16/01/2024
#لاہور میں ’فکری نشاۃ ثانیہ‘ کے سلوگن تلے ، 2 دن تک کا پرچار اکیڈمک لبادے میں منعقد ہوگیا۔
پاکستان میں کی تیاری کے اگلے مرحلے یعنی دین سے بیزاری، #سیکولرازم کےساتھ #لادینیت کی ترویج کے لیے سرگرمیاں مستقل جاری ہیں۔ اس گھناؤنے کام کے لیے خوشنما لبادوں اور اکیڈمک اصطلاحات کا سہارا لیاجاتا ہے۔
اس پروگرام کے لیے بھی حکومت پنجاب ، یورپی یونین ، فرانسیسی حکومت، جرمن انسٹیٹیوٹ، امریکی تعلیمی فاؤنڈیشن نے خوب فنڈ دیا۔اس شیطانی ترتیب کا منتظم معروف مغربی ایجنٹ ابراہیم اختر مراد نامی شخص ہے۔
اس ایونٹ میں پرویز ہود بھائی، #ٹرانسجینڈر مہرب معیز، مزمل، رضا رومی، مشرف زیدی، نجم سیٹھی سمیت دنیا بھر سے سیکولر، لبرل شخصیات کو مختلف موضوعات پر بات کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ یونک اور ٹرانسجینڈر کو جس طرح ایک کرکے کتاب کی ترویج کی جا رہی ہے وہ بتاتی ہے کہ سارے موضوعات کو اکیڈمک لبادے چڑھا کر وہی بات کرائی گئی جس کے نتیجے میں پاکستان میں سیکولر، لبرل نظریات کا فروغ ہو سکے۔افسوس یہ ہے کہ دینی جماعتوں کے پاس ان سارے موضوعات پر نہ ہی بات کرنے والے افراد ہیں اور نہ یہ زہر ان کی ترجیح میں ہے، وہ سب اس وقت ملکی #الیکشن کی تیاری میں مصروف ہیں۔