Pastor Shahzad Karnail

Pastor Shahzad Karnail Pastor | Bible Teacher | Motivational Speaker
Simple Urdu Bible Teaching
Faith • Hope • Truth
Christ-centered content for all ages

I AM A SERVANT OF GOD IN CHRIST AND A MOTIVAIONAL SPEAKER

دوسروں کو غلط کہنے سے پہلے خود پر بھی غور کریںآج کے دور میں دوسروں کی غلطیاں تلاش کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا ہو...
03/08/2026

دوسروں کو غلط کہنے سے پہلے خود پر بھی غور کریں

آج کے دور میں دوسروں کی غلطیاں تلاش کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا ہو، گھریلو ماحول ہو، کلیسیا ہو یا معاشرہ، ہر جگہ لوگ ایک دوسرے پر تنقید کرنے، غلط ثابت کرنے اور اپنی برتری دکھانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بائبل ہمیں یہی تعلیم دیتی ہے؟

یسوع مسیح کی تعلیم اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ہمیں دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے دل، اپنے کردار اور اپنی زندگی کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔

خداوند یسوع نے فرمایا:

"تُو اپنے بھائی کی آنکھ کے تنکے کو کیوں دیکھتا ہے، مگر اپنی آنکھ کے شہتیر پر غور نہیں کرتا؟"
(متی 7:3)

یہ مثال نہایت گہری ہے۔ تنکا ایک چھوٹی سی چیز ہے جبکہ شہتیر ایک بہت بڑا لکڑی کا ٹکڑا۔ یسوع ہمیں یہ سکھا رہے ہیں کہ انسان اکثر دوسروں کی چھوٹی چھوٹی غلطیاں تو فوراً دیکھ لیتا ہے، لیکن اپنی بڑی کمزوریوں، گناہوں اور خامیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہی رویہ ریاکاری کو جنم دیتا ہے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کلیسیا میں غلط تعلیم، گناہ یا بدعت کو نظر انداز کر دیا جائے۔ بائبل واضح طور پر سچائی پر قائم رہنے کی تعلیم دیتی ہے۔ لیکن سچائی بیان کرنے سے پہلے ہمارا اپنا دل خدا کے سامنے درست ہونا چاہیے۔ اگر ہماری اصلاح محبت، فروتنی اور خدا کے خوف سے خالی ہو تو ہماری بات دوسروں کی تعمیر کے بجائے ان کے لیے ٹھوکر بن سکتی ہے۔

پولس رسول لکھتے ہیں:

"پس اے آدمی! تو جو کسی پر عیب لگاتا ہے، بے عذر ہے، کیونکہ جس بات میں تو دوسرے پر عیب لگاتا ہے، اُسی میں اپنے آپ کو مجرم ٹھہراتا ہے۔"
(رومیوں 2:1)

یہ آیت ہمیں خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے۔ دوسروں کی زندگی پر فیصلہ صادر کرنے سے پہلے ہمیں اپنے اعمال، نیتوں اور رویوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ کیونکہ خدا صرف ہمارے الفاظ کو نہیں بلکہ ہمارے دل کو بھی دیکھتا ہے۔

اسی طرح گلتیوں 6:1 میں پولس رسول فرماتے ہیں:

"اے بھائیو! اگر کوئی آدمی کسی قصور میں پکڑا بھی جائے تو تم جو روحانی ہو، ایسے شخص کو حلم کی روح سے بحال کرو، اور اپنے آپ پر بھی نگاہ رکھ کہ تو بھی آزمائش میں نہ پڑ جائے۔"

یہاں اصلاح کا مقصد کسی کو شرمندہ کرنا نہیں بلکہ اسے بحال کرنا ہے۔ ایک روحانی شخص دوسروں کی کمزوریوں پر خوش نہیں ہوتا بلکہ ان کے لیے دعا کرتا ہے، ان کی مدد کرتا ہے اور انہیں مسیح کے قریب لانے کی کوشش کرتا ہے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سب خدا کے فضل سے قائم ہیں۔ اگر خدا کا فضل نہ ہوتا تو شاید ہم بھی انہی غلطیوں میں پڑ جاتے جن پر آج ہم دوسروں کو ملامت کرتے ہیں۔ یہی احساس انسان کو عاجز بناتا ہے اور دوسروں کے ساتھ رحم اور محبت سے پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے۔

جب ہم دوسروں کی غلطیوں پر توجہ دینے کے بجائے اپنی اصلاح پر توجہ دیتے ہیں تو خدا ہماری زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ ایسی زندگی دوسروں کے لیے بھی برکت بنتی ہے، کیونکہ لوگ صرف ہماری باتیں نہیں بلکہ ہمارا کردار بھی دیکھتے ہیں۔

آخر میں، ایک ایماندار کا مقصد دوسروں کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ مسیح کو بلند کرنا ہونا چاہیے۔ اگر ہماری گفتگو، نصیحت یا اصلاح میں محبت، فروتنی اور خدا کا خوف موجود ہے تو وہ لوگوں کی زندگیوں میں شفا، امید اور تبدیلی کا باعث بنے گی۔

"دوسروں کو غلط ثابت کرنا آسان ہے، لیکن خدا کے حضور خود کو درست کرنا حقیقی روحانیت ہے۔"

Pastor Shahzad Karnail

کیا ہم واقعی مسیحی ہیں یا ابھی تک پرانے عہد کے سائے میں جی رہے ہیں؟آج کلیسیا کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا ہے، اور شاید ہم ...
01/08/2026

کیا ہم واقعی مسیحی ہیں یا ابھی تک پرانے عہد کے سائے میں جی رہے ہیں؟

آج کلیسیا کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا ہے، اور شاید ہم اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم بائبل پڑھتے ہیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم بائبل کو کس عہد کی روشنی میں سمجھتے ہیں؟

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ خود کو مسیحی کہتے ہیں، لیکن ان کی زیادہ تر تعلیم، منادی اور عملی زندگی پرانے عہد نامے کے گرد گھومتی ہے۔ ان کے وعظ میں موسیٰ زیادہ نظر آتا ہے، لیکن یسوع مسیح کم۔ شریعت پر زیادہ زور ہوتا ہے، لیکن فضل کا ذکر کم ہوتا ہے۔ پرانے عہد کی رسموں پر بحث ہوتی ہے، لیکن نئے عہد کی زندگی پر کم بات ہوتی ہے۔

جب کوئی محبت سے یہ کہتا ہے کہ "ہم مسیحی ہیں، اس لیے ہماری زندگی کا معیار یسوع مسیح اور رسولوں کی تعلیمات ہونی چاہییں"، تو بعض لوگ فوراً اعتراض کرتے ہیں:

"کیا آپ پوری بائبل پر ایمان نہیں رکھتے؟"

یہ اعتراض دراصل اصل مسئلے کو سمجھے بغیر کیا جاتا ہے۔

ہر سچا مسیحی ایمان رکھتا ہے کہ پوری بائبل خدا کے الہام سے ہے (2 تیمتھیس 3:16)۔ پرانا عہد بھی خدا کا کلام ہے اور نیا عہد بھی۔ لیکن خدا نے مختلف ادوار میں انسان سے مختلف عہد کیے، اور آج کلیسیا نئے عہد کے تحت زندگی گزارتی ہے۔

لفظ "عہد" کے لیے یونانی زبان میں "دیاتھیکے" (Διαθήκη) استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے ایسا عہد یا وصیت جو نافذ ہو چکی ہو۔ یسوع مسیح نے اپنے خون سے یہی نیا عہد قائم کیا۔

آپ نے فرمایا:

«"یہ پیالہ میرے خون میں نیا عہد ہے۔" (لوقا 22:20)»

اس اعلان کے بعد نجات کی بنیاد قربانیوں، شریعت اور ظاہری رسموں پر نہیں رہی بلکہ یسوع مسیح کی کامل قربانی پر قائم ہو گئی۔

عبرانیوں 8:13 صاف کہتا ہے:

«"جب اُس نے نئے عہد کا ذکر کیا تو پہلے کو پرانا ٹھہرایا، اور جو پرانا ہو گیا اور بوسیدہ ہوا وہ مٹنے کے قریب ہے۔"»

اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ پرانا عہد بے فائدہ ہے، بلکہ یہ کہ اس نے اپنا مقصد پورا کر دیا۔

پرانا عہد ایک سایہ تھا، لیکن حقیقت مسیح ہے۔

پرانا عہد وعدہ تھا، لیکن یسوع اس وعدے کی تکمیل ہے۔

پرانا عہد قربانیوں کی طرف اشارہ کرتا تھا، لیکن یسوع ہمیشہ کے لیے کامل قربانی بن گیا۔

پرانا عہد ہیکل کی بات کرتا تھا، لیکن اب ایماندار خود روح القدس کا مقدس بن گیا ہے۔

پرانا عہد ہمیں شریعت دیتا ہے، لیکن نیا عہد ہمیں روح القدس کی قدرت دیتا ہے تاکہ ہم خدا کی مرضی پر چل سکیں۔

پولس رسول گلتیوں 3:24 میں لکھتا ہے کہ شریعت ہمیں مسیح تک پہنچانے والی استاد تھی۔ جب مسیح آ گیا تو مقصد پورا ہو گیا۔ اس لیے اب ہماری شناخت شریعت نہیں بلکہ مسیح ہے۔

بدقسمتی سے آج بھی بعض لوگ ہر مسئلے کا جواب پرانے عہد کی رسموں میں تلاش کرتے ہیں۔ کسی بات کے لیے تیل، کسی بات کے لیے مخصوص رسم، کسی بات کے لیے پرانے نظام کی مثال، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ نئے عہد میں اصل زور روح القدس، ایمان، فضل، توبہ، پاکیزگی، محبت اور یسوع مسیح کے ساتھ زندہ تعلق پر ہے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم پرانے عہد کو رد کرتے ہیں۔

ہرگز نہیں۔

ہم پرانا عہد اس لیے پڑھتے ہیں کہ ہم خدا کی پاکیزگی، اس کے منصوبے، نبوتوں، اسرائیل کی تاریخ اور مسیح کی آمد کی تیاری کو سمجھ سکیں۔ لیکن ہم اپنی عملی زندگی اور عقیدہ نئے عہد کی روشنی میں ترتیب دیتے ہیں، کیونکہ ہم موسیٰ کے شاگرد نہیں بلکہ یسوع مسیح کے شاگرد ہیں۔

یسوع نے فرمایا:

«"اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو۔" (یوحنا 14:15)»

آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ موسیٰ کے حکموں کو اپنی نجات کی بنیاد بنا لو، بلکہ اپنے شاگردوں کو اپنی تعلیم پر قائم رہنے کی دعوت دی۔

ابتدائی کلیسیا نے بھی یہی راستہ اختیار کیا۔ اعمال 2:42 میں لکھا ہے کہ وہ رسولوں کی تعلیم میں قائم رہے۔ رسولوں نے نئے عہد کی منادی کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خدا نے مسیح میں ایک نیا دور شروع کر دیا ہے۔

لہٰذا اگر آج کوئی کہتا ہے کہ "ہمیں مسیحی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے"، تو وہ پوری بائبل کا انکار نہیں کر رہا، بلکہ پوری بائبل کے مرکزی پیغام کو سمجھ رہا ہے، کیونکہ پوری بائبل کا مرکز صرف ایک شخصیت ہے، اور وہ ہے یسوع مسیح۔

آخر میں ہر ایماندار کو اپنے دل میں یہ سوال کرنا چاہیے:

کیا میری منادی، میری تعلیم اور میری زندگی واقعی یسوع مسیح کی عکاسی کرتی ہے؟ یا میں ابھی تک اُن سایوں میں کھڑا ہوں جن کی تکمیل خود مسیح میں ہو چکی ہے؟

ایک سچے مسیحی کا مقصد صرف پرانا عہد جاننا نہیں، بلکہ اُس مسیح کو جاننا ہے جس کی گواہی پورا پرانا عہد دیتا ہے، اور اُس نئے عہد کے مطابق زندگی گزارنا ہے جو اُس نے اپنے خون سے قائم کیا۔

پاسٹر شہزاد کرنیل

"ہر وہ شخص جو آپ کو آئینہ دکھائے، آپ کا دشمن نہیں ہوتا۔"ہم میں سے اکثر لوگ اُس وقت تک خوش رہتے ہیں جب تک کوئی ہماری تعری...
31/07/2026

"ہر وہ شخص جو آپ کو آئینہ دکھائے، آپ کا دشمن نہیں ہوتا۔"

ہم میں سے اکثر لوگ اُس وقت تک خوش رہتے ہیں جب تک کوئی ہماری تعریف کرتا رہے۔ لیکن جیسے ہی کوئی ہماری غلطی کی نشاندہی کرتا ہے یا ہمیں خدا کے کلام کی روشنی میں اپنی زندگی کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے، ہم فوراً ناراض ہو جاتے ہیں۔ پھر بجائے اس کے کہ اپنی حالت پر غور کریں، ہم مختلف مثالیں دینا شروع کر دیتے ہیں۔

کوئی کہتا ہے، "فلاں بھی بحث کرتا تھا۔" کوئی کہتا ہے، "فلاں خادم بھی لوگوں کو سخت جواب دیتا تھا۔"

لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ کس نے بحث کی؟ اصل سوال یہ ہے کہ بحث کس بات پر تھی؟

اگر آپ انجیل کو غور سے پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ یسوع مسیح نے کبھی اپنی ذات، عزت یا شہرت کے لیے کسی سے بحث نہیں کی۔ جب بھی انہوں نے فقیہوں، فریسیوں یا مذہبی راہنماؤں کو مخاطب کیا، مقصد صرف ایک تھا: لوگوں کو سچائی دکھانا اور گمراہی سے بچانا۔

یسوع نے اُن لوگوں کو آئینہ دکھایا جو باہر سے تو بہت پاکیزہ نظر آتے تھے، لیکن اندر سے ریاکاری، غرور اور خود پسندی سے بھرے ہوئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے لوگ یسوع سے محبت بھی کرتے تھے، اور بہت سے لوگ اُن سے نفرت بھی کرنے لگے۔ کیونکہ سچائی ہمیشہ ہر ایک کو پسند نہیں آتی۔

آج بھی حالات کچھ مختلف نہیں ہیں۔ جب خدا کے کلام کی بنیاد پر کسی غلط تعلیم، غلط رویے یا ریاکاری کی نشاندہی کی جاتی ہے تو بہت سے لوگ اپنی اصلاح کرنے کے بجائے اُس شخص کو ہی غلط ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں۔

یاد رکھیں، آئینہ کبھی آپ کی بے عزتی نہیں کرتا، بلکہ آپ کی اصل حالت دکھاتا ہے۔ عقلمندی آئینہ توڑنے میں نہیں بلکہ خود کو درست کرنے میں ہے۔

اگر خدا آج کسی کے ذریعے ہماری اصلاح کر رہا ہے تو ہمیں ناراض ہونے کے بجائے اپنے دل سے یہ سوال کرنا چاہیے: "کیا واقعی میری زندگی خدا کے کلام کے مطابق ہے؟"

سچائی کبھی دشمن نہیں ہوتی، چاہے وہ کتنی ہی کڑوی کیوں نہ لگے۔ جو شخص سچائی کو قبول کرتا ہے، وہ بدل جاتا ہے۔ لیکن جو سچائی سے بھاگتا ہے، وہ اپنی حالت کبھی نہیں بدل پاتا۔

دعا ہے کہ خدا ہمیں ایسے دل عطا کرے جو تعریف سن کر نہیں بلکہ اصلاح قبول کر کے بھی خوش ہوں، کیونکہ اصلاح ہی ترقی کا راستہ ہے، اور خدا ہمیشہ اُنہیں بلند کرتا ہے جو عاجزی کے ساتھ اپنی غلطیوں کو مان لیتے ہیں۔

پاسٹر شہزاد کرنیل

بائبل کو ہمیشہ ہر انسان سے بڑھ کر مقام دیں۔کبھی بھی کسی روایت، کسی عالم، کسی خادم یا کسی مشہور شخصیت کو خدا کے کلام سے ب...
28/07/2026

بائبل کو ہمیشہ ہر انسان سے بڑھ کر مقام دیں۔

کبھی بھی کسی روایت، کسی عالم، کسی خادم یا کسی مشہور شخصیت کو خدا کے کلام سے بڑھ کر اختیار نہ دیں۔ اگر کوئی بات بائبل کے خلاف ہو تو چاہے کہنے والا کتنا ہی بڑا خادم کیوں نہ ہو، اسے قبول نہ کریں۔

بائبل ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر تعلیم کو پرکھو۔ بیریہ کے لوگ بھی پولس رسول کی تعلیم کو روزانہ صحیفوں میں جانچتے تھے کہ آیا یہ باتیں درست ہیں یا نہیں (اعمال 17:11)۔ اسی طرح یوحنا رسول لکھتا ہے: "ہر ایک روح کا یقین نہ کرو بلکہ روحوں کو آزماؤ۔" (1 یوحنا 4:1)

خدا نے ہمیں اندھی تقلید کے لیے نہیں بلکہ اپنے کلام کی روشنی میں چلنے کے لیے بلایا ہے۔ خادمِ خدا کا احترام ضرور کریں، ان کے لیے دعا کریں، لیکن اپنی آخری اور اعلیٰ اتھارٹی صرف اور صرف خدا کے کلام کو بنائیں۔

یاد رکھیں:
جس کلیسیا میں بائبل سے زیادہ شخصیت کی پیروی ہونے لگے، وہاں دھوکے کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ مگر جہاں خدا کا کلام سب سے بلند ہو، وہاں سچائی، آزادی اور روحانی ترقی ہوتی ہے۔

"آسمان اور زمین ٹل جائیں گے لیکن میرے الفاظ ہرگز نہ ٹلیں گے۔" (متی 24:35)

(پاسٹر شہزاد کرنیل)

28/07/2026
12/07/2026

کلیسیا کو تعلیم یافتہ بنائیں، جاہلیت میں نہ دھکیلیں

آج مجھے ایک بات بار بار سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی کلیسیا کو کس طرف لے جا رہے ہیں؟ کیا ہم لوگوں کو خدا کے کلام کی گہری تعلیم دے رہے ہیں، یا صرف جذباتی اجتماعات کے عادی بنا رہے ہیں؟

بائبل صاف کہتی ہے:

"میری اُمت علم نہ ہونے کے باعث ہلاک ہوئی۔" (ہوسیع 4:6)

اگر ایماندار خدا کے کلام کو نہیں جانیں گے تو وہ ہر نئی تعلیم، ہر نئے دعوے اور ہر شخص کی بات پر یقین کر لیں گے۔ اس لیے کلیسیا کی سب سے بڑی ضرورت صرف بڑے اجتماعات نہیں بلکہ مضبوط بائبلی تعلیم ہے۔

پولس رسول نے تیمتھیس کو نصیحت کی:

"اپنے آپ کو خدا کے حضور مقبول اور ایسا کارکن ثابت کرنے کی کوشش کر... جو حق کے کلام کو درست طور پر بیان کرتا ہو۔" (2 تیمتھیس 2:15)

ایک خادم کی ذمہ داری صرف منبر پر کھڑا ہو کر وعظ کرنا نہیں، بلکہ لوگوں کو اس قابل بنانا بھی ہے کہ وہ خود بائبل کو سمجھ سکیں، سچ اور جھوٹ میں فرق کر سکیں، اور اپنے ایمان میں مضبوط ہوں۔

افسوس کی بات ہے کہ بعض اوقات لوگ بائبل سے زیادہ انسانوں کی باتوں پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ یہ کلیسیا کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ ہمارا ایمان اُس کے کلام پر قائم ہو، نہ کہ کسی شخصیت پر۔

آئیے ایسی کلیسیا بنائیں جہاں سوال پوچھنے کی حوصلہ افزائی ہو، بائبل کھول کر پڑھی جائے، حوالوں کے ساتھ تعلیم دی جائے، اور ہر ایماندار روحانی طور پر بالغ ہو۔

مضبوط کلیسیا وہ نہیں جس میں صرف ہجوم ہو، بلکہ وہ ہے جس میں خدا کے کلام کو جاننے اور اُس پر عمل کرنے والے شاگرد ہوں۔

پاسٹر شہزاد کرنیل

کیا پھونک مارنے سے روحانی طاقت منتقل ہوتی ہے؟  بائبل کیا سکھاتی ہے؟آج کل بعض جگہوں پر یہ تصور عام ہو گیا ہے کہ پاسٹر یا ...
10/07/2026

کیا پھونک مارنے سے روحانی طاقت منتقل ہوتی ہے؟ بائبل کیا سکھاتی ہے؟

آج کل بعض جگہوں پر یہ تصور عام ہو گیا ہے کہ پاسٹر یا خادم لوگوں پر پھونک مار کر شفا، روح القدس، برکت یا روحانی قوت منتقل کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعلیم بائبل سے ثابت ہوتی ہے؟

بائبل کیا کہتی ہے؟

1. یسوع نے شاگردوں پر ایک مرتبہ پھونکا تھا، مگر اس سے کوئی رسم قائم نہیں ہوئی۔

"اور یہ کہہ کر اُس نے اُن پر پھونکا اور فرمایا: روح القدس لو۔"
(یوحنا 20:22)

یہ واقعہ یسوع مسیح کی طرف سے اپنے رسولوں کے لیے ایک خاص موقع تھا۔ بائبل میں کہیں بھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ آئندہ تمام خادم لوگوں پر پھونک مار کر روح القدس دیں۔

روح القدس انسان نہیں دیتا

بائبل واضح کرتی ہے کہ روح القدس خدا کی عطا ہے۔

اعمال 2:38
اعمال 10:44-48

جب لوگ ایمان لائے تو روح القدس خدا نے دیا، نہ کہ کسی انسان کی پھونک کی وجہ سے۔

شفا کس کے اختیار سے ہوتی ہے؟

شفا صرف خداوند کی قدرت سے ہوتی ہے، نہ کہ کسی انسان کی سانس یا پھونک سے۔

مرقس 16:17-18
یعقوب 5:14-15

بزرگ دعا کرتے ہیں، تیل لگاتے ہیں، لیکن شفا خدا دیتا ہے۔

رسولوں کی خدمت کا طریقہ

اعمال کی کتاب میں رسولوں نے:

- انجیل سنائی،
- دعا کی،
- ہاتھ رکھے،
- اور خدا نے معجزے کیے۔

لیکن کہیں نہیں لکھا کہ وہ ہر شخص پر پھونک مار کر خدمت کرتے تھے۔

ہماری بنیاد کیا ہونی چاہیے؟

ایک سچا خادم لوگوں کو اپنی طرف نہیں بلکہ مسیح کی طرف لے جاتا ہے۔ ایمان کسی شخصیت، انداز یا رسم پر نہیں بلکہ خداوند یسوع مسیح پر ہونا چاہیے۔

1 کرنتھیوں 3:6-7
"میں نے لگایا، اپلوس نے پانی دیا، مگر بڑھایا خدا نے۔"

نتیجہ

اگر خدا کسی خاص موقع پر غیر معمولی طریقے سے کام کرے تو وہ اُس کی مرضی ہے، لیکن کسی ایک واقعے کو مستقل روحانی اصول یا لازمی خدمت کا طریقہ بنا دینا بائبل کے مطابق درست نہیں۔

ہمیں ہر تعلیم اور ہر خدمت کو خدا کے کلام کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔

"سب باتوں کو آزماؤ، جو اچھی ہو اُسے مضبوطی سے پکڑے رہو۔"
(1 تھسلنیکیوں 5:21)»

خدا کا کلام ہماری آخری اور اعلیٰ اتھارٹی ہے، نہ کہ کسی انسان کا اندازِ خدمت۔

پاسٹر شہزاد کرنیل

10/07/2026

کوٹ رادھا کشن کیس: مسیحی جوڑے کو زندہ بھٹے میں پھینکنے والے تینوں سزائے موت کے ملزمان کو سپریم کورٹ نے بری کرنے کا حکم دے دیا،2ملزمان کو پہلے ہی 2014میں بری کردیا گیا تھا

Address

Islamabad
G-8/1ISLAMABAD

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pastor Shahzad Karnail posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Pastor Shahzad Karnail:

Shortcuts

Share