پنجاب گورنمنٹ مزید کتنا زلیل کرو گے اساتذہ کوکیوں نہیں وفاقی طرزپہ ڈسپیرٹی دیتے ہو
پاکستان گورنمنٹ ملازمین
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی ۔
اس ملک کو ہمارے بڑوں نے بنایا ہے اور ہم نے سنوارنا ہے۔
قائد پاکستان گورنمنٹ ملازمین جناب رحمان علی باجوہ صاحب حکومتی ٹیم سے مذاکرات کرنے گئے ہیں تمام دوستوں سے دعاؤں کی درخواست
ایک سوال ہے…
کیا ریاست کا کام سہولت دینا ہے یا راستے بند کرنا؟
20 اپریل 2026 کا ایک حکم آیا — ہزاروں نہیں، 30,391 آسامیاں ختم۔ وہ بھی BPS-01 سے BPS-16 تک۔ یعنی وہ دروازے بند جن سے عام آدمی کا بیٹا اور بیٹی اپنے خواب لے کر اندر آتے تھے۔ سوال یہ نہیں کہ نوکریاں کم کیوں ہوئیں… سوال یہ ہے کہ راستے ہی کیوں ختم کیے جا رہے ہیں؟
آج منظر یہ ہے:
سکول آہستہ آہستہ پرائیویٹ ہو رہے ہیں…
ہسپتال کاروبار بن چکے ہیں…
بجلی اتنی مہنگی کہ چھوٹا تاجر سانس لینے سے پہلے بل دیکھتا ہے…
اور اوپر سے وہی میٹر، جو عوام اپنی جیب سے خریدتی ہے، اس کا کرایہ بھی ادا کرتی ہے۔
یہ کیسا نظام ہے جہاں سانس بھی لو تو لگتا ہے بل آ جائے گا؟
ذرا زراعت کی طرف دیکھیں—
زمین دار بیج اور کھاد مہنگی خریدتا ہے، پانی مہنگا، ڈیزل مہنگا…
جب فصل تیار ہوتی ہے تو حکومت ریٹ اتنا کم رکھتی ہے کہ اس کی لاگت بھی پوری نہیں ہوتی۔
اور جب وہی فصل بازار میں آتی ہے تو قیمت آسمان کو چھوتی ہے۔
نقصان کون اٹھاتا ہے؟
زمین دار بھی… اور آخر میں عوام بھی۔
یہ ایک عجیب چکر ہے—
ریاست بوجھ کم کرنے کے نام پر آسامیاں ختم کرتی ہے،
پرائیویٹائزیشن کے نام پر ادارے بیچتی ہے،
اور پھر مہنگائی کے نام پر عوام کو خاموش رہنے کا مشورہ دیتی ہے۔
سوال یہ ہے:
اگر نوکریاں نہیں ہوں گی،
تعلیم اور صحت مہنگی ہوگی،
کاروبار بجلی اور ٹیکسز کے بوجھ تلے دب جائیں گے،
تو عام آدمی کہاں جائے؟
کیا یہ پالیسی ہے… یا آہستہ آہستہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل جہاں صرف وہی زندہ رہ سکے جس کے پاس وسائل ہوں؟
حکومت سے سیدھا سوال ہے:
آپ عوام کا بوجھ کم کر رہے ہیں… یا عوام کو ہی کم کر رہے ہیں؟
یہ بحث صرف ایک نوٹیفکیشن کی نہیں،
یہ اس سمت کی ہے جس طرف ہم سب کو دھکیلا جا رہا ہے۔
آپ کیا سمجھتے ہیں—
یہ فیصلے وقتی مجبوری ہیں یا مستقل حکمتِ عملی؟
اور اگر یہی راستہ رہا… تو عام آدمی کے لیے کل کیسا ہوگا؟
21/04/2026
پنجاب ملازمین کو جان بوجھ کر ڈسپیرٹی اور دیگر مراعات سے محروم رکھنے کے لیئے جدوجہد کرنے والا منحوس گروپ
21/04/2026
افسوس پنجابی عوام سوئی رہے پنجاب حکومت نے غریب اور متوسط طبقے سے بنیادی تعلیم بھی چھیننے کے لیئے بڑا قدم اٹھالیا اڑتیس ہزار ٹیچر آسامیوں کا خاتمہ کردیا۔
پنجاب کے تمام ای ایس ٹیز کو پیکٹا کاشاندار رزلٹ دینے پہ بہت بہت مبارک ہو
04/04/2026
Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Zaheen Malghani, Shahid Imran, M Imran Hanif, Liaqat Ali, Sammi Sayani, Gujjar Peer, Baran Khan, Maria Iqbal, Raja Iftikhar Ahmed Keyani, Inayat Ur Rehman, Adnan Nawaz, Imran Shafique Imran Shafique, Iqbal Malak, Ñõūmāñ Hāyāt, Rashid Ali, Zahra Shzad Shzad, Muhammad Yasir Inqlab, Ar Fiaz Fiaz, Zia Ullah Khan, Raja Zahoor Haqani, Sahmdin Gilgiti, Ranaishfaq Ranaishfaq, Arif Malik, Malik Hasnain Tanoli Tanoli, Zakir Ali Hassan Jafari, Baloch Raaj, Sher Muhammad, حافظ عمران, Idrees Malik, Bahtti Sahib, Sohail Khattak, Apca Central Apca Central, Zohaib Khan, Bilal Qaisrani Baloch, Rohan Munam, Saleem Saleem, Falak Shair, Inzar Gul Khan, Zubair Jarral
خدارا سرکاری ملازمین پہ ترس کھاؤ مہنگائی کے تناسب سے فورا کنوینس الاؤنس بڑھاؤ
آپ کا کنوینس الاؤنس کتنے دن چلتا ہے میرا تو چار دن تک بس
لگتا ہے پنجاب ملازمین کے ڈسپیرٹی سمیت تمام مطالبات بھی امریکہ ایران جنگ کے نذر ہوگئے ۔کہاں گئی وہ کمیٹی ؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
11
Islamabad