20/05/2022
کینسر بیماری نہیں بلکہ بے حسی ہے ! اوش اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی ، ماسکو ، روس کے کینسر کے ماہر۔ گپتا پرساد ریڈی (بی وی) کہتے ہیں کہ کینسر کوئی مہلک بیماری نہیں ہے ، بلکہ لوگ اس سے صرف بے حسی کی وجہ سے ہی مر جاتے ہیں۔
ان کے مطابق ، اگر صرف دو طریقوں پر عمل کیا جائے تو کینسر ختم ہوسکتا ہے۔ طریقے یہ ہیں: -
1_ پہلے ہر طرح کی چینی کھانا چھوڑ دیں۔ کیونکہ ، اگر آپ کو اپنے جسم میں شوگر نہیں ملتی ہے تو ، کینسر کے خلیات قدرتی یا قدرتی طور پر ختم ہوجائیں گے۔
2 _ اس کے بعد ایک گلاس گرم پانی میں ایک لیموں کا چمچ مکس کریں۔ اس لیموں ملا ہوا گرم پانی کو خالی پیٹ پر صبح تین بجے صبح کھانے سے پہلے پی لیں۔ کینسر ختم ہو جائے گا۔
میری لینڈ کالج آف میڈیسن کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ کیموتھریپی سے ہزار گنا بہتر ہے۔
3۔ روزانہ صبح اور رات تین چمچ نامیاتی ناریل کا تیل کھائیں ، اس سے کینسر کا علاج ہوگا۔
شوگر سے گریز کرنے کے بعد درج ذیل میں سے کسی بھی دو معالجے میں سے ایک لیں۔ کینسر آپ کو تکلیف نہیں دے سکتا۔ تاہم ، غفلت یا بے حسی کا کوئی عذر نہیں ہے۔
نوٹ کریں کہ لوگوں کو کینسر سے بچانے کے لئے۔ گپتا پرساد گذشتہ پانچ سالوں سے اس معلومات کو سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع سے پھیلارہا ہے۔
انہوں نے سب کو جاننے کا موقع فراہم کرنے کے لئے اس معلومات کو پھیلانےکی درخواست کی۔
انہوں نے کہا ، "میں نے اپنا کام کیا۔ اب آپ اپنا کام کریں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو کینسر سے بچائیں! کینسر کے ماہر گپتا پرساد ریڈی نہ صرف ایک ڈاکٹر ہیں بلکہ ایک مسیحا بھی ہیں! Cancer is not a disease but anesthesia! Oncologist at Osh State Medical University, Moscow, Russia. Gupta Prasad Reddy (BV) says that cancer is not a deadly disease, but people die from it only due to indifference.
According to him, cancer can be eliminated if only two methods are followed. The methods are: -
1_ Quit all kinds of sugar food first. Because, if you don't get sugar in your body, the cancer cells will die naturally or naturally.
2. Then mix a lemon chip in a glass of warm water. Drink warm water mixed with this lemon on an empty stomach at 3 o'clock in the morning before eating. The cancer will be gone.
A study by the Maryland College of Medicine found that it is a thousand times better than chemotherapy.
3. Eat three tablespoons of organic coconut oil daily in the morning and at night, it will cure cancer.
Take one of the following two treatments after avoiding diabetes. Cancer can't hurt you. However, there is no excuse for negligence or indifference.
Note that to protect people from cancer. Gupta Prasad has been disseminating this information through various means including social media for the last five years.
He asked for the information to be disseminated to provide an opportunity for everyone to know.
He said, "I did my job. Now do your job and save the people around you from cancer! Oncologist Gupta Prasad Reddy is not only a doctor but also a Messiah!"
26/04/2022
Pواٹس ایپ 16 بلین ڈالر میں فروخت ہوا۔
لنکڈان $26 بلین میں فروخت ہوا۔
ٹویٹر 44 بلین ڈالر میں فروخت ہونے والا ہے۔
سری لنکا 51 بلین ڈالر کا نادہندہ ہے۔
پاکستان کو اپنے بجٹ خسارے کو دور کرنے کے لیے صرف 2 بلین ڈالر کی ضرورت ہے،
ہندوستانی آئی ٹی کی برآمدات 150 بلین ڈالر ہیں۔
سعودی تیل کی برآمدات تقریباً 110 بلین ڈالر ہیں۔
ہماری حکومتیں (پچھلی تمام نیازی سمیت) بنیادی چیز کیوں نہیں سمجھ سکیں؟ زیادہ پرانی بات نہیں کرتے صرف موجودہ اور گزشتہ حکومت کی اس حوالے سے سنجیدگی کا جائزہ لیتے ہیں ان دونوں حکومتوں نے ایک ہی شخص کو آئی ٹی کا وزیر بنایا ہوا ہے اور وہ ہے ایم کیو ایم کا وزیر سید امین الحق
اس شخص کو کمپیوٹر آن کرنا نہیں آتا اور یہ گزشتہ چار سال سے آئی ٹی کا منسڑ ہے۔ یہ ہیں ہماری ترجیحات۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ حکومتیں آئی ٹی انڈسٹری کو سپورٹ کرنے کے لیے چند ارب روپے قرض کیوں نہیں دے سکتیں؟ ان حکومتوں نے بیرون و اندرون ملک کتنے آٹی ایکسپرٹس کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی کہ وہ نوجوانوں کو آئی ٹی سیکھائیں؟
اور تو اور انہوں نے مدد کیا کرنی تھیں گزشتہ حکومت نے تو نان فائلر فری لانسر پر دو فیصد ٹیکس اور فائلر پر ایک فیصد ٹیکس عائد کر دیا تھا جو اب تک موجود ہے۔ کسی چیز پر ٹیکس اس صورت لگایا جاتا ہے جب اس کو ختم کرنا مقصود ہو ابھی آئی ٹی انڈسٹری پاکستان میں ایمبریو اسٹیج پر ہے کہ اس کا گلا گھونٹنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔
ہم مالی آزادی سے صرف ایک انچ کے فاصلے پر ہیں اور IT ہمارا راستہ ہے۔ سب سے قلیل مدت میں کسی چیز کی برآمدات اگر ہماری مدد کر سکتیں ہیں تو وہ صرف آئی ٹی برآمدات ہی ہیں۔
سمجھ نہیں آتا کہ ہمارے انٹلکچولز پچھلے 22 سالوں سے اس آسان سے حل کا پتہ نہیں لگا سکے؟
ہم بھیک مانگنے کو تیار ہیں۔
ہم ڈالروں کے لیے دوسروں کو مارنے کے لیے کرائے کے ملک کے طور پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ہم سرمایہ کاری اور اپنے نوجوانوں پر اعتماد کے علاوہ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔
23/04/2022
مائیکروبائیولوجی کی تاریخ
حصہ اول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلکیات اور طبیعیات قدیم سائنسی علوم میں شامل ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ فلکیات کو نجوم سے نتھی رکھا گیا تھا پھر جیسے جیسے وقت گزرا فلکیات — نجوم سے الگ کر دی گئی ۔ یہ سب کیسے ہوا؟ یہ سب سائنس طریق کار کی بدولت ممکن ہوا ۔ یہ بات اپنی جگہ بجا ہے کہ کسی فرد واحد نے اس طریق کو مکمل طور پر ایجاد نہیں کیا مگر یہ آہستہ آہستہ تعمیرا ہوا اور اس مضبوط طریق کی وجہ سے بہت سے علوم وجود میں آئے ۔ یہی وجہ ہے کہ حیاتیاتی علوم کی ترقی بہت سست روی کے ساتھ ہوئی ۔ شاید اس کی وجہ کسی نہ کسی طرح ہمارا حیاتی یا کیمیائی علوم کے ساتھ برتاؤ بھی ہے ۔ علم کیمیا کو کہاں ایک وقت جادو کے ساتھ نتھی کیا جاتا تھا اور حیاتیاتی علوم میں بیماریوں کا ذمہ دار الگ الگ چیزیں تھیں ۔ کوئی پراسس نہیں سمجھا جاتا تھا ۔
لگ بھگ دو تین صدیوں پہلے کی بات ہے لوگ اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ زندگی عدم سے بھی وجود میں آ سکتی ہے اور ہم جو بیمار ہوتے ہیں یہ ہمارے گناہوں کا کیا دھرا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ زندگی کیسے وجود میں آئی یہ ابھی تک ایک بہت بڑا عقدہ ہے ۔
لوگ بیمار کیوں ہوتے ہیں اس پر لوگوں کی رائے مختلف ہوتی تھی کیوں کہ لوگ مختلف تہذیبوں سے وابستہ تھے اس لیے ان کا طریق علاج بھی الگ الگ ہوتا تھا ۔ کچھ کا ماننا تھا بری بو کی وجہ سے ہے، کچھ کا یہ کہ گناہوں کی وجہ سے ہے، چھوت کی بیماری کا تصور تھا پر یہ بھی خبیث مخلوق کی کارستانیوں کا ذمہ تھا ۔
ویرو ( Varo ) اور کولیمیلا (Columella) پہلے تھے جنھوں نے یہ تجویز پیش کی کہ جب آپ سانس لیتے ہیں یا کھانا کھاتے اس دوران میں آپ کے اندر نہایت چھوٹی مخلوق جو نظر نہیں آتی چلی جاتی ہے جس کے باعث آپ بیمار ہوتے ہیں ۔
فریکستوریس ( Fracastorius) ویرونا سے تعلق رکھتے تھے انھوں نے کہا کہ چھوتی بیماریاں ( infections disease ) کونٹاجیم ویویم (Contagium vivum) سے لگتی ہیں ۔ ان کے بعد وان پلنسز (Von Plenciz) نے یہ تجویز دی کہ ہر بیماری ہر الگ ایجنٹ کی وجہ سے ہوتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائیکرو بائیولوجی کا اصطلاح فرانسیسی کیمیا دان لوئیس پاسچر نے دی تھی ۔ مائیکروبائیولوجی ایسے حیاتی آرگنامز کے مطالعے کا نام ہے جو مائیکروسکوپ حجم کے ہوں ۔ انیس سے پچاس کے بعد سے حیاتیات علوم وسعت اختیار کر رہے تھے اور اس وسعت کے نتیجے ہی مائیکروبائیولوجی کا علم بھی طلوع ہونا شروع ہوا ۔ مائیکروب کی اصطلاح پہلی مرتبہ غالبا سیڈلاٹ (Sedillot) نے استعمال کی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
دریافت کا دور
سترھویں صدی میں ایک انگریز سائنس دان تھے رابرٹ ہوک کے نام سے ۔ یہ پہلے تھے جنھوں نے لینز کا استعمال کرتے ہوئے ٹشوؤں کی چھوٹی اکائیوں کا مشاہدہ کیا اور اسے خلیہ یا سیل کہا گیا ۔
اینتونی فان لیون ہوک نے اپنی گھر سے تیار کی گئی مائیکرو اسکوپ کی مدد سے بھی ننھی دنیا کے باشندے دیکھے جنھیں اس نے اینیمل کلس (animalcules) کہا ۔
اینتونی فان لیون ہوک ہی غالبا پہلے شخص تھے جنھوں نے مائیکرو آرگنامز جیسا کہ بیکٹریا اور پروٹوزوا کا مشاہدہ کیا اور انھیں درستی سے بیان بجی کیا اور اسے اس نے ننھے یا چھوٹے چھوٹے جانور کہا ۔ یہ ایسے شخص تھے جنھوں نے دس سو پچاس کے قریب مائیکرو اسکوپ بھی بنائے ۔ اور تقریبا پچاس سال کے عرصے میں انھوں نے دو سو کے قریب خطوط بھی لکھے تھے ۔ ان کا کردار مائیکروبائیولوجی میں بہت زیادہ ہے اور انھیں رتبہ کے لیے اکثر بابائے مائیکروبائیولوجی کا خطاب دیا گیا
23/04/2022
سورج اور دور دراز تارے
تارے عظیم الجثہ اور انتہائی گرم کائناتی اجسام ہیں۔ پوری کائنات ان سے جگمگا رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کائنات کے اصل حکمراں یہ ہی ہیں۔ ہمارا نصیب، ان کے نصیب سے جڑا ہوا ہے۔ کائنات میں موجود ہر شئے کی طرح ان کی پیدائش اور موت بھی، دونوں ہی نہایت ہولناک اور ہنگامہ خیز ہوتی ہیں۔ ان کی خاک، کائنات میں ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے۔ یہ وہی خاک ہے جس سے انسان کی تخلیق ہوئی ہے۔ ہمارے جسم کا ایک ایک جوہر، ان ہی ستاروں کے آگ اگلتے قلب میں بنا ہے۔ کائنات ان ہی کے دم قدم سے چل رہی ہے۔ زندگی کو انہوں نے ہی پروان چڑھایا ہے۔
رات کا آسمان، ستاروں کی روشنی سے منور ہوتا ہے۔ جب ہم اپنی نگاہ اٹھا کر دیکھتے ہیں تولگ بھگ تین ہزار تک کی تعداد میں ستارے دیکھ سکتے ہیں۔ مگر یہ تعداد تو بس سمندر میں سے ایک قطرہ ہی ہے۔ صرف ہماری کہکشاں ملکی وے ہی میں ایک کھرب سے زائد ستارے موجود ہیں؛ اور قابلِ مشاہدہ کائنات میں اندازاً دو کھرب (دو سو اَرب) سے بھی زیادہ کہکشائیں ہیں۔ ستاروں کی تعداد، زمین پر موجود ریت کے ذرّوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ ہر ستارہ طاقت و توانائی کا عظیم الشان منبع ہوتا ہے؛ اور ہم سمیت کائنات کی ہر چیز کا بنیادی خام مال اسی کے قلب میں تیار ہوتا ہے۔ یہ ہم سے نہایت فاصلے پر واقع ہیں۔ مگر ایک ستارہ ہم سے بہت نزدیک بھی ہے؛ اور ہمیں اب تک جو کچھ دوسرے ستاروں کے بارے میں معلوم ہوا ہے، وہ اسی پڑوسی ستارے کی بدولت ہے۔ جی ہاں! یہ ہمارا سورج ہے… ہر روز طلوع اور غروب ہونے والا سورج۔
سورج کی دھوپ جو ہمیں روشنی اور حرارت فراہم کرتی ہے، کچھ اور نہیں بلکہ ستارے ہی کی روشنی ہے۔ ہمارا سورج بھی دوسرے ستاروں کی طرح ایک ستارہ ہے۔ زمین سے دیکھنے پر سورج ایک روشن گیند کی مانند لگتا ہے جس کی روشنی، آنکھوں کو چندھیا دیتی ہے۔ کائنات کا ایک طاقتور ترین جسم ہمارا پڑوسی ہے۔ یہ انتہائی گرم گیس کی ایک گیند ہے جو ہمارے نظام شمسی کو 4.6 ارب سال سے روشن کئے ہوئے ہے۔ زندگی کا سارا دار و مدار اسی پر ہے۔ سورج ہم سے تقریباً ٩ کروڑ میل کی دوری پر ہے۔ اس کا مطلب، درحقیقت بہت ہی زیادہ فاصلہ ہے۔
دس لاکھ سے بھی زیادہ زمینیں سورج میں سما سکتی ہیں۔ اس کا محیط ٢٧ لاکھ میل پر پھیلا ہوا ہے۔ اس عظیم الشان جسامت کے باوجود، ہمارا سورج کائنات کے دوسرے ستاروں کے مقابلے ایک ننھا سا ستارہ ہے۔ اِیٹا کرینی (ETA Crainee) ہمارے سورج سے پچاس لاکھ گنا بڑا ہے۔ ابط الجوزا (Betelgeuse)، ایٹا کرینی سے بھی ٣٠٠ گنا بڑا ہے۔۔ اگر یہ سورج کی جگہ ہمارے نظام شمسی کا حصّہ ہوتا، تو یہ مشتری کے مدار سے بھی آگے نکل جاتا۔ (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر١ اور ٢)۔ یو وائی اسکوٹی (UY Scuti) اب تک کے دریافت شدہ ستاروں میں سب سے بڑا ہے۔ یہ ہمارے سورج سے لگ بھگ پانچ ارب گنا بڑا ہے!
ستاروں کی روشنی ہمیں مختلف رنگوں میں نظر آتی ہے۔ کچھ ستارے پیلے، کچھ نیلے اور کچھ لال رنگ کے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ ستارے اکلوتے ہوتے ہیں، کچھ ثنائی نظام میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ کہکشاؤں میں ارب ہا ارب ستارے ہوتے ہیں۔ ہر ستارہ اپنی مثال آپ ہے۔ مگر ان سب کی زندگی ایک ہی طرح سے شروع ہوتی ہے۔ گیس اور گرد کے غبار سحابئے (Nebula) کہلاتے ہیں (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٣)۔ کئی ارب میل پر پھیلے ہوئے، خلاء میں تیرتے یہ حسین گیسی بادل نہایت خوبصورت لگتے ہیں۔ ہر سحابیہ، ستاروں کا زچہ خانہ ہوتا ہے جہاں لاکھوں ستارے پیدا ہوتے ہیں۔ مگر ان کے پیدا ہونے کی اصل جگہ تو ہم سے چھپی ہوتی ہے۔
سحابیوں کے کچھ حصے اتنے خوبصورت اور روشن نہیں ہوتے کہ ہم انہیں دیکھ سکیں۔ وہ اندھیرے میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ وہاں گیس اور گرد کے کثیف بادل چھائے ہوتے ہیں… اور یہی ستاروں کی جائے پیدائش ہوتی ہے۔ گرد و غبار کے یہ بادل اتنے کثیف ہوتے ہیں کہ عام دوربین بھی ان کے اندر جھانک نہیں سکتی۔
ستاروں سے زیادہ کوئی چیز ہمارے لئے اہم نہیں۔ مگر عرصہ دراز تک ان کی پیدائش ہمارے لئے ایک معما بنی رہی۔ ہم ان کی پیدائش کا براہ راست مشاہدہ نہیں کرسکتے تھے؛ اور نہ ہم ان کی پیدائش کی پہلی جھلک دیکھ سکتے تھے۔ ٢٠٠٤ء میں جب ناسا نے اسپٹزر خلائی دوربین (Spitzer Space Telescope) مدار میں چھوڑی، تو اس راز سے بھی پردہ اٹھ گیا۔ اس خلائی دوربین نے کائناتی ارتقاء کے سربستہ رازوں کو ہم پر آشکار کرنا شروع کردیا۔ اسپٹزر ایک انفرا ریڈ دوربین ہے جو گرمی (حرارت) کو دیکھ سکتی ہے۔ یہ مرئی روشنی کے بجائے زیریں سرخ شعاعیں (انفراریڈ) سے مدد لیتی ہے؛ جو دراصل گرمی کی نمائندہ لہریں ہیں۔ حرارت، سحابئے کے گہرے بادلوں میں سے گزرسکتی ہے، جو اسپٹزر کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ستاروں کی پیدائش ہوتے ہوئے دیکھ سکے۔ سائنس دانوں نے ستاروں کے پیدا ہونے کی نہایت شاندار تصاویر حاصل کرلی ہیں۔ ان تصاویر میں انہوں نے ہائیڈروجن کے گیسی بادلوں کو ستاروں کا روپ دھارتے دیکھ لیا ہے۔ کائنات کہ وہ حصّے جو ہم سے چھپے ہوئے تھے، اب نہایت روشن ہو گئے تھے۔ اب ہم ستاروں کی پیدائش کے بالکل ابتدائی لمحات کو دیکھ سکتےہیں (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٤)۔
کسی بھی ستارے کو بننے کےلئے تین بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے: ہائیڈروجن، قوّت ثقل اور وقت۔ قوّت ثقل گرد و غبار اور گیس کے بادلوں کو کھینچ کر ایک دیوقامت، بھنور جیسی شکل والی (قیف نما) چوٹی میں ڈھالتی ہے؛ اور مادّے کو ایک جگہ جمع کرتی ہے۔ جب مادّہ ایک جمع ہونے لگتا ہے تو وہ اپنے ہی دباؤ سے اور بھی دبنا شروع کردیتا ہے۔ اور یہی دباؤ مزید حرارت پیدا کرنے کا موجب بھی بنتا ہے۔ یہ سائنس کا ایک سادہ اصول ہے کہ آپ جب کسی چیز کو دباتے ہیں تو اس کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ لاکھوں سال تک گیس کے بادلوں کی کثافت بڑھتی رہتی ہے؛ اور یہ ایک دیوہیکل، گھومتی ہوئی ٹکیہ کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ اس ٹکیہ کی جسامت ہمارے نظام شمسی سے بھی بڑی ہوتی ہے۔ اس کے مرکز میں قوّت ثقل، گیس کو زبردست طاقت کے ساتھ بھینچتی ہے جس سے اس کا قلب اور بھی زیادہ کثیف اور گرم ہوجاتا ہے۔ رفتہ رفتہ دباؤ بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ گیس کے فوارے ایک دھماکے کی شکل میں مرکز سے پھوٹ پڑتے ہیں۔ یہ بے حد ڈراؤنا اور ہولناک نظارہ ہوتا ہے۔
یہ فوارے مادّے کو کئی نوری سال دور تک پھیلا دیتے ہیں۔ کوئی چیز مادّے کو نہایت تیزی سے، ناقابل تصور فاصلے تک پھیلا دیتی ہے۔ قوّت ثقل دباؤ برقرار رکھتے ہوئے، گیس اور گرد و غبار کے بادلوں کو ہڑپ کرتی رہتی ہے۔ یہ بادل ایک دوسرے سے ٹکرا کر پستے رہتے ہیں۔ اگلے پانچ لاکھ سال میں اپنی تخلیق کے ابتدائی مراحل سے گزرتا ہوا ستارہ چھوٹا، روشن اور گرم ہوجاتا ہے۔ اس کے مرکز میں درجہ حرارت 1.5کروڑ ڈگری تک جاپہنچتا ہے۔ اس درجہ حرارت پر گیسوں کے ایٹم ایک دوسرے میں ضم ہونے لگتے ہیں اور یوں گداخت (فیوژن) کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں زبردست توانائی پیدا ہوتی ہے؛ اور یہی ستارے کی پیدائش کی گھڑی بھی ہوتی ہے۔ پیدا ہونے کے بعد اب یہ ستارہ کروڑوں، اربوں بلکہ کھربوں سال تک یونہی چمکتا رہے گا۔
ستارے زبردست حرارت اور روشنی پیدا کرتے ہیں۔ مگر اس کےلئے انہیں بہت زیادہ ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل تک کوئی نہیں جانتا تھا کہ ستارے کونسا ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ انیسویں صدی کا سب سے بڑا معما یہی تھا ستارے اپنا ایندھن کہاں سے حاصل کرتے ہیں۔ تب تک ہمارے پاس کائنات کو جاننے کےلئے معلومات کی قلت تھی۔ ستاروں کے راز سمجھنے کےلئے ہمیں بالکل نئے طریقوں سے سوچنے کی ضرورت تھی۔ ہمیں اس چیز کی تلاش تھی جو ستاروں کو ارب ہا ارب سال تک روشن رکھ سکے۔ آخرکار خدا داد صلاحیتوں کے حامل، البرٹ آئن اسٹائن نے یہ پہیلی حل کر ہی لی۔ اس کے نظریہ اضافیت نے ثابت کردیا کہ ستارے، ایٹموں کے اندر قید توانائی کو اپنا ایندھن بناتے ہیں۔ ستاروں کا راز آئن اسٹائن کی مشہور ترین مساوات E=Mc2 میں پنہاں تھا۔
20/04/2022
بھٹو نے مغرب کو للکارا
تو
امریکہ سے ان کے واپس آتے ھی مفتی محمود نے نعرہ لگایا
یہ الیکشن نہیں سلیکشن ھے
پھر عبدالولی خان، جاوید ھاشمی، میاں شریف
عبدالصمد اچکزئی، خواجہ رفیق وغیرہ سے ملکر نوستارہ تحریک چلائی گئی
اور
بھٹو کو امریکہ کے راستے سے ھمیشہ کے لئے
ھٹا دیا گیا
جنرل ضیاء کے کابینہ میں سارے ستاروں کو اپنے اپنے حصے کی وزارتیں ملیں
اور افغان وار کے نام پر سب پر ڈالرزکی بارش کر دی گئ تعلیمی اداروں سے قرآن پاک ھٹا کر امریکی خواھش پر اسلامیات کے نام پر چند جہادی آیات ڈلوا کر قوم کو بے وقوف بنایا گیا
عمران خان بھٹو سے چار قدم آگے نکل چکا ہے، وہ بھی۔۔۔
وہ بھی ترکش ملائیشین سربراھان کے ساتھ مل کر اسلامی بلاک بنانے کے موڈ میں ھے
لیکن
امریکہ سے واپسی پر عمران خان کو بھٹو بنانے کے لئے پہلے ھی نوستارہ تحریک جیسی سازش تیار ھے
فرق صرف یہ ھے کہ کل مفتی محمود الیکشن نہیں سلیکشن کے نعرے لگا رھا تھا توآج
آج اس کا بیٹا فضل الرحمن یہ نعرہ شدو مد سے لگا رہا ھے
کل عبدالولی خان تھا تو آج اسفندیار ولی
کل خواجہ رفیق تھا تو آج سعد رفیق
کل عبدالصمداچکزئی تھا تو آج محموداچکزئی
کل میاں شریف تھا تو آج نوازشریف اور شہبازشریف
کل حاکم علی زرداری تھا تو آج آصف علی زرداری
ترک اور ملائیشین سربراھان اگر مغرب کو للکار رھے ھیں
تو انہیں اپنے قوم پربھروسہ ھے
کہ وہ اللہ کے راستے میں ھر مشکل، ھر پابندی، مہنگائی، ڈالرگردی کا مقابلہ کرلینگے
لیکن
بھٹو کو امریکہ کے راستے سے ھٹانے پر مٹھائی بانٹنے والی قوم پر بھروسہ کرنا عمران خان کی کم عقلی ھے
عمران خان یہ قوم تمہیں بھی بھٹوکی طرح لٹکا دے گی
جوالزامات بھٹو پرلگائے گئے تھے
آج وھی عمران خان پر لگ رھے ھیں
کل جو سیاست دان امریکی دلالی میں بھٹوکے خلاف نکلے تھے آج انہی کی اولاد امریکی دلالی کے لئے تیار ھے
کل جو لوگ بھٹو کابینہ میں گھسائے گئے آج انہی کی اولاد عمران خان کابینہ میں گھسی ہوئی ھے
اگر سیاسی عینک اتار کر دیکھا جائے تو امریکہ عمران خان، طیب اردوان، مہاتیر محمد کو
بھٹو، شاہ فیصل اور معمر قذافی بنانے کا مشن اپنے دلالوں کو سونپ چکا ھے
سوال یہ ھے کہ اس بار یہ قوم عمران خان کا ساتھ دے گی یا ایک اور بھٹو کو روئے گی۔۔۔
ان جرثوموں کو بیماری پھیلانے سے پہلے ختم کرنا ہوگا ۔۔۔
یہ وطن دشمن وطن فروش ناسور نہ تو پاکستان کے خیر خواہ ھیں نہ ھی پاکستانی عوام کے،
ان کو مال چاہیے اور پاکستان انھیں عزیز نہیں،
#ضربِ_قادری
20/04/2022
Happy birthday, Hubble! 🥳
As we celebrate the telescope’s 32nd anniversary week, enjoy this birthday present – a stunning new Hubble image of a collection of five galaxies, known as Hickson Compact Group 40.
20/04/2022
یہ کائنات بہت بڑی ہے، بہت ہی بڑی !
اگر ہم صرف قابلِ مشاہدہ کائنات کی بات کریں، تو اندازہ ہے کہ روشنی کو اپنی تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ جیسی زبردست رفتار سے سفر کرنے کے باوجود ، قابلِ مشاہدہ کائنات کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچنے میں 78 اَرب سال لگ جائیں گے۔
ہمارے اب تک کے بہترین اندازوں کے مطابق، کائنات میں لگ بھگ چار کھرب (400 اَرب) کہکشائیں ہیں۔
ہر کہکشاں میں اوسطاً ایک کھرب (100 اَرب) ستارے ہیں۔
اگر ان میں سے صرف ایک فیصد ستارے ہمارے سورج جیسے ہوئے، تو ہر کہکشاں میں ہمارے سورج جیسے ستاروں کی تعداد ایک اَرب ہوگی۔
اور اگر ان میں سے بھی صرف ایک فیصد ستاروں کے گرد، ہمارے نظامِ شمسی جیسے نظام ہائے شمسی ہوئے، تو صرف ایک کہکشاں میں ہمارے سورج سے مماثل نظامِ شمسی رکھنے والے ستاروں کی تعداد ایک کروڑ ہوگی۔
اگر ان میں سے صرف ایک فیصد نظام ہائے شمسی میں بالکل ہماری زمین جیسا کوئی سیارہ ہوا۔ تو ہر کہکشاں میں ہماری زمین جیسے ایک لاکھ سیارے ہوں گے۔
اگر ان میں سے بھی صرف ایک فیصد، زمین نما سیاروں پر ایسا ماحول ہوا کہ جس میں زندگی آنکھ کھول سکے؛ تو ہر ایک کہکشاں میں زمین کا گہوارہ بن جانے والے سیاروں کی تعداد ایک ہزار ہوگی۔
اور اگر ان میں سے بھی صرف ایک فیصد سیاروں پر حالات اتنے عرصے تک سازگار رہے کہ وہ ابتدائی حیات، ارتقاء کی منزلیں طے کرکے انسان جیسی ذہانت اور قوتِ ایجاد حاصل کرلے، تو پھر ہر کہکشاں میں انسان جیسی ذہین تہذیبوں کی تعداد ایک سو ہوگی۔
لیکن ٹھہریئے! یہ تو صرف ایک کہکشاں کی بات ہورہی ہے۔ اب ذرا اس ہندسے کو چار کھرب (چار سو اَرب) سے ضرب دیجئے۔
معلوم ہوگا کہ ممکنہ طور پر کائنات میں ہم انسانوں جیسی چار سو کھرب (چالیس ہزار آرب) ذہین مخلوقات، مختلف سیاروں پر آباد ہوسکتی ہیں۔
شاید یہ کائنات اپنے ہر گوشے میں زندگی سے لبریز ہو۔
لیکن آج تک کسی خلائی مخلوق نے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔
ہم بہت کوشش کررہے ہیں لیکن اس وسیع و عریض کائنات میں اکیلے ہونے کا احساس کسی بھی طور کم ہونے میں نہیں آتا۔
کیا ہم واقعی اکیلے ہیں؟
یا پھر ابھی تک ترقی کی اس منزل تک پہنچ ہی نہیں سکے ہیں کہ جہاں پہنچ کر ہم کسی غیر ارضی ذہین مخلوق سے رابطہ کرنے کے قابل ہوجائیں؟
یہ سوالات ابھی تک عقدہ ہائے لاینحل کی طرح ہمیں گھیرے ہوئے ہیں۔ اور تو اور، ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ آنے والے وقت میں ان سوالوں کا کوئی جواب مل بھی سکے گا یا نہیں۔ اور اگر کوئی جواب ملے گا بھی، تو کب ملے گا؟
18/04/2022
BREAKING NEWs from COSMIC
DAWN
کائنات کے شروعاتی زمانے سے نئی خبر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: فہیم خورشید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر کیا چیز ہے یہ کائنات، کبھی یہ اپنے اندھیروں سے تصور کی بینائی چھین لیتی ہے، کبھی یہ اپنی روشنیوں سے تخیل کی دنیا کو خیرہ کر دیتی ہے،
جتنا سوچتے ہیں اتنا کنفیوز ہوتے ہیں کبھی اپنی بےبسی سے ہاتھ مل کر رہ جاتے ہیں، کبھی گھبراہٹ میں دل تھام لیتے ہیں،
مگر یہ عجوبہ کائنات ہم سے بے خبر اپنے عجوبہ خزانوں کا منہ کھولے ہر گھڑی نت نئے عجوبوں کی بوچھاڑ سے عقل و فہم کو حیرتوں کی منجھدار میں گھمائے جا رہی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ روز پہلے ہی ناسا کے ماہرین نے کائنات کے ابتدائی زمانہ کے انتہائی نایاب بلیک ھول کی دریافت کی ہے،
جو کائنات کی پیدائش کے صرف 750 ملین سال بعد کی تشکیل ہے،
یہ سپر massive بلیک ھول ستاروں کی دھول اور گیسوں سے پیدا ہونے والی سرخ روشنیوں سے گھرا ہوا ہے۔۔
یہ بلیک ھول در اصل اپنی لامحدود توانائیوں کا اظہار كوئزار کی صورت میں کر رہا ہے۔۔
کائناتی افق پر كوئزار بگ بینگ کے بعد سب سے زیادہ توانائی کے منبع ہیں
اور ایک كوئزار کی پاور سپلائی کا زمہ دار سپر میسو بلیک ہول ہوتا ہے
یہ زمین سے 13 ارب نوری سال دور ہے
یہ دریافت 13اپریل 2022 کو ایک سائینسی جریدے دی نیچر میں شائع کی گئی
ماہرین کے مطابق یہ كوئزار کائنات کے اس انتہائی ابتدائی زمانہ کی پیداوار ہے جسے " کوسمک ڈان"Cosmic dawn کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔۔ یہ ایک ابتدائی کہکشاں کے پہلے براہ راست مشاہدے کا ثبوت نظر اتا ہے
ایسے سرخی مائل كوئزار کو transitioning red quasars کہا جاتا ہے، ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ انتہائی ابتدائی کائنات میں پیدا ہوئے ہوں گے۔۔ اس کی دریافت سے قبل ایسے کسی كوئزار کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔۔۔
نیلز بوہر انسٹیٹیوٹ (کوپن ہیگن یونیورسٹی) کے ایک ماہر کا کہنا ہے یہ كوئزار
کائنات کی دو نایاب آبادیوں (یعنی کثرت سے نئے ستارے پیدا کرنیوالی کہکشائیں اور ابتدائی سپر massive بلیک ہولز ) کے باہمی رابطے کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔۔۔اور ان بلیک ہولز کی تیز رفتار ارتقاء کو سمجھنے کے لیے نئی راہیں ہموار کرے گا۔۔۔
اسے ایسی ہی نایاب اشیاء کی لسٹ GN-z7q میں شامل کیا گیا ہے
۔۔۔۔
كوئزار کہکشاؤں کے مرکزی بلیک ھول کی توانائی کے ذریعہ سے بننے والی انتہائی روشن چیزیں ہے انہیں کواسی اسٹیلر آبجیکٹ QSO بھی کہا جاتا ہے
سورج سے کروڑوں گنا سے اربوں گنا بڑے یہ سپر ماسو بلیک ہولز ۔۔ بہت بڑی کہکشاؤں جن میں مادہ بہت وافر مقدار میں ہوتا ہے۔۔۔ کے مرکز میں ہوتے ہیں اور اندھا دھند ان کے مادے کو دھول اور گیسوں کی صورت میں اپنے اندر کھینچنے لگتے ہیں۔۔۔ یہ مادہ اندر گرنے سے قبل بلیک ہولز کے گرد تیزی سے گھومتا ہے اور مادے کے ذرات آپس میں ٹکرانے کے سبب گرم ہوکر تابکاری اور روشنی خارج کرنے لگتے ہیں
یہ روشنی اور تابکاری اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ ہے بلیک ہول کائنات کی روشن ترین اور سب سے زیادہ توانائی بخش چیز بن جاتے ہیں اور ایسی چیزوں کو سائنسدان كوئزار کہتے ہیں
كوئزار صرف انتہائی بڑی، انتہائی گھنی اور سٹار ڈسٹ سے بھرپور کہکشاؤں میں ہی تشکیل پاتے ہیں
یہ سرخ كوئزار بھی انتہائی بھرپور اور نوجوان کہکشاں میں بنا ہے، یہ کہکشاں ملکی وے کی نسبت 1600گنا تیزی سے نئے ستارے پیدا کر رہی ہے
اور یہ ستارے بےتحاشا حرارت پیدا کر کے تمام کہکشاں پر چھائی گیسوں کو گرم اور روشن کر کے اس کہکشاں کو کوسمک ڈان کی سب سے روشن چیز کے طور پر نمایاں کر رہے ہیں۔۔ ان گیسوں کے درمیان گھرا كوئزار ایک سرخ نقطے کی طرح نظر اتا ہے
ذیل میں موجود تصویر ایک آرٹسٹ کا کمال ہے جس میں کائنات کے ابتدائی دور کا یہ كوئزار گرم گیسوں میں لپٹا نظر آرہا ہے
image via: ESA/Bubble/N۔Bartman
www۔livescience۔com
18/04/2022
میں تھک گیا ہوں!
برھمانڈ سے بڑا کوئی نہیں اس بات کا فیصلہ خود وقت آنے پر وقت کریگا ازل سے دوڑتے وقت کے گھوڑے کی ٹک ٹک مدھم اس لیے بھی سنائی دیتی ہے کہ برھمانڈ کی وشالت کا کوئی انت نہیں!
یہ کائناتین یہ کھکشائین یہ ستارے یہ سیارے برف کے پھاڑ گیسوں کے گھمنڈیے گھوڑے یہ بلیک ہول یہ سپرنوا کیا کیا نہیں دیکھا مین نے..؟ مجھے اس لیے بھی سب کچھ دیکھنا پڑا کیونکہ تجھے دیکھنے کی آرزو جو ازل سے تھی!
تمھارے کھوج اور جستجو میں شعور سنبھالتے ہی بھٹکتا رہا ہوں کھربوں آسمانی پتھروں کی طرح جو برھمانڈ میں میری طرح بھٹک رہے ہیں!
میرے وجود کے لاکھوں سال کا سفر اب شاید دو تین صدیوں پر تمام ہوجائے کیونکہ ہم نے دھرتی پر ٹکے رہنے کے آڑ میں دھرتی کے ماحول سے حد سے زیادہ بدتمیزی کی ہے
اب ہمیں بیک وقت کئی نیچرل ڈزاسٹر کا ہمہ وقت مقابلہ رہیگا خوفناک سونامی بڑے اور برے طوفان دھشتناک زلزلے مسلسل بارشیں یا پھر مسلسل خشک سالی ہمیں خوراک اور پانی پر آپس میں لڑنے کو اکسائی گی ماحولیاتی آلودگی یا تبدیلی اپنے اثر رسوخ سے ہمیں دربدر کرے گی
ممکن ہے خلا سے کوئی بڑا آسمانی پتھر دھرتی پر گر کر انسانی نسل کو" گڈ بائی" کرے!
چاھتا ہوں کہ انسان نسل ختم ہونے سے پہلے مین تم سے مل لوں اور انسان کا کائنات میں آنے کا مقصد پورا ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں
ھم انسانوں نے کائنات میں کہیں اور موجود زندگی کی تلاش میں اپنے وسائل ھمت اور جرت کو دیکھ کر کوئی "کسر" نہیں چھوڑی!
وائجر ون سے لیکر جیمز ویب تلک تمام کاوشیں اور کوششیں تمہیں تلاش کرنے کے لیے تھین..
سچ مانو تو تمھاری تلاش کائنات میں انسانی وجود کا سب سے بڑا مقصد ہے ہمیں اس وقت ڈر لگتا ہے کیونکہ کائنات میں زندگی کے روپ میں فی الحال ہم یہاں دھرتی پر اکیلے ہین ..
مین چاھتا ہوں کہ جب زندگی اس دھرتی سے فنا ہونے لگے تو مجھے اطمینان ہو کائنات کے کسی اور گوشے میں زندگی "پل" رہے ہے!
مین اب تھک چکا ہوں کائنات کے کسی کونے میں تمھارا بسیرا ہے تو آو مل کے جاو اپنے مقصد سے اور مجھے سکون سے فنا ہونے دو!
17/04/2022
ہماری زمین کی ساخت کیسی ہے
ہماری زمین6378.1کلومیٹر گہری ہے اور یہ پانچ تہوں پر مشتمل ہے
جس میں سب سے اوپر کرسٹ ہے جو 35کلو میٹر کی گہرائی تک جاتا ہے جو زیادہ تر آکسیجن اور سیلیکون سے بنا ہوا ہے اور کچھ فیصد اس میں آئرن ،کیلشیم اور المونیم کی ہے۔
اس سے نیچے اپر مانٹل ہے جسے lithosphere بھی کہتے ہیں جو 660 کلومیٹر کی گہرائی تک جاتا ہے جو سلیکیٹ سے بنا ہوا ہے اس میں زیادہ مقدار آکسیجن اور سیلیکون کی ہے اور یہ زمین کا سب سے ٹھنڈا حصہ ہے پلیٹ ٹیکٹونکس کا عمل بھی اسی لئیر میں ہوتا ہے ۔
اس سے نیچے پھر لوہر مانٹل شروع ہو جاتا ہے جو asthenosphere بھی کہلاتا ہے یہ 2890 کلو میٹر کی گہرائی تک جاتا ہے جس میں زیادہ تر میگنیشیم اور سلیکون ہیں اور اس میں کچھ آئرن کے سلیکیٹ اور کاربونیٹ بھی ہیں۔
اس سے نیچے پھر آؤٹر کور ہے جو زمین کی سطح سے 5100 کلومیٹر تک گہرا ہے جو پگھلے ہوئے لوہے اور نکل سے بنا ہوا ہے۔
پھر سب سے آخر پر انر کور ہے۔جو پریشر کی وجہ سے ٹھوس حالت میں ہے۔اور یہ زمین کے مقابلے میں تھوڑا سا تیز گھومتا ہے جس کی وجہ سے زمین کا میگنیٹک فیلڈ پیدا ہوتا ہے۔
15/04/2022
اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا دم دار ستارہ تیزی سے زمین کی جانب بڑھنے لگا، ناسا نے خبردار کردیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا نے خبردار کیا ہے کہ دم دار ستارہ تیزی سے زمین کی جانب بڑھ رہا ہے جس کی چوڑائی تقریباً 80 میل ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سی/2014 یو این 271 نامی دم دار ستارہ 22 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہوا نظام شمسی کے کنارے سے اس کے مرکز کی جانب بڑھ رہا ہے جس کا وزن تقریباً 5 ہزار کھرب ٹن ہے۔
ناسا کے سائنس داں کہتے ہیں کہ یہ ستارہ دیگر معلوم دم دار ستاروں کی نسبت 50 گنا بڑا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ستارہ پہلی مرتبہ 2010 میں دیکھا گیا تھا جب سے سائنس دانوں کی جانب سے اس پر تحقیق کی جا رہی ہے ۔