Hafiz Online Quran Teaching Academy

Hafiz Online Quran Teaching Academy

Share

We have qualified and experienced male and female staff for Teaching.
3 day free trials. Contact us for any queries.

26/12/2024
16/07/2024

I gained 5 followers and created 1 post in the past 90 days! Thank you all for your continued support. I could not have done it without you. 🙏🤗🎉

قناۃ مقامات ٢ 18/09/2023

۔
علم النغمات اور قرآن کریم کے لہجات کو سیکھنے سے پہلے جو چیز سب سے اہم اور ضروری ہے، وہ ہے قرآن مجید کو اچھی طرح تجوید سے پڑھنا اور اس کی تلاوت کے دوران تجوید کے تمام قواعد کا مکمل خیال رکھنا۔ اگر کوئی شخص قرآن مجید کی تجوید سے ادائیگی میں کمزور ہے تو وہ پہلے تجوید سیکھے، قرآن کے حروف کے ادائیگی میں درستگی اور پختگی پیدا کرے، اس کے بعد نغمات اور لہجات سیکھے
*تعارف* *
اس وقت دنیا میں خطوں کے اعتبار سے تلاوت میں تین ان انداز یا لہجات رائج اور مشہور ہیں ۔
*1- مصری لہجہ*
*2- حجازی لہجہ*
*3- عراقی لہجہ*
ان تینوں خطوں میں تلاوت کے اندر مقامات پڑھنے کا اپنا الگ انداز ہے جس کو سن کر کہا جاتا ہے کہ یہ مصری لہجہ ہے، یہ حجازی اور یہ عراقی ۔( ان کی مکمل تفصیل اور باہمی اختلاف ان شاءاللہ کسی وقت پیش کی جائے گی)
اس کے علاوہ بھی کئی ایک انداز ہیں لیکن وہ اپنے علاقے اور ان کے بعض قراء تک ہی محدود ہے ۔ جیسے کہ ہمارے ہاں پانی پتی انداز تلاوت اور لہجہ مشہور ہے ۔ واللہ اعلم
یہ آٹھ مقامات، جنہیں عرف عام میں مقاماتِ صوتی یا مقاماتِ موسیقی اور فن تلاوت میں مقاماتِ قرآنی کا نام دیا جاتا ہے ، مختصراً *” صنع بسحرك ”* کے علامتی مجموعے میں اکٹھے کر دیے گئے ہیں ۔جس کا ہر کلمہ ایک خاص مقام کی جانب اشارہ کرتا ہے ( صبا ، نہاوند، عجم ، بیات، سیکا، حجاز ، رست، کرد)۔ ان میں سے ہر مقام آواز کے اتار چڑھاؤ ، انداز و اسلوب اور آواز کے درمیانی فاصلوں کے بُعد یا قرب کی بنا پر مزید کئی ذیلی شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے ۔عربی زبان کا مشہور مقولہ ” لکل مقام مقال ” ذہن میں رکھتے ہوئے یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ ہر مقام ہر آیت کی تلاوت کے لیے نہیں ہوتا بلکہ آیات کے معانی اور مضامین کے اعتبار سے مختلف مقامات ہو سکتے ہیں۔ پس قاری، دورانِ تلاوت ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل ہو سکتا ہے مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ ۔ سو یہ مہارت ہر قاری کے بس کی بات نہیں ۔ بہت سے حضرات اس میں چوک جاتے ہیں ۔
*1۔مقامِ بیات:۔*
یہ سب سے آسان اور ابتدائی مقام ہے اسکی تاثیر پرسکون گہرے سمندر کے مماثل ہے ۔ بیات کو مقامات میں بنیادی حیثیت حاصل ہے جس سے بقیہ مقامات پھوٹتے ہیں ۔ قراء حضرات اپنی قرآت کا آغاز و اختتام عموما اسی مقام سے کرتے ہیں۔ ایک عام آدمی بھی عام طور اپنی تلاوت میں اسی مقام کی پیروی کر رہا ہوتا ہے
*2۔مقامِ رست:۔*
یہ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی استقامت اور جماو کے ہیں ۔ اسے بہت قوت اور شدت سے ادا کیا جاتا ہے شیر کی دھاڑ اسکی عمومی مثال ہے جس میں ایک مخصوص شدت اور زور پایا جاتا ہے۔ عام طور پر قراء حضرات تلاوت کا آغاز بیات سے کر کے فوراً رست پر چلے جاتے ہیں۔ سعودی قراء خصوصا سدیس، حذیفی اور محیسنی وغیرہ عموما اسی مقام کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں۔ رست کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ قاری تلاوت کا آغاز بہت قوت و شدت سے کرے پھر آہستہ آہستہ اپنی آواز اور لہجے کو سکون اور ٹھہراؤ کی طرف لے آئے۔
شیخ منشاوی کی ” الم تر كيف فعل ربك بأصحاب الفيل” کی تلاوت اور قاری عبدالباسطؒ کی زبانی “إذا الشمس كورت ” مقام رست کو سمجھنے کیلیے مددگار ہیں ۔
*3۔مقام عجم:۔*
یہ مقام بیک وقت حزن ، شدت ، نرمی اور امید کے تاثرات کا مجموعہ ہے ۔ قاری عبدالباسطؒ عجم کے تحت درج ذیل آیات کی تلاوت کرتے ہیں :
” و مريم عمران التى احصنت فرجها …………… …….الخ ”
پاکستان میں مروج محافل حسن قرات میں بھی زیادہ تر یہی مقام سننے کو ملتا ہے۔
*4۔ مقامِ نہاوند:۔*
ایران کے شہر نہاوند سے منسوب یہ مقام خوشی و غم ، خوف و رجا، محبت و عاطفت کے جذبات کی ادائیگی کیلیے موزوں ترین ہے۔ قاری عموما اس میں آواز کی پہلی سیڑھی پر چڑھتا ہے اور آخری تک جا پہنچتا ہے پھر اسی رفتار سے آواز کا سفر نیچے کی جانب شروع کر دیتا ہے ۔قاری عفاسی اور شاطری اپنی تلاوت میں اسی مقام کو پیش نظر رکھتے ہیں ۔
قاری عبدالباسطؒ نے زندگی بھر کوئی ایک آیت بھی اس مقام کی پیروی میں نہیں پڑھی جبکہ شیخ منشاوی کا اسکی جانب شدید جھکاو کی وجہ سے پہچان ہی یہی مقام ہے۔
*5۔مقامِ صبا:۔*
یہ درد و غم اور آنسوؤں میں ڈھالنے والا مقام ہے اسکی سب سے خوبصورت ادائیگی شیخ عبدالباسط عبدالصمد کے ہاں ملتی ہے جو ایک ہی نشست میں بار بار اس مقام کی جانب پلٹتے ہیں۔قیامت کی ہولناکیوں کے ذکر پر مشتمل آیات کی تلاوت کیلیے یہ مقام بہترین سمجھا جاتا ہے۔خالد القحطانی کے علاوہ شیخ محمد رفعت اور شیخ المنشاوی کے ہاں بھی اسکی پیروی بکثرت ملتی ہے۔
*6۔مقامِ سیکا* :۔
یہ مقام آہستہ روی اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں تلاوت کیلیے مخصوص ہے ۔ عموما قاری ان آیات کی تلاوت میں اسکی پیروی کرتا ہے جن میں دو متضاد چیزوں کا ذکر ایک ہی جگہ پر ہو۔
جیسے ایک جانب خوشی کا ذکر ہے اور ساتھ ہی غم کا ۔ اگر قاری اسکی ادائیگی مہارت سے کرنے پر قادر ہو تو یہ سامع کا دل چیر کر رکھ دیتا ہے ۔قاری عبدالباسط نے پوری زندگی میں صرف ایک مقطع اس مقام کی پیروی میں پڑھا ہے ۔
” قدأفلح من زكاها و قد خاب من دساها……………. الخ”
*7۔ مقامِ حجاز:۔*
یہ خوبصورت ترین اور مشکل ترین مقام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بقیہ مقامات کے برعکس ( جو عجمی الاصل ہیں) یہ مقام عربی الاصل ہے۔یہ شدید حزن و الم ، آواز کی پوری قوت لیکن انتہائی عاجزی سے ادا ہونے والا مقام ہے۔ اسکی ادائیگی میں جو مشقت اور مہارت درکار ہے وہ ہر قاری کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے عموما بڑے بڑے قراء بھی اس مقام کی بلا تکلف پیروی سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ایک ایک گھنٹے کی تلاوت کے دوران میں قاری اسے صرف ایک آدھ آیت کی تلاوت میں برتتے نظر آتے ہیں سوائے شیخ عبدالباسط کے جو سورہ مریم کی تلاوت کے دوران پہلے ” و حنانا من لدنا و زكوة……….. و يوم يبعث حيا” کی تلاوت میں اسکی پیروی کرتے ہیں اور پھر آگے “فحملته فانتبذت به مكانا قصيا…………. نسيا منسيا ” کی تلاوت میں پھر اسی کی جانب لوٹ آتے ہیں۔

قناۃ مقامات ٢ WhatsApp Group Invite

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Islamabad