Zahid Abbasi Writes

Zahid Abbasi Writes

Share

Intellectual Person

05/12/2025

نیا کی سب سے بہترین تصویر
#فوٹوگرافی کی تاریخ
⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️
اس نے دو اہم اصولوں کو دریافت کرکے شروع کیا: پہلا کیمرے کی ڈارک تصویر گرانا، اور دوسرا یہ کہ دریافت کرنا کہ روشنی کی نمائش کی وجہ سے کچھ مواد واضح طور پر تبدیل کردیا گیا ہے[2]۔ کوئی نمونے یا وضاحت اٹھارویں صدی سے پہلے کے ہلکے حساس مواد کی تصویر کشی کرنے کی کسی بھی کوشش کی نشاندہی نہیں کرتی ہے۔
لی گراسس 1826 یا 1827 کی کھڑکی سے منظر ، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سب سے قدیم زندہ بچ جانے والی کیمرہ تصویر ہے۔ [1] اصل (بائیں) اور رنگین (دائیں) ری ڈائریکشن کی بہتری۔
1717 کے قریب، جوہان ہینرچ سکولزی نے ہلکی حساس مٹی کا استعمال کرتے ہوئے بوتل پر کٹ خطوط کی تصاویر کھینچیں۔ تاہم، اس نے ان نتائج کو مستقل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے. 1800 کے قریب ، تھامس ویڈگووڈ نے کیمرہ کی تصاویر کو مستقل شکل میں کیپچر کرنے کی ناکام کوشش کے باوجود پہلی قابل اعتماد دستاویز بنائی۔ ان کے تجربات میں تفصیلی تصاویر آئیں، لیکن ووڈ اور ان کے معاون ہمفری ڈیوی کو ان تصاویر کو درست کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ملا۔
1826 میں ، نیکپس نے سب سے پہلے کیمرے سے لی گئی تصویر کی مرمت کی ، لیکن کیمرے کی نمائش کے کم از کم آٹھ گھنٹے یا اس سے بھی کئی دن درکار تھے اور ابتدائی نتائج کافی خطرناک تھے۔ نپسی ایسوسی ایٹ لوئس ڈاگوری نے پہلا تجارتی طور پر اشتہار دیا فوٹو گرافی آپریشن ڈاگوریوٹائپ تیار کرنے کے لئے آگے بڑھا ہے۔ ڈگوریوٹی ماڈل نے کیمرے کی نمائش کے صرف چند منٹ لگے ، جس میں واضح اور درست نتائج سامنے آئے۔ 2 اگست 1839 کو ڈگویئر نے پیرس میں پیرس کے کمرے کے آپریشن کی تفصیلات بتائیں۔ 19 اگست کو قصر المہد میں اکیڈمی آف سائنسز اور اکیڈمی آف فائن آرٹس کے اجلاس میں فنکارانہ تفصیلات شائع کی گئیں (عوام کو ایجادات کے حقوق دلانے کے لئے خنجر اور نیب کو سالانہ فراخ زندگی کا تحفہ دیا گیا) )[3][4][5] جب دھات کے پیٹرن کا عمل سرکاری طور پر عوام کو دکھایا گیا تو یہ حریف کا نقطہ نظر تھا

05/05/2023
21/04/2023

.





21/04/2023

.





25/02/2023

پاکستان میں دو لوگ بڑے اطمینان سے ہیں‘ غریب اور امیر……
یہ جو درمیان والے ”مڈل کلاسیئے“ ہیں صحیح بیڑا ان کا غرق ہوتاہے
یہ رکھ رکھاؤسے لگ بھگ امیر لگتے ہیں لیکن حالت یہ ہوتی ہے کہ گھر میں آئے روز اس وجہ سے لڑائیاں ہوتی ہے کہ گھی اتنی جلدی کیسے ختم ہوگیا
ہمارے ہاں قابل رحم اور قابل نفرت بھی دو ہی طبقات ہیں‘ امیر اور غریب۔امیر قابل نفرت ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ ہے اور غریب قابل رحم ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ نہیں۔
پاکستان کا بجٹ بھی انہی دو طبقات کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتاہے‘ گورنمنٹ بھی انہی دو طبقات پر نظر رکھتی ہے۔درمیان میں جو سینڈوچ بنتا ہے وہ بیچارا مڈل کلاس ہے۔امیر لوگ اسے غریب سمجھتے ہیں اور غریب لوگ امیر۔
یہ مڈل کلاسیاکون ہوتاہے؟
یہ وہ ہوتا ہے جس کے پاس بظاہر امیروں والی ہر چیز ہوتی ہے لیکن سیکنڈ ہینڈ۔
اس کے پاس نسبتاً بہترگھر ہوتاہے لیکن کرائے کا۔
گاڑی ہوتی ہے لیکن بیس سال پرانی۔
گھر میں اے سی ہوتاہے لیکن عموماً چلتا ائیر کولر ہی ہے۔
کپڑے صاف ہوتے ہیں لیکن چلتے کئی کئی سال ہیں۔
گھرمیں یو پی ایس ہوتاہے لیکن اس کی بیٹری عموماً آدھا گھنٹہ ہی نکالتی ہے۔
اس کے پاس اچھا موبائل بھی ہوتاہے لیکن استعمال شدہ۔
اس کے گھر میں ہر ہفتے پتلے شوربے والی مُرغی بنتی ہے۔
یہ اپنے بچوں کو پارک میں سیرو تفریح کے لیے لے کر جائے تو عموماً گھر سے اچھی طرح کھانا کھا کر نکلتاہے۔
اس کے پاس اے ٹی ایم کارڈ تو ہوتا ہے لیکن کبھی پانچ سو سے زیادہ نکلوانے کی نہ ضرورت پڑتی ہے نہ ہمت۔
یہ دن رات کوئی ایسا بزنس کرنے کے منصوبے بناتا ہے جس میں کوئی خرچہ نہ کرنا پڑے۔
اِس کی گاڑی صرف سردیوں میں بڑے کمال کی کولنگ کرتی ہے۔
یہ جب بھی اپنے بیوی بچوں کو لے کر کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ جاتا ہے چھ افراد کی ساری فیملی دو برگرز میں ہی بھگت جاتی ہے۔
یہ اگرظاہرکرے کہ میرے پاس بہت پیسہ ہے تو رشتے دار ادھار مانگنے آجاتے ہیں‘ نہ بتائے تو کوئی منہ نہیں لگاتا۔
یہ اپنی اوقات سے صرف 20فیصد اونچی زندگی گذارنے کی کوشش میں پستا رہتا ہے۔
اصل میں یہ غریبوں سے بھی بدتر زندگی گذار رہا ہوتا ہے۔
اس کی ساری زندگی کمیٹیاں ڈالنے اور بھگتانے میں گذر جاتی ہے۔
پاکستان میں امیروں اور غریبوں سے کہیں زیادہ تعدادمڈل کلاسیوں کی ہے لیکن یہ کسی کھاتے میں شمار نہیں ہوتے۔
ہمارے ہاں ہر وہ بندہ مزے میں ہے جس کے پاس بہت سارا پیسہ ہے یا بالکل نہیں ہے۔
جس کے پاس پیسہ ہے وہ اے سی میں سوجاتاہے۔ جس کے پاس نہیں وہ کسی فٹ پاتھ پر نیند پوری کرلیتاہے۔ پیسے والا کسی سے کچھ نہیں مانگتااور غریب ہر کسی کے آگے ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہوجاتاہے۔رگڑا اُس کو لگتاہے جس کے پاس پیسہ تو ہے لیکن صرف گذارے لائق۔
غریبوں کی اکثریت کو یہ مڈل کلاسیے ہی پال رہے ہیں۔
کبھی کبھی تو مجھے لگتاہے کہ سب سے زیادہ خوف خدا بھی اِس مڈل کلاس میں ہی پایا جاتاہے۔ یہی کلاس سب سے زیادہ خیرات کرتی ہے۔ بعض اوقات تو ان کی اپنی زندگی غریب سے بھی بدتر گذر رہی ہوتی ہے لیکن انا کے مارے یہ بیچارے کسی کو بتاتے نہیں۔
آپ نے کبھی لوئر ایلیٹ کلاس یا اپر ایلیٹ کلاس کی ٹرم نہیں سنی ہوگی۔لوئر غریب یا اپر غریب بھی نہیں ہوتا صرف لوئر مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کے الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔
لوئر اور اپر میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا‘ لوئر والے کے پاس موٹر سائیکل ہوتی ہے اور اپر والے کے پاس پرانے ماڈل کی کار۔نیندیں دونوں کی اڑی رہتی ہیں۔
یہ عیدالاضحی پر قربانی کی استطاعت نہ رکھنے کے باوجود کسی اونٹ یا گائے میں حصہ ڈال لیتے ہیں۔
ان کی ساری زندگی گھر کی فالتو لائٹس آف کرنے اور بل کم کرنے کے منصوبے بناتے گذر جاتی ہے۔
یہ موبائل میں سو روپے والا کارڈ بھی پوری احتیاط سے استعمال کرتے ہیں اور گھر والوں کو آگاہ کیا ہوتاہے کہ ایک مسڈ کال دوں تو اس کا مطلب ہے میں آرہا ہوں۔ دو مسڈ کال دوں تو مطلب ہے میں ذرا لیٹ ہوں۔
یہ ایک دن کے استری کیے ہوئے کپڑے دو دن چلاتے ہیں۔
یہ ہر دو گھنٹے بعد شک دور کرنے کے لیے بجلی کے میٹرکی ریڈنگ چیک کرتے رہتے ہیں۔
یہ کبھی بھی اس قابل نہیں ہوپاتے کہ ایک ہی مہینے میں بجلی، گیس اور پانی کے سارے بل اکٹھے ادا کرسکیں لہذا بجلی کا بل ادا کردیں تو گیس کا بل اگلے مہینے پر ڈال دیتے ہیں۔
ان کی اکثریت چونکہ پڑھی لکھی بھی ہوتی ہے لہذا کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتی۔
ان کے پاس بیٹیوں کی شادی کرنے کے پیسے نہیں ہوتے‘اولاد کے لیے اچھی نوکری کی سفارش نہیں ہوتی اس کے باوجود یہ کسی کو دکھ میں دیکھتے ہیں تو خود بھی آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔
ان کی گھر کام کرنے والی غریب ماسی چونکہ دیگرمختلف گھروں میں کام کرتی ہے اس لیے رمضان میں ہر گھر سے راشن کے نام پر لگ بھگ پچاس کلو آٹے سمیت چار پانچ ماہ کا راشن اکٹھا کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ لیکن مڈل کلاسئے پریشان رہتے ہیں کہ اپنے گھر کے لیے جو پندرہ دن کا راشن لائے تھے وہ ختم ہونے کے قریب ہے اور تنخواہ ملنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔
لیکن مڈل کلاسیا کیا کرے؟
یہ نہ زکوٰۃ مانگتا ہے‘ نہ فطرہ نہ بھیک۔یہ صرف کڑھتا ہے، سسکتا ہے اورمرتا ہے.

08/02/2023

میچورٹی مطلب سمجھداری اور باشعور ہونے کے ہیں۔ لیکن یہ سمجھداری اور باشعور ہونا یہ نہیں کہ آپ بڑی بڑی باتیں کرنے لگ جائیں بلکہ میچورٹی تو یہ ہے کہ آپ چھوٹی چھوٹی باتوں کو سمجھنا شروع کر دیں۔ اسی طرح بڑا انسان وہ نہیں ہے جو کامیاب ہو جس کا اسٹیٹس ہائی فائی ہو یا پھر جس کے آگے پیچھے لوگوں کی لائنیں لگیں ہوں، بڑا انسان تو وہ ہے جو لوگ کو برداشت بھی کر سکے۔ دوسروں کی اچھی باتیں اور اچھے عمل تو سب کو ہی بھاتے ہیں جو کھلے دل سے دوسروں کی اچھائیوں کو نا صرف سراہے بلکہ دوسروں کی کمیوں، کوتاہیوں اور خامیوں کو درگزر کرنے کا ہنر بھی جانتا ہو اور وہی انسان دراصل مچیورٹی کی اعلیٰ سطح پہ بھی فائز ہوتا ہے۔ ہر انسان کی سوچ اور مزاج ایک سا نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر انسان دوسرے انسان سے مختلف مزاج اور سوچ کا مالک ہوتا ہے۔ کوئی گرم مزاج کا ہے تو کوئی ٹھنڈے مزاج کا ہوتا اور کوئی نرم مزاج رکھتا، کوئی زیادہ بولتا تو کوئی خاموش رہنا پسند کرتا، کوئی ہنس مکھ اور زندہ دل ہے تو کوئی سنجیدہ طبیعت کا ہوتا۔ دو الگ مزاج رکھنے والے تو شاید ساتھ رہ کر اچھی اور کامیاب زندگی گزار سکیں لیکن دو مختلف سوچ کے لوگوں کا ایک ہی ڈائریکشن میں چل کر ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتا ہے۔ مختلف مزاج کے لوگوں کو وہی ساتھ لے کر چل سکتے ہیں جو دوسروں کے مزاج کو سمجھ سکتے ہیں اور دوسروں کے مزاج کو سمجھنے کے لئے سوچ کا مثبت ہونا ضروری ہے جس انسان کی سوچ اچھی ہوگی تو اس کی سمجھ بھی اچھی ہوگی اور جس کی سمجھ اچھی ہوگی اس کا عمل بھی بہترین ہوگا۔

03/02/2023

خود کو فوری طور پر اعتماد(confident) بنانے کے پانچ نفسیاتی طریقے۔

پر اعتماد ہونا کوئی پیدائشی خوبی نہیں ہے جس کے ساتھ آپ پیدا ہوتے ہیں۔ بالکل یہ آپ کے جسم میں پٹھوں کی طرح وہ چیز ہے جو ہم مسلسل تجربے اور مشق کے ساتھ ہر روز بناتے اور سیکھتے ہیں۔

اپنی ذات میں اعتماد پیدا کرنے کے کئی طریقے ہیں، جیسے کہ اپنی خوبیوں کو جاننا اور مثبت سوچ پر عمل کرنا۔

بعض اوقات ہم اچانک آ جانے والی صورت حال میں اپنا کانفیڈنس کم کر بیٹھتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے سامنے فوری طور پر زیادہ پراعتماد نظر آنے اور محسوس کرنے کے لیے میں کچھ Psychological Tricks شیر کر رہی ہوں۔

1: خود سے متعلق منفی عقائد کو چیلنج کریں۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم بنا سوچے سمجھے چھوٹی سی صلاحیت کی کمی کو اپنی بہت بڑی خامی سمجھ بیٹھتے ہیں۔آپ اپنے بارے میں جو منفی عقائد رکھتے ہیں ان کو تبدیل کرکے چیلنج کریں۔ آپ اپنے آپ کو کم فکر مند اور زیادہ تیار محسوس کریں گے۔

2: 'مجھے لگتا ہے' یا 'مجھے یقین نہیں ہے' نہ کہیں۔

دوسروں سے بات کرتے وقت، "مجھے لگتا ہے" یا "مجھے یقین نہیں ہے" کے ساتھ جملے شروع کرنے یا ختم کرنے سے گریز کریں۔ اس کی بجائے، "مجھے یقین ہے" کا استعمال کریں، جو آپ کی سوچ کو ذمہ دار بناتا ہے اور ایک پرسکون ضمانت دیتا ہے۔
یاد رکھیں! جو آپ کو لگتا ہے۔ وہ الگ ہے، اور جو حقیقت میں ہوتا ہے وہ الگ ہے۔ جو لگتا ہے وہ اکثر غلط ہو سکتا ہے اور اکثر لوگ صرف مجھے لگتا ہے، کی بنیاد پر اپنا کانفیڈنس کم کر بیٹھتے ہیں۔

3: وہ وقت یاد رکھیں جب آپ بہت زیادہ کانفیڈنس محسوس کر رہے تھے۔

اس سے پہلے کہ آپ کوئی ایسا کام کریں جس سے آپ گھبراہٹ محسوس کرتے ہوں، ایک Imagination کریں جس میں آپ پچھلے تجربے کو دوبارہ چلائیں جہاں آپ کے پاس توانائی، توجہ اور کامیابی کی بہترین سطح تھی۔
اس مثبت توانائی اور اعتماد کو اپنے ساتھ موجودہ صورتحال کی طرف لے جائیں۔

4: سوشل میڈیا سے دور رہیں۔

سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنا اور اپنے آپ کو دوسروں سے موازنہ کرنا بہت آسان ہے۔ لیکن یاد رکھیں، جو پوسٹس یا ویڈیوز آپ دیکھتے ہیں وہ ہمیشہ حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔ کسی کی زندگی کامل نہیں ہوتی۔
اعتماد اپنے آپ پر، اپنی صلاحیتوں اور آپ اپنے ذاتی سفر میں کہاں ہیں، اس پر یقین کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اپنے آپ کا ان لوگوں سے موازنہ کرنا جو اپنی زندگی میں صرف "گلیمرس" چیزیں بانٹتے ہیں آپ کی اپنی کامیابیوں کو واضح طور پر دیکھنا ناممکن بنا دیتا ہے۔
جب آپ اپنے بارے میں غیر یقینی محسوس کر رہے ہوں یا جب آپ کوئی چیلنج کرنے والے ہوں تو سوشل میڈیا پر نہ جائیں۔ اس کے بجاۓ ان چیزوں کے بارے میں لکھیں جو آپ نے کی ہیں جن پر آپ کو فخر ہے۔

5: ایسا لباس پہنیں جو آپ کو طاقتور محسوس کرواۓ۔

صاف ستھرا استری کیا ہوا لباس جو ہمارے کام کی مناسبت سے ٹھیک ہوجو ہمیں شاندار اور طاقتور محسوس کرواۓ، ان چیزوں کو پہنیں جب آپ کو فوری طور پر کانفیڈنس بڑھانے کی ضرورت ہو یا آپ کا دن سست گزر رہا ہو۔
copied

02/02/2023

معاشرہ اور دوسری شادی

دوسری شادی کے حوالے سے میں نے بہت کچھ اس سے پہلے بھی لکھا ہے اب بھی ادنی سی کوشش کر رہا ہوں، اس کے باوجود کے ستر لاکھ سے زائد خواتین گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں، طلاق کے بعد بھائی، بھابھیوں کی باتیں سن رہی ہیں، لیکن آخر کیا وجہ ہے، دوسری بیوی نہیں بنتیں؟ آخر ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ کنواری مر جانا پسند کرتی ہیں، مگر دوسری بیوی بننا پسند نہیں کرتیں؟ جبکہ عرب ممالک میں کنورای لڑکیاں بھی پہلی بیوی کی بجاۓ دوسری تیسری یا چوتھی بیوی بننے کو ترجیح دیتی ہیں۔

میں جو محسوس کرتا ہوں، الفاظ کی شکل میں آپ تک پہنچا دیتا ہوں، مجھے قعطی طور پر آپ کی واہ واہ سپر یا جے جے کار کی ضرورت نہیں ہے، میرا مقصد ان خرابیوں کو ہائی لائٹ کرنا ہے، جو اس انتہائی شاندار سنت کی راہ میں رکاؤٹ ہیں۔

میری ذاتی رائے میں (ہو سکتا ہے راۓ غلط بھی ہو) خواتین دوسری تیسری یا چوتھی بیوی بننے میں اعتراض نہیں کرتیں، بالکل اسی طرح جیسی پہلی بیوی بننے پر اعتراض نہیں کرتیں، ان کو اگر اعتراض ہے تو طریقہ کار پر اعتراض ہے، اگر ان کا یہ اعتراض دور کر دیا جاۓ تو بہت حد تک دوسری تیسری یا چوتھی شادی بھی عام ہو جاۓ۔

اعتراض نمبر:1

رشتہ لینے مرد کی والدہ یا بہنیں نہیں آتیں، جیسے پہلی شادی پر آتی ہیں، دوسری شادی کے لیے عموما مرد خود بات کرتا ہے، جبکہ اس کی والدہ یا باقی فیملی کو خبر تک نہیں ہوتی۔

اعتراض نمبر:2

نکاح اعلانیہ نہیں ہوتا، جیسا کہ پہلی شادی پر نکاح اعلانیہ ہوتا ہے، سب رشتہ داروں کو بلایا جاتا ہے اور اگلے دن تمام رشتے داروں کی دعوت ولیمہ کی جاتی ہے، جبکہ دوسری شادی پر دو دوستوں کی موجودگی میں رات کے اندھیرے میں نکاح کیا جاتا ہے، عموما ولیمہ بھی نہیں کیا جاتا، اکثر تو پہلی رات بھی ڈر کے مارے پہلی بیوی کے پاس گذارتے ہیں۔

اعتراض نمبر:3

پہلی بیوی کے حقوق چونکہ زیادہ ہوتے ہیں، اس کو فیملی نے عزت کے ساتھ بیاہ کر لایا ہوتا ہے، تو دوسری شادی کی خبر ہوتے ہی تمام لاؤ لشکر مرد پر چڑھائی کر دیتا ہے اور مرد یہ دباؤ برداشت نہ کرتے ہوۓ زیادہ تر کیسز میں رات کی تاریکی میں چھپا کر لائی گئی بیوی کو تین الفاظ کہہ کر چلتا کر دیتا ہے، کیوںکہ سال چھ مہینے گزر چکے ہوتے ہیں، دوسری شادی کا بھوت اتر چکا ہوتا ہے، بیوی اور والدین سے چھترول بھی ہو چکی ہوتی ہے تو آسان حل ہے، بھائی دوسری کو چلتا کرو اور لوٹ کر بدھو گھر کو آؤ۔

اعتراض نمبر:4

اکثر مرد پہلی بیوی کو حق مہر پانچ تولے سونے دس لاکھ روپے نقد معجل پانچ لاکھ روپے غیر معجل اور ماہانہ خرچ پندرہ ہزار روپے لکھواتے ہیں، جبکہ وہ ہی مرد دوسری شادی کرتے وقت حق مہر شرعی لکھواتے ہیں، یعنی ساڑھے بتیس روپے کیوں؟ تاکہ کل کلاں چھوڑتے وقت زیادہ نقصان نہ ہو، یہاں پر ہی ان کی نیت عیاں ہو جاتی ہے کہ دوسری شادی کے لیے کوئی یتیم بیوہ بے سہارہ مسکین عورت کی تلاش ہے، اکثر آپ یہ پوسٹ اور اشتہار پڑھتے ہوں گے وجہ یہ ہی ہے، دباؤ پڑے گا تو فارغ کر دیں گے، جب تک چلتا ہے چلاؤ۔

دوسری شادی میں رکاؤٹ مرد ہیں، عورتیں نہیں، مرد انصاف نہیں کرتے، اپنی پہلی عورتوں سے بھی شادی کرتے ہیں، دو ہفتے بعد بیرون ملک چلے جاتے ہیں، وہاں بیٹھ کر دوسری شادی کے کبھی یہاں کوشش، کبھی وہاں کوشش اور بیوی بیچاری گھر میں یہ سوچ کر انتظار کر رہی ہوتی ہے کہ شوہر پردیس کاٹ رہا ہے، یہ نہیں پتہ وہ پھر سے دولہا بننے کے خواب دیکھ رہا ہے، دوسری شادی کرے گا اور تڑپنے کے لیے چھوڑ جاۓ گا اور تیسری کے چکروں میں پڑ جاۓ گا۔

کچھ کہو تو بھائی ھم ان کے لیے تو کماتا ہے، دوسری شادی کرنی ہے، تو پہلے دن سے انصاف کرنا سیکھو، جیسے پہلی بیوی کا رشتہ مانگا ویسے مانگو، جیسے پہلی کو بیاہ کر لاۓ ویسے بیاہ کر لاؤ، جیسا حق مہر پہلی کا تھا ویسا دوسری کا بھی لکھو، جیسا گھر پہلی کو دیا دوسری کو بھی ویسا ہی دوسری کو بھی دو، دیکھو پھر عورتیں دوسری تیسری یا چوتھی شادی کرتی ہیں کہ نہیں.

31/01/2023

سبحان اللہ
بیشک ہم نے انسان کو بہترین سانچوں میں پیدا کیا ہے۔" قرآن 95:4 (سورۃ التین، انجیر)

کھوپڑی کے اندر دماغ کا اصل وزن 1400_1700 گرام ہے۔ (1.3-1.5kg تقریباً) ہم اپنے سر میں اتنا بڑا وزن کیوں محسوس نہیں کرتے؟ کیونکہ یہ دماغی اسپائنل فلوئڈ میں تیرتا ہے اور پانی کے اوپری حصے سے دماغ کا وزن تقریباً 0.18 کلوگرام تک کم ہوجاتا ہے۔ اس لیے ہمیں اس کا وزن محسوس نہیں ہوتا۔ یہ سیال اچانک اثر یا نقصان کے خلاف ایک کشن کے طور پر بھی کام کرتا ہے، آپ کے برائن سے فضلہ کو ہٹاتا ہے اور آپ کے اعصابی نظام کو صحیح طریقے سے کام کرنے میں مدد کرتا ہے۔ نماز کی قیمتی حرکتوں میں سے ایک سجدہ ہے، جہاں گھٹنے ٹیکنے پر یہ سیال اوپر نیچے حرکت کرتا ہے اور اس سے دماغ کو ایک طرح کا مساج ہوتا ہے، اور یہ نماز کے بعد ذہنی سکون کی ایک وجہ ہے۔ یہ اللہ کی کاریگری ہے، جو ہر چیز کو کامل ترتیب سے تصرف کرتا ہے." (النمل 27:88)۔

11/01/2023

آیک خوبصورت ایمان افروز واقعہ ضرور پڑھیں
میرا توسب کچھ ہی غلط ہے😢😢😢

ایک ہیڈ ماسٹر کے بارے میں ایک واقعہ مشہور ہے جب وہ کسی سکول میں استاد تعینات تھے تو انہوں نے اپنی کلاس کا ٹیسٹ لیا۔
ٹیسٹ کے خاتمے پر انہوں نے سب کی کاپیاں چیک کیں اور ہر بچے کو اپنی اپنی کاپی اپنے ہاتھ میں پکڑکر ایک قطار میں کھڑا ہوجانے کو کہا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جس کی جتنی غلطیاں ہوں گی، اس کے ہاتھ پر اتنی ہی چھڑیاں ماری جائیں گی۔
اگرچہ وہ نرم دل ہونے کے باعث بہت ہی آہستگی سے بچوں کو چھڑی کی سزا دیتے تھے تاکہ ایذا کی بجائے صرف نصیحت ہو، مگر سزا کا خوف اپنی جگہ تھا۔
تمام بچے کھڑے ہوگئے۔
ہیڈ ماسٹر سب بچوں سے ان کی غلطیوں کی تعداد پوچھتے جاتے اور اس کے مطابق ان کے ہاتھوں پر چھڑیاں رسید کرتے جاتے۔
ایک بچہ بہت گھبرایا ہوا تھا۔ جب وہ اس کے قریب پہنچے اور اس سے غلطیوں کی بابت دریافت کیا تو خوف کے مارے اس کے ہاتھ سے کاپی گرگئی اور گھگیاتے ہوئے بولا:
”جی مجھے معاف کر دیں میرا توسب کچھ ہی غلط ہے۔“
معرفت کی گود میں پلے ہوئے ہیڈ ماسٹر اس کے اس جملے کی تاب نہ لاسکے اور ان کے حلق سے ایک دلدوز چیخ نکلی۔ ہاتھ سے چھڑی پھینک کر زاروقطار رونے لگے اور بار بار یہ جملہ دہراتے:
”میرے اللّٰه! مجھے معاف کردینا۔ میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے۔“
روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی۔ اس بچے کو ایک ہی بات کہتے
”تم نے یہ کیا کہہ دیا ہے
، یہ کیا کہہ دیا ہے میرے بچے!“
”میرے اللّٰه! مجھے معاف کردینا۔ میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے"
"اے کاش ہمیں بھی معرفتِ الٰہی کا ذره نصيب ہو جاۓ اور بہترین اور صرف اللّٰه کے لۓ عمل کر کے بھی دل اور زبان سے نکلے.....میرے اللّٰه! مجھے معاف کردینا۔ میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے"....

08/01/2023

تحریر ضرور پڑھیۓ گا!
میں ڈھابے پہ مردہ دِلی کے ساتھ بیٹھا چائے کا انتظار کررہا تھا۔ دِل عجیب بوجھل سا تھا اور چہرے پہ بارہ بج رہےتھے۔
گاؤں کے ایک باباجی میرے پاس آ کے بیٹھ جاتےہیں اور کہتے ہیں پُتر خیر ہے بڑا پریشان لگ رہا ہے۔
میں کمزور سی آواز میں کہتاہوں کہ بس بابا جی کیا بتاؤں ، گھر سے لڑ کر آیاہوں۔
میری بیوی کو پتہ نہیں کیوں میری باتیں سمجھ ہی نہیں آتیں۔ صحیح کہتےہیں عورت کی عقل اُس کے گھُٹنوں میں ہوتی ہے۔
بابا جی مسکرائے اور بولے جا وے جھلّیا تیرا وی کوئی حال نہیں۔
پَر پُتر یہ جس نے مثال بنائی ہے نہ کہ عورت کی عقل گھٹنوں میں ہوتی ہے وہ خود کوئی پاگل ہی ہو گا۔
میں نے کہا "نہ بابا جی نہ آپ نہیں جانتے اِن عورتوں کو۔“
بابا جی بولے نہیں پُتر تُو نہیں جانتا اصل میں عورت کو عورت کی شان کو ۔
یہ تو وہ ہے جس کے ساتھ رب اپنی محبت کو ملا رہا ہے۔
اتنے میں لڑکا چائے لے کر آ جاتا ہے اور میں چائے کی چُسکی لےکر پھر بابا جی کی طرف متوجہ ہو جاتا ہوں ۔
بابا جی اپنی چائے پِرچ میں ڈال کر ٹھنڈی کرنے لگ جاتے ہیں۔
بابا جی پِرچ سےہی چائے کی چُسکی لگا کے کہتے ہیں کہ واہ مزہ آ گیا چائے کا۔
چائے کی تعریف کرنے کے بعد بابا جی کہتے ہیں کہ سُن پُتر رب وہ ذات ہے جسے کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے۔ اُس ذات نے خود کی محبت کے بارے میں بتانا تھا کہ وہ انسان سے کتنی محبت کرتا ہے تو اُس نے ماں کا نام لیا کہ وہ ستّر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ جب کہ ماں ایک عورت ہے۔
بیٹی کواللّٰہ نے اپنی رحمت قرار دےدیا جبکہ بیٹی بھی ایک عورت ہے۔
پُتر میرا ماننا یہ ہے کہ ہم مرد، عورت کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے۔ کہاں عورت اعلیٰ ظرف اور فراغ دِل کی مالک اور کہاں ہم کَم ظرف اور تنگ دِل مرد۔
مجھے بابا جی کی باتیں لبھانے لگ گئیں تھیں۔
بابا جی بولےکہ عورت ہی وہ ہستی ہے جس کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی بس اسی بات سے ہی تو عورت کی شان کا اندازہ لگا لے۔
جب وہ آس سے ہوتی ہے تو اپنی پسندکی سب چیزیں چھوڑ دیتی ہے اپنی اولاد کے لیے۔ جب اولاد جنم دیتی ہے تو زندگی اورموت کی کشمکش میں ہوتی ہے، پتہ ہی نہیں ہوتا کہ جیے گی یا مَر جائے گی۔
پتہ ہے پُتر بائیس ہڈیاں بیک وقت ٹوٹنے کے جتنا درد سہتی ہے ایک بچے کو جنم دیتے وقت۔ اتنا درد کبھی محسوس بھی کیا ہے تم نے۔؟
میں بابا جی کی باتوں سے لاجواب ہوتا جا رہاتھا اور آج عورت کے اصل مقام کا پتہ چل رہا تھا مجھے۔
بابا جی بولےابھی آگے سُن پُتر اورکلیجے پہ ہاتھ رکھ کے سُنِیں ذرا کہیں کلیجہ پھٹ ہی نہ جائے تیرا یہ کڑوا سچ سُن کے۔
پتہ ہے عورت کی سب سے بڑی خُوبی کیا ہے وہ بات بات پہ مرد کی طرح مردانگی نہیں دکھاتی، وہ مرد پہ تھپڑوں کی بارش نہیں کرتی۔
وہ مرد کو اُس کی اولاد کے سامنے گندی گالیاں نہیں دیتی۔ وہ غیرت کے نام پہ مردوں کے قتل نہیں کرتی۔ وہ بھوکے بھیڑیے کی طرح کسی پہ جھپٹ کے اس کا ریپ نہیں کرتی۔
وہ مردکو غُصے میں طلاق نہیں دیتی۔ وہ گلیوں بازاروں میں مرد پہ آوازیں نہیں کَستی۔
بابا جی کی باتیں سُن کے میں شرمندہ ہونے لگ گیا اور آنکھیں جھک گئیں میری۔ پسینے کی بوندیں میرے ماتھے پہ نمودار ہونا شروع ہو گئیں۔
بابا جی نے شاید میری شرمندگی محسوس کر لی تھی، اِسی لیے وہ تھوڑی دیر کے لیے چُپ ہو گئے۔
پھر بابا جی نے ڈھابے والے کو چائے کے کپ واپس لے جانے کے لیے آواز دےدی۔
اور پھر دوبارہ مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ پُتر تُو سمجھدار لڑکا ہے۔ بس ذرا جذباتی ہو جاتا ہے۔
بات کی نوعیت کو سمجھا کر اور پھر فیصلے کیا کر۔
پُتر ایک گھر میں روزانہ سب سے زیادہ بار جو نام لیا جاتا ہے وہ ایک ماں کا ہوتا ہے یا بڑی بہن کا اور یہ دونوں عورت ذات ہیں۔
ہمارے گھروں کا وجود عورتوں سےہے۔ گھر مرد نہیں بساتے پُتر عورتیں بسایا کرتی ہیں۔ گھر کی رونقیں عورتوں کے ہی توسط سے ہوتی ہیں بیٹا۔
ہر چیز سلیقے سے ملتی ہے، کپڑے صاف ستھرے ملتے ہیں، برتن دُھلےدُھلائے ملتے ہیں، بہترین کھانے ہمیں نصیب ہوتے ہیں۔
چھوٹے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال بخوبی سر انجام دی جاتی ہے تو پُتر یہ سارا جادو ایک عورت ہی چلاتی ہے ورنہ تو ایک سَگا باپ بھی اپنے چھوٹے بچے کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرتا۔
بچہ زیادہ روئے تو شوہر اپنی بیوی سے کہہ دیتا ہے کہ اِسے کمرے سے باہر لے جاؤ میری نیند میں خلل پڑ رہا ہے۔
پُترعورت بہت ہی پیاری چیز ہے۔ یہ مرد کے کردار پہ اُنگلیاں نہیں اُٹھاتی، یہ مرد کو اُس کے ماضی کے طعنے نہیں دیتی۔
پُتر عورت بیٹی ہے تو رب کی رحمت ہے۔ ماں ہے تو قدموں تلے جنت لیے پھرتی ہے۔
بابا جی کی باتیں سُن کے پتہ چل رہا تھا کہ عورت دنیا کی کتنی انمول دولت ہے
وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
”وجود زَن سے ہے کائنات میں رنگ “
پھر بابا جی بولے کہ جا پتر گھر چلا جا تیرا چہرہ بتا رہا ہے کہ تو سب سمجھ گیا ہے اور اب تیرا جلدی گھر جانے کو دل کر رہا ہے۔
میں بابا جی کے قدموں میں بیٹھ گیا اور بابا جی کے ہاتھ چوم کے بولا کے شکریہ بابا جی آپ نے میری غلطی کو
دیکھ کے کوئی سزا نہیں سنائی بلکہ میری غلطی کو سدھارا اور احساس کروایا کہ میں غلط ہوں
مجھے سب کی عزت کرنی چاہیے
بابا جی مسکرائے اور میرے سر پہ ہاتھ پھر کے بولے جیتا رہے پُتر اور اب گھر جا ،گھر والے تیرا انتظار کررہے ہونگے۔
واپس گھر جاتے ہوئے میرے قدموں میں اعتماد تھا اور دل مطمئن۔🌹🌹🌹
اس کو غور سے پڑھیں اور عورت کی عزت کرنا سیکھیں

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Halli Haripur
Islamabad
22580