امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں
"خوشخبری ہے، اس شخص کیلئے، جِس کو اُس کے اپنے عیبوں نے لوگوں کے عیوب سے غافل کر رکھا ہے؛
اور تباہی ہے، اُس شخص کیلئے، جو اپنے عیبوں کو بھول کر لوگوں کے عیوب ٹٹولتا پھرتا ہے!"
(مفتاح دار السعادة : 298/1)
اخوکم فی الدین حافظ محمد شعیب صدیقی متعلم مرکز طیبہ مریدکے 📚
Al Ehya Islamic School is
اسلامی تربیت دینی اور دنیاوی تعلیم مع تین سالہ حفظ القرآن پروگرام عربی انگلش میڈیم.
🍁فہم القرآن🍁
سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 5
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
📖اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞
▪️ترجمہ:
یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
✒️تفسیر:
ربط کلام : ایمان کے چھ اوصاف اپنانے اور ان کے تقاضے پورے کرنے والوں کو کامیابی کا مژدہ سنایا جاتا ہے۔
کتاب مبین کے الفاظ اور اس کی ہدایت پر کسی شک وتردد کے بغیر یقین کرنا، قرآن مجید کے بتلائے ہوئے ان دیکھے حقائق پر ایمان لانا، نماز کی شرائط کے مطابق اس کی ادائیگی اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا انفاق، قرآن و حدیث کی صورت میں جو کچھ جناب محمد کریم ﷺ پر نازل ہوا ہے اسے اعتقاداً ، قولًا اور عملًاتسلیم کرنا، انبیاء کرام ؑ اور پہلی کتب آسمانی کی تصدیق کرتے ہوئے آخرت کی جواب دہی پر یقین کامل رکھنے والوں کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ یہی وہ خوش نصیب ہیں جو اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح و کامیابی سے سر فراز ہونے والے ہیں۔
فلاح کسی ادھوری اور جزوی کامیابی کو نہیں کہتے بلکہ فلاح اس مکمل کامیابی کو کہا جاتا ہے جس کے دامن میں دنیا و آخرت کی سعادتیں اور برکتیں سمٹ آئی ہوں۔
” لیس فی کلام العرب کلہ اجمع من لفظۃ الفلاح لخیری الدنیا و الاخرۃ کما قالہ ائمۃ اللغۃ .“ [ تاج العروس ]
” ائمہ لغت نے تصریح کی ہے کہ عربی زبان میں فلاح کے لفظ سے زیادہ اور کوئی جامع لفظ نہیں جو دنیا وآخرت دونوں کی خیرات و برکات پر دلالت کرتا ہو۔ “
✒️مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ اور غائب پر ایمان لانا، نماز قائم کرنا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق سے خرچ کرنا۔
3۔ قرآن مجید، پہلی کتابوں اور انبیاء کرام پر ایمان لانا۔ 4۔ آخرت کو یقینی جاننا ایمان کے بنیادی ارکان ہیں۔
✒️تفسیر بالقرآن
کامیاب کون ؟
1۔ ایمان کے تقاضے پورے کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ ( الاعراف : 157)
2۔ رسول محترم ﷺ پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی عزت و تکریم کرنے والے کامیاب ہوں گے (الاعراف : 157)
3۔ اللہ کے راستے میں مال و جان کے ساتھ جہاد کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (التوبۃ : 88)
4۔ غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (الروم : 38)
۔۔۔ جاری ان شاءاللہ
*رشتوں میں رویوں کو نرم رکھیں کہیں فاصلہ محسوس ہو تو خود نزدیک ہو جائیں سبب پوچھ لیں۔*
*کوئی خاموش لگے تو خود بات کا آغاز کر لیں ہو سکتا ہے جسے آپ دوسرے کی انا سمجھ رہے ہوں وہ اس کا ڈپریشن ہو*
*جس خاموشی کو قطع تعلق سمجھ رہے ہیں وہ خود شکست خوردہ ہو ۔*
*پہل کر لیں تعلق جوڑنے میں، رابطہ کرنے میں،*
*مسکرانے میں، کسی کو زندگی کی طرف واپس لانے میں❣️*
🌹🖇️📎🖋️🤍💯
16/03/2024
"مخلص مومن سب سے اچھی زندگی بسر کرتا ہے، سب سے زیادہ انعام یافتہ دل رکھتا ہے، اور سب سے زیادہ کُھلا ہوا سینہ اور رازدان دل رکھتاہے؛
بلاشبہ یہ بعد میں آنے والی جنت سے پہلے نقد جنت ہے، جو دنیا میں ہی بندہ مومن کو حاصل ہوتی ہے!"
امام ابن القيم رحمه الله
(الداء و الدواء : 459/1)
*🍁فہم القرآن🍁*
سورۃ نمبر 43 الزخرف
آیت نمبر 15
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
*📖وَجَعَلُوۡا لَهٗ مِنۡ عِبَادِهٖ جُزۡءًا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَـكَفُوۡرٌ مُّبِيۡنٌ۞*
*▪️ترجمہ:*
اس کے باوجود لوگوں نے اللہ کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جز بنا لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان واضح طور پر ناشکرا ہے ؏
*✒️تفسیر:*
ربط کلام : ” اللہ “ کی توحید کا اقرار کرنے کے باوجود مشرک دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتا ہے۔ یہ اس کی واضح طور پر ناشکری کی دلیل ہے۔
اس جاری خطاب میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے مشرکین کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا کہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو ان کا جواب ہوتا ہے اور ہوگا کہ زمین و آسمانوں کو صرف ایک ” اللہ “ نے پیدا کیا ہے۔ اس کے بعد اپنی آٹھ قدرتوں اور نعمتوں کا ذکر فرمایا جس سے تمام انسان مستفید ہوتے ہیں۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کی خالقیّت کا اعتراف کرنے اور اس کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے باوجود ” اللہ “ کے بندوں میں سے کچھ بندوں کو اس کا حصہ بناتے ہیں۔ جو مشرک کفر اور اس کی ناشکری کی واضح نشانی ہے۔ قوم نوح (علیہ السلام) نے پانچ فوت شدگان کو اللہ تعالیٰ کا جز بنایا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے اپنے بادشاہ کو رب تسلیم کیا۔ فرعون نے اپنے آپ کو ” رب الاعلیٰ “ کے طور پر منوایا۔ یہودیوں نے عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا۔ عسائیوں نے عیسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم (علیہ السلام) کو رب کا جز بنایا۔ امت مسلمہ اس حد تک گراوٹ کا شکار ہوئی کہ ایک فرقہ پنچتن پاک کی محبت میں شرک کا ارتکاب کر رہا ہے۔ امت مسلمہ کی کثیر تعداد نے نبی ﷺ کو ” نور من نور اللہ “ کے طور پر متعارف کروایا اور یارسول اللہ کہہ کر آپ سے مدد مانگتے ہیں۔ کسی کو داتا گنج بخش کہا، کسی کو دستگیر کے لقب سے یاد کیا۔ کسی کو گنج بخش کے طور پر اور کسی کو امام بری، میری قسمت کردے ہری بھری کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ کسی کو عزت کا مالک سمجھتے ہوئے اس طرح پکارا جاتا ہے کہ شہباز قلندرمیری پت رکھنا۔ کسی کو لجپال کہا جاتا ہے نہ معلوم مشرکین نے کس کس کو کیا کیا اختیارات سونپ رکھے ہیں۔ یہاں شرک کو پرلے درجے کی ناشکری قراردیا گیا ہے۔ شرک کرنے والا اس لیے ناشکرا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی عزت و عظمت کی خاطر اسے صرف اپنے سامنے جھکنے اور دردر کی ٹکروں سے بچنے کا حکم دیا۔ لیکن مشرک عقیدہ توحید پر راضی اور شکرگزار ہونے کی بجائے دردر کی ٹھوکروں کو اختیار کرتا ہے۔ اس سے بڑھ کر انسان کی ناشکری کیا ہوسکتی ہے ؟ اسی حالت کے بارے میں ارشاد فرمایا۔
” یکسو ہو کر اللہ کے بندے بن جاؤ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شریک بنائے گا گویا وہ آسمان سے گرپڑا۔ اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے۔ “ [ الحج : 31]
۔۔۔ جاری ان شاء اللہ
*🍁فہم القرآن🍁*
سورۃ نمبر 42 الشورى
آیت نمبر 30 تا 31
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
*📖وَمَاۤ اَصَابَكُمۡ مِّنۡ مُّصِيۡبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ وَيَعۡفُوۡا عَنۡ كَثِيۡرٍؕ ۞*
*▪️ترجمہ:*
تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے، اور اللہ بہت سے گناہوں سے درگزر کردیتا ہے
*📖وَمَاۤ اَنۡـتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ فِى الۡاَرۡضِ ۖۚ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ ۞*
*▪️ترجمہ:*
تم اسے زمین میں عاجز نہیں کرسکتے، اور اللہ کے مقابلے میں تم کوئی حامی و مددگار نہیں رکھتے
*✒️تفسیر:*
ربط کلام : اللہ تعالیٰ صرف قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرنے پر قادر نہیں بلکہ وہ دنیا میں بھی لوگوں پر ہر قسم کا اختیار رکھتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اسکی کوتاہی پر پکڑ لیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس سے درگزر کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر قادر ہے۔ یہ اس کی قدرت کی نشانی اور اختیار ہے کہ جسے چاہے اس کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لے اور جسے چاہے معاف کردے۔
اکثر انسانوں میں ہمیشہ سے یہ کوتاہی اور کمزوری رہی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے اپنے گناہوں، پر اصرار اور ان کا جواز تلاش کرتے ہیں۔ بسا اوقات خدا کے باغی یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں یہ تو لیل ونہار کی گردش اور حالات کے تغیر وتبدل کا نتیجہ ہے گویا ان کے نزدیک ایسا ہوا ہی کرتا ہے۔
(وَقَالُوا مَا ھِیَ إلاّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُھْلِکُنَا إلاّ الدَّھْرُ وَمَا لَھُمْ بِذَلِکَ مِنْ عِلْمٍ إنْ ھُمْ إلاّیَظُنُّوْنَ ) [ الجاثیۃ : 24]
” وہ کہتے ہیں ہماری اس زندگی کے علاوہ کوئی دوسری زندگی نہیں ہمیں یہیں زندہ رہنا اور مرنا ہے، اور ہماری ہلاکت گردش زما نہ کی وجہ سے ہے۔ حالانکہ انہیں اس حقیقت کا کوئی علم نہیں، یہ محض ان کے خیالات ہیں۔ “
ایسے انسان بھی ہر دور میں موجود رہے ہیں جو اپنے احوال کی درستگی کے برعکس اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ڈالتے رہے ہیں جو حالات کو بدلنے اور ان کو برے اعمال چھوڑنے کی تلقین کرتے ہیں۔
(قَالُوْا إنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْ لَءِنْ لَّمْ تَنْتَھُوْا لَنَرْجُمَنَّکُمْ وَلَیَمَسَّنَّکُمْ مِّنَّا عَذَابٌ ألِیْمٌ) [ یٰس : 18]
” وہ مصلحین کو کہنے لگے کہ ہم تمہیں اپنے لیے منحوس خیال کرتے ہیں، اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں ضرور سنگسار کردیں گے اور تمہیں ہماری طرف سے درد ناک سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔ “
ان کا کہنا تھا کہ یہ مشکلات و مصائب ہماری وجہ سے نہیں، تمہاری وجہ سے آیا کرتی ہیں جب ان کے سامنے حقائق کے پردے کھلتے ہیں تو تسلیم و اعتراف کی گردن جھکا نے کی بجائے سب کچھ تقدیر کے حوالے کرتے ہوئے اپنے آپ کو پاک دامن اور معصوم خیال کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ
جو کچھ تمہارے ساتھ بیت رہی ہے وہ تمہارے گناہوں کی ہلکی سی سرزنش ہے۔ جبکہ تمہاری بیشمار غلطیوں اور زیادتیوں سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ دنیا میں تمہارے دامن کو تھوڑا سا کھینچا اور گریبان کو ہلکا سا جھنجھوڑا جاتا ہے تو اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی شفقت و مہربانی پنہاں ہے تاکہ تمہارے قدم بغاوت ونا فرمانی سے رک جائیں اور تم مالک حقیقی کی طرف پلٹ آؤ۔ سمجھدار اور نیکو کار لوگ اپنی کمزوریوں اور ان کے بدلے میں پیدا ہونے والے حا لات کو اپنے کردار کے حوالے سے ہی دیکھا کرتے ہیں۔
(ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ )[ الروم : 41]
” لوگوں کے اپنے ہاتھوں کے کیے کی وجہ سے خشکی اور سمندر میں فساد برپا ہوگیا ہے تاکہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزا چکھایاجائے شاید کہ وہ باز آجائیں۔ “
(وَ لَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ) [ السجدۃ : 21]
” اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں کسی نہ کسی چھوٹے عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے، شاید وہ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائیں۔ “
(فَلَنُذِیقَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا وَّلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) [ حٰم السجدۃ : 27]
” ان کافروں کو ہم سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے اور ہم ان کے برے اعمال کی پوری پوری سزا دیں گے۔ “
۔۔۔ جاری ان شاء اللہ
یوم آزادی 14 اگست
14 اكست 2023
*🍁فہم القرآن🍁*
سورۃ نمبر 42 الشورى
آیت نمبر 17 تا 18
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
*📖اَللّٰهُ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَالۡمِيۡزَانَؕ وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيۡبٌ ۞*
*▪️ترجمہ:*
وہی اللہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اور ترازو نازل کیا ہے اور تمہیں کیا خبر شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو
*📖يَسۡتَعۡجِلُ بِهَا الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهَا ۚ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مُشۡفِقُوۡنَ مِنۡهَا ۙ وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهَا الۡحَقُّ ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُمَارُوۡنَ فِى السَّاعَةِ لَفِىۡ ضَلٰلٍۢ بَعِيۡدٍ ۞*
*▪️ترجمہ:*
جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں، اور جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یقیناً وہ آنے والی ہے۔ خوب سن لو جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں
*✒️تفسیر:*
ربط کلام : ” اللہ “ کی ذات اور صفات کے بارے میں جھگڑا کرنے والے لوگ اگر اپنے بےحیثیت دلائل کو حق کے ترازو میں رکھ کر وزن کرتے تو وہ عذاب شدید سے مامون ہوسکتے ہیں۔
ہر جھگڑا کرنے والے کے پاس کوئی نہ کوئی حجّت اور دلیل ہوا کرتی ہے۔ دلیل کو پرکھنے اور حق بات تک پہنچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور ایک میزان نازل فرمائی ہے۔ اس لیے کہ لوگ کتاب الٰہی سے راہنمائی حاصل کریں اور اس میزان کے ذریعے اپنی دلیل کا وزن کریں۔ تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کی حجت اور بات کی حیثیت کیا ہے۔ جہاں تک قیامت کی آمد کا معاملہ ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کس قدر قریب آپہنچی ہے۔ لوگ اپنی بات کا میزان میں وزن کرنے کی بجائے قیامت کے بارے میں جلد بازی کا اظہار کررہے ہیں اور اسی وجہ سے وہ لوگ آپ ﷺ سے کہتے کہ جس کی آمد سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے وہ اب تک کیوں برپا نہیں ہوئی۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے خائف رہتے ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ قیامت ہر حال میں برپا ہونی ہے۔ اس لیے وہ اس کی ہولناکیوں اور حساب و کتاب سے ڈرتے ہیں۔ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ اس لیے کہ جو شخص قیامت کے برپا ہونے کا انکار کرتا ہے درحقیقت وہ کائنات کے نظام اور اپنی تخلیق کو بےمقصد قرار دیتا ہے۔ حالا ن کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بےمقصد پیدا نہیں کی۔ قرآن مجید میں ” اَلْمِیْزَانُ “ کا لفظ 9 دفعہ آیا ہے تاہم دو آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے ایک میزان بھی نازل فرمایا ہے۔” اَلْمِیْزَانُ “ کے بارے میں اہل علم کے چار قسم کے خیالات ہیں۔ جو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق حق پر مبنی ہیں۔ 1” اَلْمِیْزَانُ “ درحقیقت الکتاب کی تشریح ہے۔ 2 ” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد قرآن وسنت کی تعلیم ہے جس کے ذریعے انسان حق و باطل کے درمیان وزن اور فرق کرسکتا ہے۔ 3” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد وہ عقل سلیم ہے جس کی روشنی میں آدمی حق اور ناحق کی پہچان کرتا ہے۔ 4 ” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد دنیا کی کسی چیز کی پیمائش یا وزن کرنے کا وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعے لوگ اپنا لین دین کرتے ہیں۔ جن آیات میں ” اَلْمِیْزَانُ “ کا لفظ ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ (الانعام : 152، الاعراف : 85، ھود : 84، 85، الشوریٰ : 17، الرحمن : 7، 8، 9، الحدید : 25)
*✒️مسائل*
1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور میزان نازل فرمایا ہے۔ 2۔ قیامت کا انکار کرنے والے لوگ پرلے درجے کے گمراہ ہیں۔
3۔ قرآن مجید اور میزان کے ذریعے لوگوں کو حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنا چاہیے۔
4۔ جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے وہی اس کے بارے میں جلدی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
5۔ قیامت پر ایمان رکھنے والے لوگ اس کی ہولناکیوں اور اپنے حساب و کتاب سے ڈرتے ہیں۔
*✒️تفسیر بالقرآن*
دور کی گمراہی میں مبتلا ہونے والے لوگ :
1۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : 116)
2۔ ” اللہ “ کے راستہ سے روکنے والے دور کی گمراہی میں ہیں۔ (النساء : 167)
3۔ سب سے بڑا گمراہ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا ہے۔ (القصص : 50)
4۔ کفار سے دوستی کرنے والا سیدھی راہ سے دور چلا جاتا ہے۔ (الممتحنۃ : 1)
5۔ جس نے اللہ، رسول، ملائکہ، کتابوں اور دن آخرت کا انکار کیا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : 136)
6۔ جو لوگ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں یہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ (ابراہیم : 3)
۔۔۔ جاری ان شاء اللہ
کونسا ذکر زیادہ کرنا بہتر ہے؟📝 *استغفار الإنسان أهم مِن جميع الأدعية .*
🔹 انسان کا استغفار کرنا تمام دعاؤں میں سے اہم ترین دعا ہے
📚 جامع المسائل : (277/6)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
M5J4+JG3, Jinnah Avenue Capital Territory, باكستان
Islamabad
2444321
Opening Hours
| Monday | 07:00 - 14:00 |
| Tuesday | 07:00 - 14:00 |
| Wednesday | 07:00 - 14:00 |
| Thursday | 07:00 - 14:00 |
| Friday | 07:00 - 14:00 |