IQRA Quran Academy

IQRA Quran Academy

Share

Teacher

03/11/2025

We are starting 2 new courses
1 فہم القرآن
2 فقہ و حدیث
if anyone wants to join our classes so contact us

04/09/2024

Kindly contact us for learn Quran and any type of islamic education...for WhatsApp number send us a message in inbox
Email= [email protected]

05/07/2024

Bitter Reality of our Society💔

01/07/2024

لقد أنعم الله علينا بنعم كثيرة لا نستطيع إحصاؤها، ولكن فكر هل نشكر الله؟ وكم ننفق عليه؟ نحن مؤسفون جدًا لأنه بسبب ارتباطاتنا الدنيوية، لا نستطيع حتى قراءة القرآن أو إيجاد الوقت لتعلمه. فلنخصص اليوم وقتًا لنفسك ولربك، تواصل معنا وعلق ليصلك تعليم القرآن والترجمة والترجمة الفورية وجميع أنواع التعليم الديني.

01/07/2024

Allah has given us so many favors that we cannot count them, but think, do we thank Allah? How much do we spend on it? We are so unfortunate that due to our worldly engagements, we cannot even read the Qur'an or find time to learn it.
Let's take time today for yourself and for your Allah, contact us and comment to get education of Quran, translation, interpretation and all kinds of religious education.

23/06/2024
30/05/2024

وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
"کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔
پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور فرماتی ہیں:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات والتسلیم
سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
"لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
"یہ کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔"
(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
"ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔"
آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔
اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:
"اے لوگو۔۔۔! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔"
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"
أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ
پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
"فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"
جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"
آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"
ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"
فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"
ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!"
سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"
مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"
اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
"یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
"جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"
پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."
(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔
میں نے آج تک اس سے اچّھا پیغا م کبھی پوسٹ نہیں کیا۔
اسلۓ آپ سے گزارش کہ آپ اسے پورا سکون و اطمینان کے ساتھ پڑھۓ۔ان شاء اللہ, آپکا ایمان تازہ ہوجاۓگا۔“
ثواب کی نیت سے فرض سمجھ کر کم از کم 10 گروپوں میں شیئر کریں ارو صدقہ جاریہ میں شامل ہوجائے.
والسلام

10/05/2024

ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے ‏قران پاک کے 101 مختصر مگر انتہائی موثر پیغامات۔


1 گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 83

2 غصے کو قابو میں رکھو
سورۃ آل عمران ، آیت نمبر 134

3 دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو،
سورۃ القصص، آیت نمبر 77

4 تکبر نہ کرو،
سورۃ النحل، آیت نمبر 23

5 دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو،
سورۃ النور، آیت نمبر 22

6 لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو،
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19

7 اپنی آواز نیچی رکھا کرو،
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19

8 دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 11

9 والدین کی خدمت کیا کرو،
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23

‏10 والدین سے اف تک نہ کرو،
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23

11 والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو،
سورۃ النور، آیت نمبر 58

12 لین دین کا حساب لکھ لیا کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 282

13 کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو،
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 36

14 اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 280

15 سود نہ کھاؤ،
سورۃ البقرة ، آیت نمبر 278

16 رشوت نہ لو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 42

17 وعدہ نہ توڑو،
سورۃ الرعد، آیت نمبر 20

‏18 دوسروں پر اعتماد کیا کرو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

19 سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 42

20 لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو،
سورۃ ص، آیت نمبر 26

21 انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 135

22 مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 8

23 خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں،
سورۃ النساء، آیت نمبر 7

24 یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 2

‏25 یتیموں کی حفاظت کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 127

26 دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 6

27 لوگوں کے درمیان صلح کراؤ،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 10

28 بدگمانی سے بچو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

29 غیبت نہ کرو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

30 جاسوسی نہ کرو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

31 خیرات کیا کرو،
سورۃ البقرة، آیت نمبر 271

32 غرباء کو کھانا کھلایا کرو
سورة المدثر، آیت نمبر 44

33 ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو،
سورة البقرۃ، آیت نمبر 273

34 فضول خرچی نہ کیا کرو،
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 67

‏35 خیرات کرکے جتلایا نہ کرو،
سورة البقرۃ، آیت 262

36 مہمانوں کی عزت کیا کرو،
سورۃ الذاريات، آیت نمبر 24-27

37 نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر44

38 زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو،
سورۃ العنكبوت، آیت نمبر 36

39 لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو،
سورة البقرة، آیت نمبر 114

40 صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں،
سورة البقرة، آیت نمبر 190

41 جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو،
سورة البقرة، آیت نمبر 190

‏42 جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ،
سورة الأنفال، آیت نمبر 15

43 مذہب میں کوئی سختی نہیں،
سورة البقرة، آیت نمبر 256

44 تمام انبیاء پر ایمان لاؤ،
سورۃ النساء، آیت نمبر 150

45 حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو،
سورة البقرة، آیت نمبر، 222

46 بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ،
سورة البقرة، آیت نمبر، 233

47 جنسی بدکاری سے بچو،
سورة الأسراء، آیت نمبر 32

48 حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 247

49 کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو،
سورة البقرة، آیت نمبر 286

50 منافقت سے بچو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 14-16

‏51 کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو،
سورة آل عمران، آیت نمبر 190

52 عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے،
سورة آل عمران، آیت نمبر 195

53 بعض رشتہ داروں سے شادی حرام ہے،
سورۃ النساء، آیت نمبر 23

54 مرد خاندان کا سربراہ ہے،
سورۃ النساء، آیت نمبر 34

55 بخیل نہ بنو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 37

56 حسد نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 54

57 ایک دوسرے کو قتل نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 29

58 فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 135

‏59 گناہ اور زیادتی میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2

60 نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2

61 اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 100

62 صحیح راستے پر رہو،
سورۃ الانعام، آیت نمبر 153

63 جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 38

64 گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو،
سورۃ الانفال، آیت نمبر 39

65 مردہ جانور، خون اور سور کا گوشت حرام ہے،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 3

‏66 شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 90

67 جوا نہ کھیلو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 90

68 ہیرا پھیری نہ کرو،
سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 70

69 چغلی نہ کھاؤ،
سورۃ الھمزۃ، آیت نمبر 1

70 کھاؤ اور پیو لیکن فضول خرچی نہ کرو،
سورۃ الاعراف، آیت نمبر 31

71 نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو،
سورۃ الاعراف، آیت نمبر 31

72 آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو، انھیں مدد دو،
سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 6

73 طہارت قائم رکھو،
سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 108

74 اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو،
سورۃ الحجر، آیت نمبر 56

‏75 اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے،
سورۃ النساء، آیت نمبر 17

76 لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ،
سورۃ النحل، آیت نمبر 125

77 کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا،
سورۃ فاطر، آیت نمبر 18

78 غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو،
سورۃ النحل، آیت نمبر 31

79 جس چیز کے بارے میں علم نہ ہو اس پر گفتگو نہ کرو،
سورۃ النحل، آیت نمبر 36

‏80 کسی کی ٹوہ میں نہ رہا کرو (تجسس نہ کرو)،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

81 اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو،
سورۃ النور، آیت نمبر 27

82 اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے،
سورۃ یونس، آیت نمبر 103

83 زمین پر عاجزی کے ساتھ چلو،
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 63

84 اپنے حصے کا کام کرو۔ اللہ، اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین تمہارا کام دیکھیں گے۔
سورة توبہ، آیت نمبر 105

85 اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو،
سورۃ الکہف، آیت نمبر 110

‏86 ہم جنس پرستی میں نہ پڑو،
سورۃ النمل، آیت نمبر 55

‏87 حق (سچ) کا ساتھ دو، غلط (جھوٹ) سے پرہیز کرو،
سورۃ توبہ، آیت نمبر 119

88 زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو،
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 37

89 عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں،
سورۃ النور، آیت نمبر 31

90 اللّٰه شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے،
سورۃ النساء، آیت نمبر 48

91 اللّٰه کی رحمت سے مایوس نہ ہو،
سورۃ زمر، آیت نمبر 53

92 برائی کو اچھائی سے ختم کرو،
سورۃ حم سجدۃ، آیت نمبر 34

93 فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو،
سورۃ الشوری، آیت نمبر 38

‏94 تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 13

95 اسلام میں ترک دنیا نہیں ہے۔
سورۃ الحدید، آیت نمبر 27

96 اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے،
سورۃ المجادلۃ، آیت نمبر 11

97 غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ،
سورۃ الممتحنۃ، آیت نمبر 8

98 خود کو لالچ سے بچاؤ،
سورۃ النساء، آیت نمبر 32

99 اللہ سے معافی مانگو وہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے ،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 199

100 جو دست سوال دراز کرے اسے نہ جھڑکو بلکہ حسب توفیق کچھ دے دو،
سورۃ الضحی، آیت نمبر 10

101 مجرموں پر ترس نہ کھاؤ. انہیں سر عام سزائیں دیا کرو
سورة نور،
التماس دعا۔

06/05/2024

Pleaae contact us to get education of the Holy Quran, translation, interpretation, hadiths and religious issues at home ...

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Islamabad