16/01/2024
#لاہور میں ’فکری نشاۃ ثانیہ‘ کے سلوگن تلے ، 2 دن تک کا پرچار اکیڈمک لبادے میں منعقد ہوگیا۔
پاکستان میں کی تیاری کے اگلے مرحلے یعنی دین سے بیزاری، #سیکولرازم کےساتھ #لادینیت کی ترویج کے لیے سرگرمیاں مستقل جاری ہیں۔ اس گھناؤنے کام کے لیے خوشنما لبادوں اور اکیڈمک اصطلاحات کا سہارا لیاجاتا ہے۔
اس پروگرام کے لیے بھی حکومت پنجاب ، یورپی یونین ، فرانسیسی حکومت، جرمن انسٹیٹیوٹ، امریکی تعلیمی فاؤنڈیشن نے خوب فنڈ دیا۔اس شیطانی ترتیب کا منتظم معروف مغربی ایجنٹ ابراہیم اختر مراد نامی شخص ہے۔
اس ایونٹ میں پرویز ہود بھائی، #ٹرانسجینڈر مہرب معیز، مزمل، رضا رومی، مشرف زیدی، نجم سیٹھی سمیت دنیا بھر سے سیکولر، لبرل شخصیات کو مختلف موضوعات پر بات کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ یونک اور ٹرانسجینڈر کو جس طرح ایک کرکے کتاب کی ترویج کی جا رہی ہے وہ بتاتی ہے کہ سارے موضوعات کو اکیڈمک لبادے چڑھا کر وہی بات کرائی گئی جس کے نتیجے میں پاکستان میں سیکولر، لبرل نظریات کا فروغ ہو سکے۔افسوس یہ ہے کہ دینی جماعتوں کے پاس ان سارے موضوعات پر نہ ہی بات کرنے والے افراد ہیں اور نہ یہ زہر ان کی ترجیح میں ہے، وہ سب اس وقت ملکی #الیکشن کی تیاری میں مصروف ہیں۔
16/01/2024
اسرائیل مسلسل ساڑھے تین ماہ سے فلسطینیوں پر آگ برسا رہا ہے۔ بمبار طیارے سول آبادی پر ہی نہیں ہسپتالوں پر بھی اندھا دھند بمباری کر رہے ہیں۔ اُس کے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور دوسری بھاری مشینری سامنے آنے والی ہر شے کو پہیوں تلے روند کر کچل رہی ہے۔
عورتیں اور بچے خون میں نہا رہے ہیں اور اُن کے جسموں کے اعضا ہوا میں اچھل رہے ہیں۔ یہ المناک مناظر اور بچوں کی چیخ و پکار دنیا بھر میں لوگ گھروں میں بیٹھے ٹیلی ویژن اور موبائل پر دیکھ اور سن رہے ہیں۔
جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے مقدمے میں تمام شواہد بھرپور انداز میں پیش کیے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل کے معاون امریکہ اور برطانیہ نے یمن پر حملہ کر دیا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ شیطانی قوتیں مسلمان ممالک پر بڑی جنگ مسلط کر رہی ہیں۔ مسلمان ممالک کسی صورت بھی یمن کے حوثیوں کے خلاف فوجی اتحاد کا حصہ نہ بنیں ۔ خود بھی فلسطینی مسلمانوں کے دفاع کے لیے عملی اقدامات کریں اور جو کوئی بھی اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اس کے راستے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کریں ۔
26/10/2023
دشمن کے شدید ردِ عمل سے واقفیت کے باوجود مجا ہدین نے دشمن پر حملے کا فیصلہ کیو کیا
علامہ محمد بن محمد الاسطل (فلسطینی عالم دین)
میں ان لوگوں میں سے نہیں جو سوشل میڈیا پر چھڑنے والی ہر متنازع گفتگو کا جواب دینے کے لیے میدان میں اتر پڑتے ہیں، اس لیے کہ میں علمی مقام و منصب کا احترام ضروری سمجھتا ہوں اور میرا یہ ماننا ہے کہ غیر مفید یا محدود فائدہ والی باتوں میں وقت ضائع کرنے سے بچنا چاہیے۔
ایک دو دن پہلے بعض احباب کی طرف سے مجھ سے دریافت کیا گیا کہ : اس شخص کی رائے کے بارے میں آپ کا کیا جواب ہے جو یہ کہتا ہے کہ صہیونی دشمن کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں تاکہ اسے اتنے شدید ردِ عمل کا موقع نہ ملے۔
خاموشی کے اپنے أصول کو کنارے رکھتے ہوئے، اپنے احساسات کو سرسری طور پر رکھوں گا۔ اس وقت جو صورتِ حال ہے اس میں تفصیل سے جواب دینے کے لیے ذہنی یکسوئی میسر نہیں ہے۔
میں اس ضمن میں ذیل کے صرف چار اسباب آپ کےسامنے رکھتا ہوں۔
پہلی وجہ:
دشمن مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی، اسے یہودی شناخت دینے، اور ہیکل کی تعمیر کے اپنے ایجنڈے پر ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اپنے اس ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے ماضی میں دو یا تین سالوں میں وہ جو اقدامات کرتا تھا اب وہ دو تین ہفتوں میں ہی وہ سب پورا کر رہا ہے۔ ساتھ ہی اہلیانِ شہر القدس کو ذلیل و رسوا کرنے، ہراساں کرنے اور ان کے اہلِ علم و فضل کو جیلوں میں بھرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
صرف یہی نہیں، اس کی حرکتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ اب وہ مسجدِ اقصیِ میں نماز سے لوگوں کو روک رہا ہے، اس کی رکاوٹوں کی وجہ سے لوگ نماز کے لیے مسجد تک نہیں پہونچ سکتے۔ مسجد کے اندر تقریبا 50 علمی حلقے منعقد ہوتے تھے لیکن اب سالوں سے ان پر بھی پابندی عائد ہے۔
مجاہد ین کے آپریشن سے چند دن پہلے تقریبا 5 ہزار صہیونیوں نے مسجدِ اقصیٰ میں گھس کر اس کی بے حرمتی کی۔ کئی دنوں سے ان کی یہی حرکات جاری تھیں۔ مسجد کی بے حرمتی کے ایسے مظاہر گزشتہ بیس سالوں میں بھی سامنے نہیں آئے تھے۔ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی، اور اسے یہودی رنگ دینے کی بڑھتی ہوئی حرکتوں کے رد میں مجاہدین نے اپنے آپریشن کو انجام دیا۔ معرکہ کے نام "طوفان الاقصیٰ" سے ہی اس کا مقصود ظاہر ہوتا ہے۔
دوسری وجہ:
دشمن ہمیں گزشتہ پندرہ سالوں سے دھیرے دھیرے موت کی طرف ڈھکیلنے کے اپنے منصوبے پر کار بند ہے. ہمارے درمیان نوجوانوں کی ایک پوری نسل ایسی ہے جس نے اسی بحران کے درمیان آنکھ کھولی ہے۔ بیس، تیس سال کی عمر کو پہونچے ہوئے اکثر نوجوان زندگی کے ہر گوشے سے دور، روزگار سے محرومی کی زندگی جی رہے ہیں، وہ اپنی تعلیم پوری نہیں کر سکتے، شادی نہیں کر سکتے، گھر نہیں بنا سکتے اور انہیں کوئی روزگار بھی نہیں ملتا۔ ان سب کا نتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ میں طرح طرح کی سماجی مشکلات پھیل چکی ہیں، بے روزگاری ہے کہ بڑھتی ہی جا رہی ہے، شادیوں کا سلسلہ رکا سا ہوا ہے، یوں سمجھیں کہ سماجی اور معاشی مسائل کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے۔
قریبی دنوں میں دسیوں ہزار کی تعداد میں نوجوانوں نے اس امید پر مغربی ممالک کی طرف ہجرت کی کوشش کی کہ انہیں زندگی گزارنے کے لیے روزگار کے کچھ مواقع میسر آئیں گے۔ وہ ایک مشکل سے نکل کر دوسری مشکل کی طرف جانا چاہتے تھے لیکن بحری راستے میں ایسے دسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں نوجوان سمندر اور مچھلی کا لقمہ بن گئے۔
تیسری وجہ
ہمارے جو افراد دشمن کی قید میں ہیں ان کے ساتھ اس کا رویہ وحشیانہ ہے، وہ ایسی شدید اذیتوں کا سامنا کر رہے ہیں کہ گویا ہر دن کئی کئی بار موت کی چکی میں پیسے جا رہے ہیں۔ آپ تصور کریں کہ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو ڈیڑھ میٹر کے سیل میں 13 سالوں سے قید ہیں، کچھ قیدیوں کو براز و گندگی سے لت پت سیل میں ڈالا جاتا ہے۔ وہ درد و الم کا مارا، نفسیاتی اذیت سے دوچار قیدی دو تین دن تک لگ کر اس کی صفائی کرتا ہے کہ اس کے بعد اس میں رہ سکے، اس دوران اس کے کپڑے اتارے جاتے ہیں، اسے زدو کوب بھی کیا جاتا ہے۔ پھر جب سیل صاف ہو جاتا ہے تو اسے اسی طرح کے دوسرے گندے سیل میں منتقل کر دیا جاتا ہے تاکہ اذیت کا وہی سلسلہ پھر شروع ہو۔
ماضی قریب میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والا اذیت ناک سلوک برداشت کی حدوں سے بھی باہر جا چکا ہے۔ ان میں یہ إحساس پیدا ہونے لگا ہے کہ امت انہیں بھول بیٹھی ہے، کسی کو ان کی مصیبت اور ان کے حالات کی فکر نہیں بلکہ کسی کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ان کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے۔
صہیونی حکومت کے اندر بن غفیر اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی قیادت میں انتہا پسند یہودیوں کی مضبوط گرفت کی وجہ سے قیدیوں کی زندگی کو اس طرح جہنم بنا دیا گیا ہے کہ عملا ان کے لیے یہ سب وہ نا قابلِ برداشت ہو چکا ہے۔
گزشتہ مہینوں سے یہ آواز اٹھ رہی تھی کہ ان قیدیوں کی رہائی اور اس جہنم سے ان کی آزادی کے لیے جد وجہد ضروری ہے۔
اس مصیبت میں ہماری قیدی بہنوں کی اذیت کا اضافہ بھی کر لیجیے۔ ہماری بہنوں کو رسوا کیا جا رہا ہے، ان کے دین، ان کی عفت، اور ان کی حیا کوجس طرح تار تار کیا جا رہا ہے میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔
ایسے مرحلہ میں مجاہدین نے آپریشن کیا تاکہ مظالم کے اس لا متناہی سلسلے پر بند باندھا جائے۔
چوتھی وجہ
مزاحمتی حلقوں کی طرف سے یہ وضاحت آ چکی ہے کہ انہیں موصول خفیہ معلومات کی روشنی میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ دشمن غزہ کو تباہ کرنے کے لیے اس کے خلاف ایک بھر پور حملہ کی تیاری کر رہا ہے۔ چنانچہ مزاحمتی قوت نے یہ طئے کیا کہ دشمن کو اچانک حملہ کا موقع نہیں دینا چاہیے، اچانک حملہ کر کے دشمن جو اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے اسے روکنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ اس کارروائی کا آغاز خود مزاحمتی قوت کی طرف سے اچانک ہو نہ کہ دشمن کی طرف سے۔
چنانچہ مجاہدین نے ایک ساتھ کئی مقاصد اور اہداف کو سامنے رکھتے ہوئے بھر پور کارروائی کی۔
ہم 2014 میں اسی قسم کا تجربہ دیکھ چکے ہیں۔ اس وقت بھی مزاحمتی قوت کو جب یہ اندازہ ہو گیا کہ دشمن غزہ کو تباہ کرنے کے لیے حملے کی تیاری کر رہا ہے تو انہوں نے جنگ کا رسمی اعلان کیے بغیر دو دنوں کے اندر دسیوں میزائل سے دشمن کو نشانہ بنایا تاکہ وہ اپنے منصوبہ سے پہلے ہی جنگ میں داخل ہونے پر مجبور ہو اور اچانک حملہ کر کے دشمن اپنے جو مقاصد پورا کرنا چاہتا ہے (، مثلا اہم قائدین کو قتل کرنا یا سینکڑوں مجاہدین کو ان کی تربیتی مشقوں کے درمیان گرفتار کرنا وغیرہ، ) انہیں پورا نہ کر سکے۔
میں نے جنگی جہازوں اور میزائلوں کی گھن گرج کے درمیان جلدی میں یہ چار أسباب بیان کیے ہیں۔
پھر یہ بھی عرض کروں کہ دشمن کے مقابلے میں کھڑے لوگ اپنے أحوال سے بہتر واقف ہیں، جو ان أحوال سے واقف نہ ہو اسے چاہیے کہ وہ کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے صحیح صورتِ حال دریافت کر لے۔ یہی حکمت کا تقاضہ ہے۔ اور جو وطن سے دور ہو اس پر ایسی کوئی پابندی نہیں کہ وہ ملکی معاملات میں فتویٰ نہیں دے سکتا، البتہ ضروری ہے کہ پہلے وہ حصول معلومات کے ممکنہ ذرائع کا استعمال کر لے کیونکہ فتویٰ کے لیےیہ ایک ضروری شرط ہے۔
میں بہت ہی گھٹن کے ساتھ یہ سطور قلم بند کر رہا ہے۔ جب معرکہ برپا ہو اس وقت ہمیں دستِ تعاون بڑھانا چاہیے نہ کہ تنقید اور محاسبہ کے تیر چلانے چاہیے۔ جو لوگ صہیونی بیانیہ پر تکیہ کرنے والے استبدادی حکمرانوں کے بیانیہ کو درست سمجھتے ہوں وہ ان وضاحتوں سے بھی مطمئن نہیں ہو سکتے بلکہ یہ لوگ ہر اس شخص کے رد کے لیے تیار رہیں گے جو انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ اسی کی بات درست مانی جائے ۔ لہذا اس قسم کی بحثوں میں الجھنے کا کوئی بڑا فائدہ نہیں۔
ہم نے برسہا برس سے ایسے تماش بیں لوگوں کو دیکھا ہے جن کے بارے میں رسول اللہ کی فرمودات میں ہمیں پہلے ہی بتا دیا گیا ہے. ہمیں نصوص میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ محاذوں پر ڈٹنے والوں کو اللہ کے حکم سے نہ تو ان کے مخالفین نقصان پہونچا سکیں گے اور نہ ہی ان کو بے یار مددگار چھوڑ کر تماشہ دیکھنے والے.
مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ کچھ لوگوں کو اس پر کوئی دکھ نہیں ہوتا کہ پوری کی پوری قوم ذلت، رسوائی، فقر، اور مظلومیت کے دلدل میں ہے، انہیں قید و بند کی زنجیروں نے جکڑ رکھا ہے، مسجد اقصٰی کی حرمت پامال ہو رہی ہے، ہمارے قیدیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک ہو رہا ہے. ان کے نزدیک یہ سب فطری اور معمول کی باتیں ہیں، ان سب کے ساتھ جینا سیکھ لینا چاہیے.
مجھے نہیں معلوم کہ وہ باطل کہاں ہے جو تمہیں اس کی اجازت دے دے گا کہ تم اسے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کرو اور پھر اس پر خاموش رہ کر تم سے محبت اور مہربانی کے ساتھ پیش آتا رہے.
اللہ جل جلالہ سے بس یہی فریاد ہے کہ الٰہی ہم کمزور ہیں ہماری مدد فرما، ہم محتاج اور تیری عنایت کے طلبگار ہیں ہم پر کرم فرما، ہم عاجز ہیں ہمیں غلبہ و قوت عطا فرما، ہم رسوائی سے دو چار ہیں ہمیں عزت و اقتدار عطا فرما، کسی بھیافواہ پھیلانے والے اور ساتھ چھوڑ کر بھاگنے والے کے احسان سے ہمیں بچا.
والله غالبٌ على أمره ولكن أكثر الناس لا يعلمون. اللہ اپنے معاملے پر غالب آ کر رہنے والا ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے..
اتوار 30-ربیع الاول -1445 هـ،
الموافق 15-10-2023
معرکہء طـ.ـوفـ.ـان الأقصـ.ـى کا نواں دن
(ترجمہ : اشتیاق عالم فلاحی)
25/10/2023
آپ کے بچے بھلے آپ سے پوچھیں یا نا پوچھیں، آپ انہیں یہ ضرور بتایا کیجیئے کہ ہم فلسطین سے اس لیئے محبت کرتے ہیں کہ:
01: یہ فلسطین انبیاء علیھم السلام کا مسکن اور سر زمین رہی ہے۔
02: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی۔
03: اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو اس عذاب سے نجات دی جو ان کی قوم پر اسی جگہ نازل ہوا تھا۔
04: حضرت داؤود علیہ السلام نے اسی سرزمین پر سکونت رکھی اور یہیں اپنا ایک محراب بھی تعمیر فرمایا۔
05: حضرت سلیمان علیہ اسی ملک میں بیٹھ کر ساری دنیا پر حکومت فرمایا کرتے تھے۔
06: چیونٹی کا وہ مشہور قصہ جس میں ایک چیونٹی نے اپنی باقی ساتھیوں سے کہا تھا "اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھس جاؤ" یہیں اس ملک میں واقع عسقلان شہر کی ایک وادی میں پیش آیا تھا جس کا نام بعد میں "وادی النمل – چیونٹیوں کی وادی" رکھ دیا گیا تھا۔
07: حضرت زکریا علیہ السلام کا محراب بھی اسی شہر میں ہے۔
08: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی ملک کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ اس مقدس شہر میں داخل ہو جاؤ۔ انہوں نے اس شہر کو مقدس اس شہر کے شرک سے پاک ہونے اور انبیاء علیھم السلام کا مسکن ہونے کی وجہ سے کہا تھا۔
09: اس شہر میں کئی معجزات وقوع پذیر ہوئے جن میں ایک کنواری بی بی حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت مبارکہ بھی ہے۔
10: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب اُن کی قوم نے قتل کرنا چاہا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں اسی شہر سے آسمان پر اُٹھا لیا تھا۔
11: ولادت کے بعد جب عورت اپنی جسمانی کمزوری کی انتہاء پر ہوتی ہے ایسی حالت میں بی بی مریم کا کھجور کے تنے کو ہلا دینا بھی ایک معجزہ الٰہی ہے۔
12: قیامت کی علامات میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر واپس تشریف اسی شہر کے مقام سفید مینار کے پاس ہوگا۔
13: اسی شہر کے ہی مقام باب لُد پر حضرت عیسٰی علیہ السلام مسیح دجال کو قتل کریں گے۔
14: فلسطین ہی ارض محشر ہے۔
15: اسی شہر سے ہی یاجوج و ماجوج کا زمین میں قتال اور فساد کا کام شروع ہوگا۔
16: اس شہر میں وقوع پذیر ہونے والے قصوں میں سے ایک قصہ طالوت اور جالوت کا بھی ہے۔
17: فلسطین کو نماز کی فرضیت کے بعد مسلمانوں کا قبلہ اول ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ہجرت کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام دوران نماز ہی حکم ربی سے آقا علیہ السلام کو مسجد اقصیٰ (فلسطین) سے بیت اللہ کعبہ مشرفہ (مکہ مکرمہ) کی طرف رخ کرا گئے تھے۔ جس مسجد میں یہ واقعہ پیش آیا وہ مسجد آج بھی مسجد قبلتین کہلاتی ہے۔
18: حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم معراج کی رات آسمان پر لے جانے سے پہلے مکہ مکرمہ سے یہاں بیت المقدس (فلسطین) لائے گئے۔
19: سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی اقتداء میں انبیاء علیھم السلام نے یہاں نماز ادا فرمائی۔ اس طرح فلسطین ایک بار پھر سارے انبیاء کا مسکن بن گیا۔
20: سیدنا ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ زمین پر سب سے پہلی مسجد کونسی بنائی گئی؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد الحرام(یعنی خانہ کعبہ)۔ میں نے عرض کیا کہ پھر کونسی؟ (مسجد بنائی گئی تو) آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ (یعنی بیت المقدس)۔ میں نے پھر عرض کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ چالیس برس کا اور تو جہاں بھی نماز کا وقت پالے ، وہیں نماز ادا کر لے پس وہ مسجد ہی ہے۔
21: وصال حبیبنا صل اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ارتداد کے فتنہ اور دیگر
کئی مشاکل سے نمٹنے کیلئے عسکری اور افرادی قوت کی اشد ضرورت کے باوجود بھی ارض شام (فلسطین) کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تیار کردہ لشکر بھیجنا بھی ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے۔
22: اسلام کے سنہری دور فاروقی میں دنیا بھر کی فتوحات کو چھوڑ کر محض فلسطین کی فتح کیلئے خود سیدنا عمر کا چل کر جانا اور یہاں پر جا کر نماز ادا کرنا اس شہر کی عظمت کو اجاگر کرتا ہے۔
23: دوسری بار بعینہ معراج کی رات بروز جمعہ 27 رجب 583 ھجری کو صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں اس شہر کا دوبارہ فتح ہونا بھی ایک نشانی ہے۔
24: بیت المقدس کا نام قدس قران سے پہلے تک ہوا کرتا تھا، قرآن نازل ہوا تو اس کا نام مسجد اقصیٰ رکھ گیا۔ قدس اس شہر کی اس تقدیس کی وجہ سے ہے جو اسے دوسرے شہروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اس شہر کے حصول اور اسے رومیوں کے جبر و استبداد سے بچانے کیلئے 5000 سے زیادہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے جام شہادت نوش کیا۔ اور شہادت کا باب آج تک بند نہیں ہوا، سلسلہ ابھی تک چل رہا ہے۔ یہ شہر اس طرح شہیدوں کا شہر ہے۔
25: مسجد اقصیٰ اور بلاد شام کی اہمیت بالکل حرمین الشریفین جیسی ہی ہے۔ جب قران پاک کی یہ آیت (والتين والزيتون وطور سينين وهذا البلد الأمين) نازل ہوئی ّ تو ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم نے بلاد شام کو "التین" انجیر سے، بلاد فلسطین کو "الزیتون" زیتون سے اور الطور سینین کو مصر کے پہاڑ کوہ طور جس پر جا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ پاک سے کلام کیا کرتےتھے سے استدلال کیا۔
26: اور قران پاک کی یہ آیت مبارک (ولقد كتبنا في الزبور من بعد الذكر أن الأرض يرثها عبادي الصالحون) سے یہ استدلال لیا گیا کہ امت محمد حقیقت میں اس مقدس سر زمین کی وارث ہے۔
27: فلسطین کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے یہاں پر پڑھی جانے والی ہر نماز کا اجر 500 گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے۔
25/10/2023
القسام بریگیڈز کی جانب سے رہا ہونے والی قیدی یوشیویڈ لیفشٹز:
"جب ہم غزہ پہنچے تو انہوں نے ہمیں سب سے پہلے بتایا کہ وہ قرآن پر یقین رکھتے ہیں اور وہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ وہی سلوک کریں گے، جیسا کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں سے کرتے ہیں۔ ہم سخت حفاظت میں تھے۔ ایک ڈاکٹر بھی آیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ہمارے پاس ہمیشہ وہ دوائیں موجود رہیں جو ہم لیتے ہیں۔ وہ صحت کے پہلو میں بہت دلچسپی رکھتے تھے،" ہر دو یا تین دن بعد ایک اتاشی آتا تھا، یہ جاننے کیلئے کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔
وہ بہت مہربان تھے، اور اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ ہم نے اچھا کھایا۔ ہم نے ان جیسا ہی کھانا کھایا۔ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا، اور انہوں نے ہر تفصیل پر توجہ دی۔ ان کے ساتھ خواتین بھی تھیں جو نسوانی حفظان صحت کا مطلب جانتی تھیں۔
حماس نے ہر چیز کی منصوبہ بندی کی، ایک طویل عرصے تک، انہوں نے شیمپو اور کنڈیشنر سمیت ہماری ضرورت کی ہر چیز تیار کی- فوج اور شن بیٹ کی اہلیت کی کمی نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا، ہمیں حکومت کے لیے قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ "
25/10/2023
غزہ کی پچیس میل لمبی اور تقریباً سات میل چوڑی پٹی کے دو طرف اسرائیل ، ایک طرف سمندر ۔۔ اور ایک طرف مصر ہے ۔۔ جو ایک راستہ مصر کی طرف ہے وہاں بھی جنرل سیسی کی حکومت درحقیقت اسرائیل کی حکومت ہی ہے اور وہاں رفاح کراسنگ سے خالی ہاتھ غزہ کے اندر جانا اور باہر نکلنا بھی دشوار کام ہے ۔۔ غزہ پر پچھلے سولہ سال سے اسرائیل اور مصر کے اشتراک سے “غزہ بلاکیڈ” کے نام سے پابندیاں عائد ہیں جن کے تحت یہاں ادویات ، عمارتیں بنانے کے سامان سے لے کر پنسل کاغذ اور لائیو سٹاک تک لے جانے پر پابندی ہے ۔۔۔ بہرحال مصر مسلمانوں کا ملک ہے ۔۔
غزہ کے آگے سمندر ہے اور پیچھے اسرائیل ۔۔ اور سمندر بھی بین الاقوامی حدود شروع ہونے تک اسرائیل کے کنڑول میں ہے ۔۔ گویا اسرائیل نے اسے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے ۔۔ اسرائیل کے وسط میں ویسٹ بینک یعنی فلسطین کا باقی حصہ ہے جو چاروں طرف سے اسرائیل کے کنٹرول میں ہے ۔۔
فلسطین کو دیکھ لیا ۔۔ اب نقشے کو زووم آوٹ کر کے اسرائیل کو دیکھیں ۔۔ مغرب میں سمندر ہے اور غزہ کی پٹی ہے ۔ مشرق میں اردن ، شمال میں شام اور لبنان ، جنوب میں مصر ۔۔ اور یہ سب اسلامی ملک ہیں ۔۔۔ تھوڑا اور زوم آوٹ کریں تو اسرائیل بھی مراکش سے لے کر تیونس، الجیریا، لیبیا، مصر ، سوڈان، اردن، سعودی عرب ، یمن ، اومان، متحدہ عرب امارات ، کویت ، بحرین، قطر، عراق، شام لبنان ، ترکی ، آزربائجان ، ایران ، ترکمانستان ، افغانستان، ازبکستان، تاجکستان، اور پاکستان تک ۔۔۔۔ مسلمان ممالک کے گھیرے میں ہے ۔۔۔
اس تصویر میں جو سرخ نقطہ ہے یہ اسرائیل ہے اور اس نقطے کو زووم اِن کریں تو سبز نقطہ غزہ کی پٹی ہے ۔۔ یعنی جس طرح فلسطین جغرافیائی طور پر اسرائیل کی گرفت میں ہے ، اسی طرح اسرائیل بھی مکمل طور پر مسلمان ممالک کی گرفت میں ہے ۔اسرائیل کے چاروں طرف اتنی بڑی مسلمان آبادیوں والے ملک جو تیل اور قدرتی وسائل سے اتنے مالامال ہیں کہ ان کے اردگرد بسنے والی دنیا اگر انکا گھیراو کر کے ان کا “بلاکیڈ” بھی کر دے تو ان کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا ۔۔
اب نقشہ دیکھ کر سوال یہ ہے کہ فلسطینی مسلمانوں پر ظلم اسرائیل کر رہا ہے یا اسرائیل کے اردگرد آباد مسلمان ملک ؟ ان کی نسل کشی کی ذمے داری کس پر آتی ہے؟
تحریر: عائشہ غازی صاحبہ
18/10/2023
یہ فلسطینی بچی پوچھ رہی ہے کہ۔۔
مسلمان کہاں ہیں۔۔؟
ان کےحکمران کہاں ہیں۔۔۔؟
ان کی افواج کہاں ہیں۔۔۔؟
اللہ ان حکمرانوں کو، ان جنرلز کو،ان کے چاپلوسی کرنےوالوں کو سب کو غرق کرے۔ ان میں شرم نہیں ان میں حیاء نہیں ان میں غیرت نہیں،ان میں خدا کا خوف نہیں۔۔
14/10/2023
آبادی میں ڈیڑھ اَرب ہوکر بھی "ابابیلوں" کے منتظر مسلمان چاہتے ہیں کہ "ابابیل" آئیں اور 80 لاکھ اسرائیلیوں سے ہماری جان چھڑوائیں ، بخداٰ آج اگر "ابابیل" آ بھی جائیں تو وہ اپنے کنگر یہودیوں کو نہیں بلکہ مسلمانوں کو ماریں.
(نجم الدین اربکان)
11/10/2023
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایسا وقت آنے والا ہے کہ دوسری امتیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو بلائیں گی جیسے کہ کھانے والے اپنے پیالے پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔
تو کہنے والے نے کہا : کیا یہ ہماری ان دنوں قلت اور کمی کی وجہ سے ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : (نہیں) بلکہ تم ان دنوں بہت زیادہ ہو گے، لیکن جھاگ ہو گے جس طرح کہ سیلاب کا جھاگ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں ’’وهن‘‘ ڈال دے گا۔
پوچھنے والے نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! وهن سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا: دنیا کی محبت اور موت کی کراہت.
(سنن ابوداؤد : 4297)