Holy Quran

Holy Quran

Share

The Quran is the holy book of the Islamic world. Collected over a 23-year period during the 7th cent

30/03/2021

🌺🌺🌺🌷🌺🌺🌺

*الحدیث النبویﷺ:*

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : *لَا تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ* .

مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ *خیرات کو مت روک ورنہ تیرا رزق بھی روک دیا جائے گا۔*

صحیح البخاری
حدیث نمبر:۱۴۳۳
درجہ:صحیح

🌺🌺🌺🌸🌺🌺🌺

14/10/2020

*سورہ ال عمران آیت ۴۱ ترجمہ و تفسیر*
__________________________________________

*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

*اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا*

*قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةًؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّاتُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّارَمْزًاؕ وَاذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّسَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْكَارِ۠(۴۱)*

ترجمہ کنزالایمان:
*عرض کی اے میرے رب میرے لیے کوئی نشانی کردے فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تین دن تو لوگوں سے بات نہ کرے مگر اشارہ سے اور اپنے رب کی بہت یاد کر اور کچھ دن رہے(شام) اور تڑکے(صبح) اس کی پاکی بول.*

تفسیر ‎صراط الجنان:
{*قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً: عرض کی: اے میرے رب! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما دے*} یعنی *حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حمل ٹھہر جانے کی صورت میں علامت ظاہر ہونے کا عرض کیا تاکہ اس وقت اور زیادہ شکر و عبادت میں مصروف ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیری نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے صرف اشارہ سے بات چیت کرسکو گے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زوجہ کو حمل ٹھہرا تو آدمیوں کے ساتھ گفتگو کرنے سے زبان مبارک تین روز تک بند رہی اور تسبیح و ذکر پر آپ قادر رہے اور یہ ایک عظیم معجزہ ہے کہ جس میں اعضاء صحیح و سالم ہوں اور زبان سے تسبیح و تقدیس کے کلمات ادا ہوتے رہیں مگر لوگوں کے ساتھ گفتگو نہ ہوسکے اور یہ علامت اس لیے مقرر کی گئی کہ اس نعمتِ عظیمہ کے ادائے حق میں زبان ذکر و شکر کے سوا اور کسی بات میں مشغول نہ ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ صالح فرزند ملنے پر رب عَزَّوَجَلَّ کا شکریہ ادا کر نا چاہیے، عقیقہ، صدقہ، خیرات، نوافل سب اسی نعمت کا شکریہ ہے اور چونکہ ہمارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِین اور کائنات کی سب سے عظیم ترین نعمت ہیں اس لئے اس نعمت کا شکریہ ہم میلاد کی صورت میں ہمیشہ ادا کرتے رہتے ہیں۔*

{*وَسَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْكَارِ: اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو*} اگرچہ *ہر وقت تسبیح و تہلیل بہتر ہے لیکن صبح شام خصوصیت سے زیادہ بہتر ہے کہ اس وقت دن رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں نیز آدمی کی صبح کی ابتداء اور انتہاء اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہونی چاہیے۔*

13/10/2020

*سورہ ال عمران آیت ۳۹ - ۴۰ ترجمہ و تفسیر*
___________________________________________

*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

*اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا*

*فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَهُوَ قَآىٕمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَیِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(۳۹)*

ترجمہ: کنزالایمان
*تو فرشتوں نے اسے آواز دی اور وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑا نماز پڑھ رہا تھا بےشک اللہ آپ کو مژدہ دیتا ہے یحیٰی کا جو اللہ کی طرف کے ایک کلمہ کی تصدیق کرے گا اور سردار اور ہمیشہ کے لیے عورتوں سے بچنے والا اور نبی ہمارے خاصوں میں سے.*

تفسیر: ‎صراط الجنان
{*فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓىٕكَةُ: تو فرشتوں نے اسے پکار کر کہ*} یعنی *حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بڑے عالم تھے، بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں قربانیاں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی پیش کیا کرتے تھے اور مسجد شریف میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اجازت کے بغیر کوئی داخل نہیں ہوسکتا تھا، جس وقت محراب میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نماز میں مشغول تھے اور باہر آدمی داخلے کی اجازت کا انتظار کررہے تھے، دروازہ بند تھا، اچانک آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ایک سفید پوش جوان کو دیکھا، وہ حضرتِ جبریل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تھے، انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرزند کی بشارت دی جو ’’اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ‘‘ میں بیان فرمائی گئی۔*
(📚خازن # اٰل عمران/ تحت الآیۃ:۳۹، ۱ / ۲۴۶)

*یہ غیب کی خبر حضرت جبرئیل اور حضرت زکریا عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دونوں کو معلوم ہوگئی۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بشارت ملی کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ایسا بیٹا عطا کیا جائے گا جس کا نام’’یحییٰ‘‘ ہوگا اور وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کلمہ یعنی حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تصدیق کرے گا۔ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کَلِمَۃُ اللہ اس لئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کلمۂ ’’کُن‘‘ فرما کر بغیر باپ کے پیدا کیا۔ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر سب سے پہلے ایمان لانے اور ان کی تصدیق کرنے والے حضرت یحییٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں جو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عمر میں چھ ماہ بڑے تھے۔ حضرت یحییٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسے ملیں تو انہیں اپنے حاملہ ہونے پر مطلع کیا، حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے فرمایا: میں بھی حاملہ ہوں۔ حضرت یحییٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ نے کہا: اے مریم! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا مجھے یوں لگتا ہے کہ میرے پیٹ کا بچہ تمہارے پیٹ کے بچے کو سجدہ کرتا ہے۔*
(📚خازن # اٰل عمران/ تحت الآیۃ: ۳۹، ۱ / ۲۴۷)

{*سَیِّدًا: سردار*} آیت ِمبارکہ میں *حضرت یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے چار اوصاف بیان فرمائے،*
(1) *مصدق*: تصدیق کرنے والا۔ اس کا بیان اوپر گزرا۔
(2) *سید یعنی سردار*: سید اس رئیس کو کہتے ہیں جو مخدوم و مُطاع ہو یعنی لوگ اس کی خدمت و اطاعت کریں۔ *حضرت یحییٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مؤمنین کے سردار اور علم و حلم اور دین میں ان کے رئیس تھے۔*
(3) *حَصُوْرًا: عورتوں سے بچنے والا*۔ حصور *وہ شخص ہوتا ہے جو قوت کے باوجود عورت سے رغبت نہ کرے ۔*
(4) *صالحین میں سے ایک نبی۔*

*قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّقَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَامْرَاَتِیْ عَاقِرٌؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ(۴۰)*

ترجمہ: کنزالایمان
*بولا اے میرے رب میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو پہنچ گیا بڑھاپا اور میری عورت بانجھ فرمایا اللہ یوں ہی کرتا ہے جو چاہے.*

تفسیر: ‎صراط الجنان
{*اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ: میرے ہاں لڑکا کیسے پیدا ہوگا!*} یعنی *حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جب بیٹے کی بشارت دی گئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے تعجب کے طور پر عرض کیا: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، میرے ہاں لڑکا کیسے پیدا ہوگا حالانکہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بھی بانجھ ہے ؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ یوں ہی جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس وقت حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمر (۱۲۰) ایک سو بیس سال کی ہوچکی تھی اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زوجہ کی عمر (۹۸) اٹھانوے سال تھی۔ سوال سے مقصود یہ تھا کہ بیٹا کس طرح عطا ہوگا ؟ آیا میری جوانی واپس لوٹائی جائے گی اور زوجہ کا بانجھ ہونا دور کیا جائے گا یا ہم دونوں اپنے حال پر رہیں گے؟ فرمایا گیا کہ بڑھاپے میں فرزند عطا کرنا اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں لہٰذا اس بڑھاپے کی حالت میں فرزند ملے گا ۔*

12/10/2020

*سورہ ال عمران آیت ۳۸ ترجمہ و تفسیر*
___________________________________________

*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

*اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا*

*هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةًۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ(۳۸)*

ترجمہ کنزالایمان:
*یہاں پکارا زکریا اپنے رب کو بولا اے رب میرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد بے شک تو ہی ہے دعا سننے والا.*

تفسیر ‎صراط الجنان:
{*هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ: وہیں زکریا نے اپنے رب سے دعا مانگی*} یعنی *حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جب اس جگہ پر اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی دیکھی تو وہیں یعنی بیت ُالمقدس کی محراب میں دروازے بند کرکے پاکیزہ اولاد کی دعا مانگی۔*

🔴*آیت ’’هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ‘‘ سے معلوم ہونے والے دعا کے آداب:*

اس آیت سے چند چیزیں معلوم ہوئیں۔

(1) *جس جگہ رحمت ِالٰہی کا نزول ہوا ہو وہاں دعا مانگنی چاہیے جیسے جس مقام پر حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو غیب سے رزق ملتا تھا وہیں حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا مانگی۔ اسی وجہ سے خانہ کعبہ اور تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے روضہ اقدس اور مزاراتِ اولیاء پر دعا مانگنے میں زیادہ فائدہ ہے کہ یہ مقامات رحمت ِالٰہی کی بارش برسنے کے ہیں۔*

(2) *علماءِ کرام نے اس جگہ کو مقبولیت کے مقامات سے شمار کیا جہاں کسی کی دعا قبول ہوئی ہو۔ لہٰذا جہاں اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کا وجود ہو یا جہاں وہ رہے ہوں وہاں دعا کرنی چاہیے کیونکہ اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ بکثرت دعا کرتے ہیں اور ان کی دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں تو جہاں وہ رہے ہوں گے وہاں دعائیں ضرور قبول ہوئی ہوں گی۔*

(3) *حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے پاکیزہ اولاد کی دعا مانگی۔ معلوم ہوا کہ صرف اولاد کی دعا نہیں کرنی چاہیے کہ اولاد تو زبردست آزمائش بھی بن سکتی ہے۔ لہٰذا پاکیزہ کردار و عمل والی اولاد کی دعا کرنی چاہیے تاکہ اس سے دنیا و آخرت کا سکھ ملے۔*

11/10/2020

*سورہ ال عمران آیت ۳۷ ترجمہ و تفسیر*
__________________________________________

*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

*اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا*

*فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّاَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًاۙ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِیَّاؕ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًاۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَاؕ قَالَتْ هُوَمِنْ عِنْدِاللّٰهِؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۳۷)*

ترجمہ کنزالایمان:
*تو اُسے اس کے رب نے اچھی طرح قبول کیا اور اُسے اچھا پروان چڑھایا اور اُسے زکریا کی نگہبانی میں دیا جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے کہا اے مریم یہ تیرے پاس کہاں سے آیا بولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے بے شک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے.*

تفسیر ‎صراط الجنان:
{*فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ: تو اس کے رب نے اسے اچھی طرح قبول کیا*} اللہ تعالیٰ نے *نذر میں لڑکے کی جگہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو قبول فرمالیا اور انہیں احسن انداز میں پروان چڑھایا۔ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا دوسرے بچوں کی بَنسبت بہت تیزی کے ساتھ بڑھتی رہیں۔ حضرت حَنَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے ولادت کے بعد حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیتُ المقدس کے علماء کے سامنے پیش کردیا تاکہ وہ انہیں اپنی کفالت میں لے لیں۔ ان علماء کو بہت معزز شمار کیا جاتا تھا، یہ علماء حضرت ہارون عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے تھے اور بیتُ المقدس کی خدمت پر مقرر تھے۔ چونکہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا حضرت عمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بیٹی تھیں جو ان علماء میں ممتاز تھے اور ان کا خاندان بھی بنی اسرائیل میں بہت اعلیٰ اور صاحب ِعلم خاندان تھا اس لئے اُن سب علماء نے جن کی تعداد ستائیس تھی حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو اپنی پرورش میں لینے میں رغبت ظاہر کی۔ حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ان کا سب سے زیادہ حقدار ہوں کیونکہ میرے گھر میں ان کی خالہ ہیں، معاملہ اس پر ختم ہوا کہ قرعہ اندازی کی جائے چنانچہ قرعہ حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کے نام پر نکلا اور یوں حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کفالت میں چلی گئیں*۔
(📚مدارک # اٰل عمران/ تحت الآیۃ: ۳۷/ صفحہ:۱۵۸)

{*وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا: ان کے پاس نیا پھل پاتے*} اللہ تعالیٰ نے *حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو بہت عظمت عطا فرمائی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس بےموسم کے پھل آتے جو جنت سے اترتے اور حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے کسی عورت کا دودھ نہ پیا۔ جب حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس جاتے تو وہاں بےموسم کے پھل پاتے۔ ایک مرتبہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے سوال کیا کہ یہ پھل تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے؟ تو حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے بچپن کی عمر میں جواب دیا کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے۔ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے یہ کلام اس وقت کیا جب وہ پالنے یعنی جُھولے میں پرورش پارہی تھیں جیسا کہ ان کے فرزند حضرت عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسی حال میں کلام فرمایا۔ حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جب یہ دیکھا توخیال فرمایا، جو پاک ذات حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو بےوقت بےموسم اور بغیرظاہری سبب کے میوہ عطا فرمانے پر قادر ہے وہ بےشک اس پر بھی قادر ہے کہ میری بانجھ بیوی کو نئی تندرستی دیدے اور مجھے اس بڑھاپے کی عمر میں اولاد کی امید ختم ہوجانے کے بعد فرزند عطا فرمادے۔ اس خیال سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا کی جس کا اگلی آیت میں بیان ہے*۔
(📚خازن # اٰل عمران/ تحت الآیۃ: ۳۷، ۱ / ۲۴۶)

🔴*یہ واقعہ مزید تفصیل کے ساتھ سورہ مریم آیت 2 تا 15 میں مذکور ہے۔ مذکورہ بالا آیت سے اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کی کرامات بھی ثابت ہوتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کے ہاتھوں پر خوارق یعنی خلافِ عادت چیزیں ظاہر فرماتا ہے۔*

11/10/2020

*سورہ ال عمران آیت ۳۶ ترجمہ و تفسیر*
__________________________________________

*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

*اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا*

*فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰىؕ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْؕ وَلَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰىۚ وَاِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ(۳۶)*

ترجمہ کنزالایمان:
*پھر جب اُسے جنا بولی اے رب میرے یہ تو میں نے لڑکی جنی اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ جنی اور وہ لڑکا جو اس نے مانگا اس لڑکی سا نہیں اور میں نے اس کا نام مریم رکھا اور میں اُسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں راندے ہوئے شیطان سے.*

تفسیر ‎صراط الجنان:
{*فَلَمَّا وَضَعَتْهَا: تو جب عمران کی بیوی نے بچی کو جنم دیا*} چونکہ *حضرت عمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پہلے ہی اپنے خدشے کا اظہار کرچکے تھے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت کہ بیٹے کی بجائے بیٹی کی ولادت ہوئی اس پر حضرت حَنَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اظہارِ افسوس کے طور پر یہ کلمہ کہا۔ انہیں حسرت و غم اس وجہ سے ہوا کہ چونکہ لڑکی پیدا ہوئی ہے لہٰذا نذر پوری نہیں ہوسکے گی۔*
🚨*آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کا یہ عرض کرنا منت کے پورا نہ کرسکنے پر افسوس کی وجہ سے تھا، اس وجہ سے نہیں کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو لڑکی پیدا ہونے کا افسوس تھا کیونکہ یہ کفار کا طریقہ ہے*۔ لیکن *اللہ تعالیٰ نے جو لڑکی عطا فرمائی تھی اس کے بارے میں فرمایا کہ کوئی لڑکا اس لڑکی کی طرح نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ تمام جہان کی عورتوں سے افضل ہوگی، روحُ اللہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ماں ہوں گی، یہ رب عَزَّوَجَلَّ کی خاص عطا ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض عورتیں بعض مردوں سے افضل ہوسکتی ہیں۔ خیال رہے کہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا اپنے زمانے میں تمام جہان کی عورتوں سے افضل تھیں، یہ نہیں کہ ان کا مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت خدیجۃُ الکُبریٰ اور حضرت فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے بھی بڑھکر ہو۔ مریم کے معنی عابدہ اور خادمہ ہیں۔*
(📚بغوی # اٰل عمران/ تحت الآیۃ: ۳۶، ۱ / ۲۲۷)

{*وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ: اور میں اسے تیری پناہ میں دیتی ہوں*} یعنی *حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی والدہ نے حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا اور ان کی اولاد کیلئے شیطان کے شر سے پناہ مانگی اور اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا۔ لہٰذا یہ مقبول الفاظ ہیں، اپنی اولاد کیلئے ان الفاظ کے ساتھ دعا مانگتے رہنا چاہیے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کرم ہوگا۔*

11/10/2020

*سورہ ال عمران آیت ۳۵ ترجمہ و تفسیر*
___________________________________________

*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

*اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا*

*اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَافِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۳۵)*

ترجمہ کنزالایمان:
*جب عمران کی بی بی نے عرض کی اے رب میرے میں تیرے لیے منت مانتی ہوں جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے تو تُو مجھ سے قبول کرلے بےشک تو ہی ہے سنتا جانتا.*

تفسیر ‎صراط الجنان:
{*اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ: جب عمران کی بیوی نے عرض کی*} عمران دو ہیں *ایک عمران بن یَصْہُرْ بن قاہِثْ بن لاوٰی بن یعقوب یہ تو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے والد ہیں اور دوسرے عمران بن ماثان یہ حضرت عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی والدہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے والد ہیں ان دونوں عمرانوں کے درمیان ایک ہزار آٹھ سو برس کا فرق ہے، یہاں دوسرے عمران مراد ہیں۔*
(📚خازن # اٰل عمران/ تحت الآیۃ: ۳۵، ۱ / ۲۴۳ & 📚جمل # اٰل عمران/ تحت الآیۃ: ۳۵، ۱ / ۴۰۰، ملتقطاً)

*ان کی بیوی یعنی حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی والدہ کا نام حَنَّہ بنت فاقوذا ہے۔یہاں آیت میں انہی کاواقعہ بیان ہورہا ہے۔ کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی تھی کہ اے اللہ! میں تیرے لئے نذر مانتی ہوں کہ میرے پیٹ میں جو اولاد ہے وہ خاص تیرے لئے وقف ہے۔ تیری عبادت کے سوا دنیا کا کوئی کام اس کے متعلق نہ ہو اور بیتُ المقدس کی خدمت اس کے ذمہ ہو۔ علماء نے واقعہ اس طرح ذکر کیا ہے کہ حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اور حضرت عمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دونوں ہم زُلف تھے۔ فاقوذا کی دُختر اِیشاع حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی زوجہ تھیں اور یہ حضرت یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ ہیں اور ان کی بہن حضرت حَنَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا حضرت عمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بیوی تھیں اور یہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی والدہ ہیں۔ ایک زمانہ تک حضرت حَنَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ہاں اولاد نہیں ہوئی یہاں تک کہ بڑھاپا آگیا اور مایوسی ہوگئی، یہ صالحین کا خاندان تھا اور یہ سب لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقبول بندے تھے۔ ایک روز حضرت حَنَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانے ایک درخت کے سایہ میں ایک چڑیا دیکھی جو اپنے بچہ کو بھرا رہی تھی یعنی دانہ کھلا رہی تھی۔ یہ دیکھ کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے دل میں اولاد کا شوق پیدا ہوا اور بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں دعا کی کہ یارب عَزَّوَجَلَّ اگر تو مجھے بچہ دے تو میں اس کو بیت المقدس کا خادم بناؤں گی اور اس خدمت کے لیے حاضر کردوں گی۔ چنانچہ جب وہ حاملہ ہوئیں اور انہوں نے یہ نذر مان لی تو ان کے شوہر نے فرمایا: یہ تم نے کیا کیا، اگر لڑکی ہوگی تو وہ اس قابل کہاں ہوگی؟ اس زمانہ میں بیتُ المقدس کی خدمت کے لیے لڑکوں کو دیا جاتا تھا اور لڑکیاں اپنے مخصوص معاملات، زنانہ کمزوریوں اور مردوں کے ساتھ نہ رہ سکنے کی وجہ سے اس قابل نہیں سمجھی جاتی تھیں۔ اس لیے حضرت عمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو شدید فکر لاحق ہوئی۔ حضرت حَنَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ہاں حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی ولادت سے پہلے حضرت عمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا انتقال ہوگیا تھا۔*
(📚خازن # اٰل عمران/ تحت الآیۃ: ۳۵، ۱ / ۲۴۴)

11/10/2020

*سورہ ال عمران آیت ۳۳ - ۳۴ ترجمہ و تفسیر*
___________________________________________

*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

*اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا*

*اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۳۳)*

ترجمہ کنزالایمان:
*بے شک اللہ نے چن لیا آدم اور نوح اور ابراہیم کی آل اور عمران کی آل کو سارے جہان سے.*

تفسیر ‎صراط الجنان:
{*اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ: بیشک اللہ نے آدم کو چن لیا*} یہودیوں نے کہا تھا کہ *ہم حضرت ابراہیم، حضرت اسحق اور حضرت یعقوب عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد سے ہیں اور انہیں کے دین پر ہیں، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بتادیا گیا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو اسلام کے ساتھ برگزیدہ کیا تھا اور اے یہودیو! تم اسلام پر نہیں ہو تو تمہارا یہ دعویٰ غلط ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ، چنے ہوئے، منتخب بندوں کی عظمت و شان کو بیان کرنا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، جیسے یہاں پر برگزیدہ بندوں کا تذکرہ ہوا اور اس کے آگے کی آیتوں میں مُقربینِ بارگاہِ الٰہی کا تفصیل سے تذکرہ ہوا۔*

*ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍؕ وَاللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ(۳۴)*

ترجمہ کنزالایمان:
*یہ ایک نسل ہے ایک دوسرے سے اور اللہ سنتا جانتا ہے.*

تفسیر ‎صراط الجنان:
{*ذُرِّیَّةًۢ: یہ ایک نسل ہے*} یعنی *ان بر گزیدہ بندوں میں باہم نسلی تعلقات بھی ہیں اور دین کے اندر یہ حضرات ایک دوسرے کے معاون و مددگار بھی ہیں۔*

11/10/2020

*سورہ ال عمران آیت ۳۲ ترجمہ و تفسیر*
__________________________________________

*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

*اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا*

*قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَایُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ(۳۲)*

ترجمہ کنزالایمان:
*تم فرمادو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کا پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خوش نہیں آتے کافر*.

تفسیر ‎صراط الجنان:
{*اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ: اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرو*} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ *جب یہ آیت ’’قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ‘‘ نازل ہوئی تو عبد اللہ بن اُبی منافق نے اپنے ساتھیوں سے کہا ’’محمد (مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اپنی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرح قرار دے رہے ہیں اور یہ حکم کررہے ہیں کہ ہم ان سے اسی طرح محبت کریں جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔*
(📚البحر المحیط # اٰل عمران/ تحت الآیۃ: ۳۲، ۲ / ۴۴۹)
اور فرمایا گیا کہ *اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرمادیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری اطاعت اس لئے واجب کی کہ میں اس کی طرف سے رسول ہوں اور چونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ اس کے رسول ہی ہیں اس لئے ان کی اطاعت و فرمانبرداری لازمی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ اطاعت سے منہ پھیریں تو انہیں اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل نہ ہوگی اور اللہ تعالیٰ انہیں سزادے گا۔*
(📚تفسیر کبیر # اٰل عمران/ تحت الآیۃ: ۳۲، ۳ / ۱۹۸ & 📚جلالین # اٰل عمران/ تحت الآیۃ: ۳۲،/ صفحہ: ۴۹ ملتقطاً)

🔴*نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کی اہمیت*:

*تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اطاعت ہی محبت ِالٰہی عَزَّوَجَلَّ کی دلیل ہے اور اسی پر نجات کا دارومدار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کاحصول، اپنی خوشنودی اور قرب کو حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی غیرمشروط اطاعت کے ساتھ جوڑ دیا۔ اب کسی کو رضا و قربِ الٰہی ملے گا تو محبوبِ رب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی غلامی کے صدقے ملے گا ورنہ دنیا جہاں کے سارے اعمال جمع کرکے لے آئے، اگر اس میں حقیقی اطاعتِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ موجود نہ ہوگی وہ بارگاہ ِالٰہی عَزَّوَجَلَّ میں یقینا قطعا ًمردود ہوگا۔*
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، *حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی مگر جس نے انکار کیا۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی: یارسولَ اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، انکار کون کرے گا؟ ارشاد فرمایا ’’جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔*
(📚بخاری # کتاب الاعتصام بالکتاب والسنّۃ/ باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۴ / ۴۹۹/ الحدیث: ۷۲۸۰)

*حضرت ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک میری مثال اور اس کی جس کے ساتھ مجھے مبعوث فرمایا گیا ہے اس شخص جیسی ہے جس نے اپنی قوم کے پاس آکر کہا: اے قوم! میں نے اپنی آنکھوں سے ایک فوج دیکھی ہے، میں تمہیں واضح طور پر اس سے ڈرانے والا ہوں لہٰذا اپنے آپ کو بچالو۔ چنانچہ اس کی قوم کے ایک گروہ نے اس کی بات مانی اور راتوں رات نکل کر پناہ گاہ میں جاچھپے اور ہلاکت سے بچ گئے جبکہ ایک گروہ نے اسے جھٹلایا اور صبح تک اپنے مقامات پر ہی رہے، صبح سویرے لشکر نے ان پر حملہ کردیا اور انہیں ہلاک کرکے غارت گری کا بازار گرم کیا۔ پس یہ مثال ہے اس کی جس نے میری اطاعت کی اور جو میں لے کر آیا ہوں اس کی پیروی کی اور اس شخص کی مثال ہے جس نے میری نافرمانی کی اور جو حق میں لے کر آیا ہوں اسے جھٹلایا*۔
(📚بخاری # کتاب الاعتصام بالکتاب والسنّۃ/ باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۴ / ۵۰۰/ الحدیث: ۷۲۸۳)

*حضرت مقدام بن معدیکرب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا "سن لو !عنقریب ایک آدمی کے پاس میری حدیث پہنچے گی اور وہ اپنی مسہری پر تکیہ لگائے بیٹھا ہوا کہے گا: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب(کافی ہے) ہم جو چیز اس میں حلال پائیں گے اسے حلال سمجھیں گے اور اسے حرام سمجھیں گے جسے قرآن میں حرام پائیں گے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی اسی طرح حرام کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔*
(📚ترمذی # کتاب العلم/ باب ما نہی عنہ انّہ یقال عند حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۴ / ۳۰۲/ الحدیث: ۲۶۷۳)

11/10/2020

*سورہ ال عمران آیت ۳۱ ترجمہ و تفسیر*
__________________________________________

*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

*اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا*

*قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَیَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)*

ترجمہ کنزالایمان:
*اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے.*

تفسیر ‎صراط الجنان:
{*قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ: اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ*} اس آیت سے معلوم ہوا کہ *اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ جب ہی سچا ہوسکتا ہے جب آدمی سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع کرنے والا ہو اور حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اطاعت اختیار کرے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ قریش کے پاس تشریف لائے جنہوں نے خانۂ کعبہ میں بت نصب کئے تھے اور انہیں سجا سجا کر ان کو سجدہ کررہے تھے۔ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا، اے گروہِ قریش ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم، تم اپنے آباء و اجداد حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین سے ہٹ گئے ہو۔ قریش نے کہا: ہم ان بتوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت میں پوجتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے قریب کریں*۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔
(📚خازن # اٰل عمران/ تحت الآیۃ: ۳۱، ۱ / ۲۴۳)

اور بتایا گیا کہ *محبت ِالٰہی کا دعویٰ حضور سید ِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع اور فرماں برداری کے بغیر قابلِ قبول نہیں۔ جو اس دعوے کا ثبوت دینا چاہتا ہے وہ حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی غلامی اختیار کرے اور چونکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے بت پرستی سے منع فرمایا ہے تو بت پرستی کرنے والا سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نافرمان اور محبتِ الٰہی کے دعوے میں جھوٹا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مدینہ کے یہودی کہا کرتے تھے کہ ہم کو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اتباع کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ تب یہ آیت اتری۔*
(📚خازن # اٰل عمران/ تحت الآیۃ: ۳۱، ۱ / ۲۴۳)
🔴*مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ یہی قول قوی ہے کیونکہ سورۂ آلِ عمران مدنی ہے۔*

اس آیت سے معلوم ہوا کہ *ہر شخص کو حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع اور پیروی کرنا ضروری ہے۔* ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

*قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاهُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ*(اعراف:۱۵۸)

ترجمہ کنزُالعِرفان:
*تم فرماؤ: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر جو نبی ہیں ( کسی سے) پڑھے ہوئے نہیں ہیں، اللہ اور اس کی تمام باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو تاکہ تم ہدایت پالو۔*

*حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ایک مرتبہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حاضر ہوئے اور عرض کی: ہم یہودیوں کی کچھ باتیں سنتے ہیں جو ہمیں بھلی لگتی ہیں کیا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اجازت دیتے ہیں کہ کچھ لکھ بھی لیا کریں ؟ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’کیا تم یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح حیران ہو! میں تمہارے پاس روشن اور صاف شریعت لایا اور اگر آج حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع کے بغیر چارہ نہ ہوتا*.
(📚شعب الایمان # الرابع من شعب الایمان/ ذکر حدیث جمع القرآن/ ۱ / ۱۹۹/ الحدیث: ۱۷۶)

10/10/2020

*سورہ ال عمران آیت ۲۹ - ۳۰ ترجمہ و تفسیر*
__________________________________________

*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

*اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا*

*قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَافِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُؕ وَیَعْلَمُ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۲۹)یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا وَّمَاعَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍۚۛ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَبَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًاؕ وَیُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗؕ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠(۳۰)*

ترجمہ کنزالایمان:
*تم فرمادو کہ اگر تم اپنے جی کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ کو سب معلوم ہے اور جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے جس دن ہر جان نے جو بھلا کام کیا حاضر پائے گی اور جو بُرا کام کیا امید کرے گی کاش مجھ میں اور اس میں دور کا فاصلہ ہوتا اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے اور اللہ بندوں پر مہربان ہے.*

تفسیر ‎صراط الجنان:
{*یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ: جس دن ہر شخص پائے گا*} سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر 29،30 ہر شخص کی اصلاح کیلئے کافی ہے۔ *اس آیت پر جتنا زیادہ غور کریں گے اتنا ہی دل میں خوفِ خدا پیدا ہوگا اور گناہوں سے نفرت پیدا ہوگی۔ چنانچہ فرمایا کہ تم فرمادو کہ اگر تم اپنے دل کی باتیں چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ عَزَّوَجَلَّ کو سب معلوم ہے۔ تمہارے دلوں کا ایمان و نفاق، قلوب کی طہارت و خباثت، اچھے برے خیالات، نیک و بد ارادے، صحیح و فاسد منصوبے ساری دنیا سے چھپ سکتے ہیں مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ عالِم ُالغَیب و الشَّہادۃ کے حضور سب ظاہر ہے۔ وہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب جانتا ہے ۔ وہ تمہیں فرماتا ہے کہ تم اپنے دل کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ عَزَّوَجَلَّ کو سب معلوم ہے اور اس دن کو یاد رکھو جس دن ہر شخص اپنے تمام اچھے اور برے اعمال اپنے سامنے موجود پائے گا۔ خَلْوَتوں، جَلْوَتوں میں کئے ہوئے اعمال، پہاڑوں، سمندروں، غاروں، صحراؤں، جزیروں اور کائنات کے کسی بھی کونے میں کئے گئےاعمال کا ایک ایک ذرہ آدمی کے سامنے موجود ہوگا اور اس وقت برے اعمال والا تمنا کرے گا کہ کاش اس کے درمیان اور اس کے اعمال کے درمیان کوئی دور دراز کی مسافت حائل ہوجائے اور کسی طرح ان اعمال سے چھٹکارا ہوجائے مگر ایسا نہ ہوسکے گا۔*

10/10/2020

*سورہ ال عمران آیت ۲۷ - ۲۸ ترجمہ و تفسیر*
__________________________________________

*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

*اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا*

*تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ٘ وَتُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَتُخْرِ جُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ٘ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۲۷)*

ترجمہ کنزالایمان:
*تو رات کا حصہ دن میں ڈالے اور دن کا حصہ رات میں ڈالے اور مُردہ سے زندہ نکالے اور زندہ سے مردہ نکالے اور جسے چاہے بے گنتی دے.*

تفسیر ‎صراط الجنان:
{*تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ: تو رات کا کچھ حصہ دن میں داخل کردیتا ہے*} یعنی *گرمیوں میں رات چھوٹی اور دن بڑے کردینا، سردیوں میں دن چھوٹے اور رات لمبی کردینا اللہ تعالیٰ ہی کے نظام کی وجہ سے ہے۔ جس کے قبضہ قدرت میں اتنا بڑا نظام ہے اس کیلئے فارس و روم سے ملک لے کر غلامانِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو عطا کردینا کیا بعید ہے۔*

{*وَ تُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ: اور تو مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے*} یعنی *مردہ سے زندہ کا نکالنا یوں ہے جیسے زندہ انسان کو بے جان نطفے سے اور پرندے کے زندہ بچے کو بے روح انڈے سے اور زندہ دل مؤمن کو مردہ دل کافر سے۔ یونہی زندہ سے مردہ نکالنا اس طرح جیسے کہ زندہ انسان سے بے جان نطفہ اور زندہ پرندے سے بے جان انڈا اور زندہ دل ایمان دار سے مردہ دل کافر۔*

*لَایَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةًؕ وَیُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗؕ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ(۲۸)*

ترجمہ کنزالایمان:
*مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا اور جو ایسا کرے گا اسے اللہ سے کچھ علاقہ(تعلق) نہ رہا مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے.*

تفسیر ‎صراط الجنان:
{*لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ: مسلمان مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں*} حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جنگِ اَحزاب کے موقع پر سید ِدوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے عرض کیا کہ *میرے ساتھ پانچ سو یہودی ہیں جو میرے حلیف ہیں، میری رائے ہے کہ میں دشمن کے مقابلے میں ان سے مدد حاصل کروں۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور کافروں کو دوست اور مددگار بنانے کی ممانعت فرمائی گئی۔*
(📚جمل # اٰل عمران/ تحت الآیۃ: ۲۸، ۱ / ۳۹۳)

🔴*کفار سے دوستی و محبت ممنوع و حرام ہے، انہیں راز دار بنانا، ان سے قلبی تعلق رکھنا ناجائز ہے۔ البتہ اگر جان یا مال کا خوف ہو تو ایسے وقت صرف ظاہری برتاؤ جائز ہے۔ یہاں صرف ظاہری میل برتاؤ کی اجازت دی گئی ہے، یہ نہیں کہ ایمان چھپانے اور جھوٹ بولنے کو اپنا ایمان اور عقیدہ بنالیا جائے بلکہ باطل کے مقابلے میں ڈٹ جانا اور اپنی جان تک کی پرواہ نہ کرنا افضل و بہتر ہوتا ہے جیسے سیدنا امامِ حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جان دے دی لیکن حق کو نہ چھپایا۔ آیت میں کفار کو دوست بنانے سے منع کیا گیا ہے اسی سے اس بات کا حکم بھی سمجھاجاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں سے اتحاد کرنا کس قدر برا ہے۔*

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Islamabad
44000