اگلی تحریر کس جانور کے متعلق ہونی چاہیے؟
Being a Zoologist
You can learn Zoology here right from basic concepts.
22/04/2023
انتہاٸی افسوسناک خبر
کراچی چڑیا گھر انتظامیہ کی بدترین غفلت، لاپرواہی، اور بدعنوانی کی وجہ سے 17 سالہ مادہ افریقن ہتھنی مر گٸی۔
اس نوجوان ہتھنی کا بروقت علاج ہوسکتا تھا۔ ہتھنی زندہ بچ سکتی تھی اگر یہ پاکستان کے چڑیا گھر کی بجاٸے دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے چڑیا گھر میں ہوتی۔
ہاتھی اپنے قدرتی جنگلی ماحول میں 60 سے 70 سال تک زندہ رہتے ہیں۔ اور اگر چڑیا گھروں کی بات کریں تو 35 سے 40 سال تک زندہ رہتے ہیں۔ یعنی چڑیا گھروں میں آدھی عمر کم ہوجاتی ہے، مگر پاکستان میں یہ ہتھنی 35 سے 40 سال کیا 20 سال بھی پورے نا کرسکی۔
جانوروں کی خوراک، علاج کے بجٹ کھانے والو یاد رکھنا یہ دنیا گول ہے جو ظلم تم اپنے پیٹ کی آگ بھجانے کے لیے کرو گے وہی ظلم گھوم پر تم کو اور تمہارے خاندان کو لپیٹے گا۔
Wild MAF - LAPS Pakistan
19/04/2023
Saw Scaled Viper
تحریر اعزاز احمد
اس سانپ کو پشتو میں لٹکہ یا پیشے یا لنڈے اردو میں جلیبی سانپ اور انگریزی میں saw scaled یا carpet viper کہتے ہیں. یہ پاکستان میں سب سے زہریلے سانپوں میں سے ایک ہے جبکہ دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے. اس سانپ کا تعلق سانپوں کے Viperidae خاندان کے Echis جینس سے ہے.
پہچان
اس سانپ کے لمبائی کم ہوتی ہے. عموماً ایک فٹ تک لمبے ہوتے ہیں جبکہ کچھ سانپ ایک فٹ سے معمولی لمبے ہوتے ہیں یہاں. اس کا جسم کھردرا ہوتا ہے. سر ناشپاتی کی شکل کا ہوتا ہے، چھوٹا ہوتا ہے لیکن باقی جسم سے چوڑا ہوتا ہے. آنکھیں بڑی ہوتی ہیں، منہ آگے کی جانب سے گول ہوتا ہے.
آنکھوں کا کالا حصہ vertical یعنی اوپر کی جانب اٹھا ہوتا ہے. سر کے اوپر + جیسا نشان ہوتا ہے.
دم چھوٹی ہوتی ہے. جسم کے اوپر بھورے دھبّے ہوتے ہیں اور سفید رنگ کا zigzag لائن.
پھیلاؤ
یہ سانپ پاکستان، انڈیا، سری لنکا, بنگلہ دیش، عمان، افغانستان، عراق، ایران، سعودی عرب، بشمول افریقہ میں پایا جاتا ہے.
رہائش
یہ سانپ عموماً صحرائی علاقوں میں پائے جاتے ہیں. اس کے علاوہ یہ خشک علاقوں میں موجود زرعی زمینوں پر بھی ہوتے ہیں. یہ گرے ہوئے پتوں اور پتھروں کے نیچھے چھپے ہوتے ہیں. اس کے ساتھ ساتھ یہ جنگلی علاقوں میں بھی موجود ہوتے ہیں.
خوراک
یہ سانپ بڑے حشرات، کنکھجورے، چوہے، مینڈک اور پرندے کھاتا ہے.
افزائش نسل
ہمارے یہاں پاکستان اور انڈیا میں موجود اس سانپ کی افزائش نسل عموماً سردی کے موسم میں ہوتی ہے. ایک مادہ ایک وقت میں تین سے پندرہ بچے پیدا کرتی ہے. ان کی اوسط عمر بارہ سال تک ہوتی ہے.
عادات
یہ سانپ سورج طلوع اور غروب ہونے کے وقت زیادہ متحرک ہوتے ہیں. دن کو گرے ہوئے پتے، سڑتے ہوئے گرے درختوں اور گرے ہوئے پتوں کے نیچھے چھپے ہوتے ہیں. اگر صحرائی علاقہ ہو تو یہ سر کے علاوہ باقی جسم کو ریت میں چھپا کر پڑے ہوتے ہیں.
بارش کے بعد یہ سانپ راتوں کو زیادہ ایکٹیو ہوتے ہیں. ان سانپوں میں جھاڑیوں پر چڑھنے کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے. ایک اندازے کے مطابق یہ تقریباً چھ فٹ تک اوپر جھاڑی پر چڑھ سکتے ہیں. یہ صلاحیت عموماً بارش کے بعد دکھاتے ہیں.
زہر کے اثرات
یہ سانپ بہت غصیلا اور زہریلا ہوتا ہے. خطرہ محسوس ہونے پر یہ اپنے جسم کو S کی شکل میں لا کر رگڑنا شروع کر دیتا ہے جس سے آواز نکلتی ہے. اس کا مطلب ہے کہ سانپ اب حملے کے لیے مکمل تیار ہے.
کاٹے جانے کے بعد جلد ہی کاٹی گئی جگہ پر شدید درد اور سوجن شروع ہو جاتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کاٹی گئی جگہ کے ارد گرد پھیلنا شروع ہو جاتا ہے. ساتھ ساتھ پھوڑے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں.
اس سانپ کے کاٹنے کی رفتار بہت تیز ہے اور پلک جھپکنے تک کاٹ چکا ہوتا ہے. یہ کئی فٹ کے فاصلے تک بآسانی کاٹ سکتا ہے.
ایک سانپ میں تقریباً 72mg تک زہر ہوتا ہے، یہ کاٹتے ہوئے ایک وقت میں تقریباً 12mg تک زہر ڈالتا ہے جبکہ انسان کو مارنے کے لیے 5mg زہر کافی ہوتا ہے.
اس کے کاٹنے سے خون اتنا پتلا ہو جاتا ہے کہ جسم کے اندر تمام رگوں سے خون نکل کر جسم کے اندر جمع ہو جاتا ہے. ناک، کان اور منہ سے بھی خون نکلنے لگتا ہے. اکثر دماغ کی رگوں سے خون نکل کر دماغ میں جمع ہو جاتا ہے. رگوں سے زیادہ خون نکلنے اور جسم کے اندر ہی جگہ جگہ جمنے سے گردے فیل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے.
کاٹے جانے کے فوراً بعد مریض کو ہسپتال منتقل کریں اور بروقت Antivenum لگوائیں. اس کے ساتھ ساتھ مریض کو پانی کے ڈرپس بھی لگوائیں.
سانپوں کے متعلق معلومات کے لیے فالو کریں
Snakes of KPK خیبر پختونخوا کے سانپ
پیج.
تحریر اعزاز احمد ،خیبر پختونخوا ضلع صوابی سے.
12/04/2023
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 ................ بھری ہوٸی ریڑھی، اندازہ ہی لگا لیں گنتی تو ناممکن ہے۔ شاید 200 سے 300 معصوم چڑیا۔
ہم تاریخ اور مقام کنفرم کررہے ہیں، اگر یہ تصویر فروری کے بعد کی ہے تو اس سے بڑا ظلم شاید ہی آپ اپنی زندگی میں دیکھ سکیں۔ مادہ چڑیوں کے پیٹ میں انڈے، گھونسلوں میں انڈے اور بچے۔۔ دوہری تباہی کر ڈالی ظالموں نے۔
Wild MAF - LAPS Pakistan
29/03/2023
A kind reminder that deforestation is not 'just' about trees...😢🌍🙏
Please Plant trees; plant hope 🌳❤🌳
MAF
27/03/2023
Entomopathogenic fungi
تحریر اعزاز احمد
قدرت نے جہاں کروڑوں اقسام کے حشرات پیدا کیے ہیں، وہاں ان کو مختلف طریقوں سے ایک خاص تعداد کے اندر رکھنے کا انتظام بھی کیا ہے. ایسے انتظامات میں سرفہرست موسم ہے. بہت سے حشرات موسم کی سختی کی تاب نہ لاتے ہوئے ایک خاص تعداد کے اندر رہتے ہیں. موسم کے علاوہ بہت سے حشرات ایک دوسرے کا خود خاتمہ کرتے ہیں جبکہ بہت سے حشرات دوسرے جانداروں کی خوراک بن جاتے ہیں جبکہ کچھ مختلف بیماریوں سے مر جاتے ہیں.
اگر قدرت ان حشرات کو کنٹرول کرنا چھوڑ دے تو ایک ہی ہفتے میں زمین کے اوپر حشرات کی تعداد اتنی بڑھ جائے گی کہ زمین پر سات فٹ تک حشرات بھر جائیں گے.
حشرات کی تعداد مختلف طریقوں سے ایک تعداد کے اندر رہتی ہے جس میں کچھ کا ذکر کر چکا ہوں لیکن آج میں آپ کو بتاؤں گا کہ فگس یعنی فنجائی کا حشرات کو کنٹرول کرنے میں کیا کردار ہے.
فنجائی کے ایک لاکھ 48000 سے زائد انواع ہیں جس میں سے صرف 200 انواع ایسے ہیں جو حشرات کو مارتے ہیں.
فنجائی کے وہ اقسام جو بالخصوص حشرات کو مارتے ہیں، کو entomopathogenic fungi کہا جاتا ہے.
فنجائی کے مندرجہ ذیل جینس میں حشرات کو مارنے کی صلاحیت موجود ہے.
Cordyceps, Isaria, Beauveria, Hirsutella, Nomuraea, Metarhizium, Entomophthora, Pandora اور Paecilomyces.
یہ فنجائی حشرات کو نشانہ کیسے بناتے ہیں؟
فنجائی کا پھیلاؤ ان کے انتہائی باریک تخم نما سٹرکچر سے ہوتا ہے جس کو Spore یا Conidium کہا جاتا ہے. یہ اتنا باریک ہوتا ہے کہ عام آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا. یہی Spore ان حشرات کے جسم سے چمٹ جاتا ہے. جیسے ہی ماحول سازگار ہو جاتا ہے، وہ spore پودے کی طرح ان کے جسم میں اپنی جڑیں ( hyphae) ڈال دیتا ہے.
جڑیں ڈالنے سے پہلے یہ حشرات کے بیرونی جسم پر موجود ایک محفوظ کور جس کو Cuticle کہا جاتا ہے، کو مختلف enzymes کی مدد سے حل کر دیتا ہے اور یوں وہ حشرات کی اس حفاظتی دیوار کو توڑ کے اس کے جسم کے مکمل اندر تک پہنچ جاتے ہیں.
اسی طرح یہ فنگس حشرات کے جسم کو اندر سے ختم کر دیتے ہیں اور یو وہ انسیکٹ مر جاتا ہے. اپنی زندگی کا دورانیہ پورا کرنے کے بعد اس فنگس کا تخم یعنی spores حشرات کے جسم کے اوپر یا اس کے اندر ہی اُگ جاتے ہیں اور ہوا کی مدد سے آس پاس پھیل جاتے ہیں.
کیا یہ فنگس ہر قسم کے حشرات پر حملہ آور ہوتے ہیں؟
نہیں، حشرات کی خوش قسمتی یہ ہے کہ یہ فنجائی تمام اقسام کے حشرات کو نشانہ نہیں بناتی بلکہ مختلف فنجائی اپنے خاص انسیکٹ کو مارتے ہیں. جیسے Entomophthora زیادہ تر گھریلو مکھیوں کو نشانہ بناتے ہیں، Metarhizium زیادہ تر ٹڈے مارتا ہے، Cordyceps ٹڈے اور کچھ خاص انواع کی چیونٹیوں کو نشانہ بناتے ہیں، وغیرہ.
کیا ان کو بطور pesticides استعمال کیا جا سکتا ہے؟
جی بالکل کیا جا سکتا ہے. بلکہ بہت سے ممالک باقاعدہ ان کی انڈسٹریل بنیاد پر پیداوار کر رہے ہیں اور زہریلے کیمیکل کی بجائے ان کو استعمال کرتے ہیں. اگرچہ یہ فوری طور پر انسیکٹ کو نہیں مارتے مگر پھر بھی انسیکٹ کا مرنا یقینی ہوتا ہے جب یہ اس پر حملہ کرتے ہیں. اور پھر ان کے پھیلنے سے حشرات پر ایک وبائی کیفیت آجاتی ہے.
کیا حشرات کو پتہ ہے کہ یہ فنگس ان کے لئے نقصاندہ ہے؟
زیادہ اقسام کے حشرات لا علمی میں ان کے ہاتھوں لگ جاتے ہیں. جبکہ دیمک بشمول اور کچھ حشرات جو زمین کے اندر رہتے ہیں، ان کے متعلق یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ ان کی پہچان رکھتے ہیں اور ممکنہ حد تک ان سے دور رہتے ہیں.
کیا یہ فنجائی انسانوں کے لئے نقصاندہ ہیں؟
نہیں، ان کا. نشانہ صرف اور صرف حشرات ہوتے ہیں. انسانوں کے لیے بالکل بے ضرر ہیں 😉.
پوسٹ کو کاپی کرنے کی بجائے شئر کریں.
تحریر اعزاز احمد، خیبر پختونخوا ضلع صوابی سے.
23/03/2023
"النمل مخلوق مدھش"
تحریر و ترتیب: افراء نواز
چیونٹیوں کا دائرہِ حیات:
Life cycle of an ant
مکھیوں, تتلیوں اور کچھ کیڑوں کی طرح چیونٹیوں کا دائرہِ حیات چار ادوار پر مشتمل ہے جسکو complete metamorphosis کہا جاتا ہے..
انڈا...پیوپا...لاروا...بالغ
1) انڈا:
ذیادہ تر انواع میں صرف ملکہ انڈے دیتی ہے.اگر ان انڈوں کو مادہ نر کے مادہ منویہ(sperms) کے ساتھ بارآور (fertilize) کروائے تو اس میں سے ملکہ اور عام مادہ چیونٹیاں نکلیں گی, اگر نہ کرے تو اس سے نر نکلتے ہیں..
جب نئی کالونی کا آغاز ہو رہا ہو تو ملکہ ایک خاص قسم کے انڈے دیتی ہے جنکو "trophic eggs " کہا جاتا ہے, یہ انڈے نہایت مزے دار اور لذیذ ہوتے ہیں, ورکرز چیونٹیاں اور لاروا انہی انڈوں کو کھاتے ہیں اور اس میں سے ملنے والی انرجی یا قوت کو کالونی کو بڑھانے میں استعمال کرتے ہیں..
کبھی کبھار ورکرز چیونٹیاں بھی انڈے دیتی ہیں مگر ملکہ اور دوسری چیونٹیاں انکا سراغ پا لیتی ہیں اور ان انڈوں کو کھا لیا جاتا ہے..
2) لاروا:
یہ وہ دورانیہ ہے جس میں چیونٹیوں نمو (growth) کرتی ہیں..جب کسی کالونی پر حملہ ہو تو سب سے پہلے لاروا کو شکار کیا جاتا ہے کیوں کہ انکی ٹانگیں اور پاؤں نہ ہونے کی وجہ سے انکے لیے بھاگنا مشکل ہوتا ہے..یہ خود کھانے سے قاصر ہوتے ہیں اور انکی خوراک کا دارومدار ورکرز چیونٹیوں پر ہوتا ہے..اگر انکو ورکرز کی جانب سے خاص خوراک کھلائی جائے تو انکی جسم کی کیمسٹری تبدیل ہو جاتی ہے اور یہ ملکہ چیونٹی میں تبدیل ہو جاتے ہیں..
جیسے جیسے لاروا بڑا ہوتا ہے اسکی جِلد سخت ہوتی جاتی ہے, اور یہ پرانی جلد اتارتے رہتے ہیں اور اندر سے بالکل نئی جلد نکلتی آتی ہے..پرانی اتاری گئی جِلد کو ورکرز چیونٹیاں ہڑپ جاتی ہیں..
اگر آپ لاروا کو خوردبین کے نیچے دیکھیں تو آپکو انکے جسم سے بال باہر کو نکلے دکھائی دیں گے..یہ بال وہ اپنے آپکو کسی جگہ میں مضبوطی سے گاڑھے رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں.
پیوپا:
جن لاروا ایک حد تک نمو کر چکے ہوتے ہیں تو اس کے بعد وہ کھانا چھوڑ دیتے ہیں اور ساکن ہو جاتے ہیں, کچھ چیونٹیاں اپنے گرد ریشمی غلاف بُن لیتی ہیں جبکہ کچھ ایسا نہیں کرتیں..اس دورانیے میں وہ کچھ بھی نہیں کرتے اور صرف انکے جسم کے اندر تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں. انکی ٹانگیں نکلنا شروع ہوتی ہیں, جسم کے حصے واضح ہونے لگتے ہیں, انٹینا اور منہ کے حصے بننا شروع ہو جاتے ہیں..
جسم کے حصے بننے کے بعد وہ اپنی جِلد سے ایک بالغ چیونٹی کے طور پر باہر نکل آتے ہیں, اوائل دنوں میں انکے جسم کے حصے نازک ہوتے ہیں اور جِلد ہلکے رنگ کی ہوتی ہے اور وہ اپنی ٹانگوں پر سہارا نہیں لے سکتے, وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹانگیں مضبوط اور جسم کا رنگ گہرا ہونگے لگتا ہے, اب انہیں بالغ چیونٹی کہا جا سکتا ہے..
بالغ چیونٹیاں اپنے معمول کا کام شروع کر دیتی ہیں..
بالغ چیونٹیاں تین طرح کی ہوتی ہیں:
نمبر 1:
کارکن چیونٹیاں یا ورکرز:
کالونی کے ذیادہ تر کام انکے زمے ہوتے ہیں, یہ سائز میں بڑی نہیں ہوتیں, اگر آپکو کوئی چھوٹی سی چیونٹی نظر آئے تو وہ نابالغ چیونٹی نہیں بلکہ چیونٹیوں کی ایک نوع ہوتی ہے جو اتنے ہی سائز میں پائی جاتی ہیں..
کارکن چیونٹیاں مادہ ہوتی ہیں, انکے زمے ملکہ چیونٹیوں اور لاروا کی خوراک انکی حفاظت کرنا, کالونی کی صفائی ستھرائی, مرمت, کالونی کی حفاظت غرض یہ کہ ہر چھوٹے سے بڑا کام انکی زمہ داری ہوتا ہے..
نمبر 2: ملکہ چیونٹی:
ملکہ عام چیونٹیوں کی نسبت کافی بڑی ہوتی ہے, اسکا کام صرف انڈے دینا ہوتا ہے اور کالونی کی آبادی میں اضافہ کرنا ہوتا ہے. جب یہ انڈے سے نکلتی ہے تو اسکے پر ہوتے ہیں جو یہ نر سے ملاپ کے بعد اتار پھینکتی ہے, اسکا پیٹ انڈوں کی وجہ سے پُھول جاتا ہے, کارکن چیونٹیاں اسکا انتہائی خیال رکھتی ہیں تا کہ یہ کالونی میں صحت مند افراد کا اضافہ کرے..
نمبر 3:
نر چیونٹی:
یہ کالونی کے اندر کوئی بھی کام نہیں کرتے, انکا کام ملکہ سے ملاپ ہوتا ہے, ملاپ کے بعد انکی حساس حصہ پھٹنے کی وجہ سے موت ہو جاتی ہے..ملکہ کی طرح انکے پر ہوتے ہیں لیکن سائز میں یہ ملکہ سے چھوٹے ہوتے ہیں, انکا سر چھوٹا اور آنکھیں بڑی ہوتی ہیں..انٹینا بھی مادہ کی نسبت بڑا ہوتا ہے...
Pic source: Google
https://www.facebook.com/ifra123499
21/03/2023
جنگلات کا عالمی دن
آج 21 مارچ کو پوری دنیا میں جنگلات کا عالمی دن منایا جارہا ہے اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد جنگلات کے تحفظ اور اہمیت کو اجاگر کروانا ہوتا ہے۔
کبھی سوچا ہے گھروں، عمارتوں میں انسانوں کی مکمل غیر موجودگی سے کیا ہوگا؟
ویرانگی ہوگی، دیہی، شہری بری طرح متاثر ہوگی کیونکہ انسانوں کے بغیر گھروں اور عمارتوں کی رونق بھی بحال نہیں رہ سکتی اور نظام مکمل طور پر درہم برہم ہوجاٸے گا۔
گھر اور عمارتیں انسانوں کی رہاٸش کے بغیر مکمل تباہ ہوجاٸیں گی۔
بلکل اسی طرح اللہ نے جنگلات کو بنایا تو جنگلات میں رہنے والی جنگلی مخلوقات بھی بناٸیں، جنگلی جانور اپنی خوراک کا بڑا حصہ جنگلات سے حاصل کرتے ہیں اپنی چھپنے کی رہنے کی جگہ بھی جنگلات سے حاصل کرتے ہیں،
اگر ہم انسان درختوں کو کاٹیں گے تو جنگلات کے ساتھ جنگلی حیات بھی لازمی متاثر ہوگی اور اگر ہم جنگلی حیات کی نسل کُشی کریں گے تو جنگلات ویران ہوجاٸیں گے جنگلات کی خوبصورتی ختم ہوجاٸے گی۔ جنگلات پھلنا پھولنا چھوڑ دیں گے۔
اس لیے جہاں جنگلات کا تحفظ ضروری ہے وہیں جنگلی حیات کا تحفظ بھی بہت ضروری ہے۔
آخر میں محکمہ جنگلات کے نام ایک پیغام :
کونو اور سفیدہ کو مکمل طور پر بھگاٸیں، مقامی پودوں کی کامیاب علاقاٸی شجرکاری کرواٸیں۔
Wild MAF - LAPS Pakistan 🌱🇵🇰
20/03/2023
چڑیا کے نام عالمی دن 🐤
آج 20 مارچ 2023 پوری دنیا میں اس ننھی مخلوق کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ جب سے ہمارے مکان پکے ہوٸے، انکے رہنے کی جگہ کم پڑ گٸی، جب سے ہم نے فصلوں کی پیداوار میں اضافے اور فصلوں کو حشرات سے بچانے کی خاطر غیر ضروری زہریلی اسپرے اور ادویات کا استعمال کیا تب سے ان چڑیوں کی تعداد میں بڑی کمی ہوچکی ہے۔ باقی رہی سہی کسر چڑے کھانے والے شوقین افراد نے پوری کردی ہے۔
March 20
World Sparrow Day is observed every year on March 20 to raise awareness about the importance of sparrows and their conservation. The day was first celebrated in 2010 in India and has since been observed in several countries around the world.
Wild MAF - LAPS Pakistan 🇵🇰
19/03/2023
Duck-billed Platypus
اس جانور کو انگریزی میں Duck-billed Platypus جبکہ سائنسی زبان میں Ornithorynchus anatinus کہا جاتا ہے۔
اس کا تعلق جانوروں کی جماعت ممالیہ اور ذیلی خاندان Ornithorhynchidae # سے ہے۔ اس خاندان میں صرف ایک ہی جینس (Genus) اور ایک یہ ہی نوع آتی ہے۔
✓پہچان یا جسمانی خدوخال (Physical features):
جسمانی خدوخال کی بات کی جائے تو یہ بڑے عجیب سا
جانور ہے، انکے پچھلے پاؤں کے پنجے ہیں جبکہ اگے پاؤں میں بطخ کی طرح کی اضافی جلد ہوتی ہے (webbed feet) جو انکو پانی میں تیرنے میں مدد دیتی ہے.
انکی چونچ بھی ہے جو بطخ سے ملتی ہے۔ اس وجہ سے انکو Duck-billed Platypus کہا جاتا ہے۔ بطخ کی چونچ کی نسبت انکی چونچ کافی نرم ہوتی ہے اور اس پر ہزاروں کی تعداد میں Receptors موجود ہوتے ہیں جو شکار کا پتہ لگانے میں مدد کرتے ہیں۔اسکے علاوہ انکی دم Beaver نامی جانور سے ملتی جلتی ہے۔
جب انکے Preserved specimens کو 1700 میں پہلی بار یورپ لے جایا گیا تو ماہرین یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھے کہ یہ کوئی اصلی جانور ہے یہی لگ رہا تھا کہ یہ مختلف جانورں کے اعضاء کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے۔۔
انکا سائز 15 سے 20 انچ تک ہو سکتا ہے جبکہ دم کی لمبائی 5 انچ تک ہوتی ہے۔
جب یہ چھوٹے ہوتے ہیں تو انکے دانت ہوتے ہیں جو بچپن میں ہی گر جاتے ہیں یہی وجہ ہے بالغ ہونے کے بعد یہ شکار کو اپنی چونچ میں رکھتے ہیں اور اسکے ساتھ کچھ کنکر بھی جو کھانے کو توڑنے میں مدد کرتے ہیں۔
یہ کافی اچھے تیراک ہیں۔ انکی کھال Water proof خصوصیات رکھتی ہے اور پانی میں گیلا ہونے سے بچاتی ہے۔
انکی منفرد بات یہ ہے کہ یہ ممالیہ جانوروں کی طرح بچے دینے کے بجائے انڈے دیتے ہیں جن سے دس سے بارہ دن بعد بچے نکلتے ہیں اور انہی بچوں کو چار ماہ تک دودھ پلایا جاتا ہے۔
✓پھیلاؤ (Distribution):
یہ آسٹریلیاء کا رہائشی ہے وہاں یہ آپکو مشرقی حصے اور تسمانیہ میں ملیں گے۔
✓ رہائش (Habitat):
یہ زیر زمین بل بنا کر رہنا پسند کرتے ہیں اور انکے بل آپکو ندی، نالوں، دریاؤں کے کناروں کے قریب ملیں گے۔
✓برتاؤ (Behavior):
یہ کافی شرمیلے ہوتے ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت کھانے پینے اور سونے میں گزار دیتے ہیں۔یہ اکیلا رہنا پسند کرتے ہیں۔
یہ پانی میں شکار کرنے کےبھی کافی ماہر ہوتے ہیں۔۔شکار کرتے وقت یہ اپنی آنکھیں، کان اور ناک کو بند کر لیتے پیں اور چونچ پر موجود Receptors کی مدد سے شکار کا پتہ لگاتے ہیں۔ پانی میں زیادہ سے زیادہ دو منٹ تک رہ سکتے ہیں۔
مادہ انڈے دینے کے لیے اپنے پنجوں کی مدد سے بل بناتی پے اور انڈے دینے کے بعد بل کا راستہ بند کر دیتی ہے۔
✓کیا یہ خطرناک ہیں؟
نر کے پچھلے پاؤں میں کانٹے نما ایک چیز موجود ہوتی ہے جس سے وہ مخالف میں زہر داخل کرتا ہے اکثر یہ مادہ کے لیے لڑائی میں نر ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مادہ میں یہ کانٹا بچپن میں موجود ہوتا ہے مگر بالغ ہونے سے پہلے پہلے گر جاتا ہے۔
اگر انسان پر حملہ کریں تو انکا زہر متاثرہ حصے میں شدید درد اور سوجن کا باعث بن سکتا ہے۔
تحریر و ترتیب: افراء نواز
https://www.facebook.com/ifra123499
14/03/2023
🐍🐍🐍🐍
گرمی کا موسم شروع ہورہا ہے، رینگنے والے جانوروں سمیت سانپ نظر آنا شروع ہوچکے ہیں۔
پورے پاکستان میں پاٸے جانے والے 4 عام انتہاٸی زہریلے سانپوں کی تصاویر مقامی، اردو، انگلش اور ساٸنسی ناموں کے ساتھ شٸیر کی گٸی ہیں۔
ان چار سانپوں میں سے کسی بھی سانپ کے کاٹنے سے بروقت علاج نا ہونے کی صورت میں انسانی اموات ہوتی ہیں۔
مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں
+92 315 4634115
انتظامیہ
Wild MAF - LAPS Pakistan 🇵🇰
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Islamabad