یہ غالباً ہر انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ خود دوسروں سے اچھا کما رہا ہو تو یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ ضرور دوسروں سے زیادہ محنتی، چالاک اور منضبط (organised) ہے اور اپنے کام میں زیادہ ماہر ہے۔ پھر وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے جن کو نپا تلا رزق مل رہا ہے، ان پر تنقید کرتا ہے، ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ مگر جب یکلخت وقت کا پہیہ الٹا گھومتا ہے تو اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس تھی جو وہ سمجھ بیٹھا تھا۔
اگر کوئی چاہتا ہے کہ اسے رزق کے معاملہ میں آزمایا نہ جائے تو تین کام کرے:
اوّل: جو کچھ مل رہا ہے اسے محض مالک کی عطا سمجھے نہ کہ اپنی قابلیت کا نتیجہ اور ساتھ ہی مالک کا شکر بھی بجا لاتا رہے۔
دوئم: جن کو کم یا نپاتلا رزق مل رہا ہے انہیں حقیر نہ جانے نہ ان لوگوں سے حسدکرے جن کو "چھپر پھاڑ" رزق میسر ہے۔ یہ سب رزّاق کی اپنی تقسیم ہے۔ اس کے بھید وہی جانے۔
سوئم: جتنا ہو سکے اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کرے۔ زیادہ ہے تو زیادہ، کم ہے تو کم شامل کرے۔ سب سے زیادہ حق، والدین اور رحم کے رشتوں کا ہے۔ نانا نانی، دادا دادی، بہنیں اور بھائی ہیں۔ اس کے بعد خون کے دوسرے رشتے ہیں جیسے خالہ، پھوپھی، چچا، ماموں، چچی وغیرہ۔ پھر دوسرے قریبی رشتہ دار یا مسکین و لاچار لوگ۔ یقین رکھیں کہ جب بہت سے دعا کے ہاتھ اس کے حق میں اٹھیں گے تو برکت موسلا دھار بارش کی مانند برسے گی جس کی ٹھنڈی پھوار اس کی زندگی کو گلشن گلشن بنا دے گی.
دعاؤں کا طالب!
ایم کمال عزیز
Muhammad Kamal Aziz
Helping community around the globe and learning more about the world
جب استاذ نے طلبہ کو کلاس میں حیران کر دیا
ایک استاذ نے کلاس کے دوران طلبہ کو ٹاسک دیا ، ٹاسک یہ تھا کہ کل تمام اسٹوڈنٹس پانچ پانچ کلو ٹماٹر لے آئیں. طلبہ نے اگلے دن پانچ پانچ کلو ٹماٹر لائے اور استاد کے کہنے کے مطابق ایک جگہ پر جمع کر کے رکھ دیے۔ اب استاد نے اگلا ٹاسک یہ دیا کہ تمام اسٹوڈنٹس منفی خیالات کے بارے میں سوچیں اور ہر سوچ اور خیال کے بدلے میں ایک ایک ٹماٹر اٹھائیں اور اپنے بیگ میں ڈال دیں ۔ ۔ ۔ ۔ چاہے وہ آپ کو کسی نے نقصان پہنچایا ہو، کسی نے آپ سے حسد کیا ہو ، کسی نے آپ کا دل توڑا ہو ، کسی نے آپ کی راہ کھوٹی کی ہو، کسی نے آپ کی عزت سے کھیلنے کی کوشش کی ہو۔
طلبہ نے اس حوالے سے سوچا اور اپنے بیگ میں ٹماٹر ڈالنے لگے اب کسی کے بیگ میں ایک کلو تو کسی کے بیگ میں دو، تین ، چار سے پانچ کلو ٹماٹر تک آگئے۔ استاد نے اگلا ٹاسک یہ دیا کہ چونکہ آج جمعہ کا دن ہے لہذا یہ بیگ ہفتہ ، اتوار تک اپنے پاس رکھیں ۔ ۔ ۔ آپ جہاں جائیں بیگ کو ساتھ لے کر جائیں اور اگر سونا ہو تو بیگ کو سرہانے رکھ دیں اسٹوڈنٹس نے ایسا ہی کیا ۔ ایک دن گزر گیا تو ٹماٹر خراب ہونے لگے اور ان سے بد بو آنے لگی ۔ ۔ ۔ ٹماٹروں کا بوجھ اور لانا لے جانا اپنی جگہ اور ان سے آنے والی بدبو کا وبال الگ سے ایک درد سر بن گیا تھا ، لیکن چونکہ یہ ایک ٹاسک تھا، اسٹوڈنٹس نے بہر حال کرنا تھا۔ اسٹوڈنٹس نے ایسا ہی کیا۔
سوموار والے دن اترے چہروں کے ساتھ جب استاد سے اسٹوڈنٹس ملے تو انکے چہرے مکمل داستان بتارہے تھے ماہر نفسیات نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ جس طرح دو دن یہ ٹماٹر ساتھ رکھتے ہوئے آپ کی زندگی عذاب ہوئی ہے تو ان خیالات کے بارے میں بھی سوچیں جنہوں نے ہماری زندگیاں تباہ کی ہوئی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حسد، بغض ، رقابت ، دشمنیاں، برے خیالات ، بے وفائیاں ، نقصانات وغیرہ کی لاشیں جو صبح شام اپنے دل پر سوار کر کے انہیں ہر جگہ لے جاتے ہیں اور ان خیالات کی لاشیں بدبو پیدا کر کے کتنی زندگیوں کو عذاب بنا چکی ہیں ، اس لیے ان گلی سڑی لاشوں کو دفنا کر آگے بڑھیں ، اللہ کی دنیا بہت بڑی ہے۔ ہمیں کبھی کبھار اپنا احتساب کر کے ان تمام کچروں کو اپنے دل و دماغ سے ان لوڈ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ریفریش ہو کر اس دنیا کو ایکسپلور کریں ۔ اللہ تعالی کی بنائی ہوئی ہر شے حسین ہے۔
23/06/2023
19/03/2023
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Hajira, AJK
Islamabad
19/03/2023