14/08/2026
*رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا*
*اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے*
(سورۃ ابراھیم آیت 35)
🇵🇰 14 اگست 2026ء
*پاکستان کے 79 ویں یومِ آزادی کے موقع پر اظہار تشکر کے لیے*
*خانقاہ و جامعہ محمدیہ سیفیہ سرفرازُ العلوم E-16، ترنول، اسلام آباد میں تقریبِ جشن آزادی*
*14 اگست 2026ء کو پاکستان کے 79 ویں یومِ آزادی کے موقع پر خادم شریعت و طریقت حضور سیدنا ومرشدنا حضرت قبلہ ڈاکٹر محمد سرفراز محمدی سیفی زید مجدہ کے گلشن,معدنِ علوم و فنون و حکمت ، مرکزِ تعلیم وتربیت ،خانقاہ و جامعہ محمدیہ سیفیہ سرفرازُ العلوم، E-16 ترنول، اسلام آباد*
میں ایک نہایت پُروقار، ملی جذبے سے سرشار جشنِ آزادی کی تین نشستوں پر مشتمل تقریب منعقد ہوئ۔
*پہلی نشست ۔۔قرآن خوانی برائے ایصال ثواب شہدائے تحریکِ پاکستان*
پہلی نشست میں وطنِ عزیز پاکستان کے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ طلبہ، اساتذۂ کرام اور وابستگان نے تلاوتِ قرآنِ کریم میں شرکت کی اور شہدائے وطن کے لیے ایصالِ ثواب، مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی گئی۔ اس موقع پر شہداء کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے وطنِ عزیز کی سلامتی و استحکام کے لیے بھی دعائیں کی گئیں۔
*دوسری نشست۔۔۔تقریبِ پرچم کشائی*
دوسری نشست میں نہایت احترام و وقار کے ساتھ
قومی پرچم سربلند کیا گیا اور وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی و خوشحالی کے لیے دعائیں کی گئیں۔ اس موقع پر طلبہ میں حب الوطنی، قومی یکجہتی اور وطن کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس اجاگر کیا گیا۔
*تیسری نشست ۔۔ تقریب جشنِ آزادی*
تیسری اور مرکزی نشست کی صدارت اور صدارتی خطاب جگرگوشۂ حضور سیدی ومرشدی حضرت ڈاکٹر مفتی محمد رضا فراز محمدی سیفی صاحب ناظم تعلیمات خانقاہ و جامعہ محمدیہ سیفیہ سرفرازُالعلوم ترنول اسلام نے فرمایا۔
نشست کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا استاذالقراء قاری محمد شفیع محمدی سیفی نے تلاوت کلام الہی کے فرائض سر انجام دئیے،
جس کے بعد بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں استاذ الحفاظ قاری دانیال محمدی سیفی نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ طلبہ نے ملی نغمے پیش کیے اور وطنِ عزیز سے محبت و وابستگی کے جذبات کا اظہار کیا۔
مرکزی نشست میں طلبہ نے یومِ آزادی کی مناسبت سے مختلف اہم اور فکر انگیز موضوعات پر جامع و مدلل خطابات پیش کیے۔
محمد مدثر محمدی سیفی، خاصہ دوم نے ’’دو قومی نظریے کی اہمیت‘‘ کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے نظریۂ پاکستان کے فکری و تاریخی پس منظر اور قومی تشخص کے حوالے سے اس کی اہمیت کو واضح کیا
علامہ حسنین احمد محمدی سیفی، عالمیہ اول نے ’’تحریکِ پاکستان میں علماء و مشائخ کا کردار‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے تحریکِ پاکستان میں علماء و مشائخ کی دینی، فکری اور عملی خدمات کو اجاگر کیا۔۔
جبکہ علامہ حماد احمد محمدی سیفی، عالمیہ دوم نے ’’وطن کی تعمیر و ترقی میں ہمارا کردار‘‘ کے عنوان پر پُرمغز، جامع اور فکر انگیز گفتگو فرمائی، جس میں نوجوان نسل کی ذمہ داریوں، علم و عمل کی اہمیت اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں انفرادی و اجتماعی کردار کو اجاگر کیا گیا۔
مرکزی نشست کا ایک اہم اور دلچسپ مرحلہ قومی و ملکی معلومات پر مشتمل کوئز مقابلہ تھا۔ طلبہ نے پاکستان کی تاریخ، جغرافیہ، قومی شخصیات، اہم ملکی واقعات اور دیگر قومی معلومات سے متعلق سوالات کے جوابات دے کر اپنی علمی و معلوماتی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
بعد ازاں اساتذۂ کرام
علامہ لیاقت محمدی سیفی صاحب علامہ مفتی مبشر احمد محمدی سیفی صاحب
استاذ الاساتذہ حضرت علامہ مفتی غلام ربانی صاحب
مفتی عبدالمصطفیٰ بلال محمدی سیفی نے مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال فرمایا۔ اساتذہ نے یومِ آزادی کے تاریخی پس منظر، آزادی کی قدر و قیمت، وطن سے وفاداری، قومی اتحاد و یکجہتی اور نوجوان نسل کی ذمہ داریوں کو اجاگر کیا، اور طلبہ کو علم و عمل کے ذریعے ملک و ملت کی خدمت کی جانب متوجہ کیا۔
بعد ازاں حضرت ڈاکٹر مفتی محمد رضا فراز محمدی سیفی صاحب نے صدارتی خطاب فرمایا۔ اپنے جامع و فکر انگیز خطاب میں یومِ آزادی کی اہمیت، قیامِ پاکستان کے مقاصد، وطنِ عزیز سے محبت، قومی ذمہ داریوں اور نئی نسل کے کردار پر گفتگو فرمائی اور طلبہ کو پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کی تلقین فرمائی۔
*اختتامی تلاوت و دعا*
تقریب کا اختتام تلاوتِ کلامِ پاک اور خصوصی دعا سے ہوا۔ دعا میں پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی و خوشحالی، شہدائے پاکستان کے لیے مغفرت و بلندیٔ درجات، امتِ مسلمہ کی سربلندی اور وطنِ عزیز کو ہر قسم کے فتنوں و مشکلات سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
پاکستان زندہ باد 🇵🇰