Knowledge Of the World

Knowledge Of the World

Share

knowledge is the main key to become a successful man.

without knowledge man is blind.learn from birth -to-passed away.because it is a the deep ocean which can never be finished.

Photos from Knowledge Of the World's post 01/01/2025

زمینی معملات میں استعمال ہونے والے اصطلاحات!
محفوظ کر لیں.

Photos from Knowledge Of the World's post 11/10/2024

Supreme court's final verdict upon Mubarak saani case.
/10/2024




11/10/2024

آگر آپ کے گھر میں دنیا گھومنے کے پیسے نہیں ہیں تو کتابیں پڑھ لیا کریں 💯

07/10/2024

اگر آپ ہر کسی کے قابل بننے لگ گئے
تو آپ اپنے قابل بھی نہیں رہیں گے🤍

22/09/2024

اچھے لوگ وہ ہیں جو ہمیشہ آپ کو برائی سے روکتے ہیں 💯









22/09/2024

*خلیفہ ھارون رشید کا دور تھا،،،*

*مدارس اجاڑ ھونے لگے۔۔۔*

*خلیفہ نے قاضی القضاۃ سے کہا:*
**کیا سبب ھے کہ مدارس و معالم کی طرف عوام کا رحجان کم سے کم تر ھوتا جا رھا ھے؟*

*قاضی صاحب نے جواب دیا،*
*اگلے سال جواب دوں گا…*

*خلیفہ تڑپ کر بولے:* *سوال ابھی اور جواب سال بعد؟*
*سمجھ نہیں آئی بات!*

*قاضی صاحب نے فرمایا:*
*ھر سوال کی نوعیت مختلف ھوتی ھے یہ ایسا سوال ھے جس کے جواب میں سال لگ جائے گا۔۔۔*

*وقت گزرنے لگا اگلی عید آ گئی،*
*عید کی امامت کے فرائض قاضی صاحب ادا کیا کرتے تھے۔۔۔*

*عوام و خواص سبھی عید کے دن عید گاہ پہنچ گئے، مگر قاضی صاحب تشریف نہیں لائے۔۔۔*

*قاضی صاحب کو لینے کے لئے سرکاری نمائندے پہنچے، مگر قاضی صاحب نے انکار کر دیا کہ وہ عید کی نماز نہیں پڑھائیں گے۔۔۔*

*نمائندگان و کار پردازگان کے اصرار و منت سماجت پر قاضی صاحب نے فرمایا کہ:*
*میں پالکی میں جاؤں گا، مزید یہ کہ پالکی بھی خلیفہ وقت اٹھانے کے لئے آئے۔۔۔*
*وزراء و نمائندگان ششدر و انگشت بدنداں رہ گئے کہ یہ کیسا غیر معقول مطالبہ ھے،*
*مگر قاضی صاحب ڈٹے رھے۔۔۔*

*مجبوراََ خلیفہ کو اطلاع دی گئی۔۔۔*

*خلیفہ علم و علماء دوست انسان تھے۔۔۔*

*خود چل کر آ گئے قاضی صاحب تشریف لائے عید کی نماز ھو گئی۔۔۔*

*وقت گزر گیا، لیکن عید کے بعد زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ خلیفہ پھر حاضر ھوئے اور کہا:*

*قاضی صاحب مدارس میں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ھو گئی ھے، بٹھانے کے لئے چٹائیاں بھی کم پڑ گئی ھیں، اور وزراء اور ارکان سلطنت کے بچے بھی چٹائیوں پر بیٹھے علم حاصل کر رھے ھیں۔۔۔*

*قاضی صاحب نے فرمایا:*

*آپ کے سوال کا جواب مل گیا؟*
*خلیفہ بولے:*
*کون سا سوال اور کون سا جواب؟*

*قاضی صاحب بولے:*
*آپ نے کہا تھا، کہ مدارس میں طلبہ کیوں نہیں آتے؟*

*خلیفہ بولے:*
*جواب کیا ھے؟*

*قاضی صاحب نے کہا:*
*آپ حاکم وقت ھیں، آپ نے ایک بار صاحب علم امام کو عزت دی ھے، تو مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے اتنے آ گئے، کہ بیٹھنے کی جگہ نہیں مل رھی، اگر اسی طرح ارباب علم و فضل کی توقیر کرو گے، تو تبھی لوگ علم کی طرف آئیں گے۔۔۔*

*اس واقعہ کے بر عکس میرے ملک خداداد پاکستان میں ھیرو یا تو کھلنڈرے ھیں یا فلمی اداکار (جنھیں اچھے وقتوں میں کنجر کہا جاتا تھا) یہاں ڈاکٹر قدیر خان جیسے اصلی ھیرو کو جب عزت دینے کا وقت آیا تو پسِ زنداں ڈال دیا گیا اور ان کی آخری زندگی فُٹ پاتھوں کی نظر ھو گئی۔۔۔*

*یہاں مدارس کے علماء و آئمہ اور وارثانِ علمِ نبوت کو سپیکروں کے جھوٹے مقدمات میں چوروں کے ساتھ ھتھکڑیاں لگائی جاتی ھیں،،،*
*حق مانگنے پر لاٹھی چارج کیا جاتا ھے، اوباشوں اور بدمعاشوں سے ان پر بدترین سلوک کروایا جاتا ھے۔۔۔*

*آج تک کسی طالب علم کو انٹر نیشنل ایوارڈ حاصل کرنے پر کوئی شاھی پروٹوکول نہیں دیا گیا،*
*کروڑوں روپے کی برسات فقط ایک نیزہ پھینکنے والے پر کر دی جاتی ھے اور فل شاھی پروٹوکول دیا جاتا ھے۔۔۔*

*جبکہ اس کے مقابلے میں کتنے طلبہ نے بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، مگر کسی حاکم وقت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔۔۔*

*جب ملک وملت کی خدمت پر رسوائی ملے،*

*علم کے وارثوں کی بے توقیری ھو گی،*

*جب اچھا ناچنے والوں کو ھیرو اور ھیروئن قرار دے کر قومی سطح کے اعزازات و ایوارڈز سے نوازا جائے گا،*

*جب ملک کو ایٹمی پاور بنانے والے بےنام کر دیئے جائیں گے، تو میرے ملک میں گویے (مراثی، بھانڈ کنجر) اور کھلنڈرے تو پیدا ھو سکتے ھیں، مگر کوئی غزالی، کوئی رازی، کوئی بوعلی سینا، کوئی ڈاکٹر عبدالقدیر خان، کوئی طارق بن زید، کوئی خالد بن ولید، کوئی ٹیپو سلطان، کوئی میجر عزیز بھٹی، کوئی امام بخاری، امام مسلم، ابن تیمیہ پیدا نہیں ھو گا۔۔۔*

*اگر کسی کی سمجھ میں آ جاۓ تو پلٹ آئیں اپنے ماضی کی طرف، اپنے روشن مستقبل کی طرف۔۔۔*

*ھمارا مستقبل تعلیم میں ھے، تقدس میں ھے، حیا اور عفت و پاکدامنی اور غیرت و حمیت میں ھے، اپنے اصلی ھیروز کو پہچانیں، ان کی قدر کر لیں ورنہ۔۔۔*
*تمہاری داستاں تک نہ ھو گی داستانوں میں،،،*
𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼
❤️ ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢ

26/03/2024

















27/02/2024











The next building block in the legal research process is that of the Peremptory Norms of International Law or Jus Cogens. Jus Cogens is a Latin phrase generally interpreted in English to mean ‘compelling law’. Article 53 of the Vienna Convention on the Law of Treaties recognises Jus Cogens as a source of public international law. Additionally, Article 64 of the Vienna Convention states that the emergence of a new peremptory norm will prevail over a treaty in conflict.

Therefore, Article 38 of the Statute of the International Court of Justice must be read together with these two Articles of the Vienna Convention to gather a complete understanding of the sources of public international law. These compelling laws, or peremptory norms, are considered to be of such importance that States may not derogate from them via treaty or customary international law norms.

There is no authoritative list of Jus Cogens, as there are no clear guidelines or criteria for identifying them. Some scholars would expand any list of Jus Cogens, and others would question its very existence. Nevertheless, the following list includes the least controversial examples, according to Brownlie, and acknowledged by the United Nations International Law Commission: prohibition of crimes against humanity, prohibition of genocide, prohibition of piracy, prohibition of slavery, prohibition of racial discrimination, prohibition of the use of armed force except for self-defense.

12/02/2024

قومی و صوبائی اسمبلیوں کے نشستیں۔
جانئیے اس ویڈیو میں 👇


12/02/2024

باتیں تھوڑی کڑوی ضرور لگیں گی لیکن یہی تلخ حقیقت ہے.





18/08/2023

لامحدود خواہشات!
یہ بات عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں انسان کو افضل قرار دیا ہیں۔ہتاکہ فرشتوں نے رب کریم سے فرمایا کہ ہم آپ کے ہر حکم کو بجا لاتے ہیں۔ آپکی عبادت میں بھی ہر وقت مصروف عمل ھوتے ھیں کیونکہر دوسرے مخلوق انسانی کی تخلیق ہو۔ جو حکم آپ (رب کریم) کریں گے ہم اس کو بجا لائیں گے۔
یہ کہنا تھا ارشاد باری تعالیٰ ھوا کہ زمین میں موجود ہر شے کا نام، نسل، رنگ اور ہیت پتا کرے۔ سمندری جانوروں کے نام بتائیں۔
تو فرشتوں نے بڑی حیرت کے ساتھ عرض کیا کہ اے ہمارے آقا ہمیں تو ان سب چیزوں کا علم نہیں ہے۔ ھم ان کو نہی جانتے۔کیسے پتا لگائیں۔ کیسے ان کے فوائد،ثمرات اور نقصانات کا کھوج لگائیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف ایک شکل اور جسامت سے نہی نوازا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا کی عظیم ترین عقل و شعور کی نعمت عطا فرمائے ہیں۔ یہ عقل و شعور ہی ہے جس نے انسان کو تمام مخلوقات سے امتیازی حیثیت بخشی ہے جس نے انسان کو افضل ترین مخلوقات میں شامل کیا ہے۔جس نے انسان کو اچھے اور برے میں تمیز سکھائے ہیں۔
یہ عقل ہی ہے جس نے انسان کو تمام مخلوقات خواہ وہ جاندار ہو یا بےجان، پانی میں ہو یا خشکی، زمین میں ہو یا آسمان۔ چھوٹے سے چھوٹے حشرات ہو بڑے سے بڑے جسامت کے خون ریز ڈائینوسار سب کے بارے میں شعور اجاگر کردیا ہے۔ ان کے ترکیب، رہن سہن، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، عادات و خصائل سب چیزوں سے روشناس کرایا۔

خواہشات کا پتل؛
جب انسان دنیا میں آیا تھا تو بہت سادہ لوح طبیعت کے حامل تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان نے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ آسائشات تلاش کرنا شروع کیا۔ اسی طرح نت نئے تجربات و مشاہدات کے بعد مختلف چیزے ایجاد کیے۔ اور زندگی کو تعیشات کی طرف لیں گئے۔ مگر کہتے ہیں نا انسان حواہشات کا پتلا ہے۔ ایک چیز کے حاصل پہ دوسرے کی خواہش جنم لیتی رہی۔ اور اسی طرح یہ سلسلہ لامحدودیت اختیار کر گیا۔ اور انسان اور کا محور اور پتلا بن کر رہ گیا۔
یہ بات معاشی ماہرین سے بھی صاف واضح ہے کہ انسانی خواہشات unlimited desires ہے جن کا کوئی کنارہ نہیں ۔

نوٹ

جاری۔۔۔۔۔۔۔پارٹ( 2)
Coming soon.

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Islamabad
¹²³⁴$