03/02/2026
شبِ برات اور اس کے تقاضے
سوال:
شبِ برات کیا ہے؟ اور کیا یہ بات صحیح ہے کہ اس رات رزق اور عمر کی تقسیم ہوتی ہے؟ قرآن اور حدیث کے حوالہ سے رہنمائی فرمائیں۔
جواب:
شعبان کی پندرہویں شب شبِ برات کہلاتی ہے، یعنی وہ رات جس میں مخلوق کو گناہوں سے بری کر دیا جاتا ہے۔
تقریباً دس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے اس رات کے متعلق احادیث منقول ہیں۔
1۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ شعبان کی پندرہویں شب میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنی آرام گاہ پر موجود نہ پایا۔ تلاش میں نکلی تو دیکھا کہ آپ ﷺ جنت البقیع (یعنی قبرستان) میں ہیں۔ پھر مجھ سے فرمایا:
آج شعبان کی پندرہویں رات ہے، اس رات میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ گناہ گاروں کی بخشش فرماتا ہے۔
2۔ دوسری حدیث میں ہے کہ اس رات میں اس سال پیدا ہونے والے ہر بچے کا نام لکھ دیا جاتا ہے، اس رات میں اس سال مرنے والے ہر آدمی کا نام لکھ دیا جاتا ہے، اس رات میں تمہارے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور تمہارا رزق اتارا جاتا ہے۔
3۔ ایک روایت میں ہے کہ اس رات میں تمام مخلوق کی مغفرت کر دی جاتی ہے، سوائے سات اشخاص کے۔ وہ یہ ہیں:
مشرک، والدین کا نافرمان، کینہ پرور، شرابی، قاتل، شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، اور چغل خور۔
ان سات افراد کی اس عظیم رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی جب تک یہ اپنے جرائم سے توبہ نہ کر لیں۔
4۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک روایت میں منقول ہے کہ اس رات میں عبادت کیا کرو اور دن میں روزہ رکھا کرو۔ اس رات سورج غروب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اعلان ہوتا ہے:
کون ہے جو گناہوں کی بخشش کروائے؟
کون ہے جو رزق میں وسعت طلب کرے؟
کون مصیبت زدہ ہے جو مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہو؟
ان احادیثِ کریمہ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور بزرگانِ دین رحمہم اللہ کے عمل سے اس رات میں تین کام کرنا ثابت ہے:
1۔ قبرستان جا کر مردوں کے لیے ایصالِ ثواب اور مغفرت کی دعا کی جائے، لیکن یاد رہے کہ نبی کریم ﷺ سے ساری حیاتِ مبارکہ میں صرف ایک مرتبہ شبِ برات میں جنت البقیع جانا ثابت ہے۔
اس لیے اگر کوئی شخص زندگی میں ایک مرتبہ بھی اتباعِ سنت کی نیت سے چلا جائے تو اجر و ثواب کا باعث ہے، لیکن پھول پتیاں، چادر چڑھاوے اور چراغاں کا اہتمام کرنا، اور ہر سال جانے کو لازم سمجھنا، یا اس کو شبِ برات کے ارکان میں داخل کرنا ٹھیک نہیں۔
جو چیزیں نبی کریم ﷺ سے جس درجے میں ثابت ہیں، ان کو اسی درجے میں رکھنا چاہیے۔ اسی کا نام اتباعِ رسول اور دین ہے۔
2۔ اس رات میں نوافل، تلاوت اور ذکر و اذکار کا اہتمام کرنا۔ اس بارے میں یہ واضح رہے کہ نفل ایک ایسی عبادت ہے جس میں تنہائی مطلوب ہے۔ یہ خلوت کی عبادت ہے، جس کے ذریعے انسان اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے۔
لہٰذا نوافل وغیرہ تنہائی میں اپنے گھر میں ادا کر کے اس موقع کو غنیمت جانیں۔ نوافل کی جماعت اور کوئی مخصوص طریقہ اپنانا درست نہیں۔
یہ فضیلت والی راتیں شور و شغب اور میلے ٹھیلے یا اجتماعات منعقد کرنے کی راتیں نہیں، بلکہ گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کر اللہ سے تعلق استوار کرنے کے قیمتی لمحات ہیں۔ ان کو ضائع ہونے سے بچائیں۔
3۔ دن میں روزہ رکھنا بھی مستحب ہے۔ ایک تو اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، دوسرا یہ کہ نبی کریم ﷺ ہر ماہ ایامِ بیض (13، 14، 15) کے روزوں کا اہتمام فرماتے تھے۔ لہٰذا اس نیت سے روزہ رکھا جائے تو موجبِ اجر و ثواب ہوگا۔
باقی اس رات میں پٹاخے بجانا، آتش بازی کرنا اور حلوے کی رسم کا اہتمام کرنا یہ سب خرافات اور اسراف میں شامل ہیں۔ شیطان ان فضولیات میں انسان کو مشغول کر کے اللہ کی مغفرت اور عبادت سے محروم کرنا چاہتا ہے، اور یہی شیطان کا اصل مقصد ہے۔
بہرحال، اس رات کی فضیلت بے اصل نہیں، اور سلفِ صالحین نے اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھایا ہے۔
مدرسہ دارالقرآ