Marfat-e-Quran Academy

Marfat-e-Quran Academy

Share

Note: 3days trial classes.

Assalamualaikum. *.Online Quran classes. *.Quran reading (Nazirah). *.Quran Memorisation (Hifz). *.Tajeeed o Qirat (Short course). *.Tajuma o Tafseer. سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سے کچھ افراد اللہ والے ہوتے ہیں۔صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: قرآن والے ( قرآن پڑھنے/پڑھانے/پھیلانے والے ) وہی اللہ والے اور اس کے خاص بندے ہیں۔

{سنن ابن ماجہ۔۲۱۵}

04/05/2022
05/04/2022

زکوٰۃ کے متعلق انتہائی اہم معلومات آور ہر طبقے مثلا عام لوگ، تاجر، زمیندار اور جانور پالنے والوں کے لئے*
‎*خدارا خود بھی پڑھیں اور دوسروں تک پہنچانے کا فرض ادا کریں۔ جزاک الله۔*
ایک لاکھ پر -/2500
دو لاکھ پر -/5000
تین لاکھ پر -/7500
چار لاکھ پر -/10000
پانچ لاکھ پر-/12500
چھ لاکھ پر -/15000
سات لاکھ پر-/17500
آٹھ لاکھ پر-/20000
نو لاکھ پر-/22500
دس لاکھ پر-/25000
بیس لاکھ پر-/50000
تیس لاکھ پر-/75000
چالیس لاکھ پر-/100000
پچاس لاکھ پر-/125000
ایک کروڑ پر-/250000
دو کروڑ پر-/500000
‎ہم زکوٰۃ کیسےادا کریں؟
‎اکثرمسلمان رمضان المبارک میں زکاة ادا کرتے ہیں اس لیے‎الله کی توفیق سےیہ تحریر پڑھنےکےبعدآپ اس قابل ہوجائیں گےکہ آپ جان سکیں
‎🔹سونا چاندی
‎🔸زمین کی پیداوار
‎🔹مال تجارت
‎🔸جانور
‎🔹پلاٹ
‎🔸کرایہ پر دیےگئے مکان
‎🔹گاڑیوں اوردکان وغیرہ کی زکاۃ کیسے اداکی جاتی ہے۔

1۔زکوٰۃکا انکار کرنے والاکافر ہے۔(حم السجدۃآیت نمبر 6-7)
‎2۔زکوٰۃادا نہ کرنے والے کو قیامت کے دن سخت عذاب دیا جائےگا۔(التوبہ34-35)
3۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والی قوم قحط سالی کاشکار ہوجاتی ہیں۔(طبرانی)
4۔زکوٰة كامنکر‎جوزکوٰةادانہیں کرتااسکی نماز،روزہ،حج سب بیکار ہیں۔
‎5 ۔زکوٰۃاداکرنے والےقیامت کےدن ہر قسم کےغم اورخوف سےمحفوظ ہونگے
(البقرہ 277)
‎6۔زکوٰۃ کی ادائیگی گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا بہت بڑاذریعہ ہے(التوبہ103)
‎🔴زکوٰۃکا حکم🔴
‎🔹ہر مال دارمسلمان مرد ہو یاعورت پر زکوٰۃ واجب ہے۔خواہ وہ بالغ ہو یا نابالغ ،عاقل ہویا غیر عاقل بشرط یہ کہ وہ صاحب نصاب ہو۔
‎🔘نوٹ۔سود،رشوت،چوری ڈکیتی،اور دیگرحرام ذرائع سےکمایا ہوا مال ان سےزکوٰۃ دینے کابالکل فائدہ نہیں ہوگا۔
‎✔صرف حلال کمائی سے دی گئی زکوٰۃ قابل قبول ہے۔
‎☑زکوٰۃ کتنی چیزوں پر ہے
‎زکوٰۃ چار چیزوں پر فرض ہے ۔
‎🔹1۔سونا چاندی
‎🔸2۔زمین کی پیداوار
‎🔹3۔مال تجارت
‎🔸4۔جانور۔
‎⬅سونے کی زکوٰۃ➡
87گرام یعنی ساڑھےسات تولے سونا پر زکوٰۃ واجب ہے
‎(ابن ماجہ1/1448)
‎🔴نوٹ۔سونا محفوظ جگہ ہو یا استعمال میں ہر ایک پرزکوٰۃ واجب ہے۔(سنن ابودائود کتاب الزکوٰۃ اوردیکھئے حاکم جز اول صفحہ 390 ۔
‎فتح الباری جز چار صفحہ 13
‎⬅چاندی کی زکوٰۃ➡
612گرام یعنی ساڑھےباون تولے چاندی پر زکوٰۃواجب ہے اس سے کم وزن پر نہیں۔(ابن ماجہ)
‎✅زکوٰۃ کی شرح❗
‎زکوٰۃ کی شرح بلحاظ قیمت یا بلحاظ وزن اڑھائی فیصد ہے۔(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
‎✅زمین کی پیدا وار پر زکوٰۃ
‎مصنوعی ذرائع سے سیراب ہونے والی زمین کی پیدا وارپر عشر بیسواں حصہ دینا ہوگا ورنہ ہے۔قدرتی ذرائع سے سیراب ہونے والی پیداوار پر شرح زکوٰۃ دسواں حصہ ہے دیکھئے(صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ)
‎🔴نوٹ:زرعی زمین والےافراد گندم،مکی،چاول،باجرہ،آلو،
سورجمکھی،کپاس،گنااوردیگر قسم کی پیداوار سے زکوٰۃ یعنی (عشر )بیسواں حصہ ہرپیداوار سےنکالیں۔
‎(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
‎⬅اونٹوں کی زکوٰۃ➡
‎💠پانچ اونٹوں کی زکوٰۃ ایک بکری اور دس اونٹوں کی زکاۃ دو بکریاں ہیں۔پانچ سے کم اونٹوں پر زکوٰۃ واجب نہیں۔(صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ)
‎⬅بھینسوں اورگائیوں کی زکوٰۃ➡
💠30گائیوں پر ایک بکری زکوٰۃہے۔
40گائیوں پردوسال سے بڑا بچھڑا زکوٰۃ دیں۔(ترمذی1/509)
‎✅بھینسوں کی زکوٰۃکی شرح بھی گائیوں کی طرح ہے۔
‎⬅بھیڑبکریوں کی زکوٰۃ➡
40سے ایک سو بیس بھیڑ بکریوں پر ایک بکری زکوٰۃہے
120سےلےکر200تک دو بکریاں زکوٰۃ۔
‎(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
‎⛔چالیس بکریوں سے کم پرزکوٰۃ نہیں۔
‎✅کرایہ پر دیئے گئےمکان پر زکوٰۃ❗
‎💠کرایہ پردیئے گئے مکان پر زکوٰۃنہیں لیکن اگراسکاکرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے جو نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے تو پھر اس کرائے پر زکوٰۃ واجب ہے۔اگر کرایہ سال پورا ہونے سے پہلے خرچ ہو جائے توپھر زکوٰۃ نہیں۔شرح زکوٰۃ اڑھائی فیصد ہوگی۔
‎✅گاڑیوں پر زکوٰۃ
‎💠کرایہ پر چلنےوالی گاڑیوں پر زکوٰۃ نہیں بلکہ اسکے کرایہ پر ہےوہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ کرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے اور نصاب تک پہنچ جائے۔
‎⛔نوٹ:
‎گھریلو استعمال والی گاڑیوں، جانوروں،حفاظتی ہتھیار۔مکان وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں (صحیح بخاری)
‎✅سامان تجارت پر زکوٰۃ
‎💠دکان کسی بھی قسم کی ہو اسکےسامان تجارت پر زکوٰۃدینا واجب ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ مال نصاب کو پہنچ جائے اوراس پرایک سال گزر جائے۔
‎⛔نوٹ:
‎دکان کےتمام مال کا حساب کر کے اسکا چالیسواں حصہ زکوٰۃ دیں یعنی ۔دکان کی اس آمدنی پرزکوٰۃنہیں جوساتھ ساتھ خرچ ہوتی رہے صرف اس آمدنی پر زکوٰۃ دینا ہوگی جوبنک وغیرہ میں پورا سال پڑی رہے اور وہ پیسے اتنے ہوکہ ان سے ساڑھےباون تولےچاندی خریدی جاسکے
‎✅پلاٹ یا زمین پر زکوٰۃ
‎💠جو پلاٹ منافع حاصل کرنے کے لیئے خریدا ہو اس پر زکوٰۃ ہوگی ذاتی استعمال کے لیئے خریدا گیا پلاٹ پر زکوٰۃ نہیں۔😊
‎(سنن ابی دائودکتاب الزکوٰۃ حدیث نمبر1562)
‎✅کس کس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
‎ماں باپ اور اولاد کےسوا سب زکوٰۃکےمستحق مسلمانوں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔والدین اوراولادپراصل مال خرچ کریں زکوٰۃ نہیں۔
‎⛔نوٹ:
‎(ماں باپ میں دادا دادی ، نانا نانی اوراولادمیں پوتے پوتیاں نواسیاں نواسے بھی شامل ہیں۔( ابن باز)
‎✅زکوٰۃکےمستحق لوگ
‎🔸1۔مساکین(حاجت مند)
‎🔹2۔غریب
‎🔸3۔ زکاۃوصول کرنےوالے
‎🔹4۔مقروض
‎🔹5۔قیدی
‎🔸6۔ *مجاھدین*
‎🔹7.مسافر (سورۃالتوبہ60)
Q.1
‎ سوال: زکوة کے لغوی معنی بتائیے؟
‎جواب: پاکی اور بڑھو تری کے ہیں۔
Q2
‎سوال: زکوة کی شرعی تعریف کیجئے؟
‎جواب: مال مخصوص کا مخصوص شرائط کے ساتھ کسی مستحقِ زکوۃ کومالک بنانا۔
Q 3
‎سوال: کتناسونا ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
‎جواب: ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ ہو
Q4
‎سوال: کتنی چاندی ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
‎جواب: ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ ہو۔
Q5
‎سوال: کتنا روپیہ ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
‎جواب: اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔
Q6
‎سوال: کتنا مالِ تجارت ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
‎جواب: اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔
Q7
‎سوال: اگر کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، یا کچھ سونا ہے، کچھ نقد روپیہ ہے، یا کچھ چاندی ہے، کچھ مالِ تجارت ہے، ان کو ملاکر دیکھا جائےتو ساڑھے باون تولے چاندی کی
مالیت بنتی ہےاس صورت میں زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں
جواب. فرض ہے

‎سوال: چرنے والے مویشیوں پر
بھی زکوٰة فرض ہےیانہیں؟
جواب. فرض ہے

‎سوال: عشری زمین کی پیداوار
پر بھی زکوٰة فرض ہے یا نہیں؟
جواب: فرض ہے۔۔
واللہ اعلم بالثواب

02/02/2022

Please share

19/01/2022

🌹🌿 *فیضانِ قرآن*🌿🌹
قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ : 28, اَلْمُجَادَلَة:58 , آیت ﴿9---11﴾

*علم حاصل کرنے کی ترغیب اور علم و علماء کے فضائل:*

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰىؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(9)

ترجمہ
اے ایمان والو! جب تم آپس میں مشورہ کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو اور نیکی اورپرہیزگاری کا مشورہ کرو اوراس اللہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں اکٹھا کیاجائے گا۔

تفسیر
*{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ: اے ایمان والو! جب تم آپس میں مشورہ کرو۔}* اس سے پہلی آیت میں گناہ ، حد سے بڑھنے اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کے بارے میں مشورے کرنے پر یہودیوں اور منافقوں کی مذمت بیان کی گئی اور اس آیت میں حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو ان جیسے طریقے سے پرہیز کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! تم جب آپس میں مشورہ کرو تو یہودیوں اور منافقوں کی طرح گناہ ، حد سے بڑھنے اور رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرنا بلکہ نیکی اورپرہیزگاری کا مشورہ کرنا اوراس اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا جس کی طرف تم اٹھائے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔

بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں منافقوں سے خطاب ہے اور آیت کا معنی یہ ہے کہ اے اپنی زبان سے ایمان لانے والو! تم جب آپس میں مشورہ کرو تو گناہ ، حد سے بڑھنے اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو بلکہ نیکی اورپرہیزگاری کا مشورہ کرو اوراس اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرو جس کی طرف تم حساب کے لئے اٹھائے جاؤ گے تو وہ تمہیں تمہارے مشوروں کی جزا دے گا۔( تفسیرکبیر،المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۹، ۱۰ / ۴۹۲، خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۹، ۴ / ۲۴۰، مدارک، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۹، ص۱۲۱۸، ملتقطاً)

آیت’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات:

اس آیت سے چار باتیں معلوم ہوئیں

(1)… مسلمان صلاح مشورے مسلمانوں ہی سے کریں ، کفار سے نہ کریں اور انہیں اپنا مشیر وغیرہ نہ بنائیں ۔

(2)… آپس میں مشورے بھی اچھے ہی کریں ،برے نہ کریں ۔

(3)… مسلمانوں کی خَلْوَت بھی جَلْوَت کی طرح پاکیزہ ہونی چاہیے۔

(4)… تنہائی میں بھی حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب و احترام ملحوظ رکھے۔ مبارک ہے وہ عالِم جو اپنی تنہائی میں حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فضائل سوچے اور بد نصیب ہے وہ شخص جس کا وقت حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی توہین کے بارے سوچنے میں گزرے۔

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ : 28, اَلْمُجَادَلَة:58 , آیت ﴿10﴾

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْــٴًـا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ(10)

ترجمہ
وہ پوشیدہ مشورہ تو شیطان ہی کی طرف سے ہے تاکہ وہ ایمان والوں کوغمگین کرے اور وہ اللہ کے حکم کے بغیر ایمان والوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا اور مسلمانوں کو تو اللہ ہی پر بھروسہ کرناچاہیے۔

تفسیر
*{اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ: پوشیدہ مشورہ تو شیطان ہی کی طرف سے ہے۔}* ارشاد فرمایا کہ وہ مشورہ تو شیطان ہی کی طرف سے ہے جس میں گناہ ،حد سے بڑھنا اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی ہو اور شیطان اپنے دوستوں کو اس پر اُبھارتا ہے تاکہ وہ ایمان والوں کوغمگین کردے اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور مسلمانوں کو اللّٰہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرناچاہیے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا نقصان میں نہیں رہتا۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴ / ۲۴۰، مدارک، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۱۲۱۸، ملتقطاً)

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ : 28, اَلْمُجَادَلَة:58 , آیت ﴿11﴾

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(11)

ترجمہ
اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہو جاؤتو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔

تفسیر
*{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اے ایمان والو!۔}* شانِ نزول: نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غزوہِ بدر میں حاضر ہونے والے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی عزت کرتے تھے، ایک روز چند بدری صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی ،اُنہوں نے حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا۔ حضورپُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جواب دیا، پھر اُنہوں نے حاضرین کو سلام کیا تواُنہوں نے جواب دیا، پھروہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ اُن کیلئے مجلس شریف میں جگہ بنائی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ چیزگراں گزری توآپ نے اپنے قریب والوں کو اُٹھا کر اُن کیلئے جگہ بنا دی، اُٹھنے والوں کو اُٹھنا شاق ہوا تو اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایاگیا اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللّٰہ تعالیٰ تمہارے لئے جنت میں جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب تمہیں اپنی جگہ سے کھڑے ہونے کاکہا جائے تاکہ جگہ کشادہ ہو جائے تو کھڑے ہوجایا کرو، اللّٰہ تعالیٰ اپنی اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کے باعث تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴ / ۲۴۰-۲۴۱)

*بزرگانِ دین کی تعظیم کرنا سنت ہے:*

اس آیت کے شانِ نزول سے معلوم ہواکہ بزرگانِ دین کے لئے جگہ چھوڑنا اور ان کی تعظیم کر نا جائز بلکہ سنت ہے حتّٰی کہ مسجد میں بھی ان کی تعظیم کر سکتے ہیں کیونکہ یہ واقعہ مسجد ِنبوی شریف میں ہی ہوا تھا۔یاد رہے کہ حدیث ِپاک میں بزرگانِ دین اور دینی پیشواؤں کی تعظیم و توقیر کا باقاعدہ حکم بھی دیا گیا ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جن سے تم علم حاصل کرتے ہوان کے لئے عاجزی اختیار کرو اور جن کو تم علم سکھاتے ہو ان کے لئے تواضع اختیار کرو اور سرکَش عالِم نہ بنو۔( الجامع لاخلاق الراوی، باب توقیر المحدّث طلبۃ العلم۔۔۔ الخ، تواضعہ لہم، ص۲۳۰، الحدیث: ۸۰۲)

لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بزرگانِ دین کی تعظیم کرتا رہے اور ان کی بے ادبی کرنے سے بچے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ادب و تعظیم کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

*مسلمانوں کی تعظیم کرنے کی ترغیب:*

اس آیت سے معلوم ہو اکہ ایک مسلمان کا اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی تعظیم کرنا اللّٰہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے کیونکہ اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے اجرو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی تعظیم کیا کریں ۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا اور اس حاملِ قرآن کی تعظیم کرناجو قرآن میں غُلُو نہ کرے اور ا س کے احکام پر عمل کرے اور عادل سلطان کی تعظیم کرنا،اللّٰہ تعالیٰ کی تعظیم کرنے میں داخل ہے ۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلہم، ۴ / ۳۴۴، الحدیث: ۴۸۴۳)

*فضیلت اور مرتبے والوں کو اگلی صفوں میں بٹھایا جا سکتا ہے:*

یاد رہے کہ مجلس کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ جو شخص پہلے آ کر بیٹھ چکا ہو اسے اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے سوائے کسی بڑی ضرورت کے یا یوں کہ اہم حضرات کیلئے نمایا ں جگہ بنادی جائے جیسے دینی و دُنْیَوی دونوں قسم کی مجلسوں میں سرکردہ حضرات کواسٹیج پر یا سب سے آگے جگہ دی جاتی ہے اور ویسے یہ ہونا چاہیے کہ بڑے اور سمجھدار حضرات سننے کیلئے زیادہ قریب بیٹھیں ۔ حضرت ابو مسعود انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم میں سے جو لوگ بالغ اور عقل مند ہیں انہیں میرے قریب کھڑے ہونا چاہئے ،پھر جو ان کے قریب ہوں ،پھر جو ان کے قریب ہوں ۔( ابو داؤد ، کتاب الصلاۃ، باب من یستحبّ ان یلی الامام فی الصفّ وکراہیۃ التأخّر، ۱ / ۲۶۷، الحدیث: ۶۷۴)

اور حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’لوگوں سے ان کے مرتبے اور منصب کے مطابق معاملہ کرو۔( ابو داؤد ، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلہم، ۴ / ۳۴۳، الحدیث: ۴۸۴۲)

فضیلت اور مرتبے والے خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھیں :

فضیلت اور مرتبہ رکھنے والے حضرات کو چاہئے کہ وہ خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھیں کیونکہ کثیر اَحادیث میں حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے منع فرمایا ہے ،جیسا کہ حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود ا س کی جگہ پر نہ بیٹھے۔( مسلم،کتاب السلام،باب تحریم اقامۃ الانسان من موضعہ المباح الذی سبق الیہ،ص۱۱۹۸،الحدیث:۲۷(۲۱۷۷))

حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی دوسری روایت میں ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خوداس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ (تمہیں چاہئے کہ )دوسروں کے لئے جگہ کشادہ اور وسیع کر دو۔( بخاری، کتاب الاستئذان، باب اذا قیل لکم تفسّحوا فی المجٰلس۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۷۹، الحدیث: ۶۲۷۰)

*علم حاصل کرنے کی ترغیب اور علم و علماء کے فضائل:*

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علماءِدین بڑے درجے والے ہیں اوردنیا و آخرت میں ان کی عزت ہے، جب اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے درجات کی بلندی کا وعدہ کیا ہے تو انہیں اس کے فضل و کرم سے دنیاوآخرت میں عزت ضرور ملے گی۔حضرت حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسی آیت کی تلاوت کرنے کے بعد فرمایا:اے لوگو!اس آیت کو سمجھو اور علم حاصل کرنے کی طرف راغب ہو جاؤ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ وہ مومن عالِم کو اس مومن سے بلند درجات عطا فرمائے گا جو عالِم نہیں ہے ۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴ / ۲۴۱)

*یہاں موضوع کی مناسبت سے علم اور علماء کے15فضائل ملاحظہ ہوں :*

(1)…ایک ساعت علم حاصل کرنا ساری رات قیام کرنے سے بہتر ہے۔( مسند الفردوس، باب الطائ، ۲ / ۴۴۱، الحدیث: ۳۹۱۷)

(2)…علم عبادت سے افضل ہے۔ (کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۵۸، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۶۵۳)

(3)…علم اسلام کی حیات اور دین کا ستون ہے۔ (کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۵۸، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۶۵۷)

(4)…علماء زمین کے چراغ اور انبیاء ِکرام عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں ۔ (کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۵۹، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۶۷۳)

(5)…مرنے کے بعد بھی بندے کو علم سے نفع پہنچتا رہتا ہے۔( مسلم، ص۸۸۶، الحدیث: ۱۴(۱۶۳۱))

(6)…ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔( ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، ۴ / ۳۱۱، الحدیث: ۲۶۹۰)

(7)…علم کی مجالس جنت کے باغات ہیں ۔( معجم الکبیر، مجاہد عن ابن عباس، ۱۱ / ۷۸، الحدیث: ۱۱۱۵۸)

(8)…علم کی طلب میں کسی راستے پر چلنے والے کے لئے اللّٰہ تعالیٰ جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔( ترمذی، کتاب العلم، باب فضل طلب العلم، ۴ / ۲۹۴، الحدیث: ۲۶۵۵)

(9)…قیامت کے دن علماء کی سیاہی اور شہداء کے خون کا وز ن کیا جائے گا تو ان کی سیاہی شہداء کے خون پر غالب آجائے گی۔( کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۶۱، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۷۱۱)

(10)…عالِم کے لئے ہر چیز مغفرت طلب کرتی ہے حتّٰی کہ سمندر میں مچھلیاں بھی مغفرت کی دعا کرتی ہیں ۔( کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۶۳، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۷۳۵)

(11)…علماء کی صحبت میں بیٹھنا عبادت ہے۔( مسند الفردوس، باب المیم، ۴ / ۱۵۶، الحدیث: ۶۴۸۶)

(12)…علماء کی تعظیم کرو کیونکہ وہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں ۔( ابن عساکر، عبد الملک بن محمد بن یونس بن الفتح ابو قعیل السمرقندی، ۳۷ / ۱۰۴)

(13)…اہلِ جنت ،جنت میں علماء کے محتاج ہوں گے۔( ابن عساکر، محمد بن احمد بن سہل بن عقیل ابوبکر البغدادی الاصباغی، ۵۱ / ۵۰)

(14)…علماء آسمان میں ستاروں کی مثل ہیں جن کے ذریعے خشکی اور تری کے اندھیروں میں راہ پائی جاتی ہے۔( کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۶۵، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۷۶۵)

(15)…قیامت کے دن انبیاء ِکرام عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد علماء شفاعت کریں گے۔( کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۶۵، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۷۶۶)

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں علم ِدین حاصل کرنے اور ا س پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

19/01/2022

عن أبي هريرة قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لجبريل ليلة أسري به إنّ قومي لا يصدّقونني فقال له جبريل يصدّقک أبوبکر وهو الصّدّيق.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرئیل امین سے ارشاد فرمایا : اے جبرئیل! میری قوم (واقعہ معراج میں) میری تصدیق نہیں کرے گی۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کی تصدیق کریں گے اور وہ صدیق ہیں۔

حوالہ جات
1. طبراني، المعجم الاوسط، 7 : 166، رقم : 7173
2. هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 41
3. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 140، رقم : 116
4. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 367، رقم : 540
5. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 1 : 215
6. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 3 : 170
7. محب طبري، الرياض النضرة، 1 : 405

17/12/2021

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَمَا هُوَ قَائِمٌ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَاهُ عُمَرُ : أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ ؟ قَالَ : إِنِّي شُغِلْتُ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ التَّأْذِينَ ، فَلَمْ أَزِدْ أَنْ تَوَضَّأْتُ ، فَقَالَ : وَالْوُضُوءُ أَيْضًا ، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ .
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے صحابہ مہاجرین میں سے ایک بزرگ تشریف لائے ( یعنی عثمان رضی اللہ عنہ ) عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا بھلا یہ کون سا وقت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں مشغول ہو گیا تھا اور گھر واپس آتے ہی اذان سنی، اس لیے میں وضو سے زیادہ اور کچھ ( غسل ) نہ کر سکا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وضو بھی اچھا ہے۔ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لیے فرماتے تھے۔

11/12/2021

Say Ameeen Summa Ameeen

26/11/2021

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

🟢۔۔آج جمعہ کا دن ہےغسل کریں خوشبو لگائیں۔۔۔اچھے صاف کپڑے پہنیں

🟢۔۔نماز جمعہ کے لیے اپنی قریبی مسجد میں بروقت تشریف لے جائیں/خواتین تلاوت اذکار کا اہتمام کریں

🟢۔۔کثرت سے درود شریف پڑھیں۔

🟢۔۔سورہ کھف کی تلاوت کریں

🟢۔۔حدیث کے مطابق جمعہ کے دن عصر کے بعد قبولیت کی گھڑی ہوتی ہے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں خصوصا عصر کے بعد دعا کریں۔۔!

26/11/2021

جمعتہ المبارک

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Islamabad