Sheikh Wasif Ali Qadri

Sheikh Wasif Ali Qadri

Share

I deserve nothing but ALLAH give me everything �

18/12/2025

منم غلامِ آل محمد 💝🥀

04/12/2025

🥰💝🥀


01/12/2025

علم کی راہ میں قدم جب بھی رکھا میں نے
میرے سر پر تری رحمت نے رکھا دستارِ فضیلت

05/07/2025

نواسۂ رسول، شہیدِکربلا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے، آپ رضی اللہ عنہ خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہراء اور شیرِ خدا خلیفہ ٔ چہارم سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ کے لختِ جگر اور نواسۂ پیغمبر علیہ السلام ہیں۔
#تعارف
آپ کا اسمِ گرامی حسین، کنیت ابوعبداللہ اور’’ سید شباب أہل الجنۃ‘‘ اور ’’ریحانۃ النبي‘‘ لسانِ نبوت سے ملے القاب ہیں۔ آپ 3 شعبان 4 ہجری (مطابق 10 جنوری 626ء) مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔
#پرورش
پیغمبرِ اسلام کی گود میں جو اسلام کی تربیت کا گہوارہ تھی اب دن بھر دو بچّوں کی پرورش میں مصروف ہوئی ایک حسن دوسرے حسین اور اس طرح ان دونوں کا اور اسلام کا ایک ہی گہوارہ تھا جس میں دونوں پروان چڑھ رہے تھے۔ ایک طرف پیغمبرِ اسلام جن کی زندگی کا مقصد ہی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی اور دوسری طرف امیر المومنین علی ابن ابی طالب جو اپنے عمل سے خدا کی مرضی کے خریدار بن چکے تھے تیسری طرف فاطمہ زہرا جو خواتین کے طبقہ میں پیغمبر کی رسالت کو عملی طور پر پہنچانے کے لیے ہی قدرت کی طرف سے پیدا ہوئی تھیں اس نورانی ماحول میں حسین کی پرورش ہوئی۔

نبی اکرم علیہ السلام اپنے دونوں نواسوں کے ساتھ انتہائی محبت فرماتے تھے۔ سینہ پر بیٹھاتے تھے۔ کاندھوں پر چڑھاتے تھے اور مسلمانوں کو تاکید فرماتے تھے کہ ان سے محبت رکھو۔ مگر چھوٹے نواسے کے ساتھ آپ کی محبت کے انداز کچھ امتیاز خاص رکھتے تھے۔ ایسا ہو اہے کہ نماز میں سجدہ کی حالت میں حسین پشت ُ مبارک پراگئے تو سجدہ میں طول دیا۔ یہاں تک کہ بچہ خود سے بخوشی پشت پر سے علاحدہ ہو گیا۔ اس وقت سر سجدے سے اٹھایا اور کبھی خطبہ پڑھتے ہوئے حسین مسجد کے دروازے سے داخل ہونے لگے اور زمین پر گر گئے تو رسول نے اپنا خطبہ قطع کر دیا منبر سے اتر کر بچے کوزمین سے اٹھایا اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ دیکھو یہ حسین ہے اسے خوب پہچان لو اور اس کی فضیلت کو یاد رکھو رسول نے حسین کے لیے یہ الفاظ بھی خاص طور سے فرمائے تھے کہ »حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں، ، مستقبل نے بتادیا کہ رسول کا مطلب یہ تھا کہ میرا نام اور کام دُنیا میں حسین کی بدولت قائم رہے گا۔

حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ سے عرض کی [ أی اھل بیتک أحب الیک؟ فقال :الحسن والحسین ] کہ آپ کی اہل بیت میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کو ن ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا حسن اور حسین اور آپ ﷺ عائشہ صدیقہ سے کہا کرتے تھے میرے بیٹوں کو میرے پاس لے آؤ اور آپ ﷺ حسنین کریمین کو سونگھتے اور اُن کو سینے سے لگا لیتے۔
سنن الترمذی، أبواب المناقب، باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی، ج:6، ص:122)

حضرت أنس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :[حسین منی وأنا من حسین، أحب اللّٰہ من أحب حسینا، حسین سبط من الأسباط ] حسین مجھے سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو شخص حسین سے محبت کرے اللہ تعالی اس کے ساتھ محبت فرمائے، حسین میری اولاد میں سے میرے ایک بیٹے ہیں۔
سنن الترمذی، أبواب المناقب، باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی، ج:6، ص:122 ).
’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : [الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّة]
حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۔
الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : مناقب الحسن و الحسين، 5 / 656، الرقم : 3768
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حسنین کریمین کودیکھا اور فرمایا [ اللّٰہم انی احبھمافأحبھما ] اے اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔
سنن الترمذی، أبواب المناقب، باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی، ج:6، ص:123 )
ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے حسن بن علی کو کندھے پر اُٹھایا ہوا تھا۔ ایک شخص نے کہا [نعم المرکب رکبت یا غلام فقال النبی ﷺ:نعم الراکب ہو ]کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر اے لڑکے تو سوار ہے پس نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :یہ سوار کتنا اچھا ہے۔
سنن الترمذی، أبواب المناقب، باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی، ج:6، ص:123 )
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :[من أحبھما فقد أحبنی ومن أبغضھما فقد أبغضنی الحسن والحسین ] جس نے ان دونوں سے محبت کی پس تحقیق اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا پس تحقیق اس نے مجھ سے بغض رکھا اور وہ حسن وحسین ہیں۔
النسائی، کتاب الفضائل، مناقب الحسن والحسین، ج:7، ص:317
عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے جب آپ ﷺ سجدہ کے لیے تشریف لے جاتے تو حسن وحسین آپ کے کندھے پر چڑھ جاتے جب صحابہ کرام نے ارادہ کیا کہ ان کو منع کریں تو نبی اکرم ﷺنے ان کی طرف اشارہ کیا کہ ان دونوں کو چھوڑ دو پس جب نبی اکرم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو گود میں اُٹھا لیا اور فرمایا :[من أحبنی فلیحب ھذین ] جو مجھے سے محبت کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ ان دونوں سے محبت کرے۔
النسائی، کتاب الفضائل، مناقب الحسن والحسین، ج:7، ص:317

امام حسین علیہ السلام کی عبادت، زہد، سخاوت اور آپ کے کمالِ اخلاق کے دوست و دشمن سبھی قائل تھے- پچیس حج آپ نے ادا کیے- آپ میں سخاوت اور شجاعت کی صفت کو خود رسول اللہ نے بچپن میں ایسا نمایاں پایا کہ فرمایا "حسین میں میری سخاوت اور میری جراَت ہے"- چنانچہ آپ کے دروازے پر مسافروں اور حاجتمندوں کا سلسلہ برابر قائم رہتا تھا اور کوئی سائل محروم واپس نہیں ہوتا تھا- اس وجہ سے آپ کا لقب ابوالمساکین ہو گیا تھا- راتوں کو روٹیوں اور کھجوروں کے پشتارے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لے جاتے تھے اور غریب محتاج بیواؤں اور یتیم بچوں کو پہنچاتے تھے جن کے نشان پشت مبارک پر پڑ گئے تھے- ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ "جب کسی صاحبِ ضرورت نے تمھارے سامنے سوال کے ليے ہاتھ پھیلا دیا تو گویا اس نے اپنی عزت تمھارے ہاتھ بیچ ڈالی- اب تمھارا فرض یہ ہے کہ تم اسے خالی ہاتھ واپس نہ کرو، کم سے کم اپنی ہی عزتِ نفس کا خیال کرو"-
غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ آپ عزیزوں کا سا برتاؤ کرتے تھے- ذرا ذرا سی بات پر آپ انھیں آزاد کر دیتے تھے- آپ کے علمی کمالات کے سامنے دنیا کا سر جھکا ہوا تھا- مذہبی مسائل اور اہم مشکلات میں آپ کی طرف رجوع کی جاتی تھی- آپ کی دعاؤں کا ایک مجموعہ صحیفہ حسینیہ کے نام سے اس وقت بھی موجود ہے آپ رحمدل ایسے تھے کہ دشمنوں پر بھی وقت آنے پر رحم کھاتے تھے اور ایثار ایسا تھا کہ اپنی ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسروں کی ضرورت کو پورا کرتے تھے- ان تمام بلند صفات کے ساتھ متواضع اور منکسر ایسے تھے کہ راستے میں چند مساکین بیٹھے ہوئے اپنے بھیک کے ٹکڑے کھا رہے تھے اور آپ کو پکار کر کھانے میں شرکت کی دعوت دی تو فوراً زمین پر بیٹھ گئے- اگرچہ کھانے میں شرکت نہیں فرمائی- اس بنا پر کہ صدقہ آلِ محمد پر حرام ہے مگر ان کے پاس بیٹھنے میں کوئی عذر نہیں ہوا-
آپ کی اخلاقی جراَت، راست بازی اور راست کرداری، قوتِ اقدام، جوش عمل اور ثبات و استقلال، صبر و برداشت کی تصویریں کربلا کے مرقع میں محفوظ ہیں- ان سب کے ساتھ آپ کی امن پسندی یہ تھی کہ آخر وقت تک دشمن سے صلح کرنے کی کوشش جاری رکھی مگر عزم وہ تھا کہ جان دے دی جو صحیح راستہ پہلے دن اختیار کر لیا تھا اس سے ایک اِنچ نہ ہٹے- انھوں نے بحیثیت ایک سردار کے کربلا میں ایک پوری جماعت کی قیادت کی- اس طرح کہ اپنے وقت میں وہ اطاعت بھی بے مثل اور دوسرے وقت میں یہ قیادت بھی لاجواب تھی ۔

حق و باطل کا آمنا سامنا تخلیقِ آدم سے ہی چلا آرہا ہے ، جب اللہ کریم نے حضرت آدم علیہ السّلام کو پیدا فرمایا تو ابلیس نے تکبر میں آکر مخالفت کی ، نتیجۃً ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لعین ، مردود اور جہنمی ٹھہرا ، حضرت آدم علیہ السّلام کے دنیا میں تشریف لانے سے آج تک ہزاروں ایسے محاذ ہوئے جن میں نظریاتی ، فکری اور عملی طور پر حق و باطل ایک دوسرے کے مدمقابل آئے ، اللہ کریم نے حق کو فتح عطا فرمائی اور باطل جلد یا بدیر ہر بار ذلیل و رُسوا ہوا ، انہی معرکوں میں سے ایک بہت دردناک اورتاریخِ اسلام کا ایک اہم ترین معرکہ میدانِ کربلا کا ہے ، یہ معرکہ حق وباطل کا ایک ایسا معرکہ تھا کہ تب سے آج تک حق کے لئے حسینیت اور باطل کے لئے یزیدیت کا نام بولا اور لکھا جانے لگا ہے۔ امامِ عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہُ عنہ اہلِ کوفہ کے مسلسل خُطوط بھیجنے اور بلانے کے بعد جب کوفہ پہنچے اور پھر اہلِ کوفہ کی بے وفائی اور یزیدیوں کی شقاوت و لالچ دنیا کے سبب معرکہ کربلا رونما ہوا جس میں خانوادہ نبوی اور دیگر جاں نثاروں پر مشتمل مٹھی بھر قافلے کو یزیدیوں نے انتہائی بےدردی کے ساتھ شہید کردیا۔
شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد کائنات انسانی کو دو کردار مل گئے۔ یزیدیت جو بدبختی ظلم، استحصال، جبر، تفرقہ پروری، قتل و غارت گری اور خون آشامی کا استعارہ بن گئی اور حسینیت جو عدل، امن، وفا اور تحفظ دین مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علامت ٹھہری، قیامت تک حسین بھی زندہ رہے گا اور حسینیت کے پرچم بھی قیامت تک لہراتے رہیں گے، یزید قیامت تک کے لئے مردہ ہے اور یزیدیت بھی قیامت تک کے لئے مردہ ہے، حسین رضی اللہ عنہ کی روح ریگ کربلا سے پھر پکار رہی ہے۔ آج سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی روح اجڑے ہوئے خیموں سے ہمیں صدا دے رہی ہے۔آج علی ا کبر اور علی اصغر کے خون کا ایک ایک قطرہ دریائے فرات کا شہدائے کربلا کے خون سے رنگین ہونے والا کنارہ ہمیں آواز دے رہا ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والو! حسینیت کے کردار کو اپنے قول و عمل میں زندہ کرو۔ ہر دور کے یزیدوں کو پہچانو۔ یزیدیت کو پہچانو۔ یزیدیت تمہیں توڑنے اور تمہارے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے، حسینیت تمہیں جوڑنے کے لئے ہے۔ حسینیت اخوت، محبت اور وفا کی علمبردار ہے، یزیدیت اسلام کی قدریں مٹانے کا نام ہے۔ حسینیت اسلام کی دیواروں کو پھر سے اٹھانے کا نام ہے، یزیدیت قوم کا خزانہ لوٹنے کا نام ہے، حسینیت قوم کی امانت کو بچانے کا نام ہے۔ یزیدیت جہالت کا اور حسینیت علم کا نام ہے۔ یزید ظلم کا اور حسین امن کا نام ہے۔ یزید اندھیرے کی علامت ہے اور حسین روشنی کا استعارہ ہے۔ یزیدیت پستی اور ذلت کا نام ہے جبکہ حسینیت انسانیت کی نفع بخشی کا نام ہے۔
آئیے سب مل کر یزیدیت کے خلاف ایک عہد کریں اور وقت کے یزیدوں کے قصر امارات کو پاش پاش کردیں، مسلمانو! یزیدیت کا تختہ الٹنے، ظلم و استحصال کا نام و نشان مٹانے اور غریب دشمنی پر مبنی نظام کو پاش پاش کرنے کے لئے اٹھو، اپنے اندر حسینی کردار پیدا کرو اور کربلائے عصر میں ایک نیا معرکہ بپا کردو، ایک نئی وادی فرات کو اپنے لہو سے رنگین بنادو، اپنی جان اور اپنے اموال کی قربانی دے کر مصطفوی انقلاب کی راہ ہموار کرو، تاکہ افق عالم پر مصطفوی انقلاب کا سویرا طلوع ہو اور حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر یزیدیت کا آخری نشان بھی مٹ جائے۔ دلوں کی سلطنت حسینی کردار کے ساتھ آباد کریں اور اپنی سر زمین کو یزیدی فتنوں سے یکسر پاک کر دیں۔ اس خطے کو ہم ایک بار پھر اہل بیت اور صحابہ کرام کی محبتوں کا مرکز و محور بنادیں، فتنہ فساد، جنگ، قتل و غارتگری کی آگ کو بجھا کر حسین رضی اللہ عنہ کے جلائے ہوئے چراغ امن سے اپنے ظاہر و باطن کے اندھیرے دور کریں اور سر زمین پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا دیں کہ پاکستان ہماری ہی نہیں پوری ملت اسلامیہ کی امانت ہے۔ یہ خطہ دیدہ و دل عالم اسلام کی پہلی دفاعی لائن ہے۔ آئیے اسے اسلام کا ناقابل تسخیر قلعہ بنا دیں۔
#شہادت
10 محرم الحرام سنہ اکسٹھ (61) ہجری میں امام حسین ؓ نے میدان کربلا میں چھپن سال پانچ ماہ اور چھے دن کی عمر میں جام شہادت نوش کیا اور اسی مقام پر دفن ہوئے ۔
قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے ۔
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ۔
اللہ کریم ہمیں شہدائے کربلا کے احسانِ عظیم کو یاد رکھنے اور ان کی سیرت و کردار کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین
واصف علی قادری
06 جولائی 2025

27/06/2025


#تعارف
آپ کانام عمر ،کنیت ابوحفص اور لقب فاروق اعظم، ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے والد کا نام خطاب اور ماں کا نام حلتمہ ہے جو ہشام بن مغیرہ کی بیٹی اور ابو جہل کی بہن تھیں۔
آپ کا شجرہ نسب اٹھویں پشت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے۔تاریخ میں اپ کی پیدائش واقعہ فیل سے تیرہ سال بعد بیان کی جاتی ہے۔

حضرت عمر فاروقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے جب اسلام قبول نہیں کیا تھا ، آپ اسلام کے سخت دُشْمن تھے ، ایک دِن سخت غصے میں ، ننگی تلوار لئے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مَعَاذَ اللہ! شہید کر دینے کے ارادے سے جا رہےتھے ، راستے میں معلوم ہوا کہ آپ کی بہن بھی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو چکی ہیں ، بہن کے گھر پہنچے ، اندر سے قرآن پڑھنے کی آواز آرہی تھی ، دروازہ کھٹکھٹایا ، اندر گئے ، بہن پر بھی تشدد کیا ، بہنوئی کو بھی خوب مارا ، مگر جب دیکھا کہ مار کھا کر بھی ان کے دِل سے اسلام کی محبت کم نہیں ہو رہی تو خیال کیا کہ آخر دیکھوں تو یہ کیسی طاقت ہے ، اسلام میں کیسی لذّت ہے جو اتنی مار کھانے سے بھی کم نہیں ہوتی ، بہن سے قرآنِ کریم مانگا ، بہن نے فرمایا : ناپاک لوگ اسے ہاتھ نہیں لگا سکتے ، غسل کرو یا وُضُو کرو پھر قرآنِ کریم ملے گا ، حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے وُضو کیا ، قرآنِ کریم ہاتھ میں لیا ، کھولا ، سورۂ طٰہٰ کی آیات سامنے تھیں ، آپ نے پڑھنا شروع کیا ، اس آیت پر پہنچے :
اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْۙ- (پارہ16 ، سورۂ طٰہٰ : 14)
بیشک میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں تَو میری عبادت کر۔بَس یہیں تک پڑھا تھا کہ قرآنِ کریم نے اپنا اَثَر دکھا دیا ، حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا دِل پگھل گیا ، دِل میں نورِ ایمان پیدا ہوا ، بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے ، کلمہ پڑھا اور ساتھ ہی مسلمانوں نے اس زور سے نعرۂ تکبیر لگایا کہ حرمِ کعبہ تک اس کی گونج جا پہنچی۔

مُحَدِّثِیْنِ ، علمائے کرام رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ جب خلیفۂ دُوُم ، اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی سیرتِ پاک بیان کرتے ہیں تو اس میں ایک خاص عُنْوان ذِکْر کیا جاتا ہے : مُوَافِقاتِ عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔
یہ عنوان خاص حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی سیرتِ پاک کا ہے ، ان کے عِلاوہ اور کسی صحابی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی سیرت میں باقاعِدہ سے “ مُوَافقات “ بیان نہیں کی جاتیں۔
مُوَافقات کا مطلب ہے : قرآنِ کریم کی وہ آیات جو اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی رائے کے مُوَافِق نازِل ہوئیں؛ مثلاً حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت میں کوئی رائے پیش کی ، اس پر قرآنِ کریم کی آیت نازِل ہو گئی ، حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی زبان مبارک سے کوئی جملہ نکلا ، اس پر آیتِ کریمہ نازِل ہو گئی ، حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے کوئی کام کیا ، اس کے درست ہونے پر قرآنِ کریم کی آیت نازِل ہو گئی۔ یہ کُل 20 یا اس سے بھی زیادہ آیات ہیں جو حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی رائے کے مُوَافِق نازِل ہوئیں ، انہی کو “ مُوَافقاتِ عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ “ کہا جاتا ہے۔
مثلاً *ایک بار حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیا ہم مقامِ ابراہیم کو مُصَلّا نہ بنا لیں ، اس پر آیتِ کریمہ نازِل ہوئی :
وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّىؕ- (پارہ1 ، سورۃالبقرۃ : 125
اور اے(مسلمانو!) : تم ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ۔
*ایک بار حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اگر ہم صَفَا اور مَرْوَہ کا طواف (یعنی سَعِی کریں ، صَفَا و مَرْوَہ کے پھیرے لگایا) کریں
تو (کتنا اچھا ہو گا...!) ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی :
اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِۚ-فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَاؕ-(پارہ2 ، سورۃالبقرۃ : 158
بیشک صفااور مَرْوَہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے چکر لگائے۔
*عبد اللہ بِنْ اُبَیْ جو مُنَافِقوں کا سردار تھا ، یہ جب واصِلِ جہنّم ہوا ، اس وقت حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے عرض کیا : یارَسُول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اس مُنَافِق کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی جائے ، اس پر حکمِ قرآنی نازِل ہوا؛
وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖؕ- (پارہ10 ، سورۃالتوبۃ : 84)
اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نمازِ جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا
حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی مُوَافقات یعنی آپ کی رائے کے مُوَافِق نازِل ہونے والی ان آیات کو سامنے رکھ کر اندازہ لگائیے کہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی رائے کیسی پختہ تھی ، حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی سوچ ، حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی فکر کیسی اعلیٰ تھی ، حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا دِلی میلان کیسا زَبردست تھا ، حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قرآنِ کریم کے مِزَاج سے کتنے واقِف تھے کہ آپ کی سوچ کے مُوَافِق ، آپ کی فِکْر کے مُوَافِق ، آپ کی رائے اور دِلی میلان کے مُوَافق قرآنِ کریم اُترا کرتا تھا۔

حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی عظمت و شان کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ ان خوش نصیب صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں شامل ہیں ، جن کی فضیلت اور شان پر کئی فَرامینِ رسول مَوجُود ہیں۔ آپ کو بارگاہِ رسالت سے بے شمار ایسے فضائل عطا ہوئے جن میں کوئی آپ کا شریک نہیں ہے۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لوکان نبی بعدی لکان عمر بن الخطاب.(جامع ترمذی، کتاب المناقب، رقم:3686)
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتا۔
اسی طرح ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
کانت فی الامم محدثون ليسوابانبياء فان کان فی امتی فعمر.(ديلمی، مسند الفردوس، رقم: 4839)
تم سے پہلی امتوں میں محدثون ہوا کرتے تھے جو کہ انبیاء نہیں تھے اور اگر میری امت میں سے کوئی محدث ہے تو وہ عمر ہے۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ یعنی آپ ان دس خوش نصیب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شامل ہیں۔ جن کے بارے میں حضور سرور کائنات فخرموجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت کی بشارت عطافرمائی۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر ایک شخص داخل ہوگا وہ جنتی ہے چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ داخل ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس ایک اور جنتی آنے والا ہے پس اس مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ (جامع ترمذی، کتاب المناقب، رقم:369
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف آپ کے لئے جنت کی بشارت دی بلکہ حشر کے دن بارگاہ ایزدی میں آپ کا کیا مقام و مرتبہ ہوگا۔ اس کے بھی احوال بیان فرمائے۔ چنانچہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اول من يصافحه الحق عمر،و اول من تسليم عليه و اول من ياخذ بيده فيدخله الجنة.
(سنن ابن ماجه، باب فضل عمر، رقم: 104)
حق تعالیٰ سب سے پہلے جس شخص سے مصافحہ فرمائے گا وہ عمر ہے اور سب سے پہلے جس شخص پر سلام بھیجے گا اور سب سے پہلے جس کاہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل فرمائے گا وہ عمر ہے۔
مزید برآں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عمر بن خطاب اہل جنت کا چراغ ہے۔
(الهيثمی، مجمع الزوائد، 9/74)
#دورِ_فاروقی_کی_فتوحات_اور_طرز_حکمرانی
آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسلمانوں کو بے مثال فتوحات اور کامیابیاں نصیب ہوئیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے قیصر و کسریٰ کو پیوند خاک کرکے اسلام کی عظمت کا پرچم لہرانے کے علاوہ شام، مصر، عراق، جزیرہ، خوزستان، عجم، آرمینہ، آذربائیجان، فارس، کرمان، خراسان اور مکران فتح کئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں 3600 علاقے فتح ہوئے، 900جامع مساجد اور 4 ہزار مساجد تعمیر ہوئیں۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں بیت المال اور عدالتیں قائم کیں، عدالتوں کے قاضی مقرر کئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سن تاریخ کا اجراء کیا جو آج تک جاری ہے۔ مردم شماری کرائی، نہریں کھدوائیں، شہر آباد کروائے، دریا کی پیداوار پر محصول لگایا اور محصول مقرر کئے، حربی تاجروں کو ملک میں آنے اور تجارت کرنے کی اجازت دی۔ جیل خانہ قائم کیا، راتوںکو گشت کرکے رعایا کا حال دریافت کرنے کا طریقہ نکالا۔ پولیس کا محکمہ قائم کیا۔ جابجا فوجی چھائونیاں قائم کیں، تنخواہیں مقرر کیں، پرچہ نویس مقرر کئے۔ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ تک مسافروں کے لئے مکانات تعمیر کروائے۔ گم شدہ بچوں کی پرورش کے لئے روزینے مقرر کئے۔ مختلف شہروں میں مہمان خانے تعمیر کروائے۔ مکاتب و مدارس قائم فرمائے۔ معلمین اور مدرسین کے مشاہرے مقرر کئے۔ تجارت کے گھوڑوں پر زکوٰۃ مقرر کی۔ وقف کا طریقہ ایجاد کیا، مساجد کے آئمہ کرام اور موذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں، مساجد میں راتوں کو روشنی کا انتظام کیا۔ علاوہ ازیں آپ رضی اللہ عنہ نے عوام کے لئے بہت سے فلاحی و اصلاحی احکامات اور اصطلاحات جاری کیں۔ (تاریخ اسلام، بشیر احمد تمنا، ص133)
#شہادت
26 ذی الحجہ کو نماز فجر کے وقت ابو لولو فیروز نے آپ کو حالت نماز میں خنجر کا وار کر کے آپ کو زخمی کیا۔ تین دن آپ اسی حالت میں رہے ۔ آپ نے اپنے بیٹے عبداللہ کو حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس بھیجا کہ جا کر کہو عمر کی خواہش ہے اگر آپ اجازت دیں تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں دفن ہونا چاہتے ہیں۔
جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ واپس پہنچے تو لوگوں نے بتایا کہ عبداللہ بن عمر آگئے۔ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے بٹھادو۔ آپ رضی اللہ عنہ کو بٹھادیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہو کیا جواب لے کر آئے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ کی خواہش کے مطابق جواب ملا ہے۔ یہ سن کر کہا: الحمدللہ! مجھے اس سے زیادہ کسی اور بات کی خواہش نہ تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ میری خواہش پوری ہوگئی ہے۔ جب میری روح قفس عنصری سے پرواز کرجائے تو ایک بار پھر حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اجازت مانگنا۔ اگر وہ بطیب خاطر اجازت دے دیں تو مجھے حجرہ اقدس میں دفن کردینا اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو مجھے مسلمانوں کے عام قبرستان میں لے جاکر دفنا دینا۔
یکم محرم الحرام 24ھ کو اپنے بیٹے سے کہا: میری پیشانی زمین سے لگادو۔ اس طرح سجدے کی حالت میں جان، جان آفرین کے سپرد کردی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔
#پیغام
سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا دور خلافت عدل و انصاف کا ایک روشن باب ہے۔ آپ کی شخصیت میں دیانت، تقویٰ، فہم و فراست، اور سب سے بڑھ کر انصاف پسندی نمایاں تھی۔ آپ کے نزدیک عدل صرف ایک حکومتی اصول نہیں بلکہ عبادت کا درجہ رکھتا تھا۔ آپ نے حکومت کو طاقت کا ذریعہ بنانے کے بجائے خدمتِ خلق کا ذریعہ بنایا۔ آپ کے دور میں نہ کوئی امیر قانون سے بالاتر تھا، نہ کوئی غریب محرومِ انصاف۔ آپ نے اسلام کے سنہری اصولوں کو عملی طور پر نافذ کر کے ایک مثالی اسلامی ریاست قائم کی، جہاں مظلوم کی داد رسی، اور ظالم کی سرکوبی بلا تفریق کی جاتی تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہ صرف دوسروں کا احتساب کیا بلکہ اپنے آپ کو بھی جواب دہ سمجھا۔ قحط کے ایام میں عوام کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے آپ نے خود بھی گوشت اور دودھ جیسے اشیاء سے اجتناب کیا۔ آپ راتوں کو گلیوں میں گشت کرتے، عوام کے مسائل جانتے اور خود ان کا حل تلاش کرتے۔ آپ کی شفافیت کا یہ عالم تھا کہ گورنروں کو جواب دہ بنایا اور ان کے اثاثے چیک کیے جاتے تھے تاکہ کوئی بھی عہدہ عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہ کرے۔
آج کے حکمران اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سیرت کو اپنا طرزِ عمل بنا لیں تو معاشرے میں عدل، مساوات اور اطمینان کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ ان کی سادہ زندگی، رعایا کی فکر، شفاف حکمرانی اور بے لاگ احتساب کا نظام آج بھی قابلِ تقلید ہے۔ اگر حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھیں، انصاف سب کے لیے یکساں ہو، اور حکومتی فیصلے دیانت داری سے ہوں تو آج بھی وہی خوشحال اور منصفانہ معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے جس کی بنیاد سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے رکھی تھی۔
واصف علی قادری
27/06/25

28/05/2025

ِ_تکبیر
پاکستان کی تاریخ میں کئی دن ایسے آئے جن کا ذکر کرنا بہت اہم اور ضرور ی سمجھا جاتا ہے، انہی دنوں میں سے ایک دن 28 مئی یوم تکبیر ہے۔
یومِ تکبیر پاکستان کی تاریخ کا ایک عظیم اور قابلِ فخر دن ہے جو ہر سال 28 مئی کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن اس واقعے کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان نے 1998 میں کامیابی سے ایٹمی دھماکے کیے اور دنیا کی چھٹی اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا۔
یومِ تکبیر کا مطلب ہے "تکبیر کا دن" یعنی وہ دن جب "اللہ اکبر" کی صدا کے ساتھ پاکستان نے دشمنوں کو واضح پیغام دیا کہ وہ اپنے دفاع میں خود کفیل ہے، بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر دباؤ تھا کہ وہ جواب نہ دے لیکن قوم کے اتحاد، قیادت کے عزم اور سائنسدانوں کی محنت سے یہ ممکن ہوا۔
یومِ تکبیر مایوسی میں ڈوبی ہوئی قوم کے لیے ایک شمع بن کر ظاہر ہوا۔ اس دن سے پہلے ہر رات خوف کی رات، ہر دن غم کا دن تھا۔ بھارت کبھی سرحدوں پر بمباری کرتا تو کبھی لین دین اور تجارت روک کر معاشی صورت حال کو برباد کرنے کی کوشش کرتا، کبھی دریاؤں کا پانی روک کر قحط کی صورت پیدا کر دیتا تو کبھی پانی کھول کر سیلاب برپا کر دیتا۔ سرحدوں کی بمباری کے زخم خوردہ، پانی میں ڈوبے بے بس اور خشک سالی سے ناخوش لوگوں کے لیے ڈاکٹر عبد القدیر خانؒ خزاں میں بہار کا پھول بن کر آئے پریشان حال مادر وطن کی ایک پکار پر لبیک کہنے والے ڈاکٹر عبد القدیر خانؒ نے سر زمین پاک پر قدم رکھنے کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، بے سروسامانی کے عالم میں کہوٹہ لیبارٹریز کا قیام ممکن بنایا وہ اپنا بہترین اسٹیٹس ہالینڈ میں چھوڑ آئے، اپنی کشتیاں جلا آئے اوراپنا شاندار حال وطن کے روشن مستقبل پر قربان کر دیا۔
ڈاکٹر عبد القدیر خانؒ نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر دن رات کی پرواہ کیے بغیر مسلسل کام کیا۔ یہ ایک ایسا مرحلہ تھا کہ جہاں وسائل بھی کم تھے کیوں کہ تب بہت سی اشیاء کی کمی تھی او ر موجودہ حکومت کی طرف سے بھی مکمل وسائل مہیا نہیں تھے۔ لیکن ڈاکٹرعبد القدیر خانؒ اور ان کی ٹیم نے ہمت نہ ہاری، صرف پاکستان کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے دن ر ات ایک کر دیااور اپنے ہدف کو جاپہنچے۔ ظاہر ہے جب اس طرح کی لگن، جذبہ اور ہمت ہو تو یہ ہمت اورجذبہ بہت سی ناممکنات چیزوں کو ممکنات بنا دیتا ہے۔
پاکستان کے دفاع کے لیے ضروری تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت بنے کیوں کہ بھارت کے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد خطے میں دفاعی توازن برقرار نہیں تھا، پاکستان اور بھارت کے الگ ہوتے ہی بھارت نے امریکہ اور اتحادیوں کی مدد سے اپنے ایٹمی پلانٹ پر کام شروع کر دیا تھا، پھر انڈیا نے ایک دھماکہ 1974 میں کیا، عالمی طاقتوں نے بھارت کو ایٹمی پروگرام روکنے کے لیے زور نہ دیا آخر کار انڈیا نے 11 اور 13 مئی 1998 کو یکے بعد دیگرے ایٹمی دھماکے کر دیئے۔
دھماکوں کے بعد انڈیا کی جانب سے پاکستان کو دھمکی آمیز بیانات دیئے جانے لگے، پاکستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے بھارت کو جواب دیئے جانے کا مطالبہ ہوا، شدید عوامی دباؤ اور بھارت کے عزائم کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے بھی ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر متعدد ممالک پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کے لیے آگے بڑھے، اس کو روکنے کے لیے حربے کیے گئے، لالچ اور پابندیوں کے پیغام بھجوائے گئے۔
یہ ایک کڑا وقت تھا، اس سارے معاملے میں جلد ہی حکومت وقت نے دو ٹوک فیصلہ کر لیا اور دھماکوں کے لیے بلوچستان کے علاقے چاغی کی پہاڑی کو چنا گیا۔
28 مئی 1998 کی صبح پاکستان کی تمام عسکری تنصیبات کو ہائی الرٹ کر دیا گیا، دھماکے کے مقام سے دس کلومیٹر دور آبزرویشن پوسٹ پر دس ارکان پر مشتمل ٹیم پہنچ گئی جن میں اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر اشفاق، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک، کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کے چار سائنس دانوں کے ساتھ پاک فوج کی ٹیم کے قائد جنرل ذوالفقار شامل تھے۔
تین بج کر 16 منٹ پر فائرنگ بٹن دبایا گیا جس کے بعد چھ مراحل میں دھماکوں کا خود کار عمل شروع ہوا، 28 مئی 1998 ء مسلمانوں کے لئے ایک تاریخ ساز دن تھا جب اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایک ایسے ہتھیار کا تجربہ کیا جو دنیا کا مہلک ترین ہتھیار مانا جاتا ہے۔
قوموں کے عروج و زوال میں جہاں دوسرے عناصر کارفرما ہوتے ہیں وہاں ٹیکنالوجی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، بہادری کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی ایسے ہتھیار کی ضرورت ہوتی ہے جو مستند، نایاب اور کارآمد ہو، پاکستان نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ اس کے ہدف پر پھینکنے کے سلسلے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔
اس وقت پاکستان کا دفاع اللہ کے فضل سے ناقابل تسخیر ہے۔
یہ کامیابی محض ایک سائنسی کارنامہ نہیں بلکہ قومی خودداری، سالمیت اور دفاعی خود مختاری کی علامت ہے، اس دن پاکستان نے دنیا کو دکھایا کہ وہ اپنے دشمنوں کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آج کا دن ہمیں اپنے قومی ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرنے، ملکی دفاع کو مضبوط بنانے اور اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کے عزم کو دہرانے کا موقع فراہم کرتا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو صرف ایک تقریب کے طور پر نہ منائیں بلکہ قومی یکجہتی، سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی اور خود انحصاری کے جذبے کو اپنائیں۔
28 مئی کا دن برصغیر اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مبارک دن ہے اور وہ پہاڑ جہاں یہ دھماکے ہوئے وہ پاکستان کی شان و شوکت اور عظمت کے گواہ ہیں اور اللہ کی ثنا اور تکبیر کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ پاکستان کو سر سبز وشاداب اور قیامت کی صبح تک قائم ودائم رکھے۔آمین۔
واصف علی قادری
۲۸.مئی.2025

11/12/2024

شان سیدہ، طیبہ، طاہرہ، عابدہ، خاتون جنت، ام الحسنین، جگر گوشہ مصطفیٰ، سیدہ فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ عنھا۔

19/03/2024

Today is the best photo✨🥀

14/12/2023

۔
خوبصورت انداز میں ایک بار ضرور سماعت کیجئے ۔
ویڈیو کو لائیک اور شئیر کیجئے۔

04/12/2023

۔

سنیے اور اس پیغام کو شعر کیجئے ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Islamabad