Dr. Habib Ullah Khan

Dr. Habib Ullah Khan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr. Habib Ullah Khan, Educational consultant, Islamabad.

28/08/2026

رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- کی ولادت و نبوت سے رب کریم کی عدالت کی وہ "آتشیں شریعت" کوہ فاران پر نمودار ہوئی، جس کی خبر سعیر کی چوٹیوں پر صاحب تورات کو دی گئی تھی
اور جو مظلومی کے آنسو بہانے، مسکینی کی آہیں نکالنے، ذلت و نامرادی سے ٹھکرائے جانے کیلئے دنیا میں نہیں آئی تھی، بلکہ اس لیے آئی تھی کہ اعداء حق وعدالت ناکامی کے آنسو بہائیں، دشمنان الہی مسکینی کیلئے چھوڑ دیے جائیں، ضلالت و شقاوت، نامرادی و ناکامی کی ذلت سے ٹھکرائی جائے، سچائی اور راستی کا عرش، عظمت و اجلال نصرت الہی کی کامرانیوں اور اقبال و فیروزی کی فتح مندیوں کے ساتھ تمام کائنات ارض میں اپنی جبروتیت و قدوسیت کا اعلان کرے
پس وہ رب کریم کے ہاتھوں کی چمکائی ہوئی ایک تلوار تھی، جس کی ہیبت و قہاریت نے باطل پرستی کی تمام طاقتوں کو لرزا دیا، دنیا کو کلمۂ حق کی بادشاہت اور دائمی فتح کی بشارت سنائی
"هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠"
وه خدا ہی ہے، جس نے اپنے رسول کو دنیا کی سعادت کے قیام اور ضلالت کی مقہوریت کیلئے دین حق کے ساتھ بھیجا؛ تاکہ وہ تمام دینوں پر اسے غالب کر دے
پس اس کی حقانیت کی طاقت ہی آخر میں دائمی اور عام فتح پانے والی ہے، اگرچہ مشرکوں پر ایسا ہونا بہت ہی شاق گزرے

27/08/2026

رسول اکرم -صلی اللہ علیہ وسلم- جامع اخلاق ہیں

ہر نبی پر باوجود جامعیت اخلاق کے کسی ایک خلق کا غلبہ رہا ہے، جس سے اس نبی کا طبقۂ انبیاء میں امتیاز مانا گیا

جیسے حضرت آدم -علیہ السلام- پر گریہ وبکا کا غلبہ تھا
حضرت ایوب -علیہ السلام- پر صبر کا غلبہ تھا
حضرت داود -علیہ السلام- پر شکر کا غلبہ تھا
حضرت ابراہیم -علیہ السلام- پر تسلیم و رضا کا غلبہ تھا
حضرت عیسی -علیہ السلام- پر عبدیت کا غلبہ تھا
اور حضرت موسی -علیہ السلام- پر شدت و جلال کا غلبہ تھا، وغیرہ وغیرہ
لیکن نبی کریم -صلی اللہ علیہ وسلم- ان تمام اخلاق و کمالات کے جامع تھے، جس میں غلبہ اور مغلوبیت کی نسبت نہ تھی، بلکہ ہر خلق حد کمال کے ساتھ ایسے کمال اعتدال پر تھا کہ کسی خلق کو غالب اور دوسرے کو مغلوب نہیں کہہ سکتے،
آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کا شکر دیکھنا ہو تو "أفلا أكون عبدا شكورا" کے آئینہ میں دیکھو
آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کا صبر دیکھنا ہو تو "ما أوذي نبي ما أوذيت" کے پردہ میں دیکھو
آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کا گریۂ و بکا دیکھنا ہو تو "لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا" میں مشاہدہ کرو
آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کا تسلیم و توکل دیکھنا ہو تو "اللهم لك أسلمت وبك آمنت وإليك حاكمت وبك خاصمت وعليك توكلت وإليك أنبت" میں دیکھو
حب في اللہ دیکھنا ہو تو "رحمة للعالمين" کے خطاب میں مشاہدہ کرو
اور بغض فی اللہ کو دیکھنا ہو تو "نبی الملحمة" کے لقب میں دیکھو
غرض تمام اخلاق و کمالات حد کمال کے ساتھ، حد اعتدال پر قائم اور قلب مبارک میں ایک دم پورے غلبہ کے ساتھ جمع ہیں
جیسے قلب مبارک علوم اولین و آخرین کا جامع ہے، ایسے ہی اخلاق اولین و آخرین کا جامع بھی ہے؛ اسی لیے جہاں "إنما بعثت معلما" اپنی شان بیان فرمائی، وہیں "بعثت لأتمم مكارم الأخلاق" آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کی دوسری شان بتلائی گئی
ایک انتہائے علم پر دلالت کرتی ہے، جبکہ دوسری انتہائے اخلاق و عمل پر دلالت کرتی ہے

19/08/2026

عروس کائنات کی مانگ میں موتی بھر گئے

رات لیلة القدر بنی سنورى ہوئی نکلی، اور "خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ" کی بانسری بجاتی ہوئی ساری دنیا میں پھیل گئی
موکلان شب قدر نے "مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ سَلٰمٌ" کی سیجیں بچھا دیں، ملائیکان ملاء الأعلى نے "تَنَزَّلُ الْمَلائكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا" کی شہنائیاں شام سے بجانی شروع کر دیں
حوریں "بِاِذْنِ رَبِّهِمْۚ" کے پروانے ہاتھوں میں لے کر فردوس سے چل کھڑی ہوئیں، اور "هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠" کی میعادی اجازت نے فرشتگان مغرب کو دنیا میں آنے کی رخصت دے دی
تارے نکلے اور طلوع ماہتاب سے پہلے عروس کائنات کی مانگ میں موتی بھر کر غائب ہوگئے
چاند نکلا اور اس نے فضائے عالم کو اپنی نورانی ردائے سیمیں سے ڈھک دیا
آسمان کی گھومنے والی قوسیں آپ اپنے مرکز پر ٹھہر گئیں،
بروج نے سیاروں کے پاؤں میں کیلیں ٹھونک دیں، ہوا جنبش سے، افلاک گردش سے، زمین چکر سے اور دریا بہنے سے رک گئے

کارخانۂ قدرت کسی مقدس مہمان کا خیر مقدم کرنے کیلئے رات کے بعد اور صبح سے پہلے بالکل خاموش ہوگیا، انتظام و اہتمام کی تکان نے چاند کی آنکھوں کو جھپکا دیا، نسیم سحری کی آنکھیں جوش خواب سے بند ہونے لگیں
پھولوں میں نکہت، کلیوں میں خوشبو، کونپلوں میں مہک محو خواب ہوگئی
درختوں کے مشام خوشبوئے قدس سے ایسے مہکے کہ پتا پتا مخمور ہوکر سر بسجود ہوگیا، ناقوس نے مندروں میں بتوں کے سامنے سر جھکانے کے بہانے آنکھ جھپکائی، برہمن سجدے کے حیلے سربہ زمین ہوگیا
غرضیکہ کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اور قطرہ قطرہ ایک منٹ کیلئے غیر متحرک ہوگیا
اس کے بعد وہ لمحہ آگیا، جس کیلئے یہ سب انتظامات تھے فرشتوں کے پرے خوشیوں سے بھرے آسمانوں سے زمین پر اترنے لگے، اور دنیا کے جمود میں ایک بیدار انقلاب پوشیدہ طور پر کام کرتا ہوا نظر آنے لگا
ملہم غیب نے منادی کی کہ افضل البشر، خاتم الأنبیاء، سراپردۂ لاہوت سے عالم ناسوت میں تشریف لانے والے ہیں
رات نے کہا: میں نے شام سے یکساں انتظار کیا ہے، کہ اس گوہر رسالت کو میرے دامن میں ڈال دیا جائے
دن نے کہا: میرا رتبہ رات سے بلند ہے، مجھے کیوں محروم رکھا جائے، دونوں کی حسرتیں قابل نوازش نظر آئیں، کچھ حصہ دن کا لیا، کچھ رات کا
نور کے تڑکے نور علی نور کی نورانی آوازوں کے ساتھ دست قدرت نے دامن کائنات پر وہ لعل با بہار رکھ دیا، جس کے ایک سرسری جلوے سے دنیا بھر کے ظلمت کدے منور اور روشن ہوگئے، سر زمین حجاز جلوۂ حقیقت سے لبریز ہوگئی
دنیا جو سر و رو جمود کی کیفیت میں تھی اک دم متحرک نظر آنے لگی، پھولوں نے پہلو کھول دیے، کلیوں نے آنکھیں وا کیں، دریا بہنے لگے، ہوائیں چلنے لگیں، آتش کدوں کی آگ سرد ہوگئی، صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی، لات و منات، حبل و عزا کی توقیر پامال ہونے لگی،قیصر و کسری کے فلک بوس بروج گر کر پاش پاش ہوگئے
درختوں نے سجدۂ شکر سے سر اٹھایا، رات کچھ روٹھی ہوئی سی، چاند کچھ شرمایا ہوا سا، تارے نادم و محجوب ہوکر رخصت ہوئے، اور آفتاب شان و فخر کے ساتھ مسرت و مباہات کے اجالے لیے ہوئے کرنوں کے ہار ہاتھ میں، قندیل نور تھال میں، ہزاروں ناز وادا کے ساتھ افق مشرق سے نمایاں ہوا
حضرت عبد اللہ کے گھر میں، آمنہ کی گود میں، عبد المطلب کے گھرانے میں، ہاشم کے خاندان میں اور مکہ کے ایک مقدس مکان میں خلاصۂ کائنات، فخر موجودات، محبوب خدا، امام الأنبیاء، خاتم النبیین، رحمة للعالمین، حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی -صلی اللہ علیہ وسلم- تشریف فرمائے بصد عز وجلال ہوئے
کتنا مبارک تھا وہ دن، وہ ساعت، وہ لمحات، وہ شہر، وہ مکان، اور زمین کا وہ ٹکڑا جس میں رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- نے نزول اجلال فرمایا
خدا کی قسم آج بھی اور تاقیامت وہ دن، ساعت، لمحہ، شہر، مکان اور زمین کا ٹکڑا اپنی قسمت پر نازاں ہے اور رہے گا، فخر سے سر آسمان کو چھو رہے ہیں، اور باقی دن، ساعتیں، لمحات، شہر، مکانات اور زمین کے باقی حصے رشک سے دیکھتے ہوئے آنسو بہا رہے ہیں
"فتبارك الله أحسن الخالقين"

25/06/2026

رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- کا احترام

ایک جلیل القدر محدث سے پوچھا گیا کہ علم حدیث کا اس درجہ شوق کیوں ہے؟
تو انہوں نے جواب دیا
اس لیے کہ اس میں بار بار "قال رسول الله -صلی اللہ علیہ وسلم -" کا جملہ آتا ہے، اور اس طرح اس اسم گرامی کے ذکر اور اس پر درود و صلاة عرض کرنے کا موقعہ مل جاتا ہے
یہ نہ سمجھئے گا کہ محض قلبی محبت ہی کافی ہے، بلکہ رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- کی تعظیم اسمی بھی ایسے نصوص قطعیہ پر مبنی ہے، کہ کوئی قائل قرآن تو انکار کر ہی نہیں سکتا
جب بنی تمیم کا ایک وفد مدینہ منورہ آیا، تو رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- مکان میں تشریف رکھتے تھے، نادانوں نے دروازے سے آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کا اسم سامی لے لے کر پکارنا شروع کر دیا کہ "يا محمد -صلى الله عليه وسلم- اخرج إلينا"
رب کریم کو آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کے ساتھ اتنی گستاخی بھی گوارا نہیں ہوئی، اور ارشاد فرمایا
"إن الذين ينادونك من ورآء الحجرات أكثرهم لا يعقلون"
"ولو أنهم صبروا حتى تخرج إليهم لكان خيرا لهم والله غفور رحيم"
اے پیغمبر! جو لوگ تمہیں مکان کے باہر سے نام لے لے کر پکارتے ہیں، ان میں سے اکثر ایسے ہیں، جن کو مطلق عقل اور تمیز نہیں
بہتر تھا کہ وہ صبر کرتے اور جب تم باہر نکلتے تو مل لیتے
اس آیت کریمہ سے پہلے کی آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے
"يأيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي ولا تجهروا له بالقول كجهر بعضكم لبعض أن تحبط أعمالكم وأنتم لاتشعرون"
اے مسلمانو! جب رسول خدا -صلی اللہ علیہ وسلم- کے حضور میں عرض حال کرو، تو اپنی آوازوں کو ان کی آواز سے بلند کرکے گفتگو نہ کرو، اور نہ بہت زور سے بات چیت کرو، جیسا کہ تم آپس میں کرتے ہو، ایسا نہ ہو کہ اس گستاخی کے سبب سے تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں، اور تم کو خبر بھی نہ ہو
رب کریم کو اتنا بھی گوارا نہیں کہ آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کی جناب میں کوئی اونچی آواز سے گفتگو کرے، چہ جائیکہ تعظیم و تکریم کے بغیر نام لیا جائے
قرآن کریم کا مطالعہ کیجیے، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ رب کریم نے سب سے پہلے خود آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کے اس امتیاز تعظیمی کی شان کا نمونہ ہر جگہ قائم رکھا ہے
جس قدر انبیائے اولو العزم سے تخاطب قرآن کریم میں موجود ہے، جگہ جگہ آپ پائیں گے کہ ان کا اصلی نام اور علم لیکر انہیں پکارا گیا ہے
"يا آدم اسكن أنت وزوجك الجنة"
"وما تلك بيمينك يا موسى"
"يا داود إنا جعلناك خليفة في الأرض"
"يا زكريا إنا نبشرك بغلام اسمه يحيى"
"يا يحي خذ الكتاب بقوة"
"يعيسى إني متوفيك ورافعك إلي..."
درج بالا طریق تخاطب کے مطابق چاہیے تھا، کہ رب کریم آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کو بھی
یامحمد -صلى الله عليه وسلم-
یا أحمد -صلى الله عليه وسلم-
کہہ کر پکارتے، مگر رب کریم کو آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کا اس درجہ احترام کرنا مقصود تھا، کہ تمام قرآن کریم میں ایک جگہ بھی آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کو نام لیکر مخاطب نہیں کیا، بلکہ جہاں پکارا ہے، یا تو صدائے تعظیم و تکریم سے، مثلا
"ياأيها الرسول بلغ ما أنزل إليك"
"يا أيها النبي جاهد الكفار والمنافقين"
یا پھر صدائے محبت و عشق سے
"ياأيها المزمل"
"يا ايها المدثر"
وكل ما يفعله المحبوب محبوب
بہ طرا زندگی قامت موزوں نازم
یک قبا نیست کہ شایستہ اندام تو نیست
اور ظاہر ہے، کہ رب کریم آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کے نام کی عزت واحترام کی مثال کیوں نہ قائم کرتا، حالانکہ جس شہر کی خاک آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کے قدموں سے مس ہوئی ہے، اس کو تو وہ بھی محبوب ہے کہ اس کی قسم کھائی ہے
"لا أقسم بهذا البلد"
"وأنت حل بهذا البلد"
اے پیغمبر! ہم شہر مکہ کی قسم کھاتے ہیں، اور اس لیے کہ تم اس میں مقیم ہو
حقیقت یہ ہے، کہ دلی اعتقاد ایک بیج ہے، جو بغیر محبت کے بار آور نہیں ہوتا، اور محبت کیلئے احترام و تعظیم ناگزیر ہے
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- کی تعظیم و تکریم پر زور دیا گیا ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ
"تعزروه وتوقروه"
یعنی ان -صلی اللہ علیہ وسلم- کی تعظیم کرو، اور ان -صلی اللہ علیہ وسلم- کا احترام بجا لاؤ

ڈاکٹر حبیب اللہ خان

22/06/2026

فَـإِذَا رَدَدْتَ يَـدِي فَمَـنْ ذَا يَرحَـمُ!
رب کریم اگر تُو نے میرا ہاتھ جھٹک دیا، تو پھر کون مجھ پر رحم کرے گا!

ابو نواس کی توبہ، انابت، عاجزی، دعا، اور التجا پر مبنی اشعار بہت رقیق اور دل کو چھو لینے والے ہیں
جن کی حکایت مندرجہ ذیل ہے:
اسحاق التمار کہتے ہیں: "میں نے خواب میں ابو نواس کو دیکھا، اور پوچھا: اللہ -تعالیٰ- نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ہے؟
تو وہ گویا ہوئے: رب کریم نے مجھے معاف فرما دیا ہے! میں نے حیرت سے پوچھا: کیا آپ ابو نواس نہیں ہیں؟
جوابا کہا: جی ہاں وہی ہوں، لیکن رب کریم نے مجھے ان اشعار کی وجہ سے بخش دیا، جو میں نے مرض موت میں کہے تھے، اور پرچی پر لکھ کر اپنے سرہانے کے نیچے رکھ دیے تھے

اسحاق التمار فرماتے ہیں: میں صبح سویرے ان کے بیٹے کے پاس گیا، اور ان سے اس تحریر کے بارے میں پوچھا، وہ مجھے ابو نواس کے کمرے میں لے گیا
میں نے حصیر (چٹائی) کا کنارہ اُٹھایا، تو وہاں ایک رقعہ (پرچی) پڑی تھی، جس پر ابو نواس کے اپنے ہاتھ سے مندرجہ ذیل اشعار لکھے ہوئے تھے:
يَـارَبِِّ إنْ عَـظُمَـتْ ذُنُـوبِـي كَـثْـرَةً
فَلَـقَـد عَـلِـمْـتُ بِـأَنَّ عَـفْـوَكَ أَعْـظَـمُ
إِنْ كَـانَ لَا يَـرْجُـوكَ إِلَّا مُحْسِـنٌ
فَبِمَـنْ يَـلُـوذُ وَيَسْتَجِيـرُ المُجْـرِمُ؟
أَدعُـوكَ رَبِِّ كَـمَـا أمَـرْتَ تَضَرُّعــاً
فَـإِذَا رَدَدْتَ يَـدِي فَـمَـنْ ذَا يَـرحَـمُ؟
مَـالِـي إِلَـيْـكَ وَسِيلَـةٌ إِلَّا الـرَّجَــا
وَجَمِيـلُ عَـفْـوِكَ ثُـمَّ إِنِِّـي مُسْلِـمُ

ترجمہ:
اے میرے رب! اگرچہ میرے گناہ بہت زیادہ ہو گئے ہیں، لیکن مجھے خوب معلوم ہے، کہ تیرا معاف کرنا ان سب سے کہیں زیادہ ہے
اگر صرف نیک لوگ ہی آپ سے امید رکھ سکتے ہیں، اور آپ کی پناہ میں آ سکتے ہیں، تو پھر گناہگار کہاں جائے گا؟ اور کس کی پناہ لے گا؟!
میں آپ سے مکمل خشوع و خضوع اور عاجزی کے ساتھ دست بدعا ہوں، جیسا کہ آپ نے مجھے عاجزی کے ساتھ مانگنے کا حکم دیا ہے
پس اگر آپ نے آج میرا ہاتھ جھٹک دیا، تو پھر مجھ پر کون رحم کرے گا؟
آپ کے در کے سوا تو کوئی در ہی نہیں جہاں میں جاؤں، اور سوالی بن کر اپنی بات منوا لوں!
اور میرے پاس تیرے حضور سوائے مندرجہ ذیل تین چیزوں کے سوا کوئی وسیلہ اور سفارش نہیں ہے
1- امید
2- رب کریم آپ کا عفو و درگزر
3- اور یہ کہ میں مسلمان ہوں

ڈاکٹر حبیب اللہ خان

20/06/2026

واقعہ معراج حقیقت میں شعب ابی طالب کے دکھوں، مصیبتوں اور تکلیفوں کا مداوا تھا
شعب ابی طالب میں افضل البشر کو اتنی تکلیفیں دی گئیں، کہ ان کو بیان کرتے ہوئے الفاظ بھی لرز اٹھتے ہیں
لیکن چونکہ باطن کو ظاہر کرکے دکھانا تھا؛ اس لیے چھوڑ دیا گیا تھا؛ تاکہ کریدنے والے جہاں تک ممکن ہو، کریدیں، وہ مسل رہے تھے، رگڑ رہے تھے، انگلیاں ڈال ڈال کر ٹٹول رہے تھے، کہ جو کچھ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیا اندر میں کچھ بھی کہیں بھی اس کے سوا کچھ ہے؟
تجربے کرنے والوں کیلئے تجربے کے سارے سازو سامان، تمام آلات اور اوزار، ایک ایک کرکے مہیا کردیے گئے تھے، کہ آئندہ ان ہی کو گواہی دینی تھی، ان ہی کو دنیا کے آگے فرض شہادت ادا کرنی تھی
یہاں دنیا کی ہر چیز سے جدا کئے گئے تھے، جو فطرتا دنیا اور دنیا والوں سے کچھ جدا ہی جدا سا تھا، جب قصدا بھی اس کو جدا کیا گیا، اور ایسے سخت دباؤ ڈال ڈال کر جدا کیا گیا
سمجھا جا سکتا ہے کہ کائنات سے جدائی کی اس رفتار نے آخر کسی دوسری جانب ارتقاء کی کتنی منزلیں طے کی ہونگی!!!!
کس قدر عجیب بات ہے کہ جو یہ نہیں جانتے کہ عالم کیا ہے؟
انسان کیا ہے؟ اور دونوں کا بنانے والا کیا ہے؟ عالم انسان میں ہے؟ یا انسان عالم میں ہے؟
جن پر آج تک یہ معمہ نہیں کھلا کہ خالق عرش پر بھی ہے، اور جس کو خلیفہ و آدمی کہتے ہیں، وہی جس میں خالق کی روح پھونکی گئی ہے، اس کی گردن کی ورید کے پاس بھی عرش ہی والا خالق ہے
جو نہ روح کو جانتے ہیں، اور نہ جسم کو، وہی باہم ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں، کہ کیا یہ واقعہ روح کے ساتھ پیش آیا، یا جسم کے ساتھ؟
جسم کے ساتھ پیش آیا تو کیا؟
روح کیساتھ پیش آیا تو کیا؟
جن کی سمجھ میں دونوں پہلوؤں میں سے ایک پہلو بھی نہیں آتا
وہ ان دو شقوں سے ایک کا تعین آخر کس بنیاد پر کرتے ہیں؟
خدا کے بندو
یہ ارتقاء کے منازل تھے
ایک طرف تین سال تک انسانیت کے نام پر دھبہ لوگوں سے افضل البشر کو جدا کرکے دشمنان خدا شیخیاں بگھار رہتے تھے، تو دوسری طرف رب کریم نے اپنے محبوب کو امامت کبری کی زندگی دکھائی، اور اقصی کی مسجد میں انسانیت کی شان اور آن سارے پیغمبر اس امام کے پیچھے کھڑے نظر آئے، جو نوع انسان کا سب سے بڑا امام ہے
واہ کیا معراج ہے!!!!!!
اللہ کی راہ میں جان جوکھوں میں ڈالنے والا رسول خدا چشم زدن میں عرش پر پہنچا، جہاں قسام ازل مئے محبت باندازہ جام دیتی ہے
یاد رہے جب تک راہ حق میں سعی و عمل کی ناکامیاں شیشہ دل کو چور چور نہ کریں، اس رفعت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، جس کا نام معراج ہے

ڈاکٹر حبیب اللہ خان

20/06/2026

"زندگی کی سب سے بڑی محرومی یہ ہے، کہ انسان کا دل مردہ ہو جائے، اور وہ اس زندہ دنیا میں اس طرح سانس لے جیسے کوئی لاش حرکت کر رہی ہو
دل کا زندہ ہونا یہ ہے، کہ وہ کائنات کے ذرے ذرے میں زندگی کی تپش محسوس کرے، حسن کو دیکھے تو والہانہ جھک جائے، سچائی کو پائے تو اس کا طواف کرے، اور محبت کی شمع روشن ہو تو خود کو پروانہ وار نثار کر دے
میں نے دنیا کے ہنگاموں میں بھی تنہائی کا اک سکون پایا ہے، اور اس قید خانے کی دیواروں کے پیچھے بھی میری روح اتنی ہی آزاد ہے، جتنی کہ فضا میں اڑتے ہوئے پرندے، یہ سارا کھیل اس شعور اور احساس کا ہے، جو انسان اپنے اندر پالتا ہے
اگر دل میں روشنی ہو تو باہر کی تاریکی خود بخود دم توڑ دیتی ہے، اور اگر اندر اندھیرا ہو تو سورج کی تپش بھی روح کو نہیں گرما سکتی"

غبارِ خاطر || مولانا ابوالکلام آزاد

13/06/2026

سیرت نبوی -صلی اللہ علیہ وسلم- کا مقام

حافظ ابن کثیر اپنی تاریخ کبیر "البدایہ والنہایہ" میں شیخ عماد الدین واسطی کے متعلق لکھتے ہیں، کہ ابتداء میں ان کا مسلک دوسرا تھا، لیکن پھر دوسرا رنگ چڑھ گیا
ان کی نشوونما متکلمین کی جماعت میں ہوئی تھی؛ اس لیے ان پر جدل و خلاف کا اثر غالب تھا
مصر سے بغداد گئے تو وہاں خیالات میں توسیع ہوئی، اپنی حالت کا محاسبہ کیا تو یقین و اطمینان سے دل کو خالی پایا، نتیجہ یہ نکلا کہ متکلمین کے طریق سے دل برداشتہ ہوگئے
تصوف کی طرف توجہ ہوئی، لیکن عام متصوفین کا جو رنگ ڈھنگ نظر آیا، اس سے طبیعت اور زیادہ مکدر ہوگئی
بالآخر دمشق آئے اور امام ابن تیمیہ -رحمہ اللہ- کی صحبت میں داخل ہوگئے
خود ان کا بیان ہے کہ میں دمشق پہنچا تو امام ابن تیمیہ -رحمہ اللہ- سے بھی ملا
کہتے ہیں کہ جب پہلی مرتبہ ان کے درس میں حاضر ہوا، تو عجیب اتفاق ہے کہ علم کلام کے متعلق گفتگو ہو رہی تھی، اور امام ابن تیمیہ -رحمہ اللہ- فرما رہے تھے
"دنیا میں متکلمین و فلاسفہ سے بڑھ کر مضطرب و محروم اور اطمینان قلب و سرور روح کی لذت سے یک قلم نا آشنا اور کوئی گروہ نہیں"
پھر مشاہیر فلاسفۂ قدماء اور ارباب مقالات کے چند اقوال سنائے، جن میں انہوں نے خود اپنے وجود پر مجہولیت و نامرادی اور بدحالی و بے بصیرتی کی شہادت دی تھی
الغرض شیخ فرماتے ہیں، کہ ایک ہی صحبت میں شکوک و اضطراب کے سارے پردے اٹھ گئے، اور میرے دل نے حلاوت ایقان و لذت طمانینت پالی، اور پھر جب امام ابن تیمیہ -رحمہ اللہ- میرے حالات سے آگاہ ہوئے، تو مجھے وصیت کی
"ساری چیزیں چھوڑ کر صرف سیرت نبویہ -صلی اللہ علیہ وسلم- کے مطالعے اور تدبر و فکر کو اپنے اوپر لازم ٹھہرا لو، یقین اور ایمان کی تمام بیماریوں کیلئے یہی نسخۂ شفا ہے"
چنانچہ میں نے اسی کو حرز جاں بنا لیا، اور جو کچھ پایا اسی کے وسیلے سے پایا

ڈاکٹر حبیب اللہ خان

10/06/2026

پانچواں اور آخری عنصر جس نے اقبال کی شخصیت کی تخلیق میں اہم حصہ لیا ہے، وہ مولانا جلال الدین رومی کی "مثنوی معنوی" ہے، یہ کتاب مولانا رومی کی مشہور مثنوی ہے، جو فارسی زبان میں وجدانی تاثر اور اندرونی شدت کی بنا پر لکھی گئی ہے، دراصل یونانی فلسفۂ عقلیات مولانا رومی کے دور میں جس طرح چھا چکا تھا، اور کلامی مباحث خشک فلسفیانہ موشگافیاں مسلمانوں کے ذہنوں، دینی مدرسوں، اور علمی اداروں میں جس طرح سرایت کر چکی تھیں، اس سے ہٹ کر کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا تھا
اس صورت حال سے متاثر ہوکر مولانا روم نے مثنوی لکھنی شروع کی، جو اپنے اندر قوت حیات کے ساتھ ساتھ ادبی بلندی، معانی کی جدت، حکیمانہ مثالوں اور نکتوں کے بیش بہا خزینے سمیٹے ہوئے ہے، اس کتاب نے اس دور سے لے کر آج تک ہزاروں انسانوں کو متاثر کیا ہے، ان کے قلب ونظر میں تبدیلی پیدا کی ہے
اسلامی کتب خانے میں اپنے انداز پر یہ ایک بے نظیر و بے مثال کتاب ہے، اس دور جدید میں، جبکہ اقبال کو یورپ کے مادی و عقلی، بے روح و بےخدا افکار و خیالات سے واسطہ پڑا
اور مادہ و روح کی کشمکش اپنے پورے عروج کے ساتھ سامنے آئی، تو اس قلبی اضطراب اور فکری انتشار کے موقع پر اقبال نے مولانا روم کی مثنوی سے مدد لی، اس کشمکش میں مولانا روم نے ان کو بہت کچھ سہارا دیا، یہاں تک کہ اقبال نے پیرروم کو اپنا کامل رہنما تسلیم کر لیا، اور صاف صاف اعلان کر دیا کہ عقل و خرد کی ساری گتھیاں جسے یورپ کی مادیت نے الجھا دیا ہے، اس کا حل صرف آتش رومی کے سوز میں پنہاں ہے، اور میری نگاہ فکر اسی کے فیض سے روشن ہے، اور آج یہ اسی کا احسان ہے کہ میرے چھوٹے سے سبو میں فکر و نظر کا ایک بحر ذخار پوشیدہ ہے

علاج آتش رومی کے سوز میں ہے تیرا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں
اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن
اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں
مولانا رومی سے اپنی اس محبت و عقیدت کا اظہار اقبال نے بار بار کیا ہے، اور انہیں ہمیشہ پیر روم کے نام سے یاد کرتے ہیں
صحبت پیر روم نے مجھ پہ کیا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سر بجیب، ایک کلیم سر بکف
اقبال بیسویں صدی کے خالص صنعتی و مادی دور میں پھر کسی رومی کے منتظر ہیں، ان کے نزدیک مادیت کا رنگ عشق کی بھٹی ہی میں صاف ہو سکتا ہے، اور اس کیلئے آتش رومی کی ضرورت ہے
نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب وگل ایراں، وہ تبریز ہے ساقی

ڈاکٹر حبیب اللہ خان

06/06/2026

چوتھا عنصر جس نے اقبال کی شخصیت کو بنایا، پروان چڑھایا، اور اس کی شاعری کو نت نئے معانی و افکار کی جولانی اور قوت تاثیر عطا کی، ان میں کتابوں کی درس و تدریس اور مطالعہ کے شوق و انہماک کا کوئی دخل نہیں ہے، بلکہ اقبال کی آہ سحر گاہی اس کا اصل سر چشمہ ہے
جب سارا عالم خواب غفلت میں پڑا سوتا رہتا، اس اخیر شب میں اقبال کا اٹھنا اور اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو جانا، پھر گڑ گڑانا اور رونا، یہی چیز تھی، جو اسکی روح کو ایک نئی نشاط، اسکے قلب کو ایک نئی روشنی، اور اس کو ایک نئی فکری غذا عطا کرتی
پھر وہ ہر دن اپنے دوستوں اور پڑھنے والوں کے سامنے ایک نیا شعر پیش کرتا، جو انسانوں کو ایک نئی قوت، ایک نئی روشنی، اور ایک نئی زندگی عطا کرتا
اقبال کے نزدیک آہ سحر گاہی زندگی کا بہت ہی عزیز سرمایہ ہے، بڑے سے بڑے عالم و زاہد اور حکیم و مفکر اس سے مستغنی نہیں، چنانچہ فرماتے ہیں
عطار ہو رومی ہو رازی ہو غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی
اقبال علی الصبح اٹھنے کا بہت اہتمام کرتے تھے، سفر و حضر ہر مقام اور ہر کہیں ان کیلئے سحر خیزی ضروری تھی
زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر خیزی
اور صرف یہیں تک نہیں بلکہ اس کی تمنا بھی کرتے ہیں، کہ خداوند مجھ سے تو جو چاہے چھین لے، لیکن لذت آہ سحر گاہی سے مجھے محروم نہ کر
نہ چھین لذت آہ سحر گہی مجھ سے
نہ کر نگہ سے تغافل کو التفات آمیز
یہی وجہ تھی کہ وہ جوانوں میں اپنی اس آہ وسوز، اور درد وتپش کو دیکھنے کی تمنا کرتے تھے، اور دعائیں کرتے کہ خداوندا یہ میرا سوز جگر اور میرا عشق و نظر آج کل کے مسلم نوجوان کو بخشدے
جوانوں کو سوز جگر بخشدے
مرا عشق، میری نظر بخشدے
اسی بات کو ایک دوسری نظم میں اس طرح فرماتے ہیں
جوانوں کو مری آہ سحر دے
تو ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نور بصیرت عام کردے

ڈاکٹر حبیب اللہ خان

Address

Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Habib Ullah Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Dr. Habib Ullah Khan:

Shortcuts

Share