Early Childhood and Parenting Education of Pakistan-ECPEP

Early Childhood and Parenting Education of Pakistan-ECPEP

Share

The "Early Childhood and Parenting Education of Pakistan" is a Platform for providing guidance and s

26/09/2022

ہمارے ہمسائے میں ایک بچے کو نجانے کیا ہوا، کہتا ہے کہ ٹانگ کاٹ دو!
اب آپ مجھے بتائیں کہ کیا والدین اسکی ٹانگ کٹوا دیتے؟
کٹوانی چاہیے کیوں کہ اسکا حق ہے جو چاہے اپنے لئے سوچے! وہ خود یہ اتھارٹی رکھتا ہے کہ اپنی ٹانگ کٹوا سکتا ہے جیسے عضو تناسل یا چھاتی کٹوائی جا سکتی ہے ٹرانس جینڈرز میں!
اگر آپ پاکستانی "ٹرانسجینڈر لاء" پر اسلامی نظریے سے سوچ رہے ہیں یا انسانی نظریے سے
یہ پوسٹ آپ سب کے لئے ہے۔
پیشگی معذرت یہ لمبی پوسٹ ہے! تھوڑا برداشت کیجئے!
ٹرانس جینڈر پر اتنی آگاہی آ چکی ہے کہ ہم سب کو اب علم ہے کہ ٹرانس جینڈر پیدائشی نہیں ہوتے، بلکہ ایسے انسان ہوتے ہیں جو بعد میں اپنے آپ کو دوسری جنس کا سمجھنے لگتے ہیں۔ جیسے مرد اپنے آپ کو عورت سمجھنا شروع کر دے یا عورت اپنے آپ کو مرد!
یہ سمجھتے ہیں کہ غلط جسم میں انکی روح قید ہو گئ ہے۔ (اللّه کی تخلیق پر سوال)
یہ سمجھتے ہیں کہ انکو اپنے جسم کے حصّے کٹوا کر دوسرے جینڈر میں تبدیل ہو جانا چاہیے!
پیدائشی طور پر ہمارے پاس صرف 2 ہی قسم کے جینز پائے جاتے ہیں مرد یا عورت۔ اور جنیاتی طور پر عورت XX ہوتی ہے جب کہ مرد XY ہوتا ہے۔ اچھا یہاں بہت بڑا سوال آتا ہے قدرت پر کہ کیسے XX, XY اپس میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ آپ ایک XX کروموسومز والے کو سپرم بنانے پر کیسے لگا سکتے ہیں جب یہ اس میں قابلیت ہی نہیں ہے؟؟ تو یہ تو سراسر ظلم ہے اس انسان پر جو ایسی سرجری کرواتے ہیں۔ انکو تو دماغی مسئلہ تھا جسے جینڈر ڈسمورفیا کہا جاتا ہے۔ ابھی تک ایک بھی سائنسی ریسرچ ثابت نہیں کر سکی کہ یہ ان میں پیدائشی ہوتا ہے صرف 2 سائنسی ریسیرچز نے یہ "ہائپوتھیسس" دی ہے کہ یہ پیدائشی ہی دماغ خراب ہوتا ہے مگر سائنس میں ہائپو تھیسس کی ویلیو صفر ہوتی ہے جب تک وہ ثابت نہ ہو۔ ہم اس کے مقابلے میں ان کو توجہ کا مرکز بنائیں گے جو ثابت شدہ ہیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے دنیا کی ساری ٹاپ یونیورسٹیز اس بات کو ثابت کرنے میں ایڑھی چوٹی کا زور ضرور لگا رہی ہیں۔
اب آپ لوگوں کا سوال ہو گا کہ جو خنثی (inters*x) ہوتے ہیں وہ کس زمرے میں آتے ہیں. انسانی انڈے کی fertilization کے 5 ہفتے بعد اپکے جینز مرد یا عورت کی نشاندہی کر لیتے ہیں مگر کچھ انسانوں میں یہ ناکام ہو جاتے ہیں اور SRY جین شائد ایکٹو ہو جاتا ہے (ہائپو تھیسس) جس کی وجہ سے ان کے سیلز نہ تو مرد ہوتے نہ عورت بلکہ ان میں یہ پوٹینشل ہوتا ہے کہ وہ مرد بھی ہو سکتے ہیں اور عورت بھی۔ اور ایسے ان میں کچھ بھی صحیح طرح نہیں بن سکتا اور ان کی جنس ادھوری رہ جاتی ہے۔ یہ جینیٹک ڈس ارڈر ہے۔ مگر ایک مکمل مرد جو بعد میں اپنے آپکو عورت ڈیکلئر کرتا ہے اور مکمّل عورت جو مرد سمجھنا شروع کر دیتی ہیں یہ ذہنی بیماری ہے اور سائنس ابھی تک ثابت کرنے سے قاصر ہے کہ یہ ان میں پیدائشی نقص تھا۔
جن میں بھی جینڈر ڈیسمورفیا ہو جاتا ہے اسکو 2-1 سال تک Endocrinologist ہارمونز دیتے ہیں۔ عورت میں ایسٹروجن پایا جاتا ہے اور مرد میں ٹیسٹوسٹیرون۔ مرد کو ایسٹیروجن دیا جاتا ہے تا کہ اس میں جسمانی تبدیلیاں کی جائیں۔ یہ ہارمون تھراپی کے بعد سرجری کی جاتی ہے۔ اور اس کے بعد بھی اپکو سائیکولوجیکل ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاشرہ قبول نہیں کرتا اور ایسے افراد میں %50 لوگوں کو ڈپریشن ہوتا ہے اور %26 لوگ خودکشی کر لیتے ہیں۔
ڈپریشن مایوسی کی طرف لے جاتی ہے اور برائی کا گڑھ بن جاتی ہے۔ کئی ایسی سائنسی رپورٹس آ چکی ہیں جس میں یہ واضح ہے کہ ان کی سوچ ایسی اس لئے ہو جاتی ہے کیوں کہ ان پر والدین کی طرف سے ظلم ہوتا ہے یہ اپنے ساتھیوں کی طرف سے ہتک آمیز رویہ! جس کہ نتیجہ میں یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہمارا جینڈر بدل جاۓ تو ہم زیادہ خوش رہ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال کسی حد تک بھی جا سکتی ہے جس میں ڈپریشن کی انتہائی حد شامل ہے۔ اور پھر جب والدین اور ڈاکٹر اس چیز کو سپورٹ کرتے ہیں اور بچے کو ٹرانس جینڈر بنا دیتے ہیں تو یہ نہ صرف قدرت کے قانون کے خلاف جنگ ہے بلکہ آپ نے ایک انسانی جسم کے ساتھ بھی کھیلا ہے۔ کیا وہ یہ کہتا کہ میری ٹانگ کاٹ دو تو اپ والدین اور ڈاکٹر کاٹ دیتے؟
ایسے لوگوں کا علاج کیا ہونا چاہیے اگر کوئی اپنے آپ کو دوسری جنس کا سمجھتا ہے تو اس کا علاج سائیکولوجیکل ہی ہے۔ ایک ماہر نفسیات سے تھراپیز لی جائیں۔ ماں باپ بہترین تواجہ دیں اور پیار کی جو کمی وہ دوسری جنس میں تلاش کر رہے ہیں وہ ماں باپ پوری کریں۔
پھر ایک منٹ آپ سوچ کر تو دیکھیں کہ یہ کیسی کیسی معاشرتی بیماریوں کا سبب بنے گا!
عورت مرد بنے گی اور مرد عورت بنے گا تو انکے پبلک غسل خانوں کا کیا ہو گا!؟
مرد سے پردے کا کیا ہو گا؟
مرد کا حصّہ اسلام میں دوگنا ہے جب کہ عورت کا ایک! یہ تو فسادات کی لمبی فہرست شروع ہو جاۓ گی۔
اور سب سے بڑا مسئلہ
شادی!!!!!
عورت عورت سے شادی کرے گی اور مرد مرد سے! کیا یہ قوم لوط کا فعل نہیں؟ یا اب آپ نے اسلام میں یہ جائز دے دیا ہے؟؟ کون ہیں آپ جائز قرار دینے والے؟ نیا اسلام نکالنے والے؟
اللّه نے اپنے قانون میں ایسا کچھ بھی ردوبدل قبول نہیں کرنا!
انسانیت کے تحت بھی یہ قابل قبول نہیں ہے آپ کو اتنا تو اندازہ ہو جانا چاہیے اب تک!
پھر
پاکستان میں حالات مزید مختلف ہیں۔ یہاں پر ایسی سرجریز کے تحت تبدیل ہونے والے چند ایک ہیں مگر مرد کے بھیس میں عورت اور عورت کے بھیس میں مرد اپنی من موجیں کر رہے ہیں۔ اور لعنت ہے ان درباری گنڈوں پر جنہوں نے "Self Perceived" جینڈر ائڈینٹی کا نام دی کر کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ آپ کی مرضی ہے تو جائیں نادرا اور عورت بن جائیں اور کریں ایک اسلامی ملک میں قانونی طریقے سے ہم جنس پرستی۔
واہ بھائی واہ!!
معذرت میری تلخ باتوں کے لئے! مگر آپ اپنی آنکھیں نہیں کھولنا چاہتے تو یقین کریں اللّه نے آپ کے لئے پہلے قرآن مجید میں کہہ رکھا ہے۔
" 02-سورۃ البقرہ-آیت نمبر 171)
ترجمہ: " یہ لوگ بہرے، گونگے، اندھے ہیں سو انہیں کوئی سمجھ نہیں"

اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ آیات کافروں کے لئے ہیں اور ہم نام نہاد مسلمانوں کے لئے نہیں تو تب بھی میں کلئیر کر دوں کہ اللّه کے احکامات نہ ماننے والوں کو کافر کہا جاتا ہے نادرا کے شناختی کارڈ پر مسلمان لکھنے سے ہم مسلمان ڈکلیر نہیں ہو جاتے۔
پاکستان کے ٹرانس جینڈر قانون میں مسئلہ کیا ہے جس پر ہم اتنا چیخ رہے ہیں۔
1۔ self perceived gender identity
یہ کسی باقاعدہ اصول کے تحت ہونی چاہیے۔ ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جانا چاہیے۔
2۔ transgender word should be changed with inters*x word.
آخر میں، میں آپکو ایک یاد دہانی مزید کرانا چاہوں گی بطور مسلمان!

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس کسی نے برائی دیکھی پھر اسے اپنے ہاتھ سے دور کر دیا تو وہ بری ہو گیا، اور جس میں ہاتھ سے دور کرنے کی طاقت نہ ہو اور اس نے زبان سے دور کر دی ہو تو وہ بھی بری ہو گیا، اور جس میں اسے زبان سے بھی دور کرنے کی طاقت نہ ہو اور اس نے اسے دل سے دور کیا ۱؎ تو وہ بھی بری ہو گیا اور یہ ایمان کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے“۔
اپنے ایمان کے آخری درجے کو بچا لیں!! خدا راہ پلیز!
اور بھی لکھنا چاہتی ہوں میں!!
جب یہ فتنہ عنقریب بہت پھیلے گا تو ہمارے ہی بچوں کے ساتھ اسکول میں ٹرانس جینڈر سوچ والے بچے پڑھ رہے ہوں گے چونکہ قانونی آزادی ہے تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ کتنی جلدی ہم تک پہنچ سکتا ہے! یہ سائنسی اعتبار سے ثابت شدہ ہے کہ بچے اپنے ساتھیوں کا اثر لیتے ہیں تو ہمارے گھر کا رخ کرنے میں اس فتنے کو کتنی دیر لگے گی؟؟؟
کیا ہمارے گھر محفوظ ہیں؟
کیا ہم یہ برداشت کریں گے کہ ہمارا بچہ بھی ٹرانس جینڈر ہو جاۓ یا شائد مستقبل میں اسکی شادی کسی ٹرانس جینڈر سے ہو جاۓ؟؟
پھر!
اپکی خاموشی کتنی دور تک جا سکتی ہے؟
سوچیں!!
ڈاکٹر زرین زہرا

Links:
Transgender Law of Pakistan

na.gov.pk

12/06/2022
11/06/2022

میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں مگر، اگر آپ موٹی ہو گئی تو میں دوسری شادی کر لوں گا!
اگر آپ نے میری بات نہ مانی تو میں ناراض ہو جاؤں گا!
اگر آپ نے اچھی روٹی نہ پکائی تو میں کھانا باہر کھا کر آؤں گا!
اگر آج آپ نے کچن صاف نہیں کیا تو میں ماروں گا!
اسی طرح!!
مجھے آپ بہت اچھے لگتے ہیں مگر، اگر آپ کے بال گر گئے تو میں آپ کے ساتھ نہیں رہوں گی!
مجھے اتنے پیسے چاہیے، اگرنہ دے تو میں میکے جا رہی ہوں!
اف!
کیسے لگے یہ سب سننا پڑے اپکو اپنے ہمسفر سے؟
آپ کہیں گے کہ بھئ کونسا پیار؟ اگر واقعی ہی اپکا ہمسفر پیار کرتا بھی ہو گا تو آپ اس کی طرف سے ہر وقت ناراضگی کی وجہ سے ہی ایک سٹریس میں ہی رہیں گے! اپکا دماغ صرف ایک جدوجہد کا گڑھ بنا ہو گا کہ کہیں میں کچھ غلط نہ کر دوں! اور اپکی ٹخلیقی صلاحیتیں بلکلصفر ہو جائیں گی۔
اب ایک منٹ!
ان جملوں پر غور کریں!
اگر آپ نے یہ کھانا نہیں کھایا تو ہم یہ نہیں کھیلیں گے!
اگر آپ نے ماما کی بات نہیں مانی تو ماما ناراض ہو جائیں گی۔
اگر آپ نے بھیا کو مارا تو میں یہ کھلونا لے لوں گی۔
آپ میری بات نہیں مانتے، اس لئے ماما اپکو باہر بھی نہیں لے کر جائیں گی۔

ماں باپ کے پیار میں کس کو کوئی شبہ ہے؟ کسی کو نہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ پیار کرنے والی ہستیاں ماں اور باپ ہوتے ہے۔
مگر
اگر دن میں اکثر آپ ایسے جملے استعمال کرتے ہیں تو اسکا مطلب ہے کہ
آپ مسلسل بچے کو تھریٹ (ڈر) کی حالت میں رکھتے ہیں۔
اپکا پیار صرف اور صرف اسکے اچھے ہونے پر منحصر ہے۔ مطلب اگر وہ اچھا بچہ( مطلب لوگوں کو خوش کرنے والا) ہے تو ٹیب تو آپ پیار کرتے ہیں، مگر جب وہ اپنے جذبات ظاہر کرے تو تب آپ تھریٹ کریں گے! کیوں؟
اچھا آب آپ لوگ مجھے کٹہرے میں کھڑا کریں گے کہ تربیت بھی تو کرنی ہوتی ہے۔
تو آپ کے لئے میں بتانا چاہتی ہوں کہ جب ہم بچے کو ڈرا کر کچھ بھی "تربیت" کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ دماغی طور پر اپکی بات سمجھ ہی نہیں سکتے، صرف اور صرف ڈر کی وجہ سے کر رہے ہوتے ہیں۔ جیسے اگر اپکو دھمکی دی جاۓ کہ یہ نہ کیا تو گھر سے نکال دوں گا یا نوکری سے نکل دیا جاۓ گا!
وہ معصوم سی جان بھی اپنی سیف (safe) سپیس کھو جانے کے ڈر سے فاٹا فٹ آپ کے کہے پر عمل کر لیتے ہیں۔
مگر ٹہریں!
اس کی وجہ سے کہیں آپ اسکی تخلیقی صلاحیتوں کا قتل تو نہیں کر رہے؟

مجھے امید ہے کہ آپ نہیں کر رہے۔
اگر کر رہے ہیں تو دیر اب بھی نہیں ہوئی۔
آپ اپنا رویہ بدل سکتے ہیں۔
جزاک اللّه خیر
ڈاکٹر زرین زہرا

10/06/2022

would love to see your support when you will tag your nears and dears. Thank you

10/06/2022

Would love to see your support when you will tag your nears and dears. Thank you

10/06/2022

The workshop date has been changed and you can still register and join live class.
Whatsapp at our official number to get registered.
Whatsapp no: 03115272293

05/06/2022

مجھے بچوں کے دماغ پڑھنے کا بڑا شوق ہے۔ مجھے جاننا ہوتا ہے کہ اگر میں یہ کہہ رہی ہوں ہوں تو میرے بچے اپنے دماغ میں کیا سوچ رہے ہیں۔
جیسے میں اکثر محمّد علی کی آنکھوں میں جھانک کر پتا کرنے کی کوشش کرتی ہوں کہ کیا سوچ رہا ہو گا! کیا ری ایکشن ہو گا!
کیا آپ کرتے ہیں؟
اچھا کبھی سوچا کہ جب ہم ریڈ کرتے ہیں بچوں کے ساتھ تو انکے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔
یا بس کتابیں پڑھا دی؟
یا وہ بھی بس اسکول کی رٹا دی؟
نہیں نہیں! میں یقین رکھتی ہوں کہ آپ سب اپنی بھرپور کوشش کرتے ہیں مگر صحیح سمت نہیں ملتی۔
پھر ایک اور سوال بھی تو ہے!
کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ بچے کے دماغ کے مطابق ریڈنگ کر سکیں۔ مطلب آپ اسکو ہینڈل کرنا سیکھ جایں تو؟
اگر میں کہوں کہ ہم آپ کو اس قابل بنا دیں گے کہ آپ اپنے بچوں کے دماغوں میں جھانک سکیں گے کچھ پڑھاتے ہوئے اور انکو انکے لیول پر جا کر پڑھا سکیں گے تو؟
کبھی سوچا ہے آپ نے؟
کیسے دماغ کی صلاحیتیں ریڈنگ سے بدل سکتی ہیں؟
اپکے بچے کے سوچنے کا انداز کیسے بدل سکتا ہے؟
ہل (Hill) لٹریسی USA کا ایک ایجوکیشنل ادارہ ہے جو بچوں کی زبان، ریڈنگ اور انکی کریٹیکل تھنکنگ کو بڑھانے کے لیے انتہائی شاندار پروگرامز ترتیب دیتا ہے اور ٹیچرز کو باقاعدہ ٹرین کرتا ہے۔ اس تربیتی پروگرامز کا مقصد ٹیچرز کو جدید طریقہ تدریس سکھانا ہوتا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ بچوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا بھی مقصد ہوتا ہے۔
کیسا لگے گا آپکو اگر اپکو انکا کورس سکھایا جاۓ؟
مجھے تو بہت تجسس ہے کہ کیسے انکے بچے اتنے ٹیکنیکل ہوتے ہیں کہ انکے چھوٹے چھوٹے بچے اتنے دماغی مضبوط ہوتے ہیں۔
اسکی وجہ مجھے وہاں کی ٹیچرز کی محنت اور ٹریننگ نظر آتی ہے۔
ہماری پیاری Kehkashan Iqbal ایک ایسا ہی ہیرا ہیں جو ایک ہل لٹریسی سسٹم کی ٹرینڈ ٹیچر ہیں۔ چونکہ گرمیوں کی چھٹیاں آ رہی ہیں اور کچھ بہتر کر سکتے ہیں تو اسی لیے ہم نے ایک ورکشاپ رکھی ہے۔
یقین کریں! کہکشاں کے لئے یہ بہت مشکل تھا کہ وہ ایک فل ٹائم جاب کے ساتھ یہ سب مینیج کرتی۔ دوسرا بڑا مسئلہ وقت کا بھی تھا! ہمارا اور امریکا کے ٹائم میں آدھے دن کا فرق ہے۔ مگر کچھ بہتر کرنے کے لئے کچھ حصّہ ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔
کہکشاں نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ یہ سب سکھانے کے ساتھ ساتھ کچھ فری ریسورسز بھی شئیر کریں گی جس سے والدین کو بہت مدد ملے گی۔
ورکشاپ 2 دن ہو گی 7 اور 9 جون کو۔
ہر دن 2،2 گھنٹوں کی ہو گی اور وقت سپہر 5-3 بجے پاکستانی ٹائم کے مطابق ہو گی۔
مزید معلومات کے لئے اس ویڈیو کو دیکھیں!

اس ورکشاپ کی فیس ہم نے بہت معمولی اس لیے رکھی ہے تا کہ آپ سب یہ قیمتی کورس لے سکیں۔
آخری ایک دن رہتا ہے۔ آپ رجسٹر کرا سکتے ہیں۔
اس گوگل فارم کو فل کریں اور اس نمبر پر واٹس اپ کر دیں۔ واٹس اپ پر اپکو ایک پرائیویٹ فیس بک گروپ کی طرف ڈائریکٹ کر دیا جاۓ گا!

واٹس اپ نمبر : 923115272293+
گوگل فارم: https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSfTazYeEfvs09idgfMjkgIEsy18kNrXQ9ojnd9AmNagLZfTpw/viewform?usp=sf_link

آپ اس بارے میں کوئی بھی تجویز دینا چاہیں تو ہمیں ضرور بتائیں۔
Kindly bump this post

03/06/2022

Kindly Bump

Don't you want to get trained like the pro to teach your children. You always want to seek advice on "how to do meaningful workout for schooling".
Yes this time I really adore Kehkashan Iqbal that she comes up with her excellent plan.
An introduction of Kehkashan Iqbal.

A Certified teacher- elementary education and middle school math in America with extensive hand on experience and education.
Working as an academic interventionist in an elementary school
Previous experience: math interventionist in a middle school

So Kehkashan Aims to hold a workshop and see what is her message

message from our Speaker:

Dear Parents,
I have designed this workshop by keeping in mind all those questions that are asked by many parents on this forum.

Day 1:
First session will address these questions:

1- When should my child join the school?
2- Which grade level is appropriate for my child?
3- Which school should I pick?
4- Should I homeschool my child? (Remember this question will be addressed briefly. Only pros and cons will be discussed. No resources will be shared as this workshop is not about homeschooling)
5- How should I start teaching my child?
6- What are standards?
7- Is writing important at pre-school level?
8- What is a routine? Is it important? If yes then why and how can we establish a routine?
🔹 Last four questions will take more time as we will discuss these in detail.

Day 2:
On second day, I will explain what are the critical literacy skills and how can we teach them. After introducing you all to these skills, I will share a model lesson which I believe will be a very useful thing for all of you. In this lesson, I will share how can we combine and teach all those skills in one short session. This approach is comparatively newer to me as well, which I learned in my recent professional development workshop, and now I am eager to share it with you all.

🔷 I might add a few more points in both sessions. This is just a general Outline, to give you all an idea about the workshop.

Looking forward to meeting with all the wonderful parents.

🌸 Let’s learn from each other!!!

Kind regards,
Kehkashan Iqbal

For registration please fill this form
https://forms.gle/eXEVpNdN711cNeCf7

27/05/2022

ہم والدین بھی نا!
کسی ٹائم سکون نہیں آتا ہمیں!
جب گرمیوں کی چھٹیاں نہیں تھی تب ہمیں یہ فکر کہ بچوں کو ٹائم نہیں ملتا اور جب ہو چکی ہیں تو ہمیں یہ فکر کہ انکے سکلز کیسے بہتر کے جائیں۔
روز Z-Square پر ایسی ریکویسٹس آتی ہیں کہ فاٹا فٹ ایک دن میں یہ ایکٹیویٹیز بھیج دیں۔ بچوں کی چھٹیاں ہیں۔ کچھ کرنے کو پازیٹو چاہیے!
کسی کو فکر ہے لکھائی اچھی نہیں، کسی کو فکر ہے کہ ہمارے بچوں کو صحیح طرح پڑھنا نہیں آتا!
کسی کو فکر کے بچوں کو کتابیں پڑھنا کیسے شروع کرایا جاۓ۔
غرض ہم والدین ایک فکروں کے جال میں جکڑے ہوۓ ہیں۔
اچھا آگے بات بڑھانے سے پہلے میں آپکو ایک بہت پیاری انسان کا بتاتی ہوں۔ جب میں نے یہ فیس بک گروپ شروع کیا تو مجھے ایک انباکس آیا کہ میں کب سے یہ کام کرنا چاہ رہی تھی۔ آپ نے یہ گروپ بنا کر بہت اچھا کیا ہے۔ میں نے انہیں ماڈریٹر بننے کی دعوت دی جو کہ انہوں نے قبول کی اور اس طرح وہ میری ٹیم کا حصّہ بن گئ۔ ان اندیکھی خاتون سے جو میرا دل کا رشتہ ہے وہ کسی تعریف کا محتاج نہیں۔ شائد رات ایک بجے بھی انھیں تنگ کرتی رہی ہوں۔ میرے آدھے مسائل کا حل انکے پاس ہوتا ہے صرف 🙈🙈
امریکا کے اسکول میں جدید تعلیمی نظام میں کام کرتے ہوے، انکو بہت زیادہ ماڈرن تکنیکز اور سائنس کا علم ہے جس کے لئے نہ صرف انکی باقاعدگی سے ورکشاپز اور امتحانات ہوتے ہیں بلکہ کیسے انکو عملی زندگی میں کارآمد ثابت کرنا ہے، یہ بھی اسی عمل کا حصّہ ہے۔
یہ کوئی اور نہیں ہماری پیاری Kehkashan Iqbal ہیں! آج تقریباً 5۔1 سال کا عرصہ ہو چکا ہو اور یہ پیاری ایکسپرٹ نہ صرف اپنی انتہائی مصروف زندگی سے اپ کے لیے وقت نکالتی رہی ہیں بلکہ پوری لگن اور محبت سے اپکے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔
ہم نے گرمیوں کی چھٹیوں کو بھرپور طور پر کارآمد کرنے کے لئے ان سے ریکویسٹ کی ہے کہ ہمارے پیارے لوگوں کو بھی ایک ورکشاپ دی جاۓ۔ جس میں وہ ساری ٹریکس اور ٹپس کی بات کی جاۓ جس کے ذریعے ہم اپنے بچوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
ورکشاپ کی تفصیلات کے لئے یہ لنک دیکھیں۔
https://m.facebook.com/groups/ecpep/permalink/771280203890833/

برائے مہربانی اپنے پیاروں کو ٹیگ کرنا نہ بھولئے گا!
یہ بہت سارے والدین کی ضرورت ہے۔

27/05/2022

مجھے ایک بات بتائیں!
کیا آپ کبھی کوئی کام خراب یا غلط نہیں کرتے؟
کیا کبھی کوئی برتن نہیں ٹوٹا آپ سے؟
کیا ہر چیز 100% ٹھیک کرتے ہیں؟
نہیں ناں!!
پھر بچوں سے اتنی پرفیکٹ ہونے کی امید کیوں؟

14/05/2022

چلیں آج میں اپکو اپنے آپ کے بارے میں بتاتی ہوں!
بہت اپنے سے لگتے ہیں آپ سب لوگ! اس لئے بلکل شروع سے!
امی ہاؤس وائف اور ابو ایک مزدور تھے! ٹیپیکل ایک دیسی فیملی جس میں غربت کے مسائل عروج پر رہتے تھے۔ اسی لئے جب آپ لوگ بتاتے ہیں کہ ہمارے جائنٹ فیملی میں یہ مسائل ہیں، یقین کریں میں اپکو محسوس کر سکتی ہوں، جب آپ فنانشل ایشوز بتاتے ہیں، میں محسوس کر سکتی ہوں! میں سمجھ سکتی ہوں اپکی تکلیف کیوں کہ میں نے یہ سب بہت قریب سے دیکھا ہے۔
امی بہت محبت کرتی تھی ہم سے, ساری ساری رات سلائی کرتے گزر جاتی تھی انکی، جیسے ہی میں بھی 7-6 میں آئی، اپنی سمجھ کے مطابق امی کی مدد کرتی تھی، مگر صرف سلائی میں😜 اسی لئے اپکی یہ بہن سلائی کی ماہر بھی ہیں, مگر ٹائم کی قلت کی وجہ سے اسکو اب ذرا سائیڈ پر کر دیا ہے۔
خیر امی سارا دن گھر کے کام، پھر ساری رات سلائی، تھکن کی وجہ سے اکثر غصہ نکل ہم پر جاتا۔ آج میں سمجھتی ہوں کہ ماں بننے کے بعد کہ وہ کتنی مجبور ہوتی تھی۔ میں وہ درد بھی محسوس کر سکتی ہوں امی کا اب!
پیاری امی جان آپ بہت پیاری ہیں۔ آپ جیسا کوئی نہیں ہے اور اس پوری دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتا! اپکی محبت تو آج ماں بننے کے بعد سمجھ میں آتی ہیں۔
یہ بتانے کے مقصد یہ بھی تھا کہ میں ان ماؤں کو بہت قریب سے جانتی ہوں جو مجبور ہوتی ہیں۔ جن میں دنیا جہاں کی ذمداریاں لدی ہوتی ہیں اور وہ بہت مجبوری میں اپنی اولاد کو کچھ غصے میں کہہ جاتی ہیں۔
امی کتنی سلائی سے گزارا کر سکتی تھی جب ابو کو بھی ٹی بی ہو گئ، بڑے بچے ذرا زیادہ احساس ہوتے ہیں وہ اکثر والدین کو مایوس نہیں کرتے، میں نے بھی اپنی سی کوشش کی کہ والدین کی زمہ داریوں میں والدین کی مدد کروں! مجھے یاد ہے آج بھی صبح 7 بجے سے 5 بجے تک یونیورسٹی اور شام 11-5 تک ٹیوشن پڑھا پڑھا کر میں تھک جاتی تھی۔ اور جب دسمبر کی سخت ترین سردی کی راتوں میں رات 12-11 بجے میں ٹیوشن پڑھا کر واپس آتی تھی تو میرے ہاتھ ایک گھنٹے تک تو بلکل جمے ہوتے تھے۔ میں اکثر کھانا کھائے بغیر سو جاتی کہ جمے ہاتھوں ساتھ کھانا بھی ایک مسئلہ ہوتا تھا۔
شروع کے دنوں میں تو مجھے ایک ہزار ملتا تھا گھر ٹیوشن پڑھانے کا، مگر یہی 3 سالوں بعد میں 50،000 بھی کماتی تھی۔ آج بھی میرے گروپ میں میرے بہت سارے سٹوڈنٹس موجود ہیں۔ جو میری محنت اور لگن کو جانتے ہیں۔ یہ بتانے کا مقصد یہ بھی تھا کہ محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔ آج جب بھی میں کسی والدین کو دیکھتی ہوں اور انکی اپنی اولاد کو بہتر بنانے کی جدوجہد دیکھتی ہوں تو مجھے %100 یقین ہوتا ہے کہ اللّه ضرور انکی اولاد کو بہتر بنائیں گے۔ کیوں کہ میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے اللّه کے اس وعدے کو پورا ہوتا ہوا
" انسان کے لئے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرے"
اس لئے پیارے والدین کبھی مایوس نہ ہوں، آپ ضرور ایک بہتر نسل پروان چڑھائے گے! إن شاءاللّٰه

پڑھائی، اسکالر شپ اور اٹامک انرجی میں سائنٹسٹ کی جاب، کیسے یہ سب ہوتا چلا گیا مجھے پتا ہی نہیں چلا، مجھے یاد ہے تو صرف یہ کہ اللّه کی خاص رحمت ہوتی تھی مجھ پر، میں ہر ٹیسٹ، ہر انٹرویو پاس کر جاتی تھی جب کہ مجھے تو کبھی پڑھنے کا موقع بھی نہیں ملتا تھا۔ 7-6 گھنٹوں کی تھکن والی ٹیوشن والی روٹین کے بعد تو صرف سانس لینے کا وقت ملتا تھا۔
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ شائد یہ امی ابو کی دعائیں تھی جو کہ شادی بھی میری ایک بہترین انسان سے ہوئی، میں جتنی تعریف کروں کم ہے، جتنا شکر اللّه کا کروں کم ہے! مجھے فخر ہے کہ کہ زندگی نے انکا ساتھ دیا! میں سمجھ سکتی ہوں کہ ایک اچھا شوہر اور باپ کتنا ضروری ہے بچوں کی صحیح پرورش کے لیے!
تمام مرد حضرات! آپ یقین کریں آپکے ساتھ اور اپکی مدد صرف گھر کے خرچ میں نہیں چاہیے ہوتی۔ آپ کے ساتھ کے بغیر عورت ادھوری ہے اور بچوں کی صحیح پرورش نہیں کر سکتی۔ آپ اپنا ساتھ یقینی بنائیں تا کہ ماں باپ دونوں مل کر اولاد کی بہتر پرورش کر سکیں!
خیر یہ سوال رہ گیا!
میں نے Early Childhood and Parenting Education of Pakistan-ECPEP گروپ کیوں بنایا؟
کیوں کہ میں آپ سب کو بہت قریب سے محسوس کر سکتی ہوں۔ میں نے بہت نیچے سے سفر شروع کی کیا تھا! میں بھی آپ سب کی طرح ٹراما زدہ تھی۔ خود کو ہیل کرنا اور پھر اس کے اثرات سے اپنے بچوں کو بچانا آسان نہیں تھا! مگر میں یہ یقین رکھتی تھی کہ میں بہت سوں کی مدد کر سکتی ہوں! اور یہ یقین مجھے سکون دیتا تھا اور آج بھی سکون دیتا ہے! آپکو کیا لگتا ہے کہ 7-6 گھنٹوں کی جاب کے بعد، دو ننھی جانوں کو سنبھالنا اور انکے سونے کے بعد اپنی نیند کی قربانی دینا آسان ہوتا ہے۔ مگر یہ مجھے سکون دیتا ہے! اور اللّه کی شان دیکھئے، آج ایک بہترین ٹیم بھی میرے مشن میں شامل ہے! ہم سب صرف ایک چیز چاھتے ہیں کہ جو اگلی نسل ہو وہ بہترین ہو، اس کو ہم کسی ٹراما سے نہ گزارے جن سے ہم انجانے میں گزرے ہیں۔
اور مجھے آپ سے صرف یہی چاہیے کہ کبھی سوچ میں آؤں تو ایک چھوٹی سی دعا کر دیا کریں کہ اللّه ایمان کی زندگی عطاء فرمائیں۔
امین
ڈاکٹر زرین زہرا
Dr. Zareen Zuhra

12/05/2022

Teaching good touch bad touch - why is it important

🫤Kya hum good touch bad touch se baccho ko s*x teach kar rahe hain?

NO

🫤 body parts ke naam seekhne se kya unmei s*xual curiosity jaage gi?

NO

🫤 Kya mera baccha dusro ko body parts ke name bataayega? Yeh ruse aur shameful behaviour nahi hai?

Yeh bilkul bhi rude aur shameful behaviour nahi hai. Ji ho sakta hai ki baccha dusre baccho ko body parts ke naam baataye just like they would say don’t touch my hand or leg, or face, or eyes, or lips, or p***s, or va**na, or bottom.

Shock lag raha hai yeh 3 words dekh kar? Sharam aa rahi hai? Well yeh aapke body ke parts hain, you are just naming them not showing anyone.

———————————————-

Kya aapko maloom hai ki duniya mei har saal takreeban 1 billion bacche, 2-17 years ki age ke, ne s*xual, physical aur emotional abuse experience karteg hai?

Kya aapko pata hai ki child s*xual abuse ke implications kya hain?

😔 Death

Agar bacche ko serious injuries huyi hain s*xual abuse ki wajah se woh faut b ho sakte hain

😔 Severe Injuries

Yeh injuries life long takleef aur health problems bhi create kar sakti hain

😔 Brain aur nervous system development impair ho sakti hai

Child s*xual abuse bacche ki brain development aur nervous system
ko impair kar sakta hai.

Endocrine, circulatory, musculoskeletal, reproductive, respiratory and immune systems ko bhi effect aur damave kar sakta hai- jinki consequences zindagi bhar ki hain. Unko cohnitive development ko bhi affecr karta hai jiske result mei woh education aur zindagi bhar under achiever reh jaatey hain.

😔 Abused bacche cope karne ke liye drugs, smoking, alcohol ka sahaara b aksar lete hain.

😔 Abused baccho mei higher rates hain anxiety, depression aur suicidal thoughts ke aur kuch bacche cope naa kar paane ki wajah se su***de b kar lete hain.

😔 Pregnancies aur s*xually transmitted diseases

Ji haan apne sahi parha. Abused baccho ko b s*xually transmitted diseases (eg; aids) aur infections aur gynaecological problems ho sakti hain.

——————————————————-

Aur facts ki zaroorat hai?

* Child s*xual abuse ka koi religion, status ya education ya anparh hone se koi link NAHI hai.

* Child s*xual abuse can happen to a girl OR boy!

* child s*xual abuse kahi par b ho sakta hai- ji haan aapke apne ghar mei bhi!

* child s*xual abusers most commonly aapke ya bacche ke acchi taran jaan ne waale hi hotey hain!

* aurtein bhi abuser ho sakti hain!

* yeh aaj kal ka issue nahi hai- yeh horrible kaam sadiyo se hota aaraha hai- fark sirf ye hai ki aaj kal media aur internet ki wajah se logo ko pata chal jata hai.

———————————————-

Good touch/ bad touch seekhana hargiz s*x ke baare mei bataana nahi hai!

Good touch/ bad touch apne BETE AUR BETI ko ye sikhana hai ki this is YOUR body and no body is allowed to touch it because it is private. And if someone happens to touch it or you don’t like how someone is - you ALWAYS come and tell mum and dad!

Thats it!! It is your job to protect your children and teach them for situations when you are not there!

———————————————-

It is NEVER okay for your child to sleep in same room with phupho, phupha, khaala, khaalu, chaacha, chaachi, taaya, taayi, maami, maama, cousins, maids, nannies.

If your child shares a room- you should be the one they are sharing a room with.

NEVER ever allow your child to be in a rolm with someone else with the door shut! NEVER EVER - I don’t care ki rishtey mei woh kya lagte hain- this is NOT okay. Even when the door is open keep going in to check.

It is NOT okay to send young children to the shop by themselves! I do NOT care how safe your area is- it is NOT okay! It literally takes a few seconds for someone to take your child! Someone could be grooming them for s*xual abuse!

Please please please ALWAYS go with your child to the shop- i don’t care how busy you are. It is not okay!

Hum kisi ke andar jhaank kar naho dekh saktey ki uske dimaag mei kya chal
Raha hai!!

Please always believe your child, no child makes s*xual abuse up or lies about it. It
Is not a shame to the child or you! It is the abuser who should be ashamed.

A child is someone who is aged 0-18 years of age.

—————————————————

More useful links:

https://www.facebook.com/groups/ecpep/permalink/716307902721397/

https://m.facebook.com/groups/ecpep/permalink/760620274956826/

https://www.facebook.com/groups/ecpep/permalink/556643945354461/

https://www.facebook.com/groups/ecpep/permalink/576826953336160/

———————————————————-

Aap mei se kuch log naraaz hongey ki ye behaayaai / fahaashi hai etc - we live in 2022- we need to be able to be aware of these things so that we can ALL protect our children.

It is not about locking them up kyonki zyada tar s*xual abuse gharo meo hi hota hai- its about empowering them with knowledge about their own bodies and what is okay and not Okay related to their bodies.

And remember girls AND BOYS can both become victims of child s*xual abuse- protect and educate them BOTH!

Our intention is to spread awareness and help you help your children, because there is NOTHING worse then seeing any childs life being destroyed.

Edit: please also share with yout husbands. It is very important for BOTH parents to be on the same page in their parenting.

Post by Sara Khan

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Islamabad