06/12/2023
ایک صحتمند مرد کے عورت سے ج**ع کرنے کے بعد جو منی خارج ہوتی ہے اس میں 400 ملین سپرمز موجود ہوتے ہیں۔ لہذا ، منطق کے مطابق، اگر اس مقدار میں نطفہ کو رحم میں جگہ مل جاتی ہے تو 400 ملین بچے پیدا ہوجاتے!
جبکہ یہ 400 ملین اسپرم ، ماں کی بچہ دانی کی طرف پاگلوں کی طرح بھاگتے ہیں، اور اس دوڑ میں صرف 300 یا 500 سپرمیے ہی بچ پاتے ہیں۔
اور باقی؟ وہ راستے میں ہی تھکن یا شکست سے مر جاتے ہیں۔ یہ 300-500 سپرمیے ہیں، جو بیضہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک، جی ہاں صرف ایک بہت ہی مضبوط سپرمیہ ہوتا ہے، جو بیضہ میں داخل ہوکر فرٹیلائز ہوتا ہے ، یا بیضہ میں پہنچ کر اپنی نشست بنالیتا ہے۔
کیاآپ جانتے ہیں وہ خوش نصیب، فاتح اور مضبوط ترین سپرمیہ کون ہے؟
وہ خوش نصیب سپرمیہ آپ، میں، یا ہم سب ہیں۔
کیا آپ نے کبھی اس عظیم جنگ کے بارے میں سوچا ہے؟
جب آپ بھاگے "تو آنکھیں، ہاتھ، پاؤں، سر نہیں تھے، پھر بھی آپ جیت گئے!
جب آپ بھاگے تو آپ کے پاس سرٹیفکیٹس نہیں تھے، آپ کے پاس دماغ نہیں تھا، لیکن آپ پھر بھی جیت گئے!
جب آپ بھاگے تو آپ تعلیم یافتہ نہیں تھے، کسی نے آپ کی مدد نہیں کی تھی لیکن آپ جیتے۔
آپ کے وجدان کی نظر میں صرف منزل تھی جب آپ بھاگے اور آپ ایک ہی ذہن کے ساتھ بھاگے تھے، آپ کا عزم صرف وہ منزل تھی اور آپ آخر میں جیت گئے۔
اس کے بعد ، بہت سے بچے ماں کے پیٹ میں کھو گئے۔ لیکن آپ موجود رہے ، آپ نے اپنے 9 مہینے پورے کیے۔
اور آج ......
آپ گھبراتے ہیں جب کچھ ہوتا ہے تو آپ مایوس ہوجاتے ہیں، لیکن کیوں؟ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ ہار گئے؟ آپ نے اعتماد کیوں کھو دیا ہے؟ اب آپ کے پاس دوست، بہن بھائی ، سرٹیفکیٹس، سب کچھ ہے۔ یہاں ہاتھ پاؤں ہیں، تعلیم ہے، منصوبہ بندی کرنے کے لیے بہترین دماغ ہے، مدد کرنے کے لئے لوگ موجود ہیں، پھر بھی آپ نے امید ختم کردی ہے۔
جب کچھ ہوتا ہے تو آپ کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟
آپ کیوں کہتے ہیں کہ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا؟
آپ نے کیوں کہا کہ میں ہار گیا؟
ایسی ہزاروں چیزوں کو اجاگر کرنا ممکن ہے ، لیکن آپ مایوس کیوں ہوگئے؟
آپ فرسٹریٹ کیوں ہوئے؟ آپ شروع میں جیتے، آپ آخر میں جیتے، آپ بیچ میں جیت جاتے ہیں۔
26/05/2023
اللّٰہ نے دودھ فروش کو نوازا ۔۔۔۔تو اس کی گردن میں سریا آ گیا۔۔۔۔ !
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ڈائریکٹر ملک معراج خالد تھے۔ وائس چانسلر ہی کہہ لیجیے۔ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی کے دوسرے سمسٹر کا طالب علم تھا۔یونیورسٹی نے فیسوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا۔ میں نے ملک معراج خالد کے خلاف ایک مقامی روزنامے میں کالم لکھ دیا۔ میں نے لکھا کہ ایک دودھ بیچنے والا ڈائریکٹر بن جاتا ہے تو اس کی گردن میں سریا آ جاتا ہے اور وہ اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔ یاد نہیں اور کیا کچھ لکھا لیکن وہ بہت ہی نا معقول تحریر تھی۔
اگلے روز میں کلاس میں پہنچا تو ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ جناب ایس ایم رؤوف صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں بلا کر کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ تمہیں ڈائریکٹر صاحب نے طلب کیا ہے۔ مجھے خوب یاد ہے جب میں ان کے کمرے سے نکل کر جا رہا تھا تو انہوں نے غصے سے کہا: جنٹل مین گو اینڈ فیس دی میوزک۔
خیر میں ڈائریکٹر آفس کی جانب چل پڑا اور راستے میں یہی سوچتا رہا کہ یہ تو طے ہے آج یونیورسٹی میں میرا آخری دن ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آج یونیورسٹی سے نکالا جاؤں گا تو گھر والوں سے کیا بہانہ بناؤں گا کہ کیوں نکالا گیا۔
وہاں پہنچا تو ڈائریکٹر کے پی ایس اسماعیل صاحب کو بتایا میرا نام آصف محمود ہے، مجھے ڈائریکٹر صاحب نے بلایا ہے۔ مجھے شدید حیرت ہوئی جب اسماعیل کے سپاٹ چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی اور کہنے لگے جائیے وہ آپ کے منتظر ہیں۔ لیکن اندر داخل ہوا توحیرتوں کے جہان میرے منتظر تھے۔ ملک صاحب اکیلے بیٹھے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا: سر میں آصف، آپ نے بلایا تھا؟
آپ ہی نے کالم لکھا تھا؟
جی سر میں نے لکھا تھا۔
تشریف رکھیے مجھے آپ سے کچھ باتیں کرنا ہیں۔۔۔۔اور میں جل تو جلال تو کا ورد کرتے ہوئے بیٹھ گیا۔
کافی دیر یونہی گزر گئی۔
ملک صاحب ولز کی ڈبیا گھماتے رہے۔ ایک ایک لمحہ اعصاب پر بھاری تھا۔ پھر ملک صاحب نے خاموشی کو توڑا اور کہا: کالم تو آپ نے اچھا لکھا لیکن آ پ کی معلومات ناقص تھیں۔ میں صر ف دودھ فروش نہیں تھا۔میرے ساتھ ایک اورمعاملہ بھی تھا۔ میں نے اسی لیے آپ کو بلایا ہے کہ آپ کی معلومات درست کر دوں۔ میں صرف دودھ نہیں بیچتا تھا۔ میرے ساتھ یہ مسئلہ بھی تھا کہ جوتے نہیں تھے۔ میں دودھ بیچ کر کالج پہنچتا اور سائیکل وہیں کھڑی کر دیتا۔ گھر میں جوتوں کا ایک ہی جوڑا تھا جو والد صاحب کے زیر استعمال تھا۔ اس کا حل میں اور میرے ابا جی نے مل کر نکالا۔ ہمارے درمیان یہ طے ہوا کہ صبح میں یہ جوتے پہن کر جایا کروں اور جب میں واپس آ جاؤں تو یہی جوتے پہن کر ابا جی چوپال میں جا کر بیٹھا کریں۔ اب ڈر تھا کہ سائیکل چلانے سے جوتا ٹوٹ نہ جائے۔ اس لیے میں انہیں سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا تھا۔جب دودھ گھروں میں پہنچا کر کالج کے گیٹ کے پاس پہنچتا تو جوتا پہن لیتا۔ واپسی پر پھر سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا اور ننگے پاؤں سائیکل چلاکر گھر پہنچتا۔
ملک صاحب پھر خاموش ہو گئے۔ یہ دورانیہ خاصا طویل رہا۔پھر مسکرائے اور کہنے لگے: سریے والی بات تم نے ٹھیک کہی۔ واقعی ،اللہ نے دودھ فروش کو نوازا تو اس کی گردن میں سریا آ گیا۔ بار بار دہراتے رہے: اللہ نے دودھ فروش کو نوازا لیکن اس کی گردن میں سریا آ گیا۔
پھر اسماعیل کو بلایا اور پوچھاکہ کیا قواعد و ضوابط کے مطابق میں فیس میں کیا گیا یہ اضافہ واپس لے سکتا ہوں۔اسماعیل نے کہا سر ڈائریکٹر کے اختیار میں نہیں ہے۔ کہنے لگے اختیار میں تو نہیں ہے لیکن اگر میں نوٹیفیکیش جاری کر دوں تو پھر؟ اسماعیل کہنے لگے: سر آپ نوٹی فیکیشن جاری کر دیں تو ظاہر ہے اس پر عمل ہو گا۔ملک صاحب نے کہا جلدی سے نوٹیفیکیشن بنا لاؤ، فیسوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ میں کمرے سے باہر نکلا تو اس حکم نامے کی کاپی میرے ساتھ تھی، دل البتہ وہیں چھوڑ آیا تھا۔
ڈیپارٹمنٹ پہنچا تو ایس ایم اے رووف صاحب نے پوچھا، ہاں کیا ہوا؟ میں نے نوٹی فیکیشن آگے رکھ دیا، سر یہ ہوا۔ رووف صاحب کی آنکھوں میں جو حیرت تھی، مجھے آج بھی یاد ہے۔ آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے: وائس چانسلر کیسا ہونا چاہیے؟ تو میں کہوں گا اسے ملک معراج خالد مرحوم جیسا ہونا چاہیے۔. آپ ملک کے اعلی ترین عہدے پر فائز رہے جب انتقال ھو ایک کرایہ کے مکان میں رھتے تھے اللہ تعالیٰ انکو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین
منقول
21/03/2023
نسیما جانب بطحا گذر کن
صبا! حال دل کملی والے سے کہنا
انوکھے سے کہنا، نرالے سے کہنا
یا رسول اللہ!
نسیما! جانب بطحا گذر کن
ز احوالم محمد را خبر کن
یہ بھی کہنا کہ جاری ہے زباں پر ہر دم
یہ بھی کہنا کہ نہ طاقت ہے نہ اٹھتے ہیں قدم
یہ بھی کہنا کہ جاری ہے زباں پر ہر دم
نسیما! جانب بطحا گذر کن
جو حکم ہو تو مدینے سلامی کو آئیں
حسین روضے کی جالی کو چومنے آئیں
اسی بہانے سے دیدار یار کر لیں گے
ہزار شوق سے جالی کو پیار کر لیں گے
نسیما! جانب بطحا گذر کن
یا رسول اللہ! ہم گناہگاروں پر تیری مہربانی چاہئے
سب گناہ دھل جائیں گے، رحمت کا پانی چاہئے
نسیما! جانب بطحا گذر کن
ز احوالم محمد را خبر کن
توئی سلطان عالم یا محمد
ز روی لطف سوی من نظر کن
سیاہ گیسوؤں والے! سیاہ کار ہوں میں
کرم! کرم میرے آقا! گناہ گار ہوں میں
ز روی لطف سوی من نظر کن
کام بنتا ہے میرا، تیرا بگڑتا کیا ہے
ز روی لطف سوی من نظر کن
کملی والے!
ز روی لطف سوی من نظر کن
تیرے کھا کے ٹکڑے، بنتے ہیں خسرو
تیرا جام پی کر کے بنتے ہیں جامی
ز روی لطف سوی من نظر کن
یا رسول اللہ!
میں بھی ہوں تیرے فقیروں کے فقیروں کا فقیر
ز روی لطف سوی من نظر کن
تیری اک نظر کی بات ہے، میری زندگی کا سوال ہے
آقا!
ز روی لطف سوی من نظر کن
مریضم یا رسول اللہ مریضم
علاجِ دردِ دل ای چارہگر کُن
کملی والے!
ببر ایں جان مشتاقم به آن جا
فدای روضۀ خیر البشر کن
مشرّف گر چه شد جامی ز لطفش
خدایا ایں کرم بار دِگر کن
O breeze, relate the tale of my sorrows to black-shawled One
Tell it to the Unique One, the Incomparable One
Ya Rasool Allah!
O (morning) breeze! make your way towards the land of Bat’haa
Relate my predicament to the Holy Prophet Muhammad (PBUH)
Tell Him (PBUH) that Purnam's soul suffers innumerable torments
That he has no strength left in him, not even enough to drag his feet
And that his lips constantly repeat this entreaty
O (morning) breeze! make your way towards the land of Bat’haa
Pray allow us to come to Madinah and offer our salutations
To kiss again and again the trellis of Your beautiful Tomb
This way we shall fulfil the desire of meeting our Beloved (PBUH)
When with a thousand desire in our heart, we shall kiss that golden trellis
O (morning) breeze! make your way towards the land of Bat’haa
O Holy Prophet of God! we sinners require Your benevolence
All our sins shall be washed away with the rain of Your beneficence
O (morning) breeze! make your way towards the land of Bat’haa
Relate my predicament to the Holy Prophet Muhammad (PBUH)
Muhammad (PBUH); You are the Emperor of both worlds
Cast your blessed, merciful glance towards me
O black tressed One, my deeds are black as night
Mercy! Mercy my Lord! For I am a sinner
Cast your blessed, merciful glance towards me
My salvation is secured, with nary a cost to You
Cast your blessed, merciful glance towards me
O black-shawled One
Cast your blessed, merciful glance towards me
By tasting the dregs of Your table, Khusrau's are born
By drinking from Your cup Jami's are created
Cast your blessed, merciful glance towards me
O Holy Prophet of God!
I, too, am but a servant of the servants of Your servants
Cast your blessed, merciful glance towards me
For You it's a single glance; for me, a question of my life
O, my Lord!
Cast your blessed, merciful glance towards me
I am afflicted, O messenger of Allah (PBUH) I am afflicted
O healer of hearts, cure my heartache
O black-shawled One!
O breeze, transport my soul to the land of Muhammad (PBUH)
So that I may sacrifice it in front of the Greatest among men (PBUH)
Even though You've blessed Jami once with Your benefaction
Pray, send Your blessings his way once more!
18/10/2022
You're now acting as M Hamza Tahir Kiani on Facebook.
30/11/2021
خاندان میں شادی کے زبردست دباؤ کی وجہ سے مجھے شادی کے لئے ایک خوبصورت لڑکی سے ملوایا گیا۔ ملنے کے بعد لڑکی نے میری پرائیویٹ نوکری کو لیکر نا پسند کرتے ہوئے مجھے انکار کر دیا۔ میں نے زچ ہو کر کہا تم غلطی کر رہی ہو، دیکھنا یہی نوکری محض دو سالوں میں مجھے کتنی بلندی تک پہنچائے گی۔البتہ ایک سال بعد اس لڑکی کی شادی ہوگئی جو ہونی ہی تھی۔
دو سال بعد اسی خوبصورت لڑکی کو نئی کار میں ایک ٹریفک سگنل پر دیکھا۔اس وقت میں اپنی بائک کو کک مار رہا تھا کیونکہ اس کی بیٹری کام نہیں کر رہی تھی۔اس نے اپنی کار سے میری طرف دیکھا لیکن سر پر ہیلمیٹ ہونے کی وجہ سے وہ مجھے پہچان نہ سکی اور دوسری طرف دیکھنے لگی۔
اس وقت مجھے ہیلمٹ کی اہمیت کا احساس ہوا، لہذا اپنی حفاظت کے لئے ہیلمیٹ ضرور پہنیں، جو آپ کو سر اٹھا کر جینے کی راہ دکھائے گا، کبھی شرمندگی کا احساس نہ ہونے دیگا۔
اور ہاں صرف فلموں میں ہی عاشق دو تین سال میں کروڑ پتی بن جاتے ہیں، اصل زندگی میں دو تین سالوں میں بدلاؤ کچھ زیادہ نہیں ہوتا۔ بس پرانی Honda 70 کی جگہ نئی Honda 125
آ جاتی ہے.
براہ مہربانی موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمیٹ کا استعمال ضرور کریں۔
30/11/2021
دسمبر آنے والا ہے
نومبر جانے والا ہے
بیقرار موسم میں
یاد کے جھروکوں سے
پھر تم ہی سے ملنے کی
دل میں کتنی خواہش ہے
آج کل نومبر کی
پھر اداس شامیں ہیں
اور دسمبر کہ آنے میں
وقت تھوڑا باقی ہے
ان اجاڑ آنکھوں میں
زرد زرد راتيں ہیں
اس سرد موسم میں
ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں
جب بھی یاد آتے ہو
Dedicated to
30/11/2021
مرد ایک ایسی ذات ہے ..🤗
کہ جس کے ساتھ اگر تھوڑی سی ہمدردی کی جائے
تھوڑی سی care کی جائے تھوڑا سا پیار دیا جائے
تھوڑی سی چاہت دی جائے
جب وہ دکھی ہو اسے حوصلہ دیا جائے اس کے اٹھنے بیٹھے کھانا پینے کا خیال رکھا جائے
اگر وہ کچھ کہہ بھی دے تو درگزر کی جائے
دنيا کا کوئی مرد بُرا ہو ہی نہیں سکتا
اللّٰہ تعالی نے عورت میں ایسی خوبی دی ہیں
کہ وہ مرد کے اندر سوئےحیوان کو بھی جگا سکتی ہے
اور سوئے فرشتے کو بھی
بس وہ عورت کے ہاتھ میں ہے
.کہ وہ مرد کو فرشتہ بنانا چاہتی ہے یاحیوان..
🤗🥰💫💫
29/11/2021
تمام احباب یہ تصاویر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں. قادیانیوں کا موجودہ خلیفہ 1999 میں ڈسٹرکٹ جیل جھنگ سے ریپ کیس میں ضمانت پر رہا ہو کر لندن بھاگ گیا تھا.
نوٹ:-
جس نے اسکو شیئر یا لائک کرنا ہے پلیز کمنٹ بکس میں ایک لعنت ضرور ڈال دیں تاکہ اسکی روح کو سکون ملتا رہے
شکریہ
03/09/2021
Last night Saw a girl and her mother riding bike at signal between F-11 and E-11. Two boys on another bike tried to harass them by hitting their bike from behind with their front wheel again & again. After seeing that, 2, 3 men from different cars came and warned both boys. Both escaped without even waiting for signal to be open.
This made my day. This is the moral responsibility of every man to stop evil things happening around them. This is what islam teaches us to stop by hand, by words or at least call it out.
Also, we need to normalise women riding bikes because only lower middle and poor ride bikes. And if women driving cars is totally normal, then why can't riding a bike for lower middle class be a normal thing?
📸 Mariem Bhutto
24/08/2021
مقام عبرت !پاکستان کےایک پراپرٹی ٹائیکون انتقال کر گئےجنہوںُ نے ہزاروں متاثرین کےاربوں روپے کے پلاٹ دینے تھے۔لواحقین نے خفیہ جنازہ تدفین کرنا چاہی مگر غریب متاثرین گھر پہنچ گئے۔ تدفین میں تاخیر۔ سچ کہا میرے رب “تمھیں کثرت مال کی ہوس نے غافل کر دیا یہاں تک کے قبروں تک جا پہنچے “