Top General Knowledge Questions Answers || Gk Quiz in Urdu || Gk Quiz || جنرل نالج |
Islamic Common Sense Paheliyan In Urdu | Islami Maloomat | Islamic Important Question | |
https://youtu.be/NThb4cA7exI
General Knowledge Islamic | Allah Pak Ke 99 Naam Allah Quran | GK Questions And Answers |
https://youtu.be/wka9n_8u7ik
Most Importent GK Questions With Answers | General Knowledge | GK Questions And Answers |
https://youtu.be/jWEXkdrqB7A
Top general knowledge questions answers in urdu
Most amazing general knowledge MCQs
General Knowledge mcqs
Top gk quiz in urdu
GK
gk quiz
gk questions answers
general knowledge
Urdu general knowledge
general knowledge sawal jawab
Urdu sawal jawab
urdu gk
General Knowledge for all
General Knowledge for kids
urdu sawal jawab video
Top gk questions and answers
General Knowledge
Questions Answers quiz
General Knowledge questions
general Knowledge questions and answers in urdu video
Like us on Facebook:
Follow us on Twitter:
| LIKE | COMMENT | SHARE | SUBSCRIBE | The Knowledge Of World |
The Knowledge Of World
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Knowledge Of World, Education, Islamabad.
Islamic Amazing Question Answer in Urdu || Common Sense Brain IQ Test || Islamic GK || Interesting New Information about Prophets || Quran || Islam || Religion || GK in Urdu || Dilchasp Malomati Sawalat || Knowledge ful Video
Dunya Mein Sab Se Bari Islami Riyasat Kon C Hai | General Knowledge | Gk Quiz | Learning |
https://youtu.be/li2oadTO-GE
Dunya Mein Sab Se Bari Islami Riyasat Kon C Hai | General Knowledge | Gk Quiz | Learning |
https://youtu.be/li2oadTO-GE
Islamic Common Sense Paheliyan In Urdu | Islami Maloomat | Islamic Important Question | |
https://youtu.be/NThb4cA7exI
General Knowledge Islamic | Allah Pak Ke 99 Naam Allah Quran | GK Questions And Answers |
https://youtu.be/wka9n_8u7ik
Most Importent GK Questions With Answers | General Knowledge | GK Questions And Answers |
https://youtu.be/jWEXkdrqB7A
The Knowledge of World
Quran Quiz
Deen e Haq
islamic Urdu Sawal Jawab
Islamic Mcqs Quiz
islamic Urdu Paheliyan
islamic question answer
islamic Paheliyan
islamic Riddles
islamic GK
islamic quiz
islami Sawal Jawab
Sawal Jawab Urdu
islamic Sawalaat
islamic fact
islamic general knowledge questions answers
islamic interesting question
✓ All the contents in this video for Educational and Knowledge purposes.
| LIKE | COMMENT | SHARE | SUBSCRIBE | The Knowledge Of World |
02/12/2024
کچھ لوگوں کی ہمدردی،
آپ کے لیے ایسا میٹھا نقصان ہوتا ہے۔ کہ آپ نقصان بھی کروا لیتے ہیں۔ اور اگلا احسان بھی کرجاتا ہے۔
ہمارے ہاں ہر نوجوان اور عورت جن کو بلیو (پورن۔ ایکس فلمیں گندی فلمیں )
دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جس کو دیکھنے کے بعد۔۔
ہر نوجوان اس بات سے پریشان ہے کہ یار کیسے اتنے لمبے عرصے تک ایک مرد عورت پر سواری کر لیتا ہے اور فارغ نہیں ہوتا اور آخر ہم ایسا کیوں نہیں کر پاتے؟
اور کُچھ عورتوں کے ذہن بھی ایسا سوچتا ہین کہ ان فلموں کے مرد کیا لوہے کے بنے ہیں لگے رہتے ہیں۔۔۔ دیکھنے والے خارج ہو جاتے ہیں کرنے والے نہیں۔
ایسا کیسے ہوتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ذرا سوچئے
پہلی بات تو یہ ہے کہ انگریزوں میں بھی ہر کوئی ان فلموں میں کام کرنے کے لئے راضی نہیں ہوتا یہ لوگ ایک کردار ہوتے ہیں جیسے عام فلموں مٰیں ایکٹر اور ایکڑریس ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ایک پورن فلم ڈرائیکٹر ایک فلم بنانے کا ارادہ کرتا ہے تو سب سے پہلے
وہ مارکیٹ میں موجود مُختلف پورن ایکٹرز سے رابطہ کرتا ہے ۔
مُختلف ایکڑز سے مُلاقات ہوتی ہے اور اُن کو سکرپٹ دیکھایا جاتا ہے۔ کہ اس طرح
شوٹنگ کرنی ہے ۔۔مثلا اگر ایک سین جس میں سمارٹ لڑکی کو ایک کالے حبشی سے سیکس کرنا ہے جس کا عضو بارہ انچ لمبا ہے تو وہ اس کے لئے
خوفزدہ ہوتی ہے اور اس کے لئے ایک ٹیسٹ کا مطالبہ کرتی ہے کہ پہلے میں اس کا اندازہ کروں گی کہ کتنا میں لے سکتی ہوں اس کے بعد ایک ٹیسٹ ہوتا ہے اب جتنا وہ برداشت کر پاتی ہے اُس پیمائش کے مطابق وہ ایگریمنٹ کر لیتی ہے کہ جنسی عمل کے دوران کالا مرد میرے اندر صرف اتنا ڈالے گا اور ہوتا بھی ایسے ہی ہے کیونکہ اگر وہ کُھلی چُھوٹ دے دے تو اُس کی جان بھی جاسکتی ہے۔۔۔
اس کے علاوہ ہر طرح کی جنیست کی اقسام کے متعلق شوٹنگ کا مکمل خاکہ ایکٹرز کو پہلے سمجھایا جاتا ہے اور وہ اگر اس سے مطمن ہوتے ہیں اور رقم کا معاملہ طے کیا جاتا ہے کام جتنا مُشکل ہو رقم ریٹ اتنا ہی ذیادہ ہو گا ۔۔۔۔
اس کے بعد شوٹنگ کے آغاز سے پہلے ایک گھر کرائے پر حاصل کیا جاتا ہے
ایکٹرز کی ڈریسنگ ہوتی ہے ۔۔ اور سب سے اہم اُن کا اچھا خاصا میک اپ کیا جاتا ہے جن میں سب سے زیادہ دلچسپ جنسی اعضا اور جسم کا چہرے سے ہٹ کر مُختلف حصوں کا میک اپ شامل ہے جیسے۔۔۔۔ عورت کی اندام نہانی کے اردگرد
نیچے جو ڈارک شیڈوز ہوتی ہیں اُن کو بیس لگا کر یا کوئی اور مٹیریل لگا کر باقی جسم کے رنگ سے مشابہ کیا جاتا ہے ۔۔ جسمانی میک اپ بھی ایک لمبی بحث ہے۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد ایک سے ذیادہ کیمرہ ۔۔۔ لائٹنگ کی جاتی ہے جن کا مقصد
جسم کے ہر حصے کو واضع کرنا اور پھر انسٹرکشن کے لئے ایک مرد پوز کی مکمل رہنمائی کرتا ہے پوری ایک ٹیم جس میں چھ سے سات افراد کام کر رہے ہوتے ہیں ۔۔ حتہ کہ چیخوں آوازوں کے متعلق بھی لڑکی کو کہا جاتا ہے کہ درد ہو نہ ہو مُنہ سے ایسی آوازیں نکالتی رہو۔۔۔۔ اور ذرا سی غلطی پر شوٹنگ روک بھی دی جاتی ہے۔۔ اور ایک پوز میں اگر کام مُکمل ہو گیا تو ۔۔ شوٹنگ روک کر اگلے دن
۔۔دوسرا پوز ۔۔۔اُس سے اگلے دن تیسرا پوز ۔۔۔۔
اس طرح ایک سین کم از کم چار سے پانچ دن میں مکمل فلمایا جاتا ہے۔
اور ہم لوگ ایک فلم دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ یار دیکھو ایک گھنٹے سے لگا ہوا ہے یار کیمرہ ہے جب مرضی بند کرلو جب مرضی چاہے ایک مہینے بعد وہاں سے پھر شروع کرلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ساری تفصیل آپ کو بتانے کا مقصد صرف یہ تھا
کہ ہم کو ان فلموں سے متاثر ہو کر اپنے جسم کے متعلق نہیں سوچنا چاہئے۔کیونکہ یہ فلم ہے حقیقت نہیں بہت سی عورتیں شکایت کرتی ہیں کے ہمارے شوہر پورن فلم دیکھ کر ویسا ہی کرنے کو بولتے ہیں عضو حاص چوسنے یاکس کرنے کو بولتے ہیں پھر اسی بات پرلڑائی ہوجاتی ہےاور پھر مباشرت نہیں ہوپاتی میری نظر میں یہ اچھی بات نہیں ہے بیوی کو بیوی کا درجہ دیں بازارو عورت نہ سمجھے آج کے دور میں مرد ہو یا عورت شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ سب ہی پورن فلمیں دیکھتے ہیں فلمیں دیکھے پر ویسا کرنے کی کوشش نہ کریں حاص تور وہ لوگ گولیاں کھاتے سیکس بڑانے کے لیے یہ بہت نقصان دہ ہیں اس سے آپ موت بھی ہوسکتی ہے۔
آپ جیسے ہیں شکر کیا کریں انسان ہیں
حقیقی زندگی اور فلم میں بڑا فرق ہوتا ہے اور وہ فلمیں بھی منصوبہ بندی سے اور بڑی محنت سے تیار ہوتیں ہیں
جعلی پیر’’لاثانی سرکار‘‘کا فتنہ
منصوراصغرراجہ (دوسری قسط )
صوفی مسعود لاثانی سرکار کی تصانیف پر گہری نگاہ رکھنے والے علمائے کرام کا دعویٰ ہے کہ یہ شخص اپنی کتاب ’’وارث فقر ‘‘میں متعدد مقامات پر توہین ذات باری تعالیٰ کا مرتکب ہوا ہے ۔اس نے مرزا قادیانی کی پیروی کرتے ہوئے خداتعالیٰ کی صفت ’’ کُن ‘‘کو اپنے ساتھ جوڑنے کی سعی کی ہے ۔اس سلسلے میں مفتی سید مبشر رضا قادری نے ’’امت‘‘کو بتایا کہ ’’اگر لاثانی سرکار کی کتاب ’’وارث فقر ‘‘کا مطالعہ کیا جائے تو اس کے بے سروپا دعوے پڑھ کرانسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔اس شخص نے مذکورہ کتاب میں متعدد مقامات پر صریحاً توہین ذات باری تعالیٰ کا ارتکاب کیا ہے ۔اس کی چند مثالیں پیش ہیں۔وہ ’’وارث فقر ‘‘میں صفحہ 12پر لکھتا ہے کہ ’’میں اﷲ کے رنگ میں رنگا ہوا ہوں‘‘۔صفحہ 17پر لکھتا ہے کہ ’’میں اﷲ ہی ہوں‘‘۔صفحہ 40اور صفحہ 97پر اس نے یہ لکھا ہے کہ کسی بھی انسان کے اندر جب فقر مکمل ہو جائے تو وہ اﷲ بن جاتا ہے ۔اس کی عربی عبار ت کچھ یوں ہے کہ ’’ فاذا تم الفقر و ھو اﷲ ‘‘۔۔۔عربی زبان و ادب سے شناسائی رکھنے والے لوگ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ اس ایک عربی عبارت کا اصل مطلب کیا ہے کہ لاثانی سرکار بات کو کس طرف لے کر جا رہا ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے ’’وارث فقر ‘‘میں خود کو آخری سب سے بڑا فقیر قرار دیا ہے ۔صفحہ 205پر اس نے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ ’’میں آخری حبیب فقیر ہوں ۔‘‘پھر اسی کتاب میں پیر لاثانی سرکار نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ وہ جو مرضی کرتا پھرے ،اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔’’وارث فقر ‘‘کے صفحہ 167پر وہ لکھتا ہے کہ اس پر اﷲ کا کلام نازل ہوا کہ اسے ہفتے میں سے دو دن جمعرات اور جمعہ دے دیئے گئے ہیں ۔ان میں وہ جو چاہے کرے،اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ یہ صفت تو خاص رب تعالیٰ کی ہے جو دونوں جہانوں کا خالق و مالک ہے ۔جب کچھ بھی نہیں تھا تو اس کی ذات موجود تھی اور جب سب کچھ فنا ہو جائے گا تو صرف اسی کی ذات باقی رہے گی اور یہ اس ذات اقدس کی خاص صفت ہے کہ اس کے افعال کے بارے میں اسے کوئی پوچھ نہیں سکتا ۔جب مخلوق سے اس کے اعمال پر پوچھنے والی ذات خود باری تعالیٰ ہے ۔تو کیا پھر لاثانی سرکار ایسا دعویٰ کرکے خود کو باریٰ تعالیٰ سے ملانے کی جسارت کررہا ہے؟‘‘(نعوذ باﷲ )
مفتی مبشر مزید بتاتے ہیں کہ ’’پیر لاثانی سرکار نے ایک اور ڈرامہ شروع کررکھا ہے جو مرزا قادیانی کے اسی طرز کے ایک ڈرامے سے گہری مماثلت رکھتا ہے ۔ذات باریٰ تعالی کی ایک صفت ِ خاص ’’کن فیکون ‘‘بھی ہے کہ رب اللعالمین جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو وہ لفظ ’’کُن ‘‘ارشاد فرماتے ہیں اور وہ کام ہو جاتا ہے ۔باری تعالیٰ کی اس صفت خاص کا قرآن مجید میں سورۃ بقرہ کی آیت 117،سورۃ آل عمران کی آیت 45سمیت کتاب اﷲ میں قریباً 9مقامات پر تذکرہ ہوا ہے ۔اسلامی تاریخ میں پہلی بار صفت ’’ کُن‘‘کو اَپنانے کا دعویٰ مرزا قادیانی نے کیا تھا ۔وہ اپنے مجموعۂ کتب ’’روحانی خزائن ‘‘ جلد 22صفحہ 714پر لکھتا ہے کہ ’’مجھ پر وحی نازل ہوئی کہ ’’انما اَمرک اذا اردتہ شیاً ان تقول لہُ کن فیکون‘‘ ترجمہ یہ ہے کہ تُو (یعنی مرزا قادیانی )جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرئے تو تُو کُن کہہ تو وہ کام ہو جائے گا ۔‘‘اہم بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے بعد اب صوفی مسعود لاثانی سرکار وہ دوسرا شخص ہے جو اپنی کتاب ’’وارث فقر ‘‘میں بالکل ایسا ہی دعویٰ کررہا ہے ۔اس نے ’’وارث فقر ‘‘میں صفحہ 29پر ایک عنوان دیا ہے ’’صاحب ِ امر ‘‘،اس عنوان کے تحت وہ لکھتا ہے کہ ’’ فقیر صاحب ِ امر ہوتا ہے ۔اسے صفت ِ کُن کی بادشاہت عطا ہوتی ہے ۔‘‘تھوڑا سا آگے جا کر پھر لکھتا ہے ’’جملہ اشیاء اس کے لفظ کُن سے متاثر ہونے لگتی ہیں۔‘‘پھر چند جملوں کے بعد لکھتا ہے کہ ’’وہ (یعنی فقیر )کونین کا حاکم ہوتا ہے ۔عالمین کا سلطان اور بادشاہ ہوتا ہے ۔‘‘چند جملوں کے پھر لکھتا ہے کہ ’’جب فقیر اپنی کامل حالت کو پہنچتا ہے تو فقیر سے اﷲ کی تجلی ظاہر ہوتی ہے ۔‘‘قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے پہلے صفحہ 11پر لاثانی سرکار یہ لکھ چکا ہے کہ ’’جب فقر تمام ہوتا ہے تو پھر فقیر اﷲ کی ذاتی تجلی یا درجہ خداوندی سے نوازا جاتا ہے ۔‘‘جبکہ اس سے پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ لاثانی سرکار نے اس کتاب میں خود کو آخری فقیر قرار دیا ہے ۔ اب اس طرح کے دعوے کرناکہ مجھے صفت ِ’’کن ‘‘عطا کی گئی ،یہ توہین باری تعالیٰ نہیں تو اور کیا ہے ۔باری تعالیٰ کی تجلی کا بوجھ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام جیسے لاڈلے پیغمبر بھی نہیں اٹھا سکے تھے تو پھر یہ لاثانی سرکار کس کھیت کی مولی ہے ۔جبکہ باری تعالیٰ کی یہ صفات مسلمانوں کے بنیادی عقیدے کا حصہ ہیں۔ شرح اکبر ،شرح عقائد نصفیحہ اور النبراس جیسی معتبر کتب میں انہیں مسلمہ عقائد لکھا گیا ہے کہ یہ صفات صرف خاص رب تعالیٰ کی ہیں۔ہمیں تو ’’وارث فقر ‘‘کو پڑھ کر خوف آتا ہے کہ یہ شخص اپنے پیروکاروں کو کس گمراہی کی طرف لے کر جارہا ہے ۔علما ئے کرام کو بلاامتیاز مسلک اس فتنے کا فوری سد باب کرنا چاہئے ‘‘۔
اہم بات یہ ہے کہ ’’وارث فقر ‘‘نامی کتاب پڑھنے والے علما کرام لاثانی سرکار کے خلاف سخت تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں ۔جامعہ علمیہ اچھر ہ لاہور کے مہتمم ڈاکٹر مفتی کریم خان اہلسنت بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم دین ہیں ۔پیر لاثانی سرکار کی کتاب ’’وارث فقر ‘‘ان کی نظر سے بھی گزر چکی ہے ۔انہوں نے اس سلسلے میں ’’امت‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’صوفی مسعود لاثانی سرکار نے اپنی کتاب ’’وارث فقر ‘‘میں جس طرح کے دعوے کئے ہیں اور ذات باری تعالیٰ کے بارے میں جو خرافا ت رقم کی ہیں ،وہ نہ صرف ذات باری تعالیٰ کی توہین ہیں،بلکہ فرشتوں اور انبیاء کرام کی بھی توہین ہیں ،کیونکہ اس کتاب میں اس نے ایسی بہت سی باتوں کو حبیب فقیر یعنی اپنی ذات کے ساتھ جوڑنے کی جسارت کی ہے جو خاص ذات باری تعالیٰ ، فرشتوں یا پھر انبیاء کرام کی صفات ہیں ۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ صوفی مسعود لاثانی سرکار خود بھی ایک گمراہ شخص ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کر رہا ہے ۔ایسے آدمی کی شرعاً بیعت کرنا کسی بھی صورت جائز نہیں ہے۔ ‘‘
صوفی مسعود لاثانی سرکار کے خلاف بولنے اور لکھنے والوں کو اس کے پیروکاروں کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اردو بازار لاہور میں مکتبہ شاہ نفیس کے مالکان کو لاثانی سرکار کے پیروکاروں کی دھمکیوں سے تنگ آکراپنا کاروبار بند کرنا پڑا ۔اس سلسلے میں ذمہ دار ذرائع نے ’’امت‘‘کو بتایا کہ قریباً تین سال پہلے کراچی کے معروف عالم مولانا رب نواز حنفی نے لاثانی سرکار کے حوالے سے’’فرقہ لاثانیہ ‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھی، جسے ادارہ نور سنت کراچی نے شائع کیا ۔کتاب کے شروع میں لاہور کے چار سٹاکسٹ اداروں کے نام و پتے بھی دیئے گئے جہاں سے مذکورہ کتاب خریدی جا سکتی تھی ۔ان چار سٹاکسٹ میں مکتبہ سید احمد شہید ،مکتبہ الحسن ، مکتبہ دارالایمان اور مکتبہ شاہ نفیس شامل تھے ۔ذرائع کے مطابق مذکورہ کتاب چھپتے ہی لاثانی سرکار کے مبینہ پیروکاروں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ۔اس سلسلے میں کچھ لوگوں نے سب سے پہلے تو اِن چاروں کتب فروشوں کے خلاف تھانہ نیو انار کلی میں مقدمہ درج کرانے کے لئے درخواست دی ۔ مقدمہ تو درج نہ ہوا ،البتہ پولیس نے ان کتب فروشوں کے پاس آنا جانا شروع کردیا ۔ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ان کتب فروشوں کو خاصا پریشان کئے رکھا۔پولیس اہلکار جب بھی ان کتب فروشوں کے پاس آتے تو ان سے کچھ نہ کچھ ’’چائے پانی ‘‘بھی لیتے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ ’’ہم مجبور ہیں۔ہمیں علم ہے کہ آپ لوگوں نے یہ کتاب چھاپی بھی نہیں ،لیکن ہم کیا کریں کہ ہم پر اُوپر سے پریشر بہت زیادہ ہے ‘‘۔ذرائع کے مطابق اسی دوران لاثانی سرکار کے کچھ مبینہ پیروکاروں نے مکتبہ شاہ نفیس کے مالکان کو قتل کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔چار نامعلوم آدمی دو بار مکتبہ شاہ نفیس پر بھی آئے اور وہاں مالکان کو یہ دھمکی دے کر گئے کہ ’’اگر تم لوگوں نے ہمارے پیر صاحب کے خلاف کچھ لکھنے یا چھاپنے کی کوشش کی تو تمہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ ‘‘علاوہ ازیں نامعلوم افراد کی طرف سے دھمکی آمیز فون کالز بھی آنے لگیں ۔اس ساری صورتحال سے تنگ آکر مکتبہ شاہ نفیس کے مالکان کو اپنا ادارہ بند کرنا پڑا ۔
متحدہ مجلس عمل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور اہلسنت بریلوی مکتب فکر کی نامور شخصیت صاحبزادہ شاہ اویس نورانی نے اس سلسلے میں ’’امت‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’صرف ایک لاثانی سرکار نہیں بلکہ یہاں تو ہر گلی محلے میں لاثانی سرکار بیٹھے ہوئے ہیں ۔مزارات اور درگاہوں کی اکثریت ایسے لوگوں کے قبضے میں ہے جن کا دین ،تصوف اور روحانیت سے کوئی تعلق نہیں ۔ایسے لوگ صرف شعبدہ باز ہیں۔ایسے لوگوں کے زیر قبضہ درگاہوں پر ڈھول دھمال ،منشیات فروشی اور گندے تعویزوں کے دھندے چل رہے ہیں،لیکن افسوس یہ ہے کہ ان شعبدہ بازوں کا تعاقب کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ان کی نسبت بریلوی مسلک کے ساتھ جوڑ دی جاتی ہے حالانکہ ان کا کسی مسلک سے تعلق نہیں ہے ۔ایسے عناصر کے خلاف علما و مشائخ کو بلاامتیاز مسلک آواز اٹھانی چاہئے ،کیونکہ ان لوگوں کی وجہ سے بریلوی مسلک نہیں بلکہ دین اسلام بدنام ہو رہا ہے ۔اس لئے تمام مکاتب فکر کے علما کرام کو اپنی سوچ وسیع کرتے ہوئے لاثانی سرکار جیسے پیروں اور سجادہ نشینوں سے لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہئے ۔ایک سوال کے جواب میں صاحبزادہ اویس نورانی نے کہا کہ ’’اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اب اوقاف کے بہت سے مزارات پر این جی اوز کا عمل دخل بڑھ گیا ہے جو وہاں شراب ،چرس اور گانجے کا انتظام کرتی ہیں۔غلط حرکات کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔اب سیہون شریف کی مثال لے لیں۔جہاں عورتیں تک چرس پی رہی ہوتی ہیں۔پھر ایسی شعبدہ بازیوں کا نتیجہ سرگودھا میں جعلی پیر کے ہاتھوں ڈیڑھ درجن مریدوں کے قتل کی صورت میں نکلتا ہے ۔اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ ان آستانو ں اور درگاہوں کے سلسلے میں بھی قانون سازی کرے اور یہاں ہونے والی غیر شرعی اور غیر اخلاقی حرکات پر پابندی عائد کرے۔‘‘ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’فیصل آباد کے لاثانی سرکار کی حرکات سخت قابل گرفت ہیں ۔اس کی اب تک جو ویڈیو ز اور کتابیں سامنے آ چکی ہیں، جن کی خرافات کے سوا کچھ بھی نہیں ،ان کی بنیاد پر اُس شخص کو قانون کی گرفت میں لانا چاہئے ۔ایسے لوگ اسلام یا مسلک کی ترجمانی نہیں کرتے بلکہ دین کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں ۔صوفی ازم اور تصوف ان خرافات کا نام نہیں ہے بلکہ تصوف تو قرب الٰہی اور ذکرالٰہی سے جڑا ہوا ہے ۔ ‘‘
رکن پنجاب اسمبلی اور ضلع منڈی بہاء الدین کے معروف دینی و روحانی مرکز آستانہ عالیہ بھکھی شریف کے سجادہ نشین پیر سید محفوظ مشہدی نے اس سلسلے میں ’’امت‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’جس طرح پیر لاثانی سرکا ر اپنے پیروکاروں کو خواب سناتا ہے اور انبیاء و اولیاء کی زیارتیں کراتا ہے ،اس بارے میں صرف یہ کہوں گا کہ جو شخص شریعت ِ مصطفیٰ ؐ کے بارے میں اپنا علم ثابت کرنے کے لئے اشاروں ،خوابوں اور زیارتوں کا سہارا لے ،تو یہ اس کا علم نہیں بلکہ شیطانی مکرو فریب ہے ۔اگر کوئی شخص اپنے خواب کو بنیاد بنا کر شریعت کے خلاف کوئی حکم پیش کرتا ہے۔ خواہ اس کے لئے وہ کسی نبی اور پیغمبر کا ہی حوالہ کیوں نہ دے ،تواس میں بھی اُس کی قوت متخیلہ کا عمل دخل ہو گا ۔قوت متخیلہ بنیادی طور پر تصوف کی اصطلاح ہے ۔حضرت مجد د الف ثانی ؒ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حقیقت میں بھی کوئی ایسی چیزدیکھے،جس سے وہ کوئی ایسا حکم اخذ کرلے جو ظاہری طور پر شریعت کے خلاف ہو تو اس میں اس شخص کی قوت متخیلہ کا دخل ہے اور اس کانظریہ باطل ہے ۔اس لئے عامۃ الناس کو لاثانی سرکار جیسے لوگوں کی بیعت سے گریز کرنا چاہئے ۔‘‘
اسی سلسلے میں جب جامعہ نعیمیہ لاہور کے مہتمم ڈاکٹر مفتی راغب نعیمی سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ’’صوفی مسعود لاثانی سرکار کی کوئی کتاب اب تک میری نظر سے نہیں گزری،اس لئے میں فی الحال اس موضوع پر کوئی مفصل رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں ۔البتہ انٹرنیٹ پر ان کی جو چند ویڈیوز دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے ،وہ تو واقعی قابل گرفت ہیں ۔ہمارے جامعہ کا دارالافتا لاثانی سرکار کی تحریر و تقریر کو دیکھنے کے بعد ہی کوئی متفقہ اور ٹھوس رائے دے گا ‘‘۔
جعلی پیر’’لاثانی سرکار‘‘کا فتنہ
منصوراَصغرراجہ (پہلی قسط )
فیصل آباد کے اہلسنت علماء اوّل روز سے ہی صوفی مسعود لاثانی سرکار کے عقائد و نظریات کو گمراہ کن قرار دے رہے ہیں ۔20سال پہلے جید علما ء نے لاثانی سرکار کو قادیانیوں کا ایجنٹ قرار دیا ۔لاثانی سرکار نے اپنے خلاف تحریک کا زور توڑنے کے لئے صاحبزادہ فضل کریم کو اپنے پروگرام کا مہمان خصوصی بنانے کی کوشش کی تو انہوں نے صاف انکار کردیا ۔لاثانی سرکار کے دیگر دو بھائیوں نے بھی اپنے الگ الگ آستانے بنا رکھے تھے ۔ صوفی مسعود نے شیخ عبد القادر جیلانی ؒ کے حوالے سے ایک خواب کو بنیاد بنا کر خود کو لاثانی سرکار کہلوانا شروع کیا ۔قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ لاثانی سرکار کا طریقہ واردات انجمن سرفرشان اسلام والے ریاض گوہر شاہی سے گہری مماثلت رکھتا ہے ۔
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے صوفی مسعوداحمد المعروف بہ لاثانی سرکار کے خیالات ،ان کی تقاریر اور کتابوں میں سے اقتباسات کا آج کل سوشل میڈیا پر خاصا چرچا ہے ۔اہلسنت علمائے کرام ان کے دینی نظریات کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کر تے ہوئے لاثانی سرکار کو دور حاضر کا ایک بڑا فتنہ قرار دے رہے ہیں ۔صوفی مسعود لاثانی سرکار کون ہیں ۔ان کی اٹھا ن کہا ں سے ہوئی ۔وہ صوفی مسعود سے لاثانی سرکار کیسے بنے ۔اس سلسلے میں ان کے قریبی ذرائع نے ’’امت‘‘کو بتایا کہ صوفی مسعود لاثانی سرکار کا تعلق جڑانوالہ کی ایک سنار فیملی سے ہے ۔یہ چار بھائی تھے۔ جن میں سے تین انتقال کر چکے ہیں ۔قریباً 20,25 سال پہلے ان چاروں بھائیوں میں سے تین بھائیوں نے اپنا آبائی پیشہ چھوڑ کر ’’تصوف ‘‘کے میدان میں طبع آزمائی شروع کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ’’سرکار ‘‘کے نام سے مشہور ہوگئے ۔ان کے سب سے بڑے بھائی کا صوفی اقبال تھا ۔وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے لیکن انہوں نے لاہور میں اپنا آستانہ رائے ونڈ روڈ پر بنا رکھا تھا اور ’’حق ولی سرکار ‘‘کے نام سے مشہور تھے ۔ان سے چھوٹے بھائی کا نام صوفی نثار تھا جو خود کو ’’پیر سوہنی سرکار ‘‘کہلواتے تھے ۔ان کا آستانہ سمندری روڈ پر پُل عبد اﷲ پور کے قریب کرتارے والا روڈ پر تھا ۔تیسرے نمبر پر صوفی عارف ایڈووکیٹ تھے جو وکالت کے ساتھ پراپرٹی کا بزنس بھی کرتے تھے ۔سب سے چھوٹے صوفی مسعود ہیں جو لاثانی سرکار کے نام سے مشہور ہیں ۔ان کا آستانہ فیصل آباد شہر کے تھانہ بٹالہ کالونی کی حدود میں راجہ غلام رسول نگر نامی کالونی میں قریباً چار کنال رقبے پر بنا ہوا ہے ۔چاروں بھائیوں میں سے اس وقت صرف صوفی مسعودلاثانی سرکار ہی حیات ہیں ۔سنی اتحاد کونسل فیصل آباد کے رہنما ملک بخش الٰہی نے ’’امت ‘‘کو بتایا کہ ’’بہت سال پہلے کی بات ہے کہ جب صوفی مسعود نے نیا نیا تصوف کا لبادہ اوڑھا تو انہوں نے اپنی ایک مجلس میں اپنے مریدوں کو بتایا کہ انہیں پیرانِ پیر حضرت غوث پاک شیخ عبد القادر جیلانی ؒکی زیارت ہوئی ہے ۔حضرت غوث پاک ؒ نے ان سے فرمایا کہ اس وقت رُوئے زمین پر تمہارا کوئی ثانی نہیں ہے ۔مریدوں کو یہ خواب سنانے کے بعد صوفی مسعود نے خود کو لاثانی سرکار کہلوانا شروع کردیا ۔‘‘
لاثانی سرکار کے قریبی ذرائع نے مزید بتایا کہ صوفی مسعود نے قریباً ربع صدی پہلے جب فیصل آباد میں پیری مریدی شروع کی اور اپنی مجالس میں عجیب و غریب خیالات کا اظہار شرو ع کیا تو اہلسنت بریلوی مکتب فکر کے علما نے اسی وقت ان کے خلاف تحفظات کا اظہار شروع کردیا ۔اس سلسلے میں سب سے پہلے صوفی ممتاز نامی ایک صاحب نے لاثانی سرکار کے خلاف آواز اٹھائی ۔صوفی ممتاز فیصل آباد کے نواحی گاؤں محمد والا کے رہائشی تھے ۔وہ خود بھی پیشے کے لحاظ سے سنار تھے اور ان کا بیعت کا تعلق گولڑہ شریف والے بزرگوں کے ساتھ تھا ۔وہ لاثانی سرکار کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ انتہائی خطرناک شخص ہے ۔یہ مسلمانوں کے عقائد خراب کر رہا ہے ۔یہ آدمی جن خیالات کا اظہار کرتا ہے ،ان سے شبہ ہوتا ہے کہ یہ قادیانیوں کا ایجنٹ ہے ۔صوفی ممتاز مرحوم کے بعد مولانا محمد دین چشتی وہ دوسری شخصیت تھے۔ جنہوں نے لاثانی سرکار کے خلاف سب سے پہلے باقاعدہ تحریک چلائی ۔وہ تھانہ گلبرگ کے بالکل سامنے واقع جامع مسجد غوثیہ حامدیہ کے خطیب و پیش امام تھے ۔انہوں نے 1996-97ء میں فیصل آباد کے علما کو اِس طرف متوجہ کیا ۔ان کے ہمرا ہ فیصل آباد کے کئی معروف علما بھی تھے۔ جن میں خاص طور پر تحریک منہاج القرآن کے علامہ سید ہدایت رسول شاہ اور مولانا عبد الرشید جامی جیسے بزرگ علما قابل ذکر ہیں ۔ان حضرات نے قریباً 90علما کے ہمراہ کچہری بازار میں واقع جیلوز ہوٹل میں ایک بھرپور پریس کانفرنس کی ۔جس میں مولانا محمد دین چشتی نے لاثانی سرکار کے کفریہ کلمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخص بہت بڑا فتنہ ہے جو مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے ۔اس کے نظریات اہلسنت و الجماعت کے موقف کے بالکل متصادم ہیں ۔ذرائع کے مطابق بالکل انہی ایام میں فیصل آباد کے ایک معروف عالم مولانا افضل قادری نے نہ صرف اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر فیصل آباد نسیم صادق کے دفتر میں بیٹھ کر بلکہ صحافتی ،سماجی سطح پر اور ذاتی حیثیت سے بھی لاثانی سرکار کو یہ چیلنج کیا کہ لاثانی سرکار کے آستانے کے قریب جو صدیقیہ قبرستان ہے ،وہاں دو قبریں کھودی جائیں ،انہیں اور لاثانی سرکار کو وہاں لٹایا جائے اور علما و مشائخ کی ایک جماعت ان قبروں پر کھڑی ہو کر دعا مانگے کہ ان دونوں میں سے جو جھوٹا ہو ،وہ ابھی اسی قبر میں دفن ہو جائے ۔لیکن لاثانی سرکار نے ان کا چیلنج قبول کرنے کی بجائے راہ فرار اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ جب بریلوی مکتب فکر کے ہی جید علما ئے کرام نے لاثانی سرکار کا محاسبہ شروع کیا تو انہوں نے 2009ء میں سنی اتحاد کونسل کے بانی ،جامعہ رضویہ مظہرالاسلام جھنگ بازار کے مہتمم اور سابق صوبائی وزیر اوقاف صاحبزادہ فضل کریم سے رابطہ کرکے انہیں اپنے آستانے میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی ۔لیکن صاحبزاد ہ فضل کریم نے لاثانی سرکار کو کوئی حوصلہ افزا جواب نہ دیا ۔صاحبزادہ فضل کریم کی طرف سے مایوس ہونے کے بعد لاثانی سرکار نے ان کے بعض قریبی ساتھیوں سے رابطہ کرکے کہا کہ وہ انہیں صاحبزادہ صاحب سے کچھ وقت لے دیں ۔اس سلسلے میں صاحبزادہ فضل کریم کے قریبی ساتھی اور سنی اتحاد کونسل کے رہنما ملک بخش الٰہی نے بتایا کہ ’’دراصل صاحبزادہ فضل کریم کو اپنی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی دعوت دینا بھی دراصل لاثانی سرکار کی ایک چال تھی ،کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ صاحبزادہ فضل کریم کا بریلوی مکتب فکر میں بے حد احترام پایا جاتا ہے ۔اس لئے اگر وہ ان کے پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے تو لاثانی سرکار کے خلاف جاری اہلسنت علما کی تحریک دم توڑ دے گی ۔لیکن دوسری طرف صاحبزادہ صاحب بھی لاثانی سرکار کی اس چال کو سمجھ گئے تھے ،اسی لئے انہوں نے صاف جواب دے دیا ۔ان کی طرف سے مایوس ہونے کے بعد لاثانی سرکار نے میرے ساتھ رابطہ کیا کہ آپ مجھے صاحبزاد ہ صاحب سے تھوڑا سا وقت لے دیں ۔میں نے جب صاحبزادہ صاحب سے بات کی تو انہوں نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ صوفی مسعود لاثانی سرکار ایک متنازعہ شخصیت ہے ۔اہلسنت علماء اس کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کررہے ہیں ،لہٰذا میں ایسے آدمی کے پروگرام میں شرکت کرکے خود کو متنازعہ نہیں بنوانا چاہتا۔ ‘‘لاثانی سرکار کو قریب سے جاننے والے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ لاثانی سرکار کا طریقہ واردات انجمن سرفرشان اسلام کے ریاض گوہر شاہی سے گہری مماثلت رکھتا ہے ۔
صوفی مسعود لاثانی سرکار کی علمی حیثیت بھی مشکوک ہے ۔اس نے کسی دینی مدرسے سے تعلیم حاصل کی، نہ کسی عصری تعلیمی ادارے سے فیض حاصل کیا ۔فیصل آباد کے معروف بزرگ عالم دین علامہ سید ہدایت رسول شاہ نے ’’امت‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے علم میں توایسی کوئی بات نہیں ہے کہ صوفی مسعود لاثانی سرکار کسی دینی مدرسے کے فاضل ہیں یا کسی یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں ۔البتہ ایک بار مجھے ان کی گفتگو سننے کا ضرور اتفاق ہوا ۔میں چونکہ تحریک منہاج القرآن کا مقامی ذمہ دار بھی ہوں ۔ اس لئے عوامی تحریک کے 2014ء کے دھرنے سے قبل ہمارا آٹھ دس افراد کا ایک وفد صوفی مسعودکو دَھرنے میں شرکت کی دعوت دینے اس کے پاس گیا۔ جس میں ،میں بھی شامل تھا ۔اس نے ہمیں تین گھنٹے اپنے پاس بٹھائے رکھا اور اس دوران خود بولتا رہا ،ہمیں ایک لفظ بھی نہ بولنے دیا ۔اس کی پوری گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ ’’اس وقت رُوئے زمین پر خدا و رسول کے بعد سب کچھ میں ہی ہوں ‘‘۔سچی بات تو یہ ہے کہ اس شخص نے ہمارے ساتھ جو گفتگو کی ،اسے سن کر مجھے ڈر لگا کہ جس کمرے میں ہم بیٹھے ہیں ،کہیں اس کی چھت ہم پر نہ گر جائے ۔وہاں سے واپسی کے بعد میں نے باقاعدہ توبہ کی کہ آئندہ اس شخص کے آستانے کی طرف نہیں جانا۔‘‘
ختم نبوت فورم کے منتظم مفتی سید مبشر شاہ نے اس بارے میں ’’امت‘‘کو بتایا کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ صوفی مسعود عرف لاثانی سرکار بنیادی طور پر ایک جاہل آدمی ہے ۔علم دو طرح کا ہوتا ہے ،ظاہری اور باطنی ۔ جبکہ لاثانی سرکار اِن دونوں طرح کے علوم سے تہی دست و تہی دامن نظر آتے ہیں۔اس نے کہیں سے بھی دینی و دنیاوی تعلیم حاصل نہیں کی اور اس بات کا بڑے فخر کے ساتھ اپنی کتاب ’’وارث فقر ‘‘ میں ذکر کیا ہے ۔اس کتاب کا چوتھا ایڈیشن جولائی 2017ء میں شائع ہوا۔ جس کے صفحہ 8پر لکھا ہے کہ ’’اس فقیر نے کسی مدرسے سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی ،نہ اس نے ان روحانی علوم کو حاصل کرنے میں کسی ظاہر ی استاد یا معلم سے مدد حاصل کی۔ ‘‘آگے چل کر اسی کتاب کے صفحہ 169پر لکھا ہے کہ ’’مجھے اﷲ جلّ شانہ‘ کا فرمان ہوا کہ کتابیں وہ پڑھے جس کا ہمارے ساتھ تعلق نہ ہو ۔جو کچھ پوچھنا ہو ہم سے پوچھیں ۔تم ان حالات و مقامات سے گزر چکے ہو ۔تمہار ا مقام اس سے آگے کا ہے ۔دوسرا ظاہر ی علم نہ پڑھ ،نہ دیکھ اور نہ ہی مثال دے ۔وقت ضائع نہ کرو ، نیچے دیکھنے کی ضرورت نہیں ۔تم سالہا سال پہلے یہاں سے گزر چکے ہو۔ ‘‘اس اقتباس سے لاثانی سرکار نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ خدا تعالیٰ براہ راست اس کی تعلیم و تربیت فرما رہے ہیں جبکہ یہ صرف انبیا ء کرام کی خاصیت ہے ‘‘۔مفتی مبشر رضا قادری کا یہ دعویٰ ہے کہ ریاض گوہر شاہی تو بہت بعد کی پیداوار ہے ،لاثانی سرکار کا طریقہ واردات تو درحقیقت مرزا غلام قادیانی سے گہری مماثلت رکھتا ہے ۔انہوں نے اس سلسلے میں ’’امت‘‘کو بتایا کہ ’’اگر ہم غور کریں تو مرزا غلا م قادیانی اور پیر لاثانی سرکار کی اٹھان بالکل ایک جیسی ہے ۔مرزا قادیانی نے بھی شروع میں خوابوں اورزیارتوں کے قصے سنا کر ہی لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا شروع کیا۔اس کے نام نہاد الہامات اور وحیوں پر مبنی کتاب ’’تذکرہ ‘‘میں جس پہلی وحی یا الہام کا ذکر کیا گیا ،وہ 1861ء کی ہے جس میں مرزا قادیانی کہتا ہے کہ ’’مجھے خواب میں زیارت رسول ہوئی ‘‘۔واضح رہے کہ اس وقت تک مرزا قادیانی نے نبوت تو کجا ،ابھی ولایت کا دعویٰ بھی نہیں کیا تھا ،لیکن تب سے ہی اس نے خوابوں اور زیارتوں کے نام پر لوگوں کو الو بنانا شروع کردیا جبکہ خواب میں زیارتیں کرنا اور کرانا دین کا شعبہ ہر گز نہیں ہے ۔بالکل ایسے ہی لاثانی سرکار نے بھی زیارتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔وہ لوگوں کو ایک ماہ کے لئے اپنے آستانے پر بلاتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ انہیں نہ صرف رسولِ خدابلکہ دیگر انبیا اور اولیا کی بھی زیارت کرائے گا اور اس طرح ان پر حق واضح ہو جائے گا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی کتاب ’’تذکرہ ‘‘اور لاثانی سرکار کی کتاب ’’وارث فقر ‘‘میں بھی ایک مماثلت یہ ہے کہ ’’وارثِ فقر ‘‘بالکل ’’تذکرہ ‘‘کے طرز پر لکھی گئی ہے ۔ جس طرح ’’تذکرہ ‘‘میں مرزا قادیانی اپنے الہٰامات اور وحیوں کو باقاعدہ تاریخ اور سال کے ساتھ ذکر کرتا ہے ،بالکل اسی طرح ’’وارث فقر ‘‘ میں بھی سَن کے حساب سے باتیں بیان کی گئی ہیں ۔‘‘مفتی مبشر مزید بتاتے ہیں کہ ’’مرزا قادیانی اور لاثانی سرکار میں ایک اور مماثلت یہ بھی پائی جاتی ہے کہ مرزا قادیانی نے جب نبوت و مہدویت کی دکان کھولی تو اُسے علم تھا کہ علما کرام اس کی سخت گرفت کریں گے ،چنانچہ اس کی تصانیف اور شائع کردہ اشتہارات سے پتا چلتا ہے کہ اس نے علما کرام کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔تاکہ اپنے ماننے والوں کے ذہنوں سے لفظ ’’مولوی ‘‘کا ادب اور احترام نکال دیا جائے ۔لاثانی سرکار کا بھی یہی طریقہ واردات ہے اور اس کی کتاب ’’وارث فقر ‘‘میں علم اور علما کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف خوب زہر اُگلا گیا ہے ۔ایک اور فکر انگیز نکتہ یہ بھی ہے کہ جب مرزا قادیانی میدان میں آیا تو اس نے آغاز میں نبوت سے پہلے مسیح موعود کا لقب اختیار کیا ۔نبوت تک تو وہ بہت بعد میں پہنچا ۔بالکل اسی طرح لاثانی سرکار بھی درجہ بدرجہ آگے بڑھ رہا ہے ۔اس نے اب اپنے لئے ’’حبیب فقیر ‘‘کا لقب تراشا ہے ۔اس نے اپنی کتاب ’’وارث فقر ‘‘میں سارا زور اپنے لقب کے فضائل بیان کرنے پر صرف کیا ہے ۔جو لوگ قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ مرزا مسرور کی سرگرمیوں سے آگاہ رہتے ہیں ،وہ بخوبی جانتے ہیں کہ مرزا مسرور اِنگلینڈ میں اپنے مرکز ’’بیت الفتوح ‘‘سے ہفتہ وار لیکچر دیتا ہے جو خطبہ جمعہ کے نام پر نشر بھی کیا جاتا ہے ۔اس لیکچر کے شروع میں قریباً 15,20منٹ تو مرزا مسرور اپنی طرف سے گفتگو کرتا ہے اور اس کے بعد وہ خطوط کی ایک پٹاری کھول لیتا ہے اور اپنے پیروکاروں کو بتاتا ہے کہ اسے فلاں قادیانی نے خط لکھا جس نے مرزا قادیانی کے بارے میں فلاں خواب سنایا ۔فلاں نے خط میں اپنے خواب کا تذکرہ کیا جو مرزا محمود کے فضائل پر مبنی تھا،فلاں کے خط نے مرزا مسرور اور اس کی جماعت کے مبنی بر حق ہونے کے بارے میں کوئی بشارت بیان کی وغیرہ وغیرہ ۔اس طرح مرزا مسرور دوسروں کی طرف اپنی اور اپنے بڑوں کی تعریف و توصیف اور ان کے فضائل بیان کرتا ہے ۔اس طریقۂ واردات کو عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ :
انہی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں
زبان میری ہے بات ان کی
بالکل یہی طریقہ واردات لاثانی سرکار کا ہے ۔اس نے 2017ء میں جشن لاثانی سرکار منایا ۔اس پروگرام کی ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے ۔اس میں بے پردہ نوجوان لڑکیاں اور ڈاڑھی منڈھے لڑکے اس کی تعریفیں کر رہے ہیں ۔ اسی طرح وہ سوشل میڈیا پر گاہے گاہے اپنی مجالس کی جو ویڈیو اَپ لوڈ کرتا ہے ، اس میں بھی اپنی گفتگو کے درمیان میں اپنے مختلف پیروکاروں کی گفتگو شامل کردیتا ہے جو لاثانی سرکار کی ’’روحانی فتوحات ‘‘کے گن گا رہے ہوتے ہیں۔‘‘مفتی مبشر رضا قادری کا کہنا تھا ،’’جشن لاثانی سرکار 2017ء والی ویڈیو میں تو باقاعدہ دکھا یا گیا کہ حضر ت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اپنی اصل حالت میں لاثانی سرکار سے ملاقات کے لئے آئے (نعوذ باﷲ )۔ایسے ہی دعوے وہ حضور نبی کریم ﷺکے بارے میں کرتا ہے جس سے ہمیں شبہ ہوتا ہے کہ یہ شخص آگے چل کر کہیں امام مہدی ہونے کا دعویٰ نہ کردے۔‘‘ (جاری ہے )
Islamic Common Sense Paheliyan In Urdu | Islami Maloomat | Islamic Important Question | |
Like us on Facebook:
Follow us on Twitter:
| LIKE | COMMENT | SHARE | SUBSCRIBE | The Knowledge Of World |
Dunya Mein Sab Se Bari Islami Riyasat Kon C Hai | General Knowledge | Gk Quiz | Learning |
Like us on Facebook:
Follow us on Twitter:
| LIKE | COMMENT | SHARE | SUBSCRIBE | The Knowledge Of World
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Islamabad