اردوستان

اردوستان اعلیٰ انسانی افکار و خیالات،طرزِ تمدن و حیات اور ذوقِ جمال کی حامل نگارشات کا خیر مقدم کیاجاتا ہے۔

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائےمنزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائےاے دل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا ...
12/08/2026

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

اے دل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے

اے رہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے

ہاں یاد مجھے تم کر لینا آواز مجھے تم دے لینا
اس راہ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے

اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشم کرم ہونے دے ستم بالائے ستم
میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم مشکل پس مشکل آ جائے

اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ تم سے لیتا ہوں
اس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تجھ پہ مرا دل آ جائے

اے برق تجلی کوند ذرا کیا مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے
میں طور نہیں جو جل جاؤں جو چاہے مقابل آ جائے

کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے کشتی کا خدا خود حافظ ہے
مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے

بہزاد لکھنوی

29/07/2026

آج 29؍جولائی 1928
ماہرِ لسانیات، مترجم، اصطلاح ساز، صحافی، ادیب، اور شاعر مولانا سیدوحیدالدین سلیمؔ صاحب کا یومِ وفات ہے۔
وحید الدین سلیم کی تاریخ پیدائش میں اختلاف پایا جاتا ہے البتہ اسماعیل پانی پتی کے مطابق 1867ء کو پانی پت، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حاجی سید فرید الدین درگاہ حضرت بو علی شاہ قلندر کے مجاور اور مولانا سید غوث علی شاہ کے مرید تھے۔ ابتدائی تعلیم شمس النساء نامی خاتون کے زیر نگرانی حاصل کی اور قرآن مجید حفظ کیا۔ بعد ازاں پیر علی نقی حزیں سونپتی سے فارسی پڑھی اور مقامی میونسپل بورڈ اسکول میں داخل ہوئے۔ غیر معمولی حافظے اور ذہانت کے باعث 1882ء میں مڈل کے امتحان میں پورے پنجاب میں اول مقام حاصل کیا اور وظیفہ پانے کے مستحق قرار پائے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے اورینٹل کالج لاہور گئے جہاں مولانا فیض الحسن سہارنپوری سے عربی ادب و تفسیر اور مولانا عبد ﷲ ٹونکی سے فقہ، حدیث، منطق اور فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ منشی فاضل کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد بہاولپور کے ایجرٹن کالج میں اردو کے استاد مقرر ہوئے۔ بعد ازاں مدرسہ عالیہ رامپور میں ہیڈ مولوی رہے، مگر بیماری کے باعث ملازمت ترک کرنی پڑی۔ کچھ عرصہ طبابت اور کاروبار سے وابستہ رہے لیکن کامیابی نہ مل سکی۔ جولائی 1894ء میں مولانا الطاف حسین حالیؔ انہیں علی گڑھ لے گئے جہاں سر سید احمد خان نے انہیں اپنا لٹریری اسسٹنٹ مقرر کیا۔ سر سید کی وفات (1898ء) تک وہ ان کے ساتھ رہے۔

سر سید کے انتقال کے بعد انہوں نے 1898ء میں رسالہ "معارف" جاری کیا۔ بعد ازاں "حالی پریس" قائم کیا اور صحافت و اشاعت کے میدان میں سرگرم رہے۔ وہ انسٹی ٹیوٹ گزٹ، مسلم گزٹ اور روزنامہ زمیندار جیسے اہم اخبارات کی ادارت سے وابستہ رہے۔ ان کی آزاد فکر اور بے باک صحافت نے انہیں اپنے عہد کے ممتاز صحافیوں میں شامل کر دیا۔
بعد ازاں حیدرآباد دکن کی حکومت کی دعوت پر دارالترجمہ سے وابستہ ہوئے اور عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام کے بعد اردو کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ انہوں نے جدید علوم کے لیے اردو اصطلاحات وضع کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور اس موضوع پر اپنی معروف کتاب "وضع اصطلاحات" تصنیف کی، جو اردو لسانیات میں سنگِ میل کا درجہ رکھتی ہے۔
(ماخوذ از ریختہ)

29/07/2026
29/07/2026

حفیظ جالندھری

18/07/2026

یہ خطہ بھی ذرا سا صاحبِ کردار ہوجاتا

13/06/2026

‏آ تجھ کو بتاتا ہوں تفصیلِ بجٹ کیا ہے!
‏شمشیر و سناں اول تعلیم و صحت آخر

(‏منقول)

10/04/2026

"گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے"
اس ضرب المثل اور اس کا پس منظر
کہا جاتا ہے کہ جب لنکا کا راجا راون جوگی کا بھیس بدل کر رام چندر جی کی بیوی سیتا کو اٹھا کر لے گیا۔ تو رام چندر نے لنکا پر حملہ کرنے کا مصمم ارادہ کیا تاکہ اپنی بیوی کو دشمن کی قید سے رہائی دلا کر واپس لائیں۔ اس حملے کے دوران میں راون کے سگے بھائی بھویشن نے رام چندر جی کی بہت مدد کی۔ اس نے قلعہ لنکا کے بہت سے راز بتائے اور رام چندر جی نے لنکا کو فتح کر لیا۔ یوں وہ سیتا کو واپس لانے میں کامیاب ہو گئے۔
اس وقت سے یہ ترکیب ”گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے“ بطور ضرب المثل استعمال ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی تمام رازوں پر پوری واقفیت رکھتا ہے، اس سے ہر وقت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
راون کے بھائی بھویشن نے راجا رام سے مل کر لنکا کے بہت سے بھیدوں سے پردہ اٹھایا تھا اور اسے اس کے فتح کرنے میں مدد دی تھی۔ اس سے یہ مثل ”گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے“ کی مثل مشہور ہوئی، مطلب یہ ہے کہ راز دار کی دشمنی بڑا نقصان پہنچاتی ہے۔

17/02/2026

ایک طفل دبستاں ہے فلاطوں مرے آگے​
کیا منہ ہے ارسطو جو کرے چوں مرے آگے​
​
کیا مال بھلا قصر خریدوں مرے آگے​
کانپے ہے پڑا گنبد گردوں مرے آگے​
​
مرغاں اولی اجنحہ مانند کبوتر​
کرتے ہیں سدا عجز سے غوں غوں مرے آگے​
​
منہ دیکھو جو نقارچیء پیر فلک بھی​
نقارہ بجا کر کہے دُوں دُوں مرے آگے​
​
ہوں وہ جبروتی کہ گروہ حکما سب​
چڑیوں کی طرح کرتے ہیں چوں چوں مرے آگے​
​
بولے ہے یہی خامہ کہ کس کس کو میں باندھوں​
بادل سے چلے آتے ہیں مضموں مرے آگے​
​
مجرے کو مرے خسرو پرویز ہو حاضر​
شیریں بھی کہے آکے بُلا لوں مرے آگے​
​
کیا آکے ڈرا دے مجھے زلف شب یلدا​
ہے دیو سفید سحری جوں مرے آگے​
​
وہ مار فلک کاہکشاں نام ہے جس کا​
کیا دخل جو بل کھا کے کرے فُوں مرے آگے

(انشاء اللہ خان انشاء)

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اردوستان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share