Let's Learn Arabic | Lecture 2
عنوان : اسم کی جنس اور عدد
Source :
" آسان عربی گرامر " حصہ اول
لطف الرحمن خان
Let's Explore Our Deen 3.0
Creating and Sharing Daily Islamic Reminders,
First For Myself, Then For You
Indeed Reminders Benefit
Let's Learn Arabic | Lecture 1
عنوان : اسم کی حالت ( رفع ،نصب ،جر)
Source :
" آسان عربی گرامر " حصہ اول
لطف الرحمن خان
حکمران عوام کو دین کے نام پہ کیسے بیوقوف بناتے ہیں۔ یہ مسلکیں یہ خرافات کیسے وجود میں آئی۔ سنیئے ڈاکٹر اسرار احمد اور مولانا اسحاق صاحب سے
دینِ اسلام مذہب اسلام کیسے بنا اور خدا پرستی کے بجائے انسان پرستی کا دور کیسے شروع ہوا .. 💔
ابلیس کی مجلس شوری
یہ ہماری سعیِ پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام
تشریح۔۔۔ میرے آقا یہ دنیا میں ہماری مسلسل شیطانی محنت و جدوجھد کی کرامت ہے کہ آج صوفیاء اور علماء جن کی ذمّہ داری ابلیسی نظام کے خلاف آواز اٹھانا اور دنیا میں نظام حق کے قیام کی سوچ اور فکر کو پھیلانا تھا وہ ملا و صوفی بھی ملوکیت کے بندے؛ طاقت کے پجاری اور حکومتوں کے خوشامدی بن چکے ہیں۔۔۔ کہیں کوئی عالم ربانی حق کی آواز اٹھاتا ہے تو یہ ملا و صوفی ابلیسی نظام کے رکھوالے بن کر اس کو انتہا پسند اور دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔
آہ! اس راز سے واقف ہے نہ مُلّا، نہ فقیہ
وحدت افکار کی بے وحدتِ کردار ہے خام
یہ حضرت اقبال علیہ رحمہ کی اصطلاح ہے اور اس سے مراد ہے پیر پرستی، بزرگان دین اپنے مریدوں کو زیورِ علم و عمل سے آراستہ کرتے تھے، لیکن اکے بعد جب عقابوں کے نشیمن زاغوں کے تصرف میں آگئے تو ان نقلی پیروں نے اپنے مریدوں کو اللہ اور رسول نبی اکرمﷺ کی اطاعت کے بجائے اپنی اطاعت کا سبق پڑھانا شروع کیا، اس کے بھی دو نتیجے برآمد ہوئے، ایک یہ کہ ان پیروں میں حسد کا بازار گرم ہو گیا، دوسرا یہ کہ مریدوں میں خدا پرستی کے بجائے پیر پرستی کا رنگ پیدا ہو گیا، یعنی عوام ضمیر کی غلامی میں مبتلا ہو گئے، پیری سے اقبال علیہ رحمہ کی مراد یہی ضمیر کی غلامی ہے۔
باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری!
اے کشتہ سلطانی و ملائی و پیری!
یعنی اے مسلمان! آج تیرا آئینہ قلب دھندلا گیا ہے تو اسکی وجہ وہ زخم ہے جو تجھے تین اطراف سے لگے ہیں۔ ایک پیشہ ور مذہبی ملا، دوسرے بادشاہ، تیسرے پیری مریدی کرنے والے۔
"دین میں فساد تین طرح سے آتا ہے: ایک بادشاہوں اور سلاطین کے ذریعے سے، دوسرے علماء سوء کے ذریعے سے اور تیسرے راہبوں کے ذریعے سے۔"
حضرت عبداللہ مبارک تبع تابعی
27/01/2023
https://forms.gle/MvFqWbJm1p2qFR9s9
السلام علیکم
یہ ریویو فارم ہم لے رہے ہیں تاکہ ہم آپ لوگوں سے گروپ میں شیئر کی گئی مواد کے بارے میں آپ لوگوں کی قیمتی فیڈبیک حاصل کر سکیں۔ آپ لوگوں کی انپوٹ ہمیں مدد کرے گی کہ ہم اسے بہتر بنا سکیں اور ہمارے کمیونٹی کے لئے فائدہ مند معلومات پیش کر سکیں۔
براہ کرم نوٹ کریں کہ آپ لوگ کسی بھی زبان میں جواب دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم آپ لوگوں کے نیچرل ریسپانس حاصل کریں اور اسے مزید بہتر بنانے کی کوشش کریں.
جزاک اللہ خیر"
Life is a Test Judged According to Ones IQ - Skills - Shaaqilla (Genetical - Environmental Traits) | Surah Al Baqarah (286)
اللہ تعالیٰ کے ہاں اندھے کی لاٹھی والا معاملہ نہیں ہے کہ تمام انسانوں سے محاسبہ ایک ہی سطح پر ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ کس کی کتنی وسعت ہے اور اسی کے مطابق کسی کو ذمہّ دارٹھہراتا ہے۔ اور یہ وسعت موروثی اور ماحولیاتی عوامل پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہر شخص کو جو genes ملتے ہیں وہ دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور ان genes کی اپنی اپنی خصوصیات properties اور تحدیدات ‘ limitations ہوتی ہیں۔ اسی طرح ہر شخص کو دوسرے سے مختلف ماحول میسرّ آتا ہے۔ تو ان موروثی عوامل hereditary factors اور ماحولیاتی عوامل environmental factors کے حاصل ضرب سے انسان کی شخصیت کا ایک ہیولیٰ بنتا ہے ‘ جس کو مستری لوگ پاٹن کہتے ہیں۔ جب لوہے کی کوئی شے ڈھالنی مقصود ہو تو اس کے لیے پہلے مٹی یا لکڑی کا ایک سانچہ pattern بنایا جاتا ہے۔ اس کو ہمارے ہاں کاریگر اپنی بولی میں پاٹن کہتے ہیں۔ اب آپ لوہے کو پگھلا کر اس میں ڈالیں گے تو وہ اسی صورت میں ڈھل جائے گا۔ قرآن کی اصطلاح میں یہ شاکلہ ہے جو ہر انسان کا بن جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : قُلْ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖط فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ ھُوَ اَھْدٰی سَبِیْلاً بنی اسرائیل کہہ دیجیے کہ ہر کوئی اپنے شاکلہ کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ پس آپ کا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سیدھی راہ پر ہے۔ اس شاکلہ کے اندر اندر آپ کو محنت کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس کا شاکلہ وسیع تھا اور کس کا تنگ تھا ‘ کس کے genes اعلیٰ تھے اور کس کے ادنیٰ تھے ‘ کس کے ہاں ذہانت زیادہ تھی اور کس کے ہاں جسمانی قوت زیادہ تھی۔ اسے خوب معلوم ہے کہ کس کو کیسی صلاحیتیں ودیعت کی گئیں اور کیسا ماحول عطا کیا گیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ماحولیاتی عوامل اور موروثی عوامل کو ملحوظ رکھ کر اس کی استعدادات کے مطابق حساب لے گا۔ فرض کیجیے ایک شخص کے اندر استعداد ہی 20 درجے کی ہے اور اس نے 18 درجے کام کر دکھایا تو وہ کامیاب ہوگیا۔ لیکن اگر کسی میں استعداد سو درجے کی تھی اور اس نے 50 درجے کام کیا تو وہ ناکام ہوگیا۔ حالانکہ کمیت کے اعتبار سے 50 درجے 18 درجے سے زیادہ ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ کا محاسبہ جو ہے وہ انفرادی سطح پر ہے۔ اس لیے فرمایا گیا : وَکُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا مریم اور سب لوگ قیامت کے دن اس کے حضور فرداً فرداً حاضر ہوں گے۔ وہاں ہر ایک کا حساب اکیلے اکیلے ہوگا اور وہ اس کی وسعت کے مطابق ہوگا۔
Your ism Vs My Islam | Calling all Islamophobes to present their case against Islam | Part 3
Psychology of Introverts & Extroverts in the Quran | Who are Siddiqeen - Shuhadaa and Introverts - Extroverts - Ambiverts
20/01/2023
تفہیم القرآن : سید ابو الاعلیٰ مودودی
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ یہاں ف اس معنی میں ہے کہ کھلے کھلے منکرین آخرت کا حال تو یہ تھا جو ابھی تم نے سنا، اب ذرا ان منافقوں کا حال بھی دیکھو جو نماز پڑھنے والے گروہ، یعنی مسلمانوں میں شامل ہیں۔ وہ چونکہ بظاہر مسلمان ہونے کے باوجود آخرت کو جھوٹ سمجھتے ہیں، اس لیے ذرا دیکھو کہ وہ اپنے لیے کس تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔
مُصَلِّيْنَ کے معنی تو " نماز پڑھنے والوں " کے ہیں، لیکن جس سلسلہ کلام میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور آگے ان لوگوں کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان کے لحاظ سے اس لفظ کے معنی درحقیقت نمازی ہونے کے نہیں بلکہ اہل صلوۃ، یعنی مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہونے کے ہیں۔
فِیْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ نہیں کہا گیا بلکہ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ کہا گیا ہے۔ اگر فی سلوتہم کے الفاظ استعمال ہوتے تو مطلب یہ ہوتا کہ وہ اپنی نماز میں بھولتے نہیں۔ لیکن نماز پڑھتے پڑھتے کچھ بھول جانا شریعت میں نفاق تو درکنار گناہ بھی نہیں ہے، بلکہ سرے سے کوئی عیب یا قابل گرفت بات تک نہیں ہے۔ خود نبی ﷺ کو بھی کسی وقت نماز میں بھول لاحق ہوئی ہے۔ اور حضور نے اس کی تلافی کے لیے سجدہ سہو کا طریقہ مقرر فرمایا ہے۔ اس کے برعکس عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنی نماز سے غافل ہیں۔ نماز پڑھی تو اور نہ پڑھہ تو، دونوں کی ان کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کبھی پڑھتے ہیں اور کبھی نہیں پڑھتے۔ پڑھتے ہیں تو اس طرح کہ نماز کے وقت کو ٹالتے رہتے ہیں اور جب وہ بالکل ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مار لیتے ہیں۔ یا نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو بےدلی کے ساتھ اٹھتے ہیں اور بادل ناخواستہ پڑھ لیتے ہیں جیسے کوئی مصیبت ہے جو ان پر نازل ہوگئی ہے۔ کپڑوں سے کھیلتے ہیں، جمائیاں لیتے ہیں، خدا کی یاد کا کوئی شائبہ تک ان کے اندر نہیں ہوتا۔ پوری نماز میں نہ ان کہ یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں اور نہ یہ خیال رہتا ہے کہ انہوں نے کیا پڑھا ہے۔ پڑھ رہے ہوتے ہیں نماز اور دل کہیں اور پڑا رہتا ہے۔ مارا مار اس طرح پڑھتے ہیں کہ نہ قیام ٹھیک ہوتا ہے نہ رکوع نہ سجود۔ بس کسی نہ کسی طرح نماز کی سی شکل بنا کر جلدی سے جلدی فارغ ہوجانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور بہت سے لوگ تو ایسے ہیں کہ کسی جگہ پھنس گئے تو نماز پڑھ لی، ورنہ اس عابدت کا کوئی مقام ان کی زندگی میں نہیں ہوتا، نماز کا وقت آتا ہے تو انہیں محسوس تک نہیں ہوتا کہ یہ نماز کا وقت ہے۔ موذن کی آواز کان میں آتی ہے تو انہیں یہ خیال تک نہیں آتا کہ یہ کیا پکار رہا ہے، کس کو پکار رہا ہے اور کس لیے پکار رہا ہے۔ یہی آخرت پر ایمان نہ ہونے کی علامات ہیں۔ کیونکہ دراصل اسلام کے مدعیوں کا یہ طرز عمل اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ نہ نماز پڑھنے پر کسی جزا کے قائل ہیں اور نہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ کے نہ پڑھنے پر کوئٰ سزا ملے گی۔ اسی بنا پر حضرت انس بن مالک اور عطا بن دینار کہتے ہیں کہ خدا کا شکر ہے اس نے فِیْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ نہیں بلکہ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ فرمایا۔ یعنی ہم نماز میں بھولتے تو ضرور ہیں مگر نماز سے غافل نہیں ہیں اس لیے ہمارا شمار منافقوں میں نہیں ہوگا۔
قرآن مجید میں منافقین کی اس کیفیت کو دوسری جگہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ وَلَا يَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمْ كُسَالٰى وَلَا يُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَهُمْ كٰرِهُوْنَ۔ " وہ نماز کے لیے نہیں آتے مگر کسمساتے ہوئے اور (اللہ کی راہ میں) خرچ نہیں کرتے مگر بادل ناخواستہ " (التوبہ 54) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تلک صلوۃ المنافق، تلک صلوۃ المنافق، تلک صلوۃ المنافق یجلس یرقب الشمس حتی اذا کانت بین قرنی الشیطان قام فقر اربعا لا یذکر اللہ فیھا الا قلیلا " یہ منافق کی نماز ہے یہ منافق کی نماز ہے، یہ منافق کی نماز ہے، عصر کے وقتبیٹحا سورج کو دیکھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا (یعنی غروب کا وقت آجاتا ہے) تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مار لیتا ہے جن میں اللہ کو کم ہی یاد کرتا ہے "۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد) حضرت سعد بن ابی وقاص سے ان کے صاحبزادے مصعب بن سعد روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا تھا جو نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کا وقت ٹال کر پڑھتے ہیں۔ (ابن جریر، ابو یعلی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی فی الاوسط، ابن مردویہ، بیہقی فی السنن۔) یہ روایت حضرت سعد کے اپنے قول کی حیثیت سے بھی موقوفا نقل ہوئی ہے اور اس کی سند زیادہ قوی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کی حیثیت سے اس کی مرفوعا روایت کو بیہقی اور حاکم نے ضعیف قرار دیا ہے) حضرت مصعب کی دوسری روایت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد سے پوچھا کہ اس آیت پر آپ نے غور فرمایا ؟ کیا اس کا مطلب نماز کو چھوڑ دینا ہے ؟ یا اس سے مراد نماز پڑھتے پڑھتے آدمی کا خیال کہیں اور چلا جانا ہے ؟ خیال بٹ جانے کی حالت ہم میں سے کسی پر نہیں گزرتی ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں، اس سے مراد نماز کے وقت کو ضائع کرنا اور اسے وقت ٹال کر پڑھنا ہے (ابن جریر، ابن ابی شیبہ، ابو یعلی، ابن المنذر، ابن مردویہ، بیہقی فی السنن)
اس مقام پر یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نماز میں دوسرے خیالات کا آجانا اور چیز ہے اور نماز کی طرف کبھی متوجہ ہی نہ ہونا اور اس میں ہمیشہ دوسری باتیں ہی سوچتے رہنا بالکل دوسری چیز۔ پہلی حالت تو بشریت کا تقاضا ہے، بلا ارادہ دوسرے خیالات آ ہی جاتے ہیں، اور مومن کو جب بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ نماز سے اس کی توجہ ہٹ گئی ہے تو وہ پھر کوشش کر کے اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ دوسری حالت نماز سے غفلت برتنے کی تعریف میں آتی ہے، کیونکہ اس میں آدمی صرف نماز کی ورزش کرلیتا ہے، خدا کی یاد کوئی ارادہ اس کے دل میں نہیں ہوتا، نماز شروع کرنے سے سلام پھیرنے تک ایک لمحہ کے لیے بھی اس کا دل خدا کی طرف متوجہ نہیں ہوتا، اور جن خیالات کو لیے ہوئے وہ نماز میں داخل ہوتا ہے انہی میں مستغرق رہتا ہے۔
اختلافِ رائے قدرتی بات ہے اس سے بیزار نہیں ہونا چاہیے | اختلاف رکھیں، مگر تفریق نہ چاہیں.
تفسیر سورہ ھود ( 118-119)
جہاں کہیں بھی لوگ اکٹھے مل جل کر رہ رہے ہوں گے ان میں اختلاف رائے کا ہونا بالکل فطری بات ہے۔ مختلف لوگوں کی مختلف سوچ ہے ہر ایک کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے اور اس کے لیے اپنا اپنا استدلال ہے۔ اسی کے مطابق ان کے نظریات ہیں اور اسی کے مطابق ان کے اعمال و افعال۔ جب تک یہ استدلال علم اور قرآن وسنت کی بنیاد پر ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ‘ بشرطیکہ یہ اختلاف کی حد تک رہے اور تفرقہ کی صورت اختیار نہ کرے اور ”من دیگر م تو دیگری“ والا معاملہ نہ ہو۔
اس نکتہ کو یوں بھی سمجھنا چاہیے کہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما دونوں نے قرآن و سنت سے استدلال کیا ہے ‘ مگر بعض اوقات دونوں بزرگوں کی آراء میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ مگر ایسے اہل علم حضرات کے ہاں ایسا اختلاف کبھی بھی نزاع اور تفرقہ بازی کا باعث نہیں بنتا۔ ایک دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو دنیا کی رونق اور خوبصورتی بھی اسی تنوع اور اختلاف سے قائم ہے۔
گلہائے رنگا رنگ سے ہے رونق چمن
اے ذوق اس چمن کو ہے زیب اختلاف سے !
اگر دنیا میں یکسانیت monotany ہی ہو تو انسان کی طبیعت اس سے اکتا جائے۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق کے اندر یہ اختلاف اور تنوع خود رکھا ہے۔ دنیا میں اربوں انسان ہیں مگر ان میں کوئی سے دو انسانوں کے مزاج شکل و صورت اور آواز حتیٰ کہ انگلیوں کے نشانات آپس میں نہیں ملتے۔ لہٰذا اللہ انسانوں کو پیدا ہی اسی انداز پر کرتا ہے کہ ان میں تنوع اور انفرادیت قائم رہے۔ ایک حدیث نبوی کی رو سے انسان بھی معدنیات کی طرح ہیں۔ چناچہ جس طرح معدنیات کی بیشمار اقسام ہیں مگر ہر ایک کی اپنی خصوصیات اور اپنی پہچان ہے یہی معاملہ انسانوں کا ہے۔
18/01/2023
تفہیم القرآن : سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس چھوٹے سے فقرے میں منکرین آخرت کے اصل مرض کی صاف صاف تشخیص کردی گئی ہے۔ ان لوگوں کو جو چیز آخرت کے انکار پر آمادہ کرتی ہے وہ دراصل یہ نہیں ہے کہ فی الواقع وہ قیامت اور آخرت کو ناممکن سمجھتے ہیں، بلکہ ان کے اس انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ آخرت کو ماننے سے لازماً ان پر کچھ اخلاقی پابندیاں عائد ہوتی ہیں، اور انہیں یہ پابندیاں ناگوار ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ اب تک زمین میں بےنتھے بیل کی طرح پھرتے رہے ہیں اسی طرح آئندہ بھی پھرتے رہیں۔ جو ظلم، جو بےایمانیاں، جو فسق و فجور، جو بد کرداریاں وہ اب تک کرتے رہے ہیں، آئندہ بھی ان کو اس کی کھلی چھوٹ ملی رہے، اور یہ خیال کبھی ان کو یہ ناروا آزادیاں برتنے سے نہ روکنے پائے کہ ایک دن انہیں اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے ان اعمال کی جواب دہی کرنی پڑے گی۔ اس لیے دراصل ان کی عقل انہیں آخرت پر ایمان لانے سے نہیں روک رہی ہے بلکہ ان کی خواہشات نفس اس میں مانع ہیں۔
بیان القرآن : ڈاکٹر اسرار احمد
انسانوں کے ہاں آخرت کے انکار کی سب سے بڑی اور اصل وجہ یہ ہے کہ وہ نیکی و بدی اور جائز و ناجائز کی تمیز ختم کر کے عیش و عشرت کے خوگر ہوجاتے ہیں۔ چناچہ حرام خوریاں چھوڑ کر راہ راست پر آنے کے مقابلے میں انہیں آخرت کا انکار کردینا آسان محسوس ہوتا ہے۔ آخرت کے بارے میں انسان کا یہ رویہ ایسے ہی ہے جیسے ِ بلی ّکو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ لیکن جس طرح کبوتر کے آنکھیں بند کرلینے سے بلی اپنا فیصلہ نہیں بدلتی اسی طرح ان کے انکار کردینے سے قیامت کے وقوع میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔ وہ ایک حقیقت ہے اور حقیقت کے طور پر اپنے معین وقت پر آدھمکے گی۔
پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے کنارے پر؟ ڈالر کا بحران اور اس کا مستقل حل؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Address
International Islamic University
Islamabad
04403