Ghazi Students Organization -GSO

Ghazi Students Organization -GSO

Share

This page is only for educational purposes.We welcome everyone new followers here
Knowledge is Power

02/08/2024

"Congratulations to Zakirya (s/o Ejaz Hussain) and Mudasir (s/o Ismail) on your admission to Uswa College Islamabad! Wishing you both a successful and bright future ahead!"

15/07/2024

Many many congratulations to the students of Sooq Balghar to pass their Matriculation examination with good marks
1. Mudasir Ismail
2. Zariya
3. Ikhlak
4. Muhtasim
5 . Aqeela Farman
6. Riaz Kolovi
7. Rafaqat Hussain
8. Himayat
9. Qamar Abbas
10.Farhan Botooo
All the students who are not mention here
Keep it up you are our future

06/07/2024

Batool daughter of Ghulam and sister of Nawaz Bhai to get 2nd Position in her Board Examination

06/07/2024

Salma Batool daughter of Ghulam and sister of Nawaz Bhai to get 2nd Position in her Board Examination

28/06/2024
26/06/2024

(صدقہ)
یہ ہے جان ڈی راک فیلر یہ کبھی دنیا کے امیر ترین آدمی تھے۔ دنیا کا پہلا ارب پتی۔ 25 سال کی عمر میں، اس نے امریکہ کی سب سے بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک کو کنٹرول کیا۔ 31 سال کی عمر میں، وہ دنیا کا سب سے بڑا تیل صاف کرنے والا بن گیا تھا۔ 38 سال کی عمر میں، اس نے امریکہ میں 90 فیصد تیل کو صاف کیا۔
50 تک، وہ ملک کا سب سے امیر آدمی تھا۔ ایک نوجوان کے طور پر، ہر فیصلہ، رویہ، اور رشتہ اس کی ذاتی طاقت اور دولت پیدا کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا.

لیکن 53 سال کی عمر میں وہ بیمار ہو گئے۔ اس کا پورا جسم درد سے لرز گیا اور اس کے سارے بال جھڑ گئے۔ مکمل اذیت میں، دنیا کا واحد ارب پتی اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی خرید سکتا تھا، لیکن وہ صرف سوپ اور کریکر ہضم کر سکتا تھا۔ ایک ساتھی نے لکھا، وہ سو نہیں سکتا تھا، مسکرا نہیں سکتا تھا اور زندگی میں کوئی بھی چیز اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ اس کے ذاتی، انتہائی ماہر ڈاکٹروں نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ ایک سال کے اندر مر جائے گا۔ وہ سال اذیت سے آہستہ آہستہ گزر گیا۔

جب وہ موت کے قریب پہنچا تو وہ ایک صبح اس مبہم احساس کے ساتھ بیدار ہوا کہ وہ اپنی دولت میں سے کچھ بھی اپنے ساتھ اگلے جہان میں لے جانے کے قابل نہیں ہے۔ وہ آدمی جو کاروباری دنیا کو کنٹرول کر سکتا تھا، اچانک احساس ہوا کہ وہ اپنی زندگی کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ اس کے پاس ایک انتخاب رہ گیا تھا۔

اس نے اپنے اٹارنی، اکاؤنٹنٹ، اور مینیجرز کو بلایا اور اعلان کیا کہ وہ اپنے اثاثوں کو ہسپتالوں، تحقیق اور خیراتی کاموں میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
جان ڈی راک فیلر نے اپنی فاؤنڈیشن قائم کی۔ یہ نئی سمت بالآخر پینسلین کی دریافت کا باعث بنی، ملیریا، تپ دق اور خناق کا علاج۔

لیکن شاید راک فیلر کی کہانی کا سب سے حیرت انگیز حصہ یہ ہے کہ جس لمحے اس نے اپنی کمائی ہوئی تمام چیزوں کا ایک حصہ واپس دینا شروع کیا، اس کےجسم کی کیمسٹری میں اس قدر نمایاں تبدیلی آتی چلی گئی کہ وہ بہتر سے بہتر ہوتا چلا گیا۔ ایک وقت تھا کہ ایسا لگتا تھا وہ 53 سال کی عمر میں ہی مر جائے گا۔ لیکن وہ 98 سال کی عمر تک زندہ رہا۔ مال خیرات کرنے سے وہ تندرست ہو گیا۔ گویا یہ خیرات نام کی چیز بھی ایک طریق علاج ہے۔ اسے بھی آزما کر دیکھ لیجئے .

اپنی موت سے پہلے، اس نے اپنی ڈائری میں لکھا،
*"سپریم انرجی نے م

14/04/2024

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

این واٸی ایف گنگچھے اور انجمن طلبہ بلغار کے زیر اہتمام پری بورڈ ایگزام میں بلغارسوق سے ٹوٹل سات سٹوڈنٹس نے ٹاپ ٹن میں جگہ بنا لٸ۔
کلاس نہم میں;۔
قمر زمان صوفی والد موسیٰ علی نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
عقلیمہ بتول D/o حبیب اللہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
کلاس دہم میں;۔
معتصیم علی ولد محمد خان نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔
مدیحہ حسین D/o حسین اشرف نے تسیری پوزیشن حاصل کی۔
اقیلہ بتول D/o قربان علی نے چوتھی پوزیشن حاصل کی۔
اخلاق حسین محمد ابراھیم نے پانچواں پوزیشن حاصل کی۔
بُشرہ D/o فدا حسین نے دسواں پوزیش حاصل کی۔
تقریب میں ٹاپ 10 کے طلباء و طالبات میں شیلڈ، اسناد اورکیش پراٸز انعامات سے نوازا۔
پوزیشنز حاصل کرنے والے تمام طلباء و طالبات کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

Ghazi Students Organization -GSO -GSO ✌❤
✌️♥️

08/04/2024

©GB Career Forum

نقل کا بڑھتا ہوا رجحان اور ہمارے معاشرے پر اثرات
تحریر منظور داریلی
گلگت بلتستان بھر کی طرح دیامر داریل میں بھی پڑھائی کے بعدطلباء کی کار کردگی کی تشخیص کےلئے امتحانات لیے جاتے ہیں، جس کے ذریعے ان کی قابلیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے داریل میں گزشتہ کئی برس سے امتحانی مراکز میں نقل کے رجحان میں کافی اضافہ ہو ا ہے، جو کہ ایک تشویش ناک بات ہے اور لمحہ فکریہ ہے۔ اس کے رحجان سے لائق اور باصلاحیت طلبا کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے کیونکہ نقل کر کے نالائق اور تعلیم میں عدم دلچسپی رکھنے والے طلباء زیادہ نمبر حاصل کر لیتے ہیں۔ذہین طلباء پر اس کا منفی اثر پڑتا ہے، ان میں مایوسی ،غم اور غصے کے جذبات جنم لیتے ہیں
کچھ برائیاں ایسی سنگین نوعیت کی ہوئی ہیں کہ ان میں کئی برائیا ں جمع ہوجاتی ہیں۔ ان برائیوں سے معاشرے میں فتنے جنم لیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں معاشرہ فساد سے بھر جاتاہے۔ اور معاشر ے کا ہر فرد اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔دور حاضر میں ایک برائی ہمارے ملک میں تعلیمی اداروں میں نقل کا بڑھتا ہوا رجحان ہے ۔اس کی ابتداء تو طالب علم سے ہی ہوئی ہے مگر بغور دیکھا جائے تو اس کی جڑیں والدین کی ناقص تربیت اور اساتذہ کی اپنی مقدس پیشے سے منہ پھیرنا سے جاکر ملتی ہیں۔
جب تعلیم کو نمبرز اور ڈگری کے گر د محدود کردیا جائے اور قابلیت اور مہارت کے حصول کو نظر انداز کردیا جائے، تو طالب علم کے ذہن میں ایک ہی بات بیٹھ جاتی ہے یا والدین بٹھاتے ہیں کہ اگر نمبر کم ہوئے تو اعلیٰ تعلیمی ادارے میں داخلہ نہیں ملے گا اور ڈگری نہیں مل سکے گی، اب طالب علم کی تمام تر محنت اور وقت صرف اور صرف نمبروں کی حصول میں صرف ہوتاہے۔ اب طالب علم چاہے کسی بھی طریقہ استعمال کرے ؟ اس کو مطلوبہ نمبر حاصل کرنے کی دھن سوار ہوتی ہے ۔ یہ با ت صرف یہاں تک محدود نہیں رہتی بلکہ والدین اساتذہ بھی اس میں شامل ہوجاتےہیں۔ یعنی نقل کرانے میں اپنے ہونہاروں کے ساتھ ہوتے ہیں اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کے لیے امتحانی مراکز تک جا پہنچتےہیں۔وہاں بیٹھے اساتذہ جو ماضی میں اس ناثور کیخلاف بھنگڑے مارتے مارتے نہیں تھک رہے ہوتے تھے وہ بھی انکو اس بیماری سے نکالنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہے ہوتے ہیں اور سونے پر سہاگہ جب سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہوتو کیا بات ہے؟
اس تیزی سے بڑھتے ہوئے نقل کے رجحان نے معیار تعلیم کا جنازہ نکال کررکھ دیا ہے۔کیا میڑک ؟ کیا انٹر؟ اور کیا اعلیٰ تعلیم؟ تمام کے تمام ہی اس برائی میں مبتلا ہیں۔ اس خرابی کے نتیجے میں ذہین اور با صلاحیت طلبہ کا استحصال ہوتاہے، میرٹ کا قتل عام ہوتاہے۔ اس ایک برائی کے اندر سب سے بڑی برائی جھوٹ، بددیانتی، ظلم شامل ہیں۔یہ کبیرہ درجے کے گناہ ہیں، جن کو آج کل سمجھا نہیں جارہا ۔یا پھر نظر انداز کیا جاتاہے۔ بلکہ اس ناثور کیخلاف جانے والوں کیخلاف اپنی چیلوں کو انکے پیچھے لگایا جاتا ہے انکو دھمکیاں دی جاتی ہیں کیا ایسا ٹھیک ہوگا ہمارا معاشرہ؟ کیا ایسے ہی کامیاب ہونگے ہمارے بچے اور بچیاں ؟کیا امتحانی مراکز سے نکل جیسا ناثور کا خاتمہ ایسا ہی ممکن ہیں؟
ہم جان بوجھ کر اپنے آشیانے کو آگ لگانے کی کوشش کررہے ہیں، ذرا اندازہ کیجئے کہ جب اپنے علاج کے سلسلےہم خودہی کسی ایسے ہی ڈاکٹر کے ہتھے چڑھ گئے تو کیا ہوگا ہماری صحت کا؟ اور جب ایسے ہی کسی انجینئر سے ہم پل ، سڑکیں ڈیم اور عمارتیں بنوائیں تو ایسی تباہی کے ذمّہ دار کون لوگ ہوں گے؟کیسے ترقی کریگا یہ خطہ کیسے ترقی کریگا ہمارا معاشرہ کیسے ترقی کریگا یہ خطہ
اس طرح کے لوگ جب اعلیٰ ڈگریاں لے کر اداروں میں ملک و قوم کی خدمت کرنے کےلیے اعلیٰ عہدوں پر اپنی ذمّہ داریا ں ادا کریں گے ،تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کیا ملک و قوم کی خدمت کریں گے ،بلکہ ملک و قوم کو ان کی خدمت کرنا پڑے گی۔ جو کہ اجکل ہر ادارے میں ہورہے اس طرح کے افراد صرف چھوٹی نوکریوں اور ذمّہ داریوں پر نہیں بلکہ اب تو خیر سے صوبائی ،قومی اسمبلوں اور سینیٹ کی نشستوں پر براجمان ہیں اور ہر آن کیا کیا گل کھلارہے ہیں؟عوام پہلے تو لمبی لمبی قطاروں میں دھکّے کھاتی ہے، اب تو پانی سر سے اوپر ہوگیا ہے ۔
ضروری ہے کہ ہم اپنے ہونہاروں کی تربیت کی طرف توجہ دیں ایمانداری اور دیانتداری کو ان کی شخصیت کا حصّہ بنانے کی پوری کوشش کریں، جگہ جگہ اس ناثور کیخلاف فیس ٹو فیس سیشنز کروائیں اس کے ساتھ ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیئے کہ اجتماعی خرابیاں اجتماعی کوششوں سے دور ہوتی ہیں۔لہٰذا ہم سب کو اس پورے نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کرنی چاہیئے ۔اسی نظام کے اندر وہ خرابی کہ جس کا ذکر سطور بالا میں کیا گیاہے، تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے۔اسی نہر کے پانی سے یہ ببول کے درخت اور جھاڑیاں سیراب ہوکر نشونما پارہی ہیں اسے ہم سب نے مل کر ختم کرنا ہوگا وگرنہ ہمارا معاشرہ ایسا ہی رہیگا۔
ہرشعبہ زندگی میں ترقی اورکامیابی کےلئے علم کی ضرورت ہوتی ہے،اس کے لیےملک کے معماروںصحیح تعلیم وتربیت سے آراستہ کرنا بے حد ضروری ہے۔ اگر بنیاد کھوکھلی رہ جائے تو زندگی متاثرہوسکتی ہے، جو شخص تعلیم سے کورا ہوگا،وہ بھلاملک وقوم کی ترقی کا سہاراکیوں کر اور کیسے بنے گا، لہٰذا طلبہ کی اچھی تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت کی بھی اشد ضرورت ہے۔تمام اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ اپنی بچوں اور بچیوں کی اچھی تربیت کرنے کے لئے ہر تعلیمی اداروں میں فیس ٹو فیس سیشنز کروائیں
نسل نو کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر وہ ز یادہ نمبر حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو سال کے اوّل دن سے محنت اور پڑھائی پر توجہ مرکوز رکھیں،اگر روزانہ آدھا گھنٹہ بھی ایک مضمون کو دیا جائے، تو امتحان کےدنوں میں نہ رات بھر جاگ کر پڑھنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی کسی کے سامنے فریاد کرنےکی نوبت پیش آئیگا اور نہ ہی نقل کرنے کی۔کامیابی چاہتے ہیں، تومحنت و مشقت کو اپنا شعار بنائیں،یاد رکھیں قابلیت اپنا راستہ خود بناتی ہے۔ ڈگریاں محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہوں تو ملک وقوم کی عمارت بلند اورمضبوط ترہوگی۔ نقل کی بہ دولت ملنے والی سند عملی زندگی میں کسی کام کی نہیں ہوتی۔
Copied from FB page "Gilgit Baltistan Career Forum".

Photos from Ghazi Students Organization -GSO's post 03/03/2024

غازی سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (GSO) کے معزز ممبران نے تنظیم کے بانی استاد محترم سر محمد ابراہیم صاحب کی قیادت میں انجمن طلباء بلغار اور این ۔وائی۔ ایف خپلو کے تعاون سے منعقدہ پری بورڈ ایگزام کے امتحانی مرکز پرائمری سکول بلغار سوق کا دورہ کیا ۔وفد میں Ghazi Students Organization -GSO کے سینئر ممبر سر محبوب صاحب ، نہایت ہی قابل احترام سر رستم صاحب ،ایجوکیشن سیکرٹری امتیاز علی صاحب صاحب ،اور غازی سپورٹ کلب سوق کے ٹیم کپتان محمّد نسیم صاحب وفد میں شامل تھے ۔ (GSO) کے تمام ممبرز نے پہلی بار سب ڈویژن ڈاغونی لیول پر پری بورڈ ایگزام کے انعقاد پر انجمن طلباء بلغار کے تمام رفقاء و ارکین کابینہ کو مبارک باد کے ساتھ ساتھ خراج تحسین بھی پیش کی اور ان کے اس خوبصورت تعلیمی اقدامات کو خوب سراہا ۔

03/03/2024

"یہ وقت بھی گزر جائے گا"
سلطان محمود غزنوی نے ایک دن اپنے دربار میں ایک انگوٹھی دکھائی اور اپنے تمام درباریوں سے کہا ”میں چاہتا ہوں آپ میں سے کوئی شخص اس انگوٹھی پر کوئی ایسا فقرہ لکھ دے جسے میں خوشی کے وقت پڑھوں تو میں اداس ہو جاؤں اور جب میرے اوپر اداسی کا وقت آئے تو میں یہ فقرہ پڑھوں تو میں خوش ہو جاؤں“ دربار میں سے کسی نے یہ چیلنج قبول نہیں کیا۔ جب سب ہار گئے توسلطان محمود غزنوی نے انگوٹھی اپنے غلام ایازکے حوالے کر دی‘ایاز نے بادشاہ سے انگوٹھی لی ‘ ایک دن کی مہلت طلب کی اوردوسرے دن بادشاہ کو انگوٹھی واپس کر دی۔ بادشاہ نے انگوٹھی دیکھی تو اس پر لکھا تھا ”یہ وقت بھی گزر جائے گا“۔ یہ فقرہ اس قدر جاندار تھا کہ جب بادشاہ اداس ہوتا تھا تو وہ اپنا ہاتھ اوپر کر کے انگوٹھی پر نظر ڈالتا تھا اور یہ پڑھ کر کہ ”یہ وقت بھی گزر جائے گا“ خوش ہو جاتا تھا اور وہ جب خوشی کے عالم میں یہ پڑھتا تھا ”یہ وقت بھی گزر جائے گا“ تو وہ اداس ہو جاتا تھا۔وقت واقعی ایک ایسی خوفناک حقیقت ہے جس کے معمول میں دنیا کے کسی شخص کیلئے کسی قسم کی تبدیلی نہیں آتی۔ کائنات کی سوئیاں آج تک واقعہ معراج کے علاوہ کبھی نہیں رکیں۔ وقت گزر جاتا ہے اور ہمارے پاس اس وقت کی یادوں کے علاوہ کچھ نہیں بچتا۔ انسان اپنے برے وقت کو ٹال نہیں سکتا لیکن یہ اپنی حکمت‘ دانائی اور سمجھداری کے ذریعے اس برے وقت کی شدت کم کر سکتا ہے۔ یہ وقت کی دی ہوئی مہلت کو اچھا بھی بنا سکتا ہے تا کہ آنے والے لوگ اسے زمانوں تک یاد رکھ سکیں۔وقت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ برے سے برے وقت میں ایک خوبی ہوتی ہے اور اچھے سے اچھے وقت میں ایک خامی ہوتی ہے۔ برے وقت کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ گزر جاتا ہے اور اچھے وقت میں یہ خامی ہوتی ہے کہ یہ بھی گزر جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ انسان کیا کرے؟ انسان برے وقت کو صبر‘ خوش دلی اور حوصلے کے ساتھ گزارے جبکہ یہ اپنے اچھے وقت کو عاجزی‘ خدمت اوردوسروں کی فلاح و بہبود میں صرف کرے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں قسموں کے لوگوں کی قدر کرتا ہے‘ وہ برے وقت میں حوصلے کا مظاہرہ کرنے والوں کو بھی پسند کرتا ہے اور اچھے وقت میں عاجزی کا دامن پکڑے رکھنے والوں کو بھی۔اگر انسان پر برا وقت آئے تویہ بس اپنے رویئے کی تھوڑی سی اصلاح کر لے تویہ برا وقت بھی اچھا بن جائے گابس رویہ اور سوچ مثبت کرنا ہوگا۔

Team:Ghazi Students Organization -GSO

10/02/2024

عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔۔
ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی،نوکری کی طلب لئےحاضر ھوا،
قابلیت پوچھی گئ، کہا ،سیاسی ہوں ۔۔
(عربی میں سیاسی،افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے والے معاملہ فہم کو کہتے ھیں)
بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھر مار تھی،
اسے خاص " گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج " بنا لیا
جو حال ہی میں فوت ھو چکا تھا.
چند دن بعد ،بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا،
اس نے کہا "نسلی نہیں ھے"
بادشاہ کو تعجب ھوا، اس نے جنگل سے سائیس کو بلاکر دریافت کیا،،،،
اس نے بتایا، گھوڑا نسلی ھے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مرگئ تھی، یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ھے.
مسئول کو بلایا گیا،
تم کو کیسے پتا چلا، اصیل نہیں ھے؟؟؟
اس نے کہا،
جب یہ گھاس کھاتا ھےتو گائیوں کی طرح سر نیچے کر کے
جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لےکر سر اٹھا لیتا ھے.
بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ھوا،
مسئول کے گھر اناج،گھی،بھنے دنبے،اور پرندوں کا اعلی گوشت بطور انعام بھجوایا.
اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کر دیا،
چند دنوں بعد، بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے بارے رائے مانگی،
اس نے کہا.
طور و اطوار تو ملکہ جیسے ھیں لیکن "شہزادی نہیں ھے،"
بادشاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ، حواس بحال کئے، ساس کو بلا بیجھا،
معاملہ اس کے گوش گذار کیا. اس نے کہا ، حقیقت یہ ھے تمہارے باپ نے، میرے خاوند سے ھماری بیٹی کی پیدائش پر ھی رشتہ مانگ لیا تھا، لیکن ھماری بیٹی 6 ماہ ہی میں فوت ھو گئ تھی،
چنانچہ ھم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے کسی کی بچی کو اپنی بیٹی بنالیا.
بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا، "تم کو کیسے علم ھوا،"
اس نے کہا، اس کا "خادموں کے ساتھ سلوک" جاہلوں سے بدتر ھے،
بادشاہ اس کی فراست سے خاصا متاثر ھوا، "بہت سا اناج، بھیڑ بکریاں" بطور انعام دیں.
ساتھ ہی اسے اپنے دربار میں متعین کر دیا.
کچھ وقت گزرا،
"مصاحب کو بلایا،"
"اپنے بارے دریافت کیا،" مصاحب نے کہا، جان کی امان،
بادشاہ نے وعدہ کیا، اس نے کہا:
"نہ تو تم بادشاہ زادے ھو نہ تمہارا چلن بادشاہوں والا ھے"
بادشاہ کو تاؤ آیا، مگر جان کی امان دے چکا تھا،
سیدھا والدہ کے محل پہنچا، "والدہ نے کہا یہ سچ ھے"
تم ایک چرواہے کے بیٹے ھو،ہماری اولاد نہیں تھی تو تمہیں لے کر پالا ۔
بادشاہ نے مصاحب کو بلایا پوچھا، بتا،
"تجھے کیسے علم ھوا" ؟؟؟
اس نے کہا،
"بادشاہ" جب کسی کو "انعام و اکرام" دیا کرتے ھیں تو "ہیرے موتی، جواہرات" کی شکل میں دیتے ھیں،،،،
لیکن آپ "بھیڑ ، بکریاں، کھانے پینے کی چیزیں" عنایت کرتے ھیں
"یہ اسلوب بادشاہ زادے کا نہیں "
کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ھو سکتا ھے.
عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔۔
عادات، اخلاق اور طرز عمل ۔۔۔ خون اور نسل دونوں کی پہچان کرا دیتے ھیں...

Team:(Ghazi Students Organization -GSO)

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Islamabad
1234