Jannat online QURAN Academy

Jannat online QURAN Academy

Share

Learn, Love & Live the Quran... Everyday! Our Online Quran Academy offers an easy way for all students. We offer special classes to People of different ages.

We aim to teach the Book of Allah to Muslims all across the world.

13/12/2025
08/11/2024

میت کا اکرام
اسے ڈر لگ رہا تھا، اسے واقعی ڈر لگ رہا تھا!!!
ایسا لگ رہا تھا کہ میت کے ہونٹوں کے کنارے گیلے ہو رہے ہیں،
جلد بھی گیلی سی معلوم ہو رہی تھی.
میت کی بیٹی وضاحت دے رہی تھی کہ ہسپتال میں امی کو روزانہ آٹھ سے نو ڈرپیں لگتی تھیں اسی لیے اتنی سوجن ہے.
لیکن نہیں! یہ سوجن نہیں تھی بلکہ خاتون کا جسم پھول رہا تھا اور بہت خطرناک حد تک پھول چکا تھا جبکہ دفنانے میں ابھی بھی کچھ وقت تھا.

اُس وقت سوال بس یہی تھا کہ اتنی دیر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

•••••••••

کمرے میں ایک طرف چارپائی پر میت بغیر نہلائے رکھی تھی. میت کے منہ پر روئی رکھ کر کَس کے پٹی باندھ دی گئی تھی تاکہ منہ بند رہے اور اس سے کوئی مواد نہ آنے لگے (کینسر کے اکثر مریضوں کو انتقال کے بعد یہ مسئلہ ہوتا ہے). ان کا انتقال صبح سویرے ہوا تھا لیکن انہیں اگلے دن دوپہر کو دفنانا تھا. اتنا انتظار کرنے کے لیے ضروری تھا کہ میت کے کمرے کو سرد رکھا جائے. پہلے اےسی چلایا گیا. پھر ایک چِلر بھی کھڑا کر دیا گیا. اس کے بعد بڑے سے ٹب میں برف ڈال کر میت کی چارپائی کے نیچے رکھ دی گئی.

یہاں بھی یہی سوال تھا کہ اتنی دیر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ویسے یہ سوال بھی ذہن میں ابھر رہا تھا کہ میت کو مسنون غسل کیسے دیا جا سکے گا؟ سردی سے اکڑے ہوئے ہاتھ، پاؤں کیسے ہلیں گے؟ کیا اس طرح سے نہلایا جا سکے گا کہ مکمل جسم صاف ہو جائے؟

•••••••••

خاتون کو جیسے ہی وینٹی لیٹر سے اتارا، ان کا انتقال ہو گیا. آدھی رات کو دکھ اور تکلیف کی حالت میں بیٹے بوڑھی ماں کی میت گھر لے جانے کا بندوبست کرنے لگے. ایک طرف بیٹے ماں کو لے کر گھر کی طرف چلے، دوسری طرف بیٹی اپنے گھر روانہ ہوئیں. گھر جا کر مہنگا سا جوڑا پہنا، ہاتھوں کو ہیرے کی انگوٹھییوں سے سجایا اور ماں کے گھر چلی آئیں. وہاں سب لوگ دفنانے کی جلدی میں تھے کیونکہ ڈاکٹر انہیں بتاچکا تھا کہ میت کے منہ، ناک، کان سے خون جاری ہونے کا خدشہ ہے. لیکن بیٹی کی ضد تھی کہ والدہ کو صبح ہونے پر دفنایا جائے کیونکہ وہ آخری بار اپنی ماں کے پاس زیادہ دیر کے لیے بیٹھنا چاہتی ہیں. سو بیٹی سے ہار مانتے ہوئے احتیاطاً میت کی چارپائی کو اےسی کے سامنے کر دیا گیا اور چارپائی کے نیچے برف سے بھرے ٹب رکھ دیے. لیکن وہی ہوا جس کا ڈر تھا. پہلے ناک سے خون جاری ہوا تو گھر والوں نے ناک میں برف رکھ دی. پھر کان سے خون بہنے لگا تو کان میں بھی برف ڈال دی. خدا خدا کر کے روشنی ہوئی تو جنازہ اٹھا لیا گیا.

یہاں بھی سوال وہی تھا. آخر اتنی دیر کیوں کی گئی؟

•••••••••

ان تینوں واقعات میں انتظار کی کوئی وجہ ضرور ہو گی. جہاں بھی جنازے میں تاخیر کی جاتی ہے وہاں کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہی ہے. کہیں کسی قریبی رشتے کا انتظار ہوتا ہے اور کہیں مجمع اکٹھا کرنے کا شوق. لیکن وجہ کوئی بھی ہو سوال یہ ہے کہ کیا یہ وجوہات واقعی اہم ہوتی ہیں؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے دو احادیث پڑھیے

1) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے” جنازے میں جلدی کرو اگر (میت) نیک ہے تو تم نے اسے بھلائی کے قریب کر دیا اور اگر وہ اس کے سوا ہے ، تو شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار دو گے.

2) ام المومنین حضرت عائشہ‬ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میت کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کہ زندہ کی توڑنا‘‘ (ابو داؤد)

پہلی حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے میت کو جلد دفنانے کا حکم دیا ہے اور دوسری حدیث سے پتا چلا کہ انسان اپنی موت کے بعد بھی تکلیف محسوس کرتا ہے. یہ بھی واضح ہوا کہ میت کا اکرام زندہ انسان کی طرح کرنا چاہیے.

احادیث سمجھنے کے بعد پھر سے اوپر لکھے واقعات کو ذہن میں لائیے. خدانخواستہ اگر کسی کی لاش قبر میں جانے سے پہلے ہی خراب ہو جائے تو کیسا عبرت ناک منظر ہو گا. لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے اور میت کے بہت زیادہ گناہ گار ہونے کا یقین رکھیں گے. جبکہ اصل حقیقت یہی ہے کہ قبر میں سب انسانوں کا جسم پھٹ جاتا ہے، الا ما شاء اللہ. میت کو جلد دفنانے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ موت کے بعد کے ایسے معاملات کو چھپا دیا جائے. ضروری نہیں کہ اگر جسم قبر میں جانے سے پہلے خراب ہو جائے یا کوئی عیب ظاہر ہو جائے تو لازماً میت بہت گناہ گار تھی. ایسی بات سوچتے یا کہتے ہوئے اللہ سے ڈرنا چاہیے. بہرحال یہ مسئلہ دفنانے میں تاخیر سے ہی پیدا ہوتا ہے. دوسرے واقعے کو دیکھیں تو ہم سب جانتے ہیں کہ چاہے کتنی ہی گرمی کیوں نہ ہو، کوئی بھی زیادہ دیر کے لیے اےسی اور چلر کے سامنے نہیں لیٹ سکتا. یہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے. مگر پھر بھی ہم میت پر یہ ظلم گھنٹوں کے حساب سے کرتے ہیں. اور کبھی کسی زندہ انسان کے ناک کان میں برف رکھ کر دیکھیے کہ وہ کیا ردعمل دیتا ہے.
بہت تکلیف دہ ہونے کے باوجود یہ کم تر سطح کے تاخیری معاملات ہیں. کبھی کبھار میتوں کو سرد خانے میں رکھ دیا جاتا ہے. ذرا محسوس کرنے کی کوشش کیجیے کہ میت کے لیے سرد خانے کے منفی درجہ حرارت میں کئی دنوں کے لیے لیٹنا کیسا عذاب ہوتا ہو گا؟ یہ عذاب ان کے پیارے ہی انہیں دیتے ہیں. ایک دوسرا اذیت ناک اور شرمناک معاملہ میت کو یورپی ممالک سے پاکستان لانا ہے. کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسی میتوں کی سب سے پہلے embalment کی جاتی ہے. جسم سے خون اور باقی مادے نکالنے، اور ان کے جگہ انفیکشن وغیرہ کو روکنے والے کیمیکل داخل کرنے کو embalment کہتے ہیں. اس عمل کے لیے سب سے پہلے میت کو برہنہ کیا جاتا ہے. پھر گلے کی سائیڈ پر کٹ لگا کر وہاں سے گزرتی ایک بڑی شریان کو ہلکا سا باہر کھینچا جاتا ہے (یہ شریان نبض کی طرح محسوس کی جا سکتی ہے). اس شریان کو ہلکا سا کاٹ کر اس میں کینولا داخل کیا جاتا ہے اور شریان کو باندھ دیا جاتا ہے تاکہ عمل کے دوران کینولا باہر نہ نکلے. یہ کینولا دوسری جانب سے ایک مشین سے لگا ہوتا ہے. وہ مشین ایک مائع جسم میں دھکیلتی ہے جو سارے جسم کی رگوں میں پھیل جاتا ہے. خون کو جسم سے باہر نکالنے کے لیے ٹانگ کے جوڑ کے قریب ایک اور بڑی شریان کو کٹ لگایا جاتا ہے. اس کے بعد پیٹ اور سینے میں کٹ لگا کر نرم اعضاء پنکچر کیے جاتے ہیں اور کیمیکل بھر کر پیٹ اور سینے کو سِیل کر دیا جاتا ہے. منہ بند کرنے کے لیے کبھی کوئی گوند نما چیز لگائی جاتی ہے اور کبھی سلائی کر دی جاتی ہے. اس عمل کو میں نے اس لیے وضاحت سے لکھا ہے تاکہ سب پڑھنے والے اپنی جذباتیت کو ایک طرف رکھ کر میت کی حد سے بڑھی ہوئی بےحرمتی اور تکلیف پر تھوڑی دیر غور کر لیں. کیا آخری دیدار اور وطن کی مٹی کی یہ قیمت درست ہے؟ کیا یہ بہت مہنگا سودا نہیں؟ آخر ہم اپنے پیاروں کو اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ فلاں آخری بار چہرہ دیکھ لے؟ یا اس لیے کہ لوگ واہ واہ کریں کہ بہت بڑا جنازہ تھا؟ یا اس لیے کہ ہماری بےعزتی نہ ہو جائے کہ جنازے میں بہت تھوڑے لوگ تھے؟


بات بہت سادہ اور سیدھی ہے. جو شخص دنیا سے چلا جائے اس کے جنازے میں صرف اتنی ہی دیر ہونی چاہیے جتنی قبر کھودنے اور کفن دفن کا انتظام کرنے میں ہوتی ہے. اللہ کا یہی حکم ہے. اگر کوئی پیارا دور ہے تو وہ صبر کرے اور میت کے لیے دعا اور صدقہ کرے. صرف چہرہ دیکھنے کے لیے میت کو تکلیف نہ دے. جس کی موت جہاں لکھی ہے وہیں آنی ہے. اگر پردیس میں موت آ جائے تو وہیں قبر بنانا بہتر ہے. اگر کسی کو بڑا مجمع اکٹھا کرنے کا خبط ہے تو یہ ذہن میں رہے کہ بڑے جنازے صرف دنیا ہی میں گردن اکڑانے کا باعث ہو سکتے ہیں، اللہ کے ہاں ترازو مختلف ہیں.

اللہ تعالیٰ ہم سب کا انجام بخیر کرے اور سب کو موت کے بعد کی بےحرمتی اور اذیت سے محفوظ رکھے. جس کے پاس بھی علم آ گیا اس پر لازم ہے کہ وہ باقی لوگوں کو اللہ کی بات ضرور بتائے. جو خواتین اپنے گھروں میں اختیار رکھتی ہیں وہ جنازوں کو جلدی لے جانے پر زور دیں. جو اختیار نہیں رکھتیں وہ کم از کم اپنے عقیدے کو درست کریں اور اپنی اولاد کو یہ بات ضرور سکھائیں تاکہ ہمارے معاشرے سے یہ اذیت ناک رسمیں دور کی جا سکیں.

17/10/2024

*'*
*_شادی ، طلاق اور بچے_*
کاش میری بات کسی کے سمجھ میں آجائے.
*'*
میاں بیوی میں تلخ کلامی ہوئی ۔۔۔
کوئی گھریلو وجہ تھی ۔۔۔جو ہر گھر میں ہر روز ہوتی رہتی ہے۔۔۔
دونوں کا ایک بیٹا بھی تھا۔۔۔۔
صابر نے اپنی بیوی زویا کو گالی دی۔۔۔۔تم سے جب سے شادی ہوئی یے میری زندگی جہنم ہو گئی ہے۔۔۔
زویا بھی چلا کر بولی ۔۔۔تم نے مجھے اتنا درد دیا ہے ۔۔میں اب دعا کرتی ہوں ۔۔۔مجھے موت آ جائے ۔۔اب تمہارے ساتھ ایک سانس بھی نہیں لے سکتی میں۔۔۔
جھگڑا کسی بڑی بات پہ نہیں تھا ۔۔۔
4 سال کا بیٹا۔۔۔۔ماں باپ کو جھگڑتے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
بیٹا بہت پریشان تھا۔۔۔۔کبھی ماں کا ہاتھ پکڑتا تو کبھی باپ کا ۔۔۔
باپ سے جب برداشت نہ ہوا تو ۔۔۔اٹھایا ۔۔۔ڈنڈا۔۔۔اور زویا کر مارنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔
زویا چیخنے چلانے لگی ۔۔۔
چیخوں کی آواز سن کر ۔۔۔اہل محلہ آ گئے ۔۔۔
انھوں نے آ کر زویا کو چھڑوایا ۔۔۔
زویا کے سر سے خون بہہ رہا تھا ۔۔۔بیٹا ڈرا سہما ۔۔۔دروازے کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔۔۔۔۔
صابر نے چلا کر کہا اس میں تم کو طلاق دیتا ہوں ۔۔۔
تین بار طلاق بولا ۔۔۔اور زویا بیٹے کو لیئے میکہ آ گئی۔۔۔۔
بیٹا تھا کے اس کے دل میں ایک عجیب سا ڈر گھر کر چکا تھا ۔۔۔۔وہ سب سے ڈرنے لگا تھا ۔۔۔4 سال کا بیٹا۔۔۔وہ امی کی گود میں لیٹا ہوا تھا ۔۔۔امی کا دوپٹہ منہ پہ اوڑھے سو جاتا ۔۔۔
ماں سے ایک پل کے لیئے بھی جدا نہ ہوتا۔۔۔
ادھر ۔۔۔باپ نے کورٹ میں کیس کر دیا بیٹا میں اہنے پاس رکھوں گا۔۔۔
کورٹ سے آئی خط موصول ہوا۔۔۔
زویا کے بھائی نے خط پڑھا ۔۔۔۔بتایا۔۔۔صابر نے بیٹے کو اپنے پاس رکھنے کے لیئے کیس دائر کیا ہے۔۔۔
اگلے ہفتے سنوائی یے۔۔۔۔
بیٹا ماں کے پلو سے لگا ہوا۔۔امی بابا کیا کہتے ہیں۔۔
بیٹا اب 6 سال ہو چکا تھا ۔۔۔
ماں نے بتایا ۔۔کچھ نہیں بیٹا ۔۔۔
ماں باپ کو جدا ہوئے 2 سال گزر گئے تھے۔۔لیکن بیٹا اج بھی جب وہ جھگڑا یاد کرتا تو وہ بخار میں مبتلا ہو جاتا ۔۔۔
پہلی سنوائی ہوئی ۔صابر کا وکیل کافی بڑا وکیل تھا ۔۔۔کیس صابر کے حق میں جا رہا تھا ۔۔۔
زویا محسوس کر رہی تھی میں بیٹے کو ہار جاوں گی۔۔۔۔
زویا گھر آئی بیٹا اذان ۔۔ماں سے کہنے لگا۔۔ہم کیوں ابو کے پاس جاتے ہیں وہاں۔۔ابو مجھے کہہ رہا تھا تیری امی گندی ہے اس کے پاس نہ رہو۔۔
بیٹے نے ماں کا منہ چوما ۔۔۔ہلکا سا مسکرایا میری امی سوہنی یے گندی نہیں ہے پاپا گندا ہے۔۔
ماں کی آنکھ سے آنسو بہنے لگے ۔بیٹا جو ابھی چھے سال کا تھا ۔۔۔اپنے ننھے ہاتھوں سے ماں کے آنسو صاف کرنے لگا۔۔ماما کیوں رو رہی ۔۔میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جاوں گا ۔
بیٹا ماں کی گود میں لیٹ گئا۔۔۔
اتنے میں زویا کا بھائ آیا۔۔زویا کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔
ہم کیس ہار جائیں گے۔۔
اذان کو اس کے باپ کے حوالے کرنا پڑے گا اس کا وکیل بہت بڑا وکیل یے۔۔
زویا خاموش ہو گئی۔۔۔بیٹے کا منہ چومنے لگی۔۔۔
کبھی پاوں چومتی کبھی ہاتھ کبھی سر ۔۔۔ اذان سویا ہوا تھا۔۔۔زویا نے زور سے سینے سے لگایا۔۔۔۔اور رات بھر روتی رہی۔۔۔۔
اذان نے دکان سے آئس کریم لی اور فریج میں رکھی نانی سے کہنے لگا نانو میں آ کر کھاوں گا۔۔
ماں نے اذان کے چہرے کو ہاتھوں میں بھرا۔۔اور آہستہ سے بولی ۔۔اذان بیٹا ماما ساتھ نہ بھی ہوئی تو
کھانا ٹائم پہ کھایا کرنا ۔۔ضد نہ کیا کرنا ۔۔
اور دکان کی گندی چیزیں نہ کھایا کرنا ۔۔۔روز دانت کو برش کیا کرنا ۔۔۔ماما تم کو روز دیکھا کرے گی یہاں سے۔۔
بیٹا نہیں سمجھ پا رہا تھا ماما ایسی باتیں کیوں کر رہی ہے ۔
ماں نے ہاتھ پاوں چومے۔۔۔
اج فائنل سنوائی تھی عدالت میں۔۔
زویا ۔۔۔بیٹے کو گود میں لیئے بیٹھی ہوئی تھی دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔
خیال یہی تھا کاش میں برداشت کر لیتی اج بیٹے سے جدا نہ ہوتی۔۔۔
بیٹے کی خاطر خاموش رہتی۔۔۔
ادھر ۔۔۔کاروائی شروع ہوئی۔۔۔۔
جج صاحب نے لکھا فیصلہ سنایا ۔۔۔
تمام دلیل سننے کے بعد ۔۔۔ہم اس نتیجے پہ پہنچے ہیں کے۔۔۔
بیٹا اپنے باپ کے ساتھ رہے گا۔۔۔فیصلہ سنتے ہی ماں کا کلیجہ پھٹ گیا۔۔ماں بے ہوش ہو کر گر گئی۔۔
باپ آگے بڑھا بیٹے کو اٹھا لیا۔
بیٹا باپ کے پاس نہیں جانا چاہتا تھا بیٹا چیخ چیخ کر رونے لگا مجھے ماما پاس جانا ہے مجھے ماما پاس جانا ہے ۔۔۔چھوڑو مجھے ۔۔زویا کو ہوش آیا ۔۔۔
ننگے پاوں دوڑتے ہوئے ۔۔۔صابر کے پاس گئی۔۔اس کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بھیک مانگنے لگی۔۔۔صرف ایک بار مجھے میرے بیٹے کو سینے سے لگا لینے دو۔۔۔
لیکن وکیل نے پولیس والے سے کہا اس عورت کو ہٹاو یہاں سے ۔۔۔
ماں بلک بلک کر رونے لگئ ۔۔۔بیٹا تڑپ رہا تھا ۔۔
وکیل مسکرا کر صابر سے کہنے لگا مبارک ہو جناب آپ کیس جیت گئے ۔۔صابر نے طے کردہ رقم وکیل کو دی اور چل دیا۔۔۔
بیٹا ماں کی جدائی میں روتا چیختا ۔۔اسے باپ کا گھر جیل لگنے لگا تھا ۔۔۔
ماں کی شادی کسی اور سے ہو گئی ۔۔باپ نے بھی دوسری شادی کر لی ۔۔۔وقت گزرنے لگا ۔۔
ماں اپنی زندگی میں مصروف ہو گئی ۔۔باپ اپنی نئی بیوی کے ساتھ۔۔
اذان ۔۔۔زندہ لاش بن کر جینے لگا ۔اذان کا نہ کوئی قصور تھا نہ کوئی جرم تھا نہ کوئی گناہ۔۔ بے گناہ سزا پائی تھئ اذان نے۔۔
نہ سکول پڑھ سکا۔نہ زندگی میں کوئی مقام حاصل کر سکا۔۔بلاخر باپ نے ایک ہوٹل پہ برتن دھونے پہ لگا دیا۔۔
میں آپ سب سے پوچھتا ہوں۔۔۔۔؟؟
کیا قصور ہوتا ہے ایسی اولاد کا۔۔؟؟
آپ میں اتنی برداشت نہں ہوتی کے ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کر دیا جائے۔۔۔صبر ختم ہو چکا ہے۔؟؟۔کتوں کی مانند لڑتے ہو۔۔ایک دوسرے پہ الزام لگاتے ہو میں دونوں میاں بیوی کی بات کر رہا ہوں ۔۔۔
تم دونوں کی نفرت تمہاری اولاد کو کھا جاتئ ہے۔۔
اور یقین اس کو بھی قاتل کا نام دیتا ہے۔۔۔
پہلی شادی میں ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو برداشت نہیں کرتے ہو۔۔اور دوسری شادی میں بڑی سے بڑی بات پہ کمپرومائز کر لیتے ہو۔۔۔
نہ جانے اج بھی کتنے بچے ماں باپ کی زہر آلود نفرت پہ قربان ہو رہے ہوں گے جو بے گناہ برباد کر دیئے جائیں گے۔۔
یقین آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہے۔۔
ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھیں ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔
یقین کا سفر جانتا یے ۔شادی کے بعد میں بیوی کی سوچ کا ملنا ضروری نہیں ہے کیوں کے آپ لوگ دو الگ الگ انسان ہیں الگ سوچ ہے الگ خواہشات ہیں۔۔۔نکاح کا مقصد ہی دو الگ انسانوں کو یک جان کرنا ہے۔۔
۔۔۔
طلاق ہی ہر مسلے کا حل نہیں ہے۔۔
آخر کار دوسری شادی ناکام کیوں نہیں ہوتی اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ۔۔تو میں بتاتا ہوں آپ۔کو ۔۔
دوسری شادی اس لیئے ناکام نہیں ہوتی۔۔کے اس وقت ہم صبر کرنا سیکھ جاتے ہیں برداشت کرنا سیکھ جاتے ہیں۔۔۔
ایک دوسرے کی غلطی کو اگنور کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔۔
اگر ایسا پی پہلی شادی میں کیا ہو تو ۔۔۔اولاد۔۔۔خاک نہ ہو۔۔۔

میری تحریر پڑھ کر اگر کسی نے اپنی اولاد کو خاک ہونے سے بچا لیا تو میرا مقصد مکمل ہو جائے گا ۔۔

یا الله هم سب کو خیر بانٹنے والا بنا دے..!!

_*کاش کہ یہ بات تیرے دل میں اتر جائے۔۔

14/09/2024

* *موبائل نہ رکھنے والی ماں چاہیے*

سوچنے پر مجبور کرنے والا واقعہ۔۔۔

پانچویں جماعت کے طلباء سے بات کرنے کے بعد، استاد نے انہیں ایک مضمون لکھنے کو کہا کہ انہیں کیسی *"ماں پسند ہے"؟*

سب نے اپنی ماں کی کتنی تعریف کی، اور اس پر مضمون لکھا۔ لیکن ایک بچے نے مضمون کے عنوان میں لکھا:

"آف لائن ماں"

*مجھے "ماں" چاہیے، لیکن مجھے آف لائن چاہیے۔ مجھے اَن پڑھ ماں چاہیے، جو "موبائل" استعمال نہ کرتی ہو، لیکن جو میرے ساتھ کہیں بھی جانے کے لیے تیار اور پُرجوش ہو۔*

*مجھے نہیں لگتا کہ "ماں" کو "جینز" اور "ٹی شرٹ" پہننی چاہیے... بلکہ ماں کا لباس حیاء والا ڈھیلا کرتا شلوار ہونا چاہیے۔ مجھے ایسی ماں چاہیے جو بچے کی طرح مجھے گود میں سر رکھ کر سلائے۔*

*مجھے "ماں" چاہیے، لیکن "آف لائن"۔*

*اس کے پاس "میرے اور میرے پاپا کے لیے" موبائل" سے زیادہ وقت ہونا چاہیے۔*

*آف لائن "ماں" ہوگی تو پاپا سے جھگڑا نہیں ہوگا۔ جب میں شام کو سونے جاؤں گا، تو وہ مجھے ویڈیو گیم کھیلنے کے بجائے ایک کہانی سنائے گی اور سلائے گی۔*

*ماں، آن لائن پیزا آرڈر نہ کرو۔ گھر میں کچھ بھی بنا لو؛ پاپا اور میں مزے سے کھا لیں گے۔ مجھے بس آف لائن "ماں" چاہیے۔*

*اتنا پڑھنے کے بعد پوری کلاس میں مانیٹر کے رونے کی آواز سنائی دی۔ ہر طالب علم اور کلاس کے استاد کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔*

*ماں، جدید بنو لیکن اپنے بچے کے بچپن کا خیال رکھو۔ موبائل کی وجہ سے بچوں سے دور نہ جاؤ۔ یہ بچپن کبھی واپس نہیں آئے گا۔*

یہ تحریر ان نام نہاد جدید *"ماؤں"* کے نام ہے جو اپنے بچوں کا بچپن چھین رہی ہیں!
*یہ کہانی نہیں، ایک حقیقت ہے*

Photos from Jannat online QURAN Academy's post 22/05/2024

سورہ شمس میں اللہ گیارہ قسمیں کھانے کے بعد فرماتا ہے
"بشک وہ کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاکیزہ بنا لیا"

Photos from Jannat online QURAN Academy's post 28/06/2023

Khutba Hajj 2023 Urdu Translation

28/06/2023

EID UL ADHA MUBARAK

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Islamabad