علمی بیٹھک-ilmi Bethak

علمی بیٹھک-ilmi Bethak Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from علمی بیٹھک-ilmi Bethak, Education, I 9, Islamabad.

ہمارا مقصد نوجوانوں کو مکالمے، علم، اور تخلیقی و تنقیدی سوچ کے فروغ کے ذریعے رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ ہم یہاں کتابوں کے تجزیے، مکالمات، ماہرین کی آراء اور عالمی تبدیلیوں کی بصیرت پر مبنی مواد پیش کرتے ہیں، تاکہ آپ کے افکار کو وسعت اور شعور کو تقویت ملے۔

غمِ دَوراں نے بھی سیکھے ٫ غَمِ جاناں کے چَلن وھی سوچی ھُوئی چالیں ٫ وھی بیساختہ پن۔وُھی اِقرار میں ٫ اِنکار کے لاکھوں پہ...
20/09/2026

غمِ دَوراں نے بھی سیکھے ٫ غَمِ جاناں کے چَلن
وھی سوچی ھُوئی چالیں ٫ وھی بیساختہ پن۔

وُھی اِقرار میں ٫ اِنکار کے لاکھوں پہلو
وھی ھونٹوں پہ تبسّم ٫ وھی ابرو پہ شکن

کس کو دیکھا ھے ٫ کہ پندارِ نظر کے با وصف
ایک لمحے کے لیے ٫ رُک گئی دل کی دھڑکن۔

کون سی فَصل میں ٫ اِس بار مِلے ھیں تجھ سے
کہ نہ پرواۂ گریباں ھے ٫ نہ فکر‌ِ دامن.

اب تو چُبھتی ھے ھَوا ٫ برف کے میدانوں کی
اِن دِنوں جِسم کے احَساس سے ٫ جَلتا تھا بَدن

ایسی سُونی تو کبھی ٫ شامِ غریباں بھی نہ تھی
دِل بُجھے جاتے ھیں ٫ اے تیرگئ صُبحِ وَطن۔

مُصطفیٰ زیدی

20/09/2026
مسلسل بیکلی دل کو رہی ہےمگر جینے کی صورت تو رہی ہےمیں کیوں پھرتا ہوں تنہا مارا مارایہ بستی چین سے کیوں سو رہی ہےچلے دل س...
20/09/2026

مسلسل بیکلی دل کو رہی ہے
مگر جینے کی صورت تو رہی ہے

میں کیوں پھرتا ہوں تنہا مارا مارا
یہ بستی چین سے کیوں سو رہی ہے

چلے دل سے امیدوں کے مسافر
یہ نگری آج خالی ہو رہی ہے

نہ سمجھو تم اسے شور بہاراں
خزاں پتوں میں چھپ کر رو رہی ہے

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ
اداسی بال کھولے سو رہی ہے

ناصر کاظمی

وکٹوریہ سکوفیلڈ نے اپنا وعدہ وفا کردیا.تحریر طاہر نعیم  ملکمعروف برطانوی تاریخ دان مصنف روزمیری وکٹوریہ سکوفیلڈ آکسفورڈ ...
20/09/2026

وکٹوریہ سکوفیلڈ نے اپنا وعدہ وفا کردیا.
تحریر طاہر نعیم ملک
معروف برطانوی تاریخ دان مصنف روزمیری وکٹوریہ سکوفیلڈ آکسفورڈ یونیورسٹی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی ھم عصر تھیں دونوں میں گہری دوستی تھی قدر مشترک تاریخ کا مطالعہ تھا.
وکٹوریہ نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں تاریخ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی. وہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ طلبہ یونین کی سیاست میں بھی سرگرمی سے حصہ لیتیں.
محترمہ بے نظیر بھٹو جب آکسفورڈ یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی صدر منتخب ھوئیں تو اپنی ٹرم پوری کرنے کے بعد انہوں نے وکٹوریہ سکوفیلڈ کو طلبہ یونین کا اگلا صدارتی انتخاب لڑنے کے لئے قائل کیا اور یوں وہ بھی اگلے سال آکسفورڈ یونیورسٹی طلبہ یونین کی صدر منتخب ھوئیں.
آکسفورڈ یونیورسٹی طلبہ یونین کے مرکزی دفتر میں ماضی کے تمام اور موجودہ صدر کی تصاویر آویزاں ھیں.
اور یوں دونوں سہیلیوں کی تصاویر ساتھ ساتھ آویزاں ہیں.
اچھے دن مختصر ھوتے ہیں بینظیر بھٹو جب آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ھوئیں تو عملی زندگی اور پر آشوب سیاسی سفر ان کا منتظر تھا.
ان کے والد پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو آمریت کے عفریت نے نہ صرف اپنی لپیٹ میں لیا بلکہ انہیں جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے گرفتار کرکے جیل بجھوا دیا.
محترمہ بینظیر بھٹو پاکستان آکر اپنے والد کی جدوجہد میں شریک ھونے کے ساتھ ان پر قائم مقدمات اور ان کی جان کو بچانے کے لئے سرگرم عمل ھوچکی تھیں.
وکٹوریہ سکوفیلڈ نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی سہیلی ھونے کے ناطے انہیں اکیلا محسوس کرتے ھوئے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا.
پاکستان آ کر ابھی وہ محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملی ھی تھیں کہ انہیں نظربند کردیا گیا.
وکٹوریہ نے نظربندی کے آرڈر کو عدالت میں چیلنج کردیا عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ بھی کیا لیکن اس وقت کے وفاقی سیکرٹری داخلہ روئداد خان جو آج قوم کو تبدیلی اور اصلاحات کا درس دیتے ہیں انہوں نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا.
اور یوں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی تک وکٹوریہ نظر بند رھیں انہیں پاکستان میں ناپسندیدہ عناصر میں شکار کیا گیا.
وکٹوریہ کو ان دنوں پاکستان میں جاری آمریت جبر کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا.
وہ روزانہ ڈائری میں اھم واقعات قلمبند کرتی تھیں.
گزشتہ چند سالوں میں وہ کئی دفعہ پاکستان تشریف لائیں مختلف کانفرنسوں اور کتب میلوں میں شرکت کی.
کشمیر پر ان کی کتاب کی عالمی سطح پر پذیرائی ھوئی.
محترمہ بینظیر بھٹو سے ان کی رفاقت آخری دم تک جاری رھی.
چند سال قبل جب وہ ایک کانفرنس کے سلسلہ میں اسلام آباد آئیں تو ان سے دو تین روز مسلسل ملاقات رھی.
میرا ان سے تعارف لندن میں مقیم ھمارے دوست اور لندن یونیورسٹی کے پروفیسر نادر چیمہ نے کروایا.
ایک روز دوران ملاقات انہوں نے بتایا کہ تمہیں یہ جان کر خوشی ہوگی کہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو پر ان کی زندگی اور اپنی قیمتی یادوں پر کتاب لکھ رھی ھوں.
کون کہتا ھے کہ دوستی نبھانا اور وفا کرنا صرف مشرقی روایت ھے اور مغربی کلچر میں یہ ناپید ھوچکی ھے .
ھوٹل کے کمرے میں انہوں نے مجھ ناچیز کی خواہش پر کتاب کا ایک باب بھی سنایا.
وکٹوریہ کا کہنا تھا کہ میرا محترمہ بے نظیر بھٹو سے وعدہ تھا کہ میں ان پر کتاب لکھوں گی.
ان کی لیاقت باغ میں شہادت کے بعد میرے لئے اس وعدے کو ایفا کرنے کا دباؤ بڑھتا چلا گیا اور آج لندن سے نادر چیمہ نے وکٹوریہ کی محترمہ بے نظیر بھٹو پر تحریر کردہ کتاب کی اشاعت کی نوید سنائی.
طاہر ملک

فقیر کا اصل ماخذ کیا ہے؟
20/09/2026

فقیر کا اصل ماخذ کیا ہے؟

ہم خستہ تنوں سے محتسبو کیا مال منال کا پوچھتے ہوجو عمر سے ہم نے بھر پایا سب سامنے لائے دیتے ہیںدامن میں ہے مشت خاک جگر س...
20/09/2026

ہم خستہ تنوں سے محتسبو کیا مال منال کا پوچھتے ہو
جو عمر سے ہم نے بھر پایا سب سامنے لائے دیتے ہیں
دامن میں ہے مشت خاک جگر ساغر میں ہے خون حسرت مے
لو ہم نے دامن جھاڑ دیا لو جام الٹائے دیتے ہیں

حقائق
20/09/2026

حقائق

افکار تازہ
20/09/2026

افکار تازہ

اسلام آباد ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں تھا۔ نتیجہ یہ کہ بیشتر سرکاری تقریبات راولپنڈی کے پریس کلب میں منعقد ہوا کرتی...
19/09/2026

اسلام آباد ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں تھا۔ نتیجہ یہ کہ بیشتر سرکاری تقریبات راولپنڈی کے پریس کلب میں منعقد ہوا کرتی تھیں۔ یہ پریس کلب لیاقت باغ کے ایک گوشے میں آباد تھا۔ میں اپنے جرنلسٹ دوستوں کے ساتھ اکثر شامیں وہیں بسر کرتا تھا۔ اس میں منعقدہ بیشتر تقریبوں میں سے دو تقریبات آج تک میرے حافظے میں زندہ ہیں ۔ صدر ایوب کے عہد میں جب چین کے وزیر اعظم چو۔ این۔ لائی نے اپنے دورہ پاکستان کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا تو وہ چینی زبان بولتے چلے گئے اور وقفے وقفے سے اُن کا چینی مترجم اُن کی باتوں کا انگریزی میں ترجمہ سُنا تا رہا۔ ایسے میں ایک مقام پر چو این لائی نے اُسے روکا اور بتایا کہ اس نے چینی زبان سے انگریزی زبان میں ترجمہ کرتے وقت غلطی کی ہے۔ اس لیے اُن کی اس بات کا دوبارہ ترجمہ کیا جائے ۔ مترجم نے ایسا ہی کیا۔ جب چو این لائی کی گفتگو پر سوالات شروع ہوئے تو پاکستان ٹائمز کے چیف رپورٹر ایچ کے۔ برکی نے چو۔ این۔ لائی سے کہا: سر! جب خود آپ کو انگریزی پر اتنی اچھی دسترس ہے تو خود آپ نے انگریزی میں خطاب کیوں نہیں کیا؟ چو۔ این۔ لائی نے بے ساختہ کہا: کہ ہم چینی گونگے نہیں ۔ ہماری اپنی زبان ہے جس میں ہم گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں۔
فتح محمد ملک کی خودنوشت آشیانہ غربت سے اقتباس۔
کتاب سنگ میل پبلیکیشنز لاھور نے شائع کی ۔
Sang-e-Meel Publications

Address

I 9
Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when علمی بیٹھک-ilmi Bethak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to علمی بیٹھک-ilmi Bethak:

Shortcuts

Share

Category