حمد و نعت

حمد و نعت

Share

Hamd o Naat

01/09/2025
01/09/2025

یہ نعت آپ کو فریش کر دے گی
میرے آقا کے چہرے کی کیا بات ہے
آواز، حسان فاروقی
💞
مزید خوبصورت حمد و نعت سننے کے لئے پیج کو فالو کریں
شکریہ

07/06/2023

من أراد أن يحفظ العلم..

فعليه أن يلتزم عشر خصال.

الأولی:
صلوة الليل ولو ركعتين.

الثانيه:
دوام الوضوء.

الثالثه:
التقوى فى السر والعلانية

الرابعة:
أن يأكل للتقوى،لاللشهوات.

الخامسة:
السواك..

السادسة:
المواظبة على مطالعة الكتب.

السابعة:
أدب الأستاذ.

الثامنة:
تلاوة القرآن.

التاسعة:
خدمة الأبوين.

العاشره:
حسن الأخلاق.

(تلك عشرة كاملة)
أرسلوا هذه إلى أحبابكم.

07/09/2022

📿 *عقیدہ ختمِ نبوت کی حقیقت:
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ سے زائد حضرات انبیاء کرام علیہم السلام بھیجے، یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا کہ وہ سب سے پہلے نبی تھے، اور نبوت کا یہ سلسلہ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد ﷺ پر آکر ختم ہوا کہ اللہ نے ان کو آخری نبی بناکر بھیجا،ان کے بعد کسی بھی قسم کا کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ یہ عقیدہ ختمِ نبوت ہے۔

⭕ *تنبیہ:*
قیامت کے قریب حضرت عیسی ٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، لیکن چوں کہ ان کو حضور اقدس خاتَمُ الانبیاء حضرت محمد ﷺ سے پہلے ہی نبوت مل چکی ہے اس لیے وہ نئے نبی نہیں ہوں گے، اس لیے ان کے آنے سے عقیدہ ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

📿 *عقیدہ ختمِ نبوت پر ایمان لانا فرض ہے:*
عقیدہ ختمِ نبوت پر ایمان لانا فرض ہے، اور اس کا انکار کرنا یا اس میں شک کرنا کفر ہے، حتی کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی شخص کسی جھوٹے مدّعیِ نبوت سے دلیل یا معجزے کا مطالبہ کرے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا، اس لیے کہ یہ مطالبہ عقیدہ ختم نبوت میں شک کے مترادف ہے جبکہ دیگر ایمانیات اور ضروریاتِ دین کی طرح اس عقیدے میں بھی شک کرنا کفر ہے۔

📿 *ختمِ نبوت کی خصوصیت اور اعزاز:*
حضور اقدس خاتَمُ الانبیاء ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جن اعلیٰ خصوصیات اور کمالات سے نوازا تھا اُن میں سے ایک بہت بڑی خوبی، خصوصیت اور کمال یہ عنایت فرمایا کہ آپ ﷺ کو ختمِ نبوت کا اعزاز بخشتے ہوئے خاتمُ النَبِیِّیْن بنایا کہ آپ ﷺ کو اپنا آخری نبی بنایا اور نبوت کا سلسلہ آپ پر ختم فرمایا۔ اس ختمِ نبوت کی بدولت حضور
اقدس خاتَمُ الانبیاء ﷺ کو جو فضائل، کمالات اور برکات عطا کی گئیں وہ شمار میں نہیں آسکتیں۔

📿 *عقیدہ ختمِ نبوت کی اہمیت:*
عقیدہ ختمِ نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ:
▪️یہ عقیدہ قرآن کریم کی تقریبًا سو آیات سے ثابت ہے۔
▪️یہ عقیدہ تقریبًا دو سو احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔
▪️امت کا سب سے پہلا اجماع اسی عقیدہ پر منعقد ہوا۔
▪️حضور اقدس خاتَمُ الانبیاء ﷺ کے زمانے میں اسلام کے تحفظ اور دفاع کے لیے جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں اُن میں شہید ہونے والے صحابہ کی کل تعداد 259 ہے ،جبکہ عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ اور دفاع کے لیے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حکم پراسلام کی تاریخ میں جو سب سے پہلی جنگ لڑی گئی اس میں شہید ہونے والے صحابہ وتابعین کی تعداد تقریبًا 1200 ہے، جن میں سات سو قرآن کریم کے حافظ اور عالم تھے۔
▪️عقیدہ ختمِ نبوت دینِ اسلام کی بنیاد ہے، اس کا تحفظ دینِ اسلام کا تحفظ ہے اور حضور خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی ذاتِ بابرکات کا تحفظ ہے۔

📿 *تحفظِ ختمِ نبوت کی مختصر تاریخ:*
حضور اقدس خاتَمُ الانبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:’’میرے بعد تیس جھوٹے نبی پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالاں کہ میں نبیوں میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘
☀ سنن ابی داود:
4254- عَنْ أَبِى أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ فِى أُمَّتِى كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِىٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، لَا نَبِىَّ بَعْدِى».
ماقبل میں یہ بات گزر چکی کہ عقیدہ ختمِ نبوت دینِ اسلام کی بنیاد ہے، اس کا تحفظ دینِ اسلام کا تحفظ ہے، حضور اقدس خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی ذاتِ بابرکات کا تحفظ ہے، جب حضور اقدس خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں مُسَیْلمہ کذاب نامی شخص نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو اس سنگین فتنے کی سرکوبی کے لیے حضور اقدس خاتَمُ الانبیاء ﷺ نے لشکر روانہ کرنا چاہا لیکن اسی دوران حضور اقدس خاتَمُ الانبیاء ﷺ کا وصال ہوگیا جس کی وجہ سے وہ لشکر روانہ نہ ہوسکا، پھر حضور اقدس خاتَمُ الانبیاء ﷺ کے وصال کے بعد منکرینِ ختمِ نبوت کے خلاف حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حکم پر تاریخی جنگ لڑی گئی۔ مسیلمہ کذاب کے علاوہ بھی امت میں بہت سے نبوت کے جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے جیسے طلیحہ اسدی اور اسود عنسی وغیرہ، جن کی سرکوبی کے لیے کوششیں ہوتی چلی گئیں، حتی کہ انگریزی استعمار کے دور میں انھی کے ایک خود کاشتہ پودے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، جن کا سنگین ترین فتنہ آج بھی اپنی شاخیں پھیلا رہا ہے اور جڑیں مضبوط کررہا ہے اور اپنے مکر وفریب سے مسلمانوں کو ایمان سے محروم کرنے بلکہ یوں کہیے کہ حضور اقدس خاتَمُ الانبیاء حضرت محمد ﷺ سے ان کا رشتہ ختم کرکے مرزا قادیانی جیسے ناپاک ملعون وجود سے جوڑنے کی بھرپور کوشش کررہا ہے اور اس کے لیے وہ تمام اوچھے ہتکھنڈے استعمال کررہا ہے جن سے ان کے ناپاک مقاصد کسی بھی صورت میں پورے ہوتے ہوں۔
حضرات اہلِ علم نے روزِ اول ہی سے مرزا غلام قادیانی اور ان کے پیروکاروں کی حقیقت واضح کرکے ان پر کفر کے فتوے لگا کر اس ایمان لیوا فتنے کی سرکوبی کی کوششیں فرمائیں، البتہ قانونی سطح پر اس فتنے کی سرکوبی اور تکفیر کا آغاز مقدمۂ بہاولپور سے ہوا کہ طویل بحث وتمحیص کے بعد عدالت نے ان کے اسلام سے خارج ہونے کا فیصلہ سنایا، پھر پاکستان میں سن 1953 میں تحریکِ ختمِ نبوت چلی، جس میں ہزاروں عاشقانِ رسول ﷺ نے ختمِ نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کی سرکوبی کے لیے قیمتی جانوں کی قربانی دی، پھر سن 1974 کی تحریک چلی جس میں بالآخر انھیں قانونی سطح پر بھی کافر قرار دے دیا گیا۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے ایک بہترین کتاب: مجاہدینِ ختمِ نبوت از حضرت اقدس مولانا اللہ وسایا صاحب دام ظلہم۔

📿 *قادیانیت اور مرزا قادیانی کا تعارف:*
قادیانیت مرزا غلام قادیانی کی طرف منسوب ہے کہ قادیانی اس کو اپنا نبی مانتے ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی سن 1839 یا 1840 میں قصبہ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گوردا سپور پنجاب میں پیدا ہوا۔ ابتدا میں ہندوؤں، آریوں اور عیسائیوں کے ساتھ مناظروں کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا اور مناظرِ اسلام کے طور پر کچھ شہرت پائی، پھر اپنی حقیقت ظاہر کرتے ہوئے مرزا نے بتدریج متعدد گمراہ کن سنگین دعوے کیے، چنانچہ:
▪️ 1880 میں مُلْہَم مِنَ اللّٰہ ہونے کا دعویٰ کیا کہ مجھے اللہ کی طرف سے الہام ہوتا ہے اور ہدایات ملتی ہیں۔
▪️ 1882 میں مجدّد ہونے کا دعویٰ کیا۔
▪️ 1891 میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا یعنی کہ جن عیسیٰ علیہ السلام نے آنا تھا وہ میں ہی ہوں۔
▪️ 1899 میں ظلی وبروزی نبوت کا دعویٰ کیا۔
▪️ 1901 میں مستقل صاحبِ شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔
ان کے علاوہ بھی عجیب وغریب دعوے کیے، جن کی تفصیل کے لیے دیکھیے ایک بہترین کتاب: آئینۂ قادیانیت از حضرت اقدس مولانا اللہ وسایا صاحب دام ظلہم۔

📿 *مرزا غلام قادیانی کی تکفیر کی وجوہات:*
شہرہ آفاق مقدمۂ بہاولپور میں امام العصر خاتمۃ المحدثین علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے مرزا قادیانی اور ان کے پیروکاروں کے کفر کی چھ وجوہات بیان فرمائیں:
1⃣ ختمِ نبوت کا انکار۔
2️⃣ نبوت کا دعویٰ۔
3⃣ وحی آنے کا دعویٰ اور اس پر ایمان لانے کو فرض قرار دینا۔
4️⃣ عیسیٰ علیہ السلام کی توہین۔
5️⃣ حضور اقدس خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی توہین۔
6️⃣ امت محمدیہ کی تکفیر۔
ان کے علاوہ بھی ان کے کفر کی متعدد وجوہات ہیں جن کی تفصیل کے لیے دیکھیے ایک بہترین کتاب: آئینۂ قادیانیت از حضرت اقدس مولانا اللہ وسایا صاحب دام ظلہم۔

📿 *قادیانی پاکستان کی آئین کی رو سے بھی کافر ہیں:*
واضح رہے کہ سن 1974 کی تحریکِ ختم نبوت میں طویل مباحثہ کے بعد آئینِ پاکستان کی رو سے بھی قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا، گویا کہ قرآن وسنت اور اجماعِ امت کی رو سے تو کافر تھے ہی، اس کے بعد ملکی دستور کی رو سے بھی کافر ٹھہرے، لیکن قادیانیوں نے اس آئین کو کبھی تسلیم نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ اس کی مخالفت ہی کی ہے، اس لیے قادیانیوں کو اقلیت کا درجہ بھی اسی وقت دیا جاسکتا ہے جب وہ آئین کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو غیر مسلم مان لیں۔

📿 *قادیانی اور عام کفار میں فرق:*
قادیانیوں اور دیگر غیر مسلموں میں واضح فرق ہے کہ عام غیر مسلم تو اسلام کو مانتے نہیں اور نہ ہی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں جبکہ قادیانی واضح طور پر کافر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں، ایسے لوگوں کو محض کافر ہی نہیں بلکہ زندیق کہا جاتا ہے، جن کا حکم عام کفار کے مقابلے میں بہت سخت ہے اور ان سے الگ ہے، جیسے شراب فروخت کرنا جرم ہے، لیکن اس سے بڑا جرم یہ ہے کہ شراب پر آبِ زمزم کا لیبل لگا کر فروخت کیا جائے، ظاہر کہ دونوں جرائم کو کون برابر کی حیثیت دے سکتا ہے! اس لیے قادیانیوں کو عام کافروں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا، ان کا حکم عام غیر مسلموں سے بالکل ہی الگ اور مختلف ہے یعنی یہ قادیانی صرف کافر ہی نہیں بلکہ سخت زندیق ہیں۔

📿 *عقیدۂ ختمِ نبوت کا تحفظ کیسے کریں؟*
عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کے پیشِ نظر ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس عقیدے کا تحفظ کرے، جس کی صورت یہ ہے کہ:
▪️عقیدہ ختم نبوت کی حقیقت اور اس کی اہمیت سے آگاہی حاصل کرے۔
▪️جھوٹی نبوت کے جھوٹے دعویداروں سے بھی آگاہی حاصل کرے، خصوصًا دور حاضر کے خطرناک ترین فتنۂ قادیانیت کی حقیقت اور ان کے مکر وفریب سے واقفیت حاصل کرے۔
▪️اس آگہی مہم میں اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور دیگر مسلمانوں کو بھی شریک کرے۔
▪️ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے مستند اہلِ علم، بزرگانِ دین اور اداروں کے زیرِ سایہ تحفظ ختم نبوت اور قادیانیت کے تعاقب کی خدمات سرانجام دے اور ان کے ساتھ تعاون کرے۔ ہمارے ہاں پاکستان میں عالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت کے نام سے حضرات اکابر ہی کا ایک نہایت ہی مستند ادارہ قائم ہے جو کہ آئین کے تحت بہت ہی مثبت انداز سے یہ عظیم خدمت سرانجام دے رہا ہے، ان کے ساتھ شریک ہوکر یہ خدمت بہتر انداز میں انجام دی جاسکتی ہے۔

⬅️ *ختمِ نبوت سے متعلق قرآنی آیت اور چند احادیث مبارکہ*
☀ سورتِ احزاب آیت نمبر 40:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمًا۞
▪️ *ترجمہ:*
(مسلمانو !) محمد (ﷺ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں، اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے۔
▪ *تفسیر:* چونکہ حضرت زید بن حارثہ کو آنحضرت ﷺ نے اپنا بیٹا قرار دیا تھا، اس لیے لوگ ان کو زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارتے تھے، پچھلی آیتوں میں جب یہ حکم جاری ہوا کہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا قرار نہیں دیا جاسکتا، تو حضرت زید کو زید بن محمد ﷺ کہنے کی بھی ممانعت ہوگئی، چنانچہ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں (کیونکہ آپ کی زندہ رہنے والی اولاد میں صرف بیٹیاں تھیں) لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کی وجہ سے پوری امت کے روحانی باپ ہیں، اور چونکہ آخری نبی ہیں اور قیامت تک کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں، اس جاہلیت کی رسموں کو اپنے عمل سے ختم کرنے کی ذمہ داری آپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن)
اس آیت میں واضح طور پر حضرت سیدنا محمد ﷺ کو آخری نبی قرار دیا گیا ہے، باقی ماقبل میں یہ بات ذکر ہوچکی ہے کہ قرآن کریم کی تقریبًا سو آیات سے یہ اہم عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔

⬅️ ذیل میں ختمِ نبوت سے متعلق صرف پانچ احادیث ذکر کی جاتی ہیں:
1⃣ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین وجمیل محل بنایا مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کے گرد گھومنے اور عش عش کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگا دی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں وہی (کونے کی آخری) اینٹ ہوں اور میں نبیوں میں سے آخری نبی ہوں۔‘‘
☀ صحیح بخاری میں ہے:
3535- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ: هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ؟ قَالَ: فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ.
(بَاب خَاتِمِ النَّبِيِّينَ ﷺ)
2️⃣ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: ’’بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو دوسرا نبی اس کی جگہ آجاتا تھا، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں البتہ خلفا ہوں گے اور بہت ہوں گے۔‘‘
☀ صحیح بخاری میں ہے:
3455- حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ قَالَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ قَالَ: قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ.
3️⃣ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: ’’مجھے چھ چیزوں میں انبیاء کرام پر فضیلت دی گئی ہے:
▪مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں۔
▪رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے۔
▪مالِ غنیمت میرے لیے حلال کردیا گیا ہے۔
▪روئے زمین کو میرے لیے مسجد اور پاک کرنے والی چیز بنادیا گیا ہے۔
▪مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیاہے۔
▪مجھ پر تمام نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔‘‘
☀ صحیح مسلم میں ہے:
1195- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ- عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «فُضِّلْتُ عَلَى الأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِىَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِىَ الأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً وَخُتِمَ بِىَ النَّبِيُّونَ ».
4️⃣ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: ’’رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا، اب میرے بعد نہ تو کوئی رسول آئے گا اور نہ ہی نبی آئے گا۔‘‘
☀ سنن الترمذی میں ہے:
2272- حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا المُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ».
5️⃣ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔‘‘
☀ سنن الترمذی میں ہے:
3686- حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا المُقْرِئُ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَوْ كَانَ نَبِيٌّ بَعْدِي لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ».

📿 *ختمِ نبوت اور قادیانیت سے متعلق چند اہم کتب:*
▪️ختم نبوت کامل از حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ۔
▪️ردِّ قادیانیت کے زریں اصول از حضرت اقدس مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اللہ۔
▪️آئینۂ قادیانیت از حضرت اقدس مولانا اللہ وسایا صاحب دام ظلہم۔
▪️قادیانی شبہات کے جوابات از عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔

22/08/2022

Hi.

07/07/2022

📿 *کون کون سے جانوروں کی قربانی جائز ہے؟*

قربانی چونکہ ایک مخصوص عبادت کا نام ہے، اس لیے ہر حلال جانور کی قربانی جائز نہیں بلکہ اس کے لیے چند مخصوص حلال جانور مقرر ہیں، صرف انہی کی قربانی جائز ہے، اور وہ جانور درج ذیل ہیں:
▪اونٹ، اونٹنی۔
▪گائے، بیل، بھینس، بھینسا۔
▪بکرا، بکری۔
▪دنبہ، مینڈھا، بھیڑ۔
(فتاویٰ قاضی خان، بدائع الصنائع، رد المحتار، ذوالحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام از مفتی محمد رضوان صاحب دام ظلہم)

❄️ *وضاحت:*
شریعت کا اصول یہ ہے کہ جانور حلال اور حرام ہونے میں اپنی ماں کے تابع ہوا کرتا ہے، اگر ماں حلال ہے تو بچہ بھی حلال ہوگا اگرچہ وہ کسی حرام جانور کے مشابہہ ہی کیوں نہ ہو، اور اگر ماں حرام ہے تو بچہ بھی حرام ہوگا اگرچہ وہ کسی حلال جانور کے مشابہہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے اگر ان مذکورہ قربانی کے جانوروں میں سے کوئی مادہ جانور کسی حرام جانور سے حاملہ ہوئی ہو تو اس سے پیدا ہونے والا بچہ حلال ہوگا اور اس کی قربانی بھی جائز ہوگی۔ (بدائع، رد المحتار، ذوالحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام از مفتی محمد رضوان صاحب دام ظلہم)
☀ البحر الرائق میں ہے:
قال رَحِمَهُ اللهُ: (وَالْأُضْحِيَّةُ من الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ)؛ لِأَنَّ جَوَازَ التَّضْحِيَةِ بِهَذِهِ الْأَشْيَاءِ عُرِفَتْ شَرْعًا بِالنَّصِّ علی خِلَافِ الْقِيَاسِ فَيُقْتَصَرُ على ما وَرَدَ، وَتَجُوزُ بِالْجَامُوسِ؛ لِأَنَّهُ نَوْعٌ من الْبَقَرِ، بِخِلَافِ بَقَرِ الْوَحْشِ حَيْثُ لَا تَجُوزُ الْأُضْحِيَّةُ بِهِ؛ لِأَنَّ جَوَازَهَا عُرِفَ بِالشَّرْعِ، وفي الْبَقَرِ الْأَهْلِيِّ دُونَ الْوَحْشِيِّ، وَالْقِيَاسُ مُمْتَنِعٌ، وفي الْمُتَوَلَّدِ منها تُعْتَبَرُ الْأُمُّ، وَكَذَا في حَقِّ الْمَحَلِّ تُعْتَبَرُ الْأُمُّ اهـ. (كتاب الأضحية)

📿 *قربانی کے جانوروں کی عمریں:*
▪ *اونٹ، اونٹنی:*
کم از کم پانچ سال۔
▪ *گائے، بیل، بھینس، بھینسا:*
کم از کم دو سال۔
▪ *بکرا، بکری، دنبہ، بھیڑ، مینڈھا:*
کم از کم ایک سال۔
اگر قربانی کے جانور کی عمر مذکورہ بالا عمر سے کم ہو بھلے ایک دن ہی سہی تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں۔
(بدائع الصنائع، رد المحتار، جواہر الفقہ، اعلاء السنن)

📿 *چھ ماہ کے دنبے، مینڈھے اور بھیڑ سے متعلق وضاحت:*
دنبہ، بھیڑ اور مینڈھا اگر سال سے کم ہو اور کم از کم چھ ماہ یا اس سے زیادہ کا ہو لیکن اس قدرصحت مند اور بڑا ہو کہ ایک سال کا معلوم ہوتا ہو اور اس میں اور سال کی عمر والے دنبوں میں فرق نہ ہوسکے تو ان کی قربانی تب بھی جائز ہے۔ یاد رہے کہ یہ حکم بکری اور بکرے کے لیے نہیں ہے۔
(مجمع الانہر، فتح القدیر، اعلاء السنن، تکملۃ فتح الملہم، فتاویٰ رحیمیہ، قربانی اور ذو الحجہ کے فضائل از حضرت مفتی عبد الرؤف سکھروی صاحب دام ظلہم)

📿 *جانوروں کی عمروں میں اسلامی سال کا اعتبار:*
جانوروں کی ان عمروں میں اصل اعتبار اسلامی یعنی چاند کے سال کا ہے نہ کہ شمسی سال کا، اس لیے چاند کے اعتبار سے عمر پوری ہونا ضروری ہے بھلے شمسی سال کے اعتبار سے ان کی عمر کم ہو۔
(ذو الحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام از مفتی محمد رضوان صاحب دام ظلہم)

❄️ *مسئلہ:* اگر کسی جانور کی عمر قربانی کے ایام میں پوری ہورہی ہو تو عمر پوری ہوجانے کے بعد ہی اس کی قربانی جائز ہے، اسی طرح اگر کسی جانور کی عمر قربانی کے تیسرے دن پوری ہورہی ہو تو تیسرے دن ہی اس کی قربانی جائز ہوگی، اس سے پہلے نہیں۔(ذو الحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام از مفتی محمد رضوان صاحب دام ظلہم، فتاویٰ رحیمیہ)

📿 *قربانی کے جانوروں میں کم از کم دو دانت ہونے کی شرعی حیثیت:*
مذکورہ بالا قربانی کے جانور جب اپنی ان مطلوبہ عمروں کو پہنچ جاتے ہیں تو عمومًا ان کے دو دانت نکل آتے ہیں، جو کہ اس بات کی علامت ہوا کرتے ہیں کہ جانور کی مطلوبہ عمر پوری ہوچکی ہے، لیکن اس میں یہ بات یاد رہے کہ اصل اعتبار عمر کا ہے نہ کہ دانتوں کا، اگر کسی جانور کی عمر پوری ہوچکی ہو لیکن اس کے دو دانت ابھی تک نہیں نکلے ہوں تو ایسے جانور کی قربانی بھی جائز ہے۔ اگر کسی جانور کے دانت پورے نہ ہوں لیکن بیوپاری کا کہنا ہو کہ عمر پوری ہوچکی ہے اگرچہ دانت نہیں نکلے ہیں اور جانور کی ظاہری حالت بھی یہی بتلا رہی ہو کہ عمر پوری ہوچکی ہے تو ایسی صورت میں بیوپاری کی بات پر اعتماد کرنے کی گنجائش ہے، لیکن بعض اہلِ علم کے نزدیک جب تک بیوپاری قابلِ اعتماد نہ ہو تو صرف اس کی بات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، اس لیے اس معاملے میں مناسب یہی ہے کہ کسی ماہر کی رائے لے لی جائے یا بصورتِ دیگر کسی ایسے جانور کا انتخاب کیا جائے جس میں شک وشبہ نہ ہو۔
(جواہر الفقہ، فتاویٰ رحیمیہ ودیگر کتب)

☀ صحیح مسلم میں ہے:
5194- عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لا تَذْبَحُوا إِلا مُسِنَّةً إِلا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ». (باب سِنِّ الأُضْحِيَةِ)
☀ سنن ابی داود میں ہے:
2801- عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ ﷺ يُقَالُ لَهُ: مُجَاشِعٌ مِنْ بَنِى سُلَيْمٍ فَعَزَّتِ الْغَنَمُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ الْجَذَعَ يُوَفِّى مِمَّا يُوَفِّى مِنْهُ الثَّنِىُّ».
☀ سنن الترمذی میں ہے:
1499- عَنْ أَبِي كِبَاشٍ قَالَ: جَلَبْتُ غَنَمًا جُذْعَانًا إِلَى المَدِينَةِ فَكَسَدَتْ عَلَيَّ، فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «نِعْمَ الْأُضْحِيَّةُ الجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ»، قَالَ: فَانْتَهَبَهُ النَّاسُ. وَفِي البَابِ عَن ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأُمِّ بِلَالِ ابْنَةِ هِلَالٍ عَنْ أَبِيهَا، وَجَابِرٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ، حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا. وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِهِمْ أَنَّ الجَذَعَ مِنَ الضَّأْنِ يُجْزِئُ فِي الأُضْحِيَّةِ.
1500- عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ أَوْ جَدْيٌ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ، فَقَالَ: «ضَحِّ بِهِ أَنْتَ». هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَالَ وَكِيعٌ: الجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ يَكُونُ ابْنَ سِتَّةِ أَوْ سَبْعَةِ أَشْهُرٍ.
☀️ فتاویٰ قاضی خان میں ہے:
ويشترط الكامل فلا يجوز الناقص، سواء كان النقصان من حيث السن أو من حيث الذات، فلا يجوز من الإبل والبقر والمعز إلا الثني، والثني من الإبل: ما أتى عليه خمس سنين وطعن في السنة السادسة، يقال له: سديس وبازل عام. والثني من البقر: ما أتى عليه سنتان وطعن في الثالثة. والثني من الغنم والمعز: ما تمت له سنة وطعن في الثانية. ويجوز من الإبل والبقر والمعز الثنيان، ولا يجوز الجذعان إلا الجذع العظيم من الضأن، وهو عند الفقهاء الذي أتى عليه أكثر السنة ستة أشهر وشئ من الشهر السابع، فيجوز إذا كان عظيما سمينا بحيث لو رآه إنسان يحسبه ثنيا. (فصل فيما يجوز في الضحايا وما لا يجوز)
☀ مجمع الانہر میں ہے:
(وَإِنَّمَا يُجْزِئُ فِيهَا) أَيْ فِي الْأُضْحِيَّةِ (الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ) الْجَذَعُ: شَاةٌ تَمَّتْ لَهَا سِتَّةُ أَشْهُرٍ عِنْدَ الْفُقَهَاءِ إذَا كَانَتْ عَظِيمَةً لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «لَا تَذْبَحُوا إلَّا مُسِنَّةً إلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِن الضَّأْنِ»، وَعِنْدَ أَهْلِ اللُّغَةِ: مَا تَمَّتْ لَهُ سَنَةٌ، وَذَكَرَ الزَّعْفَرَانِيُّ أَنَّهُ ابْنُ سَبْعَةِ أَشْهُرٍ وَعَن الزُّهْرِيِّ: مِن الْمَعْزِ لِسَنَةٍ، وَمِن الضَّأْنِ لِثَمَانِيَةِ أَشْهُرٍ. (وَالثَّنِيُّ فَصَاعِدًا مِن الْجَمِيعِ) وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ مِن الْإِبِلِ، وَحَوْلَيْنِ مِن الْبَقَرِ وَالْجَامُوسِ، وَحَوْلٍ مِن الشَّاةِ وَالْمَعْزِ؛ لِأَنَّهُ عُرِفَ بِالنَّصِّ عَلَى خِلَافِ الْقِيَاسِ فَيَقْتَصِرُ عَلَيْهَا. وَالْمَوْلُودُ بَيْنَ الْأَهْلِيِّ وَالْوَحْشِيِّ يَتْبَعُ الْأُمَّ؛ لِأَنَّهَا هِيَ الْأَصْلُ فِي التَّبَعِيَّةِ فَيَجُوزُ بِالْبَغْلِ الَّذِي أُمُّهُ بَقَرَةٌ، وَبِالظَّبْيِ الَّذِي أُمُّهُ شَاةٌ.

07/07/2022

🌻 *کیا گھر کے سربراہ کی ذاتی قربانی اس کے اہل وعیال کی طرف سے کافی ہے؟*

آجکل یہ غلط فہمی عام ہے کہ بہت سے لوگ گھر کے سربراہ کے ذاتی حصے کی قربانی گھر کے دیگر افراد کی جانب سے کافی سمجھتے ہیں کہ جب گھر کے بڑے نے اپنی قربانی کرلی اور اسی میں گھر کے افراد کی نیت بھی کرلی (یا بعض کے بقول نیت نہ بھی کی) تو گھر کے تمام افراد کی طرف سے یہ قربانی کافی ہے، ایسی صورت میں گھر کے دیگر صاحبِ نصاب افراد کے ذمے قربانی کرنا واجب نہیں رہتا۔ اور اس کے لیے ’’مسند احمد‘‘ کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ: ’’حضور اقدس ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو بڑے موٹے تازے سینگوں والے سیاہ وسفید رنگت والے دو خصی مینڈھے خریدتے، اُن میں سے ایک اپنے اُن امتیوں کی طرف سے قربان کرتے جنھوں نے اللہ کی توحید اور آپ کی تبلیغ کی گواہی دی، اور دوسرا اپنی اور اپنے اہل وعیال کی طرف سے قربان کرتے۔‘‘ ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ اس حدیث کے مطابق حضور اقدس ﷺ نے اپنے اور اپنے اہل وعیال کی جانب سے ایک ہی دنبے کی قربانی فرمائی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے سربراہ کے ذاتی حصے کی قربانی پورے گھر کی طرف سے کافی ہوجاتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ غلط فہمی ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کی تفصیل سے وضاحت کی جائے تاکہ اس غلط فہمی کا ازالہ ہوسکے، جس کے لیے پہلے مسئلہ کی صحیح صورتحال بیان کی جاتی ہے۔

📿 *قربانی کے نصاب میں ذاتی ملکیت کا اعتبار:*
احناف سمیت متعدد ائمہ کرام کا مذہب یہ ہے کہ ہر شخص پر اسی کی ملکیت کے اعتبار سے قربانی واجب ہے۔ میاں بیوی، والدین اولاد، بہنوں اور بھائیوں میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی ملکیت کا الگ الگ حساب لگایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر شوہر اور بیوی دونوں ہی صاحبِ نصاب ہوں تو دونوں کے ذمّے الگ الگ حصے کی قربانی واجب ہوگی، اسی طرح اگر والد بھی صاحبِ نصاب ہو اور بیٹا بھی تو دونوں کے ذمّے الگ الگ حصے کی قربانی واجب ہوگی، یہی حکم بہنوں، بھائیوں اور دیگر افراد کا بھی ہے۔ اسی طرح قربانی واجب ہونے کے لیے ایک کے مال کو دوسرے کے مال کے ساتھ جمع نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان میں سے جس کی بھی ملکیت میں نصاب کے بقدر مال آجائے تو اسی کے ذمّے قربانی واجب ہے اور جس کی ملکیت میں نصاب کے برابر مال نہ ہو تو اس کے ذمے قربانی واجب نہیں۔ (فتاویٰ عثمانی، رد المحتار)
یہ متعدد روایات اور شرعی دلائل واصول سے اخذ شدہ ایک عام ضابطہ ہے جس میں کوئی استثنا نہیں۔
2️⃣ جو شخص صاحبِ نصاب ہو اس کے ذمّے اسی کی قربانی واجب ہے، اس کے ذمے کسی اور کی قربانی واجب نہیں، ہاں اگر یہ شخص دوسرے کی اجازت سے اس کی طرف سے قربانی کرلے تو بھی جائز ہے۔
(رد المحتار، فتاویٰ محمودیہ، فتاویٰ عثمانی، فتاویٰ رحیمیہ)

📿 *گھر کے افراد کو اپنی ذاتی قربانی میں شریک کرنے کی دو صورتیں:*
گھر کا سربراہ اپنی ذاتی قربانی میں گھر کے دیگر افراد کو بھی شریک کرنا چاہے تو اس کی دو صورتیں ہیں:
1⃣ قربانی تو گھر کے سربراہ ہی کی طرف سے ہو البتہ ثواب میں گھر والوں کو بھی شریک کیا جائے تو یہ صورت جائز ہے، اور حضور اقدس ﷺ کا گھر والوں کو قربانی میں شریک کرنے کا یہی مطلب ہے، جیسا کہ آگے تفصیل مذکور ہے۔
2️⃣ گھر کا سربراہ گھر والوں کو اپنی واجب قربانی میں شریک کرنا چاہے کہ گھر والوں کی طرف سے بھی قربانی ادا ہوجائے تو ایسی صورت میں گھر کے سربراہ کی ذاتی قربانی گھر کے دیگر افراد کی طرف سے ہرگز کافی نہ ہوگی، بلکہ گھر کے صاحبِ نصاب افراد میں سے ہر ایک کے ذمے الگ سے قربانی کرنی واجب ہے۔ یہی روایات اور شرعی دلائل کا تقاضا ہے، اس لیے اسی پر عمل ہونا چاہیے۔
گھر کے سربراہ کی ذاتی قربانی پورے گھر کی طرف سے کافی نہ ہونے کی وجوہات ماقبل کی تفصیل سے صحیح مسئلہ واضح ہوگیا کہ گھر کے سربراہ کی ذاتی قربانی پورے گھر کی طرف سے کافی نہیں اگرچہ وہ سب کی طرف سے قربانی کی نیت کرے، اس کی متعدد وجوہات ہیں:
📿 *پہلی وجہ:*
حدیث شریف میں ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس کے پاس وسعت ہو اور وہ اس کے باوجود بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔‘‘
☀ سنن ابن ماجہ میں ہے:
3123- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا».

❄️ *مذکورہ حدیث سے مأخوذ چھ اہم فوائد:*
1⃣ صاحبِ نصاب ہونے کے باوجود قربانی نہ کرنے پر مذکورہ وعید سے قربانی کی اہمیت اور تاکید بخوبی معلوم ہوجاتی ہے ۔
2️⃣ قربانی نہ کرنے پر مذکورہ وعید سے قربانی کے واجب ہونے کی طرف بھی اشارہ ہوجاتا ہے کیوں کہ یہ وعید واجب جیسے احکام ترک کرنے پر ہی وارد ہوسکتی ہے۔ (البحر الرائق)
3⃣ اس حدیث سے زیرِ بحث مسئلہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ گھر کے سربراہ کی ذاتی قربانی پورے گھر کی طرف سے کافی نہیں کیوں کہ اس حدیث میں ’’مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ‘‘ کے الفاظ عام ہیں جو کہ گھر کے تمام افراد کو شامل ہیں، اس میں یہ تخصیص نہیں کہ گھر کا سربراہ اگراپنی قربانی کرلے تو یہ گھر کے دیگر افراد کی طرف سے بھی کافی ہوجائے گی اور اس صورت میں گھر کے دیگر صاحبِ نصاب افراد قربانی نہ کرنے کی اس وعید میں داخل نہیں ہوں گے، کیوں کہ اس کے لیے صحیح اور صریح دلیل ہونی چاہیے جو کہ موجود نہی اس حدیث میں ’’مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ‘‘ کے الفاظ سے اور دیگر روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک پر اس کی ذاتی ملکیت کی بنیاد پر قربانی واجب ہوتی ہے، جیسا کہ زکوٰۃ، صدقۃ الفطر اور حج ہے، اس لیے اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ جس کی ملکیت میں نصاب کے بقدر مال موجود ہو اس کے ذمے قربانی واجب ہوگی اور جس کے پاس نصاب نہیں اس پر قربانی واجب نہیں، یہ ایک عام شرعی اصول ہے، اس لیے جس طرح یہ دیگر مسلمانوں پر لاگو ہوتا ہے اسی طرح یہی اصول گھر کے افراد پر بھی لاگو ہوگا کہ گھر کے سربراہ کے ذاتی حصے کی قربانی گھر کے دیگر افراد کی طرف سے کافی نہیں۔
5️⃣ ایک لطیف بات یہ ہے کہ اگر گھر کے سربراہ کی اپنی قربانی سب گھر کی طرف سے کافی ہوتی تو حدیث کی اس وعید کا مصداق صرف وہی گھر ہوگا جس میں گھر کے سربراہ سمیت گھر کا کوئی بھی فرد قربانی نہ کرے، لیکن جہاں گھر کے سربراہ نے قربانی کی اور سب کی نیت کرلی تو اس طرح وہ مکمل گھر اس وعید سے محفوظ ہوگیا حالاں کہ انھوں نے صاحبِ نصاب ہونے کے باوجود قربانی نہیں کی، ظاہر ہے کہ یہ مطلب اور فرق کیسے مراد لیا جاسکتا ہے جبکہ حدیث میں عموم ہے، کوئی استثنا نہیں؟؟
6️⃣ اس حدیث میں’’وُسعت‘' کی قید سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ قربانی ہر ایک پر واجب نہیں بلکہ وُسعت اور استطاعت والے شخص ہی پر واجب ہے، اور صاحبِ وسعت سے مراد صاحبِ نصاب ہونا ہے۔

📿 *دوسری وجہ:*
نماز، زکوٰۃ، حج، سجدہ تلاوت سمیت دیگر فرائض اور واجبات جس طرح ہر ایک کے ذمے ذاتی حیثیت سے لازم ہوتے ہیں، کسی شخص کے ایسے ذاتی اعمال دوسروں کی طرف سے کافی نہیں ہوتے تو اسی طرح قربانی بھی ہر ایک کے ذمے ذاتی حیثیت سے واجب ہوتی ہے، کسی کی ذاتی قربانی دوسروں کی طرف سے کافی نہیں ہوجاتی۔

📿 *تیسری وجہ:*
گھر کے سربراہ کے اپنے ایک حصے کی قربانی پورے گھر کی طرف سے کافی ہوجانے کی بات اُن روایات کے بھی خلاف ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک بکری یا دنبہ صرف ایک ہی شخص کی طرف سے کافی ہوسکتا ہے، اس میں شرکت جائز نہیں، یہ روایات سے اخذ شدہ عام اصول ہے، اس لیے یہی اصول گھر کے افراد پر بھی لاگو ہوگا کہ گھر کے سربراہ کے ذاتی حصے کی قربانی گھر کے دیگر افراد کی طرف سے کافی نہیں۔

📿 *چوتھی وجہ:*
یہ حضرات جس حدیث سے استدلال کرتے ہیں اس میں چوں کہ دنبے کا ذکر ہے اس لیے اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر گھر کے سربراہ کی ایک بکری یا دنبے کی قربانی پورے گھر کی طرف سے کافی ہے تو پھر کسی بڑے جانور میں گھر کے سربراہ کے ایک حصے کی قربانی بھی سب کی طرف سے کافی ہوگی، تو جب ایک ہی بڑے جانور میں سات افراد اس طرح شریک ہوں کہ اُن میں سے ایک یا زیادہ افراد گھر کے سربراہ کے طور پر شریک ہوجائیں اور گھر کے افراد کی بھی نیت کرلیں تو ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں شرکاء کی تعداد سات سے زیادہ ہوجائے گی جو کہ خود روایات کے خلاف ہے۔
☀ صحیح مسلم میں ہے:
3248- عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ نَشْتَرِكَ فِى الإِبِلِ وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِى بَدَنَةٍ.
☀ المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:
9884- عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ فِي الأَضَاحِيِّ.
☀ سنن ابن ماجہ میں ہے:
3136- عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً، وَأَنَا مُوسِرٌ بِهَا، وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ ﷺ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ فَيَذْبَحَهُنَّ.

📿 *زیرِ بحث مسئلے سے متعلق ایک حدیث اور اس کا صحیح مطلب:*
ماقبل کی تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ گھر کے افراد میں سے جو جو افراد صاحبِ نصاب ہوں تو ہر ایک کے ذمے الگ الگ حصے کی قربانی واجب ہے، گھر کے سربراہ کے ذاتی حصے کی قربانی گھر کے دیگر افراد کی جانب سے ہرگز کافی نہیں۔
اس مسئلہ سے متعلق بعض حضرات جس حدیث سے استدلال کرتے ہیں وہ ماقبل میں ذکر ہوچکی ہے کہ مسند احمد میں ہے کہ حضور اقدس ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو بڑے موٹے تازے سینگوں والے سیاہ وسفید رنگت والے دو خصی مینڈھے خریدتے، اُن میں سے ایک مینڈھا اپنے اُن امتیوں کی طرف سے قربان کرتے جنھوں نے اللہ کی توحید اور آپ کی تبلیغ کی گواہی دی، اور دوسرا مینڈھ اپنی اور اپنے اہل وعیال کی طرف سے قربان کرتے۔
25843- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوأَيْنِ قَالَ: فَيَذْبَحُ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ، وَيَذْبَحُ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ.

⬅️ *حدیث کا صحیح مطلب:*
اس حدیث میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ حضور اقدس ﷺ اپنے اہل وعیال کی طرف سے جو قربانی فرماتے تھے وہ گھر والوں کی واجب قربانی ہی ہوتی تھی، بلکہ اس حدیث کا درست مطلب یہی ہے کہ قربانی تو حضور اقدس ﷺ ہی کی جانب سے ہوا کرتی تھی البتہ اس کے ثواب میں اپنے گھر والوں کو بھی شریک فرمالیا کرتے تھے کہ ان کو بھی ایصالِ ثواب کردیا کرتے، اور یہ صورت بالکل جائز ہے۔
▫️اس حدیث کا یہ مطلب مراد لینے کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ اس صورت میں اس کا دیگر دلائل اور شرعی اصول سے ٹکراؤ پیدا نہیں ہوتا جن کی تفصیل ماقبل میں بیان ہوچکی، دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اسی روایت میں یہ الفاظ بھی ہے کہ حضور اقدس ﷺ اپنی امت کی طرف سے بھی قربانی کیا کرتے تھے، تو اس سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ امت کی طرف سے قربانی کرنے کا مقصد سوائے ثواب پہنچانے کے اور کیا ہوسکتا ہے؟؟ تو اسی طرح ازواج مطہرات کی جانب سے کی جانے والی قربانی کا مقصد بھی یہی ہے۔
حضور اقدس ﷺ کا اپنی امت کی طرف سے قربانی کرنے سے متعلق چند مزید روایات ملاحظہ فرمائیں:
1⃣ حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذبح (یعنی قربانی) کے دن دو سینگوں والے خصی دنبے ذبح کرنے چاہے تو ان کو قبلہ رخ کیا اور پھر یہ دعا پڑھی:
*إِنِّىْ وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِىْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيْفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ، إِنَّ صَلَاتِىْ وَنُسُكِىْ وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِىْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، لَا شَرِيْكَ لَهُ، وَبِذٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ.*
پھر فرمایا کہ: ’’اےاللہ! یہ قربانی تیری طرف سے ہے اور خالص تیری ہی رضا کے لیے ہے، تو اس کو محمد اور اس کی امت کی جانب سے قبول فرما۔‘‘ اس کے بعد آپ ﷺ نے ذبح فرمایا۔
☀ سنن ابی داود میں ہے:
2797- عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِىُّ ﷺ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ: «إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلاتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ، بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ»، ثُمَّ ذَبَحَ.
2️⃣ مسند احمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے دنبہ اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور یوں فرمایا کہ: ’’بِسْمِ اللهِ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اے اللہ! یہ قربانی میری جانب سے ہے اور میرى امت کے ہر اس فرد کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی۔‘‘
14837- عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو: أَخْبَرَنِي مَوْلَايَ الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ عِيدَ الْأَضْحَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَى بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ فَقَالَ: «بِسْمِ اللهِ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُمَّ إِنَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي».
▫️کیا ان روایات کی رو سے کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ چوں کہ حضور اقدس ﷺ نے امت کی طرف سے بھی قربانی فرمادی ہے جس کے نتیجے میں سب کی طرف سے واجب قربانی ادا ہوگئی، اس لیے اب امت میں سے کسی کوبھی قربانی کرنے کی ضرورت نہیں، ظاہر ہے کہ یہ بات ہرگز درست نہیں کیوں کہ ایک تو یہ شرعی دلائل کے بھی خلاف ہے، دوم یہ کہ پھر تو قربانی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات کالعدم اور بے معنیٰ قرار پائیں گی اور قربانی جیسی عظیم عبادت معطّل ہوکر رہ جائے گی، معاذ اللہ۔ اس لیے جب امت کی طرف سے قربانی کرنے کی صورت میں ایصالِ ثواب ہی کا معنیٰ مراد لیا جاتا ہے تو گھر والوں کی طرف سے قربانی کرنے کی صورت میں بھی ایصالِ ثواب ہی مراد لیا جائے گا۔
☀ جیسا کہ ’’عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری‘‘ میں ہے:
قَالَ ابْن بطال فِي «الْمَغَازِي» للْبُخَارِيّ: عَن بُرَيْدَة: أَن النَّبِي ﷺ كَانَ بعث عليًّا إِلَى الْيمن قبل حجَّة الْوَدَاع ليقْبض الْخمس، فَقدم من سعايته، فَقَالَ النَّبِي ﷺ: «بِمَا أَهلَلْت يَا عَليّ؟» قَالَ: بِمَا أهل بِهِ رَسُول الله ﷺ. قَالَ: «فاهدِ وامكث حَرَامًا كَمَا كنت»، قَالَ: فأهدى لَهُ عَليّ هَديا، قَالَ: فَهَذَا تَفْسِير قَوْله: «وأشركه فِي الْهَدْي» أَن الْهَدْي الَّذِي أهداه عَليّ عَن النَّبِي ﷺ وَجعل لَهُ ثَوَابه فَيحْتَمل أَن يفرده بِثَوَاب ذَلِك الْهَدْي، كُله فَهُوَ شريك لَهُ فِي هَدْيه؛ لِأَنَّهُ أهداه عَنهُ تَطَوّعا من مَاله، وَيحْتَمل أَن يشركهُ فِي ثَوَاب هدي وَاحِد يكون بَينهمَا، كَمَا ضحى ﷺ عَنهُ وَعَن أهل بَيته بكبش، وَعَمن لم يضح من أمته وأشركهم فِي ثَوَابه، وَيجوز الِاشْتِرَاك فِي هدي التَّطَوُّع.
(بابُ الاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ والْبُدْنِ)
اس بحث کی تفصیل ’’اعلاء السنن‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں.

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Islamabad