17/02/2025
*BAYAN-UL-QURAN*
Written notes ✍🏻
___________________________
*SURAT-UL-BAQARA*
*Ayat 5-12*
___________________________
📕 *سورہ البقرۃ آیات 5 سے 12*
📕 *اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞*
*ترجمہ:*
*"یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں" ۔*
✍🏻 *تفسیر:*
*وہ ابتدائی ہدایت بھی ان کے پاس تھی اور اس تکمیلی ہدایت یعنی قرآن پر بھی ان کا پورا یقین ہے ‘ اور محمد ﷺ کا اتباع بھی وہ کر رہے* ہیں۔
وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞
*” فلاح “ کا لفظ بھی قرآن مجید کی بہت اہم اصطلاح ہے۔ اس کا معنی ہے منزل مراد کو پہنچ جانا ‘ کسی باطنی حقیقت کا عیاں ہوجانا۔ اس پر ان شاء اللہ سورة المؤمنون کے شروع میں گفتگو ہوگی۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ فلاح پانے والے ‘ کامیاب ہونے والے ‘ منزل مراد کو پہنچنے والے اصل میں یہی لوگ ہیں۔ تاویل خاص کے اعتبار سے یہ صحابہ کرام رض کی طرف اشارہ ہوگیا ‘ جبکہ تاویل عام کے اعتبار سے ہر شخص کو بتادیا گیا کہ اگر قرآن کی ہدایت سے مستفید ہونا ہے تو یہ اوصاف اپنے اندرپیدا کرو۔*
📕 *اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ۞*
*ترجمہ:*
*"یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا (یعنی وہ لوگ کہ جو کفر پر اڑ گئے) ان کے لیے برابر ہے (اے محمدﷺ ) کہ آپ انہیں انذار فرمائیں یا نہ فرمائیں وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں" ۔*
✍🏻 *تفسیر:*
*” اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ سے مراد یہاں وہ لوگ ہیں جو اپنے کفر پر اڑ گئے۔ اس کو ہم تاویل عام میں نہیں لے سکتے۔ اس لیے کہ اس صورت میں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جس شخص نے کسی بھی وقت کفر کیا اب وہ ہدایت پر آہی نہیں سکتا ! یہاں یہ بات مراد نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کسی مغالطہ کی بنا پر یا عدم توجہی کی بنا پر کفر میں ہے ‘ حق اس پر واضح نہیں ہوا ہے تو انذار وتبشیر سے اسے فائدہ ہوجائے گا۔ آپ اسے وعظ و نصیحت کریں تو وہ اس کا اثر قبول کرے گا۔ لیکن جو لوگ حق کو حق سمجھنے اور پہچاننے کے باوجود محض ضد ‘ ہٹ دھرمی اور تعصبّ کی وجہ سے یا تکبرّ اور حسد کی وجہ سے کفر پر اڑے رہے تو ان کی قسمت میں ہدایت نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ﷺ انہیں سمجھائیں یا نہ سمجھائیں ‘ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ‘ انذار فرمائیں یا نہ فرمائیں ‘ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اس لیے کہ سوتے کو تو جگایا جاسکتا ہے ‘ جاگتے کو آپ کیسے جگائیں گے ؟ یہ گویا مکہ کے سرداروں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ ان کے دل اور دماغ گواہی دے چکے ہیں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور قرآن ان پر اتمام حجت کرچکا ہے اور وہ مان چکے ہیں کہ قرآن کا مقابلہ ہم نہیں کرسکتے ‘ یہ محمد ﷺ کا مکمل معجزہ ہے ‘ اس کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے۔*
📕 *خَتَمَ اللّٰهُ عَلَىٰ قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰى سَمۡعِهِمۡؕ وَعَلٰىٓ اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞*
*ترجمہ:*
*"اللہ نے مہر کردی ہے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر۔ ) اور ان کی آنکھوں کے سامنے پردہ پڑچکا ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے" ۔*
✍🏻 *تفسیر:*
*خَتَمَ اللّٰــــــــــــــــهُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ*
*ایسا کیوں ہوا ؟ ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر ابتدا ہی میں نہیں لگا دی گئی ‘ بلکہ جب انہوں نے حق کو پہچاننے کے بعدردّکر دیا تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی اور ان کی سماعت پر بھی۔*
وَعَلٰی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ
*یہ مضمون سورة یٰسٓ کے شروع میں بہت شرح و بسط کے ساتھ دوبارہ آئے گا۔*
وَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ
*یہ دوسرے گروہ کا تذکرہ ہوگیا۔ ایک رکوع کل سات آیات میں دو گروہوں کا ذکر سمیٹ لیا گیا۔ ایک وہ گروہ جس نے قرآن کریم کی دعوت سے صحیح صحیح استفادہ کیا ‘ ان میں طلب ہدایت کا مادہ موجود تھا ‘ ان کی فطرتیں سلیم تھیں ‘ ان کے سامنے دعوت آئی تو انہوں نے قبول کی اور قرآن کے بتائے ہوئے راستے پر چلے۔ وہ گلستان محمدی ﷺ کے گل سرسبد ہیں۔ وہ شجرۂ قرآنی کے نہایت مبارک اور مقدس پھل ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے حق کو پہچان بھی لیا ‘ لیکن اپنے تعصبّ یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کو ردّ کردیا۔ ان کا ذکر بھی بہت اختصار کے ساتھ آگیا۔ ان کا تفصیلی ذکر آپ کو مکی سورتوں میں ملے گا۔ اب آگے تیسرے گروہ کا ذکر آ رہا ہے۔*
📕 *وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَمَا هُمۡ بِمُؤۡمِنِيۡنَۘ ۞*
*ترجمہ:*
*"اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر بھی اور یوم آخر پر بھی مگر وہ حقیقت میں مؤمن نہیں ہیں" ۔*
✍🏻 *تفسیر:*
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بالله وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ
*یہاں ایک بات سمجھ لیجیے ! اکثر و بیشتر مفسرین نے اس تیسری قسم category کے بارے میں یہی رائے قائم کی ہے کہ یہ منافقین کا تذکرہ ہے ‘ اگرچہ یہاں لفظ منافق یا لفظ نفاق نہیں آیا۔ لیکن مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے اس کے بارے میں ایک رائے ظاہر کی ہے جو بڑی قیمتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ایک کردار کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے ‘ غور کرنے والے غور کرلیں ‘ دیکھ لیں کہ وہ کس پر چسپاں ہو رہا ہے۔ اور جب یہ آیات نازل ہو رہی تھیں تو ان میں شخصیات کی کردار نگاری کا یہ جو نقشہ کھینچا جا رہا ہے یہ بالفعل دو طبقات کے اوپر راست آ رہا تھا۔ ایک طبقہ علماء یہود کا تھا۔ وہ بھی کہتے تھے کہ ہم بھی اللہ کو مانتے ہیں ‘ آخرت کو بھی مانتے ہیں۔ اسی لیے یہاں رسالت کا ذکر نہیں ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر سوا لاکھ نبی آئے ہیں تو ان سوا لاکھ کو تو ہم مانتے ہیں ‘ بس ایک محمد ﷺ کو ہم نے نہیں مانا اور ایک عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانا ‘ تو ہمیں بھی تسلیم کیا جانا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اور واقعہ یہ ہے کہ یہاں جس انداز میں تذکرہ ہو رہا ہے اس سے ان کا کردار بھی جھلک رہا ہے اور روئے سخن بھی ان کی طرف جا رہا ہے۔ مجھے یاد ہے دسویں جماعت کے زمانے میں دہلی میں میں نے جوتوں کی ایک دکان پر دیکھا تھا کہ ایک بہت بڑا جوتا لٹکایا ہوا تھا اور ساتھ لکھا تھا :*
*Free to Whom it Fits.*
*یعنی جس کے پاؤں میں یہ ٹھیک ٹھیک آجائے وہ اسے مفت لے جائے ! تو یہاں بھی ایک کردار کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔ اب یہ کردار جس کے اوپر بھی فٹ بیٹھ جائے وہ اس کا مصداق شمار ہوگا۔*
*جیسا کہ میں نے عرض کیا ‘ زیادہ تر مفسرینّ کی رائے تو یہی ہے کہ یہ منافقین کا تذکرہ ہے۔ لیکن یہ کردار بعینہٖ یہود کے علماء پر بھی منطبق ہو رہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کر لیجیے کہ مدینہ منورہ میں نفاق کا پودا ‘ بلکہ صحیح تر الفاظ میں نفاق کا جھاڑ جھنکاڑ جو پروان چڑھا ہے وہ یہودی علماء کے زیراثر پروان چڑھا ہے۔ جیسے جنگل کے اندر بڑے بڑے درخت بھی ہوتے ہیں اور ان کے نیچے جھاڑیاں بھی ہوتی ہیں۔ تو یہ نفاق کا جھاڑ جھنکاڑ دراصل یہودی علماء کا جو بہت بڑا پودا تھا اس کے سائے میں پروان چڑھا ہے اور ان دونوں میں معنوی ربط بھی موجود ہے۔*
📕 *يُخٰدِعُوۡنَ اللّٰهَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ وَمَا يَخۡدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَؕ ۞*
*ترجمہ:*
*(وہ دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اللہ کو اور اہل ایمان کو۔ ) اور نہیں دھوکہ دے رہے مگر صرف اپنے آپ کو ۔ اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے"۔*
✍🏻 *تفسیر:*
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰــــــــــــــــهَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
یُخٰدِعُوْنَ
باب مفاعلہ ہے۔ 👇🏿
*اس باب کا خاصہ ہے کہ اس میں ایک کشمکش اور کشاکش موجود ہوتی ہے۔ لہٰذا میں نے اس کا ترجمہ کیا : ” وہ دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ “*
وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ
*یہ بات یقینی ہے کہ اپنے آپ کو تو دھوکہ دے رہے ہیں ‘ لیکن یہ اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ کو اور اہل ایمان کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ سورة النساء کی آیت ١٤٢ میں منافقین کے بارے میں یہی بات بڑے واضح انداز میں بایں الفاظ آئی ہے :*
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰــــــــــــــــهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ
*” یقیناً منافقین اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں ‘ حالانکہ اللہ ہی انہیں دھوکے میں ڈالنے والا ہے۔ “*
وَمَا یَشْعُرُوْنَ
*یہ بات بہت اچھی طرح نوٹ کر لیجیے کہ منافقین کی بھی اکثریت وہ تھی جنہیں اپنے نفاق کا شعور نہیں تھا۔ وہ اپنے تئیں خود کو مسلمان سمجھتے تھے۔ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہتے تھے کہ انہوں نے خواہ مخواہ اہل مکہ کے ساتھ لڑائی مول لے لی ہے ‘ اس کی کیا ضرورت ہے ؟ ہمیں امن کے ساتھ رہنا چاہیے اور امن و آشتی کے ماحول میں ان سے بات کرنی چاہیے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم خیر خواہ ہیں ‘ ہم بھلی بات کہہ رہے ہیں ‘ جبکہ یہ بیوقوف لوگ ہیں۔ دیکھتے نہیں کہ کس سے ٹکرا رہے ہیں ! ہاتھ میں اسلحہ نہیں ہے اور لڑائی کے لیے جا رہے ہیں۔ چناچہ یہ تو بیوقوف ہیں۔ اپنے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ ہم تو بڑے مخلص ہیں۔ جان لیجیے کہ منافقین میں یقیناً بعض لوگ ایسے بھی تھے کہ جو اسلام میں داخل ہی دھوکہ دینے کی خاطر ہوتے تھے اور ان پر پہلے دن سے یہ واضح ہوتا تھا کہ ہم مسلمان نہیں ہیں ‘ ہم نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے اسلام کا محض لبادہ اوڑھا ہے۔ ایسے منافقین کا ذکر سورة آل عمران کی آیت ٧٢ میں آئے گا۔*
*لیکن اکثر و بیشتر منافقین دوسری طرح کے تھے ‘ جنہیں اپنے نفاق کا شعور حاصل نہیں تھا۔*
📕 *فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ۚ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۙۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ ۞*
*ترجمہ:*
*"ان کے دلوں میں ایک روگ ہے تو اللہ نے ان کے روگ میں اضافہ کردیا۔ اور ان کے لیے تو دردناک عذاب ہے بسبب اس جھوٹ کے جو وہ بول رہے تھے" ۔*
✍🏻 *تفسیر:*
*فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ یہ روگ اور بیماری کیا ہے ؟ ایک لفظ میں اس کو ” کردار کی کمزوری “ weakness of character سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ایک شخص وہ ہوتا ہے جو حق کو حق سمجھ کر قبول کرلیتا ہے اور پھر ” ہرچہ بادا باد “ جو ہو سو ہو کی کیفیت کے ساتھ اس کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردینے کو تیار ہوجاتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو حق کو پہچان لینے کے باوجود ردّ کردیتا ہے۔ اسے ” کافر “ کہا جاتا ہے۔ جبکہ ایک شخص وہ بھی ہے جو حق کو حق پہچان کر آیا تو سہی ‘ لیکن کردار کی کمزوری کی وجہ سے اس کی قوت ارادی کمزور ہے۔ ایسے لوگ آخرت بھی چاہتے ہیں لیکن دنیا بھی ہاتھ سے دینے کے لیے تیار نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہاں کا بھی کوئی نقصان نہ ہو اور آخرت کا بھی سارا بھلا ہمیں مل جائے۔*
*درحقیقت یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے بارے میں کہا گیا کہ ان کے دلوں میں ایک روگ ہے۔*
فَزَادَھُمُ اللّٰــــــــــــــــهُ مَرَضًا
*یہ اللہ کی سنت ہے۔ آپ حق پر چلنا چاہیں تو اللہ تعالیٰ حق کا راستہ آپ پر آسان کر دے گا ‘ لیکن اگر آپ برائی کی طرف جانا چاہیں تو بڑی سے بڑی برائی آپ کے لیے ہلکی ہوتی چلی جائے گی۔ آپ خیال کریں گے کہ کوئی خاص بات نہیں ‘ جب یہ کرلیا تو اب یہ بھی کر گزرو۔ اور اگر کوئی بین بین لٹکنا چاہے تو اللہ اس کو اسی راہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ ٹھیک ہے ‘ وہ سمجھتے ہیں ہم کامیاب ہو رہے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں کو بھی دھوکہ دے لیا ‘ وہ ہمیں مسلمان سمجھتے ہیں اور یہودیوں کو بھی دھوکہ دے لیا ‘ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھی ہیں۔ تو ان کا یہ سمجھنا کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں ‘ بالکل غلط ہے۔ حقیقت میں یہ کامیابی نہیں ہے ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے وہ تباہ کن راستہ ان کے لیے آسان کردیا ہے جو انہوں نے خود منتخب کیا تھا۔ ان کے دلوں میں جو روگ موجود تھا اللہ نے اس میں اضافہ فرما دیا۔*
وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
*اوپر کفار کے لیے الفاظ آئے تھے : وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ اور یہاں عَذَابٌ اَلِیْمٌ کا لفظ آیا ہے کہ ان کے لیے دردناک اور المناک عذاب ہے۔*
بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ
📕 *وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِۙ قَالُوۡاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ۞*
*ترجمہ:*
*"اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ مت فساد کرو زمین میں وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں" ۔*
✍🏻 *تفسیر:*
وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ *اس سے مراد یہ ہے کہ جب تم نے محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مان لیا تو اب ان کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرو ‘ ان ﷺ کے پیچھے چلو۔ ان ﷺ کا حکم ہے تو جنگ کے لیے نکلو۔ ان ﷺ کی طرف سے تقاضا آتا ہے تو مال پیش کرو۔ اور اگر تم اس سے کتراتے ہو تو پھر جماعتی زندگی کے اندر فتنہ و فساد پھیلا رہے ہو۔*
قَالُوْآ اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ
*ہم تو صلح کرانے والے ہیں۔ ہماری نظر میں یہ لڑنا بھڑنا کوئی اچھی بات نہیں ہے ‘ ٹکراؤ اور تصادم کوئی اچھے کام تھوڑے ہی ہیں۔ بس لوگوں کو ٹھنڈے ٹھنڈے دعوت دیتے رہو ‘ جو چاہے قبول کرلے اور جو چاہے ردّ کر دے۔ یہ خواہ مخواہ دشمن سے ٹکرانا اور جنگ کرنا کس لیے ؟ اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے قربانیاں دینے ‘ مصیبتیں جھیلنے اور مشقتیں برداشت کرنے کے مطالبے کا ہے کے لیے ؟*
📕 *اَلَا ۤ اِنَّهُمۡ هُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَلٰـكِنۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ۞*
*ترجمہ:*
*"آگاہ ہوجاؤ کہ حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے" ۔*
✍🏻 *تفسیر:*
اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِنْ لاَّ یَشْعُرُوْنَ
*یہی تو ہیں جو فساد پھیلانے والے ہیں۔ اس لیے کہ محمد ﷺ کی دعوت تو زمین میں اصلاح کے لیے ہے۔ اس اصلاح کے لیے کچھ آپریشن کرنا پڑے گا۔ اس لیے کہ مریض اس درجے کو پہنچ چکا ہے کہ آپریشن کے بغیر اس کی شفا ممکن نہیں ہے۔ اب اگر تم اس آپریشن کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہو تو درحقیقت تم فساد مچا رہے ہو ‘ لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں۔ آیت کے آخری الفاظ وَلٰکِنْ لاَّ یَشْعُرُوْنَ سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ شعوری نفاق اور شے ہے ‘ جبکہ یہاں سارا تذکرہ غیر شعوری نفاق کا ہو رہا ہے۔*
🤲🏻 *بارک اللّٰــــــــــــــــه لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیم*