مجلس علماء امامیہ پاکستان

مجلس علماء امامیہ پاکستان

Share

مجلس علمائے امامیہ پاکستان, ادارہ الباقر کا شعبہ تبلیغات ہے جس کا قیام 2013 میں عمل میں لایا گیا۔

24/03/2026

خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب میں امریکی اڈوں اور ان کے مابین فوجی تعاون کی تاریخ

اس الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں بھی جھوٹ بولا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں کوئی امریکی اڈا نہیں اور نہ ہی امریکی فوجیں موجود ہیں۔ آئیں آپ کے سامنے بعض تاریخی حقائق بیان کرتے ہیں۔

اتفاقِ کوئنسی (بالإنجليزية: Quincy Pact): 14 فروری 1945

یہ معاہدہ سعودی عرب کے مؤسس بادشاہ، ملک عبدالعزیز آل سعود، اور اُس وقت کے امریکی صدر روزویلٹ کے مابین امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کوئنسی (USS Quincy CA-71) پر بحیرۂ احمر میں طے پایا۔
امریکہ اور سعودی عرب کے مابین فوجی تعاون 1945 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت شروع ہوا، جس کا آغاز سعودی عرب کے شہر ظہران میں ہوائی اڈے (کنگ عبدالعزیز ایئر بیس) کی تعمیر سے ہوا۔ ابتدائی طور پر یہ بیس دوسری جنگِ عظیم کے دوران لاجسٹک مقاصد کے لیے استعمال ہوا، بعد ازاں اس نے سرد جنگ کے دوران ایک اسٹریٹجک بیس کے طور پر کام کیا۔ 1980 کی دہائی میں دونوں ممالک نے سوویت حملے کے خلاف افغان مجاہدین کی حمایت میں تعاون کیا۔ بعد میں انہوں نے خطے میں صدام حسین کی مسلط کردہ ایران-عراق جنگ کے تناظر میں بھی تعاون جاری رکھا۔
امریکی فوج نے کئی دہائیوں سے مملکت میں اپنی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں کے دوران امریکی فوجی ہتھیاروں کی فروخت اور تربیتی مشنز میں مدد کے لیے موجود رہے۔ 1991 کی خلیجی جنگ کے دوران کویت کو آزاد کرانے میں مدد کے لیے تقریباً 550,000 امریکی فوجی تعینات کیے گئے۔ 1991 سے 2003 کے درمیان تقریباً 5,000 امریکی فوجی—زیادہ تر امریکی فضائیہ کے—عراق پر جنوبی نو فلائی زون نافذ کرنے کے لیے مملکت میں موجود رہے۔
ان دہائیوں کے دوران یہ شراکت داری وسیع پیمانے پر فوجی اور فضائی مشقوں پر مشتمل رہی ہے۔ یہ مشقیں، جو باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہیں، جدید فضائی جنگی تربیت اور ملٹی ڈومین انٹرآپریبلٹی پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ دیگر تربیتی سرگرمیوں میں ڈرون کے مقابلے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو حقیقی دنیا کے منظرناموں میں شامل کرنا بھی شامل ہے، جو مسلح افواج کے لیے اہم سیکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔

*سعودی عرب کا ویژن 2030*

امریکہ نے سعودی عرب کے ویژن 2030 کی بھی توثیق کی ہے، جس کا مقصد اپنی فوجی ضروریات کا 50 فیصد سعودی عرب کے اندر ہی تیار کرنا ہے اور غیر ملکی دفاعی کمپنیوں کو مملکت میں دفاتر کھولنے یا مقامی فرموں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ بوئنگ نے پہلے ہی سعودی عربین ملٹری انڈسٹریز کمپنی (SAMI) کے ساتھ ہوائی جہازوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک مشترکہ منصوبے پر دستخط کیے ہیں، جس میں نہ صرف پائیداری بلکہ مینوفیکچرنگ، تربیت، انجینئرنگ اور تحقیق و ترقی بھی شامل ہے۔ اسی طرح لاک ہیڈ مارٹن نے ٹرمینل ہائی ایلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) سسٹم کے اجزاء تیار کرنے کے لیے سعودی شراکت داری قائم کی ہے۔ RTX، جو پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم تیار کرتا ہے، SAMI کے ساتھ کئی اہم اجزاء کی تیاری اور جانچ پر کام کر رہا ہے۔

*ایران نے خطے میں اسلامی ممالک کو کیوں نشانہ بنایا؟*

جب ہمسایہ ممالک ایران کے دشمنوں کو پناہ گاہیں، فوجی اڈے، انٹیلی جنس مراکز اور ریڈار سسٹمز لگانے کے لیے اپنی سرزمین فراہم کریں گے، اور پھر یہی اڈے ایران کے خلاف حملوں میں استعمال ہوں گے، تو اپنا دفاع کرنا ہر ملک کا عرفی، آئینی اور قانونی حق ہے۔ سادہ الفاظ میں، اگر آپ اپنے پڑوسی کے خلاف جنگ کے لیے کسی عالمی طاقت کو اپنی زمین فراہم کریں گے اور وہ آپ کے پڑوسی پر حملہ کرے گی، تو پھر آپ کو اس پڑوسی کی جوابی کارروائی پر اعتراض کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے۔

*اب ہر باشعور انسان خود فیصلہ کرے کہ اچھا ہمسایہ کون ہے ؟ خلیجی ممالک یا ایران؟*

جب امریکہ اور اسرائیل نے جارحیت کرتے ہوئے ایران کی اعلیٰ قیادت اور دیگر مفادات کو نشانہ بنایا، تو جواب میں ایران نے خطے میں امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ جب توانائی کی تنصیبات پر حملے ہوئے تو سعودی اور خلیجی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایران اچھے ہمسایہ تعلقات کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اس لیے یہ وضاحت ضروری ہے۔
ایران کی امریکی سرزمین تک براہِ راست رسائی نہیں، لیکن وہ ممالک جنہوں نے خطے میں امریکہ کی موجودگی کو سہولت فراہم کی ہے، دراصل ایسے اڈے مہیا کر رہے ہیں جہاں سے امریکہ حملہ یا دفاع کر سکتا ہے۔ نتیجتاً ایران یہ مؤقف رکھتا ہے کہ حملے کی صورت میں وہ ان مقامات کو نشانہ بنانے کا حق رکھتا ہے جو امریکی مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایرانی حملوں کو درج ذیل زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1) *براہِ راست امریکی فوجی اڈے*
جیسے بحرین میں پانچواں بحری بیڑا، جو خطے میں امریکی موجودگی کا ایک اہم مرکز ہے۔ ایران کے مؤقف کے مطابق ایسے اڈے ممکنہ طور پر حملوں کے آغاز کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لہٰذا وہ انہیں جائز ہدف سمجھتا ہے۔

2) *امریکہ و اسرائیل کے دفاعی معاون ممالک*
کچھ ممالک، جیسے اردن، جو اپنے اڈوں کو ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، یا قطر اور امارات میں موجود دفاعی نظام (جیسے THAAD یا ابتدائی وارننگ ریڈار)، ایران کے نزدیک بالواسطہ فوجی مدد کے زمرے میں آتے ہیں۔

3) *امریکی افواج کی متبادل موجودگی کے مقامات*
کبھی کبھار امریکی افواج اپنے مرکزی اڈوں کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی موجود ہوتی ہیں۔ ایران کے مطابق ایسے مقامات بھی اس کی نگرانی میں ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

4) *براہِ راست امریکی مفادات*
ایران کے مؤقف کے مطابق اگر اس کے اندر شہری یا مالیاتی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے تو وہ بھی جوابی طور پر امریکی شہری مفادات کو نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے

5) *مشترکہ امریکی شہری مفادات*
ایسے توانائی یا صنعتی منصوبے جن میں بڑی امریکی کمپنیوں (جیسے ExxonMobil، Chevron، Halliburton) کی سرمایہ کاری ہو، ایران کے نزدیک حساس حیثیت رکھتے ہیں، خصوصاً اگر ایرانی تنصیبات پر حملے کیے جائیں۔

*سعودی عرب کا فرقہ وارانہ جنگ بنانے کا منصوبہ*
سعودى عرب نے اب ایک اور ایئرپورٹ کو امریکہ کے اختیار میں دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ طائف شہر کا کنگ فہد ائرپورٹ جو مکہ مکرمہ کے نزدیک ہے۔ کل جب امریکہ ایران پر یہاں سے حملہ کرے گا۔ اور ایران جواب میں اس ائرپورٹ کو نشانہ بنائے گا تو شور مچایا جائے کہ ایران نے مکہ مکرمہ پر حملہ کر دیا اور پورے جہاں اسلام میں ایک مذہبی فتنہ کھڑا کیا جائے گا۔
البتہ امریکہ اور اسرائیل کی پروپیگنڈا مشینری کی جانب سے بعض دیگر ممالک، جیسے ترکی، آذربائیجان یا عمان کے حملوں کو بھی ایران سے منسوب کیا جاتا ہے، جسے ایران بے بنیاد قرار دیتا ہے۔اور ان حملوں میں اسرائیل ملوث پایا گیا ۔ ایران کے مؤقف کے مطابق اس کا دشمن چاہتا ہے کہ خطے کے ممالک براہِ راست ایک دوسرے کے خلاف جنگ میں ملوث ہو جائیں، تاکہ وہ خود پیچھے رہ کر فائدہ اٹھا سکے۔

21/03/2026

ایک شخص کے مقابلے میں ساری ملت پاکستان کا موقف
جنہیں امریکا و اسرائیل اور انکے اتحادیوں کے ساتھ اپنے وطن سے زیادہ محبت ہے انہیں اپنے عہدے سے سبکدوشی اور ریٹائرمنٹ کا انتظار کئے بغیر اپنے پیشرؤں کی طرح ابھی سے امریکہ یا یورپ شفٹ ہو جانا چاہیے ۔ لیکن ہمارے وطن کو کسی داخلی یا خارجی فتنے میں دھکیلنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر علامہ سیدشفقت حسین شیرازی
سربراہ مجلس علماء امامیہ و سیکرٹری امور خارجہ ایم ڈبلیو ایم

18/03/2026

بسم الله الرحمن الرحیم
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا

انتہائی دکھ و افسوس کے ساتھ،اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ جناب ڈاکٹر علی لاریجانی کی شہادت، جو اپنے فرزند اور محافظین کے ہمراہ صہیونی رژیم کے حملے میں عظیم مرتبۂ شہادت پر فائز ہوئے، پر رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای، ملتِ عزیزِ ایران اور اس معزز شہید کے اہلِ خانہ کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں۔

یہ عظیم سانحہ اس آیتِ کریمہ کے روشن مصادیق میں سے ایک اور جلوہ ہے کہ مردانِ خدا کس طرح اپنے رب سے کیے گئے عہد پر ثابت قدم رہتے ہیں اور راہِ حق میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔

بلاشبہ یہ عظیم شہید ان مؤثر اور قابلِ اعتماد شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام میں کلیدی کردار ادا کیا اور انقلاب اسلامی کی قومی سلامتی، اسٹریٹجک امور، پالیسیوں اور علاقائی تعلقات کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

میں اس معزز شہید کے مکرم خاندان کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کرتا اور بارگاہِ الٰہی میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے اور اس شہیدِ سعید کے درجات کو اپنی وسیع رحمت کے سائے میں بلند فرمائے۔ اور ملت عزیزِ ایران کو دشمن کے مقابلے میں سربلند و سرفراز فرمائے اور انقلاب اسلامی ایران کی محافظت فرمائے۔ (آمین)

ح۔ا۔ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی
سربراہ مجلس علماء امامیہ پاکستان
وسیکرٹری امورخارجہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان

Photos from ‎مجلس علماء امامیہ پاکستان‎'s post 14/03/2026

*بین الاقوامی ادارہ الباقر کے زیر اہتمام یوم القدس کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد*

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)
بین الاقوامی ادارہ الباقر کے زیر اہتمام یومِ القدس اور شب ہائے نزولِ قرآن کے سلسلے میں الباقر مرکز اسلام آباد میں ایک فکری و علمی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

نشست سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے یومِ القدس کی اہمیت اور مسئلہ فلسطین کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سید ناصر عباس شیرازی نے کہا کہ مسئلہ فلسطین ملتِ اسلامیہ کے سرفہرست مسائل میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ کی جانب سے جمعۃ الوداع کو یومِ القدس قرار دیے جانے کے بعد آزادیٔ قدس کی تحریک عالمی سطح پر ایک طاقتور آواز بن چکی ہے۔ ان کے بقول یومِ القدس اب محض ایک دن نہیں بلکہ مظلوموں کی حمایت اور ظالم کے خلاف مزاحمت کی عالمی تحریک کی علامت بن چکا ہے۔

مقررین نے ایران کے خلاف امریکی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی مزاحمت نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا بھر کے مستضعفین، بالخصوص مظلوم فلسطینیوں کی مضبوط آواز ہے۔

مقررین کے مطابق ایران اس وقت عالمی استکبار کے مقابلے میں مزاحمت کرتے ہوئے ایک طرح سے فرضِ کفایہ ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خدانخواستہ ایران کمزور پڑتا ہے تو خطے میں کوئی ایسا ملک باقی نہیں رہے گا جو صہیونی رژیم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو سکے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی مؤسسہ الباقر تبلیغ، تعلیم، تحقیق اور رفاہ کے شعبوں میں فعال ایک بین الاقوامی ادارہ ہے، جو حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی کی سربراہی میں گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے مختلف علمی و سماجی میدانوں میں سرگرمِ عمل ہے۔

Photos from ‎موسسہ باقرالعلوم قم‎'s post 14/03/2026
Photos from ‎مجلس علماء امامیہ پاکستان‎'s post 12/03/2026

مجلس علماء امامیہ پاکستان کی جانب سے ولی امر مسلمین آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی حمایت و نصرت کا اعلان

اسلام آباد: مجلس علماء امامیہ پاکستان کے زیرِ اہتمام الباقر مرکز اسلام آباد میں ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی جس میں ولی امر مسلمین اور رہبرِ جہانِ تشیع حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی حمایت و نصرت کا اعلان کیا گیا۔

نشست سے سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی علمی، معنوی، سیاسی اور سماجی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا انتخاب انقلابِ اسلامی ایران کے لیے غیبی تائید اور نصرت کی علامت ہے۔

سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی جارحیت دراصل عالمِ کفر کی اسلام کے ساتھ جنگ کا واضح مصداق ہے۔ انہوں نے کہا عالم کفر کو ایران کے جغرافیہ یا حکومت سے کوئی مسئلہ نہیں اسے اسلام کے ساتھ مسئلہ ہے اور وہ ایران کے انقلابی نظام کے اس لیے خلاف ہے کہ یہ نظام اسلام سے ماخوذ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا معاملات کو عموماً صرف مادی زاویے سے دیکھتی ہے جبکہ اسلام میں سیاسی و سماجی مفاہیم کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع اور معنوی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت امام خمینیؒ نے عالمی سیاست میں ایسے نئے نظریات اور مفاہیم متعارف کروائے جو اسلام کے بطن سے اخذ کیے گئے تھے۔ جن کا انقلاب اسلامی سے قبل تصور نہیں تھا۔ ان کے مطابق رہبرِ انقلاب حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای رہبرِ شہید حضرت امام خامنہ ای کے راستے اور جدوجہد کو مزید بلندیوں تک پہنچائیں گے، جس طرح رہبرِ شہید نے حضرت امام خمینیؒ کے افکار اور ان کے انقلابی مشن کو آگے بڑھایا۔

سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا رہبر شہید کی شہادت نے عالم اسلام اور خصوصا عالم تشیع کی عزت و توقیر میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔

رہبر دنیائے تشیع حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے ساتھ تجدید میثاق بیعت کی اس نشست میں علمائے کرام کے علاوہ مختلف طبقاتِ زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی اور رہبرِ انقلاب کے ساتھ اپنی وفاداری اور حمایت و نصرت کے عزم کا اعادہ کیا۔

یاد رہے مجلس علماء امامیہ پاکستان بین الاقوامی ادارہ الباقر کا شعبہ تبلیغات ہے جو حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی کی سربراہی میں تبلیغ و ترویج دین کے میدان میں سرگرم عمل ہے۔

12/03/2026
09/03/2026

#اعلامیہ مجلس علماء امامیہ پاکستان
برائے حمایت و نصرت ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (مدظلہ العالی)

مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا

ہم نائب امام زمانہ عجل اللہ الشریف، سلالہء سادات، رہبر بصیر و شہید، علمدارِ پرچم حق اور مستضعفین جہاں کے ملجا و ماویٰ، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای (اعلی اللہ مقامہ) کی شہادت پر امام زمانہ عجل اللہ ف*ج الشریف، فقہاء کرام، مراجع عظام، رہبر شہید کے خاندان مکرم، ملت شریف ایران اور تمام حریت پسندوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سربلندی اور استکباری قوتوں کے خلاف جدوجہد میں صرف کردی، اور آخر کار جامِ شہادت نوش کرکے سرخرو ہوئے۔

ہم مجلس خبرگان رہبری کے اس بصیرت افروز فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں جس کے تحت حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (مدظلہ العالی) کو امتِ مسلمہ اور انقلاب اسلامی کی قیادت اور رہبری کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (مدظلہ العالی) علمی جامعیت، فقہی بصیرت، قوتِ استنباط اور اجتہاد مطلق کی قدرت کے حامل ایک مسلمہ فقیہِ جامع الشرائط اور مجتہدِ مطلق ہیں۔ ہم ان کے انتخاب کو نظام ولایت فقیہ کے استحکام کی علامت قرار دیتے ہیں۔

مجلس علماء امامیہ پاکستان، سرزمین پاکستان کے علماء کرام کی نمائندگی کرتے ہوئے، آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (مدظلہ العالی) کی رہبریت کی مکمل حمایت اور نصرت کا اعلان کرتی اور ان کی اطاعت کو شرعی فریضہ سمجھتے ہیں۔ ہم محورِ مزاحمت کی تقویت اور اسلام و انقلاب دشمن قوتوں کے خلاف ان کے ہر فیصلے کی بھرپور حمایت کریں گے۔ ان کی قیادت و رہبری میں انشاء اللہ اسلام کا پرچم مزید بلند ہو گا اور شہداء کا خون رنگ لائے گا۔

ہم دعا کرتے ہیں کہ رہبر معظم حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (مدظلہ العالی) اپنے پیشرو رہبران کی مانند مورد لطف و عنایت امام زمان عج ف*جہ الشریف قرار پائیں گے اور اس عظیم الشان انقلاب اسلامی کی زمام حضرت امام مہدی عجل اللہ الشریف کے سپرد کریں گے۔

مجلس علما ء امامیہ پاکستان

07/03/2026

یہ جنگ معرکہِ حق و باطل ہے
یہ نمرود کی ابراہیم ، فرعون کی موسٰی اور یزید کی امام حسین علیہ السلام کے خلاف جنگ ہے۔آج ٹرمپ نے ہمارے قائد و رہبر سے تسلیم ہونے کا مطالبہ کیا انہوں اپنے جد امام حسین علیہ السلام کی طرح شہادت تو قبول کر لی لیکن انہوں اپنے زمانے کے يزيد کی بیعت نہیں کی۔

ڈاکٹر علامہ سید شفقت حسین شیرازی
سربراہ مجلس علماء امامیہ پاکستان و سیکرٹری امور خارجہ ایم ڈبلیو ایم

04/03/2026

مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَیْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَی نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن یَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلًا

رہبرِ عظیم الشان حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی شہادت پر اظہارِ تعزیت و اعلانِ مجالسِ ترحیم

معزز اراکین مجلس علماء امامیہ پاکستان
السلام علیکم !

انقلاب اسلامی کے عظیم الشان رہبر اور مرجع جہان تشیع آیت اللہ العظمی حضرت سید علی خامنہ ای کی المناک شہادت کی خبر نے عالمِ اسلام بالخصوص ملتِ تشیع کو گہرے رنج و الم میں مبتلا کر دیا ہے۔ آپ کی علمی، فکری، دینی اور انقلابی خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ آپ نے اپنی پوری حیاتِ طیبہ اسلام ناب محمدیؐ کے فروغ، امتِ مسلمہ کے اتحاد، اور استکبار کے مقابل استقامت کے لیے وقف کیے رکھی۔

مجلسِ علماءِ امامیہ پاکستان کی طرف سے اس عظیم سانحہ پر اپنے تمام اراکین، وابستگان اور ملتِ تشیع کی خدمت میں دلی تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔

تمام اراکینِ مجلسِ علماءِ امامیہ پاکستان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ ہائے احباب، مساجد , امام بارگاہوں میں مجالسِ ترحیم و تجلیل، محافلِ قرآن خوانی یا دعائیہ تقاریب کا اہتمام فرمائیں، تاکہ اس عظیم دینی رہبر کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔نیز استعماری طاقتوں خصوصا امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کی مذمت میں احتجاجی تقریبات منعقد کریں اور اس معرکہ حق وباطل میں جس حدتک ممکن ہو تبیین کا فریضہ سرانجام دیں۔

ح۔ا۔چوہدری ضیغم عباس
مدیر مسوول مجلس علماء امامیہ پاکستان

28/02/2026

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُون

حضرت خدیجہ الکبریٰ سلامُ اللہ علیہا کی وفات کے موقع پر ہم بارگاہِ رسولِ خداؐ و اہلِ بیتؑ میں ہدیۂ تعزیت پیش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اُن کی پاکیزہ سیرت، وفاداری اور نصرتِ دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مجلس علماء امامیہ پاکستان



Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Bharakaho
Islamabad
54000