑھتا یہاں سب کچھ خود کرنا پڑتا ہے۔۔۔
۔
میں تازہ مثال دوں اپنی سٹریگل کی۔۔؟؟
۔
یہاں وہ جو خاتون ہے جو اب بچیوں کے گھروں میں جاکر کہتی ہے کہ اس سلائی سنٹر کی جگہ میرے گھر بچیاں بھیجا کریں۔۔۔
اسکے کہنے کے باوجود بھی بچیوں نے اپنے اپنے گھروں میں کہہ دیا ہے کہ امی اس سنٹر میں ہمیں جتنا اچھا سیکھایا جارہا وہ صنعت زار میں ببھی نہیں سیکھایا گیا ہمیں۔۔۔
تو خود سوچیں پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔۔۔؟؟
۔
یہ سب کیسے ممکن ہوا۔۔؟؟ پچھلے پانچ ماہ کی انتھک محنت سے۔۔۔
ابھی بھی میری پاؤں میں ایسے چھالے بنے ہوئے ہیں۔۔۔کلاس لے لے کر منہ ایسے درد ہوتا ہے۔۔۔
مگر میں ایک گھڑی کا سانس نہیں لیتی کیوں۔۔۔؟؟
اگر تھکی کر رک گئی تو پھر سے محنت نہیں کرپاؤں گی۔۔ اور اگر میں محنت سے باغی ہوگئی تو میرے پاس کچھ نہیں۔۔۔
کیونکہ سب کچھ محنت لگن اور ایمانداری سے ملتا ہے۔۔۔
کچھ ایک کاٹ کر پھینک دیں آپ کی ذات ریزہ ریزہ ہوجائے گی۔۔۔
۔
اس لیے محنت کریں۔۔۔۔
۔
جزاک اللہ۔۔۔
آئی ہوپ کے آپ کچھ سیکھیں گے۔۔۔
۔
اس لیے میں اپی دن کی روٹین لازمی پین ڈاؤن کیا کروں گی ان خواتین کے لیے جو بالکل مایوس ہوگئی ہیں۔۔۔انہیں اپنی زندگی کی جھلکیاں دیکھایا کروں گی۔۔۔
۔
اور بتایا کروں گی کہ منزلیں ایسے ہی نہیں ملتا مٹی کے ساتھ مٹی ہونا پڑتا ہے۔۔۔
۔
۔
16/07/2023
بےوفا سیزن ٹو مکمل پڑھنا ہے تو پیج کی تمام پوسٹ پر لائک کمنٹ کر دیجئے
شکریہ
16/07/2023
ناول: لاوارث
رائٹر: سدرہ شیخ
قسط نمبر 4 (سیکنڈ لاسٹ قسط)
۔
۔
"آپ کیوں چلی گئی امی مجھے چھوڑ کر۔۔۔کیوں اتنی مصیبتوں کے بعد یہ سب ہوا۔۔
آپ نے بھوک برداشت کی سب کے طنز برداشت کئیے امی ساری زندگی محنت کرتے رہے۔۔ اور جب ہمارے خوشی کے دن آئے تو موت آگئی درمیان میں۔۔"
"ناشکری نہیں کرتے بیٹا چپ ہوجاؤ۔۔"
"کتنی عجیب بات ہے نہ بیٹا۔۔؟ گناہ ہم کرتے ہیں اور الزام قدرت پر لگا دیتے ہیں۔۔
اپنے آپ سے پوچھو تمہارے اس غلط قدم نے سب برباد کیا۔۔۔"
"امی۔۔ میں۔۔۔امی آپ کہاں جارہی ہیں۔۔؟ امی۔۔۔"
وہ چیختے ہوئے اٹھ گیا تھا اس بنچ سے۔۔
سنسان سڑک پر بھونکتے ہوئے کتوں کی آوازوں سے اسے آج ڈر نہیں لگ رہا تھا جو مشہور تھا پورے گھر میں ایک کتے کو دیکھ کر ڈرنے سے۔
۔
"امی۔۔مجھے سے غلطی ہوگئی ۔۔۔ گناہ ہوگیا امی۔۔۔"
۔
آنسو گرتے ہوئے ان پیپرز پر گرنے لگے تھے جو وہ پڑھ رہا تھا۔۔
۔
آج چھ ماہ ہوگئےتھے اس دن کو جب اس نے یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے تھے۔۔
۔
ان سے ایک موقع مانگے۔۔ اور یہ سڑک اسکی آرام گاہ بن گئی تھی جس پر آرام حرام تھا۔۔
کتنی راتیں جاگتے جاگتے آج اسے نیند آئی تھی نیند میں بھی ماں کو دور جاتے دیکھ اس کو وہی اذیت ملی تھی جو اس دن ماں کے انتقال کی خبر سن کر ملی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"سر میری مزدوری۔۔؟؟"
"یہ باقی کی بوریاں تیرا باپ اٹھائے گا۔۔؟"
"سر باپ تک نہ پہنچے۔۔ آپ نے ان پانچ بوریوں کی بات کی تھی۔۔"
"اب میں پانچ اور بوریوں کی بات کررہا ہوں۔۔"
دوکاندار نے جس انداز میں کہا زوہب سمجھ گیا تھا کہ جب تک وہ باقی نہیں اٹھائے گا اسے اسکے پیسے بھی نہیں ملے گے ایک گھنٹے کے اندر اندر اسے ایگزیم ہال میں بھی پہنچنا تھا
"ان پانچ کے بھی الگ سے پیسے ہوں گے۔۔؟؟"
"کیوں ملیں چل رہی ہیں میرے باپ کی۔۔؟ ڈھائی سو میں ہی یہ بھی اٹھا۔۔۔"
"اوکے۔۔۔"
اور وہ باقی کی پانچ بھی اٹھا کر اندر رکھ آیا تھا۔۔
پیسے لیکر وہ اسی جگہ سے گزرا تھا جہاں اسکی بہن رہتی تھی دارلآمان میں۔۔
مگر اس میں اندر جانے کی ہمت نہیں تھی جاتا بھی کیسے خالی ہاتھ ایک ناکام شخص کی طرح۔۔
وہ اتنی محنت ان تینوں کے لیے کررہا تھا اور اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ واپس آئے گا انکی زندگی میں۔۔ مگر وہ ناکام عاشق ذلیل بیٹا بن کرنہیں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"مرحا۔۔ میں جلدی آجاؤں گا۔۔"
"آپ مت جائیں حاشر ہم دونوں اکیلے ہوجائیں گے۔۔"
"ڈونٹ وری میں تم دونوں کو وہاں دبئی بلا لوں گا۔۔"
"بس مرحا جانے دو اسے۔۔"
"سعید صاحب نے مرحا کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہہ دیا تھا
"حاشر بیٹا۔۔ میں نے اپنا وعدہ پورا کردیا اب تم اور تمہارا باپ اپنا وعدہ پورا کرنا میری بچی کا خیال رکھنا اور جتنی جلدی ہوسکے اسے باہر بلا لینا۔۔"
پیسوں کا بنڈل حاشر کو پکڑائے انہوں نے ہاتھ جوڑے تھے
"تایا جان پلیز آپ بار بار ہاتھ نہ جوڑا کریں۔۔ آپ بے فکر ہوجائیں۔۔"
۔
کچھ دیر میں وہ وہاں سے نکل پڑے تھے ۔۔ٹریفک میں رکی ہوئی گاڑی میں بیٹھے ہوئے اس شخص کی نظر زوہب پر پڑی تھی
"یہ وہی ہے نہ۔۔؟؟ "
"یہ باہر کیسے آیا۔۔؟؟ اتنا پیسہ لگانے کے باوجود بھی۔۔"
سعید صاحب غصے سے غرائے تو مرحا نے بھی اسی جانب دیکھا۔۔
"حالت دیکھ رہے ہیں۔۔؟ ابھی وہ کیس پھر سے ری اوپن ہوگا تو دیکئھے گا یہ بھی نظر نہیں آئے گا۔۔"
چھوٹے بھائی نے کسی کو فون کرکے زوہب کی لوکیشن بتائی تھی اور گاڑی وہاں سے رواں دواں ہوچکی تھی
"یہ چھوٹے لوگ۔۔ اوقات سے بڑے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔۔"
والد کے منہ سے یہ الفاظ سنتے ہی اس نے نظریں نیچی کرلی تھی۔۔
اس میں ہمت نہیں تھی واپس زوہب کی طرف دیکھنے کی وہ جو پہاڑ سے بھی بڑی باتیں کرتی تھی محبت کی آج اس کے اندر اتنی خواہش بھی نہ رہی تھی کہ وہ اب اس محبت کی طرف دیکھے حاشر سے شادی کے بعد اسے وہی محبت اپنے شوہر سے ہوچکی تھی جو شادی سے پہلے اپنے محبوب سے تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
"ایک بار جب امی سے کسی نے پوچھا تھا کہ امی کس سے زیادہ محبت کرتی ہے تو امی نے سادیہ کا نام لیا تھاتھا۔۔
پھر پوچھا تو میرا۔۔۔
امی نےسب نام لئیے سوائے تمہارے۔۔ اور جب ہم نے پوچھا تو انہوں نے کہا تھا کہ زوہب میرے جینے کا زریعہ ہے۔۔
آج جب تم بیٹھے ہو تو ایسا لگ رہا جیسے۔۔۔
جیسے امی کا قاتل سامنے بیٹھا ہو۔۔ ابو کا مجرم۔۔۔ہماری عزت دار بہن سادیہ کا گناہ گار۔۔"
"بھائی۔۔"
زوہب سر جھکائے بیٹھا سب سن رہا تھا۔۔۔ بہن کے نام پر آنکھیں چھلک گئی تھی اسکی
"جس کی بیٹی کے لیے تم نے سب داؤ پر لگا دیا تھا۔۔۔ سنا ہے وہ کسی اور کے بیٹے کی ماں بن گئی ہے اور ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہی ہے۔۔۔"
"بھائی۔۔۔پلیزا۔۔۔"
وہ اٹھ کر جانے لگا تھا جب اسکے بھائی نے اسکا ہاتھ پکڑا
دوبارا میرے سامنے آؤ تو وہ بن کر آنا جو امی تمہیں بنانا چاہتی تھی زوہب۔۔
امی کا ڈاکٹر بیٹا۔۔۔"
"انتسار یہ سارے تھیلے کون رکھے گا گودام میں۔۔۔؟؟ گپے مارنا بند کرو اب۔۔ باقی کا کام بھی جلدی نمٹاؤ۔۔"
مالک بڑے رعب سے کہتے چلا گیا تھا
"جاؤ تمہیں دیر ہورہی ہوگی۔۔ آگے پہاڑ جتنی منزل حاصل کرنی ہے تم نے۔۔"
۔
"میرا ڈاکٹر بیٹا۔۔۔"
اس جگہ سے دارلآمان تک بس ماں کا ایک ہی جملہ اسے یاد آرہا ہے میرا ڈاکٹر بیٹا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"میں بھائی ہوں اس کا۔۔"
"دیکھیں سر ہم کسی بھی بچی سے ملنے کی اجازت نہیں دے سکتے آپ کو۔۔ آپ کے پاس کاغذات نہیں ہیں ۔۔"
"میں جلدی جلدی میں ہوسٹل سے آیا ہوں۔۔"
"ہوسٹل۔۔؟؟ تمہارے حلیے سے لگ تو نہیں رہا۔۔؟؟ مانگنے والے لگ رہے ہو۔۔"
زوہب اس وارڈن کو دیکھتا رہ گیا تھا۔۔
"میں یہاں اپنی بہن سے ایک آخری بار ملنے آیا ہوں۔۔ بس ایک بار۔۔ میں آپ کو ضمانت لے دوں گا۔۔۔ پلیز۔۔۔"
اس نے شور شرابہ ڈالا تو اس بات پر راضی ہوئے کے انتظامیہ کے لوگوں کے درمیان وہ اپنی بہن سے بات کرسکتا ہے۔۔
بے ساختہ سر ہلایا اور انتظار میں لگ گیا۔۔۔
"جب بہن کو دیکھا تو اسے اپنی ہی شکل نظر آئی وہی خالی پن وہی مرجھائی ہوئی آنکھیں۔۔
"سادیہ۔۔۔"
"کون سادیہ۔۔؟؟کون ہیں آپ۔۔؟؟ میں آپ کو نہیں جانتی سر۔۔چلیں۔۔"
"وہ واپس جانے لگی تھی جب زوہب اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا؎
"تمہیں امی کی قسم سادیہ۔۔رک جاؤ۔۔"
"مگر وہ رکی نہیں تھی۔۔
"امی جاچکی ہیں۔۔ قسم توڑنے سے اور کیا نقصان ہوسکتا ہے زوہب بھائی۔۔؟
آپ جو نقصان کرچکے ہیں۔۔۔
ہاں ایک بات ضرور کہوں گی۔۔ کہ جہاں جس مرد کو دیکھیں کسی کی بیٹی بھگانے کا منصوبہ بناتے ہوئے تو اسے آپ بیتی لازمی سنائیے گا تاکہ اسے بھی پتہ چلے کہ ضروری نہیں عورت ہی برباد ہو۔۔
بعض دفعہ آپ جیسے مرد کسی لڑکی کے پیچھے اپنے پورا گھر برباد کرجاتے ہیں۔۔"
۔
"وہ جاچکی تھی اور وہ لوگ اس بیٹھے ہوئے زوہب حقارت کی نگاہوں سے دیکھنے لگے تھے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
کچھ سال بعد۔۔۔
۔
"مرحا بیٹا۔۔۔"
"جی بابا۔۔۔"
بیٹا میں چاہتا ہوں تم اپنے بچے کے ساتھ دبئی چلی جاؤ حاشر کے پاس۔۔"
"مگر ابوماہد کا سکول سٹارٹ ہورہا ہے فرسٹ مئی سے۔۔ اور میں۔۔"
"بیٹا ابھی تین سال کا ہی ہوا ہے کوئی بات نہیں ایک سال دیر سے ڈال دو گی تو ابھی تم حاشر کے پاس جاؤ وہ تو نہیں آرہا۔۔"
"ابو ایسے کیسے۔۔ میں جاسکتی ہوں۔۔؟"
"میں سب ارینج کروا دوں گا بیٹا تم ہوکر آؤ وہاں سے۔۔ "
"سعید صاحب اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے۔۔؟؟ سب کچھ تو اپنے بھائی کو دے چکے ہیں اب ایک فیکٹری رہ گئی ہے۔۔"
"میری بیٹی کی خوشی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔۔"
کیا وہ سب واقع بیٹی کی خوشی کے لیے کررہے تھے یا اپنی آنا اپنی تسکین کے لیے یہ کوئی نہیں جانتا تھا کیونکہ وہ سب تو خوش تھے اس وقت۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"آپ بےفکر ہوجائیں یہ سرجری اتنی سیریس بھی نہیں ہے ۔۔"
"ڈاکٹر صاحب بھی ابھی تک نہیں آئے۔۔ میرے بیٹے کا خون رک نہیں رہا اور آپ لوگ کہہ رہے ہیں کہ سیریس نہ ہوں۔۔"
"مرحا بس کرجاؤ۔۔بیٹا۔۔"
"ابو۔۔ ہم کسی اور ہسپتال چلے جاتے ہیں۔۔"
"آپ یہاں آنے سے پہلے دو ہسپتال سے ہوکر آئی ہیں کسی نے بھی آپ کے بیٹے کا کیس نہیں لیا۔۔۔ اور یہاں ریفر کردیا کیونکہ آپ کو اس شہر اس ملک میں ان سے اچھا ڈاکٹر نہیں مل سکتا جو آپ کے بیٹے کی سرجری کرسکے۔۔"
"ڈاکٹر صاحب آگئے ہیں۔۔"
اور وہ جو ڈاکٹر مرحا کے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی انہوں نے ماسک اتار کر پھر سے تسلی دی تھی
"آپ بے فکر ہوکر باہر جائیں۔۔ڈاکٹر زوہب ہینڈل کرلیں گے۔۔"
لیڈی ڈاکٹر نے جس انداز میں ڈاکٹر کا نام لیا تھا مرحا نے ایک پل کو اس ڈاکٹر کو دیکھا تھا جو خوبصورتی میں اس سے کئی درجے آگے تھی۔۔ مگر ایک لفظ زوہب پر وہ شاک ہوئی تھی۔۔
اور کچھ سیکنڈ میں اسکی فیملی بھی شاکڈ ہوگئی تھی جب وہ ڈاکٹر باقی ڈاکٹرز کے جھڑمٹ میں آپریشن ٹھیٹر سے باہر آیا تھا اور پھر ڈاکٹر اور مرحا کے سامنے آکر جونہی کھڑا ہو کر اس نے نرس سے فائل مانگی تو اس لیڈی ڈاکٹر نے مرحا کو انٹروڈیوس کروا تھا۔۔
"یہ پیشنٹ کی مدر ہیں۔۔"
"اور فادر۔۔؟؟ انہیں بھی فورا بلا لیں بچے کا بلڈ بہت بہہ گیا ہے ارجنٹ بلڈ کی ضرورت ہوگی۔۔اینڈ یو۔۔۔آپ اب جاسکتی ہیں۔۔ شاید ڈیوٹی ہوگی اپ کی۔۔؟؟"
ڈاکٹر زوہب نے اس لیڈی ڈاکٹر کو سختی سے کہا۔۔ مگر جیسے ہی اندر جانے لگے تھے مرحا کی آواز نے انہیں روک دیا تھا
"وہ۔۔ہم ساتھ نہیں رہتے۔۔ میرے والد کا بلڈ گروپ بھی سیم ہے۔۔ وہ دہ دیں گے۔۔"
زوہب نے ایک نظر پیچھے مڑ کر اس لڑکی کی جانب دیکھا تھا اور پھر اسکے والد کی طرف اور ہاں میں سر ہلا کر اندر چلا گیا تھا
"آپ انکی کسی بھی بات کا بُرا نہ منائیے گا یہ زرا اکڑو ہیں کھڑوس ہیں۔۔ بات کرنے کی تمیز نہیں ہے انہیں۔۔ مگر پروفیشن میں اچھے ہیں نرس آپ انکا بلڈ لے لیجئے اور میری ضرورت ہو تو ضرور بتائیے گا۔۔ اور پلیز ہٹلر کو اگر میری ضرورت ہو تو مت بتانا۔۔"
وہ وہاں سے چلی گئیں تھیں۔۔
"یہاں سب ایسے ہی بات کرتے ہیں۔۔؟ اس لہجے میں ڈاکٹرز آپس میں۔۔؟؟"
"نہیں۔۔۔ ڈاکٹر زوہب کی سرپرستی میں۔۔ بالکل بھی نہیں۔۔ یہاں ڈاکٹرز آپس میں بہت عزت کے ساتھ بلاتے ہیں۔۔ ہاں مگر ڈاکٹر زوہب اور ڈاکٹرشائنہ کی بات الگ ہے۔۔۔
یو نو ہزبنڈ وائف کی نوک جھوک ہوتی رہتی ہے۔۔۔"
۔
وہ نرس سعید صاحب کو دوسرے روم میں لے گئی تھی جن کی نظریں اپنی بیٹی کے چہرے کو دیکھتی رہ گئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔
16/07/2023
ناول: لاوارث
رائٹر: سدرہ شیخ
قسط نمبر 3
۔
"بیٹا ہوگا تو۔۔؟؟ تو کیا نام رکھو گے زوہب۔۔؟؟"
"بیٹی ہوگی۔۔ تمہارے جیسی کیوٹ سی سویٹ سی۔۔۔"
"بیٹا ہوگا مسٹر زوہب۔۔"
"بیٹی ہوگی مسز زوہب۔۔"
"ابھی شادی نہیں ہوئی ہماری زوہب جی ۔۔"
"ہوجائے گی فائنل ہوجائیں امی ابو کو لیکر آؤں گا تمہارے گھر۔۔"
"ہممم وعدہ۔۔؟؟ کہیں کامیابی کی سیڑھی چڑھتے چڑھتے مجھے بھول گئے تو۔۔"
ایک اور میسج پر زوہب کی دھڑکن جیسے رکی تھی
"مرحا۔۔تم میری محبت ہو۔۔ میری کامیابی۔۔۔ اچھا بتاؤ نہ کیا پہنا ہے۔۔؟؟"
اس نے بات ٹال دی تھی ایک اور میسج کرکے۔۔۔
"سلوار سوٹ۔۔ چھوٹی چچی نے گفٹ کیا تھا"
"اچھا۔۔۔ اور اسکے نیچے۔۔؟؟"
"شرم کریں مسٹر زوہب ۔۔۔"
"ہاہاہاہاہا۔۔۔ اچھا ابھی کے لیے شرم کرلیتا ہوں۔۔ شادی کے بعد کوئی شرم نہیں۔۔"
"بائے۔۔ مجھے اکیڈمی جانا ہے۔۔۔"
"ہاہاہاہاہا ارے سنو تو۔۔۔"
"بائے۔۔۔"
"لوووو یو ٹو زوہب۔۔ اپنے وعدے پر قائم رہنا ورنہ مر جاؤں گی اگر تم نہ ملے تو۔۔۔"
۔
"لائر۔۔۔چیٹر۔۔۔بےوفا۔۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"یہ تو زوہب ہے نہ۔۔؟ "
"ہاں سنا ہے باعزت بری ہوگیا ہے ۔۔۔ پر کیا فائدہ ایسی رہائی کا گھر تو اجڑ گیا ناں۔۔؟"
محلے کی خاتوں زوہب کو دیکھتے ہی باتیں کرنا شروع ہوگئیں اور آواز بھی اتنی اونچی کے اس چلتے ہوئے شخص کو سب سنائی دے رہا تھا
۔
"زوہب ہے ناں۔۔؟؟ "
"ماں کے جنازے پر بھی نہیں آیا تھا۔۔ کیا قیامت زدہ منظر تھا ۔۔ "
"اللہ ایسی اولاد کسی کو بھی نہ دے۔۔۔"
ان کڑوی باتوں نے اسی وہ تکلیف نہیں دی تھی جو اسے اس گھر میں ہورہے پینٹ نے اور ان اجنبی لوگوں کی موجودگی نے دہ دی تھی۔۔
"جی سر۔۔؟؟"
وہ اس گھر میں داخل ہونے والے تھا جب کسی آدمی نے اس کا راستہ روک کر پوچھا تھا
"جبار۔۔ بیٹا جانے دو اسے۔۔اندر کوئی خاتون تو نہیں ہیں۔۔؟؟"
ایک محلے دار نے اس لڑکے سے کہا تھا جو زوہب کا راستہ روکے کھڑا تھا۔۔
"نہیں انکل یہ سفیدی ہوجائے پھر شفٹ ہوں گے گھر والے۔۔"
"بیٹا بات سنو۔۔"
جبار کو وہ دوسری طرف لے گئے اور جب کچھ منٹ بعد واپس آئے تو زوہب کو اندر جانے کی اجازت دہ دی گئی تھی جو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اس گھرکی چوکھٹ کو۔۔۔'
۔
"یہ سب تیاریاں۔۔۔"
"چھوٹے بھائی کی شادی کرنی ہے ہم نے۔۔ بس اسی کی تیاریاں ہورہی ہیں۔۔"
زوہب نے ہاں میں سر ہلایا تھا اور اندر داخل ہونے سے پہلے ایک ہی جگہ اسکے قدم پتھر بن گئے تھے
"کتنی بار کہا ہے کیچڑ والے جوتے دروازے کے پاس اتار کر اندر آیا کرو زوہب۔۔سنتے نہیں ہو نہ۔۔؟ اب بہن پھر سے پوچا لگاتے ہوئے سو باتیں سنائی گی۔۔"
"امی۔۔۔ آپ زوہب کو سنا رہی ہیں یا مجھے۔۔؟؟"
"ہاہاہاہا امی ہم دونوں کو سنا رہی ہیں چھوٹی۔۔۔"
"سر۔۔؟"
کندھے پر ہاتھ رکھا تھا جبار نے جو بے چینی سے انتظار کررہا تھا کہ کب وہ لڑکا گھر سے ہوکر باہر جائے اور وہ ملازموں سے باقی کا کام بھی مکمل کروائے۔۔
"جی۔۔ بس۔۔"
آنکھوں کے آنسو صاف کئیے وہ اندر داخل ہوا تھا
۔
"زوہب میرا ڈاکٹر بیٹا۔۔ تھک گیا ہوگا میں ابھی کھانا گرم کرکے لاتی ہوں۔۔"
"زوہب میرا شیر پتر۔۔"
برآمدے سے ہوتے ہوئے وہ اندر داخل ہوا تھا اتنا بڑا گھر کیسے حاصل کیا تھا ان لوگوں نے۔۔
کتنے پیسے دئیے تھے کبھی تایا کو کبھی چچا کو پھر کہیں جاکریہ وراثتی گھر ملا تھا۔۔
کیا دن تھے چہچہاتا تھا یہ گھر اس کا ہر کونا۔۔ سب کچھ تہہ تھا
یہ کمرہ زوہب کا ہوگا یہ دوسرے بھائی کا۔۔ یہ امی ابو کا۔۔ اور یہ چھوٹی کا۔۔
"اب ہر کمرہ خالی تھا سب کچھ تو خالی تھاکچھ بھی نہیں رہا تھا یہاں کیا وہ لوگ کچھ لے کر بھی گئے تھے کہ سب کچھ بک گیا تھا ان کا۔۔"
ایک سوال جو اسکے دماغ میں بارہا آرہا تھا۔۔
"سب کچھ بک گیا تھا بیٹا۔۔ تمہاری امی کی وفات کے بعد وہ کوشش بھی چھوڑ دی تھی تمہارے گھر والے بس تمہیں جیل سے واپس لانا چاہتے تھے وہ بھی عزت کے ساتھ۔۔
تمہاری امی کی آخری خواہش تھی بیٹا۔۔۔ اور تمہارے ابو نے سب قربان کردیا۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"مرحا۔۔۔"
"ابو۔۔۔"
"میں نے بہت مشکل سے تمہیں معاف کیا ہے اب اپنے شوہر کو مایوس نہ کرنا۔۔ ہاتھ جوڑتا ہوں تمہارے۔۔۔"
سعید صاحب نے ایک فائل اپنے داماد کے ہاتھوں میں تھما دی تھی۔۔۔
"مبارک ہو پوتے کی بہت بہت سعید صاحب۔۔۔"
"مرحا۔۔۔"
مرحا کے شوہر نے اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر اس بچے کو اسکی گود میں لٹا دیا تھا۔۔
۔
"تھینک یو۔۔۔" مرحا کے کانوں میں سرگوشی کئیے حاشر بھی پاس بیٹھ گیا تھا اور پاس کھڑے مرحا کے گھر والوں نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔
اتنی پریشانی اور بدنامی کے بعد انکی بیٹی کی زندگی انکی زندگی واپس ٹریک پر آگئی تھی۔۔۔
۔
اور مرحا جس کے ماتھے پر ایک شکن نہ تھا کہ اسکی خوشیاں تو اسے مل گئی مگر اس گھر کا کیا جو برباد ہوگیا اسکے ایک بیان پر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"زوہب۔۔"
وہ گلی کے اسے کارنر پر بیٹھ گیا تھا جہاں وہ بیٹھتا تھا جہاں اسکے دوست ہوتے تھے مگر اب کوئی دوست اسے دیکھ کر بھی ان دیکھا کرکے وہاں سے گزر رہا تھا۔۔
سر کو ہاتھوں میں پکڑے وہ کڑہی دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا جب دو لڑکے اسکے پاس آکر بیٹھ گئے تھے
"ہم جانتے ہے تو ہمیں بہت پہلے چھوڑ چکا ہے زوہب مگر ہم ابھی بھی تجھے اپنا دوست مانتے ہیں۔۔۔ یہ لے۔۔ اور اپنا بدلہ لے لے۔۔ اس بےوفا لڑکی کو مزہ چھکا دے۔۔ تاکہ سارے معاشرے میں لوگوں کو پتہ چلے کہ کیا سزا ہوتی ہے۔۔۔"
اپنی کمر سے ایک پسٹل نکال کر اس لڑکے نے زوہب کی کمر پر لگا دی تھی
"ہم تجھے بچا لیں گے۔۔ ہمارے بھائی جن کا تجھے بتایا تھا۔۔ وہ بھی تجھے پناہ دہ دیں گے۔۔یہ نمبر اور پتہ۔۔ کام تمام کرکے آجا۔۔۔"
۔
اور وہ لوگ چلے گئے تھے۔۔۔زوہب نے ایک نظر اپنے گھر کو دیکھا اور ایک نظر اس گلی کو۔۔۔
اور وہ ایک الگ غصے میں اٹھا تھا وہ چل دیا تھا سے۔۔۔۔
۔
پیدل ہی وہ نکلا تھا۔۔۔ وہ بدلہ لینا چاہتا تھا وہ سزا دیناچاہتا تھا وہ سب کچھ کرنا چاہتے تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"زوہب۔۔۔"
پروفیسر احمد حیران ہوئے تھے زوہب کو یونیورسٹی گیٹ پر کھڑا دیکھ کر۔۔
۔
"سر میں اپنی سکالرشپ واپس حاصل کرنا چاہتا ہوں جو فائنلز مجھ سے مس ہوئے تھے میں وہ واپس دینا چاہتا ہوں۔۔"
جب زوہب کے پاس سٹوڈنٹس کا ایک ہجوم جمع ہونے لگا تو وہ اسکا ہاتھ پکڑے وہاں سے اپنے آفس میں لے گئے تھے
"تمہارا دماغ ٹھیک ہے زوہب۔۔؟؟ تم واپس کیوں آئے ہو۔۔؟ کیا کوئی کمی رہ گئی تھی اس ادارے کو بدنام کروانے میں۔۔"
"سر۔۔؟؟"
تمہارا تو کوئی نام نہیں تھا مگر اس ادارے کا تھا۔۔ جانتے ہو جب ہیڈ لائینز چل رہی تھی تو کیا چل رہا تھا کہ فلاں ادارے کے طالبعلم نے یہ کام کردیکھایا۔۔
تم جانتے ہو میری نوکری تک داؤ پر لگ گئی تھی کیونکہ میں ہی تھا جس نے گارنٹی دی تھی تمہاری۔۔۔"
"احمد سر۔۔"
"جاؤ زوہب یہاں سے ویسے بھی سٹوڈنٹ میٹنگ چل رہی ہے ٹرسٹی آئے ہوئے ہیں۔۔ کسی نے دیکھ لیا تو میرے لیے بھی اچھا نہیں ہوگا۔۔"
سر نے تو کیبن سے باہر جانے کا کہہ دیا تھا مگر وہ مین ہال میں چلا گیا تھا جہاں میٹنگ چل رہی تھی ہزاروں کی تعداد میں سٹوڈنٹ بیٹھے ہوئے تھے اور فرنٹ پر اس ٹیبل پر بیٹھے وہ پانچ لوگ جن کے ٹیبل پر وہ پسٹل نکال کر رکھ دیا تھا زوہب نے۔۔۔
"یہ تو وہی ہے جس نے لڑکی بھگائی تھی۔۔"
چیم گوئیاں ہوئی تو ان لوگوں نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور سیکیورٹی کو بلایا تھا کہ وہ زوہب کو دھکے دے کر باہر نکال دے۔۔۔۔
۔
آپ کی یونیورسٹی میں اینٹری ٹیسٹ دیتے ہوئے ٹاپ کیا تھا میں نے۔۔۔ اسی یونیورسٹی کے اساتذہ نے میری کارکردگی دیکھ کر دعوے کئیے تھے کہ میں اس کا نام روشن کروں گا۔۔
میں نے بہت محنت کی۔۔ بہت زیادہ۔۔ فائنلز کے لیے۔۔۔ میری سکالرشپ کے لیے۔۔۔
مجھے بس ایک موقع چاہیے۔۔ بس۔۔"
"اگر تم احساس ہوتا تو تم وہ حرکت کبھی نہ کرتے۔۔ تم جیسے سٹوڈنٹ کا کچھ نہیں جاتا ادارے بدنام ہوجاتے ہیں۔۔۔دفعہ ہوجاؤ۔۔۔"
"دیکھیں سر۔۔۔"
"دیکھیں مسٹر زوہب۔۔۔آپ ایک مجرم سے زیادہ کچھ بھی نہیں رہے۔۔"
"سر میں باعزت بری ہوا ہوں۔۔ میرے پاس ثبوت ہیں اپنی بےگناہی کے۔۔۔"
وہ چلایا تھا۔۔۔اور واپس مڑ کر ان سٹوڈنٹس کی طرف دیکھا تھا۔۔
"میں مانتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی گناہ ہوا۔۔ پڑھائی کی عمر میں میں نے عشق کرنے جیسی غلطی کی۔۔ اور عشق کو مکمل کرنے کے لیے نکاح کرلیا۔۔"
اس نے واپس ان ٹیچرز کی طرف دیکھا
"میں ایک موقع مانگ رہا ہوں سر۔۔۔ بہت مشکل سے گھر سے یہاں تک کا سفر کیا ہے۔۔
میں دل اور دماغ کی جنگ لڑتے ہوئے یہاں تک آیا ہوں۔۔۔
ایک امید۔۔ ایک روشنی کی کرن دہ دیں مجھے۔۔۔ بس ایک۔۔ اگر آپ لوگوں نے مجھے موقع نہ دیا تو میں قاتل بن جاؤں گا مجرم بن جاؤں گا۔۔ میں ان رستوں پر نکل جاؤں گا جہاں صرف اندھیرا ہوگا۔۔۔ مجھے ایک امید دہ دیں۔۔ میں مجرم نہیں بننا چاہتا میں قاتل نہیں بننا چاہتا میں اپنی ماں کا ڈاکٹر بیٹا بننا چاہتا ہوں۔۔ اپنے بابا کا شیر پتر اپنی بہن کا عزت دار بھائی۔۔۔پلیز۔۔۔"
وہ ہزار لوگوں میں ہاتھ جوڑے کھڑا ایک موقع مانگ رہا تھا۔۔
"ایم سوری۔۔۔"
سٹریٹ فارورڈ جواب مل گیا تھا۔۔۔
اسکا چہرہ بھر چکا تھا اسکے آنسوؤں سے۔۔۔
"پلیز میں آخری موقع مانگ رہا ہوں۔۔ پلیز۔۔۔"
وہ تڑپ اٹھا تھا اور اسی وقت سیکیورٹی اسے بازؤں سے گھسیٹتے ہوئے ہال سے باہر لے گئے تھے
"ایم سوری سٹوڈنٹ۔۔"
"زوہب کا ریکارڈ بیسٹ رہا پھر اسے موقع کیوں نہیں مل رہا سر۔۔؟؟"
"اس پر پرچہ کٹا تھا۔۔۔ہماری یونیورسٹی مشہور ہوجائے گی بدنامی میں۔۔"
"وہ پرچہ خارج بھی تو ہوا تھا نہ۔۔؟؟ سر ایک موقع دیں اسے ورنہ معاشرے میں ایک مجرم ایک قاتل پیدا ہوجائے گا جب ہم لوگ اسے اپنانے سے انکار کررہے ہیں تو کون اپنائے گا۔۔؟؟ وہ جرم پیشہ وار جنہیں تلاش ہوتی ہے ایسے نوجوانوں کی۔۔"
"ہم فیصلہ سنا چکے ہیں ہم نہیں دیں گے وہ سکالرشپ ۔۔"
اوکے میں بھی جارہا ہوں۔۔ اس یونیورسٹی سے میں بھی فائنل میں نہیں بیٹھوں گا۔۔"
وہ سٹوڈنٹ جو پچھلے پانچ منٹ سے بحث کررہا تھا وہ اٹھ کر باہر چلا گیا تھا۔۔۔
زوہب کا ہاتھ پکڑ کر اس نے روک دیا تھا
"تم اکیلے نہیں ہو بھائی۔۔"
اور جب پیچھے دیکھا تو اس ہال سے سب طالبعلم باہر اسکے پیچھے کھڑے تھے۔۔۔
"زوہب کو سکالرشپ ملے گی تو ہی ہم فائنل میں بیٹھے گے۔۔۔"
اونچی آوازوں کا غلبہ چھا گیا تھا اس وقت۔۔۔
اور زوہب کو کچھ منٹ میں ہیڈ آفس بلا لیا گیا تھا۔۔۔
وہ ایک موقع جو اسکی نجات تھا اسکے ہاتھ میں تھما دیا گیا تھا۔۔
وہ پیپرز وہ ری اینٹری اور سکالرشپ۔۔۔
"میں وہ سب کچھ بن کر دیکھاؤں گا جس کے خواب آپ نے دیکھا تھا امی ابو۔۔
میں وہ ڈاکٹر بیٹا بن کر دیکھاؤں گا آپ کو۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
16/07/2023
ناول: لاوارث
رائٹر: سدرہ شیخ
قسط نمبر 2
۔
"کسی کی بیٹی کو بھگایا ہے۔۔ لڑکی نکالی ہے اور اب جیل میں ہے اغوا کا مقدمہ چل رہا زنا بلجبر جیسے سنگین الزامات ہے انکے بیٹے پر۔۔۔"
۔
۔
"رمضان المبارک بس آنے والا ہی ہے بیگم۔۔ یہ راشن محفوظ کرلو۔۔ اور یہ کچھ پیسے بھی۔۔"
"کتنا مزہ آئے گا نہ سحری اور افطاری کا۔۔سب ساتھ ساتھ روزہ رکھے گے اور افطار کریں گے"
"زوہب کے فائنلز ہورہے ہیں اسے تو سکالرشپ مل جائے گی۔۔ اسکے تو پروفیسر نے ابھی سے مبارک باد دہ دی ہے مجھے۔۔"
۔
"راحت بہن روزہ افطار کرلو کب تک ایسے ہی دیکھتی رہو گی۔۔؟؟"
کچھ دن پہلے ان حسین یادوں کے چنگل سے باہر کھینچ نکالا تھا پروین کی باتوں نے انہیں
"دیکھ رہی ہوں اپنا ہنستہ بستہ گھر ویران ہوتے ہوئے۔۔یہ چیزیں زوہب کے ابو لیکر آئے تھے اور یہ سب ۔۔"
چادر کے پلو میں چہرہ چھپائے وہ ماں ایسے رونے لگی تھی۔۔
"زوہب کیا کمی رہ گئی تھی۔۔ کیا کچھ نہیں کیا ہم نے کیا کچھ۔۔"
افطاری کے اس وقت جہاں ہر سو خوشی کا سماء تھا وہی اس گھر میں صفحہ ماتم بچھی ہوئی تھی
"امی بس کرجائیں ابو اچھی خبر لیکر آئیں گے۔۔۔"
"اب کچھ اچھا نہیں ہونے والا بیٹا۔۔ کسی کی بیٹی بھگانا کوئی آسان کام نہیں اوپر سے کیس بھی عدالت میں چلا گیا ہے۔۔"
خالہ نے بھانجی کے سر پر ہاتھ رکھا تھا اور اس وقت ان دونوں ماں بیٹی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ خالہ انکی خیر خواہ تھی یا دشمن جو ایک ساتھ تسلی بھی دے رہی تھی اور طنز کے تیر بھی چلا رہی تھی۔۔
۔
"ماں باپ بوڑھے ہوجاتے ہیں بیٹا جوان اور کرتے کرتے۔۔۔
اور بیٹا جوان ہوکر ڈاکٹر انجینئر بننے کے بجائے ایک عاشق بن جاتا ہے"
"انہی کے لڑکے نے لڑکی نکالی ہے اب وہ لوگ انکی ناک کی لکیریں نکلوا رہے ہیں آج پہلی تاریخ تھی ۔۔
وہ باپ کو سنبھالے گلی میں داخل ہوا تھا
"زوہب تو بہت اچھا تھا پھر اتنی گندی حرکت کردی۔۔"
"بس کیا کریں جی باپ کو بہت غرور تھا اپنے بیٹوں پر لے ڈوبا یہ غرور۔۔ اس نے ڈاکٹر بننا تھا۔۔؟"
کچھ اور قدم جو صدیوں جیسے ٹھہرے ان قدموں کا فاصلہ تہہ کئیے وہ لوگ گھر پہنچ ہی گئے۔۔
"ابو زوہب بھائی آئے ہیں ساتھ۔۔؟ کہاں ہے۔۔؟"
"سادیہ پانی کا گلاس لے کر آؤ ابو نے روزہ افطار نہیں کیا۔۔"
یہ بات بڑے بیٹے نے کہہ دی تھی پر کسی قیامت کی طرح تکلیف دہ تھی
"ابو میں ابھی لیکر آئی۔۔"
"پتہ نہیں ہمارے بیٹے نے کچھ کھایا ہوگا یا نہیں کھایا ہوگا مجھے اسکے پاس لے جائیں گے زوہب کے ابو۔۔؟؟"
وہ پاس آکر بیٹھی تو واجد صاحب نے بھی اپنی بیوی کو دیکھ کر ہاں میں سر ہلایا تھا
"کیا آپ دونوں ابھی بھی اس بےغیرت کے پاس جائیں گے۔۔؟ ابو امی آپ کیوں سوچ رہے ہیں اسکا۔۔؟ اس نے سوچا تھا آپ کا۔۔؟؟ نہیں سوچا تھا آپ بھی مت سوچیں۔۔ بھول جائیں۔۔سب کچھ۔۔"
"اولاد جیسی بھی ہو کاٹ کر نہیں پھینکا جاسکتا۔۔ میں کیس لڑوں گی اپنے بیٹے کا۔۔
واجد ہم دونوں اسے اس دلدل سے بچا کر لائیں گے ایک آخری بار۔۔ زوہب کے ماں باپ بنے گے ہم دونوں۔۔؟؟"
آنکھوں سے بہتے آنسو چہرہ دھندلا کرگئے تھے اس وقت سب کا
"ایک آخری بار بیگم۔۔ ہم اسکے ماں باپ بنے گے۔۔"
۔
اور اس دن کے بعد وہ لوگ اپنے غم و غصے کو بھول کر اپنے بیٹے کو بچانے کی تگ و دو میں لگ گئے تھے
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
"اس گشت۔۔۔۔۔ اسے گولی مار دوں گا میں۔۔۔"
"اسے گھر میں آنے دیں سعید بھائی ہم محلے میں تماشا نہیں بنے گے۔۔"
چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کا ہاتھ پکڑا تھا
"یہ میرے گھر میں ایسے داخل نہیں ہوگی پہلے اسکا میڈیکل کروا کر لاؤ اگر اس نے اپنی حدیں پار کردی تو اسے وہی دفنا کر آجانا۔۔"
بڑے تایا جان کے فیصلے نے سب پر خاموشی ساد دی تھی۔۔
مگر وہ بھی کرسی رکھ کر بیٹھ گئے تھے دروازے پر اور اسی وقت اسے گھر سے باہر لے گئے تھے میڈیکل چیک اپ کے لیے۔۔۔
۔
میڈیکل تو کلیر تھا اس بچی کا ان دونوں نے بھاگ کر وہ غلطی تو کردی تھی مگر وہ گناہ ان سے سرزرد نہیں ہوا تھا جو کہ گناہ نہیں تھا کیونکہ وہ تو نکاح میں تھے۔۔۔
لیکن اتنے دن ساتھ رہنے کے باوجود انہوں نے ایسی حماقت نہیں کی تھی جو کسی نعمت سے کم نہ تھی زوہب کے لیے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"تم نے پہلے کہا تھا کہ تم نے کچھ نہیں کیا پھر یہ میڈیکل میں یہ سب کیا ہے زوہب۔۔؟"
بھائی نے وہ کاغذات زوہب کے منہ پر مارے تھے جبکہ والد وہی حوالات کے پاس سر جھکائے کھڑے تھے
"بھائی۔۔ میں نہیں جانتا۔۔۔ امی کی قسم ہم نے۔۔۔ کچھ نہیں کیا۔۔"
وہ آدھے ادھورے الفاظ میں بات مکمل کرچکا تھا
"یہ تیسرا وکیل ہے جو واک آؤٹ کرگیا ہے زوہب۔۔ کہاں سے لیکر آئیں وکیل۔۔؟؟
ہاں کیوں وبال جان بن گئے ہو گھٹیا انسان۔۔ " بھائی نے گریبان پکڑ کر سیل کے قریب کیا تھا اسے۔۔
"بھائی۔۔امی کہاں ہے۔۔؟"
"پندرواں روزہ ہے اور ہمارے گھر سحری اور افطاری کے وقت دستر خواں خالی رہتا ہے وہی حال امی کا ہے۔۔۔ "
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"وہ لوگ لڑکی عدالت میں پیش نہیں کررہے۔۔ اور میڈیکل دیکھنے کے بعد جج اور بھی سخت ہوگیا ہے۔۔ کل کی تاریخ میں اسکی ضمانت کروانے کی ایک اور کوشش کریں گے اگر ضمانت منظور ہوگئی تو ٹھیک ورنہ اسے قید خانے منتقل کردیا جائے گا اور کیس لٹک جائے گا۔۔"
۔
وکیل صاحب کی آواز بیٹھک سے باہر تک آرہی تھی جہاں ماں اور بہن کان لگائے کھڑی تھی
"امی روئیں مت دعا کریں۔۔ امی وہ ذکر کریں ۔۔ درود تنجینا پڑھیں گے ہم انشاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔"
وکیل صاحب کے جاتے ہی سادیہ نے زوہب کا کمپیٹور آن کیا اور فیس بک سے اس نے بھائی کے کیس پر ری سرچ شروع کردی۔۔
۔
وہ اس رات کتنے وکلا کا نمبر نوٹ کرچکی تھی کتنے وکیلوں کو فیس بک پر میسج کرچکی تھی۔۔
ہر طرف سے مایوسی ملی مگر ایک وکیل کی ایک بات نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔
وہ بات جس کا سچ ہوتا اسے تو دیکھائی نہیں دیا تھا۔۔
۔
اگلی صبح۔۔۔
۔
"ابو ہم جو یہاں وہاں سب جگہ گھوم رہے ہیں سات لاکھ بس انہی دنوں میں لگ چکا ہے کیوں نہ ہم مین مدعے کی طرف جائیں۔۔؟؟"
"کیا مطلب بیٹا۔۔؟؟"
"ابو 'ایف آئی آر' کوئیش کروائی جائے۔۔؟؟"
جب بھائی اور والد کو سمجھ نہ آئی تو اس نے والد کا ہاتھ پکڑ کر وہ وکیل کی بات بہت تفصیل سے سمجھائی۔۔
"ابو ایک جھوٹی ایف آئی آر ختم کروانے کو کوئشمنٹ کہتے ہیں۔۔ زوہب نے نکاح پسند سے کیا ہے۔۔ اگر ہم یہی بات عدالت میں ثبوتوں کے ساتھ ثابت کردیں تو ایف آئی آر ختم ہوجائے گی۔۔"
۔
"ہمم۔۔ مگر۔۔ "
"لیکن کیا ابو۔۔؟؟"
"لیکن میں کسی الگ وکیل سے بات کروں گا۔۔ مجھے ان میں سے کسی پر بھی یقین نہیں رہا اب عین پیشی والے دن وکیل کیس چھوڑ جاتا ہے۔۔"
۔
"سادیہ بیٹا وہ سیٹ لا دو اپنے ابو کو۔۔ میں جانتی ہوں آپ کے پاس پیسے نہیں ہوں گے واجد صاحب۔۔"
بیٹی جلدی سے گئی اور وہ سونے کا سیٹ الماری سے لے آئی تھی
"راحت یہ سادیہ کے جہیز کے لیے بنوایا تھا۔۔۔"
"ابو پھر سے بن جائے گا۔۔ بھائی پھر سے نہیں آئے گا۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
وہ شریف آدمی انہیں شاید معلوم نہیں تھا یہ کورٹ کچہری کے معاملات تھے یہاں مقدمے جب چلتے تھے تو ایسے ہی چلتے تھے۔۔
۔
کل عدالت میں جانے سے پہلے واجد صاحب نے ایک کام کیا تھا انہوں نے ایک وکیل کروایا تھا اس ایف آئی آر کو ختم کروانے کے لیے۔۔۔ جو سیٹ بیچ کر پیسے ملے آدھے پیسے اس وکیل کو دہ دئیے تھے اور آدھے اِس وکیل کو۔۔
۔
اتنی دیر ہوگئی ہے بیٹا فون کرو۔۔ضمانت ہوگئی۔۔؟"
ماں مصلحے سے اٹھی بے چینی کی حالت تھی تسبیح پکڑے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے کہ اچانک سے دروازہ کھلا اور ایک محلے دار بھاگتی ہوئی اندر آئی۔۔
"راحت بھابھی ٹی وی دیکھا۔۔؟؟ نیوز چل رہی آپ کا زوہب عدالت سے بھاگ گیا ہے۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"تجھے جیل میں پوچھیں گے تو بس یہاں سے نکل۔۔"
بیٹا ایک بار ہماری بات سن لو۔۔ سعید صاحب میں معافی مانگتا ہوں ہاتھ جوڑتا ہوں میرے بیٹے سے یہ کیس ہٹا دیں۔۔
"ایک اور لفظ نہیں۔۔ بے غیرت لوگوں۔۔ تمہارے بیٹے نے جو جرات کی ہے تمہاری سات نسلوں کو بھگتنا پڑے گا جیسے میری بیٹی کو بدنام کیا ہے تیری بھی بیٹی ایسے بدنام ہوگی۔۔"
واجد صاحب کو جیسے ہی دھکا دیا تھا انکی عینک نیچے گر گئی تھی۔۔
"ہمت کیسے ہوئی میرے باپ پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔؟ "
زوہب نے پولیس والوں کو پیچھے جھٹک دیا تھا اور سعید صاحب کے ساتھ کھڑے مرحا کے اوباش کزن کو مارنا شروع کردیا تھا۔۔
پانچ منٹ میں وہاں ایک مجمع جمع ہوچکا تھا۔۔زوہب کسی طرح قابو نہیں آرہا تھا۔۔
پولیس والوں نے لڑائی چھڑوانے کی کوشش کی جب زوہب اور اسکے والد کا ہاتھ پکڑ کر کوئی پیچھے لے گیا تھا۔۔
"اپنے بیٹے کو لیکر یہاں سے نکل جاؤ۔۔ ان لوگوں نے تمہارے بیٹے کو مار دینا ہے۔۔
جب تک اس کیس سے بری نہیں ہوتا کسی پر بھی یقین نہ کرنا۔۔بالکل بھی نہیں۔۔۔"
وہ شخص وہاں سے چلا گیا تھا مگر عدالت کے اس راستے چھوڑ کرگیا تھا جہاں کوئی گارڈ نہیں تھا کھڑا۔۔
"چل زوہب بیٹا۔۔۔"
وہ باپ بیٹا وہاں سے نکل تو گئے مگر اسکے بعد ایک لمبا سفر تھا جو زوہب نے تاریکیوں میں گزار دیا تھا۔۔۔
"ابو۔۔۔"
وہ جیسے ہی ایک سنسان جگہ پہنچے زوہب والد کے پاؤں میں گر چکا تھا۔۔۔
"ابو معاف کردیں۔۔"
"جب پولیس گھر تک آئی تو لگا تھا کہ کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑا نہ ہوا ہوگا حالانکہ کبھی تم نے کسی کو گالی تک نہیں نکالی مگر میں اپنے آپ کو دلاسہ دے رہا تھا۔۔
مگر جب انہوں نے کہا کہ کسی لڑکی کو اغوا کرلیا تو زوہب ایک ہی بات گونج رہی تھی
کہ معاملہ کچھ اور ہے۔۔۔ میں اپنے خون اور تمہاری ماں کی تربیت کی گواہی دے سکتا ہوں زوہب مگر تم نے۔۔۔ہم میاں بیوی نے ایک فیصلہ کیا ہے زوہب۔۔۔"
"ابو۔۔۔"
آنسو صاف کرکے وہ فورا اٹھا تھا
"ہم میاں بیوی کا یہ آخری فرض ہوگا تمہیں لیکر زوہب۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"زوہب ابھی سامنے نہ آئے۔۔ ابھی وقت لگے گا۔۔ "
"اور کتنا وقت تین سال ہوگئے ہیں اس کیس کو بھی۔۔وکیل صاحب۔۔ زوہب کو اشتہاری قرار دے چکے ہیں۔۔ اس لڑکی کی منگنی ہوگئی ہے اسکے کزن کے ساتھ اور یہاں میرا بیٹا چھپتا پھر رہا ہے۔۔"
"آپ بات کو سمجھیں۔۔ میں نے تو آپ کو یہ بھی کہا تھا کہ زوہب سرنڈر کردے پولیس کو۔۔ ہمیں آسانی ہوجائے گی۔۔"
"میرا بیٹا جیل نہیں جائے گا۔۔ وہ مجرم نہیں۔۔"
مگر وہ مجرم بن چکا ہے 365 بی کے ساتھ ساتھ کتنی دفعات ہیں اس پر۔۔۔
میں آپ سے پیر کے دن ملوں گا میری ہیرنگ ہے ایک اور۔۔ اور پلیز میری فیس جمع کروا دیجئے گا۔۔"
وہ اپنے چیمبر سے چلے گئے تھے واجد صاحب کو وہاں اکیلا چھوڑ کر۔۔
۔
"ابو آپ آگئے۔۔۔ ابو آج پوسٹ کے زریعے یہ کاغذات آئے ہیں۔۔؟؟ کچھ عدالتی۔۔"
"یا اللہ رحم کچھ اور ہی کاروائی نہ کروا دی ہو۔۔"
"واجد صاحب زوہب تو محفوظ جگہ پر ہے نہ۔۔؟ کب ملنے جائیں گے۔۔؟؟"
"ابھی نہیں بیگم۔۔ ہم پر سعید کے غنڈوں کی نظریں ہیں وہ زوہب کو دیکھتے ہی مار دیں گے ابھی اسکا سامنے آنا ٹھیک نہیں۔۔۔میں ان کاغذات کو رستم صاحب کے پاس لے جارہا ہوں انکا وکیل اعتماد کے لائق ہے۔۔۔
۔
وہ کاغذات کا بنڈل اٹھا کر لے گئے تھے۔۔۔انہیں معلوم نہیں تھا کہ انکی زندگی میں ایک جیتا جاگتا معجزہ رونما ہوچکا تھا۔۔۔
۔
"واجد۔۔۔ اللہ نے تم لوگوں کو دودھ میں سے مکھی کی طرح باہر نکال دیا ہے۔۔
یعنی جس ایف آئی آر پر یہ سب ہورہا تھا جو اغوا کا پرچہ تھا وہ جھوٹا قرار پایا ہے۔۔ تمہارے وکیل نے ایف آئی آر کوئشمنٹ کی درخواست دی تھی۔۔ لڑکی کے میسیجز اور موبائل ڈیٹا۔۔ سب عدالت پیش کیا گیا ہے۔۔ جس رخ کیس کیا گیا تھا وہ تو جھوٹا ثابت ہوگیا۔۔۔
اور نکاح۔۔۔ واجد تمہارے بیٹے نے بیان تو نہیں لئیے مگر یہ نکاح نامہ یہ سچا ہےجس کی وجہ سے عدالت نے وہ پرچہ خارج کردیا ہے۔۔۔ تمہارا بیٹا بے گناہ ثابت ہوگیا ہے۔۔
"کیا سچ میں۔۔؟؟"
"ہاں۔۔۔ مگر ابھی زوہب سامنے نہ آئے۔۔ اگر پرچہ خارج ہوا ہے تو نکاح کو ختم کروائیں گے وہ لوگ۔۔"
اور ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔ کچھ عرصہ تو مرحا کے گھر والوں نے کوئی کاروائی نہ کی مگر ہھر تنسیخ نکاح کی درخواست دہ دی تھی۔۔۔
۔
"عدالت میں پیش ہوئی تھی وہ لڑکی عدالت نے اس سے پوچھا تھاتو اس نے صاف جواب دہ دیا کہ اسے اس نکاح میں نہیں رہنا۔۔"
وہ سب باتیں کررہے تھے اورزوہب خاموشی سے سن رہاتھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
ایک سال بعد۔۔۔۔۔
۔
۔
"اس لڑکی کی شادی اسکے کزن کے ساتھ ہوگئی ہے۔۔"
"زوہب آج تم ہر الزام سے ہر مقدمے سے بری ہوگئے ہو۔۔۔"
سورج کی روشنی آنکھوں میں پڑتے ہی اس نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔۔
کتنے وقت کے بعد وہ اس گمنامی کی زندگی سے باہر آیا تھا۔۔۔
یہاں وہ مجرم بنا اشتہاری بنا۔۔ اغوا کار بنا زانی تک بنایا گیا۔۔۔
اور وہ لڑکی وہاں کسی کی دلہن بن کر عزت کی زندگی گزارنے لگی۔۔۔
۔
زوہب کے والد نے زوہب کا ہاتھ پکڑا تھا اور اسے اپنے دوست کے گھر سے باہر لے آئے تھے جہاں چھپا کر رکھا تھا بیٹے کو۔۔۔
۔
"زوہب۔۔۔ میں نے تمہاری ماں کے ساتھ اپنے وعدے کو پورا کردیا۔۔۔
اور یہ ہم دونوں میاں بیوی کا آخری فرض بھی پورا ہوگیا۔۔۔"
بات کرتے ہوئے بیٹے کا ہاتھ پکڑا تھا اور اسے وہ لے گئے تھے میانی صاحب والے قبرستان۔۔
"ابو۔۔۔آپ مجھے گھر لے جارہے تھے۔۔ امی سے ملوانے۔۔۔"
"وہیں لے جارہا ہوں بیٹا۔۔۔تمہاری ماں نے انتظار کیا۔۔ بہت انتظار کیا۔۔۔
تھک گئی تھی وہ جیسے میں تھک گیا ہوں۔۔۔لو۔۔ زوہب کی امی۔۔ آگیا تمہارا سپتر۔۔۔"
زوہب کا ہاتھ چھوڑا تو وہ گھٹنوں کے بل گر چکا تھا ماں کی پاؤں میں۔۔
"امی۔۔۔"
"زوہب جوانی میں تم نے عاشق بن کر جو گناہ کیا بھاگ کر نکاح کرنے کا اپنے ماں باپ کا سوچے بغیر۔۔ دیکھ لو ۔۔ایک محبت نے کتنا کچھ برباد کردیا۔۔۔
اور ہاں بیٹا گھر مت جانا وہ بیچ دیا تھا وکیل کی فیس دینی تھی۔۔۔
تمہاری بہن دارلآمان میں ہوتی ہے۔۔ بھائی داتا صاحب کے پاس مزدوری کرتا ہے اور رات وہی سو جاتا ہے۔۔۔"
زوہب کی رونے کی آوازیں دور تلک جارہی تھی باپ کو جاتے دیکھ اس نے ایک ہی بات پوچھی تھی
"اور آپ۔۔۔ آپ کہاں ہوتے ہیں ابو۔۔۔"
"میں یہیں تمہاری ماں کے پاس رات کو یہاں قبرستان آنے نہیں دیتے تو وہ سامنے فٹ پارتھ پر سو جاتا ہوں صبح یہاں ان گورکنوں کی مدد کرتا ہوں تو منع نہیں کرتے یہاں آنے سے۔۔"
۔
وہ جو رو رہا تھا وہ کون تھا۔۔؟؟ ایک ناکام عاشق یا ناکام بیٹا۔۔؟؟
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔