03/08/2026
دوسروں کو غلط کہنے سے پہلے خود پر بھی غور کریں
آج کے دور میں دوسروں کی غلطیاں تلاش کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا ہو، گھریلو ماحول ہو، کلیسیا ہو یا معاشرہ، ہر جگہ لوگ ایک دوسرے پر تنقید کرنے، غلط ثابت کرنے اور اپنی برتری دکھانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بائبل ہمیں یہی تعلیم دیتی ہے؟
یسوع مسیح کی تعلیم اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ہمیں دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے دل، اپنے کردار اور اپنی زندگی کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔
خداوند یسوع نے فرمایا:
"تُو اپنے بھائی کی آنکھ کے تنکے کو کیوں دیکھتا ہے، مگر اپنی آنکھ کے شہتیر پر غور نہیں کرتا؟"
(متی 7:3)
یہ مثال نہایت گہری ہے۔ تنکا ایک چھوٹی سی چیز ہے جبکہ شہتیر ایک بہت بڑا لکڑی کا ٹکڑا۔ یسوع ہمیں یہ سکھا رہے ہیں کہ انسان اکثر دوسروں کی چھوٹی چھوٹی غلطیاں تو فوراً دیکھ لیتا ہے، لیکن اپنی بڑی کمزوریوں، گناہوں اور خامیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہی رویہ ریاکاری کو جنم دیتا ہے۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کلیسیا میں غلط تعلیم، گناہ یا بدعت کو نظر انداز کر دیا جائے۔ بائبل واضح طور پر سچائی پر قائم رہنے کی تعلیم دیتی ہے۔ لیکن سچائی بیان کرنے سے پہلے ہمارا اپنا دل خدا کے سامنے درست ہونا چاہیے۔ اگر ہماری اصلاح محبت، فروتنی اور خدا کے خوف سے خالی ہو تو ہماری بات دوسروں کی تعمیر کے بجائے ان کے لیے ٹھوکر بن سکتی ہے۔
پولس رسول لکھتے ہیں:
"پس اے آدمی! تو جو کسی پر عیب لگاتا ہے، بے عذر ہے، کیونکہ جس بات میں تو دوسرے پر عیب لگاتا ہے، اُسی میں اپنے آپ کو مجرم ٹھہراتا ہے۔"
(رومیوں 2:1)
یہ آیت ہمیں خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے۔ دوسروں کی زندگی پر فیصلہ صادر کرنے سے پہلے ہمیں اپنے اعمال، نیتوں اور رویوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ کیونکہ خدا صرف ہمارے الفاظ کو نہیں بلکہ ہمارے دل کو بھی دیکھتا ہے۔
اسی طرح گلتیوں 6:1 میں پولس رسول فرماتے ہیں:
"اے بھائیو! اگر کوئی آدمی کسی قصور میں پکڑا بھی جائے تو تم جو روحانی ہو، ایسے شخص کو حلم کی روح سے بحال کرو، اور اپنے آپ پر بھی نگاہ رکھ کہ تو بھی آزمائش میں نہ پڑ جائے۔"
یہاں اصلاح کا مقصد کسی کو شرمندہ کرنا نہیں بلکہ اسے بحال کرنا ہے۔ ایک روحانی شخص دوسروں کی کمزوریوں پر خوش نہیں ہوتا بلکہ ان کے لیے دعا کرتا ہے، ان کی مدد کرتا ہے اور انہیں مسیح کے قریب لانے کی کوشش کرتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سب خدا کے فضل سے قائم ہیں۔ اگر خدا کا فضل نہ ہوتا تو شاید ہم بھی انہی غلطیوں میں پڑ جاتے جن پر آج ہم دوسروں کو ملامت کرتے ہیں۔ یہی احساس انسان کو عاجز بناتا ہے اور دوسروں کے ساتھ رحم اور محبت سے پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے۔
جب ہم دوسروں کی غلطیوں پر توجہ دینے کے بجائے اپنی اصلاح پر توجہ دیتے ہیں تو خدا ہماری زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ ایسی زندگی دوسروں کے لیے بھی برکت بنتی ہے، کیونکہ لوگ صرف ہماری باتیں نہیں بلکہ ہمارا کردار بھی دیکھتے ہیں۔
آخر میں، ایک ایماندار کا مقصد دوسروں کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ مسیح کو بلند کرنا ہونا چاہیے۔ اگر ہماری گفتگو، نصیحت یا اصلاح میں محبت، فروتنی اور خدا کا خوف موجود ہے تو وہ لوگوں کی زندگیوں میں شفا، امید اور تبدیلی کا باعث بنے گی۔
"دوسروں کو غلط ثابت کرنا آسان ہے، لیکن خدا کے حضور خود کو درست کرنا حقیقی روحانیت ہے۔"
Pastor Shahzad Karnail