"""". . . . . پیر کامل صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم. . "
عمیرہ احمد پاکسنان کی مایہ ناز ناول نگار اور ڈرامہ نگار ہیں ۔۔۔۔ان کے ڈرامے جو سکرین پر نشر ہوتے اکثر کافی حد تک امید سے زیادہ دیکھے اور پسند کئے جاتے ہیں ۔جیسا کہ "زندگی گلزار ہے" ۔۔
صنف آہن جس میں انہوں نے صنف نازک کو صنف آہن بنا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے ناول بھی کافی حد تک برتری حاصل کر چکے ہیں جن میں سب سے زیادہ شہرت پانے والے " پیر کامل اور آب حیات مانے جاتے ہیں۔۔۔۔۔
پیر کامل کی بات کرنے جارہے ہیں ۔۔۔
پیر کامل اک ایسا ناول ہے جس کو اگر کوئی غیر مسلم پڑھے تو اول تو وہ اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوگا دوسری صورت میں وہ اسلام اور محمد مصطفےٰ کی ذات اقدس سے متاثر ہوگا ۔۔۔کیوں کہ اس میں اک قادیانی لڑکی ہوتی ہے جس کو اک لڑکے سے محبت صرف اسلئے ہوتی ہے کیوں کہ وہ لڑکا ایک نعت خواں تھا اور اس کی آواز بہت سریلی اور پرکشش تھی ۔۔جب وہ پڑھتا تھا احمد ندیم قاسمی کی نعت ۔۔۔۔
"کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقش کف پا تیرا"
یہ سن کے لڑکی کے دل میں اسلام کیلئے انوکھی محبت رونما ہوتی تھی۔۔۔
ساتھ ہی ایک لڑکا تھا جو اپنی زندگی میں کامیاب ترین تھا مگر ہمیشہ اس کو چین نہیں تھا کیوں کہ وہ تجسس میں تھا کہ درد کی انتہا کیا ہے ۔۔خوشی کی انتہا کیا ہے ۔۔۔۔جہنم سے آگے کیا ہے ۔۔۔یہں کچھ سوالوں کے جواب کی کھوج میں اس نے بہت دفعہ جان کی بازی لگائ ۔۔۔
What is next to the pain ...??
What is next to ecstacy ...???
What is next to nothingness..??
What is next to the hell...??
لڑکی جس کے دل میں محمد مصطفیؐ کیلئے محبت پیدا ہوتی ہے اور لڑکا جو اپنی زندگی میں یر چیز کی آخری حد کی تلاش میں ہے ۔۔ان کے ساتھ آگے کیا ہوتا ہے جاننے کیلئے ناول ضرور پڑھئے گا۔۔۔۔
پیر کامل کو جہاں تک میں نے پڑھا میں اتنا کہوں گا ہر نوجوان کو پڑھنا چاہئے کیوں کہ اس میں معاشرتی برائیوں سے واقفیت کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت بھی ہوتی ہے۔۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
Urdu poetry
poetry roohullah qureshi
. . . . ""نوجوان نسل اور منٹو. "". . . . . . .
کیا آج کل کے نوجوانوں کو منٹو کے افسانوں سے منسلک رہنا چاہئے یا نہیں ۔۔۔۔۔جواب دیتے ہوئے بندہ تزبزب کا شکار ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
یوں تو اگر ہم ایک نظر سے منٹو کے افسانے پڑھتے ہیں تو ہمیں ان میں فحاشی ملتی ہے جو کہ واقعی نوجوان نسل کی تربیت کیلئے مضر ثابت ہو سکتی ہے۔۔۔
لیکن دوسری طرف مثبت چیز دیکھیں تو منٹو نے معاشرے کی براءیوں سے پردہ اٹھا یا ہے ۔۔۔۔
جیسا کہ اک جگہ کہا جاتا ہی کہ جج نے ان سے طلب کیا کہ آپ فحش گوئ کرتے ہیں ہیں تو انہوں نے کہا میں معاشرے کی تلخ حقیقت بیان کر رہا ہوں ۔۔۔آپ معاشرے سے فحا شی کو ختم کریں میں لکھوں گا بھی نہیں ۔۔۔۔۔
ایک دفعہ منٹو سے کسی نے پوچھا آپ۔کے ملک کے کیا حالات ہیں تو انہوں نے جواب دیا ۔۔۔۔
" وہی حال ہے جو جیل میں ہوتا ہے اذان فراڈیا دیتا ہے ۔۔امامت قاتل کرتا ہے ۔۔باقی مقتدی سارے چور ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی طرح اگر ہم منٹو کے افسانے پژھتے ہیں مثال کے طور پر اس کا افسانہ ہے " کھول دو" اس کو پٰڑھ کر ہم دیکھ سکتے ہیں ہمارے معاشرے میں انسانوں کو اغوا کرکے یا قیدی بنا کے ان کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے۔۔۔یا اگر افسانہ " کالی شلوار " پڑھنے سے ہمیں سبق ملتا ہے ہمارے معاشرے میں غربت کی وجہ سے لوگ اک چیز حاصل کرنے کیلئے جسم فروشی کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ساری صرف کہنے سننے کی باتیں نہیں بلکہ اک تلخ حقیقت ہے جسے منٹو نے بیان کیا یے۔۔۔۔۔
ان کا کہنا ہے "میں تہزیب و تمدن کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی اور میں اسے کپڑے بھی نہیں پہناتا کیوں کہ یہ میرا نہیں درزیوں کا کام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مرد عورت کو دیکھ کر سب کچھ بھول جاتا ہے ۔۔یہ بھی اک حقیقت ہے جو انہوں نے بیان کی ہے جیسا کی اک شاعر کہتا ہے کی ہمیں تو موت بھی اس لئے گوارا ہے کہ وہ آتی ہے ۔۔یعنی حوس کی اتنی اسیری ہے ہمارے معاشرے میں لوگ تانیثیت کی پیاس میں موت کو بھی گوارا سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔
تو بیان کا مقصد یہی ہے کہ ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں ہیں یہ ہم پہ منحصر ہے کہ ہم کیا سمجھتے ہیں یہں منٹو نے بھی کہا تھا کہ میں جانتا ہوں میں نے کیا کہا لیکن یہ نہیں جانتا آپ نے کیا سمجھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
18/06/2024
Agr ye kah do bin Tara ni guzara.
مبا حثوں کے ماحصل فقط خلش فقط خلل
سوال ہی سوال ہے جواب ایک بھی نہیں۔۔۔۔
30/04/2022
مباحثوں کے مااحصل
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Islamabad