Al kitab Online Quran Academy

Al kitab Online Quran Academy Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al kitab Online Quran Academy, Education Website, Islamabad.

Enlighten your life with the light of the Holy Quran....
📖 Al kitab Online Quran Academy

🧑‍🏫 Qualified Male & Female Tutors

🌍 Classes Available Worldwide

⏰ Flexible Timings

📩 Inbox Now for Free Trial Class

+92 308 0094880

13/08/2026

درود پاک دل کی گھٹن کو کھولتا ہے، سینے کی تنگی کو دور کرتا ہے ،اور اللہ کی رحمتیں نازل کرتا ہے

اللّٰهُمَّ صَلٌِ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلیٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔۔

اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيد۔۔

Qur'an reminder with Al kitab Online Quran Academy
09/08/2026

Qur'an reminder with Al kitab Online Quran Academy








02/08/2026
22/07/2026



20/07/2026

جس دل میں قرآن ہو، وہ دل کبھی ویران نہیں

ہوتا۔ روزانہ چند آیات ہی سہی، لیکن ضرور پڑھیں۔

قرآن دلوں کی بہار ہے، اور زندگی کی روشنی بھی۔

17/07/2026

کبھی کسی کی فیس خاموشی سے ادا کر دیں۔
کسی پیاسے کے لیے پانی رکھ دیں۔
کسی یتیم کے سر پر محبت سے ہاتھ رکھ دیں۔
کسی کے لیے ایسی دعا کریں جسے کبھی معلوم بھی نہ ہو۔
یہی وہ نیکیاں ہیں جنہیں فرشتے لکھتے ہیں اور اللہ پسند فرماتا ہے۔
شہرت ختم ہو جاتی ہے، مگر اخلاص والا عمل ہمیشہ باقی رہتا ہے۔
آج ایک ایسی نیکی ضرور کریں جس کا گواہ صرف اللہ ہو۔

17/07/2026

‏“اپنے دل کو اللہ کے قریب رکھیں، دنیا خود خوبصورت لگنے لگے گی۔”

06/07/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔"
(صحیح البخاری)

قرآنِ کریم سیکھنا اور سکھانا دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔ آئیں اپنا اور اپنی اولادکا قرآن سے تعلق مضبوط کریں۔

گھر بیٹھے آنلائن قرآن کریم سیکھنے کے لیے ابھی رابطہ کریں۔

📖 Al Kitab Online Quran Academy
✅ ناظرہ قرآن
✅ تجوید کے ساتھ قرآن
✅ حفظ القرآن
✅ بچوں اور بڑوں کے لیے آن لائن کلاسز

+92 308 0094880





15/06/2026

مصعب بن عمیرؓ: عیش و عشرت سے شہادت تک کا سفر
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ قریش کے نہایت امیر اور عیش و عشرت میں پلنے والے نوجوانوں میں سے تھے۔ وہ نہایت قیمتی کپڑے پہنتے، بہترین خوشبوئیں استعمال کرتے اور لذیذ ترین کھانے کھاتے تھے۔ ان کی والدہ بے حد مالدار تھیں اور انہیں ایسا پہناتی تھیں جیسا مکہ کے کسی اور نوجوان کو نصیب نہ تھا۔ اسی وجہ سے وہ مکہ کے سب سے زیادہ خوشبودار اور حسین و وجیہ نوجوان سمجھے جاتے تھے۔

جب انہوں نے دارِ ارقم بن ابی الارقم میں اسلام کی دعوت کے بارے میں سنا تو چپکے سے وہاں پہنچے اور نبی کریم ﷺ کے مبارک لبوں سے کلامِ الٰہی سنا۔ بس اسی لمحے ان کی پوری زندگی بدل گئی۔ اب نہ انہیں اپنے مال کی پروا رہی، نہ زیب و زینت کی، اور نہ ہی اپنی والدہ کی طرف سے ملنے والی دولت و عزت کی۔ وہ ایمان لے آئے، مگر کسی کو اس کی خبر نہ ہونے دی۔ وہ خفیہ طور پر نبی ﷺ کے پاس جاتے، قرآن سیکھتے اور روز بروز ان کا ایمان مضبوط ہوتا گیا۔

ایک دن عثمان بن طلحہ نے انہیں دارِ ارقم میں نماز پڑھتے دیکھ لیا۔ وہ فوراً قریش کے پاس گئے اور یہ خبر پھیلا دی۔ جب یہ بات ان کی والدہ تک پہنچی تو وہ سخت غضبناک ہوئیں، انہیں گھر میں قید کر دیا اور قسم کھائی کہ کبھی باہر نہیں نکلنے دیں گی۔ لیکن حضرت مصعب رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کے ساتھ جا ملے۔ بعد میں وہ واپس مکہ آئے اور پھر مدینہ منورہ ہجرت کرنے والوں میں شامل ہو گئے۔

مدینہ میں انہیں اسلام کا پہلا سفیر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ہجرت سے پہلے انہیں وہاں بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو قرآن سکھائیں اور اسلام پر ثابت قدم رکھیں۔ انہوں نے اپنے حسنِ اخلاق اور بہترین کردار کے ذریعے ایسی دعوت دی کہ مدینہ کے لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہو گئے۔

بعد ازاں وہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور نہایت ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ پھر غزوہ احد کا دن آیا، اور اس دن وہ مسلمانوں کے علمبردار تھے۔ اس زمانے میں جھنڈا جنگ کی عزت اور مرکز سمجھا جاتا تھا۔ جب جنگ شدت اختیار کر گئی اور کفار نے مسلمانوں کو گھیر لیا تو حضرت مصعب رضی اللہ عنہ اپنے جسم سے نبی ﷺ کی حفاظت کرنے لگے۔

اسی دوران ایک مشرک (ابن قمئہ لیثی یا بعض روایات کے مطابق ابی بن خلف) نے ان پر حملہ کیا اور ان کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا۔ اس کے باوجود وہ یہ آیت پڑھتے رہے: وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل “اور محمد ﷺ تو ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں”

انہوں نے بایاں ہاتھ سے جھنڈا تھام لیا، مگر وہ ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا۔ پھر انہوں نے جھنڈے کو اپنے بازوؤں کے درمیان سینے سے لگا لیا اور اسی حالت میں شہید ہو گئے۔

جب وہ شہید ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھال لیا۔ مشرکین کو گمان ہوا کہ انہوں نے (نعوذ باللہ) نبی ﷺ کو شہید کر دیا ہے، کیونکہ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ شکل و صورت میں نبی ﷺ سے مشابہت رکھتے تھے۔ اسی غلط فہمی میں وہ خوشخبری دینے کے لیے واپس گئے، مگر بعد میں حقیقت واضح ہو گئی۔

حضرت مصعب رضی اللہ عنہ کا جسم میدان میں بغیر کفن کے پڑا رہا، کیونکہ ان کے کپڑے اور زرہ چھین لیے گئے تھے۔ جب صحابہ کرام نے انہیں دفنانا چاہا تو صرف ایک چھوٹا سا کپڑا (چادر) ملا۔ اگر اس سے سر ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے، اور اگر پاؤں ڈھانپتے تو سر ظاہر ہو جاتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان کے سر کو ڈھانپ دو اور پاؤں پر اذخر (خوشبودار گھاس) رکھ دو۔ اسی طرح انہیں دفن کیا گیا۔

نبی کریم ﷺ نے ان کی اس حالت کو دیکھ کر بہت گریہ فرمایا، اور صحابہ کرام بھی بے اختیار رو پڑے۔ وہی نوجوان جو کبھی مکہ کا سب سے خوشحال اور ناز و نعمت میں پلا ہوا تھا، آج شہادت کے بعد ایک مکمل کفن تک کا محتاج تھا۔

یہ عظیم داستان ہر نوجوان اور ہر مسلمان کو یہ سبق دیتی ہے کہ صحابہ کرام نے اپنے دین کے لیے کس قدر عظیم قربانیاں دیں۔ انہوں نے دنیا کی ہر آسائش کو چھوڑ کر اللہ کی راہ کو اختیار کیا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کے مال، لباس یا ظاہری زینت میں نہیں، بلکہ اس کے ایمان اور اللہ کی راہ میں اس کی قربانی میں ہے
سير أعلام النبلاء
مسند احمد بن حنبل
البداية والنهاية لابن كثير
السيرة النبوية لابن هشام

Address

Islamabad

Telephone

+923080094880

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al kitab Online Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share