Mussadiq Online Quran Academy
Mussadiq Online Quran Academy
Welcome Mussadiq online Quran Academy... Musadiq Online Quran Academy is an independent entity managed by a small group of dedicated professionals.
We welcome everyone to learn the teachings of the holy Quran and the commandments of Islam irrespective of their race, colour, or cast. We aim to make every Muslim understand and follow the basic principles of our religion so as to ensure we can become a better Ummah as well as make this world a better place for everyone to live in.
جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی صاحب انتقال فرما گئے
إنَّالِلّٰہ وَإنَّاإِلَیہِ راجِعُون ، إنَّ لِلّٰہِ مَاأَخَذَ وَلَہٗ ماأَعࣿطی وَکُلُّ شَیࣿئٍ عِندَہٗ بِأَجَلٍ مُسَمًّی Mussadiq Online Quran Academy
آپﷺ مجلس میں موجود ہر شخص کی طرف یوں اہتمام سے متوجہ ہوتے کہ ہر کوئی سمجھتا کہ مجھ سے زیادہ آپ کو کوئی عزیز نہیں
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️
آپﷺ کے چہرہ انور پہ پسینے کے قطرے یوں دکھائی دیتے تھے جیسے
چمکدار موتیوں کی لڑی
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️
انا للہ وانا الیہ راجعون 😭مختارالامہ
حضرت اقدس مفتی مختارالدین شاہ صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے۔
14/12/2025
إنا لله وإنا إليه راجعون
حضرت پیر حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب بھی خالق حقیقی سے جاملے
اللهم اغفر له وارحمه واعف عنه
Mussadiq Swati Mussadiq Online Quran Academy
16/10/2025
Big thanks to Farhad Ahmed
for all of your support! Congrats for being top fans on a streak 🔥!
آقا کریمﷺکو ایسے اعلیٰ اخلاق سے نوازا گیا تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھافرماتی ہیں
"آپ کے اخلاق قرآن ہی ہیں"
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️
**"آزادی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، جس کی قدر وہی جانتا ہے جس نے غلامی کی زنجیروں کو محسوس کیا ہو۔
یہ وطن ہمیں یوں ہی عطا نہیں ہوا، بلکہ ہمارے بزرگوں نے ایمان، قربانی، اور صبر سے اسے حاصل کیا۔
آئیے آج کے دن ان شہداء اور مجاہدین کو دعاؤں میں یاد کریں جنہوں نے کلمۂ طیبہ کے سائے میں ہمیں آزاد فضاؤں کا تحفہ دیا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں وطن سے وفا، انصاف، اور اخلاص کی توفیق عطا فرمائے، اور پاکستان کو دینِ اسلام کا مضبوط قلعہ بنائے۔
*جشنِ آزادی مبارک، الحمدللہ علیٰ کل حال!"*
fans Mussadiq Online Quran Academy Mussadiq Swati
*🚨محرم الحرام 1447 ہجری کا 🌙چاند نظر آگیا، یکم محرم کل یعنی 27 جون بروز جمعہ اور یوم عاشورہ 6 جولائی بروز اتوار کو ہوگا۔*
معزز احباب کو نیا اسلامی سال 1447ھ مبارک ہو.
اللہ تعالیٰ اس سال کو پوری امت مسلمہ کے لیے خیر و برکت اور دنیا و آخرت کی کامیابیوں کا ذریعہ بنائیں. اور فلسطین کو یہود کے غاصبانہ قبضے سے آزادی نصیب فرمائیں. آمین ثم آمین
غدیر خم ۔۔۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’حجۃ الوداع‘‘سے مدینہ منورہ واپسی کے موقعہ پر غدیرخُم (جومکہ اورمدینہ کے درمیان ایک مقام ہے)پر خطبہ ارشادفرمایاتھا، اوراس خطبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت ارشادفرمایاتھا: "من کنت مولاه فعلي مولاه"یعنی جس کامیں دوست ہوں علی بھی اس کادوست ہے۔
اس کا پس منظر یہ تھا کہ ’’حجۃ الوداع‘‘ سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف والی/ عامل بناکر بھیجا تھا، وہاں کے محصولات وغیرہ وصول کرکے ان کی تقسیم اور بیت المال کے حصے کی ادائیگی کے فوراً بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے پاس حج کی ادائیگی کے لیے پہنچے۔ اس موقع پر محصولات کی تقسیم وغیرہ کے حوالے سے بعض حضرات نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا، اور یہ اعتراض براہِ راست نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر دوہرایا، آپ ﷺ نے انہیں اسی موقع پر انفرادی طور پر سمجھایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تصویب فرمائی، بلکہ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ علی کا اس سے بھی زیادہ حق تھا، نیز آپ ﷺ نے انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا حکم دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دل میں کدورت اور میل رکھنے سے منع فرمایا، چناں چہ ان حضرات کے دل حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بالکل صاف ہوگئے، وہ خود بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کے بعد ہمارے دلوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ محبوب ہوگئے۔ البتہ اسی حوالے سے کچھ باتیں سفرِ حج سے واپسی تک قافلے میں گردش کرتی رہیں، آپ ﷺ نے محسوس فرمایا کہ اس حوالے سے آپ ﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت اور ان کا حق ہونا بیان فرمائیں، چناں چہ سفرِ حج سے واپسی پر مقام غدیرِ خم میں نبی کریم ﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں بلیغ حکیمانہ اسلوب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق واضح فرمایا، اور جن لوگوں کے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی شکوہ یا شبہ تھا اسے یوں ارشاد فرماکر دور فرمادیا: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»، قَالَ: فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ! أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ" یعنی اے اللہ! جو مجھے دوست رکھے گا وہ علی کو بھی دوست رکھے گا/میں جس کا محبوب ہوں گا علی بھی اس کا محبوب ہوگا، اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، اور جو علی سے دشمنی رکھے تو اس کا دشمن ہوجا۔ آپ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملے تو فرمایا: اے ابن ابی طالب! آپ کو مبارک ہو! آپ صبح و شام ہر مؤمن مرد اور ہر مؤمنہ عورت کے محبوب بن گئے۔ حضراتِ شیخین سمیت تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت پہلے سے تھی، جن چند لوگوں کے دل میں کچھ شبہات تھے آپ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد ان کے دل بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت سے سرشار ہوگئے۔ اس خطبہ سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامقصود یہ بتلاناتھاکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کے محبوب اورمقرب بندے ہیں ، ان سے اورمیرے اہلِ بیت سے تعلق رکھنامقتضائے ایمان ہے،اوران سے بغض وعداوت یانفرت وکدورت ایمان کے منافی ہے۔
مذکورہ پس منظر سے یہ بات بخوبی واضح ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غدیرخُم میں "من کنت مولاه فعلي مولاه"ارشادفرمانا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اعلان کے لیے نہیں، بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدرومنزلت بیان کرنے اور معترضین کے شکوک دور کرنے کے لیے تھا نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت کو ایک فریضہ لازمہ کے طورپر امت کی ذمہ داری قراردینے کے لیے تھا ۔ اورالحمدللہ!اہلِ سنت والجماعت اتباعِ سنت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی محبت کواپنے ایمان کاجز سمجھتے ہیں، اور بلاشبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اہلِ ایمان ہی محبت رکھتے ہیں۔
مذکورہ خطبے اور ارشاد کی حقیقت یہی تھی جو بیان ہوچکی۔ باقی ایک گم راہ فرقہ اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت بلافصل ثابت کرتاہے، اور چوں کہ یہ خطبہ ماہ ذوالحجہ میں ہی ارشادفرمایاتھا، اس لیے ماہ ذوالحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو اسی خطبہ کی مناسبت سے عید مناتاہے، اوراسے ’’عید غدیر‘‘ کانام دیاجاتاہے۔اس دن عید کی ابتدا کرنے والاایک حاکم معزالدولۃ گزراہے، اس شخص نے 18ذوالحجہ 351ہجری کو بغدادمیں عیدمنانے کا حکم دیاتھا اوراس کانام "عید خُم غدیر" رکھا۔
اولاً تو اس عیدِ غدیر کی شریعت میں کوئی حقیقت نہیں ہے، دوسری طرف ماہ ذوالحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو خلیفہ سوم امیرالمومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی ہے۔ ان کی مخالفت میں بھی بعض بدنصیب لوگ اس دن اپنے بغض کا اظہار کرتے ہیں۔ اہلِ ایمان و اسلام کو چاہیے کہ اس طرح کی خرافات سے دور رہیں۔
الغرض! دینِ اسلام میں صرف دوعیدیں ہیں: ایک عیدالفطر اوردوسری عیدالاضحیٰ ۔ ان دوکے علاوہ دیگرتہواروں اورعیدوں کاشریعت میں کوئی ثبوت نہیں ، اس لیے نہ مناناجائزہے اورنہ ان میں شرکت درست ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Islamabad
44000