05/07/2025
نواسۂ رسول، شہیدِکربلا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے، آپ رضی اللہ عنہ خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہراء اور شیرِ خدا خلیفہ ٔ چہارم سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ کے لختِ جگر اور نواسۂ پیغمبر علیہ السلام ہیں۔
#تعارف
آپ کا اسمِ گرامی حسین، کنیت ابوعبداللہ اور’’ سید شباب أہل الجنۃ‘‘ اور ’’ریحانۃ النبي‘‘ لسانِ نبوت سے ملے القاب ہیں۔ آپ 3 شعبان 4 ہجری (مطابق 10 جنوری 626ء) مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔
#پرورش
پیغمبرِ اسلام کی گود میں جو اسلام کی تربیت کا گہوارہ تھی اب دن بھر دو بچّوں کی پرورش میں مصروف ہوئی ایک حسن دوسرے حسین اور اس طرح ان دونوں کا اور اسلام کا ایک ہی گہوارہ تھا جس میں دونوں پروان چڑھ رہے تھے۔ ایک طرف پیغمبرِ اسلام جن کی زندگی کا مقصد ہی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی اور دوسری طرف امیر المومنین علی ابن ابی طالب جو اپنے عمل سے خدا کی مرضی کے خریدار بن چکے تھے تیسری طرف فاطمہ زہرا جو خواتین کے طبقہ میں پیغمبر کی رسالت کو عملی طور پر پہنچانے کے لیے ہی قدرت کی طرف سے پیدا ہوئی تھیں اس نورانی ماحول میں حسین کی پرورش ہوئی۔
نبی اکرم علیہ السلام اپنے دونوں نواسوں کے ساتھ انتہائی محبت فرماتے تھے۔ سینہ پر بیٹھاتے تھے۔ کاندھوں پر چڑھاتے تھے اور مسلمانوں کو تاکید فرماتے تھے کہ ان سے محبت رکھو۔ مگر چھوٹے نواسے کے ساتھ آپ کی محبت کے انداز کچھ امتیاز خاص رکھتے تھے۔ ایسا ہو اہے کہ نماز میں سجدہ کی حالت میں حسین پشت ُ مبارک پراگئے تو سجدہ میں طول دیا۔ یہاں تک کہ بچہ خود سے بخوشی پشت پر سے علاحدہ ہو گیا۔ اس وقت سر سجدے سے اٹھایا اور کبھی خطبہ پڑھتے ہوئے حسین مسجد کے دروازے سے داخل ہونے لگے اور زمین پر گر گئے تو رسول نے اپنا خطبہ قطع کر دیا منبر سے اتر کر بچے کوزمین سے اٹھایا اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ دیکھو یہ حسین ہے اسے خوب پہچان لو اور اس کی فضیلت کو یاد رکھو رسول نے حسین کے لیے یہ الفاظ بھی خاص طور سے فرمائے تھے کہ »حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں، ، مستقبل نے بتادیا کہ رسول کا مطلب یہ تھا کہ میرا نام اور کام دُنیا میں حسین کی بدولت قائم رہے گا۔
حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ سے عرض کی [ أی اھل بیتک أحب الیک؟ فقال :الحسن والحسین ] کہ آپ کی اہل بیت میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کو ن ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا حسن اور حسین اور آپ ﷺ عائشہ صدیقہ سے کہا کرتے تھے میرے بیٹوں کو میرے پاس لے آؤ اور آپ ﷺ حسنین کریمین کو سونگھتے اور اُن کو سینے سے لگا لیتے۔
سنن الترمذی، أبواب المناقب، باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی، ج:6، ص:122)
حضرت أنس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :[حسین منی وأنا من حسین، أحب اللّٰہ من أحب حسینا، حسین سبط من الأسباط ] حسین مجھے سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو شخص حسین سے محبت کرے اللہ تعالی اس کے ساتھ محبت فرمائے، حسین میری اولاد میں سے میرے ایک بیٹے ہیں۔
سنن الترمذی، أبواب المناقب، باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی، ج:6، ص:122 ).
’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : [الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّة]
حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۔
الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : مناقب الحسن و الحسين، 5 / 656، الرقم : 3768
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حسنین کریمین کودیکھا اور فرمایا [ اللّٰہم انی احبھمافأحبھما ] اے اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔
سنن الترمذی، أبواب المناقب، باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی، ج:6، ص:123 )
ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے حسن بن علی کو کندھے پر اُٹھایا ہوا تھا۔ ایک شخص نے کہا [نعم المرکب رکبت یا غلام فقال النبی ﷺ:نعم الراکب ہو ]کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر اے لڑکے تو سوار ہے پس نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :یہ سوار کتنا اچھا ہے۔
سنن الترمذی، أبواب المناقب، باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی، ج:6، ص:123 )
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :[من أحبھما فقد أحبنی ومن أبغضھما فقد أبغضنی الحسن والحسین ] جس نے ان دونوں سے محبت کی پس تحقیق اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا پس تحقیق اس نے مجھ سے بغض رکھا اور وہ حسن وحسین ہیں۔
النسائی، کتاب الفضائل، مناقب الحسن والحسین، ج:7، ص:317
عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے جب آپ ﷺ سجدہ کے لیے تشریف لے جاتے تو حسن وحسین آپ کے کندھے پر چڑھ جاتے جب صحابہ کرام نے ارادہ کیا کہ ان کو منع کریں تو نبی اکرم ﷺنے ان کی طرف اشارہ کیا کہ ان دونوں کو چھوڑ دو پس جب نبی اکرم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو گود میں اُٹھا لیا اور فرمایا :[من أحبنی فلیحب ھذین ] جو مجھے سے محبت کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ ان دونوں سے محبت کرے۔
النسائی، کتاب الفضائل، مناقب الحسن والحسین، ج:7، ص:317
امام حسین علیہ السلام کی عبادت، زہد، سخاوت اور آپ کے کمالِ اخلاق کے دوست و دشمن سبھی قائل تھے- پچیس حج آپ نے ادا کیے- آپ میں سخاوت اور شجاعت کی صفت کو خود رسول اللہ نے بچپن میں ایسا نمایاں پایا کہ فرمایا "حسین میں میری سخاوت اور میری جراَت ہے"- چنانچہ آپ کے دروازے پر مسافروں اور حاجتمندوں کا سلسلہ برابر قائم رہتا تھا اور کوئی سائل محروم واپس نہیں ہوتا تھا- اس وجہ سے آپ کا لقب ابوالمساکین ہو گیا تھا- راتوں کو روٹیوں اور کھجوروں کے پشتارے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لے جاتے تھے اور غریب محتاج بیواؤں اور یتیم بچوں کو پہنچاتے تھے جن کے نشان پشت مبارک پر پڑ گئے تھے- ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ "جب کسی صاحبِ ضرورت نے تمھارے سامنے سوال کے ليے ہاتھ پھیلا دیا تو گویا اس نے اپنی عزت تمھارے ہاتھ بیچ ڈالی- اب تمھارا فرض یہ ہے کہ تم اسے خالی ہاتھ واپس نہ کرو، کم سے کم اپنی ہی عزتِ نفس کا خیال کرو"-
غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ آپ عزیزوں کا سا برتاؤ کرتے تھے- ذرا ذرا سی بات پر آپ انھیں آزاد کر دیتے تھے- آپ کے علمی کمالات کے سامنے دنیا کا سر جھکا ہوا تھا- مذہبی مسائل اور اہم مشکلات میں آپ کی طرف رجوع کی جاتی تھی- آپ کی دعاؤں کا ایک مجموعہ صحیفہ حسینیہ کے نام سے اس وقت بھی موجود ہے آپ رحمدل ایسے تھے کہ دشمنوں پر بھی وقت آنے پر رحم کھاتے تھے اور ایثار ایسا تھا کہ اپنی ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسروں کی ضرورت کو پورا کرتے تھے- ان تمام بلند صفات کے ساتھ متواضع اور منکسر ایسے تھے کہ راستے میں چند مساکین بیٹھے ہوئے اپنے بھیک کے ٹکڑے کھا رہے تھے اور آپ کو پکار کر کھانے میں شرکت کی دعوت دی تو فوراً زمین پر بیٹھ گئے- اگرچہ کھانے میں شرکت نہیں فرمائی- اس بنا پر کہ صدقہ آلِ محمد پر حرام ہے مگر ان کے پاس بیٹھنے میں کوئی عذر نہیں ہوا-
آپ کی اخلاقی جراَت، راست بازی اور راست کرداری، قوتِ اقدام، جوش عمل اور ثبات و استقلال، صبر و برداشت کی تصویریں کربلا کے مرقع میں محفوظ ہیں- ان سب کے ساتھ آپ کی امن پسندی یہ تھی کہ آخر وقت تک دشمن سے صلح کرنے کی کوشش جاری رکھی مگر عزم وہ تھا کہ جان دے دی جو صحیح راستہ پہلے دن اختیار کر لیا تھا اس سے ایک اِنچ نہ ہٹے- انھوں نے بحیثیت ایک سردار کے کربلا میں ایک پوری جماعت کی قیادت کی- اس طرح کہ اپنے وقت میں وہ اطاعت بھی بے مثل اور دوسرے وقت میں یہ قیادت بھی لاجواب تھی ۔
حق و باطل کا آمنا سامنا تخلیقِ آدم سے ہی چلا آرہا ہے ، جب اللہ کریم نے حضرت آدم علیہ السّلام کو پیدا فرمایا تو ابلیس نے تکبر میں آکر مخالفت کی ، نتیجۃً ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لعین ، مردود اور جہنمی ٹھہرا ، حضرت آدم علیہ السّلام کے دنیا میں تشریف لانے سے آج تک ہزاروں ایسے محاذ ہوئے جن میں نظریاتی ، فکری اور عملی طور پر حق و باطل ایک دوسرے کے مدمقابل آئے ، اللہ کریم نے حق کو فتح عطا فرمائی اور باطل جلد یا بدیر ہر بار ذلیل و رُسوا ہوا ، انہی معرکوں میں سے ایک بہت دردناک اورتاریخِ اسلام کا ایک اہم ترین معرکہ میدانِ کربلا کا ہے ، یہ معرکہ حق وباطل کا ایک ایسا معرکہ تھا کہ تب سے آج تک حق کے لئے حسینیت اور باطل کے لئے یزیدیت کا نام بولا اور لکھا جانے لگا ہے۔ امامِ عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہُ عنہ اہلِ کوفہ کے مسلسل خُطوط بھیجنے اور بلانے کے بعد جب کوفہ پہنچے اور پھر اہلِ کوفہ کی بے وفائی اور یزیدیوں کی شقاوت و لالچ دنیا کے سبب معرکہ کربلا رونما ہوا جس میں خانوادہ نبوی اور دیگر جاں نثاروں پر مشتمل مٹھی بھر قافلے کو یزیدیوں نے انتہائی بےدردی کے ساتھ شہید کردیا۔
شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد کائنات انسانی کو دو کردار مل گئے۔ یزیدیت جو بدبختی ظلم، استحصال، جبر، تفرقہ پروری، قتل و غارت گری اور خون آشامی کا استعارہ بن گئی اور حسینیت جو عدل، امن، وفا اور تحفظ دین مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علامت ٹھہری، قیامت تک حسین بھی زندہ رہے گا اور حسینیت کے پرچم بھی قیامت تک لہراتے رہیں گے، یزید قیامت تک کے لئے مردہ ہے اور یزیدیت بھی قیامت تک کے لئے مردہ ہے، حسین رضی اللہ عنہ کی روح ریگ کربلا سے پھر پکار رہی ہے۔ آج سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی روح اجڑے ہوئے خیموں سے ہمیں صدا دے رہی ہے۔آج علی ا کبر اور علی اصغر کے خون کا ایک ایک قطرہ دریائے فرات کا شہدائے کربلا کے خون سے رنگین ہونے والا کنارہ ہمیں آواز دے رہا ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والو! حسینیت کے کردار کو اپنے قول و عمل میں زندہ کرو۔ ہر دور کے یزیدوں کو پہچانو۔ یزیدیت کو پہچانو۔ یزیدیت تمہیں توڑنے اور تمہارے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے، حسینیت تمہیں جوڑنے کے لئے ہے۔ حسینیت اخوت، محبت اور وفا کی علمبردار ہے، یزیدیت اسلام کی قدریں مٹانے کا نام ہے۔ حسینیت اسلام کی دیواروں کو پھر سے اٹھانے کا نام ہے، یزیدیت قوم کا خزانہ لوٹنے کا نام ہے، حسینیت قوم کی امانت کو بچانے کا نام ہے۔ یزیدیت جہالت کا اور حسینیت علم کا نام ہے۔ یزید ظلم کا اور حسین امن کا نام ہے۔ یزید اندھیرے کی علامت ہے اور حسین روشنی کا استعارہ ہے۔ یزیدیت پستی اور ذلت کا نام ہے جبکہ حسینیت انسانیت کی نفع بخشی کا نام ہے۔
آئیے سب مل کر یزیدیت کے خلاف ایک عہد کریں اور وقت کے یزیدوں کے قصر امارات کو پاش پاش کردیں، مسلمانو! یزیدیت کا تختہ الٹنے، ظلم و استحصال کا نام و نشان مٹانے اور غریب دشمنی پر مبنی نظام کو پاش پاش کرنے کے لئے اٹھو، اپنے اندر حسینی کردار پیدا کرو اور کربلائے عصر میں ایک نیا معرکہ بپا کردو، ایک نئی وادی فرات کو اپنے لہو سے رنگین بنادو، اپنی جان اور اپنے اموال کی قربانی دے کر مصطفوی انقلاب کی راہ ہموار کرو، تاکہ افق عالم پر مصطفوی انقلاب کا سویرا طلوع ہو اور حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر یزیدیت کا آخری نشان بھی مٹ جائے۔ دلوں کی سلطنت حسینی کردار کے ساتھ آباد کریں اور اپنی سر زمین کو یزیدی فتنوں سے یکسر پاک کر دیں۔ اس خطے کو ہم ایک بار پھر اہل بیت اور صحابہ کرام کی محبتوں کا مرکز و محور بنادیں، فتنہ فساد، جنگ، قتل و غارتگری کی آگ کو بجھا کر حسین رضی اللہ عنہ کے جلائے ہوئے چراغ امن سے اپنے ظاہر و باطن کے اندھیرے دور کریں اور سر زمین پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا دیں کہ پاکستان ہماری ہی نہیں پوری ملت اسلامیہ کی امانت ہے۔ یہ خطہ دیدہ و دل عالم اسلام کی پہلی دفاعی لائن ہے۔ آئیے اسے اسلام کا ناقابل تسخیر قلعہ بنا دیں۔
#شہادت
10 محرم الحرام سنہ اکسٹھ (61) ہجری میں امام حسین ؓ نے میدان کربلا میں چھپن سال پانچ ماہ اور چھے دن کی عمر میں جام شہادت نوش کیا اور اسی مقام پر دفن ہوئے ۔
قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے ۔
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ۔
اللہ کریم ہمیں شہدائے کربلا کے احسانِ عظیم کو یاد رکھنے اور ان کی سیرت و کردار کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین
واصف علی قادری
06 جولائی 2025