28/08/2026
رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- کی ولادت و نبوت سے رب کریم کی عدالت کی وہ "آتشیں شریعت" کوہ فاران پر نمودار ہوئی، جس کی خبر سعیر کی چوٹیوں پر صاحب تورات کو دی گئی تھی
اور جو مظلومی کے آنسو بہانے، مسکینی کی آہیں نکالنے، ذلت و نامرادی سے ٹھکرائے جانے کیلئے دنیا میں نہیں آئی تھی، بلکہ اس لیے آئی تھی کہ اعداء حق وعدالت ناکامی کے آنسو بہائیں، دشمنان الہی مسکینی کیلئے چھوڑ دیے جائیں، ضلالت و شقاوت، نامرادی و ناکامی کی ذلت سے ٹھکرائی جائے، سچائی اور راستی کا عرش، عظمت و اجلال نصرت الہی کی کامرانیوں اور اقبال و فیروزی کی فتح مندیوں کے ساتھ تمام کائنات ارض میں اپنی جبروتیت و قدوسیت کا اعلان کرے
پس وہ رب کریم کے ہاتھوں کی چمکائی ہوئی ایک تلوار تھی، جس کی ہیبت و قہاریت نے باطل پرستی کی تمام طاقتوں کو لرزا دیا، دنیا کو کلمۂ حق کی بادشاہت اور دائمی فتح کی بشارت سنائی
"هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠"
وه خدا ہی ہے، جس نے اپنے رسول کو دنیا کی سعادت کے قیام اور ضلالت کی مقہوریت کیلئے دین حق کے ساتھ بھیجا؛ تاکہ وہ تمام دینوں پر اسے غالب کر دے
پس اس کی حقانیت کی طاقت ہی آخر میں دائمی اور عام فتح پانے والی ہے، اگرچہ مشرکوں پر ایسا ہونا بہت ہی شاق گزرے