کسی بھی قسم کا اُردو ادب سے متعلق معلومات نوٹس pdf میں چاہیے ہو ppsc, kpsc ,Fpsc, Ss,بی ایس ،ایم فل اردو ہر طرح کا مواد حاصل کرنے کے لیے ہمارے گروپ کا لنک جوائن کریں اور حاصل کریں شکریہ ۔ اردو لیکچرار
Follow this link to join my WhatsApp group:
اردو لیکچرار
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from اردو لیکچرار, Education, Islamabad.
یہ پیج اُردو لیکچرار کی تیاری میں معاونت کے لیے بنایا گیا ہے اس میں شامل ہوں ۔ ppsc, kpsc,Fpsc, ss۔CSS ,pst بی ایس اردو ایم فل اردو کی تیاری کے لیے بنایا گیا ہے۔
PDF
واٹس ایپ گروپ تدریس ادب اردو میں بھیج دیا جائے گا۔۔۔
17/05/2026
ماڈل پیپر لیکچرراردو(FPSC)
17/05/2026
📝 درست اردو لکھنے اور بولنے کے اصول
حصہ سوم
1️⃣ اگر جملے میں مفعول ذی شعور جاندار ہو تو عام طور پر کو استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً :
1) استاد صاحب نے شاگرد کو نصیحت کی۔
2️⃣ عام طور پر کتب، رسائل اور اخبارات کے نام بطور واحد استعمال ہوتے ہیں اور ان کا فاعل بھی واحد آتا ہے۔
مثلاً :
1)خطوط غالب چھپ گئی ہے۔
2) کتاب القواعد بہت آسان اور دلچسپ ہے۔
3️⃣ یہاں وہاں جہاں کے ساتھ پر بڑھانا غلط ہے۔ جیسے: 1)یہاں پر وہاں پر جہاں پر۔
4️⃣ اگر جملے کے آخر میں کوئی، کچھ یا سب کچھ ہو تو فعل واحد مذکر ہوگا۔ مثلاً:
1) بچہ جوان، بوڑھا، مرد اور عورت کوئی اس کی حکم عدولی نہیں کر سکتا۔
2) مال و اسباب ، دهن و دولت کچھ کام نہ آیا ۔
3)یہ مال و دولت؛ جائدادیں اور مکانات ، سب کچھ یہیں چھوڑ جاتا ہے۔
5️⃣ کسی جملے میں نہ اور ہی کا ایک ساتھ استعمال میں لانا غلط ہے۔ جیسے:
1)نہ ہی آپ آئی نہ ہی خط بھیجا۔ ( غلط )
2) نہ آپ ہی آئی نہ خط ہی بھیجا۔ (صحیح)
#محاورہ #اردو #علم
اردو لیکچرار
17/05/2026
ذومعنی الفاظ اور متشابہ میں کیا فرق ہے⁉️
📝ذو معنی الفاظ وہ ہوتے ہیں۔جن کے دو مختلف معانی ہوں مگر ہم آواز ہوں۔مثلاً شام
1️⃣ وقت
2️⃣ ملک
📝 متشابہ الفاظ وہ ہوتے ہیں۔جو ہم صوت تو ہوں مگر ان کا املا اور معانی مختلف رکھتے ہوں۔مثلاً اثر اور عصر
1️⃣ عصر بمعنی زمانہ
2️⃣ اثر بمعنی رسوخ
Follow for more ❤️
#محاورہ #اردو #علم
اردو لیکچرار
17/05/2026
کل بروز پیر FPSCمیں ممکنہ سوالات جو میر غالب اور اقبال کے حوالے سے ایک قیمتی اثاثہ جو آپ لوگوں اشتراک کر رہا ہوں ۔ مزید اہم نوٹس حاصل کرنے کامنٹس کریں پی ڈی ایف موجود ہے بھیج دوں گا ۔ تمام اسکالرز کو نیک تمنائیں اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب کرے آمین ۔
اردو لیکچرار 𝐓𝐡𝐞 𝐋𝐞𝐚𝐫𝐧𝐨𝐩𝐞𝐝𝐢𝐚 Mumtaz Hussain Brainstorm Egitim System Islamabad
17/05/2026
متلازم الفاظ کون سے ہیں؟
#محاورہ #اردو #علم
اردو لیکچرار
17/05/2026
روداد نویسی (Report Writing)
📝روداد فارسی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے لغوی معنی کیفیت، حال ماجرا یا سرگذشت کے ہیں۔ روداد سے مراد کسی تقریب، جلسے، میلے یا حادثے کا آنکھوں دیکھا حال، ایک غیر جانبدار مبصر کی حیثیت سے کاغذ پر تحریر کر کے پیش کرنا ہے، تاکہ جنہوں نے اس تقریب کو نہیں دیکھا وہ غائبانہ اس سے لطف اندوز ہو سکیں۔ یہ مضمون سے مختلف ہوتی ہے ہم اسے کسی تقریب یا واقعہ کی تلخیص یا جائزہ بھی کہہ سکتے ہیں۔
#محاورہ #اردو #علم
اردو لیکچرار
17/05/2026
۔ شری کرشن اور رادھا کا قصہ (سب سے مشہور روایت):
تحقیق کے مطابق، اس کہاوت کا اصل تعلق ہندو اساطیر (Mythology) کے مشہور کرداروں شری کرشن اور رادھا (مشہور رقاصہ) سے ہے۔کہانی کے مطابق، ایک رات شری کرشن جی نے رادھا سے ناچنے کی فرمائش کی。رادھا اس وقت ناچنا نہیں چاہتی تھیں، اس لیے انہوں نے انکار کرنے کے بجائے کرشن جی کے سامنے شرط رکھ دی کہ: "میں تب ناچوں گی جب آپ محفل میں روشنی کے لیے نو من تیل جلائیں گے"۔اس زمانے میں اتنی بڑی مقدار میں تیل لانا ناممکن تھا، جس پر کرشن جی مسکرا کر خاموش ہو گئے اور یہیں سے یہ جملہ بن گیا۔
رادھا کا مقصد کیا تھا:
اتنے بڑے پیمانے پر چراغ جلانا ایک ناممکن بات تھی۔ رادھا کا مقصد کسی خاص قسم کا تیل حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ صرف ایک ایسی بڑی مقدار (نو من) بتانا تھا جو کوئی پوری نہ کر سکے اور اسے ناچنا نہ پڑے۔
اردو لیکچرار
13/05/2026
صنعتِ لف و نشر
لف ( Entwine, Pleach, Wrap ):-
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم مصدر ہے۔ اردو زبان میں بطور اسم اور کبھی صفت استعمال ہوتا ہے۔ اس کا معنیٰ از رُوئے لغت لپیٹنے کا عمل، ملفوف کرنا، لپیٹنا، پیچیدہ کرنا ہے ( نشر کی ضد)۔
نشر ( scattering ):-
اس کے معنیٰ لغت میں حسبِ ذیل ہیں :
اشاعت، پھیلاؤ، وسعت، کشادگی، فراخی، پراگندگی، انتشار، طوالت، درازی، اجرا، بہاؤ، خوشبو، افشائے خبر، مجازاً زندگی۔
علم البدیع میں ان دونوں الفاظ کو مرکبِ عطفی "لف و نشر" کی صورت میں لکھا جاتا ہے،
یاد رہے کہ "لف" کے مناسبات یعنی "نشر" کو تعیین کے بغیر ذکر کرنا صنعتِ لف و نشر کی شرط ہے، کیوں کہ "یہ، وہ، اِس، اُس" جیسے کلمات کے ذریعے مناسبات کی تعیین کر دی جائے تو صفتِ تقسیم جنم لیتی ہے۔
(بحوالہ:کشاف تنقیدی اصطلاحات، صفحہ157)
صنعتِ لف و نشر کی مثال بصورتِ شعر حسبِ ذیل ہے:
جلوۂ صبحِ ازل ، تیرگئِ شامِ ابد
ترے عارض، ترے گیسوئےپریشاں ہوں گے
یہ شعر فراق گورکھپوری کا ہے، اس میں دیکھیں کہ مصرعۂ اوّل میں "صبح" اور "شام" دو الفاظ ہیں، یہ دونوں اصطلاح علم البدیع میں "لف" کہلائیں گے. اگلے مصرعے میں دیکھیں کہ ان دونوں الفاظ کے مناسبات "عارض" اور "گیسو" ہیں۔
اسی کی مثال میں دوسرا شعر دیکھیے کہ:
خصومت تھی سلطانی و راہبی میں
کہ وہ سربلندی ہے یہ سربزیری
یہ شعر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، اس کے مصرعۂ اوّل میں "سلطانی" اور "راہبی " دونوں الفاظ "لف" ہیں، جبکہ مصرعۂ ثانی میں ان کے مناسبات "سربلندی" اور "سربزیری" ہیں۔
مناسبات (Appropriates) کیا ہیں؟
مناسبات سے مراد صفات، متشابہات، مستعارات، اجزائے کُل اور اخبار و افعال ہیں، یعنی اگر :
لف فاعل ہو اور فعل سے مقدم ہو تو مابعد فعل اس کا نشر ہوگا۔
لف اگر مبدل منہ ہے تو اس کا ما بعد بدل اس کا نشر ہوگا۔
لف اگر موصوف ہو تو اس کے ما بعد صفت اس کا نشر ہوگی۔
لف اگر مشبہ ہو تو اس کا مابعد مشبہ بہ اس کا نشر ہوگا۔
یہ تمام چیزیں مناسبات کے زمرے تو ضرور آئیں گی، لیکن ان کے آپس میں لف و نشر بننے کی شرط یہ ہے، کہ کچھ چیزوں کو لپیٹ کر بیان کیا جائے، پھر اگلے
مرحلے میں انھی کو کھولا جائے، اگر یہ عمل نہ ہو تو انھیں یا تو مراعات النظیر کہا جائے گا یا صنعتِ تقابل...
لف و نشر کی اقسام:-
اس کی 3 اقسام ہیں:
1- لف و نشر مرتّب
2 - لف و نشر غیر مرتب
3 - لف و نشر معکوس الترتیب
ان تینوں کا اجمالی بیان درجِ ذیل ہے:-
1- لف و نشر مرتّب :
اگر "لف" کے تمام مناسبات بالترتیب ہوں تو اسے"لف و نشر مرتّب" کہتے ہیں، مرتب سے مراد یہ ہے کہ "لف" میں جو جو الفاظ ذکر کیے جائیں، "نشر" میں اسیترتیب سے ان کے مناسبات ذکر کیے جائیں۔
اس کی امثلہ ملاحظہ ہوں :
آتش و آب و باد و خاک نے لی
وضعِ سوز و نم و دم و آرام
یہ شعر مرزا غالب دہلوی کا ہے، اس کے مصرعۂ اوّل میں چار الفاظ مذکور ہیں، آتش، آب، باد اور . یہ چاروں الفاظ "لف" ہیں۔
مصرعۂ ثانی میں بھی چار الفاظ ذکر کیے گئے ہیں؛ سوز، نم، دم اور آرام۔
اب دیکھیں کہ پہلے مصرعے میں جو جو لفظ جس نمبر پر ہے، اس کا مناسب اگلے مصرعے بھی اسی نمبر پر ہے، ذیل میں تقابل کے طور پر "لف و نشر مرتّب" کی
وضاحت دیکھیں کہ:
"آتش" کا مقابل "سوز"
"آب" کا مقابل" نم"
"باد" کا مقابل "دم"
اور
"خاک" کا مقابل "آرام"۔
اس تقابل سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ جیسے پہلے مصرعے میں "آتش" کا لفظ پہلے نمبر پر ہے،
دوسرے مصرعے میں اس کا مناسب "سوز" بھی پہلے نمبر پر ہے.. اسی طرح "آپ" کا لفظ مصرعۂ اوّل میں
دوسرے نمبر پر ہے تو دوسرے مصرعے میں اس کا مناسب "نم" بھی دوسرے نمبر پر ہے، ایسے ہی باقی دو الفاظ بھی باہم مترتب ہیں.
2- لف و نشر غیر مرتب :
اگر "لف" کے مناسبات بالترتیب نہ ہوں تو اسے "لف ونشر غیر مرتب" کہتے ہیں۔
اس کی وضاحت یہ ہے، کہ اگر "لف" کے مناسبات اس ترتیب سے نہیں، جس ترتیب سے "لف" ہیں ، یعنی اگر ایک "لف" مصرعۂ اوّل میں پہلے نمبر پر ہے، تو اگلے مصرعے میں اس کا مناسب شاید تیسرے نمبر پر ہو،
اگر" لف" پہلے مصرعے میں دوسرے نمبر پر ہے، تو مبادا اس کا مناسب "نشر" چوتھے نمبر پر ہو۔
اس کی شعری مثال ملاحظہ فرمائیں کہ :
لف و نشر غیر مرتب کی مثال دیکھیں کہ
:
لعل و غزال و گُل، لب و رخسار و چشمِ شاہ
ابرو و زلف و رُخ، شبِ قدر و ہلال و ماہ
یہ شعر میر ببر علی انیس کا ہے،
اس شعر میں چھ "لف" ہیں اور ان کے مناسبات بھی اتنے ہی ہیں، پہلے مصرعے میں تین "لف" اور تین "نشر" ہیں، اسی طرح دوسرے مصرعے میں بھی تین "لف" اور
پھر ان کے مناسبات یعنی "نشر" بھی تین ہیں۔
ذیل میں تقابل کے طور پر تمام مناسبات آمنے سامنے رکھ کر ان کی ترتیب بھی درج کی جاتی ہے :
مصرعۂ اوّل میں لف و نشر :
"لعل" کا مناسب "لب" پہلے نمبر پر ہے-
"غزال" کا مناسب "چشم" تیسرے نمبر پر ہے-
"گُل" کا مناسب "رخسار " دوسرے نمبر پر ہے-
مصرعۂ ثانی میں لف و نشر :
"ابرو" کا مناسب "ہلال" دوسرے نمبر پر ہے-
"زلف" کا مناسب "شبِ قدر" پہلے نمبر پر ہے-
"رُخ" کا مناسب "ماہ" تیسرے نمبر پر ہے-
3- لف و نشر معکوس الترتیب :
صنعتِ لف و نشر مرتّب کا عکس، یعنی اگر لف کی تعداد تین یا اس سے زیادہ ہے تو نشر بھی اتنے ہی ہونے
چاہئیں اور لف جس ترتیب سے ہوں، مناسبات اسی ترتیب کا الٹ ہوں۔
نوٹ : لف اگر دو چیزوں پر مشتمل ہو تو ان سے وابستہ مناسبات بھی دو ہی ہوں، تو اسے "لف و نشر غیر مرتب" بھی کہا جا سکتا ہے اور "لف و نشر معکوس"
بھی، لیکن بہتر یہی ہے کہ اسے "لف و نشر غیر مرتب"
ہی کہا جائے اور معکوس الترتیب کی حدود کو وہاں سے شمار کیا جائے، جب لف اور نشر دونوں تین تین چیزوں پر مشتمل ہوں۔
( بحوالہ : کشاف تنقیدی اصطلاحات، صفحہ 157 )
لف و نشر معکوس الترتیب کی شعری مثال حسبِ ذیل ہے :
روئ و زلف و قدِ صنم دیکھو
سرو و شمشاد و گُل بَہَم دیکھو
اس شعر میں تین "لف" اور تین "نشر" ہیں، لیکن لف جس ترتیب سے ہیں، ان کے مناسبات اس کے برعکس آخر سے شروع ہوتے ہیں، ذیل میں دیکھئیے کہ :
رُو - اس کا نشر "گُل" تیسرے نمبر پر ہے-
زلف - اس کا نشر "شمشاد" دوسرے نمبر پر ہے-
قد - اس کا نشر "سرو" پہلے نمبر پر ہے-
11/05/2026
📝روزمرہ اور محاورہ میں فرق!!
روزہ جسے انگریزی می میں Daily Speech کہا جاتا ہے، اہل زبان کا مرتب کردہ ہوتا ہے۔یہ حقیقی معانی دیتا ہے۔یہاں اہل زبان کی مخصوص نشست و برخاست کا خیال رکھا جاتا ہے۔مثلاً وہ آئے دن کام کرتا ہے۔(درست روزمرہ) اس کی جگہ اگر ایسا بولے کہ وہ آئے روز کام کرتا ہے تو یہ روزمرہ کے خلاف ہوگا کیوں کہ اہل زبان ایسا نہیں بولتے۔
محاورہ جو انگریزی میں Idiom کہلاتا ہے، الفاظ کا وہ مجموعہ ہوتا ہے جو مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔محاورہ کی ساخت میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔مثلاً نو دو گیارہ ہوجانا کی نو دس گیارہ لکھنا غلط ہے۔محاورے کی آخر میں مصدر نا آتا ہے اور یہ کسی جملے کا حصہ ہوتا ہے۔
#محاورہ #اردو #علم
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Islamabad