Dr. Habib Ullah Khan

Dr. Habib Ullah Khan

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr. Habib Ullah Khan, Educational consultant, Islamabad.

13/06/2026

سیرت نبوی -صلی اللہ علیہ وسلم- کا مقام

حافظ ابن کثیر اپنی تاریخ کبیر "البدایہ والنہایہ" میں شیخ عماد الدین واسطی کے متعلق لکھتے ہیں، کہ ابتداء میں ان کا مسلک دوسرا تھا، لیکن پھر دوسرا رنگ چڑھ گیا
ان کی نشوونما متکلمین کی ج**عت میں ہوئی تھی؛ اس لیے ان پر جدل و خلاف کا اثر غالب تھا
مصر سے بغداد گئے تو وہاں خیالات میں توسیع ہوئی، اپنی حالت کا محاسبہ کیا تو یقین و اطمینان سے دل کو خالی پایا، نتیجہ یہ نکلا کہ متکلمین کے طریق سے دل برداشتہ ہوگئے
تصوف کی طرف توجہ ہوئی، لیکن عام متصوفین کا جو رنگ ڈھنگ نظر آیا، اس سے طبیعت اور زیادہ مکدر ہوگئی
بالآخر دمشق آئے اور امام ابن تیمیہ -رحمہ اللہ- کی صحبت میں داخل ہوگئے
خود ان کا بیان ہے کہ میں دمشق پہنچا تو امام ابن تیمیہ -رحمہ اللہ- سے بھی ملا
کہتے ہیں کہ جب پہلی مرتبہ ان کے درس میں حاضر ہوا، تو عجیب اتفاق ہے کہ علم کلام کے متعلق گفتگو ہو رہی تھی، اور امام ابن تیمیہ -رحمہ اللہ- فرما رہے تھے
"دنیا میں متکلمین و فلاسفہ سے بڑھ کر مضطرب و محروم اور اطمینان قلب و سرور روح کی لذت سے یک قلم نا آشنا اور کوئی گروہ نہیں"
پھر مشاہیر فلاسفۂ قدماء اور ارباب مقالات کے چند اقوال سنائے، جن میں انہوں نے خود اپنے وجود پر مجہولیت و نامرادی اور بدحالی و بے بصیرتی کی شہادت دی تھی
الغرض شیخ فرماتے ہیں، کہ ایک ہی صحبت میں شکوک و اضطراب کے سارے پردے اٹھ گئے، اور میرے دل نے حلاوت ایقان و لذت طمانینت پالی، اور پھر جب امام ابن تیمیہ -رحمہ اللہ- میرے حالات سے آگاہ ہوئے، تو مجھے وصیت کی
"ساری چیزیں چھوڑ کر صرف سیرت نبویہ -صلی اللہ علیہ وسلم- کے مطالعے اور تدبر و فکر کو اپنے اوپر لازم ٹھہرا لو، یقین اور ایمان کی تمام بیماریوں کیلئے یہی نسخۂ شفا ہے"
چنانچہ میں نے اسی کو حرز جاں بنا لیا، اور جو کچھ پایا اسی کے وسیلے سے پایا

ڈاکٹر حبیب اللہ خان

10/06/2026

پانچواں اور آخری عنصر جس نے اقبال کی شخصیت کی تخلیق میں اہم حصہ لیا ہے، وہ مولانا جلال الدین رومی کی "مثنوی معنوی" ہے، یہ کتاب مولانا رومی کی مشہور مثنوی ہے، جو فارسی زبان میں وجدانی تاثر اور اندرونی شدت کی بنا پر لکھی گئی ہے، دراصل یونانی فلسفۂ عقلیات مولانا رومی کے دور میں جس طرح چھا چکا تھا، اور کلامی مباحث خشک فلسفیانہ موشگافیاں مسلمانوں کے ذہنوں، دینی مدرسوں، اور علمی اداروں میں جس طرح سرایت کر چکی تھیں، اس سے ہٹ کر کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا تھا
اس صورت حال سے متاثر ہوکر مولانا روم نے مثنوی لکھنی شروع کی، جو اپنے اندر قوت حیات کے ساتھ ساتھ ادبی بلندی، معانی کی جدت، حکیمانہ مثالوں اور نکتوں کے بیش بہا خزینے سمیٹے ہوئے ہے، اس کتاب نے اس دور سے لے کر آج تک ہزاروں انسانوں کو متاثر کیا ہے، ان کے قلب ونظر میں تبدیلی پیدا کی ہے
اسلامی کتب خانے میں اپنے انداز پر یہ ایک بے نظیر و بے مثال کتاب ہے، اس دور جدید میں، جبکہ اقبال کو یورپ کے مادی و عقلی، بے روح و بےخدا افکار و خیالات سے واسطہ پڑا
اور مادہ و روح کی کشمکش اپنے پورے عروج کے ساتھ سامنے آئی، تو اس قلبی اضطراب اور فکری انتشار کے موقع پر اقبال نے مولانا روم کی مثنوی سے مدد لی، اس کشمکش میں مولانا روم نے ان کو بہت کچھ سہارا دیا، یہاں تک کہ اقبال نے پیرروم کو اپنا کامل رہنما تسلیم کر لیا، اور صاف صاف اعلان کر دیا کہ عقل و خرد کی ساری گتھیاں جسے یورپ کی مادیت نے الجھا دیا ہے، اس کا حل صرف آتش رومی کے سوز میں پنہاں ہے، اور میری نگاہ فکر اسی کے فیض سے روشن ہے، اور آج یہ اسی کا احسان ہے کہ میرے چھوٹے سے سبو میں فکر و نظر کا ایک بحر ذخار پوشیدہ ہے

علاج آتش رومی کے سوز میں ہے تیرا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں
اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن
اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں
مولانا رومی سے اپنی اس محبت و عقیدت کا اظہار اقبال نے بار بار کیا ہے، اور انہیں ہمیشہ پیر روم کے نام سے یاد کرتے ہیں
صحبت پیر روم نے مجھ پہ کیا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سر بجیب، ایک کلیم سر بکف
اقبال بیسویں صدی کے خالص صنعتی و مادی دور میں پھر کسی رومی کے منتظر ہیں، ان کے نزدیک مادیت کا رنگ عشق کی بھٹی ہی میں صاف ہو سکتا ہے، اور اس کیلئے آتش رومی کی ضرورت ہے
نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب وگل ایراں، وہ تبریز ہے ساقی

ڈاکٹر حبیب اللہ خان

06/06/2026

چوتھا عنصر جس نے اقبال کی شخصیت کو بنایا، پروان چڑھایا، اور اس کی شاعری کو نت نئے معانی و افکار کی جولانی اور قوت تاثیر عطا کی، ان میں کتابوں کی درس و تدریس اور مطالعہ کے شوق و انہماک کا کوئی دخل نہیں ہے، بلکہ اقبال کی آہ سحر گاہی اس کا اصل سر چشمہ ہے
جب سارا عالم خواب غفلت میں پڑا سوتا رہتا، اس اخیر شب میں اقبال کا اٹھنا اور اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو جانا، پھر گڑ گڑانا اور رونا، یہی چیز تھی، جو اسکی روح کو ایک نئی نشاط، اسکے قلب کو ایک نئی روشنی، اور اس کو ایک نئی فکری غذا عطا کرتی
پھر وہ ہر دن اپنے دوستوں اور پڑھنے والوں کے سامنے ایک نیا شعر پیش کرتا، جو انسانوں کو ایک نئی قوت، ایک نئی روشنی، اور ایک نئی زندگی عطا کرتا
اقبال کے نزدیک آہ سحر گاہی زندگی کا بہت ہی عزیز سرمایہ ہے، بڑے سے بڑے عالم و زاہد اور حکیم و مفکر اس سے مستغنی نہیں، چنانچہ فرماتے ہیں
عطار ہو رومی ہو رازی ہو غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی
اقبال علی الصبح اٹھنے کا بہت اہتمام کرتے تھے، سفر و حضر ہر مقام اور ہر کہیں ان کیلئے سحر خیزی ضروری تھی
زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر خیزی
اور صرف یہیں تک نہیں بلکہ اس کی تمنا بھی کرتے ہیں، کہ خداوند مجھ سے تو جو چاہے چھین لے، لیکن لذت آہ سحر گاہی سے مجھے محروم نہ کر
نہ چھین لذت آہ سحر گہی مجھ سے
نہ کر نگہ سے تغافل کو التفات آمیز
یہی وجہ تھی کہ وہ جوانوں میں اپنی اس آہ وسوز، اور درد وتپش کو دیکھنے کی تمنا کرتے تھے، اور دعائیں کرتے کہ خداوندا یہ میرا سوز جگر اور میرا عشق و نظر آج کل کے مسلم نوجوان کو بخشدے
جوانوں کو سوز جگر بخشدے
مرا عشق، میری نظر بخشدے
اسی بات کو ایک دوسری نظم میں اس طرح فرماتے ہیں
جوانوں کو مری آہ سحر دے
تو ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نور بصیرت عام کردے

ڈاکٹر حبیب اللہ خان

24/05/2026

سوال: ان دنوں واٹس ایپ گروپس اور دیگر جگہوں پر ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں مندرجہ ذیل دو چیزوں
1- ناخن کاٹنے
2- سر کے بال مونڈھنے
سے کافی تاکید کیساتھ روکا جا رہا ہے، گویا کہ درج بالا دنوں میں یہ دو کام کرنا گناہ کبیرہ ہے!
آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ قربانی کرنے والوں کے لیے، ان دنوں میں ناخن یا بال کاٹنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب: اس بارے میں علامہ عبد اللہ بن زید المحمود -رحمہ اللہ- کا ایک مشہور اور قوی فتویٰ موجود ہے، جس کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے
درج بالا مسئلہ کی اصل بنیاد صحیح مسلم میں وارد حضرت أم المؤمنین اُمِّ سلمہ -رضی اللہ عنہا- سے مروی حدیث مبارکہ ہے

حضرت أم سلمہ -رضی اللہ عنہا- بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا: "جس شخص کا عید الأضحى كے موقع پر قربانی کرنے کا ارادہ ہو، پس جب ذی الحجہ کا چاند نظر آ جائے، تو وہ شخص اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ بھی نہ کاٹے، یہاں تک کہ قربانی کر لے"
(صحیح مسلم)
درج بالا حدیث مبارکہ کی روشنی میں علماء کرام ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں ناخن اور بال کاٹنے کو ٹھیک نہیں سمجھتے، اور اس سے روکنے کی تلقین کرنے کا فتوی دیتے ہیں، جبکہ ان کی یہ رائے درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر مرجوح ہے
1- درج بالا حدیث صرف حضرت اُم المؤمنین اُمِّ سلمہ -رضی اللہ عنہا- سے مروی ہے، کسی اور صحابی یا صحابیہ نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اس مسئلہ کا تعلق مردوں کیساتھ ہے؛ اس لیے چاہیے تو یہ تھا کہ مرد صحابہ کرام -رضوان اللہ علیہم اجمعین- میں سے کسی سے یہ بات منقول ہوتی
2- مزید یہ کہ حضرت اُم المؤمنین عائشہ -رضی اللہ عنہا- نے درج بالا حدیث مبارکہ پر نقد کرتے ہوئے فرمایا ہے، کہ یہ بات رسول خدا -صلی اللہ علیہ وسلم- نے محرم (احرام باندھے شخص) کے بارے میں فرمائی تھی، عام لوگ اس کے مخاطب نہیں تھے؛ اگر مخاطب عام لوگ ہوتے تو رسول خدا -صلی اللہ علیہ وسلم- مدینہ طیبہ میں دس سال رہے، میں نے ان سے کبھی ایسا عمل نہیں دیکھا، مطلب کبھی ایسے نہیں دیکھا کہ ذو الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں بال یا ناخن نہ کاٹتے ہوں

یاد رہے حضرت عائشہ -رضی اللہ عنہا- رسول اللہ -ﷺ- کی ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ علم رکھنے والی تھیں، اور آپ کی زندگی کے احوال کو بخوبی اور تمام لوگوں سے زیادہ بہتر انداز میں جانتی تھیں؛ اس لیے ان کی بات کو حضرت ام سلمہ -رضی اللہ عنہا- کی بات پر ترجیح دی جائے گی، ان کا بیان کچھ یوں ہے: رسول اللہ -ﷺ- نے یہ بات ان لوگوں کے بارے میں فرمائی تھی، جو حج کے لیے احرام باندھ چکے تھے، نہ کہ ان لوگوں کے بارے میں جو حج نہیں کر رہے تھے (یعنی عام لوگ جو صرف قربانی کر رہے ہوں)
3- رسول اللہ -ﷺ- مدینہ منورہ میں دس سال تک مقیم رہے، اور آپ ہر سال اپنی طرف سے، اور اپنے اہلِ بیت کی طرف سے قربانی کرتے رہے، لیکن اس تمام مدت میں آپ -ﷺ- سے یہ ممانعت (قربانی کرنے والا اپنے بال یا ناخن نہ کاٹے) ثابت نہیں ہے، مطلب کسی نے بھی ام سلمہ -رضی اللہ عنہا- کے سوا روایت نہیں کیا
اگر واقعی قربانی کرنے والے کے لیے بال یا ناخن کاٹنے سے ممانعت ہوتی، تو یہ بات حضرت عائشہ -رضی اللہ عنہا- سے ہرگز مخفی نہ رہتی؛ کیونکہ وہ نبی ﷺ کی گھریلو زندگی کی سب سے بڑی عالمہ تھیں، اسی طرح اگر یہ ممانعت واقعی عام حکم ہوتی، تو صحابہ کرام -رضوان اللہ علیہم اجمعین- میں خوب مشہور ہو جاتی؛ کیونکہ قربانی کا تعلق تو سب خصوصا مرد صحابہ کرام کیساتھ تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف حضرت اُمِّ سلمہ -رضی اللہ عنہا- سے یہ حدیث مروی ہے، اور کسی دوسرے صحابی سے مروی نہیں ہے

درج بالا ممانعت کی بعض علماء نے توجیہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ حکم "محرم (یعنی حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے)" سے مشابہت پیدا کرنے کے لیے دیا گیا ہے
لیکن یہ دلیل بھی قوی نہیں ہے؛ کیونکہ اگر مشابہت کی وجہ سے ممانعت ہوتی تو پھر صرف ناخن اور بال کاٹنے سے کیوں روکا گیا ہے، ج**ع اور خوشبو لگانے سے بھی روکا جاتا؛ کیونکہ محرم تو ج**ع بھی نہیں کر سکتا اور خوشبو لگانا بھی اس کیلئے جائز نہیں ہے، حالانکہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں ج**ع اور خوشبو لگانے سے کوئی ممانعت نہیں ہے، اور یہ دونوں کام بالاتفاق جائز ہیں
اور حضرت عائشہ -رضی اللہ عنہا- کا مؤقف عقل و حکمت کے زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے، وہ فرماتی ہیں: یہ کیسے ممکن ہے کہ رسول اللہ -ﷺ- بال اور ناخن کاٹنے سے منع کریں، لیکن خوشبو لگانے اور عورتوں مطلب اپنی بیویوں سے قربت اختیار کرنے کی اجازت باقی رکھیں؟
اگر واقعی محرم کی مشابہت مقصود ہوتی، تو پھر خوشبو اور ازدواجی تعلقات سے بھی اجتناب کرنا لازم ہوتا، حالانکہ ایسا کسی نے بھی نہیں کہا
درج بالا مسئلہ میں فقہاء اور ائمہ کرام کے درمیان بھی اختلاف پایا جاتا ہے، جو کہ مندرجہ ذیل ہے:
1- امام ابو حنیفہ -رحمہ اللہ- کا مؤقف ہے، کہ قربانی کرنے والے کے لیے بال یا ناخن کاٹنا بالکل جائز ہے، اور اس میں کسی قسم کی کوئی کراہت اور ناپسندیدگی نہیں ہے
2- امام مالک اور امام شافعی -رحمہما اللہ- کا مؤقف کراہیت کا ہے، مطلب وہ ناخن اور بال کاٹنے کو مکروہ تنزیہی سمجھتے ہیں، یعنی بہتر یہ ہے کہ آدمی بال اور ناخن نہ کاٹے، مگر اگر کاٹ لے تو گناہ نہیں ہوگا
3- امام احمد بن حنبل -رحمہ اللہ- کے ہاں اس بارے میں جو راجح (زیادہ معتبر) روایت ہے، وہ یہ ہے کہ قربانی کرنے والے کے لیے بال اور ناخن کاٹنا "حرام" ہے، ان کی رائے کی بنیاد ام سلمہ -رضی اللہ عنہا- کی روایت پر ہے
یاد رہے درج بالا رائے امام احمد -رحمہ اللہ- کے تفردات میں سے ہے، جبکہ حنبلی فقہ کے اندر بھی ایک دوسرا قول موجود ہے، جو اسے مکروہ (یعنی ناپسندیدہ مگر ناجائز نہیں) قرار دیتا ہے
خلاصہ کلام
جو ائمہ کرام قربانی کرنے والے کے لیے بال یا ناخن کاٹنا مکروہ سمجھتے ہیں، وہ دراصل ام المؤمنین اُمِّ سلمہ -رضی اللہ عنہا- کی حدیث کی بنیاد پر ایسا کہتے ہیں
اور علماء کی عادت رہی ہے، کہ وہ بعض اوقات ایک دوسرے کی آراء کو قبول کرتے چلے آتے ہیں، چنانچہ فقہاء کی ایک بڑی ج**عت نے اس حدیث کی بنیاد پر کراہت کا قول اپنایا ہے
البتہ امام ابو حنیفہ -رحمہ اللہ- نے صراحت کے ساتھ فرمایا:
نہ اس میں کراہیت ہے، اور نہ ہی کوئی حرمت، یعنی یہ بالکل جائز عمل ہے
علمی تحقیق اور دلائل کے تناظر میں اگر ترجیح دی جائے، تو حضرت ام المؤمنین عائشہ -رضی اللہ عنہا- کا قول سب سے زیادہ صحیح، واضح اور قوی معلوم ہوتا ہے؛ کیونکہ انہوں نے نہ صرف حدیث کی تشریح کی ہے، بلکہ اس ممانعت کی اصل وجہ بھی بیان فرمائی ہے، کہ بال اور ناخن کا نہ کاٹنا صرف محرم کیلئے ہے، چونکہ قربانی کرنے والا محرم نہیں ہوتا، اس لیے اس پر محرماتِ احرام (مثلاً بال یا ناخنوں کا نہ کاٹنا) کا اطلاق نہیں ہوتا
اصولِ فقہ کا قاعدہ ہے کہ جب دو دلیلوں میں تعارض واقع ہو جائے، تو ترجیح اس دلیل کو دی جاتی ہے جو زیادہ قوی، صحیح اور واضح ہو
پس ثابت ہوا کہ جو شخص قربانی کرنا چاہے، اس کے لیے بال یا ناخن کاٹنے میں نہ کوئی "حرمت" ہے، اور نہ ہی کوئی کراہیت ہے،
بالکل ایسے ہی جیسے کہ خوشبو لگانے، یا بیوی سے تعلق رکھنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے
علماء کرام یہ بھی فرماتے ہیں: حضرت ام سلمہ -رضی اللہ عنہا- کی حدیث میں وارد ممانعت سے مراد "کراہیتِ تنزیہی" ہے، حرمت مراد نہیں ہے
یاد رہے کراہیت تنزیہی بہت معمولی درجے کی ہوتی ہے، جو کہ ادنیٰ ضرورت سے بھی ختم ہو جاتی ہے
مکروہ تنزیہی کا مطلب ہوتا ہے کہ اگر انسان اس سے اپنے آپ کو بچا لے تو اُسے ثواب ملتا ہے، اور اگر نہ بچ پائے تو کوئی بات نہیں، مطلب گناہ نہیں ہے، مکروہ تنزیہی "مستحب" (پسندیدہ عمل) کے الٹ ہے؛ کیونکہ مستحب عمل کے کرنے پر ثواب ہوتا ہے، اور نہ کرنے پر گناہ نہیں ہوتا
نیز ملحوظ خاطر رہے کہ قربانی کرنے والے کے لیے ذو الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں بال یا ناخن کاٹنے سے روکنے والوں میں جو اس کی حرمت کے قائل ہیں، ان کا مؤقف سب سے زیادہ بعید از صواب ہے
حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں بال اور ناخن کاٹنے سے گریز کا جو غیر معمولی احساس پیدا ہوا ہے، اور وہ اسے ایک بڑا معاملہ سمجھنے لگے ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خطباء اور واعظین عشرہ ذی الحجہ میں لوگوں کو منبر و محراب سے اسے "حرام" کہہ کر عوام الناس کو مخطاب کرتے ہیں، جبکہ کسی نے بھی ان کے سامنے دین کی آسانی اور نرمی کا راستہ واضح نہیں کیا، اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ مسئلہ درحقیقت بہت سہل ہے، اتنا مشکل نہیں ہے، جتنا بنایا گیا ہے
اصل بات یہ ہے کہ:
زیادہ سے زیادہ یہ عمل (بال یا ناخن کاٹنا) مکروہِ تنزیہی ہے،
جبکہ کراہتِ تنزیہی معمولی ضرورت سے ختم ہو جاتی ہے، مثلا:
جسم میں خارش، کراہیت محسوس کرنا، چہرے کا عجیب لگنا،
ناخنوں میں گندگی کا جمع ہونا، یا اس کا وسواس ہونا
یہ اور اس جیسی معمولی قسم کی ضروریات
یعنی اگر کوئی شخص کسی ضرورت یا سہولت کی بنیاد پر بال یا ناخن کاٹ لیتا ہے، تو اس پر نہ کوئی گناہ ہے، نہ ملامت، اور نہ ہی اس کی قربانی میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے

ڈاکٹر حبیب اللہ خان

21/05/2026

تیسرا عنصر جس کا اقبال کی شخصیت کی تعمیر میں بڑا دخل ہے، وہ عرفان نفس اور خودی ہے
علامہ اقبال نے عرفان ذات پر بہت زور دیا ہے، جب تک عرفان ذات نہ حاصل ہو، اس وقت تک زندگی میں نہ سوز و مستی ہے، اور نہ جذب و شوق!
اس سلسلہ میں اقبال کے یہ شعر ان کے فکر کی پوری ترجمانی کرتے ہیں
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن
من کی دنیا؟ من کی دنیا، سوزو مستی جذب و شوق
تن کی دنیا؟ تن کی دنیا، سودوسودا، مکر و فن
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی ہے
تن کی دنیا چھاؤں ہے، آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج
من کی دنیا میں نہ دیکھے میں نے شیخ و برہمن
پانی پانی کر گئی مجکو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا، نہ تن
اقبال کے نزدیک خودشناسی اور وخود آگاہی ہی انسان کو اسرار شہنشہی سکھلاتے ہیں، عطارد ہوں یا رومی، رازی ہوں یا غزالی، بغیر عرفان نفس کے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوتا
اقبال نہ قومی شاعر تھے، نہ وطنی، اور نہ عام رومانوی شاعروں کی طرح ان کی شاعری بھی شراب و شاہد کی مرہون منت تھی، اور نہ ان کی شاعری نری حکمت و فلسفہ کی شاعری تھی، انکے پاس اسلام کی دعوت اور قرآن کا پیغام تھا، جس کے ذریعے انہوں نے خواب غفلت میں پڑی قوم کو بیدار کر دیا، اور ان کے دلوں میں ایمان و یقین کی چنگاری پیدا کر دی، یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا، کہ اقبال نے اپنے آپ کو پہچانا، اپنی وہبی شخصیت وقوت کا صحیح اندازہ کیا، اور ان کو اصل مقام پر استعمال کیا

15/05/2026

علامہ اقبال کی شخصیت کو بنانے والا دوسرا عنصر وہ ہے، جو آج ہر مسلمان گھر میں موجود ہے، مگر افسوس کہ آج خود مسلمان اس کی روشنی سے محروم، اس کے علم و حکمت سے بے بہرہ ہیں، میری مراد اس سے قرآن مجید ہے
اقبال کی زندگی پر یہ عظیم کتاب جس قدر اثر انداز ہوئی ہے، اتنا نہ وہ کسی شخصیت سے متاثر ہوئے ہیں، اور نہ کسی کتاب نے ان پر ایسا اثر ڈالا ہے
اقبال کا ایمان چونکہ نو مسلم کا سا ہے، خاندانی وراثت کے طور پر انہیں نہیں ملا ہے؛ اس لئے ان کے اندر نسلی مسلمانوں کے مقابلے میں قرآن سے شغف، تعلق اور شعور و احساس کے ساتھ مطالعہ کا ذوق بہت زیادہ ہے
اقبال کا قرآن کریم پڑھنا عام لوگوں کے پڑھنے سے بہت ہی مختلف رہا ہے، جیسا کہ اقبال نے اپنے قرآن مجید پڑھنے کے سلسلے میں ایک واقعہ بیان کیا ہے، جو کہ مندرجہ ذیل ہے
علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ جب میں سیالکوٹ میں پڑھتا تھا، تو صبح اٹھ کر روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کرتا تھا، والد مرحوم اپنے اوراد و وظائف سے فرصت پاکر آتے اور مجھے دیکھ کر گزر جاتے، ایک دن صبح میرے پاس سے گزرے، تو فرمایا کہ کبھی فرصت ملی، تو میں آپ کو ایک بات بتاؤں گا،
بالآخر وہ لمحہ آگیا اور ایک دن صبح کو جب میں حسب دستور قرآن کریم کی تلاوت کر رہا تھا، تو وہ میرے پاس آئے اور فرمایا
"بیٹا! کہنا یہ تھا کہ جب تم قرآن پڑھو، تو یہ سمجھو کہ یہ قرآن کریم تم پر ہی اترا ہے، یعنی اللہ -تعالیٰ- خود تم سے ہم کلام ہے، اس کے بعد سے اقبال نے قرآن کریم برابر سمجھ کر پڑھنا شروع کیا، اور اس طرح کہ گویا وہ واقعی ان پر نازل ہو رہا ہے
علامہ نے اپنے ایک شعر میں بھی اس واقعہ کیطرف اشارہ کیا ہے
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہیں نہ رازی، نہ صاحب کشاف
علامہ اقبال نے اپنی پوری زندگی قرآن مجید میں غور وفکر اور تدبر و تفکر کرتے گزاری، قرآن مجید پڑھتے، قرآن کریم سوچتے، قرآن پاک بولتے، قرآن مجید ان کی وہ محبوب کتاب تھی، جس سے انہیں نئے نئے علوم کا انکشاف ہوتا، اس سے انہیں ایک نیا یقین، ایک نئی روشنی، اور ایک نئی قوت و توانائی حاصل ہوتی، جوں جوں انکا مطالعہ قرآن بڑھتا گیا، ان کی فکر میں بلندی اور ایمان میں زیادتی ہوتی گئی، اس لئے کہ قرآن کریم ہی ایک ایسی زندۂ جاوید کتاب ہے، جو انسان کو لدنی علم اور ابدی سعادت سے بہرہ ور کرتی ہے، وہ ایک ایسی شاہ کلید ہے کہ حیات انسانی کے شعبوں میں سے جس شعبہ پر بھی اسے لگائیے، فورا کھل جائے گا، وہ زندگی کا ایک واضح دستور اور ظلمتوں میں روشنی کا مینار ہے

13/05/2026

وہ تخلیقی عناصر جنہوں نے علامہ اقبال کی شخصیت کو بنایا، بڑھایا اور پروان چڑھایا مندرجہ ذیل ہیں
1- ایمان و یقین
یقین اقبال کا سب سے پہلا مربی اور مرشد ہے، اور یہی اس کی طاقت و قوت اور حکمت و فراست کا منبع و سر چشمہ ہے، لیکن اقبال کا وہ یقین و ایمان اس خشک جامد ایمان کی طرح نہیں ہے، جو بے جان تصدیق یا محض عقیدہ ہے، بلکہ اقبال کا یقین عقیدہ و محبت کا ایک حسین امتزاج ہے
جو اس کے قلب و وجدان، اس کی عقل و فکر، اس کے ارادہ وتصرف، اس کی دوستی اور دشمنی غرضیکہ اس کی ساری زندگی پر چھایا ہوا ہے
یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال اسلام اور اس کے پیغام کے بارے میں نہایت راسخ الایمان تھے، اور رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- کے ساتھ ان کی محبت، شغف اور ان کا اخلاص انتہا درجہ کا تھا
یہی وہ ایمان کامل اور حب صادق تھی، جس نے اقبال کے کلام میں جوش، ولولہ اور سوزو گداز پیدا کر دیا تھا، اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں گے، تو یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی، کہ دراصل رقت انگیز شعر، عمیق فکر، روشن حکمت، بلند معنویت، نمایاں شجاعت، نادر شخصیت اور عبقریت کا حقیقی منبع و سرچشمہ محبت و یقین ہی ہے
اقبال جب رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- کا تذکرہ کرتے ہیں، تو ان کا شعری وجدان جوش مارنے لگتا ہے، اور نعتیہ اشعار ابلنے لگتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے محبت و عقیدت کے چشمے پھوٹ پڑے ہوں

وہ دانائے سبل، ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادیٔ سینا
نگاہ عشق مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یسٰیں وہی طہٰ
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
عشق دم جرئیل ،عشق دلِ مصطفی
عشق خدا کا رسول ،عشق خدا کا پیغام

جوں جوں زندگی کے دن گزرتے گئے، اقبال کی رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- کے ساتھ والہانہ محبت والفت بڑھتی ہی گئی، یہاں تک کہ آخری عمر میں جب بھی ان کی مجلس میں رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- کا ذکر مبارک آتا، یا مدینہ کا تذکرہ ہوتا، تو اقبال بے قرار ہو جاتے، آنکھیں پر آب ہو جاتیں، یہاں تک کہ آنسو رواں ہو جاتے، یہی وہ گہری محبت تھی، جو ان کی زبان سے الہامی شعروں کو جاری کر دیتی تھی، چنانچہ رب کریم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں

مکن رسوا حضور خواجہ مارا
حساب من زچشم او نہاں گیر

مندرجہ ذیل نعتیہ اشعار کا اردو زبان میں مثل نہیں ہے
لوح بھی توُ، قلم بھی توُ، تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب
شوکت سنجرؒ، وسلیمؒ، تیرے جلال کی نمود
فقر جنیدؒ با یزیدؒ تیرا جمالِ بے نقاب
شوق تیرا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب

11/05/2026

1- "إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا"
2- "يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا"
3- "وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا"
ترجمہ
1- جب کافر تم پر تمہارے اوپر سے، اور تمہارے نیچے سے آئے، اور جب آنکھیں ٹھٹک کر رہ گئیں، اور دل گلوں کے پاس آگئے، اور تم الله پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے
2- جس دن ان کے چہرے آگ میں بار بار الٹے جائیں گے، تو کہتے ہوں گے: ہائے! اے کاش! ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا، اور رسول کا حکم مانا ہوتا
3- اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کے کہنے پر چلے، تو انہوں نے ہمیں راہ سے بھٹکا ديا

درج بالا تین آیات کریمہ میں، مندرجہ ذیل تین کلمات ایسے ہیں، جن میں سے ہر ایک کے اخر میں الف اضافی آیا ہے
1- الظنونا
2- الرسولا
3- السبيلا
اضافی اس لیے ہے، کہ درج بالا تینوں کلمات کا اختتام الف پر نہیں ہوتا، بلکہ نون، لام اور لام پر ہوتا ہے
بعض علماء کے نزدیک یہ الف فاصلہ کے تناسب کیلئے آیا ہے؛ کیونکہ سورۃ الاحزاب کی ہر آیت "الف" پہ مکمل ہوتی ہے، لہذا ان تین کلمات کے آخر میں بھی الف کا اضافہ کرکے تناسب برقرار رکھا گیا ہے
لیکن اگر ہم غور و فکر کریں، تو یہ بات سمجھ آتی ہے، کہ یہ "الف" صرف تناسب برقرار رکھنے کے لیے نہیں لائی گئی؛ کیونکہ اگر فواصل کے درمیان تناسب برقرار رکھنے کیلئے لائی گئی ہوتی، تو پھر مندرجہ ذیل آیت کریمہ میں بھی "الف" کا اضافہ کیا جانا چاہیے تھا؛ کیونکہ اس کا اختتام بھی الف کی بجائے لام پر ہو رہا ہے
"والله يقول الحق وهو يهدي السبيل"
درج بالا آیت کریمہ کے آخر میں الف کا اضافہ نہیں کیا گیا، پس ثابت ہوا کہ "الظنونا، الرسولا اور السبيلا" کے آخر میں بھی الف کا اضافہ فواصل میں تناسب پیدا کرنے کیلئے نہیں ہے، بلکہ کسی اور غرض کیلئے ہے، جو کہ مندرجہ ذیل ہے
درج بالا تین کلمات کے آخر میں الف کا اضافہ وساوس اور گمانوں کی کثرت و بہتات، اور اسی طرح شدت افسوس اور حسرت پر دلالت کرنے کیلئے ہے؛ کیونکہ عربی زبان کا مشہور قاعدہ ہے کہ الفاظ کی کثرت معانی و مفاہیم کی کثرت پر دلالت کرتا ہے
درج بالا تین کلمات میں سے اول الذکر "الظنونا" وساوس اور گمانوں کی بہتات پر کچھ اس طرح سے دلالت کر رہا ہے، کہ آیت کریمہ میں چونکہ غزوۂ احزاب کا تذکرہ ہے، جس کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے
مسلمانوں نے مدینہ کے اردگرد خندق کھودی ہوئی تھی، اور ایک ہی وقت میں وہ تین قسم کے دشمنوں سے نبرد آزما تھے
قریش سامنے سے مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہتے تھے، اور ان کے ساتھ قبیلہ بنو غطفان، قبیلہ بنو اسد اور دیگر قبائل کے لوگ بھی تھے، جن کیساتھ قریش مکہ کا معاہدہ تھا، جبکہ مسلمانوں کی صفوں کے پیچھے سے یہود حملہ کرنے کے لیے تیار تھے، اور مسلمانوں کی صفوں کے بیچ میں منافقین نے اپنی سازشوں کا بازار گرم کیا ہوا تھا
اس ساری صورتحال کو سامنے رکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے، کہ مسلمان جو تین طرف سے اپنے شدید دشمنوں کے نرغے میں تھے، ان کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی، اور کیسے کیسے خیالات و تصورات نے ان کو گھیرا ہوا ہوگا، اور کس بہتات سے وساوس کی آمد ہوتی ہوگی
جس پر لفظ "ظنون" بھی دلالت کر رہا ہے؛ کیونکہ "ظنون"، "ظن" مصدر کی جمع ہے، اور مصدر کا اطلاق جس طرح قلیل، تھوڑی چیز پر ہوتا ہے، اسی طرح کثیر، زیادہ چیز پر بھی ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کو آیت کریمہ میں انتہائی بہتات پر دلالت کرنے کیلئے جمع لایا گیا ہے، اس بہتات میں مزید اضافے کیلئے آخر میں "الف" بھی بڑھا دیا گیا ہے، مطلب مسلمانوں کے دلوں میں آنے والے وساوس انتہائ زیادہ تھے
مندرجہ ذیل آیت کریمہ سے بھی اسی کثرت وساوس کی منظر کشی ہو رہی ہے
"إذ جاؤوكم من فوقكم ومن أسفل منكم وإذ زاغت الأبصار۔۔۔۔"
درج بالا آیت کریمہ میں "زیغ الأبصار" سے مراد نظروں کا دائیں بائیں پھرنا
یاد رہے جب انسان شدید گھبراہٹ میں، اور اس کا دل سخت اضطراب میں ہوتا ہے، تو وہ اپنی نگاہوں کو دائیں بائیں پھیرتا ہے
اسی طرح "بلغت القلوب الحناجر" شدت خوف اور گھبراہٹ سے کنایہ ہے؛ کیونکہ عرب کا یہ اعتقاد تھا کہ انسان جب خوف کی انتہا پر ہوتا ہے، تو اس کا دل سکڑ کر حلق سے جا لگتا ہے؛ کیونکہ اس کے پھیپھڑے پھول جاتے ہیں، جس کی وجہ سے دل اوپر کو اٹھ جاتا ہے
ان وساوس میں سے مسلمانوں اور منافقین کے وسوسوں کی طرف مندرجہ ذیل دو آیات میں اشارہ بھی موجود ہے
"وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا"
اور جب کہنے لگے منافق اور جن کے دلوں میں روگ تھا، ہمیں اللہ و رسول نے وعدہ نہ دیا تھا مگر فریب کا
"وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَالْاَحْزَابَۙ-قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ٘-وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًا"
اور جب مسلمانوں نے لشکر دیکھے، تو کہنے لگے: یہ وہ ہے جس کا ہمیں الله اور اس کے رسول نے وعدہ دیا تھا، اور الله اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا اور اس بات نے ان کے ایمان اور الله کی رضا پر راضی ہونے کو اور زیادہ کردیا

اسی طرح "الرسولا اور السبیلا" میں بھی الف کا اضافہ اہل جہنم کی آہ و بکا، شدت ندامت حسرت اور تکلیف کے اظہار کیلئے ہے، گویا کہ "الرسولا" کے آخر میں الف کا اضافہ رونے والے کے رونے پر دلالت کر رہا ہے، جیسے رونے والا روتے ہوئے الفاظ کو کھینچتا اور لمبا کرتا ہے؛ بالکل اسی طرح کفار قیامت کے دن جہنم میں آہ و بکا کرتے ہوئے لفظ رسول اور سبیل پر تلفظ کرتے ہوئے آواز کو کھینچے گے، اور کہیں گے کہ کاش ہم رسول خدا کی نافرمانی نہ کرتے اور راہ ہدایت سے روگردانی نہ کرتے
درج بالا مفاہیم کی طرف ڈاکٹر محمد محمد ابوموسی اور علامہ فاضل السامرائی نے بھی اشارہ کیا ہے

ڈاکٹر حبيب اللہ خان

10/05/2026

تحويل قبلہ کا راز
مسجد عرب میں بنتی ہے، عرب میں کعبہ موجود تھا، جو صرف جاہلیت ہی میں نہیں بلکہ اسلام میں بھی محترم تھا، لیکن اس کے باوجود اس مسجد کا قبلہ عرب سے باہر فلسطین کے سلیمانی ہیکل کو کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟؟؟؟
انسانیت سمجھتی ہے، کہ صرف قبلہ مقرر ہوا، لیکن یہ کسی نے نہیں دیکھا کہ وطنیت/ عربیت کا جو بت عرب میں صدیوں سے پوجا جاتا تھا، اور اس زور و شور سے پوجا جاتا تھا، کہ اس بت کا پجاری اپنے سوا سب کو "عجم" گونگا سمجھتا تھا
دیکھو کہ صرف ایک اسی مخفی ضرب نے اس بت کو پاش پاش کر دیا
سترہ مہینے تک اس وطنیت شکنی کی مشق نے جب ان کیلئے عرب اور غیر عرب کو ایک بنا دیا، اور فرق مٹ گیا
تو قبلہ بدلتا ہے، کعبہ کو دنیا کی مسجد کی دیوار ٹھہرایا جاتا ہے، اور ساری زمین اس کا صحن قرار پاتی ہے
"جعلت لي الأرض مسجدا"

ڈاکٹر حبيب اللہ خان

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Islamabad
44000