_*اسرائیلی مصنوعات کی خرید و فروخت حرام ہے*_
*بائیکاٹ کے بہت سے فوائد گنوائے جاتے ہیں جبکہ ان سب سے بڑھ کر اصل بات جو لوگوں میں عام ہونی چاہئے وہ یہ ہے کہ اُن کیلئے یہ سب خرید و فروخت جائز ہی نہیں ۔* *امام ابن رشد الجد(رحمه الله) فرماتے ہیں : اگر کپڑے یا ریشم کا ایک ٹکڑا بھی مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو تو اس کی لین دین بھی جائز نہیں ہے اور اس پر اجماع ہے*
*( البيان والتحصيل : ١٦٨/٤ )*
Tahir Nazir
تم۔میں سے سب اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں
چھوٹی سی غزہ پٹی نے یورپ کا امن،دین اسلام کے ٹھیکیداروں کا ایمان اور اسلامی افواج کی بہادری کو ننگا کر رکھ دیا۔💯👍
21/12/2024
18/12/2024
انا للہ وانا الیہ راجعون
18/12/2024
اونچی آوازیں، ترش لہجے اور بگڑے انداز !
معاشرتی رویے کسی بھی قوم کی تہذیب، تمدن اور شعوری ترقی کا آئینہ ہوتے ہیں۔ نرمی، شائستگی اور خلوص ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہیں، جبکہ اونچی آوازیں، سخت لہجے، اور ترش اندازِ بیان تہذیبوں کے زوال کا مظہر سمجھے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے، آج کے دور میں یہ رویے نہ صرف عام ہو چکے ہیں بلکہ معاشرتی زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔
بول چال کے انداز اور گفتگو کا معیار انسان کی ذہنی حالت اور فکری ترقی کا پتہ دیتے ہیں۔ گفتگو کی سائنس ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مہذب اندازِ بیاں نہ صرف لوگوں کو قریب لاتا ہے بلکہ بہتر تعلقات کے فروغ کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس کے برعکس، سخت لہجے اور بے صبری انسانوں کے درمیان فاصلے پیدا کرتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
آج، تہذیب اور تمدن کے پیمانے بدلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ شور، ہنگامہ، اور جارحانہ رویے جیسے عناصر معاشرے میں فروغ پا رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی اجتماعی سوچ اور رویوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ایک پُرامن اور خوشحال معاشرے کے لیے یہ لازم ہے کہ ہم شائستگی، برداشت، اور نرمی جیسے اوصاف کو اپنائیں۔ گفتگو کا معیار بلند کرنے اور مثبت رویوں کو فروغ دینے سے ہی ہم ایک بہتر معاشرتی ماحول تشکیل دے سکتے ہیں جو ترقی اور خوشحالی کی بنیاد بنے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Islamabad