🌷ہماری خوش نصیبی🌷
کتنی خوش نصیبی ہے نا ہماری کے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں ،
ہمیں ان سے ایک رشتہِ حاصل ہے۔
ہمیں ان سے نسبت حاصل ہے۔
کتنا سرور دیتا ہے یہ خیال کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم "ہمارے نبی" ہیں.
کبھی سوچا ہم نے کہ
▪️ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ہمارے لئےہمارے نبی کریم ﷺ نے دعائیں مانگی ہیں۔
▪️ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ ہمیں یاد کرتے تھے۔
▪️ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ قیامت کے دن ہمیں بھولیں گے نہیں ۔
▪️ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ رب سے ملاقات کے لیے گئے پھر بھی ہمیں نہیں بھولے ، جیسے ماں کسی بھی خوشی کی تقریب میں جائے تو سب سے پہلے اسے اپنی اولاد یاد آتی ہے ہمارے نبی کو ہم وہاں بھی یاد تھے ۔
🔸ہماری اس خوش نصیبی کا شکرانہ بھی تو بنتاہے نا !
اور پتہ ہے وہ کیا ہے؟
🔹ہم نبی کریم ﷺ کا اتباع کریں۔
🔹ان کی سنتوں کو زندہ کریں۔
🔹ان کو ہر لمحہ یاد رکھیں درودشریف کی کثرت سے۔
اور ہم پر ان کا حق ہے کہ
🔹ہم ان کی ناموس کا دفاع کریں۔
🔹ان کی ختم نبوت کا پرچار کریں۔
🔹گستاخانہ رسول کو منہ تور جواب دیں۔
🔹ان کی ہر ناپاک کوشش کو خاک میں ملا دیں۔
💠ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنی اس خوش نصیبی کا حق ادا کرتے ہوئے ۔۔۔
🔹نبی کریم ﷺ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی محبت کریں ۔
🔹ان پر اپنی جان ،مال ،عزت آبرو سب لوٹا دیں کیونکہ پیارے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے
لا يؤمن احدكم حتى اكون احب اليه من والده وولده والناس اجمعين.
اللہ تعالیٰ ہمیں اس خوش نصیبی کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
بنت آذاد
17/2/2025
Mahad un Noor academy
Mahad un Noor Academy is dedicated to increase Islamic knowledge to the Muslims all over the world.
Knowledge is a very powerful tool to understand and practice Islam.
17/02/2025
🌷خوشیوں میں اپنے رب کو یاد رکھیں🌷
کیا یہ عجیب نہیں ہے کہ غم اور مصیبت کے وقت تو ہم سجدہ ریز ہو کر اپنے رب کو پکاریں اور جب جب وہ رب ہم پر خوشیوں کی برسات کرے تو ہم اسے بھول کر اس کی ہی نعمتوں کو اس کی نافرمانی اور بغاوت کے کاموں میں استعمال کریں؟
کیا یہ عجیب نہیں کہ ہم اپنے محسن کے احسان کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے اسی کے سامنے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کریں؟
کیا یہ عجیب نہیں کہ جس سے ہم خوشیاں مانگتے ہیں جب وہ خوشیاں بھیجے تو ہم اسی کو بھول جائیں؟
کیا یہ عجیب نہیں کہ خوشیاں دینے والے رب کو خوشی کے موقع پر یاد رکھنے کے بجائے اسی کے دشمنوں سے دوستی لگائیں؟
کیا یہ عجیب نہیں کہ ہم خوشی دینے والے رب کے دشمنوں کے طور طریقوں پر اپنی خوشی کو سیلیبریٹ کریں؟
ہم کیسے نادان ہیں کہ ہم ہر خوشی کے موقع پر اپنے رب کو بھول جاتے ہیں،رب تعالی کی نعمتوں کو اس کی فرمانبرداری کے بجائے اس کی نافرمانی میں استعمال کرتے ہیں،رب تعالی کے دشمنوں سے دوستی لگاتے ہیں، اپنی خوشیوں کو حبیب خدا ﷺ کے طریقے کے بجائےکفار و مشرکین اور یہود و ہنود کے طریقوں پر مناتے ہیں ،اور پھر یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل بے چین کیوں ہیں؟ ہمارے دل ویران کیوں ہیں؟ ہمارے دل بے سکون کیوں ہیں ؟ہماری نعمتوں میں خیر و برکت کیوں نہیں ہے؟سب کچھ ہونے کے باوجود ہم خود کو خالی ہاتھ کیوں محسوس کرتے ہیں؟
کیوں؟
کیوں ؟
کیوں؟
اپنے اندر سے اس کا جواب تلاش کریں تو ہمارا ضمیر ہمیں خود جواب دے گا۔
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا، وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی ،جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
از قلم
صدف آفرین
جنت کا ٹکٹ
عصر حاضر کی ترقی میں جہاں نت نئی چیزیں سامنے آئی ہیں ان میں سے ایک چیز فائیو سٹار اور مہنگے ترین ہوٹل بھی ہیں۔ایسے ہوٹلز کی روشنیاں آنکھوں کو چندھیا دیتی ہیں اور کھانوں کی لمبی لمبی قطاریں انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہیں،ان کی خوبصورتی دل کو لبھانے والی ہوتی ہے۔ ان جگہوں میں ہر کس و ناکس کا داخلہ ممکن نہیں ہوتا ہے بلکہ وہاں صرف وہی شخص داخل ہو سکتا ہے جو ایسی جگہوں پر داخلے کی قیمت چکا سکتا ہو جو صاحب ثروت ،مالدار اور کوئی بڑی شخصیت ہو۔
بسا اوقات انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اگر یہ سب کچھ دل کو اس قدر لبھانے والا ہے تو میرے رب کی جنت کتنی خوبصورت ہوگی۔
وہ جنت جس کے بارے میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ نہ اسے کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل پر اس کا گزر ہوا۔اس جنت کی دلکشی کا کیا عالم ہو گا اوراس جنت کے دسترخوان کتنے وسیع ہوں گے جس کے میزبان خود اللہ رب العزت ہوں گے۔اس جنت کی خوب صورتی دنیا کے ان ہوٹلز سے کئی ہزار گنا زیادہ ہو گی۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ جنت ملے گی کس کو؟جس طرح دنیا کے ان مہنگے ترین ہوٹلز کی قیمت چکائے بغیر وہاں داخلہ منع ہے اسی طرح جنت کی قیمت کیا ہے؟ جس کو چکانا پڑے گا ،جس قیمت کو ادا کئے بغیر ہمیں جنت کا ٹکٹ ملنے والا نہیں ہے۔
لیکن یاد رہے جنت کا ٹکٹ مال و دولت سے حاصل نہیں ہو سکتا ہے،نہ جنت میں داخلے کے لئے اثر ورسوخ کام آئے گا۔جنت کا ٹکٹ تو مومن کا دل ہے جس میں اللہ کی محبت ہو،جس میں اخلاص ہو ،جس میں جذبہ اطاعت ہو،جس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہو،جس میں للہیت ہو،جس میں خوف خدا ہو،جس میں اپنے رب کے دین پر مر مٹنے کاجذبہ ہو جس میں اپنے رب سے وفا کا عزم ہو۔جس شخص کے پاس یہ دل ہے وہ جنتی ہے ،وہ جنت کے ٹکٹ کا مستحق ہے اور جو ایسے دل محروم ہے وہ جنت کا ٹکٹ کے حصول کے لئے اپنے دل کو ان صفات سے مزین کرلے تاکہ وہ بھی جنت کا مستحق بن سکے۔
صدف آفرین
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Islamabad