Eislamic education center
Online quran and islamic studies academy.
انسان کتنا ہی سیدھا اور نیک کیوں نہ ہو اگر اس کا عکس دکھانے والا ٹیڑھا اور بددیانت ہو تو حقیقت بگڑ جاتی ہے اس لیے ہر سنی سنائی بات پر یقین مت کرو کیونکہ آئینہ صاف نہ ہو تو عکس بھی مسخ ہو جاتا ہے۔
سورہ کہف کی تلاوت کرکے درود شریف کا ورد کریں۔
*❁اللَّهُمَّ صَــّلِ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ ❁ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيْمَ ❁ إنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ ❁💚*
*❁ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ ❁ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيْمَ ❁ إنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ ❁💚*
*أنا لست في الحجّاج يا رب الورى*
میں حاجیوں میں شامل نہیں ہوں اے رب الباری
لیکن میرا دل آپ کی محبت میں تکبیر کہتا رہتا ہے
*اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ اللہ اکبر وللہِ الحمد*
🐪*قربانی کے فضائل و مسائل* 🐪
🌹*اَحکامِ شَرعِیہ حصہ سوم*🌹
*ذبیحہ یعنی ذبح شدہ جانور کے سات اعضاء کو کھانے سے منع کیا گیا ہے جو درج ذیل ہیں :*
مرارہ (پِتہ)
مثانہ
محیاۃ (شرم گاہ)
آلہ تناسل
خصیے
غدود
دم مسفوح (بہتا ہوا خون)
*قربانی کے بارے میں احادیث*
1-حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :*کَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم يَکْرَهُ مِنَ الشَّاةِ سَبْعًا : اَلْمَرَارَة، والْمَثَانَةَ، والْمَحْيَاة، والذَّکَرَ، وَالْاُنْثَيَيْنِ، وَالْغُدَّةَ، والدَّمَ، وَکَانَ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَی رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم مُقَّدَّمُهَا۔* (طبرانی، المعجم الاوسط، باب الياءِ من اسمهُ يعقوب، 10 : 217، رقم : 9476،)
*ترجمہ* : نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ذبیحہ کے سات اعضاء کو مکروہ شمار کرتے تھے ، جو یہ ہیں : مرارہ (پِتہ)، مثانہ ، محیاۃ (شرم گاہ) ، آلہ تناسل ، دو خصیے ، غدود اور خون ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بکری کا مقدم حصہ زیادہ پسند تھا ۔
2-نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یوم النحر میں ابن آدم کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ پیارا نہیں، اور (قربانی کا) جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کهروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ لہٰذا اس (قربانی) کو خوش دلی سے کرو ۔ (جامع الترمذی کتاب الاضاحی)
3-نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے خوش دلی سے طالب ثواب ہو کر قربانی کی وہ (قربانی) جہنم کی آگ سے حجاب (روک) ہو جائے گی ۔ ( معجم کبیر رقم الحدیث 2736 جلد 3)
4-نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو پیسہ عید (عیدالاضحیٰ) کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا اس سے زیادہ کوئی پیسہ پیارا نہیں”۔ (معجم کبیر رقم الحدیث 10894)
5-نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے “۔(سنن ابن ماجہ کتاب الاضاحی)
6-نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : افضل قربانی وہ ہے جو با اعتبار قیمت اعلی ہو، اور خوب فربہ ہو “۔ (مسند امام احمد، جلد 5،)
7- نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ مخدومہ کائنات بتول زهرا صلی اللہ تعالیٰ علی ابیہا وعلیہا وبارک وسلم سے ارشاد فرمایا : کهڑی ہو جاؤ اور اپنی قربانی کے پاس حاضر ہو جاؤ کہ اس (قربانی کے جانور) کے خون کے پہلے ہی قطرہ میں جو گناہ ہیں سب کی مغفرت ہوجائے گی ۔ راویِ حدیث حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ (فضیلت) آپ کی آل کےلیے خاص ہے یا آپ کی آل کےلئے بهی ہے اور عامہ مسلمین کےلیے بهی ، فرمایا کہ : میری آل کےلیے خاص بهی ہے ، اور تمام مسلمین کےلیے عام بهی ہے ۔ ( مجمع الزوائد للهیثمی کتاب الاضاحی باب فضل الاضحیہ و شهود ذبحها جلد 4 صفحہ 4)
*قربانی واجب ہونے کی شرائط :*
(1) غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں ۔ (2) اقامت یعنی مقیم ہونا ، مسافر پر قربانی واجب نہیں ۔ (3) تونگری ، یعنی مالکِ نصاب ہونا یہاں مالداری سے مراد وہی ہے جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ۔ (4) حریت ، یعنی آزاد ہونا ، جو آزاد نہیں اس پر قربانی واجب نہیں ۔ قربانی واجب ہونے کےلیے مرد ہونا شرط نہیں ۔ عورتوں پر بهی واجب ہوتی ہے جس طرح مردوں پر واجب ہے ۔ نابالغ پر قربانی واجب نہیں ۔ اور نہ ہی نابالغ کے باپ پر واجب کہ وہ نابالغ کی طرف سے قربانی کرے ۔ (درمختار کتاب الاضحیہ جلد 9)
*مسائلِ قربانی*
حنش روایت کرتے ہیں کہ میں نے شیر خدا علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو دیکها کہ وہ دو مینڈهوں کی قربانی کرتے ہیں، میں نے عرض کی یہ کیا؟ فرمایا “رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجهے وصیت فرمائی کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے قربانی کروں، لہٰذا میں سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے (یہ دوسری) قربانی کرتا ہوں”۔(جامع الترمذی، کتاب الاضاحی،)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قربانی میں گائے سات (7) کی طرف سے اور اونٹ سات (7افراد) کی طرف سے ہے “۔( معجم کبیر رقم الحدیث 10026 جلد10: مجمع الزوائد للهیثمی کتاب الاضاحی باب فی البقرہ والبدنہ جلد 4 صفحہ 9)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے ذی الحجہ کا چاند دیکھ لیا اور اس کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے تو جب تک قربانی نہ کرلے بال اور ناخنوں سے نہ لے، یعنی بال نہ کٹوائے اور ناخن نہ ترشوائے ۔ ( صحیح مسلم، کتاب الاضاحی)
امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے پاس اسی سے متعلق ایک سوال آیا کہ اگر کسی قربانی کرنے والے نے ذی الحجہ کا چاند دیکهنے کے بعد بال کٹوائے یا ناخن ترشوائے تو اس کی قربانی ہوجائے گی یا نہیں، اور ایسا کرنا حکم عدولی کہلائے گا ؟ اس کے جواب میں فرمایا : یہ حکم صرف استحبابی ہے ، کرے تو بہتر نہ کرے تو مضائقہ نہیں، نہ اس کو حکم عدولی کہہ سکتے ہیں، نہ قربانی میں نقص آنے کی کوئی وجہ ، بلکہ اگر کسی شخص نے 31 دن سے کسی عذر کے سبب خواہ بلا عذر ناخن نہ تراشے ہوں نہ خط بنوایا ہو کہ چاند ذی الحجہ کا ہو گیا ، تو وہ اگرچہ قربانی کا ارادہ رکهتا ہو اس مستحب پر عمل نہیں کر سکتا کہ اب دسویں (ذی الحجہ) تک رکهے گا (یعنی بال زیر ناف و تحت بغل اور ناخن) تو ناخن و خط بنوائے ہوئے اکتالیسواں دن ہو جائے گا ، اور چالیس دن سے زیادہ نہ بنوانا گناہ ہے ، فعل مستحب کےلیے گناہ نہیں کر سکتا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 20 صفحہ 353،)
*چار قسم کے جانور قربانی کےلئے درست نہیں*
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چار قسم کے جانور قربانی کےلئے درست نہیں۔ (1) کانا جس کا کانا پن ظاہر ہے۔ (2) بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو۔ (3) لنگڑا جس کا لنگ ظاہر ہو۔ (4) اور ایسا لاغر جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو”۔(سنن ابوداؤد کتاب الاضاحی، باب مایکرہ من الضحایا)
شیر خدا علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کان کٹے ہوئے، اور سینگ ٹوٹے ہوئے (جانور) کی کی قربانی سے منع فرمایا ۔ (ابن ماجہ کتاب الاضاحی باب مایکرہ من الضحایا)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جانوروں کے کان اور آنکهیں غور سے دیکھ لیں اور اس کی قربانی نہ کریں جس کے کان کا اگلا حصہ کٹا ہو اور نہ اس کی جس کے کان کا پچهلا حصہ کٹا ہو، نہ اس کی جس کا کان پهٹا ہو یا کان میں سوراخ ہو۔(جامع الترمذی،کتاب الاضاحی،باب مایکرہ من الاضاحی)
ام المؤمنین سیدہ صدیقہ بنت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنهما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ” سینگ والا مینڈها لایا جائے جو سیاہی میں چلتا ہو اور سیاہی بیٹهتا ہو اور سیاہی میں نظر کرتا ہو، یعنی اس کے پاؤں پیٹ اور انکهیں سیاہ ہوں”۔ وہ قربانی کےلئے حاضر کیا گیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنها چهری لاؤ، پهر فرمایا اسے پتهر پر تیز کرلو پهر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چهری لی اور مینڈهے کو لٹایا اور اسے ذبح کرنے لگے اور فرمایا، بسم اللہ اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن امت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
ترجمہ : اے اللہ (عزوجل) تو اس کو محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرف سے اور ان کی آل کی طرف سے اور امت کی طرف سے قبول فرما۔( صحیح مسلم، کتاب الاضاحی باب استحباب استحساالضحیہ)
ابوداؤد اور ابن ماجہ میں حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی حدیث پاک میں یہ کلمات بهی ہیں؛ اللھم منک ولک عن محمد و امتہ بسم اللہ واللہ اکبر ۔
ترجمہ : اے اللہ (عزوجل) یہ تیرے لئے ہی ہے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور امت کی طرف سے ۔ (سنن ابوداؤد کتاب الضحایا، باب مایستحب من الضحایا: سنن ابن ماجہ، ابواب الاضاحی، باب اضاحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
نیز حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہی سے مروی ایک حدیث پاک میں یہ کلمات ہیں ” بسم اللہ واللہ اکبر هذا عنی وعمن لم یضح عن امتی ۔
ترجمہ : اے اللہ (عزوجل ) یہ میری طرف سے ہےاور میری امت میں سے اس کی طرف سے ہے جو قربانی نہ کرسکے”۔ ( سنن ابوداؤد، کتاب الضحایا، باب فی الشاتہ یضحی بہا عن جماعتہ،)
خلیفہ اعلی حضرت صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں “یہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بے شمار الطاف میں سے ایک خاص کرم ہے کہ اس موقع پر بهی امت کا خیال فرمایا اور جو لوگ قربانی نہ کر سکے ان کی طرف سے خود ہی قربانی ادا فرمائی”۔
😭حضورﷺ کی بارگاہ میں ایک بیٹے کی اپنے باپ کی شکایت کا ایک سبق آموز اور رقت انگیز واقعہ 😭
👈📖 ایک نوجوان صحابی اور انکے باپ کا قصہ
امام بیہقی نے دلائل نبوت میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے ایک حدیث مبارکہ نقل کی ہے کہ ایک جوان حضورﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا آقا! میرا باپ میرے بغیر پوچھے میرے مال میں سے خرچ کر لیتا ہے اور میری جیب میں سے رقم نکال لیتا ہے۔
آپﷺ نے اس کے باپ کو بلا بھیجا۔
اس نے پوچھا کہ حضورﷺ نے مجھے کیوں طلب فرمایا ہے؟ اسے بتایا گیا کہ تیرے بیٹے نے حضورﷺ کی بارگاہ میں تیری شکایت کی ہے کہ تو اس کے مال میں تصرف کرتا ہے۔
اس کو بہت دکھ ہوا۔ (عرب کی شاعری دنیا میں مشہور ہے) اس نے دل ہی دل میں درد بھرے، دکھ بھرے کچھ اشعار کہے اور انہیں دل ہی دل میں کہتا ہوا دربار رسالت مآبﷺ میں پہنچا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام پہلے ہی آ چکے تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا
یا رسول اللہﷺ! اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ آپ اس سے پہلے کہیں کہ پہلے وہ اشعار تو سنا جو تیری زبان سے تو ادا نہیں ہوئے مگر تیرے رب نے عرشوں پر سن لیے ہیں!
آپﷺ نے اس سے فرمایا کہ پہلے وہ اشعار سنا جو تیری زبان سے تو ادا نہیں ہوئے مگر تیرے رب نے سن لئے ہیں۔
وہ صحابی کہنے لگے۔۔۔ یا رسول اللہﷺ! میں گواہی دیتا ہوں کے آپ سچے رسول ہیں۔ آپ کا رب بڑا طاقتور رب ہے۔ آپ کے رب کی قسم! میری زبان سے انکا ایک لفظ نہیں نکلا، دکھ بھری فریاد تھی۔۔۔ جو دل کی دنیا میں اٹھی اور وہیں دفن ہو گئی۔۔۔ مگر آپ کے رب نے عرشوں پر سن لیا۔
آپﷺ نے فرمایا کہ بھئی سنا تو سہی!
انہوں نے اشعار سنائے جن کا مفہوم اور ترجمہ یہ ہے کہ "میرے بچے! جس دن تو پیدا ہوا۔۔۔اس دن سے ہم نے اپنے لئے جینا چھوڑ دیا۔۔۔ہم نے تیرے لئے جینا شروع کیا، گرمی سے لڑے۔۔۔ سردی سے لڑے۔۔۔ موسموں سے لڑے، حالات کے آہنی جبڑوں سے رزق نکالا، جوانی کو قربان کیا، صحت کو قربان کیا، اپنے جذبات کو سلا دیا ہے، تیرے چہرے کی ایک مسکراہٹ دیکھنے کے لئے ساری ساری رات کام کیا، سارا سارا دن کام کیا، کبھی گرمی میں۔۔۔ کبھی سردی میں، کبھی گرمی سے لڑا۔۔۔ کبھی سردی سے لڑا، کبھی موسم سے لڑا۔۔۔ کبھی بھوک سے لڑا، تجھے کھلایا۔۔۔ خود بھوکا رہا، تجھے پلایا۔۔۔خود پیاسا رہا، تجھے چھاؤں میں لٹایا۔۔۔ خود دھوپ میں بیٹھا، تجھے سکھ پہنچایا۔۔۔ خود دکھ جھیلا، میری زندگی پھر تیرے لئے ہوگئی،
میں نے اپنے لئے جینا چھوڑ دیا، جب کبھی تو بیمار ہوا۔۔۔ تو میں اور تیری ماں ساری ساری رات تیرے سرہانے بیٹھے۔ ہمارے دل دھڑک رہے ہوتے تھے کہ کہیں تو مر نہ جائے۔۔۔ کچھ ھو نہ جائے، انہی خوفناک خیالات میں ہم روتے تھے۔۔۔ پگھلتے تھے۔۔۔ ٹوٹتے تھے، بکھرتے چلے گئے۔۔۔خشک پتے کی طرح اور ۔۔۔۔ تیرے چہرے کے ایک مسکراہٹ کے لئے ساری مسکراہٹ بھول گئے، تجھے صحت مند دیکھنے کے لیے اپنی صحت کے سودے کر دیئے اور۔۔۔۔ اسی طرح ایک دن نہیں گزرا۔۔۔۔ شب و روز گزرے۔۔۔ دن اور رات گزرے۔۔۔لیل و نہار گزرے، رت بدلی۔۔۔ موسم بدلے، بادل، اندھیری اور بارش آئے اور گئے۔۔۔ یہاں تک کہ تو پروان چڑھتا گیا۔۔۔ میں ڈھلتا گیا، تجھ میں جوانی نے رنگ بھرا۔۔۔ اور بڑھاپے نے میرے سارے رنگ نوچ لئے، تو سیدھا کھڑا ہوا۔۔۔ تنے کی طرح اور۔۔۔ میری کمر جھک گئی کمان کی طرح۔۔۔۔ میں آسرے کا محتاج ہوا۔۔۔ تو طاقتور ہو کر جوان ہوا، پھر مجھے خیال آیا کہ میں اس کی انگلی پکڑ کر چلا۔۔۔ گود میں اٹھا کر چلا۔۔۔ کندھے بٹھا کرچلا۔۔۔ ہاتھ بٹھا کر چلا۔۔۔اس کیلئے در در کی ٹھوکریں کھائیں۔۔۔ آج جب میں بوڑھا ہوا ہوں۔۔۔ اب یہ میری انگلی پکڑے گا۔۔۔ میرا ہاتھ پکڑے گا، میں اس کی لاٹھی بنا۔۔۔ یہ میری لاٹھی بنے گا، لیکن۔۔۔۔ ایک دم میرے بیٹے! تیری آنکھیں ماتھے پر چڑھ گئیں۔۔۔ تیرے تیور بدل گئے، تو مجھے یوں دیکھنے لگاجیسے میں تیرا باپ نہیں۔۔۔میں تیرا نوکر ہوں، تو۔۔۔۔ میں نے اپنی زندگی کو جھٹلا دیا۔۔۔ تو۔۔۔۔ میں نے کہا کہ میں خواب دیکھ رہا تھا کہ میں باپ ہوں۔۔۔۔ نہیں نہیں! میں نوکر ہوں۔۔۔ میں پڑوسی ہوں، تو اچھا میرے دوست! اگر میں پڑوسی ہوں۔۔۔ تو پڑوسی کو بھی تو لوگ پوچھ ہی لیتے ہیں، کبھی مجھے پوچھ لیتا کہ بھائی کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ کچھ چاہیے تو نہیں؟
یہ اتنے دردناک الفاظ تھے کہ میرے نبیﷺ روپڑے۔۔۔۔ آپﷺ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ آپﷺ نے اس جوان کو گریبان سے پکڑا اور جھٹکا دیا۔۔۔ اور فرمایا "انت و مالك لابيك" (تو اور تیرا مال سب کچھ تیرے باپ کا ہے)۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Islamabad